Saturday, October 16, 2021

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* *( قسط نمبر-38)* قسط 39

[ *شمشیرِ بے نیام*

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*

   
*( قسط نمبر-38)*



ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

خالدؓمرج راہط کے قریب پہنچ رہے تھے اور انہیں میلہ نظر آرہا تھا۔بہت بڑا میلہ تھا۔ یہ غسانیوں کا کوئی تہوار تھا۔ہزار ہا لوگ جمع تھے ، کھیل تماشے ہورہے تھے ، گھڑ دو ڑ اور شتر دوڑ بھی ہو رہی تھی،کہیں ناچ تھا کہیں گانے تھے، ایک وسیع میدان تھا جس میں آدمی ہی آدمی تھے ۔ان کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔خالدؓکا لشکر جب کچھ اور قریب گیا تو تہوار منانے والا یہ ہجوم دیکھتے ہی دیکھتے فوج کی صورت اختیار کرکے جنگی ترتیب میں آگیا۔گھوڑ سوار باقاعدہ رسالہ بن گئے۔ ہر آدمی تلوار یا برچھی سے مسلح تھا، عورتیں اور بچے بھاگ کر قصبے میں چلے گئے اور ہجوم جو فوج کی صورت اختیار کرگیا تھا ، اس طرح دائیں اور بائیں پھیلنے لگا جیسے مجاہدین کو گھیرے میں لینا چاہتا ہو۔مجاہدین کو اپنے پیچھے سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کا قیامت خیز شور سنائی دیا۔اُدھر دیکھا ، غسانی سواروں کا ایک دستہ تلواریں اور برچھیاں تانے سمندر کی طوفانی لہروں کی طرح چلا آرہا تھا،یہ تھا وہ جال جو جبلہ بن الایہم نے خالدؓ کیلئے بچھایا تھا۔ممکن نظر نہیں آتا تھاکہ خالدؓ اپنے لشکر کو اس جال سے نکال سکیں گے،مجاہدین کی تعداد نو ہزار بھی نہیں رہ گئی تھی،اور جس دشمن نے انہیں اپنے جال میں لیا تھا اس کی تعداد تین گنا تھی۔مجاہدین تھکے ہوئے بھی تھے۔پانچ روزہ صحرائی سفر کے بعد وہ مسلسل پیش قدمی اور معرکہ آرائی کرتے آرہے تھے۔غسانیوں کے بادشاہ جبلہ نے ٹھیک سوچا تھا کہ مسلمان کوچ کی ترتیب میں آرہے ہوں گے اور انہیں جنگی ترتیب میں آتے کچھ وقت لگے گااور ان پر حملہ اس طرح ہوگا کہ انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔اس نے مسلمانوں کی قلیل تعداد کو بھی پیشِ نظر رکھا تھااور یہ کہ مسلمان میلے کو بے ضرر لوگوں کا میلہ ہی سمجھیں گے۔غسانیوں کو معلوم نہیں تھا کہ خالدؓمیلے پر نہیں آئے تھے۔وہ تجربہ کار سالار تھے۔انہیں اچانک حملوں کا تجربہ ہو چکا تھا،انہیں احساس تھا کہ جوں جوں وہ دشمن ملک کے اندر ہی اندر جا رہے ہیں ، حملوں اور چھاپوں کا خطرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، چنانچہ وہ لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھتے تھے کہ اچانک اور غیر متوقع حملے کا فوراًمقابلہ کیا جائے۔ان کے عقب سے غسانیوں کے جو سوار طوفانی موجوں کی طرح آرہے تھے وہی مسلمانوں کو کچلنے کیلئے کافی تھے۔خالدؓ کی توجہ اس رسالے پر تھی اور وہ مطمئن تھے۔مجاہدین ایک مشین کی طرح اس صورتِ حال سے نمٹنے کی ترتیب میں آگئے۔خالدؓ نے خود نعرہ تکبیر بلند کیا جس کا مجاہدین نے رعد کی کڑک کی طرح جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلند آواز سے کچھ احکام دیئے۔’’خدا کی قسم!ہم انہیں سنبھال لیں گے۔‘‘خالدؓ نے بلند آواز سے کہا۔’’اﷲکے نام پر، محمد الرسول اﷲﷺ کے نام پر!‘‘
غسانیوں کا رسالہ بڑی تیزی سے قریب آرہا تھا۔اس کے پیچھے اور کچھ دائیں سے ایک اور رسالہ نکلا، سینکڑوں گھوڑے انتہائی رفتار سے دوڑے آرہے تھے۔ان کا رخ غسانی سواروں کی طرف تھا۔’’پیچھے دیکھو!‘‘کسی غسانی سوار نے چلّا کر کہا۔’’یہ مسلمان سوار معلوم ہوتے ہیں۔‘

پیچھے سے آنے والے سوار مسلمان ہی تھے ۔یہ مجاہدین کے لشکر کا عقبی حصہ )ریئر گارڈ(تھا۔ان سواروں نے غسانی سواروں کو آن لیا، غسانی سوار اس حملے کیلئے تیار نہیں تھے۔ان کا ہلّہ )چارج(بے ترتیب ہوتے ہوتے رک گیا۔ادھر سے خالدؓ نے اپنے سوار دستے کو تیز حملے کا حکم دے دیا۔غسانی سوار گھیرے میں آکر سکڑنے لگے، پھر وہ اتنے سکڑ گئے کہ ان کے گھوڑوں کو ایک قدم بھی دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہلنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ نے شتر سوار تیر اندازوں کو میلے والے لشکر پر تیر برسانے کا حکم دے دیا اور دوسرے دستوں کو دشمن کے پہلوؤں پر حملے کیلئے بھیج دیا انہوں نے اپنے دستے کے سامنے سے حملہ کیا۔یہ عقل اور جذبے کی لڑائی تھی۔ غسانی پیادوں کو اپنے گھوڑ سواروں پر بھروسہ تھا جواَب مجاہدین کی تلواروں سے کٹ رہے تھے یا معرکے سے نکل کر بھاگ رہے تھے۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کے لشکر کے عقب میں چلے جائیں تاکہ دشمن شہر میں نہ جا سکے، خالدؓکے حکم سے غسانیوں کے خیموں کو آگ لگا دی گئی۔ یہ خیمے میلے کیلئے لگے ہوئے تھے۔شعلوں نے غسانیوں پر خوف طاری کر دیا۔ان کے حوصلے تو یہی دیکھ کر ٹوٹ گئے تھے کہ انہوں نے جو جال بچھایا تھا وہ بری طرح ناکام ہوگیا تھا۔غسانیوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ان کا جانی نقصان اتنا زیادہ ہو رہا تھا کہ خون دیکھ کر وہ گھبراگئے۔آخر وہ بھاگنے لگے۔خالدؓ بار بار اعلان کرا رہے تھے کہ اپنے شہر کو تباہی سے بچانا چاہتے ہو تو باہر رہو۔شام تک خالدؓ اس شہر سے مالِ غنیمت اور بہت سے قیدی اکٹھے کر چکے تھے۔شہر میں ان عورتوں کے بَین سنائی دے رہے تھے جن کے خاوند بھائی باپ اور بیٹے مارے گئے تھے۔خالدؓنے رات کو ابو عبیدہؓ کے نام ایک پیغام بھیجا کہ وہ خالدؓ کو بصرہ کے قرب و جوار میں ملیں، بصرہ غسانی حکومت کا پایہ تخت تھا۔ غسانی اور رومی مل کر بصرہ کے دفاع کا انتظام کر رہے تھے۔ مجاہدین کا بڑا ہی سخت امتحان ابھی باقی تھا۔

وہ جو محمد ﷺکو اﷲکا بھیجا ہوا رسول نہیں مانتے تھے، اور اﷲکو واحدہ لا شریک نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ابھی تک جنگی طاقت کو افراد کی کمی بیشی سے اور ہتھیاروں کی برتری اورکمتری سے ناپ تول رہے تھے۔حیران تو وہ ہوتے تھے کہ مسلمان کس طرح اور کس طاقت کے بل بوتے پر فتح حاصل کرتے آرہے ہیں، لیکن اپنی فوجوں اور گھوڑوں کی افراط اور اپنے ہتھیاروں کی برتری کا ان کو ایسا گھمنڈتھا کہ وہ سوچتے ہی نہیں تھے کہ انسان میں کوئی اور طاقت بھی ہو سکتی ہے اور یہ طاقت عقیدے اور مذہب کی سچائی ہوتی ہے۔غسانیوں کا بادشاہ جبلہ بن الایہم بصرہ میں اس خبر کا انتظار بڑی بے تابی سے کر رہا تھا کہ مرج راہط میں اس کا دھوکا کامیاب رہا ہے اور مسلمانوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔اس نے فرض کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دی جا چکی ہے۔اسے آخری اطلاع یہ ملی تھی کہ مسلمانوں کیلئے میلے کی صورت میں پھندا تیار ہوچکا ہے اور مسلمان تیزی سے اس پھندے میں آرہے ہیں۔جبلہ کے طور اور انداز ہی بدل گئے تھے ۔گذشتہ رات اس نے اپنے ہاں جشن کا سماں بنا دیاتھا۔شراب کے مٹکے خالی ہو گئے تھے۔جبلہ بن الایہم شراب میں تیرتا اور نشے میں اڑتا جوان ہو گیا تھا۔اس نے بڑھاپے کا مذاق اڑایا تھا۔اس نے یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ اس کے حرم کی جوان عورتیں من مانی کر رہی ہیں اور ان میں سے بعض اس کی قیدوبند سے آزاد ہو کر اپنی پسند کے آدمیوں کے ساتھ محل کے باغیچوں میں غائب ہو گئی ہیں۔خود جبلہ کی بدمستی کا یہ عالم تھا کہ اس جشنِ مے نوشی میں ایک بڑی حسین اور نوجوان لڑکی اس کے سامنے سے گزری تو اس نے لپک کر لڑکی کو پکڑ لیا اور اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ کر بے ہودہ حرکتیں کرنے لگا۔لڑکی اس کے بازوؤں سے آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔’’تیری یہ جرات؟‘‘اس نے لڑکی کو الگ کرکے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کیا اور بڑے سخت غصے میں بولا۔’’کون ہے تو جو میرے جسم کو ناپسند کر رہی ہے؟‘‘’’تیری بھانجی!‘‘لڑکی نے روتے ہوئے چلّا کر کہا۔’’تیرے باپ کی بیٹی کی بیٹی!‘‘جبلہ بن الایہم نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا۔ ’’فتح کی خوشی کا نشہ شراب کے نشے سے تیز ہوتاہے۔‘‘جبلہ نے کہا۔اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔’’کل جب مجھے خبر ملے گی کہ مسلمانوں کو کچل دیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکا تو میری حالت اور زیادہ بری ہو جائے گی۔‘‘اس کی بھانجی روتی ہوئی جشن سے نکل گئی۔پھر وہ وقت آگیا جب وہ مسلمانوں پر اپنی فتح کی خبر کا منتظر تھا۔اب تک خبر آجانی چاہیے تھی۔ وہ باغ میں جا بیٹھا تھا۔ایک جواں سال خادمہ طشتری میں شراب کی صراحی اور پیالہ رکھے اس کی طرف جا رہی تھی۔اُدھر سے دربان بڑا تیز چلتا اس تک پہنچا۔’’آیا ہے کوئی؟‘‘جبلہ نے بیتاب ہو کر دربان سے پوچھا۔’’کوئی مرج الراہط سے آیا ہے؟‘‘

’’قاصد آیا ہے۔‘‘دربان سے دبے دبے سے لہجے میں کہا۔’’زخمی ہے۔‘‘’’بھیجو اسے!‘‘جبلہ نے جوش سے اٹھتے ہوئے کہا۔’’وہ فتح کی خبر لایا ہے۔اسے جلدی میرے پاس بھیجو۔‘‘خادمہ طشتری اٹھائے اس کے قریب کھڑی تھی۔ادھر سے ایک زخمی چلا آرہا تھا۔’’وہیں سے کہو کہ تم فتح کی خبر لائے ہو۔‘‘جبلہ بن الایہم نے کہا۔زخمی قاصد نے کچھ نہ کہا۔وہ چلتا آیا۔اس کے کپڑے اپنے زخموں کے خون سے لال تھے۔اس کا سر کپڑے میں لپٹا ہو اتھا۔’’کیا تم اتنے زخمی ہو کہ بول نہیں سکتے؟‘‘جبلہ نے بلند آواز سے پوچھا۔’’بول سکتا ہوں۔‘‘قاصد نے کہا۔’’لیکن جو خبر لایا ہوں وہ اپنی زبان سے سنانے کی جرات نہیں۔‘‘’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘جبلہ کی آواز دب سی گئی۔’’کیا مسلمان پھندے میں نہیں آئے؟……آکر نکل گئے ہیں؟‘‘’’ہاں!‘‘قاصد نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔’’وہ نکل گئے……انہوں نے ایسی چال چلی کہ ہم ان کے پھندے میں آگئے۔اپنی فوج کٹ گئی ہے۔مرج راہط کو انہوں نے لوٹ لیا ہے۔‘‘جبلہ بن الایہم نے طشتری سے شراب کی صراحی اٹھائی ۔خادمہ نے پیالہ اٹھا کر اس کے آگے کیا۔جبلہ نے صراحی بڑی زور سے قاصد پر پھینکی۔ قاصد بہت قریب کھڑا تھا۔صراحی ا س کے ماتھے پر لگی۔وہ تیورا کر گرا۔جبلہ نے خادمہ کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر اس کے منہ پر مارا، اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلاگیا۔غسانیوں کے بادشاہ کامحل ماتمی فضاء میں ڈوب گیا، مرج راہط کے بھگوڑے غسانی بصرہ میں آگئے اور بصرہ ماتمی شہر بن گیا۔اصل ماتم تو ان کے یہاں تھا جن کے بیٹے بھائی خاوند اور باپ اس پھندے میں آکر مارے گئے تھے جو انہوں نے خالدؓ کے مجاہدین کیلئے تیار کیا تھا۔اس ماتم کے ساتھ ایک دہشت بھی آئی تھی اور یہ دہشت ہر گھر میں پہنچ گئی تھی۔’’ان کے تیر زہر میں بجھے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کو اس تیر سے خراش بھی آجائے تو وہ مر جاتا ہے۔‘‘’’ان کے گھوڑے پروں والے ہیں، کہتے ہیں ہوا سے باتیں کرتے ہیں۔‘‘’’ان مسلمانوں کا رسول )ﷺ(جادوگر تھا۔اس کا جادو چل رہا ہے۔‘‘’’ان کے سامنے لاکھوں کی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔‘‘’’سنا ہے دل کے بڑے نرم ہیں، جو ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں انہیں وہ گلے لگا لیتے ہیں۔‘‘’’جس شہر میں ان کا مقابلہ ہوتا ہے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔‘‘’’کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے، لڑنے والوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں۔‘‘دبی دبی ایسی آواز بھی سنائی دیتی تھی ۔’’مذہب ان کا سچا معلوم ہوتا ہے۔وہ اﷲاور اس کے رسولﷺکومانتے ہیں، یہی ان کی طاقت ہے ،جنون سے لڑتے ہیں۔‘‘ان لوگوں پر جو حیرت اور دہشت طاری ہو گئی تھی اس میں وہ حق بجانب تھے۔

’’تم لوگ بصرہ کو بھی نہیں بچا سکو گے۔‘‘جبلہ بن الایہم قہر بھرے لہجے میں اپنے سالاروں سے کہہ رہا تھا ۔’’تمہاری بزدلی کو دیکھ کر میں نے رومیوں کو مدد کیلئے پکارا ہے،اگر تم مسلمانوں کو شکست دے دیتے تو میں رومیوں کے سینے پر کودتا۔ان پر میری دھاک بیٹھ جاتی۔مگر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔رومی ہمارے پایہ تخت کی حفاظت کرنے آئے ہیں۔‘‘وہ اپنے سالاروں کوکوس ہی رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی ایک فوج بصرہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔’’اتنی جلدی؟‘‘اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔’’مرج راہط سے وہ اتنی جلدی بصرہ تک کس طرح آگئے ہیں؟رومی سالار کو اطلاع دو۔‘‘رومی فوج جو خالدؓ کی کامیابیوں کی خبریں سن کر جبلہ بن الایہم کی مددکو آئی تھی وہ بصرہ کے باہر خیمہ زن تھی، اس کے سالار کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی فوج آرہی ہے توسالار نے فوج کو تیاری کا حکم دے دیا،اس فوج میں عرب عیسائی بھی تھے۔فوج جو بصرہ کی طرف بڑھ رہی تھی وہ خالدؓ کی نہیں تھی۔یہ ایک مسلمان سالار شرجیلؓ بن حسنہ کا لشکر تھا، جس کی نفری چار ہزار تھی۔مسلمان لشکر جو شام کی فتح کیلئے بھیجا گیا تھایہ اس کا حصہ تھا۔خلیفۃ المسلمینؓ کے احکام کے مطابق سالار ابو عبیدہؓ نے لشکر کے دوسرے حصوں کو بھی یکجا کرکے اپنی کمان میں لے لیا تھا۔بصرہ پر شرجیلؓ بن حسنہ کے حملے کا پس منظر یہ تھا کہ خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو ایک خط لکھا تھا:’’میں نے خالد بن ولید کو یہ کام سونپاہے کہ رومیوں پر چڑھائی کرے۔تم پر اس کی اطاعت فرض ہے۔کوئی کام اس کے حکم کے خلاف نہ کرنا۔ میں نے اسے تمہارا امیر مقررکیا ہے۔مجھے احساس ہے کہ دین کے باقی معاملات میں تم خالد سے برترہو اور تمہارا رتبہ اونچا ہے لیکن جنگ کی جو مہارت خالد کو ہے وہ تمہیں نہیں۔اﷲہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔‘‘خالدؓ کو اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔جس وقت خالدؓ اپنے رستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو کچلتے جا رہے تھے، اس وقت ابو عبیدہؓ فارغ بیٹھے تھے۔خالدؓنے جب مرج راہط کے مقام پر بھی دشمن کو شکست دے دی تو ابو عبیدہؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا، اس وقت ابو عبیدہؓ کے دستے دریائے یرموک کے شمال مشرق میں ایک مقام حوران میں تھے۔ان کے ماتحت دو سالار تھے ایک شرجیلؓ بن حسنہ اور دوسرے یزیدؓ بن ابی سفیان۔
’’رفیقو!‘‘ابو عبیدہؓ نے دونوں سالاروں سے کہا۔’’ہم کس طرح شکر ادا کریں اﷲتبارک وتعالیٰ کا جو ابنِ ولید کو راستے میں آنے والے ہر دشمن پر حاوی کرتا آ رہا ہے۔
کیا تم نےنہیں سوچا کہ ہم ابنِ ولید کے کسی کام نہیں آرہے؟وہ جوں جوں آگے بڑھتا جا رہا ہے ، اس کی مشکلات خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔اس کا لشکر تھک کر بے حال ہو چکا ہو گا،آگے دمشق ہے،بصرہ ہے۔ غسانی ہیں، عیسائی اوررومی ہیں، کیا یہ تینوں یہ نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو آگے آنے دیں اور جب وہ مسلسل کوچ اورلڑائیوں سے شل ہو جائیں اور ان کی نفری کم ہو جائے تو انہیں کسی مقام پر گھیر کر ختم کر دیا جائے؟‘‘’’رومیونے ایسا ضرور سوچا ہوگا۔‘‘سالار یزیدؓ نے کہا۔’’رومی لڑنے والی قوم ہے،اور اس کے سالار عقل والے ہیں۔‘
’’خدا کی قسم!میں رومیوں کو ایسا موقع نہیں دوں گا۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے پر جوش لہجے میں کہا۔’’کیا ہم اتنی دور سے ابنِ ولید کی کوئی مدد نہیں کر سکتے؟……بے شک کر سکتے ہیں۔‘‘’’تو نے جو سوچا ہے وہ ہمیں بتا ابو عبیدہ!‘‘شرجیلؓ بن حسنہ نے کہا ۔’’ اﷲاس کا مددگار ہے۔‘‘’’ابنِ ولید کے آگے دمشق اور بصرہ دو ایسے مقام ہیں جہاں رومیوں اور غسانیوں نے اپنی فوجیں جمع کر رکھی ہوں گی۔‘‘ابوعبیدہؓ نے کہا۔’’اس سے پہلے کہ سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید بصرہ پہنچے ہم بصرہ پر حملہ کردیتے ہیں۔اس سے یہ ہوگا کہ رومی اور غسانی بھی تازہ دم نہیں رہیں گے……ابنِ حسنہ!‘‘ابو عبیدہؓ نے شرجیلؓ سے کہا۔’’میں یہ کام تمہیں سونپتا ہوں۔چار ہزار نفری کافی ہوگی۔‘‘ابو عبیدہؓ نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو ہدایات دیں اور بصرہ کو روانہ کر دیا۔اس وقت خالدؓ مرج راہط سے فارغ ہو چکے تھے ،اور انہوں نے ابو عبیدہؓ کے نام یہ پیغام دے کر قاصد روانہ کر دیا تھا کہ ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ انہیں بصرہ کے قریب کہیں ملیں، خالدؓ نے مرج راہط کے قصبے کے باہر دو چار روز قیام کیا تھا،۔
شرجیلؓ چار ہزار مجاہدین کے ساتھ بصرہ پہنچ گئے……رومی بصرہ کے باہر خیمہ زن تھے ، وہ سمجھے یہ خالدؓکی فوج ہے۔ان کے جاسوسوں نے انہیں بتایا کہ اس فوج کا سالار کوئی اور ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی سالار یہ سمجھے کہ یہ مسلمانوں کی فوج کا ہراول ہے اور پوری فوج پیچھے آرہی ہے……وہ مان نہیں سکتے تھے کہ اتنی فوج اتنے بڑے لشکر کو محاصرے میں لینے آئی ہوگی۔رومی فوج جس کی تعداد بارہ ہزار تھی قلعے کے اندر چلی گئی ۔بصرہ قلعہ بند شہر تھا۔شرجیلؓ نے قلعے کے قریب مغرب کی طرف کیمپ کیا اور اپنے لشکر کو کئی دستوں میں تقسیم کرکے قلعے کے ہر طرف متعین کر دیا۔دودن گزر گئے۔رومی اور غسانی قلعے کی دیواروں کے اوپر سے مسلمانوں کو دیکھتے رہے۔شرجیلؓ نے قلعے کے اردگرد کچھ نہ کچھ حرکت جاری رکھی۔ دشمن قلعے سے دور دور بھی دیکھتا تھا ۔اسے توقع تھی کہ مسلمانوں کی پوری فوج آرہی ہے۔اسے اب اپنے جاسوسوں کے ذریعے کوئی خبر نہیں مل سکتی تھی کیونکہ قلعہ محاصرے میں تھا۔
سالار شرجیلؓ بن حسنہ کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ رسولِ کریمﷺکے قریبی صحابیؓ تھے۔جو صحابہ کرامؓ وحی لکھتے تھے ، ان میں شرجیلؓ بن حسنہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔اسی حوالے سے انہیں کاتبِ رسول کہا جاتا تھا۔شرجیلؓ کا زہدوتقویٰ تو مشہور تھا ہی ، وہ فن حرب و ضرب اور میدانِ جنگ میں قیادت کی مہارت رکھتے اور کہا کرتے تھے کہ انہوں نے یہ فن خالدؓ سے یمامہ کی جنگ میں پھر آتش پرستوں کے خلاف لڑائیوں میں سیکھا ہے۔محاصرہ بصرہ کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ ہی کم تھی، جذبے اور جوش و خروش کے لحاظ سے وہ جوان تھے اور ان کی شہسواری اور تیغ زنی جوانوں جیسی ہی تھی۔محاصرے کا تیسرا دن تھا، رومیوں کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی نفری اتنی ہی ہے جس نے محاصرہ کررکھا ہے۔اگر مزید فوج نے آنا ہوتا تو اب تک آچکی ہوتی۔چنانچہ انہوں نے اپنی بارہ ہزار نفری کی فوج باہر نکال لی۔نفری کی افراط کے بل پر وہ ایسی دلیرانہ کارروائی کر سکتے تھے۔مسلمان کل چار ہزار تھے۔
شرجیلؓ نے بڑی تیزی سے اپنے دستوں کو اکٹھاکرکے جنگی ترتیب میں کرلیا۔اس طرح دونوں فوجیں آمنے سامنے آ گئیں۔’’اے رومیو!‘‘شرجیلؓ نے آگے آکر بلند آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!ہم بھاگنے کیلئے نہیں آئے۔اپنی پہلی شکستوں کو یاد کرو، تم ہر میدان میں ہم سے زیادہ تھے۔خون خرابے سے تم بچتے کیوں نہیں؟ہماری شرطیں سن لو اور اپنے شہر اور اپنی آبادی کو تباہی سے بچالو۔‘‘’’ہم شکست کھانے کیلئے باہر نہیں آئے۔‘‘رومی سالارنے آگے آکر کہا۔’’واپس چلے جاؤ اور زندہ رہو، وہ کوئی اور تھے جنہوں نے تم سے شکستیں کھائی ہیں۔‘‘’’خدا کی قسم!ہم لڑائی سے منہ نہیں موڑیں گے۔‘‘شرجیلؓ نے اعلان کیا۔’’لیکن تمہیں ایک موقع دیں گے کہ سوچ لو، آگے آؤاور ہماری شرطیں سن لو۔‘‘مکالموں اور للکار کا تبادلہ ہوا، اور رومی سالاروں نے شرائط پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا سپہ سالار آگے گیا۔ادھر سے شرجیلؓ بن حسنہ آگے گئے۔’’بول اے مسلمان سالار!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’اپنی شرائط بتا۔‘‘’’اسلام قبول کرلو۔‘‘ شرجیلؓ نے کہا۔’’یہ منظور نہیں تو جزیہ ادا کرو۔یہ بھی منظور نہیں تو لڑائی کیلئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’ہم اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے اور ہم جزیہ نہیں دیں گے ۔لڑائی کیلئے ہم تیار ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی رومی سالار نے مسلمانوں پر حملے کا حکم دے دیا۔رومیوں کی تعداد تین گنا تھی۔شرجیلؓ نے اپنے چار ہزار مجاہدین کو جنگی ترتیب میں صف آراء کررکھا تھا۔انہیں اپنی نفری کی قلت کا احساس بھی تھا۔انہون نے اپنے دونوں پہلوؤں کو پھیلا دیا تھا تاکہ دشمن گھیرے میں نہ لے سکے۔رومی جنگجو تھے اور ان کے سالار تجربہ کار تھے۔وہ مسلمانوں کو گھیرے میں لینے کی ہی کوشش کر رہے تھے ،لڑائی گھمسان کی تھی ، شرجیلؓ قاصدوں کو دائیں بائیں دوڑا رہے تھے اور مجاہدین کو للکار بھی رہے تھے ، مجاہدین اپنی روایت کے مطابق بے جگری سے لڑ رہے تھے لیکن رومی بارہ ہزار تھے ۔
ان کے سالار انہیں دائیں بائیں پھیلاتے جا رہے تھے ۔شرجیلؓ نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو انہیں اپنے دستوں کی صورتِ حال بڑی تشویشناک دکھائی دی۔ایسی صورت حال پسپائی کا مطالبہ کیا کرتی ہے لیکن شرجیلؓ کی للکار پر مجاہدین کا جوش اور جذبہ بڑھ گیا۔وہ پسپائی کے نام سے ناواقف تھے ، ان پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی اور چارپانچ گھنٹے گزر گئے۔پھر وہ صورت پیدا ہو گئی جس سے شرجیلؓ بچنے کی کوشش کر رہے تھے ، دشمن کے پہلو پھیل کر مسلمانوں کے پہلوؤں سے آگے نکل گئے تھے۔وہ گھیرے میں آچکے تھے۔’’اندر کی طرف نہیں سکڑنا۔‘‘شرجیلؓ نے اپنے دونوں پہلوؤں کے کمانداروں کو پیغام بھیجے۔’’ باہر کی طرف ہونے کی کوشش کرو۔‘‘شرجیلؓ کی چالیں بے کار ہونے لگیں۔بے شک مسلمانوں کا جذبہ رومیوں کی نسبت زیادہ تھا لیکن رومی تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ مسلمانوں پر غالب آسکتے تھے۔

’’اﷲکے پرستارو!‘‘شرجیل نے للکار کر کہا۔’’فتح یا موت……فتح یا موت……فتح یا موت……اﷲسے مددمانگو۔ اﷲکی راہ میں جانیں دیدو۔اﷲکی مدد آئے گی۔‘‘مسلمانوں کیلئے یہ زندگی اور موت کا معرکہ بن گیا تھا۔شرجیلؓ کی پکار اور للکار پر مجاہدین نے بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا جس سے انہیں تقویت ملی لیکن رومی ان پر حاوی ہو گئے تھے،مسلمانوں کے جوش اور جذبے میں قہر پیدا ہو گیاتھا۔رومی فوج مسلمانوں کے عقب میں چلی گئی ، اب مسلمانوں کا کچلا جانا یقینی ہو گیا تھا۔رومی جو مسلمانوں کے عقب میں چلے گئے تھے ،انہیں اپنے عقب میں گھوڑے سر پٹ دوڑنے کا طوفانی شور سنائی دیا۔انہوں نے پیچھے دیکھا تو سینکڑوں گھوڑے ان کی طرف دوڑے آرہے تھے۔ان کے آگے دو سوار تھے جن کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ان میں سے ایک کے سر پر جو عمامہ تھا اس کا رنگ سرخ تھا……وہ خالدؓ تھے۔خالدؓ اپنے لشکر کے ساتھ بصرہ کی طرف آرہے تھے۔ان کے راستے میں دمشق آیا تھا لیکن وہ دمشق سے ہٹ کر گزر آئے تھے، پہلے وہ بصرہ کو فتح کرنا چاہتے تھے۔یہ اﷲکے اشارے پر ہوا تھا۔اﷲنے کاتبِ رسولﷺ کی پکار اور دعا سن لی تھی۔ خالدؓ جب کوچ کرتے تھے تو اپنے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا کرتے تھے۔ بصرہ کی طرف آتے وقت بھی انہوں نے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا تھا۔ؒخالدؓ بصرہ سے تقریباًایک میل دور تھے۔جب ان کا ایک شتر سوار جاسوس اونٹ کو بہت تیز دوڑاتا واپس خالدؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر بصرہ کے باہر رومیوں کے گھیرے میں آرہا ہے۔
‘ ‘کون ہے وہ سالار؟‘‘خالدؓ نے کہا اور سوار دستوں کو ایڑھ لگانے اور برچھیاں اور تلواریں نکال لینے کا حکم دے دیا۔خالدؓکے ساتھ جو دوسرا سوار گھوڑ سواروں کے آگے آگے آرہا تھا وہ خلیفۃ المسلمینؓ کا بیٹا عبدالرحمٰنؓ تھا۔ اس نے اﷲاکبر کا نعرہ لگایا۔رومیوں نے مقابلے کی نہ سوچی۔ان کے سالاروں نے تیزی دکھائی، اپنے پہلوؤں کے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا اور اپنے تمام دستوں کو قلعے کے اندر لے گئے۔ ان کا مسلمانوں کی تلواروں سے کٹ جانا یقینی تھا۔قلعے میں داخل ہوتے ہوتے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور کئی رومیوں کو ختم کردیا۔قلعے کے دروازے بند ہو گئے۔خالدؓغصے میں تھے۔انہوں نے ایک حکم یہ دیا کہ زخمیوں اور لاشوں کو سنبھالو، اور دوسرا حکم یہ کہ تمام لشکر اکٹھا کیا جائے، انہوں نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو بلایا۔’’ولیدکے بیٹے!‘‘شرجیلؓ نے آتے ہی خالدؓ سے کہا۔’’خدا کی قسم!تو اﷲکی تلوار ہے۔تو اﷲکی مدد بن کر آیا ہے۔‘‘’’لیکن تو نے یہ کیا کیا ابنِ حسنہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ یہ قصبہ دشمن کا مضبوط قلعہ ہے اور یہاں بے شمار فوج ہوگی؟کیا اتنی تھوڑی نفری سے تو یہ قلعہ سر کر سکتا تھا؟‘‘’’میں نے ابو عبیدہ کے حکم کی تعمیل کی ہے ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا-
’’آہ ابوعبیدہ!‘‘خالدؓنے آہ لے کر کہا۔’’میں اس کا احترام کرتا ہوں۔

وہ متقی و پرہیزگارہے۔لیکن میدانِ جنگ کو وہ اچھی طرح نہیں سمجھتا۔‘‘مؤرخ واقدی لکھتا ہے کہ ابوعبیدہؓ کو سب خصوصاًخالدؓ بزرگ و برتر سمجھتے تھے۔لیکن جس نوعیت کی لڑائیاں جاری تھیں ان کیلئے ابو عبیدہؓ موزوں نہیں تھے لیکن جہاں نفری کی کمی تھی وہاں سالاروں کی بھی کمی تھی۔بہرحال،مؤرخ لکھتے ہیں کہ ابو عبیدہؓ جذبے اور حوصلے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے اور وہ بڑی تیزی سے تجربہ حاصل کرتے جا رہے تھے۔بصرہ پر ان کا حملہ جرات مندانہ اقدام تھا۔خالدؓ قلعے کے باہر اپنی اور شرجیلؓ کی نفری کا حساب کر رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے کہ قلعے کے اندر کتنی نفری ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں چند ایک رومی سپاہی آگئے تھے جو زخمی تھے۔خالدؓ کے لشکرکے آجانے سے مسلمانوں کی نفری تیرہ ہزار کے قریب ہو گئی تھی ،لیکن رومیوں غسانیوں اور عیسائیوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ تھی۔’’کیا تم بھی ڈر کر بھاگ آئے ہو؟‘‘قلعے کے اندر جبلہ بن الایہم رومی فوج کے سپہ سالار پر غصہ جھاڑ رہا تھا۔’’ کیا تم نے اس فوج کا جو قلعے کے اندر تھی اور شہر کے لوگوں کا حوصلہ توڑ نہیں دیا؟‘‘
’’نہیں!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’میں مسلمانوں پر باہر نکل کر حملہ کر رہا ہوں،اگر میں ان کے عقب میں گئے ہوئے دستوں کوپیچھے نہ ہٹا لیتا تو ان کے عقب سے مسلمان سالار انہیں بری طرح کاٹ دیتے۔مجھے ان کی نفری کا اندازہ نہیں تھا۔میں صرف ایک دن انتظار کروں گا،ہو سکتا ہے کہ ان کی مز ید فوج آرہی ہو، میں انہیں آرام کرنے کی مہلت نہیں دوں گا۔‘‘
’’پھر انہیں قلعے کا محاصرہ کرلینے دو۔‘‘ جبلہ نے کہا۔’’انہیں قلعے کے ا ردگرد پھیل جانے دو، پھر تم قلعے سے اتنی تیزی سے نکلنا کہ انہیں اپنے دستے اکٹھے کرلینے کی مہلت نہ ملے……اور شہر میں اعلان کر دو کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ، دشمن کو قلعے کے باہر ہی ختم کر دیا جائے گا۔‘‘قلعے کے اندر ہڑبونگ بپا تھی، شہریوں میں بھگدڑ اور افراتفری مچی ہوئی تھی۔رومی فوج کا باہر جاکر لڑنا اور اندر آجانا شہریوں کیلئے دہشت ناک تھا۔ مسلمان فوج کی ڈراؤنی ڈراؤنی سی باتیں تو شہر میں پہلے ہی پہنچی ہوئی تھیں۔مؤرخوں کے مطابق رومیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں کو آرام کی مہلت ہی نہ دی جائے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ مسلمان آرام کر نے کے عادی ہی نہیں ، انہیں اتنی ہی مہلت کی ضرورت تھی کہ زخمیوں کو سنبھال لیں اور شہیدوں کی لاشیں دفن کر لیں۔اگلے روز کا سورج طلوع ہونے تک رومی فوج قلعے سے باہر آگئی اور دروزے بند ہو گئے۔خالدؓ نے اپنے لشکر کو جنگی ترتیب میں کر لیا ۔قلعے کے باہر میدان کھلا تھا۔خالدؓنے حسبِ معمول اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ قلب کی کمان اپنے پاس رکھی، اب چونکہ انہیں شرجیلؓ کے چار ہزار مجاہدین مل جانے سے ان کے پاس نفری کچھ زیادہ ہو گئی تھی اس لیے انہوں نے قلب کو محفوظ کرنے کیلئے ایک دستہ قلب کے آگے رکھا، اس دستے کی کمان خلیفۃ المسلمینؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن بن ابو بکرؓ کے پاس تھی۔ایک پہلو کے دستوں کے سالار رافع بن عمیرہ اور دوسرے پہلو کے سالار ضرار بن الازور تھے۔

جنگ کا آغاز مسلمانوں کے نعرہ تکبیر سے ہوا۔ رومی سپہ سالار اپنے قلب کے آگے آگے آرہا تھا۔عبدالرحمٰنؓ بن ابو بکر جوان تھے۔خالدؓ نے جوں ہی ان کے دستے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، عبدالرحمٰنؓ سیدھے رومی سالار کی طرف گئے۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی نظریں اس رومی سالار پر لگی ہوئی تھیں۔عبدالرحمٰنؓ نے گھوڑے کو ایڑلگائی اور تلوار سونت کر اس کی طرف گئے مگر اس کی طرف گئے تو وہ بڑی پھرتی سے آگے سے ہٹ گیا۔ عبدالرحمٰنؓ آگے نکل گئے۔رومی سالار نے گھوڑا موڑا اور عبدالرحمٰنؓ کے پیچھے گیا۔عبدالرحمٰن ؓنے گھوڑا موڑتے موڑتے دیکھ لیا، رومی نے وار کر دیا جو عبدالرحمٰنؓ بچاگئے۔ تلوار کا زنّاٹہ ان کے سر کے قریب سے گزرا۔اب عبدالرحمٰنؓ اس کے پیچھے تھے۔رومی گھوڑا موڑ رہا تھا، عبدالرحمٰنؓ نے تلوار کا زورداروار کیا جس سے رومی تو بچ گیا لیکن اس کے گھوڑے کی زین کا تنگ کٹ گیا، اور ضرب گھوڑے کو بھی لگی۔ گھوڑے کا خون پھوٹ آیا اور وہ رومی کے قابو سے نکلنے لگا۔رومی تجربہ کار جنگجو تھا۔اس نے بڑی مہارت سے گھوڑے کو قابو میں رکھا، اور اس نے وار بھی کیے۔ عبدالرحمٰنؓ نے ہر وار بچایا، اور انہوں نے رکابوں میں کھڑے ہوکر وار کیے تو رومی گھبراگیا۔اس کے آہنی خود اور زرہ نے اسے بچالیا لیکن اپنی ایک ٹانگ کو نہ بچا سکا، گھٹنے کے اوپر سے اس کی ٹانگ زخمی ہو گئی۔تابڑ توڑ وار اسے مجبور کرنے لگے کہ وہ بھاگے اور وہ بھاگ اٹھا۔ اسے اپنی جان کا غم تھا یا نہیں ، اسے خطرہ یہ نظر آرہا تھا کہ وہ گر پڑا تو اس کا سارا لشکر بھاگ اٹھے گا۔ یہ سوچ کر کو وہ اپنے لشکر میں غائب ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ عبدالرحمٰنؓ اس کے تعاقب سے نہ ہٹے، وہ ان کے ہاتھ تو نہ آیا لیکن اپنے لشکر کی نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا۔
خالدؓ نے رومیوں پر اس طرح حملہ کیا کہ سالار رافع بن عمیرہ اور سالار ضرار بن الازور کو حکم دیاکہ وہ باہر کو ہو کر رومیوں پر دائیں اور بائیں سے تیز اور شدید ہلہ بولیں۔ مجاہدین شدید کا مطلب سمجھتے تھے۔ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق یہ حملہ اتنا تیز اور اتنا سخت تھا جیسے مجاہدین تازہ دم ہوں اور ان کی تعداد دشمن سے دگنی ہو۔ دونوں سالاروں کے دستے دیوانگی کے عالم میں حملہ آور ہوئے۔مؤرخ واقدی اور ابنِ قتیبہ لکھتے ہیں کہ سالار ضرار بن الازور نے جوش میں آکر اپنی زرہ اتار پھینکی۔یہ ہلکی سی تھی لیکن جولائی کا آغاز تھا، اور گرمی عروج پر تھی۔ ضرار نے گرمی سے تنگ آکر اور لڑائی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے زرہ اتاری تھی۔انہوں نے اپنے دستوں کو حملے کا حکم دیا۔ان کا گھوڑا ابھی دشمن کے قریب نہیں پہنچا تھا کہ انہوں نے قمیض بھی اتار پھینکی، اس طرح ان کا اوپر کا دھڑ بالکل ننگا ہو گیا۔ایسی خونریز لڑائی میں زرہ ضروری تھی، اور سَر کی حفاظت تو اور زیادہ ضروری تھی، لیکن ضرار بن الازور نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی تھی۔انہیں اس حالت میں دیکھ کر ان دستوں میں کوئی اور ہی جوش پیدا ہو گیا ۔ضرار دشمن کو للکارتے اور ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تھے۔ان کے سامنے جو آیا ان کی تلوار سے کٹ گیا۔وہ سالار سے سپاہی بن گئے تھے۔رافع بن عمیرہ نے رومیوں کے دوسرے پہلو پر ہلہ بولا تھا، ان کا انداز ایسا غضب ناک تھا کہ دشمن پر خوف طاری ہو گیا۔خالدؓ نے جب دیکھا کہ ضرار اور رافع نے دونوں پہلوؤں سے ویسا ہی ہلہ بولا ہے جیسا وہ چاہتے تھے اور دشمن کے پہلو عقب کی طرف سکڑ رہے ہیں تو خالدؓ نے سامنے سے ہلہ بول دیا۔رومی پیچھے ہٹنے لگے لیکن پیچھے قلعے کی دیوار تھی جو دراصل شہر کی پناہ تھی، ان کیلئے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہ رہی۔ مجاہدین انہیں دباتے چلے گئے۔’’دروازے کھول دو۔‘‘ دیوار کے اوپر سے کوئی چلایا۔قلعے کے اس طرف کے دروازے کھل گئے اور رومی سپاہی قلعے کے اندر جانے لگے۔انہیں قلعے میں ہی پناہ مل سکتی تھی، مسلمانوں نے دباؤ جاری رکھا، اور رومی جم کر مقابلہ کرتے رہے۔ ان میں سے جسے موقع مل جاتا وہ قلعے کے اندر چلا جاتا۔

جو رومی قلعے میں پناہ لینے کو جا رہے تھے وہ ان کی تمام نفری نہیں تھی،ان کی آدھی نفری بھی نہیں تھی۔ان کی آدھی نفری خالدؓ کے دستوں سے نبرد آزما تھی، خالدؓ نے جب دیکھ لیا تھا کہ ان کے پہلوؤں کے سالار وں نے ویسا ہی حملہ کیا ہے جیسا کہ وہ چاہتے تھے تو انہوں نے دشمن کے قلب پر حملہ کر دیا۔رومی بڑے اچھے سپاہی تھے،وہ پسپا ہونے کی نہیں سوچ رہے تھے اور خالدؓانہیں پسپائی کے مقام تک پہنچانے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے۔خالدؓنے شجاعت اور بے خوف قیادت کا یہ مظاہرہ کیا کہ گھوڑے سے اتر آئے اور سپاہیوں کی طرح پا پیادہ لڑنے لگے۔اس کا اثر مجاہدین پر ایساہوا کہ وہ بجلیوں کی مانند کوندنے لگے۔یہ ان کے ایمان کا اور عشقِ رسولﷺ کا کرشمہ تھا کہ مسلسل کوچ اور معرکوں کے تھکے ہوئے جسموں میں جان اور تازگی پیدا ہو گئی تھی ۔یہ مبالغہ نہیں کہ وہ روحانی قوت سے لڑ رہے تھے۔خالدؓ اس کوشش میں تھے کہ رومیوں کو گھیرے میں لے لیں لیکن رومی زندگی اور موت کا معرکہ لڑ رہے تھے۔وہ اب وار اور ہلے روکتے اور پیچھے یادائیں بائیں ہٹتے جاتے تھے۔وہ محاصرے سے بچنے کیلئے پھیلتے بھی جا رہے تھے۔آخر وہ بھی بھاگ بھاگ کر قلعے کے ایک اور کھلے دروازے میں غائب ہونے لگے۔خالدؓ نے بلند آواز سے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے قلعے میں داخل ہو جاؤ۔ ‘‘لیکن دیوار کے اوپر سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ برچھیاں بھی آئیں۔مجاہدین کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا، اور رومی جو بچ گئے تھے وہ قلعے میں چلے گئے اور قلعے کا دروازہ بندہو گیا۔باہر رومیوں اور ان کے اتحادی عیسائیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔زخمی تڑپ رہے تھے۔زخمی گھوڑے بِدکے اور ڈرے ہوئے بے لگام اور منہ زور ہو کر دوڑتے پھر رہے تھے۔چند ایک گھوڑ سواروں کے پاؤں رکابوں میں پھنسے ہوئے تھے اور گھوڑے انہیں گھسیٹتے پھر رہے تھے ۔سوار خون میں نہائی لاشیں بن چکے تھے۔لڑائی ختم ہو چکی تھی۔مجاہدین کے فاتحانہ نعرے گرج رہے تھے۔فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی،دشمن کا نقصان تو بہت ہوا تھا لیکن وہ قلعہ بند ہو گیا تھا۔فتح مکمل کرنے کیلئے قلعے سر کرنا ضروری تھا۔خالدؓ نے اپنے زخمیوں کو اٹھانے کا حکم دیا اور قاصد سے کہا کہ تمام سالاروں کو بلا لائے۔خالدؓنے ایک سوار کو دیکھا جو ان کی طرف آرہا تھا۔وہ دوسروں سے کچھ الگ تھلگ لگتا تھا۔ایک اس لیے کہ اس کا قد لمبا تھا اور جسم دبلا پتلا تھا۔عرب ایسے دبلے پتلے نہیں ہوتے تھے،یہ سوار کچھ آگے کو جھکا ہوا بھی تھا۔اس کی داڑھی گھنی نہیں تھی،اور لمبی بھی نہیں تھی۔اس داڑھی کو اس شخص نے مصنوعی طریقے سے کالا کر رکھا تھا۔وہ اس لیے بھی الگ تھلگ تھا کہ خالدؓ نے اسے لڑتے دیکھا تھا اور اس کاانداز کچھ مختلف سا تھا۔سب کی توجہ اس شخص کی طرف اس وجہ سے بھی ہوئی تھی کہ اس کے ہاتھ میں پیلے رنگ کا پرچم تھا۔یہ وہ پرچم تھاجو خیبر کی لڑائی میں رسولِ اکرمﷺنے اپنے ساتھ رکھا تھا۔خالدؓ اسے پہچان نہ سکے، دھوپ بہت تیز تھی۔اس نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا جس سے اس کا آدھا چہرہ ڈھکا ہوا تھا،خالدؓ کے قریب آکر وہ شخص مسکرایا تو خالدؓ نے دیکھا کہ اس آدمی کے سامنے کے دو تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں-

’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓنےمسرت سے کہا اور اس کی طرف دوڑے۔وہ ابو عبیدہؓ تھے۔مرج راہط سے خالدؓ نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ وہ انہیں بصرہ کے باہر ملیں۔ابو عبیدہؓ حواریں کے مقام پر پراؤ ڈالے ہوئے تھے جہاں سے انہوں نے شرجیلؓ بن حسنہ کو چار ہزار مجاہدین دے کو بصرہ پر حملہ کرایا تھا۔ان کے پاس خالدؓ کا قاصد بعد میں پہنچا تھا۔ابو عبیدہؓ پیغام پر اس وقت بصرہ پہنچے جب خالدؓ رومیوں کے ساتھ بڑے سخت معرکے میں الجھے ہوئے تھے۔انہوں نے تلوار نکالی اور معرکے میں شامل ہو گئے۔ابوعبیدہؓ کی اس وقت عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی۔وہ رسولِ کریمﷺکے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ان کے دادا اپنے وقتوں کے مشہور جراح تھے۔اسی نسبت سے انہوں نے اپنا نام ابو عبیدہ بن الجراح رکھ لیا تھا۔ان کا نام عامر بن عبداﷲبن الجراح تھا۔لیکن انہوں نے ابو عبیدہ کے نام سے شہرت حاصل کی۔دبلا پتلا اور کچھ جھکا ہونے کے باوجود ان کے چہرے پر جلال جیسی رونق رہتی تھی۔وہ دانشمند تھے۔میدانِ جنگ میں بھی ان کی اپنی شان تھی اور ذہانت اور عقلمندی میں بھی ان کا مقام اونچا تھا۔ابو عبیدہؓ کے سامنے کے دانت جنگِ احد میں ٹوٹے تھے۔اس معرکے میں رسولِ اکرمﷺ زخمی ہو گئے تھے۔آپﷺ کے خود کی زنجیروں کی دو کڑیاں آپﷺکے رخسار میں ایسی گہری اتری تھیں کہ ہاتھ سے نکلتی نہیں تھیں۔ابو عبیدہؓ نے یہ دونوں اپنے دانتوں سے نکالی تھیں اور اس کامیاب کوشش میں ان کے سامنے کے دو یا تین دانت ٹوٹ گئے تھے۔

ابنِ قتیبہ نے لکھا کہ رسول ﷺ ابو عبیدہؓ سے بہت محبت کرتے تھے اور حضورﷺ نے ایک بار فرمایا تھا کہ ’’ابو عبیدہ میری امت کا امین ہے ۔‘‘ اس حوالے سے ابو عبیدہ ؓکو لوگ امین الامت کہنے لگے۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ نے جب ابو عبیدہؓ کو بصرہ کے میدان میں دیکھا تو انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ ابو عبیدہؓ ان کی سپہ سالاری کو قبول نہیں کریں گے،گو خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو تحریری حکم بھیجا تھا کہ جب خالدؓ شام کے محاذ پر پہنچ جائیں تو تمام لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ ہوں گے لیکن خالد ؓکو احساس تھا کہ معاشرے میں جو مقام اور رتبہ ابو عبیدہؓ کو حاصل تھا وہ انہیں حاصل نہیں تھا۔خالدؓ خود بھی ابو عبیدہؓ کا بہت احترام کرتے تھے۔یہ احترام ہی تھا کہ بصرہ کے میدانِ جنگ میں خالدؓنے انہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو خالدؓ دوڑ کر ان تک پہنچے ۔ابو عبیدہؓ گھوڑے سے اترنے لگے۔’’نہیں ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ سے کہا۔’’گھوڑے سے مت اتر۔میں اس قابل نہیں ہوں کہ امین الامت میرے لیے گھوڑے سے اترے۔‘‘ابو عبیدہؓ گھوڑے پر سوار رہے اور جھک کر دونوں ہاتھ خالدؓکی طرف بڑھائے۔خالدؓ نے احترام سے مصافحہ کیا۔’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ نے سے کہا۔’’ امیر المومنین کا پیغام مجھے مل گیا تھا جس میں انہوں نے تمہیں ہم سب کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔میں اس پر بہت خوش ہوں۔کوئی شک نہیں کہ جنگ کے معاملات میں جتنی عقل تجھ میں ہے وہ مجھ میں نہیں۔‘‘
--------------------

خدا کی قسم ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’امیرالمومنین کے حکم کی تعمیل مجھ پر فرض ہے ورنہ میں تم پر سپہ سالار کبھی نہ بنتا۔ رتبہ جوتمہیں حاصل ہے وہ مجھے نہیں۔‘‘’’ایسی بات نہ کر ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ابو بکر نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ میں تیرے ماتحت ہوں،تیرے حکم پر آیا ہوں ، اﷲتجھے غسانیوں اور رومیوں پر فتح عطا فرمائے۔‘‘خالدؓ نے بصرہ کومحاصرے میں لینے کا حکم دیا۔رومیوں اور عیسائیوں کی لاشیں جہاں پڑی تھیں۔وہیں پڑی رہیں۔اوپر گِدّھوں کے غول اڑ رہے تھے اور درختوں پر اتر رہے تھے۔مجاہدین اپنے شہیدوں کی لاشیں اٹھا رہے تھے ان کی تعداد ایک سو تیس تھی۔خالدؓنے شہر پناہ کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر جائزہ لیا کہ دیوار کہیں سے توڑی جاسکتی ہے یا نہیں۔دیوار کے اوپر سے تیر آرہے تھے لیکن مسلمان ان کی زد سے دورتھے۔قلعے کے اندر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔جبلہ بن الایہم اور رومی سپہ سالار خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔’’کیا تم بالکل ہمت ہار بیٹھے ہو؟‘‘جبلہ بن الایہم نے رومی سالار سے پوچھا۔’’تم نے کہاں کہاں ہمت نہیں ہاری!‘‘رومی سالار نے شکست کا غصہ جبلہ پر نکالا اور کہا۔’’مسلمانوں کے راستے میں سب سے پہلے تم اور عیسائی آئے تھے اور مسلمانوں کو نہ روک سکے۔مرج راہط میں بھی تمہاری فوج ناکام رہی۔کیا تو مجھے اور میری فوج کو مروانا چاہتا ہے؟باہر نکل کے دیکھ۔ فوج کی نفری کتنی رہ گئی ہے ہمارے ساتھ۔ کچھ نفری میدانِ جنگ میں ماری گئی ہے، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے بہت سے سپاہی اور کماندار اجنادین کی طرف بھاگ گئے ہیں۔قلعے میں تھوڑی سی نفری آئی ہے۔دیوار پر جاکر باہر دیکھ اور لاشوں سے حساب کر کہ ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے؟‘‘باہر سے مسلمانوں کی للکار سنائی دے رہی تھی:’’رومی سالار باہر آکر صلح کی بات کرے۔‘‘’’رومیو!قلعہ ہمارے حوالے کر دو۔‘‘’’ہم نے خود قلعہ سر کیا تو ہم سے رحم کی امید نہ رکھنا۔‘‘اس کے ساتھ ہی خالدؓ کے حکم سے مجاہدین دروازے توڑنے کیلئے آگے جاتے رہے، مگر اوپر کے تیروں نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔انہوں نے ایک جگہ سے دیوار توڑنے کی کوشش بھی کی۔لیکن کامیابی نہ ہوئی۔شہر کے لوگوں پر خوف طاری تھا،وہ مسلمانوں کی للکار سن رہے تھے۔وہ جانتے تھے کہ فاتح فوجیں شہر کے لوگوں کو کس طرح تباہ کیا کرتی ہیں۔مسلمان کہہ رہے تھے کہ قلعے خود دے دو گے تو شہری اور ان کے گھر محفوظ رہیں گے۔جبلہ بن الایہم اور رومی سالار کمرے سے باہر نہیں آتے تھے۔شہر کے لوگ ایک ایک لمحہ خوف و ہراس میں گزار رہے تھے۔وہ تنگ آکر جبلہ کے محل کے سامنے اکٹھے ہو گئے۔’’مسلمانوں سے صلح کر لو۔‘‘ وہ کہہ رہے تھے۔’’ہمیں بچاؤ، قلعہ انہیں دے دو۔ ہمارا قتلِ عام نہ کراؤ۔‘

جبلہ اور رومی سالار نے تین چار دنوں تک کوئی فیصلہ نہ کیا، خالدؓ نے محاصرے کے بہانے اپنے لشکر کو آرام کی مہلت دے دی۔ انہوں نے شہیدوں کا جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا۔آخر ایک روز قلعے پر سفید جھنڈا نظر آیا،قلعے کا دروازہ کھلا اور رومی سالار باہر آیا۔ اس نے صلح کی بھیک مانگی۔ خالدؓ نے ان پر یہ شرط عائد کی وہ جزیہ ادا کریں۔رومی سالار نے قلعہ خالدؓ کے حوالے کردیا۔ یہ جولائی ۶۳۴ء )جمادی الاول(کا وسط تھا۔رومی اور غسانی قلعے سے نکلنے لگے۔شرجیلؓ بن حسنہ نے دیکھا تھا کہ رومی سپاہی اجنادین کی طرف بھاگ رہے تھے۔شرجیلؓ نے اپنا ایک جاسوس اجنادین بھیج دیا۔اس جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ رومی فوج اجنادین میں جمع ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ وہاں نوے ہزار فوج تیار ہو جائے گی۔’’ہماری اگلی منزل اجنادین ہو گی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔نپولین ان جرنیلوں میں سے تھا جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ کا پانسہ پلٹا اور کرہ ارض کو ہلا دیا تھا۔فرانس کے تاریخ ساز جرنیل نپولین نے خالدؓبن ولید کے متعلق کہا تھا،اگر مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار کوئی اور ہوتا تو یہ فوج اجنادین کی طرف پیش قد می ہی نہ کرتی۔نپولین کا دور خالدؓکے دور کے تقریباً بارہ سو سال بعد کا تھا۔تاریخ کے اس نامور جرنیل نے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا اور ان کی فوجوں کی کیفیت اور کارکردگی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ جولائی ۶۳۴ء میں بصرہ کی فتح کے بعد خالدؓ نے اپنی فوج کو اجنادین کی طرف پیش قدمی کا جو حکم دیا تھا وہ مسلمانوں کی فوج کی جسمانی کیفیت اور تعداد کے بالکل خلاف تھا۔ انہیں جاسوس نے صحیح رپورٹ دی تھی، کہ اجنادین میں رومیوں نے جو فوج مسلمانوں کو کچلنے کیلئے اکٹھی کر رکھی ہے، اس کی تعداد نوے ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے کم نہیں۔ یہ فوج تازہ دم تھی۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور یہ فوج مسلسل لڑتی چلی جاتی تھی۔صرف بصرہ کی لڑائی میں ایک سو تیس مجاہدین شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تھے۔یہاں موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کی اسلامی فوج کے متعلق کچھ تفصیل پیش کی جائے۔اسلامی فوج کی کوئی وردی نہیں تھی۔جس کسی کو جیسے کپڑے میسر آتے تھے وہ پہن لیتا تھا۔ایسا تو اکثر دیکھنے میں آتا تھا کہ کئی سپاہیوں نے بڑے قیمتی کپڑے پہن رکھے ہیں اور سالار، نائب سالار وغیرہ بالکل معمولی لباس میں ہیں۔ وجہ تھی کہ سپاہی مالِ غنیمت میں ملے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔اسلامی فوج کی ایک خوبی یہ تھی کہ سالاروں کمانداروں یعنی افسروں کا کوئی امتیازی نشان نہ تھا۔افسری کا یہ تصور تھا ہی نہیں جو آج کل ہے۔بعض قبیلوں کے سردار سپاہی تھے اور انہی قبیلوں کے بعض ادنیٰ سے آدمی کماندار تھے۔عہدے اور ترقیاں نہیں تھیں۔آج ایک آدمی جذبے کے تحت فوج میں سپاہی کی حیثیت سے شامل ہواہے تو ایک دو روز بعد وہ ایک دستے کاکماندار بن گیا ہے۔جذبہ اور جنگی اہلیت دیکھی جاتی تھی،ایسے بھی ہوتا تھا کہ ایک معرکے کا افسر اگلے معرکے میں سپاہی ہو۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق افسری اور ماتحتی کا تصور کچھ اور تھا۔ جس کسی کو افسر بنایا جاتا تھا وہ فرائض کی حد تک افسر ہوتا تھا۔ اس کا کوئی حکم ذاتی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا۔چونکہ افسر کے انتخاب کا معیار کچھ اور تھا اس لیے اس وقت کا معاشرہ خوشامد اور سفارش سے آشنا ہی نہیں ہوا تھا۔اتنی وسیع اسلامی سلطنت کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب مسلمان افسر اور ماتحت میں تقسیم ہو گئے تھے اور حاکموں نے ماتحتوں کو محکوم سمجھنا شروع کر دیا تھااور وہ خوشامد پسند ہو گئے تھے۔ہتھیارون کا بھی کوئی معیار نہ تھا۔ فوج میں شامل ہونے والے اپنے ہتھیار خود لاتے تھے۔زِرہ اور خود ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی تھی۔مسلمان سپاہی جو زرہ اور خودپہنتے تھے وہ دشمن سے چھینی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان میں اس قسم کی یکسانیت نہیں ہوتی تھی جیسی فوجوں میں ہوا کرتی ہے۔اسلامی فوج کا کوچ منظم فوج جیسا نہیں ہوتا تھا۔یہ فوج غیر منظم قافلے کی مانند چلتی تھی۔ان کی خوراک اور رسد ان کے ساتھ ہوتی تھی۔بیل گائیں، دنبے اور بھیڑ بکریاں جو فوج کی خوراک بنتی تھیں، فوج کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، رسد کا باقاعدہ انتظام بہت بعد میں کیا گیا تھا۔گھوڑ سوار کوچ کے وقت پیدل چلا کرتے تھے تاکہ گھوڑے سواروں کے وزن سے تھک نہ جائیں۔سامان اونٹوں پر لدا ہوتا تھا، عورتیں اور بچے ساتھ ہوتے تھے انہیں اونٹوں پر سوار کرایاجاتا تھا۔اس وقت کی اسلامی فوج کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ فوج ہے،اس کوقافلہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس فوج کی ایک تنظیم تھی۔آگے ہراول دستہ ہوتا تھا جسے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا پورا احساس ہوتا تھا، اس کے پیچھے فوج کا ایک بڑا حصہ، اس کے پیچھے عورتیں اور بچے اور اس کے پیچھے عقب کی حفاظت کیلئے ایک دستہ ہوتا تھا۔اسی طرح پہلوؤں کی حفاظت کا بھی انتظام ہوتا تھا.
یہ فوج عموماً دشوار رستہ اختیار کیا کرتی تھی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ منزل تک کا راستہ چھوٹا ہو جاتا تھا، دوسرا فائدہ یہ کہ راستے میں دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں رہتا تھا، اگر دشمن حملہ کر بھی دیتا تو اسلامی فوج فوراً علاقے کی دشواریوں یعنی نشیب و فراز وغیرہ میں روپوش ہو جاتی تھی، دشمن ایسے علاقے میں لڑنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔جولائی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کی فوج اسی طرح اجنادین کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی ۔ پہلے سنایا جا چکا ہے کہ مدینہ کی فوج کے چار حصے مختلف مقامات پر تھے ۔خالدؓ نے ان کے سالاروں کو پیغام دیئے تھے کہ سب اجنادین پہنچ جائیں۔

خالدؓنے بصرہ پر قبضہ کر لیا تھا، رومیوں اور غسانیوں کیلئے یہ چوٹ معمولی نہیں تھی۔بصرہ شام کا بڑا اہم شہر تھا،یہ مسلمانوں کا اڈہ بن گیا تھا۔سب سے بڑا نقصان رومیوں کو یہ ہوا تھا کہ لوگوں پر اور ان کی فوج پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔مسلمانوں نے بصرہ تک شکستیں دی تھیں، کہیں بھی شکست کھائی نہیں تھی،کہیں ایک سالار کو پسپا ہونا پڑا تو فوراً دوسرے سالار نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔قیصر روم کی تو نیندیں حرام ہو گئی تھیں،خالدؓنے جب بصرہ کو محاصرہ میں لے رکھا تھا اور صورتِ حال بتا رہی تھی کہ بصرہ رومیوں کے ہاتھ سے جارہا ہے تو شہنشاہِ ہرقل رومی نے حمص کے حاکم وِردان کو ایک پیغام بھیجا تھا:’’کیا تم شراب میں ڈوب گئے ہو یا تم ان عورتوں جیسی عورت بن گئے ہو جن کے ساتھ تمہاری راتیں گزرتی ہیں؟‘‘ہرقل نے لکھا تھا۔’’اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا دن اونگھتے گزرتا ہے ۔کیا ہے ان مسلمانوں کے پاس جو تمہارے پا س نہیں؟اگر میں کہوں کہ قیصرِ روم کی ذلت کے ذمہ دار تم جیسے حاکم ہیں تو کیا جواب دو گے؟تم شاید یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ مسلمانوں کی اتنی تیز پیش قدمی اور فتح پہ فتح حاصل کرتے چلے آنے کو کس طرح روکا جا سکتا ہے ۔کیا تمہاری تلواروں کو زنگ نے کھا لیا ہے؟ کیا تمہارے گھوڑے مر گئے ہیں؟لوگوں کو تم بتاتے کیوں نہیں کہ مسلمان تمہارے مال و اموال لوٹ لیں گے۔ تمہاری بیٹیوں کو ، تمہاری بیویوں اور تمہاری بہنوں کو اپنے قبضے میں لے لیں گے!……مجھے بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار سے ذرا کم یا زیادہ ہے۔تم زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرو اور اجنادین کے علاقے میں پہنچ جاؤ ۔محاذ کو اتنا پھیلا دو کہ مسلمان اس کے مطابق پھیلیں تو ان کی حالت کچے دھاگے کی سی ہو جائے……انہیں اپنی تعداد میں جذب کرلو۔انہیں اپنی تعداد میں گم کر دو۔‘‘رومیوں کی بادشاہی میں ہنگامہ بپا ہو گیا تھا۔رومیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں پادریوں اور پروہتوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز وعظ شروع کر دیئے تھے،وہ کہتے تھے کہ اسلام ان کے مذہبوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دے گااور انہیں مجبوراًاسلام قبول کرنا پڑے گا،اور یہ ایسا گناہ ہوگا جس کی سزا بڑی بھیانک ہوگی۔رومیوں کی فوج ایک منظم لشکر تھا۔ان کے پاس گھوڑوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان کے پاس گاڑیاں بھی تھیں جو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے۔رسد کا انتظام بہت اچھا تھا۔عبادت گاہوں میں لوگوں نے وعظ سنے تو وہ فوج میں شامل ہونے لگے۔اس طرح ان کی فوج کی تعداد بڑھ گئی۔حمص کا حاکم وردان جب فوج کے ساتھ اجنادین کو روانہ ہوا اس وقت فوج کی تعداد نوے ہزار تھی۔

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 39 میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاکم اللہ خیرا
[05/04, 9:01 p.m.] +92 312 5867358: *شمشیرِ بے نیام*

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
    
*( قسط نمبر-39)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مسلمانوں کے جاسوسوں نے اس لشکر کو اجنادین کے علاقے میں خیمہ زن ہوتے دیکھا تھا۔اتنے بڑے اور ایسے منظم لشکر کے مقابلے کیلئے جانا ہی بہت بڑی جرات تھی، مقابلہ تو بعد کا مسئلہ تھا۔
۲۴جولائی ۶۳۴ء کے روز خالدؓ اپنی فوج کے ساتھ اجنادین پہنچ گئے ۔وہ بیت المقد س کے جنوب میں پہاڑیوں میں سے گزرے تھے۔ان پہاڑیوں کے ایک طرف میدان تھا۔ خالدؓ نے وہاں قیام کا حکم دیا۔تقریباًایک میل دور رومی فوج خیمہ زن تھی۔اس کا سالارِ اعلیٰ وردان اور سالار قُبقُلارتھا۔رومی فوج تو جیسے انسانوں کا سمندر تھا۔مسلمانوں کی فوج اس کے مقابلے میں چھوٹا سادریا لگتی تھی۔اسلامی فوج کے جو دستے دوسری جگہوں پر تھے وہ آگئے اور مسلمانوں کی تعداد بتیس ہزار ہو گئی۔ایک میل کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ مسلمان اونچی جگہوں پر کھڑے ہوکر رومیوں کی خیمہ گاہ کی طرف دیکھتے تھے۔انہیں حدّ نگاہ تک انسان اور گھوڑے نظر آتے تھے۔دو تین دنوں بعد خالدؓ کو بتایا گیا کہ فوج میں کچھ گھبراہٹ سی پائی جاتی ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اُن نو ہزار مجاہدین میں ذرا سی بھی گھبراہٹ نہیں تھی جو خالدؓ کے ساتھ تھے۔وہ عیسائیوں غسانیوں اور رومیوں کے خلاف لڑتے چلے آئے تھے۔وہ رومیوں کی اتنی زیادہ فوج سے خوفزدہ نہیں تھے۔دوسرے دستوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے خالدؓ خیمہ گاہ میں گھومنے پھرنے لگے۔وہ جہاں رکتے ان کے اردگردمجاہدین کا مجمع لگ جاتا۔خالدؓنے سب سے ایک ہی جیسے الفاظ کہے:’’اسلام کے سپاہیو!میں جانتا ہوں تم نے اتنی زیادہ رومی فوج پہلے کبھی نہیں دیکھی لیکن تم اتنی بڑی فوج کو پہلے شکست دے چکے ہو۔ خدا کی قسم!تم ڈر گئے تو ہار جاؤ گے،اور اگر تم نے اس لشکر پر فتح پالی تو رومی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گے۔اپنے اﷲکے نام پر لڑو۔ اسلام کے نام پر لڑو۔ اگر تم نے پسپائی اختیار کی تو دوزخ کی آگ میں جلو گے۔جب لڑائی شروع ہو جائے تو اپنی صفوں میں بد نظمی پیدا نہ ہونے دینا۔ قدم جما کر رکھنا۔ جب تک میری طرف سے حکم نہ ملے، نہ پیچھے ہٹنا نہ حملہ کرنا……اﷲتمہارے ساتھ ہے۔‘‘اُدھر رومیوں کا سالارِ اعلیٰ وردان اپنے کمانداروں سے کہہ رہا تھا:’’اے رومیو!قیصرِ روم کو شکست کی ذلت سے بچانا تمہارا فرض ہے، قیصر روم کو تم پر اعتماد ہے۔اگر تم نے ان عربی مسلمانوں کو فیصلہ کن شکست نہ دی تو یہ تم پر ہمیشہ کی طرح غالب آجائیں گے ۔یہ تمہاری بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں کو بے آبرو کریں گے۔اپنے آپ کو منتشر نہ ہونے دینا، صلیب کی مددمانگو، فتح تمہاری ہے۔مسلمانوں کی تعدادبہت تھوڑی ہے۔ایک کے مقابلے میں تم تین ہو۔‘‘
دو تین دن مزید گزر گئے۔خالدؓ دشمنوں کی صحیح تعداد اور کیفیت معلوم کرنا چاہتے تھے۔وہ کسی بھی جاسوس کو بھیج سکتے تھے لیکن انہیں جس قسم کی معلومات کی ضرورت تھی وہ کوئی ذہین اور دلیر آدمی حاصل کرسکتا تھا۔انہوں نے اپنے سالاروں سے کہا کہ انہیں کوئی
آدمی دیا جائے۔’’ابنِ ولید!‘‘سالار ضرار بن الازور نے کہا۔’’کیا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا؟خدا کی قسم!مجھ سے بہتر یہ کام کوئی اور نہیں کر سکے گا۔‘‘ضرار وہ سالار تھے جنہوں نے بصرہ کے معرکے میں نہ صرف اپنی زرہ اتار پھینکی بلکہ قمیض بھی اتار کر کمر تک برہنہ ہو گئے اور ایسے جوش سے لڑے کہ سارے لشکر کے جوش و جذبے میں بے پناہ اضافہ ہو
گیاتھا۔’’ہاں ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔’’ تمہارے سوا یہ کام اور کون کر سکتا ہے۔ تم ہی بہتر جانتے ہو کہ تمہیں وہاں کیا دیکھنا ہے۔‘‘ضرار نے قمیض اتار پھینکی اور کمر تک برہنہ ہو گئے ۔وہ گھوڑے پر سوار ہوئے تو خالدؓ اور دوسرے سالاروں نے قہقہہ لگایا۔’’خدا حافظ میرے رفیقو!‘‘ضرار نے ہلکی سی ایڑ لگا کر کہا۔’’اﷲتجھے سلامت رکھے ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔رومیوں کی خیمہ گاہ کے قریب ایک اونچی ٹیکری تھی۔ ضرار نے گھوڑا نیچے چھوڑا اور ٹیکری پر چڑھ گئے۔مسلمانوں اور رومیوں کی خیمہ گاہ کے درمیان ایک میل کا علاقہ خالی تھا۔دونوں فریقین کے گشتی سنتری اس علاقے میں گردش کرتے رہتے تھے۔یہ گشتی سنتری گھوڑ سوار ہوتے تھے۔ضرار کو رومیوں کے گشتی سوار نہیں دیکھ سکے تھے۔ضرار ٹیکری پر چڑھے تو دوسری طرف رومیوں کے سنتری موجود تھے۔انہوں نے ضرار کو دیکھ لیا۔ضرار تیزی سے نیچے اترے اور کود کر گھوڑے پر سوار ہوئے۔انہیں پکڑنے کیلئے رومی سوارٹیکری کے دونوں طرف سے آئے۔ان کی تعداد )مؤرخوں کے مطابق( تیس تھی۔ضرار نے گھوڑے کو ایڑ لگائی لیکن گھوڑے کو تیز نہ دوڑایا۔رومی سواروں نے بھی گھوڑے تیز نہ دوڑائے۔وہ غالباً محتاط تھے کہ مسلمان سنتری کہیں قریب موجود ہوں گے۔پھر بھی رومی سواروں نے ضرار کا تعاقب جاری رکھااور ضرار معمولی رفتار سے چلے آئے۔رومی سوار انہیں گھیرے میں لینے کیلئے پھیلتے چلے گئے اور وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔ضرار ان کے بکھرنے کے ہی منتظر تھے۔ان کے پاس برچھی تھی،ان کی اپنی خیمہ گاہ قریب آگئی تھی۔اچانک ضرار نے تیزی سے گھوڑے کو پیچھے موڑا اور ایڑ لگائی۔ان کا رخ اس رومی سوار کی طرف تھا جو ان کے قریب تھا،انہوں نے اس رومی پر برچھی کا وار کیا۔وار بڑا زوردار تھا۔رومی سنبھل نہ سکا۔ ضرار کا حملہ غیر متوقع تھا۔یہ سوار گھوڑے سے گر پڑا۔دوسرے رومی سوار ابھی سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ یہ کیا ہوا ہے، کہ ضرار کی برچھی ایک اور رومی کے پہلو میں اتر چکی تھی۔تیسرا سوار ضرار کی طرف آیا تو ضرار کی برچھی میں پرویا گیا۔مسلمانوں کی خیمہ گاہ قریب ہی تھی پھر بھی رومی ضرار کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہے تھے ۔ضرار مانے ہوئے شہسوار تھے،وہ رومیوں کے ہاتھ نہیں آرہے تھے۔رومیوں کی تعداد اب ستائیس تھی۔ضرار بھاگ نکلنے کے بجائے انہی میں گھوڑا دوڑاتے اور پینترے بدلتے پھر رہے تھے۔ان کی برچھی کا کوئی وار خالی نہیں جاتا تھا۔
واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ ضرار نے برچھی کے ساتھ ساتھ تلوار بھی استعمال کی تھی۔ان کی تحریروں کے مطابق ضرار نے تیس میں سے انیس رومی سواروں کو مار ڈالا تھا۔ضرار کو زد میں لینے کی کوششش میں رومی مسلمانوں کی خیمہ گاہ کے اورقریب آگئے تھے۔بہت سے مسلمان سوار ضرار کی مدد کو پہنچنے کیلئے تیار ہونے لگے۔رومیوں نے یہ خطرہ بر وقت بھانپ لیا اور وہ بھاگ گئے۔ضرار اپنی خیمہ گاہ میں داخل ہوئے تو مجاہدین نے دادوتحسین کا شور و غوغا بپا کرکے ان کا استقبال کیا لیکن خالدؓ کے سامنے گئے تو خالدؓ کے چہرے پر خفگی تھی-

’’کیا میں نے تجھے کسی اور کام کیلئے نہیں بھیجا تھا؟‘‘خالدؓ نے درشت لہجے میں کہا۔’’اور تو نے دشمن سے لڑائی شروع کر دی۔ کیا تو نے اپنے فرض کے ساتھ بے انصافی نہیں کی؟‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ضرار بن الازور نے کہا۔’’خدا کی قسم!تیرے حکم کا اور تیری ناراضگی کا خیال نہ ہوتا تو جو رومی بچ کر نکل گئے ہیں وہ بھی نہ جاتے۔انہوں نے مجھے گھیر لیا تھا۔‘‘اس کے بعد خالدؓ نے کسی کو رومی خیمہ گاہ کی جاسوسی کیلئے نہ بھیجا۔تین چار دن اور گزر گئے۔خالدؓ کے لشکر نے آرام کر لیا لیکن خالدؓکے اپنے شب وروز جاگتے سوچتے اور خیمے میں ٹہلتے گزرے۔اپنے سے تین گنا طاقتور فوج کو شکست دینا تو ذرا دور کی بات ہے، اس کے مقابلے میں اترنا ہی ایک بہادری تھی لیکن خالدؓ فتح کے سوا کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔وہ ہر شام سالاروں اور کمانداروں کو بلا کر ان سے مشورے لیتے اور ہدایات دیتے تھے۔رومی کیمپ میں کچھ اور ہی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔ان کے سالار قُبقُلار کا حوصلہ جواب دے رہا تھا۔متعدد مؤرخوں نے خصوصاًواقدی نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے۔’’میں بڑا ہی خوش قسمت ہوتا اگر میں مسلمانوں کی فوج سے دور رہتا۔‘‘قُبقُلارنے اپنے سالارِ اعلیٰ وردان سے کہا۔’’ایسے نظر آرہا ہے کہ وہ ہم پر غالب آجائیں گے۔‘‘’’ایسی بے معنی بات میں آج پہلی بار سن رہا ہوں۔‘‘وردان نے کہا۔’’کیا ایک آدمی کبھی تین آدمیوں پر غالب آیا ہے؟’’ایسا کئی بار ہوا ہے۔‘‘قبقلار نے کہا۔’’ہاں ایسا کئی بار ہوا ہے۔‘‘وردان نے کہا۔’’اور وہ تم جیسے تین آدمی تھے جو میدان میں اترنے سے پہلے ہی حوصلہ ہار بیٹھے تھے۔‘‘’’کیا وہ ایک آدمی نہیں تھا جس نے ہمارے تیس میں سے انیس سواروں کو مار گرایا ہے؟‘‘قبقلار نے کہا۔’’تیس سوار ایک سوار پر غالب نہیں آسکے۔‘‘’’وہ سپاہی تھے، بزدل تھے۔‘‘وردان نے کہا۔’’تم سالار ہو، تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میدانِ جنگ میں بزدلی کی سزا موت ہے……لیکن مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں ہوا کیا ہے؟کیا تم پر مسلمانوں کا جادو چل گیا ہے؟‘‘’’جب سے ایک مسلمان نے ہمارے تیس آدمیوں کا مقابلہ کیا اور انیس کو مار گرایا ہے میں سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ اس ایک آدمی میں اتنی طاقت اور اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تھی؟‘‘سالار قبقلار نے کہا۔’’میں نے ایک عربی عیسائی کو مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج رکھا تھا۔وہ تین چار دن مسلمان بن کر ان کی خیمہ گاہ میں رہا ، کل وہ واپس آیا ہے۔اس نے جوکچھ بتایا ہے اس سے مجھے پتا چلا ہے کہ ان کی طاقت کیا ہے۔‘‘’’ا س نے کیا بتایا ہے؟‘‘وردان نے پوچھا۔’’میں اسے ساتھ لایا ہوں۔‘‘قبقلار نے کہا۔’’ساری بات اسی سے سن لیں۔‘‘جاسوس کو بلایا گیا۔وردان نے اس سے پوچھا کہ مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں اس نے کیا دیکھا ہے۔’’سالارِ اعلیٰ کا رتبہ قیصرِ روم جتنا ہو۔‘‘جاسوس نے تعظیم سے کہا۔’’میں نے اس خیمہ گاہ میں عجیب لوگ دیکھے ہیں۔وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں، ہم جیسے نہیں۔‘‘’’تم اتنے دن ان کے درمیان کس طرح رہے؟‘‘وردان نے پوچھا۔’’کیا تم پر کسی نے شک نہیں کیا؟‘‘’’میں ان کی زبان بولتا ہوں۔‘‘جاسوس نے جواب دیا۔’’ان کے طور طریقے جانتا ہوں۔ان کے مذہب اور ان کی عبادت سے واقف ہوں،وہ اپنی فوج میں آپ کی طرح کسی کو بھرتی نہیں کرتے، جو کوئی ان کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہے ، اپنا ہتھیار اور اپنا گھوڑا لے کر شامل ہو جاتاہے۔میں مسلمان بن کر ان کی فوج میں شامل ہو گیا تھا……‘‘’’میں نے ان مسلمانوں میں کچھ نئے اصول دیکھے ہیں۔رات کو وہ عبادت گزار ہوتے ہیں، اور دن کو ایسے جنگجو جیسے وہ لڑنے مرنے کے سوا کچھ جانتے ہی نہ ہوں۔اپنے عقیدے کے تحفظ اور اس کے فروغ کیلئے لڑنے اور جان دینے کو یہ اپنا ایمان کہتے ہیں،ان کا ہر ایک سپاہی اس طرح بات کرتا ہے جیسے وہ کسی سالار کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی لڑائی کیلئے آیا ہو۔وہ سب ایک جیسے ہیں۔ لباس سے سالار اور سپاہی میں فرق معلوم نہیں کیا جا سکتا……‘‘’’میں نے ان میں مساوات کے علاوہ انصاف دیکھا ہے۔ اگر ان کے حاکم یا امیر کا بیٹا چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ہیں۔اگر وہ کسی عورت کے ساتھ بد کاری کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے سرِ عام کھڑا کرکے پتھر مارتے ہیں حتیٰ کہ وہ مر جاتا ہے۔یہ لوگ اتنے مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی فکر اور کوئی پریشانی نہیں……‘‘
’’سالارِ اعلیٰ اگر مجھے معاف کر دیں تو میں کہوں……ہماری فوج میں وہ وصف نہیں جو مسلمانوں میں دیکھ کر آیا ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــ

’’۔مسلمانوں کا کوئی بادشاہ نہیں۔ہمارے سپاہی بادشاہ کے حکم سے لڑتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ بادشاہ انہیں نہیں دیکھ رہا تو وہ اپنی جانیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مسلمان ایک خدا کو اپنا بادشاہ سمجھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ خدا ہر جگہ موجود ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘مشہور مؤرخ طبری نے لکھاہے کہ قبقلار بول پڑا۔’’ میں کہتا ہوں میں اس زمین کے نیچے چلا جاؤں جس زمین پر ان سے مقابلہ کرنا پڑے۔کاش، میں ان کے قریب نہ جا سکوں۔نہ خدا اُن کے خلاف میری نہ میرے خلاف اُن کی مدد کرے۔‘‘وردان نے قبقلار سے کہا کہ اسے لڑنا پڑے گا۔ لیکن قبقلار کا لڑنے کا جذبہ ماند پر گیا تھا۔۲۷ جمادی الاول ۱۳ہجری )۲۹ جولائی ۶۳۴ء( کی شام خالدؓنے اپنے سالاروں کو آخری ہدایات دیں اور اپنے لشکر کی تقسیم کر دی۔۲۸ جمادی الاول ۱۳ ہجری )۳۰ جولائی ۶۳۴ء( کو مجاہدین نے روز مرہ کی طرح فجر کی نماز باجماعت پڑھی۔سب نے گڑگڑاکر بڑے ہی جذباتی اندازمیں دعائیں مانگیں۔بہت سے ایسے تھے جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ان میں سے نہ جانے کس کس کی یہ آخری نماز تھی۔نماز کے فوراًبعد انہیں اپنے اپنے دستوں کے ساتھ ان جگہوں پر چلے جاناتھا جو ان کیلئے گذشتہ رات مقرر کی گئی تھیں۔سورج نکلنے سے پہلے پہلے خالدؓ کا لشکر اپنی جگہوں پر پہنچ چکا تھا۔رومیوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ اپنی اتنی زیادہ تعداد کے بل بوتے پر اتنا پھیل جائیں گے کہ مسلمان اتنا پھیلے تو ان کی صفوں میں شگاف پڑ جائیں گے۔لیکن خالدؓ نے تعداد کی قلت کے باوجود محاذ پانچ میل لمبا بنا دیا،اس سے یہ خطرہ کم ہو گیا کہ رومی پہلوؤں میں جا کر یا پہلوؤں سے عقب میں جاکر حملہ کریں گے۔خالدؓنے دوسری دانشمندی یہ کی کہ اپنے لشکر کا منہ مغرب کی طرف رکھا تاکہ سورج ان کے پیچھے اور رومیوں کے سامنے رہے اور وہ آنکھوں میں سورج کی چمک پڑنے کی وجہ سے آنکھوں کو کھول نہ سکیں۔
حسبِ معمول خالدؓ نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک پہلو کے دستوں کے سالار سعید بن عامر تھے، دوسرے کے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن،اور قلب کی کمان معاذؓ بن جبل کے پاس تھی۔خالدؓنے دونوں پہلوؤں کے دستوں کی حفاظت کے لئے یا مشکل کے وقت ان کی مدد کو پہنچنے کا یہ اہتمام کیا تھا کہ ان دستوں کے آگے ایک ایک دستہ کھڑا کر دیا تھا۔چار ہزار نفری جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، خالدؓ نے قلب کے عقب میں محفوظہ)ریزرو( کے طور پر رکھ لی، وہاں اس نفری کی موجودگی اس لیے بھی ضروری تھی کہ وہاں عورتیں اور بچے تھے۔خالدؓنے سالاری کے رتبے کے افراد کو اپنے ساتھ رکھ لیا، مقصد یہ تھا کہ جہاں کہیں سالار کی ضرورت پڑے، ان میں سے ایک کو وہاں بھیج دیا جائے، یہ چاروں بڑے قابل اور تجربہ کار سالار تھے۔ عمرؓ کے بیٹے عبداﷲؓ، عمروؓ بن العاص، ضرار بن الازور، اور رافع بن عمیرہ۔سورج طلوع ہوا تورومی سنتریوں نے اپنے سالاروں کو اطلاع دی کہ مسلمان جنگی ترتیب میں تیار ہو گئے ہیں۔ رومیوں کے اجتماع میں ہڑبونگ مچ گئی۔

ان کا خدشہ بجا تھا کہ مسلمان حملہ کر دیں گے۔رومی سالاروں نے بڑی تیزی سے اپنے لشکر کو تیار کیااور مسلمانوں کے سامنے کھڑا کر دیا۔دونوں فوجوں کے درمیان فاصلہ تقریباً چار فرلانگ تھا۔خالدؓنے اپنے محاذ کو کم و بیش پانچ میل لمبا کر دیا تھا۔رومی اپنے لشکر کو اس سے زیادہ پھیلا سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے محاذ کی لمبائی تقریباً اتنی ہی رکھی جتنی خالدؓنے رکھی تھی۔اس سے خالدؓکا یہ مسئلہ تو حل ہو گیا کہ رومی مسلمانوں کے پہلوؤں کیلئے خطرہ نہ بن سکے لیکن رومی لشکر کی گہرائی زیادہ بلکہ بہت زیادہ تھی۔دستوں کے پیچھے دستے اور ان کے پیچھے دستے تھے۔مسلمانوں کیلئے ان کی صفیں توڑنا تقریباًناممکن تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومیوں کا لشکر جب اس ترتیب میں آیا تو دیکھنے والوں پر ہیبت طاری کرتا تھا۔بہت سی صلیبیں جن میں کچھ بڑی اور کچھ ذرا چھوٹی تھیں ، اس لشکر میں سے اوپر کو ابھری ہوئی تھیں اور کئی رنگوں کے جھنڈے اوپر کو اٹھے ہوئے لہرا رہے تھے۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوج نہایت معمولی اور بے رعب سی لگتی تھی۔رومیوں کا سالار رودان اور سالار قُبقُلار اپنے لشکر کے قلب کے سامنے گھوڑوں پر سوار کھڑے تھے۔ان کے ساتھ ان کے محافظوں کا ایک دستہ تھا جو لباس وغیرہ سے بڑی شان والے لگتے تھے۔رومیوں کی تعداد اور ان کے ظاہری جاہ وجلال کو دیکھ کر خالدؓ نے محسوس کیا ہوگا کہ ان کے مجاہدین پر رومیوں کا ایسا اثر ہو سکتا ہے کہ ان کا جذبہ ذرا کمزور ہو جائے۔شاید اسی لیے خالدؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ گائی اور گھوڑے کا رخ اپنی فوج کے ایک سرے کی طرف کر دیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے اپنامحاذ اتنا زیادہ پھیلایا تھا،انہوں نے گھوڑا ایک پہلو کے دستے کے سامنے جا روکا۔’’یاد رکھنا کہ تم اس اﷲ کے نام پر لڑنے آئے ہو جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے۔‘‘خالدؓنے ایک ہاتھ اور اس ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کرکے انتہائی بلند آواز میں کہا۔’’اﷲکسی اور طریقے سے بھی اپنی دی ہوئی زندگی تم سے واپس لے سکتا ہے۔اﷲنے تمہارے ساتھ ایک رشتہ قائم کر رکھا ہے ،کیا یہ اچھا نہیں کہ تم اﷲکی خاطر اپنی جانیں قربان کردو؟اﷲاس کا اجر دے گا۔ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے کہ تم تھوڑے تھے اور تمہارا مقابلہ اس دشمن سے ہوا جو تم سے دوگنا اور تین گناتھااور اتنا طاقتور دشمن تمہاری ضرب سے اس طرح بھاگا جس طرح بکری شیر کو اور بھیڑ بھیڑیئے کو دیکھ کر بھاگتی ہے……رومیوں کی ظاہری شان و شوکت کو نہ دیکھو۔شان و شاکت ایمان والوں کی ہوتی ہے۔جاہ و جلال ان کا ہے جن کے ساتھ اﷲہے۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔آج اپنے اﷲپر اور اﷲکے رسولﷺ پر ثابت کر دو کہ تم باطل کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنیو الے ہو-

یہ تو جذباتی باتیں تھیں جو خالدؓ نے کیں، اور ان کا اثر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا ، خالدؓنے ان باتوں کے علاوہ کچھ ہدایات دیں، مورخوں نے ان کے صحیح الفاظ لکھے ہیں:’’جب آگے بڑھ کر حملہ کرو تو مل کر دشمن پر دباؤ ڈالو، جیسے ایک دیوار بڑھ رہی ہو، جب تیر چلاؤ تو سب کے تیر اکٹھے کمانوں سے نکلیں اور دشمن پر بوچھاڑ کی طرح گریں، دشمن کو اپنے ساتھ بہا لے جاؤ۔‘‘خالدؓ تمام دستوں کے سامنے رُکے، اور یہی الفاظ کہے۔ اس کے بعد وہ عقب میں عورتوں کے پاس چلے گئے۔’’دعا کرتی رہنا اپنے خاوندوں کیلئے ۔ اپنے بھائیوں اور اپنے باپوں کیلئے!‘‘خالدؓنےعورتوں سے کہا۔’’تم دیکھ رہی ہو کہ دشمن کی تعداد کتنی زیادہ ہے، اور ہم کتنے تھوڑے ہیں، ایسا ہو سکتا ہے کہ دشمن ہماری صفوں کو توڑکے پیچھے آجائے ۔خدا کی قسم!مجھے پوری امید ہے کہ اپنی عزت اور اپنی جانیں بچانے کیلئے تم مردوں کی طرح لڑو گی۔ ہم انہیں تم تک پہنچنے نہیں دیں گے لیکن وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہو جائے۔‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘ایک عورت نے کہا۔’’کیا وجہ ہے کہ ہمیں آگے جا کر لڑنے کی اجازت نہیں؟‘‘’’مرد زندہ ہوں تو عورت کیوں لڑے!‘‘خالدؓنے کہا۔’’اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے لڑنا تم پر فرض ہے، اور تم پر فرض ہے کہ مرد تھوڑے رہ جائیں، دشمن غالب آرہا ہو تو آگے بڑھو، اور مردوں کی طرح لڑو، اور اپنے اوپر غیر مرد کا غلبہ قبول نہ کرو۔‘‘یہ پہلا موقع تھا کہ خالدؓ نے عورتوں کو بھی دشمن سے خبردار کیا اور انہیں اپنے دفاع میں لڑنے کیلئے تیار کیاتھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں خاصی تشویش تھی۔انہوں نے کسریٰ کی فوجوں کو شکست پہ شکست دی تھی لیکن رومی فارسیوں کی نسبت زیادہ منظم اور طاقتور تھے۔خالدؓ کے سامنے یقیناً یہ پہلو بھی ہو گا کہ مجاہدین کو گھروں سے نکلے خاصا عرصہ ہو چکا تھا، اور وہ مسلسل لڑائیوں کے تھکے ہوئے بھی تھے۔انہیں اپنے اﷲپر، اﷲکی دی ہوئی روحانی طاقتوں پر اور ایمان پر بھروسہ تھا۔دونوں فوجیں لڑائی کیلئے تیار ہو گئیں۔رومیوں کی طرف سے ایک معمر پادری آگے آیا اور مسلمانوں سے کچھ دور آکر رک گیا۔’’اے مسلمانو!‘‘اس نے بلند آواز سے کہا۔’’تم میں کوئی ایسا ہے جو میرے پاس آکر بات کرے؟‘‘خالدؓنے اپنے گھوڑے کی لگام کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور پادری کے سامنے جا گھوڑا روکا۔’’تم سالار ہو۔‘‘بوڑھے پادری نے کہا۔’’کیا تم میں مجھ جیسا کوئی مذہبی پیشوا نہیں؟‘‘’’نہیں!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’ہمارے ساتھ کوئی مذہبی پیشوا نہیں ہوتا،سالار ہی امام ہوتا ہے۔ میں سپہ سالار ہوں اور میں معزز پادری کو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ میں اس وقت تک سپہ سالار رہوں گا جب تک میری قوم اور میری فوج چاہے گی۔اگر میں اپنے اﷲ وحدہ لا شریک کے احکام اور اس کے رسول ﷺکے فرمان سے انحراف کروں گاتومجھے سپہ سالار نہیں رہنے دیا جائے گا۔اگر اس حالت میں بھی سپہ سالار رہوں گا تو سپاہیوں کو حق حاصل ہے کہ وہ میرا کوئی حکم نہ مانیں۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ معمر پادری پر خاموشی طاری ہو گئی،اور وہ کچھ دیر خالدؓکے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔’’شاید یہی وجہ ہے۔‘‘پادری نے ذرا دبی زبان میں کہا۔’’یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ فتح ہمیشہ تمہاری ہوتی ہے۔‘‘’’وہ بات کر معزز پادری جو تو کرنے آیا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔
’’ہاں!‘‘پادری نے جیسے بیدار ہوکر کہا۔’’اے عرب سے فتح کی امید لے کر آنے والے!کیا تو نہیں جانتا کہ جس زمین پر تو فوج لے کر آیا ہے،اس پر کسی بادشاہ کو کبھی پاؤں رکھنے کی جرات نہیں ہوئی تھی؟ تو اپنے آپ کوکیا سمجھ کر یہاں آگیا ہے، فارسی آئے تھے لیکن ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ بھاگ گئے کئی دوسرے بھی آئے تھے وہ بڑی بہادری سے لڑے تھے لیکن ناکامی اور مایوسی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہ ہوا، اور وہ چلے گئے……تجھے ہمارے خلاف کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن یہ خیال دماغ سے نکال دے کہ ہر میدان میں فتح تو ہی پائے گا۔‘‘مؤرخوں کے مطابق خالدؓ خاموشی سے سن رہے تھے، اور بوڑھا پادری پُر اثر لہجے میں بول رہا تھا۔’’میرا سپہ سالار وردان جومیرا آقا ہے، تجھ پر کرم اور نوازش کرنا چاہتا ہے ۔‘‘پادری کہہ رہا تھا۔’’اس سے بڑی نوازش اور کیا ہوگی کہ اس نے تیری فوج کو کاٹ دینے کے بجائے مجھے یہ پیغام دے کر تیرے پاس بھیجا ہے کہ اپنی فوج کو ہمارے ملک سے واپس لے جا۔میرا آقا تیرے ہر سپاہی کو ایک دینار، ایک قبا، اور ایک عمامہ دیگا اور تجھے ایک سو عمامے، ایک سو قبائیں، اور ایک سو دینارعطا کرے گا۔تیرے لیے یہ فیاضی معمولی نہیں،کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ہمارا لشکر ریت کے ذروں کی طرح بے حساب ہے؟تو جن فوجوں سے لڑ چکا ہے ہماری فوج ان فوجوں جیسی نہیں۔ تو نہین جانتا کہ اس فوج پر قیصر روم کا ہاتھ ہے۔ اس نے منجھے ہوئے تجربہ کار سالار اور چوٹی کے پادری اس فوج کو دیئے ہیں……بول……تیرا کیا جواب ہے؟ انعام چاہتا ہے یا اپنی اور اپنی فوج کی تباہی؟‘‘’’دو میں سے ایک!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’میری دو شرطوں میں سے ایک پوری کر دو تو میں اپنی فوج کو لے کر چلاجاؤں گا……اپنے آقا سے کہو کہ اسلام قبول کر لو یا جزیہ ادا کرو،اگر نہیں تو ہماری تلواریں فیصلہ کریں گی۔میں تیرے آقا کے کہنے پر واپس نہیں جاؤں گا……تیرے آقا نے جو دینار قبائیں اور عمامے پیش کیے ہیں وہ تو ہم وصول کر ہی لیں گے۔‘‘’’ایک بار پھر سوچ عربی سالار!‘‘’’عرب کے سالار نے سوچ کر جواب دیا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’جا اپنے آقا تک میرا جواب پہنچا دے۔‘‘بوڑھے پادری نے رومی سپہ سالار وردان کو خالدؓ کا جواب دیا۔’’عرب کے ڈاکوؤں کی یہ جرات؟‘‘وران نے غصے سے پھٹتے ہوئے کہا۔’’کیا وہ نہیں جانتے کہ میں ان سب کو ایک ہی ہلہ میں ختم کر سکتا ہوں؟‘‘اس نے اپنی سپاہ کی طرف گھوڑا گھما کر حکم دیا۔’’تیر انداز آگے جائیں اور ان بد بختوں کو فنا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں، فلاخن بھی آگے لے آؤ۔‘‘تیر انداز آگے آئے تو مسلمانوں کے قلب کے سالار معاذؓ بن جبل نے اپنے دستوں کو حملے کی تیاری کا حکم دیا۔’’ٹھہر جا ابنِ جبل!‘‘خالدؓنے کہا۔’’جب تک میں نہ کہوں حملہ نہ کرنا۔

سورج سر پر آکر آگے جانے لگے گا تو ہم حملہ کریں گے۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘معاذؓ بن جبل نے کہا۔’’کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ان کی کمانیں ہم سے اچھی اور بڑی ہیں جو بہت دور تک تیر پھینک سکتی ہیں؟وہ ہمارے تیر اندازوں کی زد سے دور ہیں ۔میں ان تیر اندازوں پر حملہ کرکے انہیں بیکار کرناچاہتا ہوں، ان کے فلاخن دیکھو۔ یہ پتھر برسائیں گے۔‘‘’’رومی ترتیب میں کھڑے ہیں ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم نے حملے میں پہل کی تو ہمیں پسپا ہونا پڑے گا ۔ان کی ترتیب ذرا اکھڑنے دو۔ان کا کوئی نہ کوئی کمزور پہلو ہمارے سامنے آجائے گا۔‘‘رومیوں نے کچھ دیر انتظار کیا،مسلمانوں نے کوئی حرکت نہ کی تو وردان کے حکم پر اس کے تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑیں پھینکنی شروع کر دیں اور فلاخن سے وہ پتھر پھینکنے لگے۔کئی مسلمان شہید اور زخمی ہو گئے۔خالدؓنے یہ نقصان دیکھ کر بھی حملے کاحکم نہ دیا۔رومی تیر اندازوں کو تیروں سے مؤثر جواب نہیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ مسلمانوں کی کمانیں نسبتاً چھوٹی ہونے کی وجہ سے دور تک تیر نہیں پھینک سکتی تھیں۔اُدھر سے تیر اور پتھر آتے رہے۔ تب مسلمانوں میں ہیجان اور اضطراب نظر آنے لگا،وہ حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں حکم نہیں مل رہا تھا۔سالار ضرار بن الازور دوڑے دوڑے خالدؓکے پاس گئے۔’’ابنِ ولید!‘‘ضرار نے خالدؓ سے کہا۔’’تو کیا سوچ رہاہے؟کیا تو دشمن کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم اس سے ڈر گئے ہیں؟……اگر اﷲہمارے ساتھ ہے تو مت سوچ !حملے کا حکم دے۔‘‘خالدؓکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی، یہ اطمینان اور سکون کی مسکراہٹ تھی۔ ان کے سالار اور سپاہی پسپائی کے بجائے حملے کی اجازت مانگ رہے تھے۔’’ابن الازور!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو آگے جا کر دشمن کو مقابلے کیلئے للکار سکتا ہے۔‘‘ضرار نے زرہ اورخود پہن رکھی تھی۔ان کے ایک ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔انہوں نے پچھلے ایک معرکے میں یہ ڈھال ایک رومی سے چھینی تھی،ضرار آگے گئے تو رومی تیر اندازوں نے اپنے سالار کے حکم سے کمانیں نیچے کرلیں۔
یہ اس زمانے کا رواج تھا کہ فوجوں کی لڑائی سے پہلے دونوں فوجوں میں سے کسی ایک کا ایک آدمی اپنے دشمن کو انفرادی مقابلے کیلئے للکارتا تھا۔اُدھر سے ایک آدمی آگے آتااور دونوں زندگی اور موت کا معرکہ لڑتے تھے۔اس کے بعد جنگ شروع ہوتی تھی۔مقابلے کیلئے للکارنے والا اپنے دشمن کو توہین آمیز باتیں کہتا تھا۔ضرار بن الازور رومیوں کے سامنے گئے اور انہیں للکارا:’’میں سفید چمڑی والوں کیلئے موت کا پیغام لایا ہوں۔‘‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

’’رومیو!میں تمہارا قاتل ہوں۔‘‘’’میں خدا کا قہر بن کر تم پر گروں گا۔‘‘’’میرا نام ضرار بن الازور ہے۔‘‘رومیوں کی طرف سے ضرار کے مقابلے کیلئے آنا تھا لیکن چار پانچ رومی سوار آگے آگئے۔ضرار نے پہلے اپنی خود اتاری پھر زرہ اتاری پھر قمیض بھی اتاردی، اور کمر تک برہنہ ہو گئے۔تب ان رومیوں نے انہیں پہچانا جو بصرہ میں انہیں اس حالت میں لڑتے دیکھ چکے تھے،اور وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اس شخص میں جنات جیسی پھرتی اور طاقت ہے حقیقت بھی یہی تھی۔ضرار ایک سے زیادہ آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ضرار کے مقابلے میں جو رومی آئے تھے ان میں دوسالار بھی تھے۔ایک طبریہ کا اور دوسرا عمان کا حاکم یا امیر تھا۔باقی بھی کوئی عام سپاہی نہیں تھے۔وہ کمانداروں کے رتبے کے تھے۔انہوں نے ضرار کو گھیرے میں لینے کیلئے گھوڑوں کے رخ موڑے۔ضرار نے اچانک گھوڑے کو ایڑ لگائی اور جب وہ عمان کے حاکم کے قریب سے گزر گئے تو یہ سالار اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی دوہرا ہو گیا پھر گھوڑے سے لڑھک کر نیچے جا پڑا۔ضرار کی تلوار اس کے پہلو سے اس کے جسم میں گہری اتر گئی تھی۔حیران کن پھرتی سے ضرار کا گھوڑا مڑااور ایک اور رومی ان کی تلوار سے کٹ کر گرا۔ضرار ایسی چال چلتے اور ایسا پینترا بدلتے تھے کہ رومی سواروں کے دو تین گھوڑے آپس میں ٹکراجاتے یا ایک دوسرے کے آگے آجاتے تھے۔اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ضرار ان میں سے ایک کو تلوار سے کاٹ جاتے تھے۔کوئی رومی سوار گرتا تھا تو مسلمان بڑے جوش سے نعرے لگاتے تھے۔ضرار کا یہ عالم تھا جیسے ان میں مافوق الفطرت طاقت آگئی ہو۔اپنے مقابلے میں آنے والے رومیوں میں سے زیادہ تر کو انہوں نے گرا دیا۔ان میں سے ایک دو ایسے بھی تھے جنہیں مہلک زخم نہیں آئے تھے لیکن وہ دوڑتے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے گئے۔دو رومی سوار بھاگ کر اپنے لشکر میں چلے گئے-

ضرارفاتحانہ انداز سے خون ٹپکاتی تلوار کو لہراتے اور رومیوں کو للکار رہے تھے:’’میں سفید چمڑی والوں کا قاتل ہوں……رومیو!میری-تلوار تمہارے خون کی پیاسی ہے۔‘‘مؤرخوں )واقدی، ابنِ ہشام اور طبری(نے لکھاہے کہ دس رومی سوار گھوڑے دوڑاتے آگے آئے۔یہ سب سالاری سے ذرا نیچے کے عہدوں کے رومی تھے۔خالدؓ نے جب دس سواروں کو آگے آتے دیکھاتو اپنے محافظ دستے میں سے انہوں نے دس سوار منتخب کیے اور انہیں آگے لے گئے۔رومی سوار ضرار کی طرف آرہے تھے۔خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’خدا کی قسم!ضرار کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘اس کے ساتھ انہوں نے اپنے دس سواروں کو اشارہ کر کے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔دس سوار ان کے ساتھ گئے۔رومی سواروں کی نظریں ضرار پر لگی ہوئی تھیں۔خالدؓ اور ان کے سوار رومی سواروں پر جا جھپٹے۔ضرار کی تلوار بھی حرکت میں آگئی۔رومیوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن خالدؓ اور ان کے سواروں کی تیزی اور تندی نے رومیوں کی ایک نہ چلنے دی اور سب کٹ گئے۔رومی سالاروں نے اسے اپنی بے عزتی سمجھااور مزید آدمیوں کو انفرادی مقابلوں کیلئے آگے بھیجنے لگے۔ضرار نے ان میں سے دو تین کو ہلاک کر دیا۔
مقابلے کیلئے آگے آنے والے ہر رومی کے ساتھ ضرار ہی مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن خالدؓ نے انہیں پیچھے بلالیا، اور دوسرے مجاہدین )تاریخوں میں ان کے نام نہیں(کو باری باری آگے بھیجا۔ہر مقابلے میں مجاہدین فاتح رہے۔ دونوں فوجوں کے درمیان بہت سے رومیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔

مؤرخوں کے مطابق یہ مقابلے کم و بیش دو گھنٹے جاری رہے اور سورج اس مقام پر آگیاجس مقام پر خالدؓ چاہتے تھے کہ آجائے تو حملہ کریں گے۔مقابلوں کے دوران تیر انداز اور فلاخن سے پتھر پھینکنے والے خاموش کھڑے تھے۔مقابلہ ابھی جاری تھا، خالدؓ نے حملے کا حکم دے دیا۔یہ عام قسم کا حملہ تھا جسے ہلہ یا چارج کہا جاتا ہے۔اس سے پہلے رومی تیر اندازاور فلاخن بہت بڑی رکاوٹ تھے۔انہیں خاموش دیکھ کر خالدؓ نے حملہ کیا تھا۔حملہ اتنا زور دار تھا اور مجاہدین میں اتنا قہر بھرا ہواتھاکہ رومی سالارِ اعلیٰ وردان کو کوئی چال چلنے کی مہلت ہی نہ ملی۔وہ اپنے لشکر کے آگے کھڑا مقابلے دیکھ رہا تھا، اس نے پیچھے کو بھاگ کر اپنی جان بچائی۔توقع یہ تھی کہ وردان اپنی تعداد کی افراط کے بل بوتے پر اپنے پہلوؤں کو آگے بڑھا کر خالدؓ کے پہلوؤں سے آگے نکلنے اور عقب میں آنے کی کوشش کرے گا لیکن اسے اتنا ہوش ہی نہیں تھا،اس نے اپنے لشکر کو پھیلانے کے بجائے اس کی گہرائی زیادہ کر دی تھی یعنی دستوں کے پیچھے دستے رکھے تھے۔اس کی یہ ترتیب بڑی اچھی تھی،لیکن خالدؓکی چال نے اس کی ترتیب کو اس کیلئے ایک مسئلہ بنا دیا۔مسلمان دستوں نے سامنے سے حملہ کیا تو رومیوں کے اگلے دستے پیچھے ہٹنے لگے۔پچھلے دستوں کو اور پیچھے ہونا پڑا۔پھر ان کی ترتیب گڈ مڈ ہوگئی۔مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا، یہ بڑا ہی شدید معرکہ تھا اور بڑا ہی خونریز۔سورج مغرب کی سمت ڈھل گیا تھا۔خالدؓنے محسوس کیا کہ مجاہدین تھک گئے ہوں گے،انہوں نے مجاہدین کو معرکے سے نکلنے کا حکم دیا۔ ایسے لگا کہ رومی سالار بھی یہی چاہتے تھے۔انہوں نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹانا بہتر سمجھا۔جب دونوں فوجیں پیچھے ہٹیں تو پتہ چلا کہ رومی ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے ہیں، اور زخمیوں کی تعداد بھی بے شمار ہے۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا نقصان بہت ہی تھوڑا تھا۔سورج غروب ہونے کو تھا اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی فوج حملہ نہیں کر سکتی تھی ۔اس طرح پہلے روز کی جنگ ختم ہو گئی۔رات کو دونوں فوجوں کے سالاروں نے اپنے اپنے نائب سالاروں وغیرہ کو بلایا، اور اپنے اپنے نقصان کا جائزہ لینے لگے اور اگلی کاروائی کے متعلق سوچنے لگے۔رومیوں کے سالارِ اعلیٰ وردان کی کانفرنس میں گرما گرمی زیادہ تھی۔وردان نے صاف کہہ دیا کہ جنگ کی یہی صورتِ حال رہی جو آج ہو گئی تھی تو نتیجہ ظاہر ہے کیا ہو گا اور اس نتیجے کا نتیجہ کیا ہوگا۔’’کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا؟وردان کے سالار قُبقُلار نے کہا۔’’میں اب بھی کہتا ہوں کہ اور زیادہ سوچو اور وجہ معلوم کرو کہ ہر میدان میں فتح مسلمانوں کی ہی کیوں ہوتی ہے اور وہی خوبی ہماری فوج میں کیوں پیدا نہیں ہوتی،آج کی لڑائی دیکھ کر مجھے اپنی فتح مشکوک نظر آنے لگی ہے۔

’’کیا تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں؟‘‘وردان نے کہا۔’’میں تم سب کو کہتا ہوں کہ اپنی اپنی رائے اور مشورہ دو کہ ہم مسلمانوں کو کس طرح شکست دے سکتے ہیں۔‘‘قُبقُلار کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ آگئی۔اس نے کچھ بھی نہ کہااور دوسرے سالار اپنی آراء اور مشورے دینے لگے۔ان سالاروں کے مشورے مختلف تھے لیکن ایک بات مشترک تھی ۔سب کہتے تھے کہ مسلمانوں کو شکست دینی ہے اور ایسی شکست کہ ان میں سے زندہ وہی رہے جو جنگی قیدی ہو۔’’اگر خالد ان کا سالار نہ ہو تو انہیں شکست دینا آسان ہو جائے۔‘‘ایک سالا رنے کہا۔’’وہ جدھر جاتا ہے اس کی شہرت اور دہشت اس کے آگے آگے جاتی ہے۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کے اس سالار میں اتنی زیادہ جنگی مہارت ہے جو بہت کم سالاروں میں ہوتی ہے ……میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘سب متوجہ ہوئے۔’’مسلمانوںکو خالد سے محروم کر دیا جائے۔‘‘اس نے کہا۔’’اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے……قتل!‘‘’’کل کی لڑائی میں اسے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘وردان نے کہا۔’’یہ مشورہ کوئی مشورہ نہیں۔‘‘’’لڑائی میں ابھی تک اسے کوئی قتل نہیں کر سکا۔‘‘مشورہ دینے والے سالار نے کہا۔’’میری تجویز یہ ہے کہ ہماری طرف سے ایک ایلچی خالد کے پاس جائے اور کہے کہ ہم مزید خون خرابہ روکنا چاہتے ہیں۔ہمارے پاس آؤ، اور ہمارے ساتھ بات چیت طے کرلو۔وہ جب ہمارے سالارِ اعلیٰ وردان سے ملنے آرہا ہوتو کم از کم دس آدمی راستے میں گھات میں بیٹھے ہوئے ہوں۔وہ خالد کو اس طرح قتل کریں کہ اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کردیں۔‘‘’’بہت اچھی تجویز ہے۔‘‘وردان نے کہا۔میں ابھی اس کا بندوبست کرتا ہوں……داؤد کو بلاؤ۔‘‘تھوڑی ہی دیر بعد ایک عیسائی جس کا نام تاریخوں میں داؤد لکھا ہے وردان کے سامنے کھڑا تھا۔’’داؤد!‘‘رودان نے اس عیسائی عرب سے کہا۔’’ابھی مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں جاؤاور ان کے سپہ سالار خالدبن ولید کو ڈھونڈ کر اسے بتانا کہ میں رومیوں کے سالار کا ایلچی ہوں۔اسے میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ ہم اس کے ساتھ صلح کی بات کرنا چاہتے ہیں۔وہ ہمارے پاس کل صبح آئے اور ہمارے ساتھ بات کرے کہ کن شرائط پر صلح ہو سکتی ہے۔اسے یہ بھی کہنا کہ اس بات چیت میں صرف وہ اور میں اکیلے ہوں گے۔ہم دونوں کے ساتھ ایک بھی محافظ نہیں ہوگا۔‘‘داؤد معمولی آدمی نہیں تھا، نہ وہ فوجی تھا۔وہ قیصرِ روم کا ایک طرح کا نمائندہ تھا، اور اس کا رُتبہ وردان سے ذرا ہی کم تھا۔
’’وردان!‘‘داؤد نے کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم قیصرِ روم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ کیا شہنشاہِ ہرقل نے یہ حکم نہیں بھیجاتھا کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کردو؟میں سمجھ نہیں سکتا کہ تم صلح اور شرائط کی بات کس کے حکم سے کر رہے ہو……میں صلح کا پیغام لے کر نہیں جاؤں گا۔‘‘
’’پھر تمہیں اپنے راز میں شریک کرنا پڑے گا۔‘‘وردان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے کا ہی منصوبہ بنارہاہوں۔میں خالد بن ولید کو صلح کا دھوکا دے رہا ہوں،وہ اگر آگیا تو مجھ تک اس کی لاش پہنچے گی۔میں نے راستے میں اس کے قتل کا انتطام کر رکھاہے۔‘‘’’اگر یہ کام کرنا ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘داؤد نے کہا۔’’میں ابھی جاتا ہوں۔‘‘داؤد مسلمانوں کے کیمپ میں چلاگیا۔ہر طرف چھوٹی بڑی مشعلیں جل رہی تھیں۔داؤد نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ رومیوں کا ایلچی ہے، اور ان کے سپہ سالار کیلئے پیغام لایا ہے۔اسے اسی وقت خالدؓکے خیمے تک پہنچا دیا گیا۔داؤد آداب بجالایا اور اپنا تعارف کراکے وردان کا پیغام دیا۔خیمے میں مشعلوں کی روشنی تھی۔خالدؓ نے داؤد سے اتنا بھی نہ کہا کہ وہ بیٹھ جائے۔وہ خالدؓ کے سامنے کھڑا رہا۔خالدؓآہستہ آہستہ اٹھے، اور اس کے تھوڑا اور قریب چلے گئے
ان کی نظریں داؤد کی آنکھوں میں گڑ گئی تھیں۔انہوں نے داؤد سے کچھ بھی نہ کہااور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے، خالدؓدراز قد اور قوی ہیکل تھے۔ان کی شخصیت کا پر تو ان کی آنکھوں کی چمک میں تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کی آنکھوں کا سامنا کوئی مضبوط دل گردے والا ہی کرسکتا تھا۔یہ ایمان کا جلال تھا اور آنکھوں کی اس چمک میں عشقِ رسولﷺرچا بسا تھا۔اس کے علاوہ خالدؓ شام کے علاقے میں خوف و ہراس کا ایک نام بن گیا تھا۔خالدؓ داؤد کو دیکھے جا رہے تھے۔ داؤد کا ضمیر مجرمانہ تھا، وہ خالدؓکی نظروں کی تاب نہ لا سکا، مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓکے چہرے پر ایک یا دو زخموں کے نشان تھے جن سے ان کا چہرہ بگڑا تو نہیں تھا لیکن زخموں کے نشانات کا اپنا ایک تاثر تھا جو داؤد کیلئے غالباً دہشت ناک بن گیا تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔’’میں فوجی نہیں ہوں، میں ایلچی ہوں۔‘‘’’سچ بول داؤد!‘‘خالدؓنے اس کے ذرا اور قریب آکر کہا۔’’تو ایک جھوٹ بول چکا ہے ، اب سچ بول اور اپنی جان سلامت لے جا۔‘‘داؤد خالدؓ کے سامنے کھڑا چھوٹا سا آدمی لگتا تھا۔ حالانکہ قد اس کا بھی کچھ کم نہیں تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد نے اپنے جھوٹ کو دہرایا۔’’میں صلح کا پیغام لے کر آیا ہوں، اور اس میں کوئی دھوکا نہیں۔‘‘’’اگر تو دھوکا دینے آیا ہے تو میری بات سن لے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’جتنی مکاری اور عیاری ہم لوگوں میں ہے اتنی تم میں نہیں۔مکروفریب میں ہمیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔اگر تمہارے سپہ سالار وردان نے کوئی فریب کاری سوچی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ رومیوں کی تباہی کا عمل اس سے تیز ہوجائے گا جتنا میں نے سوچا تھا……اور اگر اس نے سچی نیت سے صلح کا پیغام بھیجا ہے تو جاؤ اسے کہو کہ جزیہ ادا کردے پھر ہم صلح کر لیں گے۔

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 40 میں ملاحظہ فرمائیں
اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی ہماری شاندار تاریخ کا پتہ چلے تو اسے شیئر بھی کریں۔
اپنی آرا سے آگاہ کرتے رہا کریں۔
مجھے آپ کے میسجز کا انتظار رہتا ہے

*جزاکم اللہ خیرا*۔


*شمشیرِ بے نیام* *(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* *( قسط نمبر-35)*قسط نمبر 38


02 *شمشیرِ بے نیام

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*   

*( قسط نمبر-35)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجاہدین مالِ غنیمت لا لا کر ایک جگہ جمع کر رہے تھے۔سالار ابو لیلیٰ کے پاس ایک بہت ہی حسین لڑکی کو لایاگیا۔اس نے درخواست کی تھی کہ اسے سالارِ اعلیٰ یا کسی سالار کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی جائے۔’’یہ ایک سردار کی بیٹی ہے۔‘‘اسے لانے والے سالار نے ابو لیلیٰ سے کہا۔’’سالار کا نام ربیعہ بن بجیر بتاتی ہے۔یہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔‘‘’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘ابو لیلیٰ نے لڑکی سے پوچھا۔’’صابحہ!‘‘لڑکی نے جواب دیا۔’’صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر




 ……میرے باپ کو لڑنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔‘‘’’کیا تو یہی بات کہنے کیلئے ہمارے سالارِ اعلیٰ سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘سالار ابو لیلیٰ نے پوچھا۔’’جنہیں لڑنے کا موقع ملا تھا، کیا تو نے ان کا انجام نہیں دیکھا؟……اب بتا تُو چاہتی کیا ہے!‘‘’’تم لوگ مجھے اجازت نہیں دو گے کہ میں لاشوں میں ایک آدمی کی لاش ڈھونڈ لوں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اس کا نام بلال بن عقہ ہے۔‘‘’’کیا جلی ہوئی لکڑیوں کے انبار میں کسی ایک خاص درخت کی لکڑی کو ڈھونڈ لے گی؟‘‘ابولیلیٰ نے پوچھا۔’’تو اسے ڈھونڈ کہ کیا کرے گی؟ زندہ ہے تو ہمارا قیدی ہوگا۔مر گیا ہے تو تیرے کس کام کا؟‘‘صابحہ نے سالار ابو لیلیٰ کو وہ گفتگو سنائی جو اس کے اور بلال بن عقہ کے درمیان ہوئی تھی اور کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ زندہ ہے یا مارا گیا ہے۔مسلمان سالاروں نے چند عیسائیوں کو اس مقصد کیلئے زندہ پکڑ لیا تھا کہ ان سے اس علاقے اور علاقے کے لوگوں کے متعلق معلومات اور جنگی اہمیت کی معلومات لی جائیں۔ابولیلیٰ کے حکم سے ایسے دو تین آدمیوں کو بلا کر بلال بن عقہ کے متعلق پوچھا۔’’دو تین روز پہلے تک وہ یہیں تھا۔‘‘ایک عیسائی نے بتایا۔’’وہ ذومیل چلا گیا ہے۔‘‘’’کیا اسے وہاں ہونا چاہیے تھا یا یہاں؟‘‘ابولیلی ٰنے پوچھا۔’’وہ قبیلے کے سردار کا بیٹا ہے۔‘‘عیسائی نے بتایا۔’’وہ کسی کے حکم کا پابند نہیں۔وہ حکم دینے والوں میں سے ہے۔‘‘’’کیا وہ اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے آیا ہے؟‘‘’’اس نے کئی بار کہا ہے کہ وہ ابنِ ولید سے اپنے باپ کے خون کا انتقام لے گا۔‘‘دوسرے عیسائی نے جواب دیا۔’’اب بتا لڑکی!‘‘ابو لیلیٰ نے صابحہ سے پوچھا۔’’میں تمہاری قیدی ہوں۔‘‘ صابحہ نے کہا۔’’میرے ساتھ لونڈیوں اور باندیوں جیساسلوک کرو گے تو میں تمہیں نہیں روک سکوں گی۔سنا ہے مسلمانوں کے دلوں میں رحم ہوتا ہے۔میری ایک التجا ہے……میں اک سردار کی بیٹی ہوں، کیا میری اس حیثیت کا خیال رکھا جائے گا؟‘‘

’’اسلام میں انسانوں کو درجوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔‘‘بولیلیٰ نے کہا۔’’ہم اس شخص کو بھی اپنا سردار مان لیا کرتے ہیں جس کے آباء اجداد نے کبھی خواب میں بھی سرداری نہیں دیکھی ہوتی۔ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ سرداری کا اہل ہے اور اس کا اخلاق بہت اونچا اور پاک ہے اور ا س کو اپنی ذات کا کوئی لالچ نہیں ……پریشان نہ ہو لڑکی!تو خوبصورت ہے۔ایسا نہیں ہو گا کہ تجھے جو چاہے گا اپنا کھلونا بنا لے گا۔کوئی ہمت والا تجھے خریدے گا اور تیرے ساتھ شادی کر لے گا۔‘‘’’تمہاری قیدی ہو کر میری پسند اور ناپسند ختم ہو گئی ہے۔اگر مجھے پسند کی ذرا بھی آزادی دی جائے تو میں تم میں سے اس کی بیوی بننا پسند کروں گی جو سب سے زیادہ بہادر ہے ۔جو اپنی قوم اور قبیلے کی عزت اور غیرت پر جان دینے والا ہو۔میدان سے بھاگنے والا نہ ہو……عورت کا مذہب وہی ہوتا ہے جو اس آدمی کا مذہب ہے جس کی ملکیت میں اسے دے دیا جاتا ہے لیکن عقیدے دلوں میں ہوتے ہیں۔عورت کے جسم کو ملکیت میں لے سکتے ہو،اس کے دل کا مالک کوئی نہیں بن سکتا……میں وعدہ کرتی ہوں کہ مجھے کوئی مضبوط دل والا اور قبیلے کی غیرت پر دشمن کا خون بہانے والا اور اپنا سر کٹوانے والا آدمی مل جائے تو میں اپنا دل اور اپنے عقیدے اس پر قربان کر دوں گی۔‘‘’’خداکی قسم!تو غیرت اور عقل والی لڑکی ہے۔‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ تو نے بلال بن عقہ سے جو وعدہ کیا تھا وہ میں پورا کروں گا،شرط یہ ہوگی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کردے۔وہ ہمارے سالارِ اعلیٰ خالد بن ولید کو اپنے ہاتھوں قتل کردے، لیکن بنتِ ربیعہ !وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ابنِ ولید کے سر پر اﷲکا ہاتھ ہے، اسے رسول ﷺ نے اﷲکی تلوار کہاہے۔پھر بھی تم انتظار کرو۔ذومیل میں بلال کے ساتھ ہماری ملاقات ہو گی۔‘‘’’کیا میں اپنے گھر میں رہ سکتی ہوں؟‘‘’’کیا ہے اس گھر میں ؟‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’وہاں تیرے باپ، بھائیوں اور محافظوں کی لاشوں کے سوا رہ ہی کیا گیا ہے؟ اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ رہ، کوئی تکلیف نہیں ہو گی تجھے۔ہمارا کوئی آدمی کسی عورت کے قریب نہیں جائے گا۔‘‘صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر رنجیدہ سی چال چلتی ہوئی ایک مجاہد کے ساتھ اس طرف چلی گئی جہاں عورتوں اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔اس کی رنجیدہ چال میں اور ملول چہرے پر تمکنت تھی ۔صاف پتا چلتا تھا کہ وہ عام سے کردار کی لڑکی نہیں۔
’’ابنِ حارثہ!‘‘خالدؓنےفتح کی مسرت سے لبریزلہجے میں مثنیٰ بن حارثہ سے کہا۔’’کیا اﷲنے تیری ہر خواہش پوری نہیں کردی؟‘‘’’لاریب،لاریب!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے جوشیلے لہجے میں کہا۔’’کفار کی آنے والی نسلیں کہیں گی کہ مسلمانوں نے ان کے آبا ء اجداد پر بہت ظلم کیا تھا اور ہماری نسلیں انہیں اپنے اﷲکا یہ فرمان سنائیں گی کہ جس پرظلم ہوا وہ اگر ظالم پر ظلم کرے تو اس پر کوئی الزام نہیں……تو نہیں جانتا ولید کے بیٹے !ان آتش پرستوں نے اور صلیب کے پجاریوں نے جو ظلم ہم پر توڑے ہیں، تو نہیں جانتا۔تو نے سنے ہیں، ہم نے سہے ہیں۔‘‘’’اب یہ لوگ اﷲکی گرفت میں آگئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن حارثہ کے بیٹے!میں ڈرتا ہوں تکبر اور غرورسے……دل میں بار بار یہ ارادہ آتا ہے حج پر جاؤں۔

میں خانہ کعبہ میں جا کر اﷲکا شکر اداکروں گا۔کیا اﷲمجھے یہ موقع دے گا کہ میں اپنا یہ ارادہ پورا کر سکوں؟‘‘’’تو نے ارادہ کیا ہے تو اﷲتجھے ہمت بھی دے گا۔موقع بھی پیدا کر دے گا۔‘‘مثنیٰ نے کہا۔کچھ دیر بعد تمام سالار خالدؓکے سامنے بیٹھے تھے اور خالدؓ انہیں بتا رہے تھے کہ اگلا ہدف ذومیل ہے۔جاسوسوں کو ذومیل بھیج دیاگیا تھا۔پہلے یوں ہوتا رہا ہے کہ ایک جگہ ہم حملہ کرتے تھے تو دشمن کے آدمی بھاگ کر کہیں اور اکٹھے ہو جاتے تھے۔خالدؓ نے کہا۔’’اب ہم نے کسی کو بھاگنے نہیں دیا۔ثنّی سے شاید ہی کوئی بھاگ کر ذومیل پہنچا ہو۔لیکن ذومیل خالی نہیں۔وہاں بھی دشمن موجود ہے اور وہ بے خبر بھی نہیں ہوگا۔کل رات ذومیل کی طرف کوچ ہو گا اور اگلی رات وہاں اسی قسم کا شب خون مارا جائے گا۔‘‘تاریخوں میں یہ نہیں لکھا کہ ثنّی میں خالدؓنے کس سالار کو چھوڑا۔سورج غروب ہوتے ہی مسلمانوں کا لشکر ذومیل کی سمت کوچ کر گیا۔ساری رات چلتے گزری۔دن نشیبی جگہوں میں چھپ کر گزرا اور سورج کا سفر ختم ہوا تو مجاہدین اپنے ہدف کی طرف چل پڑے۔ذومیل میں بھی دشمن سویا ہوا تھا۔سنتری بیدار تھے ۔یہاں بھی گشتی سنتریوں اور دیگر سنتریوں کو اسی طریقے سے ختم کیا گیا جو مضیح اور ثنّی وغیرہ میں آزمایا گیا تھا ۔مسلمانوں کی ترتیب وہی تھی یعنی ان کا لشکر تین حصوں میں تقسیم تھا۔یہ شب خون بھی پوری طرح کامیاب رہا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ کسی ایک بھی آدمی کو زندہ نہ نکلنے دیاگیا۔یہاں بھی عورتوں اور بچوں کو الگ کر لیاگیا تھا۔سالار ابولیلیٰ نے بلال بن عقہ کے متعلق معلوم کیا۔پتہ چلا کہ وہ ایک روز پہلے یہاں سے نکل گیا تھا۔یہ بھی پتا چلا لیا گیا کہ ذومیل سے تھوڑی دور رضاب نام کی ایک بستی ہے جس میں عیسائیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی ہے اور ان کے ساتھ مدائن کی فوج کے ایک دو دستے بھی ہیں۔خالدؓ نے دو حکم دیئے۔ایک یہ کہ ثنّی سے مالِ غنیمت اوردشمن کی عورتوں اور بچوں کو ذومیل لایا جائے ۔دوسرا حکم یہ کہ فوری طور پر رضاب پر حملہ کیا جائے،آتش پرستوں کا لڑنے کا جذبہ تو جیسے بالکل سرد پڑ گیا تھا۔مسلمان تین اطراف سے رضاب پر حملہ آور ہوئے لیکن یہ گھونسہ ہوا میں لگا۔رضاب بالکل خالی تھا۔پتہ چلتا تھا کہ یہاں فوج موجود رہی ہے لیکن اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔اپنے باپ عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بھی لا پتا تھا۔فوج کا ایک سوار دستہ دوردور تک گھوم آیا۔دشمن کا کہیں نام و نشان نہیں ملا۔آخر فوج واپس آگئی۔ثنّی کی عورتیں ذومیل لائی جا چکی تھیں۔مالِ غنیمت بھی آگیا۔خالدؓنے خلافتِ مدینہ کا حصہ الگ کرکے باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ابولیلیٰ نے صابحہ کو بلایا۔
بلال بن عقہ یہاں سے بھی بھاگ گیا ہے۔‘‘
ابولیلیٰ نے اسے کہا۔’’اس نے اپنے باپ کے خون کا انتقام لینا ہوتا تو یوں بھاگانہ پھرتا۔کیا اب بھی تو اس کا انتظار کرے گی؟‘‘’’میں اپنی مرضی سے تو کچھ بھی نہیں کرسکتی۔‘‘صابحہ نے کہا۔ابولیلیٰ خالدؓ سے بات کر چکے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس لڑکی کی خوبصورتی اور جوانی کو دیکھ کر سب کا خیال یہ تھا کہ خالدؓ اس سے شادی کر لیں گے۔صابحہ کی یہ خواہش بھی پوری ہو سکتی تھی کہ وہ سب سے زیادہ بہادر اور بے خوف آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہے لیکن خالدؓ نے کہا کہ مجھ سے زیادہ بہادر موجود ہیں۔چنانچہ خالدؓ نے اس پیغام کے ساتھ مالِ غنیمت اور عورتیں مدینہ کو روانہ کر دیں۔جو دستہ مالِ غنیمت کے ساتھ بھیجا گیا اس کے کماندار نعمان بن عوف شیبانی تھے۔انہوں نے صابحہ کے متعلق مدینہ میں بتایا کہ یہ لڑکی کون ہے۔کیسی ہے اور اس کی خواہش کیا ہے۔مؤرخوں کے مطابق صابحہ کو حضرت علیؓ نے خریدلیا۔صابحہ نے بخوشی اسلام قبول کر لیا اور حضرت علیؓ نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔حضرت علیؓ کے صاحبزادے عمر اور صاحبزادی رقبعہ صابحہ کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔مدائن میں کسریٰ کے محل پہلے کی طرح کھڑے تھے۔ان کے درودیوار پر خراش تک نہ آئی تھی۔ان کا حسن ابھی جوان تھا لیکن ان پر ایسا تاثر طاری ہو گیا تھا جیسے یہ کھنڈر ہوں۔ایران کی اب کوئی رقاصہ نظر نہیں آتی تھی۔رقص و نغمہ کی محفلیں اب سوگوار تھیں۔یہ وہی محل تھا جہاں سے انسانوں کی موت کے پروانے جاری ہوا کرتے تھے۔یہاں کنواریوں کی عصمتیں لٹتی تھیں۔

رعایا کی حسین بیٹیوں کو زبردستی نچایا جاتا تھا۔عرب کے جو مسلمان عراق میں آباد ہو گئے تھے انہیں فارس کے شہنشاہوں نے بھیڑ بکریاں بنا دیاتھا۔عراق فارس کی سلطنت میں شامل تھا۔مسلمانوں کو آتش پرستوں نے دجلہ اور فرات کے سنگم کے دلدلی علاقے میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ان کی فصل ان کے خون پسینے کی کمائی اور ان کے مال و اموال پر ان کا کوئی حق نہ تھا۔حد یہ کہ مسلمانوں کی بیٹیوں بہنوں اور بیویوں پر بھی ان کا حق نہیں رہا تھا۔کسریٰ کا کوئی حاکم کسی بھی مسلمان خاتون کو جب چاہتا زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔
یہی وہ حالات ہوتے ہیں جو مثنیٰ بن حارثہ جیسے مجاہدین کو جنم دیا کرتے ہیں،مثنیٰ بن حارثہ کو پکڑ کر قتل کردینے کا حکم انہی محلات میں سے جاری ہوا تھااور اب ان محلات میں یہ خبر پہنچی تھی کہ مدینہ کے مسلمانوں کا لشکر فارس کی سرحد میں داخل ہو گیا ہے تو یہاں سے فرعونوں جیسی آواز اٹھی تھی کہ عرب کے ان بدوؤں کو یہ جرات کیسے ہوئی……تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ فرعونوں کے ان محلات میں موت کا سناٹا طاری تھا۔ان کا کوئی سالار مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تھا،نامی گرامی سالار مارے گئے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ بھاگے بھاگے پھر رہے تھے۔’’مدائن کو بچاؤ۔‘‘اب کسریٰ کے محلات سے بار بار یہی آواز اٹھتی تھی۔
’’مدائن مسلمانوں کا قبرستان بنے گا۔‘‘یہ آواز ہارے ہوئے سالاروں کی تھی۔’’وہ مدائن پر حملے کی جرات نہیں کریں گے۔‘‘’’کیا تم اب بھی اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہو؟‘‘کسریٰ کا جانشین کہہ رہا تھا۔’’کیا وہ مدائن تک آنے کی جرات نہیں کریں گے جنہوں نے چند دنوں میں چار میدان اس طرح مار لیے ہیں کہ ہماری تجربہ کار فوج کو ختم کر ڈالا ہے؟ہماری فوج میں رہ کیا گیا ہے؟ڈرے ہوئے شکست خوردہ سالار اور اناڑی نوجوان سپاہی……کیا کوئی عیسائی زندہ رہ گیا ہے؟……مدائن کو بچاؤ۔‘‘خالدؓ کی منزل مدائن ہی تھی،مدائن فارس کی شہنشاہی کا دل تھا لیکن مدائن پر شب خون نہیں مارا جا سکتا تھا۔خالدؓجانتے تھے کہ مدائن کوبچانے کیلئے کسریٰ ساری جنگی طاقت داؤ پر لگا دیں گے اور خالدؓ یہ بھی جانتے تھے کہ غیر مسلموں خصوصاًعیسائیوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلے ہیں جو کسی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے۔خطرہ تھا کہ آتش پرست ان قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لیں گے اور مدائن کے اردگرد انسانوں کی بڑی مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے گی۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ضروری تھا کہ ان قبیلوں کو اپنا وفادار بنا لیا جائے۔اس مقصد کیلئے خالدؓ نے اپنے ایلچی مختلف قبیلوں کے سرداروں سے ملنے کیلئے روانہ کر دیئے صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ یہ لوگ سوچتے کیا ہیں اور ان کا رجحان کیا ہے۔’’ان قبیلوں پر ہماری دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ایک جاسوس نے خالدؓ کو تفصیلی اطلاع دی۔’’وہ اپنی عورتوں اور اموال کی وجہ سے پریشان ہیں۔انہیں کسریٰ پر بھروسہ نہیں رہا۔‘‘’’……اور وہ نوشیرواں عادل کے دور کو یاد کرتے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے آکر بتایا۔’’وہ مدائن کی خاطر لڑنے پر آمادہ نہیں۔انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ بنی تغلب ،نمر اور ایاد۔ جیسے بڑے اور جنگجو قبیلوں کا کیا انجام ہوا ہے۔‘‘’’وہ اطاعت قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘ایک اور ایلچی نے بتایا۔’’بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور محصولات کیلئے انہیں مفلس اور کنگال نہ کر دیاجائے۔‘‘’’خداکی قسم!وہ مانگیں گے ہم انہیں دیں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’کیا انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ہم زمین پر قبضہ کرنے اور یہاں کے انسانوں کو غلام بنانے نہیں آئے؟……
بلاؤ……ان سب کے سرداروں کو بلاؤ۔‘‘ایک دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے عراق کے طول و عرض میں جگہ جگہ حملے کرکے اور شب خون مار کر تمام قبیلوں کو اپنا مطیع بنا لیا تھا۔یہ صحیح نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو زیادہ تر مؤرخوں نے بیان کی ہے کہ خالدؓ نے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ان قبیلوں کو اپنا اتحادی بنا لیا تھا،ان کے اطاعت قبول کرنے میں خالدؓکی دہشت بھی شامل تھی۔یہ خبر صحرا کی آندھی کی طرح تما م تر قبیلوں کو پہنچ گئی تھی کہ مسلمانوں میں کوئی ایسی طاقت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ایرانیوں کے متعلق بھی انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ ہر میدان میں انہوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی ہے اور عیسائیوں کو آگے کر کے خود بھاگ کر آتے رہے ہیں۔
ان کے علاوہ ایرا ن کے بادشاہوں اور ان کے حاکموں نے انہیں زرخرید غلام بنائے رکھا اور ان کے حقوق بھی غصب کیے تھے۔خالدؓ نے ان کے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان سے اطاعت بھی قبول کروا لی اور انہی میں سے عمال مقررکرکے محصولات وغیرہ کی فراہمی کا بندوبست کر دیا۔انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی میں پوری آزادی دی۔ان لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان ان کی اتنی خوبصورت عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔خالدؓنے ان کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی شامل کرلیا کہ مسلمان ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
’’ولید کے بیٹے!‘‘ایک قبیلے کے بوڑھے سردار نے خالدؓ سے کہا تھا۔’’نوشیرواں عادل کے دور میں ایسا ہی انصاف تھا۔یہ ہمیں بڑی لمبی مدت بعد نصیب ہوا ہے۔‘‘خالدؓنے دریائے فرات کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔آگے عراق )فارس کے زیرنگیں(کی سرحد ختم ہوتی اور رومیوں کی سلطنت شروع ہوتی تھی۔شام پر رومیوں کا قبضہ تھا۔خالدؓنے بڑے خطرے مول لیے تھے مگر یہ خطرہ جس میں وہ جا رہے تھے ،سب سے بڑا تھااور مسلمانوں کی فتوحات پر پانی پھیر سکتا تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یکے بعد دیگرے اتنی زیادہ فتوحات نے خالدؓ کا دماغ خراب کر دیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ حقائق کا جائزہ لے کر سوچتے تھے ۔ان کا کوئی قدم بلاسوچے نہیں اٹھتا تھا۔’’خدا کی قسم!ہم نے مدینہ کو زرتشت کے پجاریوں سے محفوظ کر لیا ہے۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اب ایسا خطرہ نہیں رہا کہ وہ ہماری خلافت کے مرکز پر حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا یہ اﷲکا کرم نہیں کہ فارسیوں کو اب اپنے مرکز کا غم لگ گیا ہے؟‘‘سالار قعقاع نے کہا۔’’وہ اب عرب کی طرف دیکھنے سے بھی ڈریں گے۔‘‘’’لیکن سانپ ابھی مرا نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر ہم یہیں سے واپس چلے گئے تو کسریٰ کی فوج پھر اٹھے گی اور یہ علاقے واپس لینے کی کوشش کرے گی جو ہم نے فارسیوں سے چھین لیے ہیں،ہمیں ان کے راستے بند کرنے ہیں……اور میرے بھائیو!کیا تم میں سے کسی نے ابھی سوچا نہیں کہ آتش پرستوں کے پہلو میں رومی ہیں،اگر رومیوں میں کچھ عقل ہے تو وہ اس صورتِ حال سے جو ہم نے عراق میں پیدا کر دی ہے،فائدہ اٹھائیں گے۔وہ آگے بڑھیں گے اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو عرب کیلئے وہی خطرہ پیدا ہو جائے گا جو اس سے پہلے ہمیں زرتشت کے پجاریوں سے تھا۔‘‘خالدؓنے زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچ کر اپنے سالاروں کو بتایا کہ وہ کون سا راستہ ہے جس سے رومی آسکتے ہیں،اور وہ کون سا مقام ہے جہاں قبضہ کرکے ہم اس راستے کو بندکر سکتے ہیں۔

وہ مقام فراض تھا۔یہ شہر فرات کے مغربی کنارے پر واقع تھا۔وہاں پر رومیوں اور فارسیوں کی یعنی شام اور عراق کی سرحدیں ملتی تھیں۔عراق کے زیادہ تر علاقے پر اب مسلمان قابض ہو گئے تھے۔یہی علاقے خطرے میں تھے۔فراض سے خشکی کے راستے کے علاوہ رومی یا فارسی دریائی راستہ بھی اختیار کر سکتے تھے۔مشہور یورپی مؤرخ لین پول اور ہنری سمتھ جو جنگی امور پر زیادہ نظر رکھتا تھا ،لکھتے ہیں کہ خالدؓ نہ صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو غیر متوقع چالیں چل کر شکست دینے کی اہلیت رکھتے تھے بلکہ جنگی تدبر بھی ان میں موجود تھا اور ان کی نگاہ دور دور تک دیکھ سکتی تھی۔وہ آنے والے وقت کے خطروں کو پہلے ہی بھانپ لیا کرتے تھے۔خالدؓ جب فراض کی طرف کوچ کر رہے تھے اس وقت ایک خطرے سے وہ آگاہ نہیں تھے،وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ دشمن فوجوں کے درمیان آجائیں گے۔رومیوں کے دربار میں ایسی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جن میں ضروری پن تھا، اور صاف پتا چلتا تھا کہ کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔تخت شاہی کے سامنے رومی فوج کے بڑے بڑے جرنیل بیٹھے تھے۔’’خبر ملی ہے کہ مسلمان فراض تک پہنچ گئے ہیں۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔‘‘’’وہ کسی اچھے ارادے سے تو نہیں آئے……کیا آپ کو فارسیوں کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی؟‘‘’’ان کے پاس مدائن کے سوا کچھ نہیں رہا۔‘‘’’پھر ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔پیشتر اس کے کہ مسلمان ہمارے ملک میں داخل ہو جائیں ہمیں ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔‘‘’’کیا تم سے بڑھ کر کوئی احمق ہماری فوج میں کوئی اور ہو گا؟کیا تم نے سنا نہیں کہ فارس کی فوج کو اور ان کے ساتھی ہزار ہا عیسائیوں کو ان مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ ہر جگہ شکست دی ہے بلکہ ان کے نامور جرنیلوں کواورہزاروں سپاہیوں کو مار ڈالا ہے؟‘‘’’آپ نے ٹھیک کہا ہے۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مدینہ والوں کے لڑنے کا طریقہ کیا ہے۔‘‘’’ بہت ضروری ہے دیکھنا۔جو اتنی تھوڑی تعداد میں اتنی زیادہ تعداد کو شکست دے کر ختم کر چکے ہیں، ان کا کوئی خاص طریقہ جنگ ہو گا، ہم بھی فارس کی فوج کے خلاف لڑ چکے ہیں، یہ صحیح ہے کہ ہم نے فارسیوں کو شکست دی تھی لیکن ہماری فوج کی نفری ان سے زیادہ تھی۔‘‘’’اب میرا فیصلہ سن لو۔ہم فارسیوں کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔‘‘’’فارسیوں کو ساتھ ملا کر؟کیا ہیمں یہ بھول جانا چاہیے کہ فارسیوں کے ساتھ ہماری دشمنی ہے؟ہماری آپس میں جنگیں ہو چکی ہیں۔‘‘’’ہاں!ہمیں بھول جانا چاہیے۔مسلمان ان کے اور ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔ایسے دشمن کو شکست دینے کیلئے اپنے دشمن کو دوست بنالینا دانشمندی ہوتی ہے۔ہم فارسیوں کی طرح شکست نہیں کھانا چاہتے۔اگر فارسی ہمارے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے ساتھ عیسائی قبیلے بھی آجائیں گے۔‘‘

اس فیصلے کے مطابق رومیوں کا ایلچی دوستی کا پیغام لے کر مدائن گیا تو آتش پرستوں نے بازو پھیلا کر ایلچی کا استقبال کیا۔تحائف کا تبادلہ ہوا اور ایلچی کے ساتھ معاہدے کی شرطیں طے ہو گئیں۔فارس والوں کو اپنا تخت الٹتا نظر آرہا تھا۔رومیوں کے اس پیغام کو انہوں نے غیبی مدد سمجھا۔مدائن کے دربار سے ان تمام عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو بلاوابھیجا گیا۔یہ وہی تین قبیلے بنی تغلب، نمر اور ایاد تھے جو مسلمانوں سے بہت بری شکست کھا چکے تھے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ انہیں جوں ہی اطلاع ملی تو وہ فوراًمدائن پہنچے۔وہ اپنے ہزار ہا مقتولین کا انتقام لینا چاہتے تھے اور وہ اسلام کے پھیلاؤ کو بھی روکنا چاہتے تھے۔ان قبیلوں میں جو لڑنے والے تھے وہ مسلمانون کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے ۔جواں سال آدمی بہت کم رہ گئے تھے۔اب اکثریت ادھیڑ عمرلوگوں کی تھی۔خالدؓ کا فراض کی طرف کوچ ان کی خود سری کا مظاہرہ تھا۔امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ نے انہیں صرف فارس والوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔امیر المومنینؓ کو یہ بھی توقع نہیں تھی کہ اپنی اتنی کم فوج فارس جیسی طاقتور فوج کو شکست دے گی لیکن امیرالمومنینؓ ایسا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ اتنی لڑائیاں لڑکر رومیوں سے بھی ٹکر لی جائے،رومیوں کی فوج فارسیوں کی فوج سے بہتر تھی۔یہ خالدؓ کا اپنا فیصلہ تھا، کہ فراض کے مقام پر جا کر رومیوں اور فارسیوں کی ناکہ بندی کردی جائے۔ خالدؓ چَین سے بیٹھنے والے سالار نہیں تھے۔اس کے علاوہ وہ رسول کریمﷺ کے جنگی اصولوں کے شائق تھے۔مثلاًیہ کہ دشمن کے سر پر سوار رہو۔اگر دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے تو اس کے حملے کا انتظار نہ کرو۔آگے بڑھو اور حملہ کردو۔خالدؓنے اپنے آپ پر جہادکا جنون طاری کر رکھا تھا۔جب خالدؓ کے جاسوسوں نے انہیں اطلاعیں دینی شروع کیں تو خالدؓکے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی ۔انہیں پتا چلا کہ وہ دو فوجوں کے درمیان آگئے ہیں۔ ایک طرف رومی اور دوسری طرف فارسی اور ان کے ساتھ عیسائی قبیلوں کے لوگ بھی تھے۔خالدؓ کے ساتھ نفری پہلے سے کم ہو گئی تھی کیونکہ جو علاقے انہوں نے فتح کیے تھے وہیں اپنی کچھ نفری کا ہونا لازمی تھا۔بغاوت کا بھی خطرہ تھااور آتش پرست فارسیوں کے جوابی حملے کابھی۔خالدؓ فراض میں رمضان۱۲ھ)دسمبر ۶۳۳ء کے پہلے( ہفتے میں پہنچے تھے۔مجاہدین روزے سے تھے۔مسلمانوں کی فوج دریائے فرات کے ایک کنارے پر خیمہ زن تھی۔دوسرے کنارے پر بالکل سامنے رومی، ایرانی او رعیسائی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔دونوں طرف کے سنتری فرات کے کناروں پر ہر وقت پہرے پر کھڑے رہتے اور گشتی سنتری گھوڑوں پر سوار دریا کے کناروں پر پھرتے رہتے تھے۔خود خالدؓ دریا کے کنارے دور تک چلے جاتے اور دشمن کو دیکھتے تھے۔ایک شام رومیوں اور ایرانیوں کی خیمہ گاہ میں ہڑبونگ مچ گئی، اور وہ لڑائی کیلئے تیار ہو گئے۔وجہ یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے کیمپ سے ایک شور اٹھا تھااور دف اور نقارے بجنے لگے تھے۔تمام فوج اچھل کود کررہی تھی،دشمن اسے حملے سے پہلے کا شور سمجھا۔اس کے سالار وغیرہ فرات کے کنارے پر آکر دیکھنے لگے۔

ان کے گھوڑے زینوں کے بغیر بندھے ہوئے ہیں۔‘‘دشمن کے کسی آدمی نے چلا کر کہا۔’’وہ تیاری کی حالت میں نہیں ہیں۔‘‘کسی اور نے کہا۔’’وہ دیکھو!‘‘ایک اور نے کہا۔’’آسمان کی طرف دیکھو۔مسلمانوں نے عیدکا چاند دیکھ لیا ہے ۔آج رات اور کل سارا دن یہ لوگ خوشیاں منائیں گے۔‘‘اگلے روز مسلمانوں نے ہنگامہ خیز طریقے سے عیدالفطر کی خوشیاں منائیں۔اسی خوشی میں فتوحات کی مسرتیں بھی شامل تھیں۔مسلمان جب عید کی نمازکیلئے کھڑے ہوئے تو دریا کے کنارے اور کیمپ کے اردگرد سنتریوں میں اضافہ کردیا گیا تاکہ دشمن نماز کی حالت میں حملہ نہ کر سکے۔’’مجاہدینِ اسلام!‘‘خالدؓ نے نماز کے بعد مجاہدین سے مختصرسا خطاب کیا۔’’نماز کے بعد ایسے انداز سے اس تقریب ِ سعید کی خوشیاں مناؤ کہ دشمن یہ تاثر لے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کا اندیشہ نہیں اور انہیں اپنی فتح کا پورا یقین ہے۔دریاکے کنارے جاکر ناچوکودو،تم نے جس طرح دشمن پر اپنی تلوار کی دھاک بٹھائی ہے، اس طرح اس پر اپنی خوشیوں کی دہشت بٹھا دو۔لیکن میرے رفیقو! اس حقیقت کو نہ بھولنا کہ تم اﷲکی طرف سے آئی ہوئی ایک سے ایک کٹھن آزمائش میں پورے اترے ہو ،مگر اب تمہارے سامنے سب سے زیادہ کٹھن اور خطرناک آزمائش آگئی ہے۔تمہارا سامنا اس وقت کی دو طاقتور فوجوں سے ہے جنہیں عیسائیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔میں جانتا ہوں تم جسمانی طور سے لڑنے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن اﷲنے تمہیں روح کی جو قوتیں بخشی ہیں انہیں کمزور نہ ہونے دینا، کیونکہ تم ان قوتوں کے بل پر دشمن پر غالب آتے چلے جا رہے ہو۔میں بتا نہیں سکتا کہ کل کیا ہوگا۔ ہر خطرے کیلئے تیار رہو۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔
خالدؓکے خاموش ہوتے ہی مجاہدین کے نعروں نے ارض و سما کو ہلا ڈالا۔پھر سب دوڑتے کودتے دریا کے کنارے جا پہنچے۔انہوںنے دریا کے کنارے گھوڑے بھی دوڑائے اور ہر طرح عید کی خوشی منائی۔خالدؓ کے سالاروں کو توقع تھی کہ خالدؓ بن ولید یہاں بھی شب خون کی سوچ رہے ہوں گے۔خالدؓ نے اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی سالاروں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایک مہینہ گزر چکا تھا۔فوجیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔آخر خالدؓ نے اپنے سالاروں کو مشورے تجاویز اور احکام کیلئے بلایا۔’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’شاید تم یہ سوچ رہے ہو گے کہ یہاں بھی شب خون مارا جائے گالیکن تم دیکھ رہے ہو کہ یہاں صورتِ حال شب خون والی نہیں۔دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ہم ہمیشہ قلیل تعداد میں لڑے ہیں لیکن یہاں ہمارے درمیان دریا حائل ہے۔دشمن اس دریا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ دشمن اتنی زیادہ تعداد کے باوجود ہم پر حملہ نہیں کر رہا ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ اس کی احتیاط کو ہم اور طول دیں اور حملے میں پہل نہ کریں۔میں چاہتا ہوں کہ حملے میں پہل وہ کرے۔اگر تم کوئی مشورہ دینا چاہو تو میں اس پر غور اور عمل کروں گا۔‘‘

تقریباً تمام سالاروں نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم پہل نہ کریں اور کوئی ایسی صورت پیدا کریں کہ دشمن دریا عبور کرآئے۔کچھ دیر سالاروں نے بحث و مباحثہ کیا اور ایک تجویز پر متفق ہو گئے،اور اسی روز اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔اس کے مطابق کوئی ایک دستہ تیار ہو کر دریا کے ساتھ کسی طرف چل پڑتا۔دشمن یہ سمجھتا کہ مسلمان کوئی نقل و حرکت کر رہے ہیں چنانچہ اسے بھی اس کے مطابق کوئی نقل و حرکت یا پیش بندی کرنی پڑتی۔یہ سلسلہ پندرہ سولہ دن چلتا رہا۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رومی مسلمانوں کی ان حرکات سے تنگ آگئے۔وہ پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف کسی میدان میں نہیں لڑے تھے،ان کے سالاروں کے ذہنوں پر یہ بات آسیب کی طرح سوار ہو گئی تھی کہ جس قلیل فوج نے فارسیوں جیسی طاقت ور فوج کو ہلنے کے قابل نہیں چھوڑا، وہ فوج کوئی خاص داؤ چلتی ہے جسے ان کے سوا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔پہلے کہا جا چکا ہے کہ خالدؓ دشمن پر نفسیاتی وار کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔اس صورتِ حال میں بھی انہوں نے رومیوں کو تذبذب میں مبتلا کرکے ان کے ذہنوں پر ایسا نفسیاتی اثر ڈالا کہ وہ نہ کچھ سمجھنے کے اور نہ کوئی فیصلہ کرنے کے قابل رہے۔۲۱ جنوری ۶۳۴ء )۱۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز دشمن اس قدر تنگ آگیا کہ کے ایک سالار نے دریا کے کنارے کھڑے ہوکر بڑی بلند آواز سے مسلمانوں سے کہا ۔’’ کیا تم دریا پار کرکے ادھر آؤ گے یا ہم دریا پار کرکے اُدھر آجائیں؟لڑنا ہے تو سامنے آؤ۔‘‘’’ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔‘‘خالدؓ بن ولید نے اعلان کروایا۔’’ہم سے ڈرتے کیوں ہو؟تمہاری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمہیں ہم سے پوچھے بغیر ادھر آجانا چاہیے۔‘‘’’پھر سنبھل جاؤ۔‘‘دشمن کی طرف سے للکار سنائی دی۔’’ہم آرہے ہیں۔‘‘دشمن نے دریا عبور کرنا شروع کر دیا۔خالدؓ نے اپنے مجاہدین کو دریا کے کنارے سے ہٹا کر کچھ دور لڑائی کی ترتیب میں کرلیا۔حسبِ معمول ان کی فوج تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی،اور خالدؓ خود درمیانی حصے کے ساتھ تھے۔جنگی مبصروں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے دشمن کیلئے اتنی زیادہ جگہ خالی کردی کہ دشمن اور اس کے پیچھے دریا، ان دونوں کے درمیان اتنی جگہ خالی رہے کہ اس کے عقب میں جانا پڑے تو جگہ مل جائے ورنہ دریا ان کے عقب کی حفاظت کرتا۔جب دشمن# میدان میں آگیا تو رومی جرنیلوں نے فارسیوں اور عیسائیوں کے لشکر کو ان کے قبیلوں کے مطابق تقسیم کر دیا۔انہوں نے ایرانی سالاروں سے کہا کہ اس تقسیم سے یہ پتہ چل جائے گا کہ کون کس طرح لڑا ہے؟ بھاگنے والوں کے قبیلے کا بھی علم ہو جائے گا۔‘‘یہ تقسیم اس طرح ہوئی کہ رومی الگ ہو گئے، مدائن کی فوج ان سے کچھ دور الگ ہو گئی، اور عیسائیوں کے قبیلے مدائن کی فوج سے الگ اور ہر قبیلہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہو گیا۔رومی جرنیلوں نے )مؤرخوں کے مطابق(یہ تقسیم اس لیے بھی کی تھی کہ مسلمانوں کو بھی اس تقسیم کے مطابق اپنی تقسیم کرنی پڑے گی جس کے نتیجے میں وہ بکھر جائیں گے اور انہیں آسانی سے شکست دی جا سکے گی۔
’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے دشمن کو اس طرح تقسیم ہوتے دیکھ کر اپنے سالاروں کو بلایا اور ان سے کہا۔’’خدا کی قسم !دشمن خود احمق ہے یا ہیمں احمق سمجھتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ دشمن نے اپنی جمیعت کو کس طرح بکھیر دیا ہے؟‘‘’’دشمن نے ہمارے لیے مشکل پیدا کر دی ہے ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’اس کے مطابق ہمیں بھی بکھرنا پڑے گا۔پھر ایک ایک کا مقابلہ دس دس کے ساتھ ہو گا۔‘‘’’دماغوں کو روشنی دینے والا اﷲہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’ہم آمنے سامنے کی لڑائی نہیں لڑیں گے۔سوار دستوں کے سالار سن لیں ۔فوراًسوار دو حصوں میں تقسیم ہو کر دشمن کے دائیں اور بائیں چلے جائیں۔پیادے بھی ان کے ساتھ رہیں اور دائیں اور بائیں پہنچ کر عقب میں جانے کی کوشش کریں۔میں اپنے دستوں کے ساتھ دشمن کے سامنے رہوں گا،دشمن پر ہر طرف سے شدید حملہ کردو۔دشمن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوا۔چاروں طرف سے دشمن پر ایسا حملہ کردو کہ اس کی تقسیم درہم برہم ہوجائے۔اﷲکا نام لو اور نکل جاؤ۔‘‘رومی ایرانی اور عیسائی تقسیم تو ہو گئے تھے لیکن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے۔
۔خالدؓکے اشارے پر مسلمانوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا۔دشن پر جب حملے کے ساتھ ہر طرف سے تیر برسنے لگے تو اس کے بٹے ہوئے حصے اندر کی طرف ہونے لگے اور ہوتے ہوتے وہ ہجوم کی صورت میں یکجا ہوگئے۔مسلمان سواروں نے تھوڑی سی تعداد میں ہوتے ہوئے اتنے کثیر دشمن کو گھیرے میں لے لیا۔دشمن کی حالت ایک گھنے ہجوم کی سی ہو گئی جس سے گھوڑوں کے گھومنے پھرنے کیلئے جگہ نہیں رہی۔ایرانی اور عیسائی پہلے ہی مسلمانوں سے ڈرے ہوئے تھے،وہ چھپنے یا پیچھے ہٹنے کے انداز سے رومی دستوں کے اندر چلے گئے اور انہیں حرکت کے قابل نہ چھوڑا۔مسلمان سواروں نے دوڑتے گھوڑوں سے دشمن کے اس ہجوم پر تیر برسائے جیسے دشمن کی اتنی بڑی تعداد اور زیادہ سمٹ گئی۔اس کیفیت میں پیادہ مجاہدین نے ہلّہ بول دیا۔عقب سے حملہ ایک سوار دستے نے کیا۔خالد ؓنے اپنے تمام سوار دستوں کو ایک ہی بار حملے میں نہ جھونک دیا۔دستے باری باری حملے کرتے تھے۔خالدؓنے ایسی چال چلی تھی کہ لڑائی کی صورت لڑائی کی نہ رہی بلکہ یہ رومیوں آتش پرستوں اور عیسائیوں کا قتلِِ عام تھا۔رومیوں نے دفاعی لڑائی لڑنے کی کوشش کی لیکن میدانِ اس کے زخمیوں اور اس کی لاشوں سے بھر گیا۔سپاہیوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ میدان سے بھاگنے لگے۔’’پیچھے جاؤ۔‘‘ خالدؓ نے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے جاؤ۔ کوئی زندہ بچ کر نہ جائے۔‘‘
مجاہدین نے تعاقب کرکے بھاگنے والوں کو تیروں اور برچھیوں سے ختم کیا اور معرکہ ختم ہو گیا۔تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس معرکے میں ایک لاکھ رومی، ایرانی اور عیسائی مارے گئے تھے۔ایک بہت بڑی اتحادی فوج ختم ہو گئی، مسلمانوں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔خالدؓدس روز وہیں رہے، انہوں نے بڑی تیزی سے وہاں کا انتظامی ڈھانچہ مکمل کیا۔ایک دستہ وہاں چھوڑا، اور ۳۱ جنوری ۶۳۴ء )۲۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز لشکر کو حیرہ کی طرف کوچ کا حکم دیا۔’’کیا تم دیکھ نہیں رہے، ابنِ ولید چپ سا ہو گیا ہے؟‘‘ایک سالار اپنے ساتھی سالار سے کہہ رہا تھا۔’’خدا کی قسم!میں نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید تھک گیا ہے یا مسلسل معرکوں سے اُکتا گیا ہے۔‘‘’’اور میں یہ بھی نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید ڈر گیا ہے کہ وہ اپنے مستقر سے اتنی دور دشمن ملک کے اندر آگیا ہے۔‘‘دوسرے سالار نے کہا۔’’لیکن میں اسے کسی سوچ میں ڈوبا ہوا ضرور دیکھ رہا ہوں۔‘‘’’ہاں وہ کچھ اور سوچ رہا ہے۔‘‘’’پوچھ نہ لیں؟‘‘’’ہم نہیں پوچھیں گے تو اور کون پوچھنے آئے گا؟‘‘خالدؓ سوچ میں ڈوب ہی جایا کرتے تھے۔یہ ایک معرکے کی فراغت کے بعد اگلے معرکے کی سوچ ہوتی تھی۔وہ سوچ سمجھ کر اور تمام تر دماغی قوتوں کو بروئے کار لا کر لڑاکرتے تھے۔دشمن کے پاس بے پناہ جنگی قوت تھی۔وہ گہری سوچ کے بغیر اپنی فوج کی برتری اور افراط کے بل بوتے پر بھی لڑ سکتا تھا۔ مسلمان ایساخطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ان کی تعداد کسی بھی معرکے میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ان کی تعداد پندرہ اور اٹھارہ ہزارکے درمیان رہتی تھی۔ایک ایک مجاہد کا مقابلہ تین سے چھ کفار سے ہوتا تھا۔لہٰذا انہیں عقل اور ہوشمندی کی جنگ لڑنی پڑتی تھی۔
ایسی عقل اورہوشمندی میں خالدؓ کا کوئی ثانی نہ تھاانہی اوصاف کی بدولت رسولِ اکرمﷺ نے انہیں اﷲکی تلوار کہا تھا۔جذبہ تو خالدؓ میں تھا ہی لیکن انہیں دماغ زیادہ لڑانا پڑتا تھا۔ہر معرکے سے پہلے خالدؓ جاسوسوں سے دشمن کی کیفیت اور اس کی زمین اور نفری وغیرہ کی تفصیلات معلوم کرکے گہری سوچ میں ڈوب جاتے پھر اپنے سالاروں سے صلاح و مشورہ کرتے تھے لیکن فراض کی جنگ کے بعد ان پر ایسی خاموشی طاری ہو گئی تھی جوکچھ اور ہی قسم کی تھی۔ان کی اس خاموشی کو دیکھ کر ان کے سالار کچھ پریشان سے ہو رہے تھے، یہ فراض سے حیرہ کی طرف کوچ )۲۵ذیقعد ۱۲ ھ(سے دو روز پہلے کا واقعہ ہے۔تین چار سالار خالدؓکے خیمے میں جا بیٹھے۔’’ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’خدا کی قسم!جس سوچ میں تو ڈوبا ہوا ہے اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں، تجھے اکیلا پریشان نہیں ہونے دیں گے۔‘‘خالدؓ نے سب کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔

’’ابنِ عمرو ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔’’میں جس سوچ میں پڑا رہتا ہوں اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں۔‘‘’’کچھ ہمیں بھی بتا ابنِ ولید!‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو پسند نہیں کرے گا کہ ہم سب تجھے دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتے رہیں۔‘‘’’نہیں پسند کروں گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تم میں سے کوئی بھی پریشان ہو گا تو یہ مجھے ناپسند ہو گا۔میں کسی لڑائی کیلئے کبھی پریشان نہیں ہوا۔تین تین دشمنوں کی فوجیں مل کر ہمارے خلاف آئیں ، میں پریشان نہیں ہوا۔میں نے خلیفۃ المسلمین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رومیوں کو جا للکارا۔ میں نے ایک خطرہ مول لیا تھا۔میں پریشان نہیں ہوا۔ مجھے ہر میدان میں اور ہر مشکل میں اﷲنے روشنی دکھائی ہے اور تمہیں اﷲنے ہمت دی ہے کہ تم اتنے جری دشمن پر غالب آئے……‘‘’’اب میری پریشانی یہ ہے کہ میں فریضہ حج ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ میں کہاں ہوں اور میری ذمہ داریاں کیا ہیں۔کیا میں اس فرض کو چھوڑ کر حج کا فرض ادا کر سکتا ہوں؟……نہیں کر سکتا میرے رفیقو! لیکن میرا دل میرے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ خدا کی قسم!یہ میری روح کی آواز ہے کہ ولید کے بیٹے، کیا تجھے یقین ہے کہ تو اگلے حج تک زندہ رہے گا؟……مجھے یقین نہیں میرے رفیقو!ہم نے جن دو دشمنوں کو شکستیں دی ہیں ، ان کی جنگی طاقت تم نے دیکھ لی ہے اور تم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ تمام قبیلے فوراً ان سے جا ملتے ہیں۔میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری زندگی چند روزہ رہ گئی ہے……اور میرے رفیقو! میں کچھ بھی نہیں۔تم کچھ بھی نہین۔صرف اﷲہے جو ہمارے سینوں میں ہے۔ وہی سب کچھ ہے۔ پھر میں کیوں نہ اس کے حضور اس کے عظیم گھر میں جا کر سجدہ کروں۔ کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اپنی طرف سے تم سب کی طرف سے اور ہر ایک مجاہد کی طرف سے خانہ کعبہ جاکر اﷲکے حضور شکر ادا کروں؟‘‘’’بے شک، بے شک۔ ‘‘ایک سالار نے کہا۔’’کون رَد کر سکتا ہے اس جذبے کو اور اس خواہش کو جو تو نے بیان کی ہے!‘‘’’لیکن تو حج پر جائے گا کیسے ابنِ ولید؟‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے پوچھا۔’’ پیچھے کچھ ہو گیا تو؟‘‘’’میں کسی لڑائی میں مارا جاؤں گا تو خدا کی قسم تم یہ نہیں سوچو گے کہ اب کیا ہوگا؟‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’کیا میرے نہ ہونے سے تمہارے حوصلے ٹوٹ جائیں گے؟ ……نہیں……نہیں……ایسا نہیں ہو گا۔‘‘’’رب کعبہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’ہم میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو گا تو وہ اسلام کے پرچم کو گرنے نہیں دے گا……یوں کر ابنِ ولید!آج ہی قاصد کو روانہ کر دے کہ وہ امیرالمومنین سے اجازت لے آے کہ تو حج پر جا سکتا ہے۔‘‘

’’جس سوچ نے مجھے پریشان کر رکھا ہے یہی وہ سوچ ہے۔‘‘ خالدؓنےمسکرا کر کہا۔’’ میں جانتا ہوں امیر المومنین اجازت نہیں دیں گے۔انہیں یہاں کے حالات کا علم ہے۔ اگر وہ اجازت دے بھی دیں تو یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ دشمن کو پتا چل جائے گا کہ ابنِ ولید چلا گیا ہے۔ میں اپنے لشکر کو بھی نہیں بتانا چاہتا کہ میں ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں بہت کم وقت میں جا کر واپس آنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’خدا کی قسم ولید کے بیٹے!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تو نہیں جانتا کہ تو جو کہہ رہا ہے یہ نا ممکن ہے۔‘‘ ’’اﷲناممکن کو ممکن بنا دیا کرتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔ ’’انسان کو ہمت کرنی چاہیے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔ اور کس راستے سے جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے انہیں پہلے یہ بتایا کہ وہ کیا کریں پھر وہ راستہ بتایا جس راستے سے انہیں حج کیلئے مکہ جانا اور آناتھا۔حج میں صرف چودہ دن باقی تھے۔ اور فراض سے مکہ تک کی مسافت تیز چلنے سے اڑھائی مہینے سے کچھ زیادہ تھی۔خالدؓ کو کوئی چھوٹا راستہ دیکھنا تھا لیکن کوئی چھوٹا راستہ نہیں تھا۔خالدؓتاجر خاندان کے فرد تھے، قبولِ اسلام سے پہلے خالدؓ نے تجارت کے سلسلے میں بڑے لمبے اور کٹھن سفر کئے تھے۔ وہ ایسے راستوں سے بھی واقف تھے جو عام راستے نہیں تھے۔ بلکہ وہ راستے کہلاتے ہی نہیں تھے۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو ایک ایسا ہی راستہ بتایا۔’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تیرا دماغ خراب نہیں ہوا، پھر بھی تو نے ایسی بات کہہ دی ہے جو ٹھیک دماغ والے نہیں کہہ سکتے۔ تو جو راستہ بتا رہاہے وہ کوئی راستہ نہیں، وہ ایک علاقہ ہے اور اس علاقے سے صحرا کی ہوائیں بھی ڈر ڈر کر گزرتی ہیں، کیا تو مرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں جانتا!کیا میں اس علاقے سے واقف نہیں؟‘‘’’جس اﷲنے ہمیں اتنے زبردست دشنموں پر غالب کیا ہے وہ مجھے اس علاقے سے بھی گزاردے گا۔‘‘ خالدؓ نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جس میں عزم اور خود اعتمادی تھی۔ ’’میں یقین سے کہتا ہوں کہ تم مجھے جانے سے نہیں روکو گے اور میرے اس راز کواس خیمے سے باہر نہیں جانے دو گے۔ میں راز امیر المومنین سے بھی چھپا کر رکھوں گا۔‘‘’’اگر امیر المومنین بھی حج پر آگئے تو کیا کرے گا تو؟‘‘ایک سالار نے پوچھا۔’’میں ان سے اپنا چہرہ چھپا لوں گا۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’تم سب میرے لیے دعا تو ضرور کرو گے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس طرح تم سے آملوں گا کہ تم کہو گے کہ یہ شخص راستے سے واپس آگیا ہے۔‘‘

زیادہ تر مؤرخین ، خصوصاً طبری نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ خالدؓ نے ۱۲ ہجری کا حج کس طرح کیا ۔ان حالات میں کہ ان کی ٹکر فارس کی شہنشاہی سے تھی اور انہوں نے روم کی شہنشاہی کے اندر جاکر حملہ کیا تھا ، یہ خطرہ ہر لمحہ موجود تھا کہ یہ دونوں بادشاہیاں مل کر حملہ کریں گی۔ اس خطرے کے پیشِ نظر خالدؓوہاں سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے تھے، لیکن حج کا عزم اتناپکا اور خواہش اتنی شدید تھی کہ اسے وہ دبا نہ سکے۔پہلے سنایا جاچکا ہے کہ لشکرفراض سے حیرہ کو کوچ کر رہا تھا۔خالدؓنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ ہراول تھا۔دوسرا اس کے پیچھے اور تیسرا حصہ عقب میں تھا۔خالدؓ نے خاص طور پر اعلان کرایا کہ وہ عقب کے ساتھ ہوں گے۔لشکر کو حیرہ تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔تیز کوچ اس صورت میں کیا جاتا تھا جب کہیں حملہ کرنا ہوتا یا جب اطلاع ملتی تھی کہ فلاں جگہ دشمن حملے کی تیاری کر رہاہے۔ اب ایسی صورت نہیں تھی۔لشکر کے کوچ کی رفتار تیز نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ کوچ میدانِ جنگ کی طرف نہیں بلکہ اپنے مفتوحہ شہر کی طرف ہو رہا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مجاہدین متواتر لڑائیاں لڑتے اور پیش قدمی کرتے رہے تھے۔ان کے جسم شل ہو چکے تھے ۔خالدؓ نے کوچ معمولی رفتارسے کرنے کا حکم ایک اور وجہ سے بھی دیا تھا۔ اس وجہ کا تین سالاروں اور خالدؓ کے چند ایک ساتھیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔وہ وجہ یہ تھی کہ خالدؓ کو کوچ کے دوران لشکر کے عقبی حصے سے کھسک جاناتھا،اور اک گمنام راستے سے مکہ کو روانہ ہونا تھا۔لشکر ۳۱ جنوری ۶۳۴ء کے روز چل پڑا۔ تاریخ میں اس مقام کا پتا نہیں ملتا جہاں لشکر نے پہلا پڑاؤ کیا تھا۔رات کو جب لشکر گہری نیند سو گیا تو خالدؓاپنے چند ایک ساتھیوں کے ساتھ خیمہ گاہ سے نکلے اور غائب ہو گئے۔ کسی بھی مؤرخ نے ان کے ساتھیوں کے نام نہیں لکھے جو ان کے ساتھ حج کرنے گئے تھے۔خالدؓ اور ان کے ساتھی اونٹوں پر سوار تھے ، جس علاقے میں سے انہیں گزرنا تھا۔ وہاں سے صرف اونٹ گزر سکتا تھا۔گھوڑا بھی جواب دے جاتا تھا۔صحراؤں میں بعض علاقے بے حد دشوار گزار ہوتے تھے۔مسافر ادھرسے گزرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔صحرائی قزاق اور بڑے پیمانے پر رہزنی کرنے والے انہی علاقوں میں رہتے تھے اور لوٹ مار کا مال وہیں رکھتے تھے۔ان میں کچھ علاقے ایسے خوفناک تھے کہ قزاق اور رہزن بھی ان میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرتے تھے۔اس دور میں صحرا کے جس علاقے کو دشوار گزار اور خطرناک کہنا ہوتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہاں تو ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے۔خالدؓ نے مکہ تک جلدی پہنچنے کا جو راستہ اختیار کیا تھا وہ ایسا ہی تھا جہاں ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے تھے۔اتنے خطرناک اور وسیع علاقے سے زندہ گزر جانا ہی ایک کارنامہ تھا لیکن خالدؓ دنوں کی مسافت منٹوں میں طے کرنے کی کوشش میں تھے ۔انہیں صرف یہ سہولت حاصل تھی کہ موسم سردیوں کا تھا لیکن سینکڑوں میلوں تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔

اس علاقے میں ایک اور خطرہ ریت اور مٹی کے ان ٹیلوں کا تھا جن کی شکلیں عجیب و غریب تھیں۔یہ کئی کئی میل وسیع نشیب میں کھڑے تھے۔بعض چٹانوں کی طرح چوڑے تھے ۔بعض گول اور بعض ستونوں کی طرح اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ایسے نشیب بھول بھلیوں کی طرح تھے۔ان میں بھٹک جانے کا خطرہ زیادہ تھا۔گھوم پھر کر انسان وہیں کا وہیں رہتا تھا اور سمجھتا تھا کہ وہ بہت سا فاصلہ طے کر آیا ہے۔حتٰی کہ وہ ایک جگہ ہی چلتا، اور مڑتا تھک کر چور ہو جاتا تھا۔پانی پی پی کر پانی کا ذخیرہ بھی وہیں ختم ہو جاتا تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ صحرا کے اس حصے کی صعوبتیں ، دشواریاں اور وہاں کے خطرے ایسے تھے جو دیکھے بغیر انسان کے تصور میں نہیں آسکتے۔کئی جگہوں پر اونٹ یوں بدک گئے جیسے انہوں نے کوئی ایسی چیز دیکھ لی ہو جو انسانوں کو نظر نہیں آسکتی تھی۔اونٹ صحرائی جانور ہونے کی وجہ سے اس پانی کی بُو بھی پالیتا ہے جو زمین کے نیچے ہوتا ہے،کہیں چشمہ ہو جو نظر نہ آتا ہو۔اونٹ اپنے آپ اس طرف چل پڑتا ہے ،اونٹ خطروں کو بھی دور سے سونگھ لیتا ہے۔خالدؓ کے مختصر سے قافلے کے اونٹ کئی جگہوں پر بِدکے ۔ان کے سواروں نے اِدھر اُدھر اور نیچے دیکھا مگر انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔زیادہ خطرہ صحرائی سانپ کا تھا جو ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو بالشت کا ہوتا ہے۔یہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے سانپوں کی طرح آگے کو نہیں رینگتا بلکہ پہلو کی طرف رینگتا ہے، انسان یا جانور کو ڈس لے تو دوچار منٹوں میں موت واقع ہو جاتی ہے،صحرائی بچھو اس سانپ کی طرح زہریلا ہوتا ہے۔ایک مؤرخ یعقوبی نے خالدؓکے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔اس نے اپنے دور کے کسی عالم کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ایک معجزے وہ تھے جو خدا نے پیغمبروں کو دکھائے، اور خالدؓ کا یہ سفر ان معجزوں میں سے تھا جو انسان اپنی خداداد قوتوں سے کر دکھایا کرتے ہیں۔خالدؓ اپنے ساتھیوں سمیت بروقت مکہ پہنچ گئے۔انہیں اس خبر نے پریشان کر دیا کہ خلیفۃ المسلمین ابو بکر صدیقؓ بھی فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آئے ہوئے ہیں۔خالدؓنے سنت کے مطابق اپنا سر استرے سے منڈوادیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے چہرے چھپا کر رکھیں تاکہ انہیں کوئی پہچان نہ سکے۔فریضہ حج ادا کرکے خالدؓ نے بڑی تیزی سے پانی اور دیگر زادِ راہ اکٹھا کیا اور واپسی کے سفر کو روانہ ہو گئے۔یوں کہناغلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بار پھر موت کی وادی میں داخل ہو گئے۔

تمام مؤرخ متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ خالدؓ اس وقت حیرہ پہنچے جب فراض سے چلا ہوا ان کا لشکر حیرہ میں داخل ہو رہا تھا۔لشکر کا عقبی حصہ جس کے ساتھ خالدؓ کو ہونا چاہیے تھا، وہ ابھی حیرہ سے کچھ دور تھا۔خالدؓ خاموشی سے عقبی حصے سے جا ملے اور حیرہ میں اس انداز سے داخل ہوئے جیسے وہ فراض سے آرہے ہوں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ لشکر نے جب دیکھا کہ ان کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ اور چند اور افراد کے سر استرے سے صاف کیے ہوئے ہیں تو لشکر میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں لیکن سر منڈوانا کوئی عجیب چیز نہیں تھی۔ اگر لشکر کو خالدؓ خود بھی بتاتے کہ وہ حج کرکے آئے ہین توکوئی بھی یقین نہ کرتا۔مشہور مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ خالدؓ مطمئن تھے کہ انہیں مکہ میں کسی نے نہیں پہچانا۔چار مہینے گزر گئے۔کسریٰ کے خلاف جنگی کارروائیاں ختم ہو چکی تھیں۔عراق کا بہت سا علاقہ کسریٰ سے چھین کر سلطنتِ اسلامیہ میں شامل کر لیا گیا تھا۔کسریٰ کی جنگی طاقت کا دم خم توڑ دیا گیاتھا۔آتش پرست فارسیوں کی دھونس اوردھاندلی ختم ہو چکی تھی۔یہ خطرہ اگر ہمیشہ کیلئے نہیں تو بڑی لمبی مدت کیلئے ختم ہوگیا تھاکہ فارس کی جنگی طاقت حملہ کرکے مسلمانوں کو کچل ڈالے گی۔فارس آتش پرستوں کے نامور جرنیل قارن، ہرمز، بہمن جاذویہ، اندرزغر، روزبہ، اور زرمہر اور دوسرے جن کی جنگی اہلیت اور دہشت مشہور تھی۔خالدؓ اور ان کے مجاہدین کے ہاتھوں مختلف معرکوں میں مارے گئے تھے۔ان جیسے جرنیل پیدا کرنے کیلئے بڑی لمبی مدت درکار تھی۔اب تو پورے عراق میں اور مدائن کے محلات کے اندر بھی ان مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی جنہیں انہی محلات میں عرب کے بدو اور ڈاکو کہا گیا تھا۔سب سے بڑی فتح تو یہ تھی کہ اسلام نے اپنی عظمت کا احساس دلادیا تھا۔خالدؓ نے حیرہ میں چار مہینے گزار کر اپنے لشکر کو آرام کرنے کی مہلت دی اور اس خیال سے جنگی تربیت بھی جاری رکھی کہ مجاہدین ِ لشکر سست نہ ہوجائیں۔اس کے علاوہ خالدؓنے مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق اور محصولات کی وصولی کا نظام بھی بہتر بنایا۔مئی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کو امیر المومنین ابو بکر ؓ کا خط ملا جس کا پہلا فقرہ خالدؓ کے حج کے متعلق تھا جس کے متعلق خالدؓ مطمئن تھے کہ امیر المومنینؓ اس سے بے خبر ہیں۔خط میں خالدؓ کے حج کا اشارہ کرکے صرف اتنا لکھا تھا ۔ آئندہ ایسا نہ کرنا۔باقی خط کا متن یہ تھا:’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ عتیق بن ابو قحافہ کی طرف سے خالد بن ولید کے نام۔ )یاد رہے کہ امیر المومنین اوّل ابو بکر صدیقؓ کہلاتے تھے لیکن انکا نام عبداﷲ بن ابی قحافہ تھا اور عتیق ان کا لقب تھا جو انہیں رسولِ کریم ﷺنے عطا فرمایا تھا(۔السلام و علیکم۔ تعریف اﷲکیلئے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔درود و سلام محمد الرسول اﷲ)ﷺ( پر……’’حیرہ سے کوچ کرو اور شام )سلطنت روما(میں اس جگہ پہنچو جہاں اسلامی لشکر جمع ہے۔ لشکر اچھی حالت میں نہیں، مشکل میں ہے۔ میں اس تمام لشکر کا جو تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے اور اس لشکر کا جس کی مدد کو تم جا رہے ہو، سپہ سالار مقررکرتا ہوں۔ رومیوں پر حملہ کرو۔ ابو عبیدہ اور اس کے ساتھ کے تمام سالار تمہارے ماتحت ہوں گے……

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 36
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا


*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*   

*( قسط نمبر-36)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ابوسلیمان!)خالدکا دوسرا نام(پختہ عزم لے کر پیش قدمی کرو۔ اﷲکی حمایت اور مدد سے اس مہم کو پورا کرو۔ اپنے لشکر کو جو اس وقت تمہارے پاس ہے، دو حصوں میں کردو۔ ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے سپرد کر جاؤ۔ عراق )سلطنت فارس کے مفتوحہ علاقوں کا(سپہ سالار مثنیٰ بن حارثہ ہوگا۔ لشکر کا دوسرا حصہ اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اﷲتمہیں فتح عطا فرمائے۔ اس کے بعد یہیں واپس آجانا اور اس علاقے کے سپہ سالار تم ہوگے……تکبر نہ کرنا، تکبر اور غرور تمہیں دھوکہ دیں گے۔ اور تم اﷲکے راستے سے بھٹک جاؤ گے ۔کوتاہی نہ ہو۔ رحمت و کرم اﷲکے ہاتھ میں ہے، اور نیک اعمال کا صلہ اﷲہی دیا کرتا ہے۔‘‘خط پڑھتے ہی خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور کچھ کھسیانا سا ہوکے انہیں بتایا کہ ان کے خفیہ حج کا امیر المومنینؓ کو پتا چل گیا ہے۔’’اور میں خوش ہوں اس پر کہ فراغت ختم ہو گئی ہے۔‘‘
خالدؓ نے کہا۔’’ہم شام جا رہے ہیں۔‘‘خالدؓ تو جیسے میدانِ جنگ کیلئے پیدا ہوئے تھے۔قلعے اور شہر میں بیٹھنا انہیں پسند نہ تھا۔انہوں نے سالاروں کو خط پڑھ کر سنایا اور تیاری کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے لشکرکو دوحصوں میں تقسیم کیا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ رکھا۔صحابہ کرامؓ کو لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’خدا کی قسم!میں اس تقسیم پر راضی نہیں ہوں جو تو نے کی ہے۔تو رسول اﷲﷺ کے تمام ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔صحابہ کرام کو بھی صحیح تقسیم کر۔ آدھے صحابہ کرام تیرے ساتھ جائیں گے، آدھے میرے ساتھ رہیں گے۔کیا تو نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت اﷲہمیں فتح عطا کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے مسکرا کر صحابہ کرامؓ کی تقسیم مثنیٰ بن حارثہ کی خواہش کے مطابق کردی اور اپنے لشکر کے سالاروں کو حکم دیاکہ جتنی جلدی ممکن ہو تیاری مکمل کریں۔’’اور یہ نہ بھولناکہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مدد کو جا رہے ہیں جو وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ضائع کرنے کیلئے ہمارے پاس ایک سانس جتنا وقت بھی نہیں۔‘مسلمانوں کا وہ لشکر جو شام میں جاکر مشکل میں پھنس گیا تھا ،وہ ایک سالار کی جلد بازی کا اور حالات کو قبل از وقت نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ تھا۔اس نے شام کے اندر جاکر رومیوں پر حملہ کرنے کی اجازت امیر المومنینؓ سے اس طرح مانگی کہ جس طرح وہ خود آگے کے احوال و کوائف کو نہیں سمجھ سکا تھا، اسی طرح اس نے امیر المومنینؓ کو بھی گمراہ کیا۔ امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ دانشمند انسان تھے۔انہوں نے اس سالار کو حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ دی بلکہ یہ لکھا:

’’……رومیوں سے ٹکر لینے کی خواہش میرے دل میں بھی ہے۔ اور یہ ہماری دفاعی ضرورت بھی ہے۔ رومیوں کی جنگی طاقت کو اتنا کمزور کردینا ضروری ہے کہ وہ سلطنت اسلامیہ کی طرف دیکھنے کی جرات نہ کر سکیں لیکن ابھی ہم ان سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ تم ان کے خلاف بڑے یپمانے کی جنگ نہ کرنا، محتاط ہو کر آگے بڑھنا تاکہ خطرہ زیادہ ہو تو پیچھے بھی ہٹ سکو، تم یہ جائزہ لینے کیلئے حملہ کرو کہ رومیوں کی فوج کس طرح لڑتی ہے اور اس کے سالار کیسے ہیں۔‘‘امیر المومنینؓ نے صاف الفاظ میں لکھا کہ اپنے لشکر کو ایسی صورت میں نہ ڈال دینا کہ پسپائی اختیار کرو اور تمہیں اپنے علاقے میں آکر بھی پناہ نہ ملے۔اس سالار کا نام بھی خالد تھا ، خالد بن سعید۔لیکن میدانِ جنگ میں وہ خالدؓ بن ولید کی گَردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اسے جن دستوں کا سالار بنایا گیا تھا وہ سرحدی فرائض انجام دینے والے دستے تھے۔ ان میں لڑنے کی اہلیت تھی اور ان میں لڑنے کا جذبہ بھی تھا لیکن انہیں جنگ کا ویسا تجربہ نہ تھا جیسا خالدؓ بن ولید کے دستوں نے حاصل کر لیا تھا۔امیرالمومنینؓ نے خالد بن سعید کو اپنی سرحدوں پر پہرہ دینے کیلئے بھیجا تھا۔ان دستوں کا ہیڈ کوارٹر تیما کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
بعض مؤرخوں نے لکھا کہ خالدؓ کی پے در پے کامیابیاں دیکھ دیکھ کر خالدبن سعید کو خیال آیا کہ خالدؓ نے فارس کو شکستیں دی ہیں تو وہ رومیوں کو ایسی ہی شکستیں دے کر خالدؓ کی طرح نام پیدا کرے۔ ابنِ ہشام اور ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے یہ بھی لکھا ہے کہ خلیفۃ المسلمینؓ خالد بن سعید کی قیادت اور صلاحیتوں سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے اس سالار کو بڑی جنگوں سے دور رکھا تھا لیکن وہ اس کی باتوں میں آگئے۔خالدؓ نے بھی فراض کے مقام پر رومیوں سے ٹکرلی تھی، لیکن سرحد پر معرکہ لڑا تھا، انہوں نے آگے جانے کی غلطی نہیں کی تھی، خالد بن سعید نے امیرالمومنینؓ کا جواب ملتے ہی اپنے دستوں کو کوچ کا حکم دیا اور شام کی سرحد میں داخل ہو گئے ۔ اس وقت شام میں ہرقل رومی حکمران تھا۔ اسے جنگوں کا بہت تجربہ تھا، رومیوں کی اپنی جنگی تاریخ اور روایات تھیں،وہ اپنی فوج کو انہی کے مطابق ٹریننگ دیتے تھے۔یہ تقریباً انہی دنوں کا واقعہ ہے جب خالدؓ فراض کے مقام پر رومیوں ، فارسیوں اور عیسائیوں کے متحدہ لشکر کے خلاف لڑے اورانہیں شکست دی تھی۔ اس سے رومی محتاط ، مستعد اور چوکس ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہر لمحہ تیار رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔

خالد بن سعید نے آگے کے احوال و کوائف معلوم نہ کیے، کوئی جاسوس آگے نہ بھیجا، اوراندھا دھند بڑھتے گئے۔ آگے رومی فوج کی کچھ نفری خیمہ زن تھی۔ خالد بن سعید نے دائیں بائیں دیکھے بغیر اس پر حملہ کردیا۔ رومیوں کا سالار باہان تھا، جو جنگی چالوں کے لحاظ سے خالدؓ بن ولید کے ہم پلّہ تھا ۔خالد بن سعید نہ سمجھ سکا کہ رومیوں کی جس نفری پر اس نے حملہ کیا ہے ، اس کی حیثیت جال میں دانے کی ہے، وہ انہی میں الجھ گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد اسے پتا چلا کہ اس کے اپنے دستے رومیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں اور عقب سے رومی ان پر ہلّہ بولنے کیلئے بڑھے آرہے ہیں۔ خالد بن سعید کیلئے اپنے دستوں کو بچانا ناممکن ہو گیا۔ اس نے یہ حرکت کی کہ اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور اپنے دستوں کو رومیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔مسلمانوں کے ان دستوں میں مشہور جنگجو عکرمہؓ بن ابو جہل بھی تھے۔ اس ابتر صورتِ حال میں انہوں نے اپنے ہراساں دستوں کی کمان لے لی، اور ایسی چالیں چلیں کہ اپنے دستوں کو تباہی سے بچا لائے، جانی نقصان تو ہوا اور زخمیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ خالدبن سعید کے بھاگ جانے سے تمام دستوں کے جنگی قیدی بننے کے حالات پیدا ہو گئے تھے، عکرمہؓ نے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچالیا۔مدینہ اطلاع پہنچی تو خلیفۃ المسلمینؓ نے خالدبن سعید کو معزول کرکے مدینہ بلالیا۔ خلیفۃ المسلمینؓ کے غصے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خالد بن سعید کو بھری محفل میں بزدل اور نالائق کہا۔ خالد بن سعید خاموشی کی زندگی گزارنے لگا۔ اس سے زیادہ اور افسردہ آدمی اور کون ہو سکتا تھا ۔آخر خدا نے اس کی سن لی ، بہت عرصے بعد جب مسلمانوں نے شام کو میدانِ جنگ بنالیا تھا ۔خالد بن سعید کو وہاں ایک دستے کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔ اس نے اپنے نام سے شکست کا داغ یوں دھویا کہ بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔
امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ نے اپنی مجلسِ مشاورت کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔اس مجلس میں جو اکابرین شامل تھے ، ان میں عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰنؓ بن عوف، سعدؓ بن ابی وقاص، ابو عبیدہؓ بن الجراح، معاذؓ بن جبل، ابیؓ بن کعب، اور زیدؓ بن ثابت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔’’میرے دوستو!‘‘خلیفہ ابو بکر صدیقؓ نے کہا۔’’ رسولِ کریم ﷺکا ارادہ تھا کہ شام کی طرف سے رومیوں کے حملہ کا سدّباب کیا جائے ۔آپﷺنے جو تدبیریں سوچی تھیں ،ان پر عمل کرنے کی آپﷺکو مہلت نہ ملی۔آپﷺانتقال فرما گئے۔اب تم نے سن لیا ہے کہ ہرقل جنگی تیاری مکمل کر چکا ہے، اور ہمارا ایک سالار شکست کھا کر واپس بھی آگیا ہے۔ اگر ہم نے رومیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو ایک تو اپنے لشکر کے حوصلے کمزور ہوں گے اور وہ رومیوں کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھنے لگیں گے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ رومی آگے بڑھ آئیں گے اور ہمارے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس صورتِ حال میں تم مجھے کیا مشورہ دو گے؟یہ بھی یاد رکھنا کہ ہمیں مزید فوج کی ضرورت ہے۔‘‘

’’امیرالمومنین!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’آپ کے عزم کو کون رد کر سکتا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ شام پر حملے کا اشارہ اﷲکی طرف سے ملا ہے۔
لشکر کیلئے مزید نفری بھرتی کریں ، اور جو کام رسول اﷲﷺنے کرنا چاہا تھا اسے ہم پورا کریں۔‘‘’’امیرالمومنین!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’اﷲکی سلامتی ہو تم پر، غور کر لے، رومی ہم سے طاقتور ہیں۔ خالدبن سعید کاانجام دیکھ، ہم رسول اﷲﷺکے ارادوں کو ضرور پورا کریں گے لیکن ہم اس قابل نہیں کہ رومیوں پر بڑے پیمانے کا حملہ کریں۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہمارے دستے رومیوں کی سرحدی چوکیوں پو حملے کرتے رہیں اور ہر حملے کے بعد دور پیچھے آجائیں۔ اس طرح رومیوں کا آہستہ آہستہ نقصان ہوتا رہے گا اور اپنے مجاہدین کے حوصلے کھلتے جائیں گے،اس دوران ہم اپنے لشکر کیلئے لوگوں کو اکھٹا کرتے رہیں۔ امیرالمومنین !لشکر میں اضافہ کرکے تم خود جہاد پر روانہ ہو جاؤ اور چاہو تو قیادت کسی اور سردار کو دے دو۔‘‘مؤرخوں نے اس دور کی تحریروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تمام مجلس پر خاموشی طاری ہو گئی، عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے بڑی جرات سے اپنا مشورہ پیش کیا تھا۔ ایسالگتا تھا جیسے اب کوئی اور بولے گا ہی نہیں۔’’خاموش کیوں ہو گئے ہو تم؟‘‘ امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’اپنے مشورے دو۔‘‘’’کون شک کر سکتا ہے تمہاری دیانتداری پر!‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’بے شک تم مسلمانوں کی او ردین کی بھلائی چاہتے ہو۔ پھر کیوں نہیں تم حکم دیتے کہ شام پر حملہ کرو۔نتیجہ جو بھی ہوگا ہم سب بھگت لیں گے۔‘‘مجلس کے دوسرے شرکاء نے عثمانؓ بن عفان کی تائید کی اور متفقہ طور پر کہا کہ دین اور رسول اﷲ ﷺکی امت کے وقار کیلئے مسندِ خلافت سے جو حکم ملے گا سے سب قبول کریں گے۔’’تم سب پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ خلیفۃ المسلمینؓ نے آخر میں کہا۔’’میں کچھ امیر مقرر کرتا ہوں۔ اﷲکی اور اس کے رسولﷺ کے بعد اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اپنی نیتوں اور ارادوں کو صاف رکھو۔ بے شک اﷲانہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ امیر المومنین ابو بکرؓ کا مطلب یہ تھا کہ شام پر حملہ ہوگا اور رومیوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے گی ۔مجلس پر پھر خاموشی طاری ہو گئی۔ محمد حسین ہیکل لکھتا ہے کہ یہ خاموشی ایسی تھی کہ جیسے وہ رومیوں سے ڈر گئے ہوں یا انہیں امیرالمومنینؓ کا یہ فیصلہ پسند نہ آیا ہو۔ عمرؓ نے سب کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں جذبات کی شدت سے سرخ ہو گئیں۔’’اے مومنین!‘‘عمرؓ نے گرج کر کہا۔’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ خلیفہ کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہتے؟ کیا خلیفہ نے اپنی بھلائی کیلئے کوئی حکم دیا ہے؟ کیا خلیفہ کے حکم میں تمہاری بھلائی شامل نہیں؟ امتِ رسول کی بھلائی نہیں؟……بولو……لبیک کہو اور آواز اپنے دلوں سے نکالو۔‘‘مجلس کا سکوت ٹوٹ گیا، لبیک لبیک کی آوازیں اٹھیں، اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ وہ رومیوں سے ٹکر لیں گے۔

حج سے واپس آکر خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے مدینہ میں گھوڑ دوڑ ، نیزہ بازی ، تیغ زنی، تیر اندازی، اور کُشتیوں کا مقابلہ منعقدکرایا۔اردگرد کے قبیلوں کو بھی اس مقابلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تین دن مدینہ میں انسانوں کے ہجوم کا یہ عالم رہا کہ گلیوں میں چلنے کو رستہ نہیں ملتا تھا۔کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔ جدھر نظر جاتی تھی گھوڑے اور اونٹ کھڑے نظر آتے تھے۔دف اور نفیریاں بجتی ہی رہتی تھیں۔قبیلے اپنے شہسواروں اور پہلوانوں کو جلوسوں کی شکل میں لا رہے تھے۔تین دن ہر طرح کے مقابلے ہوتے رہے۔ جن قبیلوں کے آدمی جیت جاتے وہ قبیلے میدان میں آکر ناچتے کودتے اور چلّا چلّا کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کی عورتیں اپنے جیتنے والے آدمیوں کی مدح میں گیت گاتی تھیں، مقابلے میں باہر کا کوئی گھوڑ سوار یا تیغ زن یا کوئی شتر سوارزخمی ہو جاتا تھا تو مدینہ کا ہر باشندہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔مدینہ والوں کی میزبانی نے قبیلوں کے دل موہ لیے۔مقابلوں اور میلے کا یہ اہتمام خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے کیا تھا،مقابلے کے آخری روز مدینہ کا اک آدمی گھوڑے پر سوار میدان میں آیا۔میدان کے اردگرد لوگوں ، گھوڑوں اور اونٹوں کا ہجوم جمع تھا۔’’اے رسول اﷲﷺکے امتیو!‘‘میدان میں اترنے والے سوار نے بڑی بلند سی آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!کوئی نہیں جوتمہیں نیچا دِکھا سکے ۔تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنے جوہر دیکھ لیے ہیں۔کونسا دشمن ہے جو تمہارے سامنے اپنے پاؤں پرکھڑا رہ سکے گا، یہ طاقت جو تم نے اک دوسرے پر آزمائی ہے ، اب اسے دشمن پر آزمانے کا وقت آگیا ہے جو تمہاری طرف بڑھا آرہا ہے……‘‘’’اے مومنین!اپنی زمین کو دیکھو۔ اپنے اموال کو دیکھو، اپنی عور توں کو دیکھو جو تمہارے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، اپنی جوان اور کنواری بیٹیوں کو دیکھو، جو تمہارے دامادوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں کہ حلال بچے پیدا کریں۔ اپنے دین کودیکھو جو اﷲکا سچا دین ہے۔ خدا کی قسم!تم غیرت والے ہو۔ عزت والے ہو، اﷲنے تمہیں برتری دی ہے۔ تم پسند نہیں کرو گے کہ کوئی دشمن اس وقت تم پر آپڑے جب تم سوئے ہوئے ہو گے، اور تمہارے گھوڑے اور تمہارے اونٹ بغیر زینوں کے بندھے ہوئے ہوں گے اور تم نہیں بچا سکو گے اپنے اموال کو، اپنے بچوں کو، اپنی عورتوں کو، اور اپنی کنواری بیٹیوں کو اور دشمن تمہیں مجبور کر دے گا کہ سچے دین کو چھوڑ کر دشمن کے دیوتاؤں کی پوجا کرو۔‘‘’’بتا ہمیں وہ دشمن کون ہے؟ ‘‘ایک شتر سوار نے چلّا کر پوچھا۔ ’’کون ہے جو ہماری غیرت کو للکار رہا
ہے۔‘‘’’رومی!‘‘گھوڑ سوار نے اعلان کرنے کے لہجے میں کہا۔’’وہ ملک شام پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، ان کی فوج ہم سے زیادہ ہے، بہت زیادہ ہے، ان کے ہتھیار ہم سے اچھے ہیں، لیکن وہ تمہارا وار نہیں سہہ سکتے، تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنی ہمت دیکھ لی ہے، اب اُس میدان میں چلوجہاں تمہاری طاقت اور ہمت تمہارا دشمن دیکھے گا۔‘‘
’’ہمیں اس میدان میں کون لے جائے گا؟‘‘ ہجوم میں سے کسی نے پوچھا۔’’مدینہ والے تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘مدینہ کے گھوڑ سوار نے کہا۔’’دیکھو انہیں جو برسوں سے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ کٹ رہے ہیں اور وہین دفن ہو رہے ہیں، انہیں اپنے بچوں کی یاد نہیں رہی، انہیں اپنے گھر یاد نہیں رہے، وہ بڑی تھوڑی تعداد میں ہیں اور اس دشمن کو شکست پہ شکست دے رہے ہیں جوتعداد میں ان سے بہت زیادہ ہے۔ وہ راتوں کو بھی جاگتے ہیں تمہاری عزتوں کیلئے……انہوں نے آتش پرست فارسیوں کا سر کچل ڈالا ہے۔ اب رومی رہ گئے ہیں لیکن ہمارے مجاہدین تھک گئے ہیں۔ محاذ ایک دوسرے سے دور ہیں، وہ ہر جگہ فوراً نہیں پہنچ سکتے……کیا تم جو غیرت اور عزت والے ہو، طاقت اور ہمت والے ہو، ان کی مدد کو نہیں پہنچوگے؟‘‘ہجوم جو پہلے ہی بے چین تھا، جوش و خروش سے پھٹنے لگا۔ امیرالمومنینؓ کا یہی منشاء تھا کہ لوگوں کو اسلامی لشکرمیں شامل کیا جائے۔ قبیلوں کی جو عورتیں مدینہ آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کو لشکر میں بھرتی ہونے پر اکسانا شروع کر دیا۔اس روز جو مقابلوں کا آخری روز تھا ، مقابلوں میں کچھ اور ہی جوش اور کچھ اور ہی شور تھا۔ مقابلوں میں اترنے والوں کا انداز ایسا ہی تھاجیسے وہ لشکر میں اچھی حیثیت حاصل کرنے کیلئے اپنے جوہر دِکھا رہے ہوں۔ اس کے بعد ان لوگوں میں سے کئی اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔یمن میں اسلام مقبولِ عام مذہب بن چکا تھا۔ارتداد بھی ختم ہو گیا تھا اور یہاں کا غالب مذہب اسلام تھا۔ خلیفۃ المسلمینؓ نے اہلِ یمن کے نام ایک خط لکھا جو ایک قاصد لے کر گیا۔خط میں لکھا تھا:’’اہلِ یمن !تم پر اﷲکی رحمتیں برسیں۔تم مومنین ہو اور مومنین پر اس وقت جہاد فرض ہو جاتا ہے جب ایک طاقتور دشمن کا خطرہ موجود ہو۔ حکم رب العالمین ہے کہ تم تنگدستی میں ہو یا خوشحالی میں، تمہارے پاس سامان کم ہے یا زیادہ، تم جس حال میں بھی ہو ،دشمن کے مقابلے کیلئے نکل پڑو۔ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو۔ تمہارے جو بھائی مدینہ آئے تھے۔انہیں میں نے بغرضِ جہاد جانے کی ترغیب دی تو وہ بخوشی تیار ہوگئے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔میں یہی ترغیب تمہیں دیتا ہوں۔میری آواز تم تک پہنچ گئی ہے، اس میں اﷲکا حکم ہے وہ سنو اور جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘اس دور کے رواج کے مطابق مدینہ کے قاصد نے یمن میں تین چار جگہوں پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور امیرالمومنینؓ کا پیغام سنایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک سردار ذوالکلاع حمیری نے نہ صرف اپنے قبیلے کے جوان آدمیوں کو تیار کرلیا بلکہ اپنے زیرِاثر چند اور قبیلوں کے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لیا اور مدینہ کو روانہ ہو گیا۔

مدینہ کا قاصد ہر قبیلے میں گیا تھا تین اور قبیلوں کے سرداروں قیس بن ھبیرمرادی، جندب بن عمرو الدوسی اور حابس بن سعد طائی۔ نے اپنے اپنے قبیلے کے جوانوں اور لڑنے کے قابل افراد کو ساتھ لیا اور شام کی جنگی مہم میں شریک ہونے کیلیئے عازمِ مدینہ ہوئے۔یہ ایک اچھا خاصہ لشکر بن گیا،ہر فرد گھوڑے یا اونٹ پر سوار اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر آیا، یہ لوگ تیروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ساتھ لے آئے، مدینہ میں اس لشکرکا اجتماع ۶۳۴ء )محرم ۱۳ھ (میں ہوا تھا۔امیرالمومنین ابو بکرؓ نے خود اس اجتماع کے ہر آدمی کواچھی طرح سے دیکھاکہ وہ تندرست ہے اور وہ کسی کے مجبور کرنے پر نہیں بلکہ جہاد کا مطلب اور مقصد سمجھ کرخود آیا ہے۔ پھر اس لشکرکی چھان بین یہ معلوم کرنے کیلئے کی گئی کہ ان میں کئی افراد مرتدین کے ساتھ رہے اور مسلمانوں نے ارتداد کے خلاف جو جنگ لڑی تھی، اس میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ انہوں نے اسلام تو قبو ل کرلیا تھا لیکن ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا،مرتدین نے یہ عادت بنالی تھی کہ مرتد بنے رہے، جب مسلمانوں کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں پِٹ گئے تو اسلام قبول کر لیا مگر مسلمان ان پر بھروسہ کرکے ان کی بستیوں سے ہٹے تو ان میں سے کئی ایک اسلام سے منحرف ہو کر پھر مرتد ہو گئے۔مدینہ میں چھان بین کی گئی تو ان میں سے بعض کو لشکر سے نکال دیا گیا۔باقی لشکر کو چار حصوں مین بانٹ کر ہر حصے کا سالار مقرر کیا گیا۔ ہر حصے میں سات ہزار آدمی تھے یعنی لشکر کی تعداد اٹھائیس ہزار تھی۔زیادہ تر مؤرخوں نے یہ تعداد تیس ہزار لکھی ہے، ایک حصے کے سالار تھے عمروؓ بن العاص، دوسرے کے یزید ؓبن ابی سفیان ، تیسرے کے شرجیلؓ بن حسنہ اور چوتھے حصے کے سالار ابو عبیدہؓ بن الجراح تھے۔ان سالاروں نے چند دن لشکر کو بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی ٹریننگ دی جس میں معرکے کے دوران دستوں کا آپس میں رابطہ اور نظم و نسق قائم رکھنا شامل تھا۔اپریل ۶۳۴ء )صفر ۱۳ھ( کے پہلے ہفتے میں اس لشکر کو شام کی طرف کوچ کا حکم ملا۔ہر حصے کے الگ الگ مقامات پر پہنچنا اور ایک دوسرے سے الگ کوچ کرنا تھا۔ عمروؓ بن العاص کو اپنے دستوں کے ساتھ فلسطین تک جانا تھا، یزیدؓ بن ابی سفیان کی منزل دمشق تھی، انہیں تبوک کے راستے سے جانا تھا، شرجیلؓ بن حسنہ کو اردن کی طرف جانا تھا، انہیں کہا گیا تھا کہ یزیدؓ بن ابی سفیان کے دستوں کے پیچھے پیچھے جائیں، ابو عبیدہؓ بن الجراح کی منزل حمص تھی۔ انہیں بھی تبوک کے راستے سے ہی جانا تھا۔

’’اﷲ تم سب کا حامی و ناصر ہو۔ ‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے آخری حکم یہ دیا۔’’سالار اپنے اپنے دستے ایک دوسرے سے الگ رکھیں گے۔ اگر رومیو ں کے ساتھ کہیں ٹکر ہو گئی تو سالار ایک دوسرے کو مدد کیلئے بلا سکتے ہیں۔ اگر لشکرکے چاروں حصوں کو مل کر لڑنا پڑا تو ابو عبیدہ بن الجراح تمام لشکر کے سپاہ سالار ہوں گے۔‘‘سب سے پہلے یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے تھے۔چھتوں پر عورتیں کھڑی ہاتھ اوپر کرکے ہلا رہی تھیں۔بوڑھی عورتوں نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔کئی بوڑھوں کی آنکھیں اس لیے اشکبار ہو گئی تھیں کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کے آگے آگے جا رہے تھے۔یزیدؓ کے ساتھ امیر المومنین ابو بکرؓ پیدل جا رہے تھے، یزیدؓ گھوڑے سے اتر آئے، امیرالمومنینؓ کے اصرار کے باوجود وہ گھواڑے پر سوار نہ ہوئے ، امیرالمومنینؓ ضعیف تھے پھر بھی وہ دستوں کی رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ یزیدؓ نے انہیں کئی بار کہا کہ وہ واپس چلے جائیں لیکن ابو بکرؓ نہ مانے، مدینہ سے کچھ دور جاکر یزیدؓ رک گئے۔’’امیرالمومنین واپس نہیں جائیں گے تو میں ایک قدم آگے نہیں بڑھوں گا ۔‘‘ یزیدؓ بن ابی سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان!‘‘امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’تو مجھے سنتِ رسول اﷲﷺسے روک رہا ہے۔ کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اﷲﷺجہاد کو رخصت ہونے والے ہر لشکرکے ساتھ دور تک جاتے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے؟ آپﷺفرمایا کرتے تھے، کہ پاؤں جو جہاد فی سبیل اﷲکے راستے پر گرد آلود ہو جاتے ہیں، دوزخ کی آگ ان سے دور رہتی ہے۔‘‘تاریخ کے مطابق امیر المومنینؓ کے لشکر کے اس حصے کے ساتھ مدینہ سے دو میل دور تک چلے گئے تھے۔’’یزید!‘‘امیرالمومنین ؓنے کہا۔’’اﷲتجھے فتح و نصرت عطا فرمائے، کوچ کے دوران اپنے آپ پر اور اپنے لشکر پر کوئی سختی نہ کرنا۔ فیصلہ اگر خود نہ کر سکو تو اپنے ماتحتوں سے مشورہ لے لینا، اور تلخ کلامی نہ کرنا ……عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑنا۔ ظلم سے باز رہنااور بے انصافی کرنے والی قوم کو اﷲپسند نہیں کرتا، اور ایسی قوم کبھی فاتح نہیں ہوتی……میدانِ جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا، کہ جنگی ضرورت کے بغیر پیچھے ہٹنے والے پر اﷲکا قہر نازل ہوتا ہے……اور جب تم اپنے دشمن پر غالب آجاؤ تو عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، اور جو جانور تم کھانے کیلئے ذبح کرو ان کے سوا کسی جانور کو نہ مارنا۔‘‘

مؤرخین واقدی، ابو یوسف، ابنِ خلدون اور ابنِ اثیر نے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے یہ الفاظ لکھے ہیں، ان مؤرخین کے مطابق امیرالمومنین ابو بکرؓ نے یزید ؓبن ابی سفیان سے کہا۔’’ تجھے خانقاہیں یا عبادت گاہیں سی نظر آئیں گی اور ان کے اندر راہب بیٹھے ہوں گے، وہ تارک الدنیا ہوں گے۔ انہیں اپنے حال میں مست رہنے دینا، نہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان پہنچانا، نہ ان کے راہبوں کو پریشان کرنا……اور تمہیں صلیب کو پوجنے والے بھی ملیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان کے سروں کے اوپر درمیان میں بال ہوتے ہی نہیں ، منڈوادیتے ہیں۔ ان پر اسی طرح حملہ کرنا جس طرح میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے۔ انہیں صرف اس صورت میں چھوڑنا کہ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں……اﷲکے نام پر لڑنا، اعتدال سے کام لینا۔ غداری نہ کرنا، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے بلا وجہ قتل نہ کرنا نہ ایسے لوگوں کے اعضاء کاٹنا۔‘‘یہ رسولِ کریمﷺکا طریقہ تھا کہ رخصت ہونے والے ہر لشکر کے ساتھ کچھ دورتک جاتے، سالاروں کوان کے فرائض یاد دلاتے، اور لشکر کو دعاؤں سے رخصت کرتے تھے۔خلیفہ اول ابو بکرؓ نے رسول کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے چاروں سالاروں کو آپﷺہی کی طرح رخصت کیا۔لشکر اور دستے تو محاذوں پر روانہ ہوتے ہی رہتے تھے لیکن یہ لشکر بڑے ہی خطرناک اور طاقتور دشمن سے نبرد آزما ہونے جا رہا تھا۔ شہنشاہ ہرقل جو حمص میں تھا، صرف شہنشاہ ہی نہیں تھا وہ میدانِ جنگ کا استاد اور جنگی چالوں کا ماہر تھا اس لشکر کو مدینہ سے روانہ کرکے مدینہ والوں پر خاموشی سی طاری ہو گئی تھی اور وہ خاموشی کی زبان میں ہر کسی کے سینے سے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔یہ تھی وہ جنگی مہم جس کیلئے امیر المومنینؓ نے فیصلہ کیا تھاکہ اس کی کمان اور قیادت کیلئے خالدؓ سے بہتر کئی سالار نہیں۔ مدینہ کا یہ اٹھائیس ہزار کا لشکر پندرہ دنوں میں شام کی سرحدوں پر اپنے بتائے ہوئے مقامات پر پہنچ چکا تھا۔حمص میں شہنشاہ ہرقل کے محل میں وہی شان و شوکت تھی جو شہنشاہوں کے محلات میں ہوا کرتی تھی۔مدائن کے محل کی طرح حمص کے محل میں بھی حسین اور نوجوان لڑکیاں ملازم تھیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی تھیں، اور ایک ملکہ بھی تھی اور جس کی وہ ملکہ تھی اس کی ملکہ ہونے کی دعویدار چند ایک اور بھی تھیں۔شہنشاہ ہرقل کے دربار میں ایک ملزم پیش تھا ،اس کا جرم یہ تھا کہ وہ شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا، اس کا تعلق اس خاندان کے ساتھ تھا جوشہنشاہ کا نام سنتے ہی سجدے میں گر پڑتاتھا، یہ ملزم ان لوگوں میں سے تھا جو شہنشاہ کو روزی رساں سمجھا کرتے تھے۔

اس ملزم کا جرم یہ تھا کہ شاہی خاندان کی ایک شہزادی اس پر مر مٹی تھی۔ شہزادی غزال کے شکار کو گئی تھی، اور جنگل میں اسے کہیں یہ آدمی مل گیا تھا۔ شہزادی نے تیر سے ایک غزال کو معمولی سا زخمی کر دیا تھا، اور اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیا تھا، لیکن غزال معمولی زخمی تھا، وہ گھوڑے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز بھاگ رہا تھا۔اس ملزم نے دیکھ لیا، وہ گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اس نے غزال کے پیچھے گھوڑا دوڑادیا۔ غزال مڑتا تھا تو سوار رستہ چھوٹا کرکے اس کے قریب پہنچ جاتا تھا، وہ غزال کو اس طرف لے جاتا جدھر شہزادی رُکی کھڑی تھی۔شہزادی نے تین چار تیر چلائے۔ سب خطا گئے۔ اس جوان اور خوبرو آدمی نے گھوڑے کو ایسا موڑا کہ غزال کے راستے میں آگیا، اس نے برچھی تاک کر پھینکی جو غزال کے پہلو میں اتر گئی اور وہ گر پڑا۔شہزادی اپنا گھوڑا وہاں لے آئی تو یہ آدمی اپنے گھوڑے سے کود کر اترا اور شہزادی کے گھوڑے کے قدموں میں سجدہ ریز ہو گیا۔’’میں اگر شہزادی کے شکار کو شکار کرنے کا مجرم ہوں تو مجھے معاف کیا جائے۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑکر کہا۔’’لیکن میں غزال کو شہزادی کے سامنے لے آیا تھاکہ شہزادی اسے شکار کرے۔‘‘
’’تم شہسوار ہو۔‘‘ شہزادی نے مسکرا کر کہا۔’’کیا کام کرتے ہو؟‘‘’’ہر وہ کام کر لیتا ہوں جس سے دو وقت کی روٹی مل جائے۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’میں تجھے محل کے محافظوں میں شامل کروں گی۔‘‘رعایا کے اس ناچیز بندے میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انکار کرتا۔شہزادی اسے ساتھ لے آئی اور محافظوں میں رکھوادیا، اسے جب شاہی محافظوں کا لباس ملا اور جب وہ اس لباس میں شاہی اصطبل کے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کی مردانہ وجاہت نکھر آئی۔ وہ شہزادی کا منظورِ نظر بن گیا پھر شہزادی نے اسے اپنا دیوتا بنا لیا۔شہزادی کی شادی ہونے والی تھی لیکن اس نے اپنے منگیتر کے ساتھ بے رخی برتنا شروع کردی۔ منگیتر نے اپنے مخبروں سے کہا کہ وہ شہزادی کو دیکھتے رہا کریں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور اس کے پاس کون آتا ہے۔ایک رات شہزادی کے منگیتر کو اطلاع ملی کہ شہزادی شاہی محل کے باغ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ محل سے تھوڑی ہی دور ایک بڑی خوبصورت جگہ تھی۔وہاں چشمہ تھا اور سبزہ زار تھا۔ درخت تھے اور پھولدار پودوں کی باڑیں تھیں۔ چاندنی رات تھی۔ شہزادی اور اس کا منظورِنظر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ انہیں بھاری بھرکم قدموں کی دھمک سنائی دی ۔وہ شاہی محافظوں کے نرغے میں آگئے تھے۔

اس محافظ کو قید میں ڈال دیا گیا،شہنشاہ ہرقل کو صبح بتایا گیا اور محافظ کو زنجیروں میں باندھ کر دربار میں پیش کیا گیا۔اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ایک شہزادی کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ الزام دربار میں بلند آواز سے سنایا گیا۔’’شہنشاہِ ہرقل کی شہنشاہی ساری دنیا میں پھیلے!‘‘ملزم نے کہا۔’’شہزادی کو دربار میں بلا کر پوچھا جائے کہ میں نے گستاخی کی ہے یا محبت کی ہے……اور محبت میں نے نہیں شہزادی نے کی ہے۔‘‘’’لے جاؤ اسے!‘‘شہنشاہ ہرقل نے گرج کر کہا۔’’رَتھ کے پیچھے باندھ دو اور رتھ اس وقت تک دوڑتی رہے جب تک اس کا گوشت اس کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہوجاتا۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ملزم للکار کر بولا۔’’ تو ایک شہزادی کی محبت کا خون کر رہا ہے۔‘‘اُسے دربار سے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے اور اس کی پکار اور للکار سنائی دے رہی تھی……وہ رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔’’تیرا انجام قریب آرہا ہے ہرقل!‘‘وہ چلّاتا جارہا تھا۔’’اپنے آپ کو دیوتا نہ سمجھ ہرقل!ذلت اور رسوائی تیری طرف آرہی ہے۔‘‘محبت کے اس مجرم کو ایک رتھ کے پیچھے باندھ دیاگیا اور دو گھوڑوں کی رتھ دوڑ پڑی، محل سے شور اٹھا۔ ’’شہزادی نے پیٹ میں تلوار اتار لی ہے۔‘‘یہ خبر شہنشاہ ہرقل تک پہنچی تو اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔وہ تخت پر بیٹھا رہا،درباریوں پر سناٹا طاری تھا۔کچھ دیر بعد اٹھا اور اپنے خاص کمرے میں چلا گیا۔وہ سر جھکائے یوں کمرے میں ٹہل رہاتھا، ملکہ کمرے میں آئی،ہرقل نے اسے قہر کی نظروں سے دیکھا۔’’شگون اچھا نہیں۔‘‘ملکہ نے رُندھی ہوئی آواز میں کہا۔’’صبح ہی صبح دو خون ہو گئے ہیں۔‘‘’’یہاں سے چلی جاؤ۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’میں شاہی خاندان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘’’میں کچھ اور کہنے آئی ہوں۔‘‘ ملکہ نے کہا۔’’سرحد سے ایک عیسائی آیا ہے۔اس نے تمام رات سفر میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری ہے۔اسے کسی نے دربار میں داخل ہونے نہیں دیا۔ مجھے اطلاع ملی تو……‘‘’’وہ کیوں آیا ہے؟‘‘ہرقل نے جھنجھلا کر پوچھا۔’’کیا وہ سرحد سے کوئی خبر لایا ہے؟‘‘’’مسلمانوںکی فوجیں آرہی ہیں۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’اندر بھیجو اسے!‘‘ہرقل نے کہا۔ملکہ کے جانے کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی کمرے میں آیا۔اس کے کپڑوں پر اور چہرے پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی۔وہ سلام کیلئے جھکا۔’’تو نے محل تک آنے کی جرات کیسے کی؟‘‘ہرقل نے شاہانہ جلال سے پوچھا۔’’کیا تو یہ خبر کسی سالار یا ناظم کو نہیں دے سکتا تھا؟‘‘’’یہ جرم ہے تو مجھے بخش دیں۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’مجھے ڈر تھا کہ اس خبرکو کوئی سچ نہیں مانے گا۔‘‘

’’تو نے مسلمانوں کا لشکر کہاں دیکھا ہے؟‘‘’’حمص سے تین روز کے فاصلے پر۔‘‘اس نے جواب دیا۔یہ ایک عیسائی عرب تھا۔جس نے ابو عبیدہؓ بن الجراح کے دستوں کو شام سے کچھ دور دیکھ لیا تھا ۔

اسی شام دو اور جگہوں سے اطلاعیں آئیں کہ مسلمانوں کی فوج ان جگہوں پر پڑاؤڈالے ہوئے ہے ۔مسلمانوں کے لشکر کے چوتھے حصے کی اطلاع ابھی نہیں آئی تھی۔رات کو ہرقل نے اپنے جرنیلوں اور مشیروں کو بلایا۔’’کیا تمہیں معلوم ہے سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ہرقل نے پوچھا۔’’ مدینہ کی فوج تین جگہوں پر آگئی ہے۔اپنی کسی سرحدی چوکی نے کوئی اطلاع نہیں دی ۔کیا وہاں سب سوئے رہتے ہیں؟ کیا تم برداشت کر سکتے ہو کہ عرب کے چند ایک لٹیرے قبیلے تمہیں سرحدوں پر آکر للکاریں،کیا تم ان کے ایک سالار کو اپنی طاقت نہیں دکھا چکے۔وہ خوش قسمت تھا کہ نکل گیا اب وہ زیادہ تعداد میں آئے ہیں وہ مالِ غنیمت کے بھوکے ہیں۔ فوراً تیاری شروع کرو ان کا کوئی ایک آدمی اور کوئی گھوڑا یا اونٹ واپس نہ جائے ۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ شام کی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’آپ اتنے نا تجربہ کار تو نہیں جیسی آپ نے بات کی ہے۔ اگر یہ معاملہ کچھ اور ہوتا تو ہم آپ کی تائید کرتے لیکن یہ مسئلہ جنگی ہے آپ جانتے ہیں کہ شکست کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے سبق نہیں مشورہ چاہیے۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’وہ کیا ہے جو میں نہیں جانتا۔‘‘ ’’شہنشاہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسی بات نہ کریں۔ جس نے فارس کے شہنشاہ اردشیر کی جان لے لی تھی۔‘‘رومی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’اس کی جنگی طاقت ہماری ٹکر کی تھی۔آپ بھی اس فوج سے لڑ چکے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو بھی عراق پر فوج کشی کی جرات نہیں ہوئی۔ اب فراض کے میدان میں ہمیں مسلمانوں کے خلاف فارسیوں کو اتحادی بنانا پڑا اور ہم نے عیسائی قبیلوں کو ساتھ ملایا مگر خالد بن ولید ہمیں شکست دے گیا۔‘‘’’کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمیں مسلمانوں سے ڈرنا چاہیے؟‘‘ہرقل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’نہیں شہنشاہ ۔‘‘کمانڈر نے کہا۔’’اردشیر بھی مدائن میں بیٹھا ایسی ہی باتیں کیا کرتا تھا۔جیسی آپ حمص میں بیٹھے کر رہے ہیں۔میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ فارسیوں کاانجام دیکھیں ،مدائن کے محل اب بھی کھڑے ہیں لیکن مقبروں کی طرح۔ اردشیر نے پہلے پہل مسلمانوں کو عرب کے بدو اور ڈاکو کہا تھا۔میں نے فارسیوں کی شکست کی چھان بین پوری تفصیل سے کی ہے۔اردشیر کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے۔کچل دو۔ مگر اس کا جو بھی جرنیل مسلمانوں کے مقابلے کو گیا وہ چلا گیا۔مسلمان ان کے علاقوں پہ علاقہ فتح کرتے آئے حتیٰ کہ ان کے تیر مدائن میں گرنے لگے۔‘‘ ’’اور شہنشاہِ ہرقل! مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی جنون سے لڑتے ہیں۔ مالِ غنیمت کیلئے نہیں۔ہم زمین کیلئے لڑتے ہیں مسلمان جنگ کو ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔ہم ان کے عقیدے کو سچا سمجھیں یا نہ سمجھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔شہنشاہ کو اس پر بھی غور کرنا پڑ ے گا کہ مسلمان ہر میدان میں تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔وہ جذبے اور جنگی چالوں کے زور پر لڑتے ہیں۔

فراض میں ہم نے اپنے فارسیوں کی اور عیسائیوں کی نفری کو اتنا زیادہ پھیلا دیا تھا کہ مسلمانوں کی تھوڑی سی نفری ہمارے پھیلاؤمیں آکر گم ہو جاتی، لیکن مسلمانوں نے ایسی چال چلی کہ ہمارا پھیلاؤ سکڑ گیا اور ہم پِٹ کر رہ گئے۔‘‘دوسرے جرنیلوں نے بھی اسی طرح کے مشورے دیئے اور ہرقل قائل ہو گیاکہ مسلمانوں کو طاقت ور اور خطرناک دشمن سمجھ کر جنگ کی تیاری کی جائے۔’’لیکن میں اسے اپنی توہین سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو کچھ ہی سال پہلے وجود میں آئے ہیں، عظیم سلطنت روم کو للکاریں ۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’ہمارے پاس ہماری صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ رومیوں نے ساری دنیا پر دہشت طاری کیے رکھی ہے۔ ہمارا مذہب دیوتاؤں کا مذہب ہے۔ آسمانوں اور زمین پر ہمارے دیوتاؤں کی حکمرانی ہے۔ اسلام ایک انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے جس کے پھیل جانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔میں صرف یہ حکم دوں گاکہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اس طرح ختم کرو کہ اسلام کا نام لینے والا کوئی زندہ نہ رہے۔‘‘اگلے ہی روز ہرقل کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کے ساتھ رومی فوج کی ٹکر ہوئی ہے اور رومی فوج بڑی بری طرح پسپا ہوئی ہے۔یہ عمروؓ بن العاص کے دستے تھے جو تبوک سے آگے بڑھے تو رومی فوج کے کچھ دستے ان کی راہ میں حائل ہو گئے۔یہ شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھے۔جن کے ذمے سرحدوں کی دیکھ بھال کا کام تھا۔ عمروؓ بن العاص بڑے ہوشیار سالار تھے۔انہوں نے ایسی چال چلی کہ اپنے ہراول دستے کو دشمن سے ٹکر لینے کیلئے آگے بھیجا اور دشمن کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئے۔عمروؓ بن العاص ایلہ کے مقام پرپہنچ گئے ۔یزیدؓ بن ابی سفیان بھی اپنے دستوں کے ساتھ ان سے آملے۔ جوں ہی مدینہ کے لشکر کے یہ دونوں حصے اکھٹے ہوئے روم کی فوج ان کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آگئی۔مؤرخوں کے مطابق روم کی اس فوج کی نفری تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ مسلمانوں کی تھی۔اب دو مسلمان سالار اکٹھے ہو گئے تھے انہوں نے رومیوں کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لی۔ رومیوں نے جم کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن قدم جما نہ سکے اور پسپا ہو گئے۔
یزیدؓ بن ابی سفیان نے ایک سوار دستے کو ان کے تعاقب میں بھیج دیا۔ رومیوں پر کچھ ایسی دہشت طاری ہو گئی تھی کہ وہ سوائے کٹ کٹ کر مرنے کہ اور کچھ بھی نہ کر سکے۔شہنشاہ ہرقل کو جب اپنے دستوں کی اس پسپائی کی اطلاع ملی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کو ایک بار پھر بلایا اور حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرکے شام کی سرحد کے باہر کسی جگہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور انہیں وہیں ختم کیا جائے۔

مسلمان سالاروں نے ان جگہوں سے جہاں وہ پڑاؤڈالے ہوئے تھے، چند آدمیوں کو اپنے زیرِ اثر لے لیا،اور انہیں بے انداز انعام و اکرام کا لالچ دیا جس کے عوض وہ مسلمانوں کیلئے جاسوسی کرنے پر آمادہ ہو گئے۔چند دنوں میں ہی وہ مطلوبہ خبریں لے آئے۔ ان کی رپورٹوں کے مطابق رومی جو فوج اکٹھی کر رہے تھے اس کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ اس فوج کا ایک حصہ اجنادین کی طرف کوچ کر رہا تھا جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ رومی فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہو کر آرہے ہیں۔جاسوسوں نے تیاریوں کی پوری تفصیل بیان کی۔ ابو عبیدہؓ بن الجراح کو امیر المومنینؓ نے یہ حکم دیا تھا کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھے لڑنا پڑا تو وہ یعنی ابو عبیدہؓ پورے لشکر کے سالارہوں گے ۔صورت ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھا ہونا پڑا۔ابو عبیدہؓ نے پورے لشکر کی کمان لے لی، لیکن لشکر کو مکمل طور پر ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے امیرالمومنینؓ کو تیز رفتار قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا جس میں مکمل صورتِ حال لکھی اور یہ بھی کہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گی۔یہ تھے وہ حالات جن کے پیشِ نظر امیر المومنینؓ نے خا لدؓ کو حکم بھیجا تھا کہ وہ شام کی سرحد پر اس جگہ پہنچیں جہاں مدینہ کا لشکر خیمہ زن ہے۔اس حکم میں یہ بھی لکھاتھا کہ اپنا لشکر کچھ مشکلات میں الجھ گیا ہے ۔اس پیغام نے خالدؓ کو پریشان کر دیا تھا۔ یہ سنایا جا چکا تھا کہ انہوں نے امیر المومنینؓ کے حکم کے مطابق اپنے لشکر کو دو حصو ں میں تقسیم کیا، ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے حوالے کر دیا۔خالدؓنے فوج کو فوری کوچ کا حکم دے دیا۔انہوں نے جب فاصلے کا اندازہ کیا، تو وہ اتنا زیادہ تھا کہ خالدؓ کو وہاں پہنچتے بہت دن لگ جاتے ۔انہیں ڈر تھاکہ اتنے دن ضائع ہو گئے تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رومیوں کی فوج فارسیوں کی نسبت زیادہ طاقتور اور برتر ہے۔خالدؓان راستوں سے واقف تھے۔ سیدھا اور آسان راستہ بہت طویل تھا۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں بتایاکہ بہت جلد پہنچنے کیلئے انہیں کوئی راستہ معلوم نہیں۔سالارو ں میں سے کسی کو چھوٹا راستہ معلوم نہیں تھا۔

’’ اگر کوئی راستہ چھوٹا ہوا بھی تو وہ سفرکے قابل نہیں ہوگا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اگر کسی ایسے راستے سے ایک دو مسافر گزرتے بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ راستہ ایک لشکر کیلئے گزرنے کے قابل ہو۔‘‘’’میں ایک آدمی کو جانتا ہوں ۔‘‘ایک اور سالار بولا۔’’ رافع بن عمیرہ۔ وہ ہمارے قبیلے کا زبردست جنگجو ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ خد انے اسے کوئی ایسی طاقت دی ہے کہ وہ زمین کے نیچے کے بھید بھی بتا دیتا ہے۔ وہ اس صحرا کا بھیدی ہے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے رافع بن عمیرہ کو بلایا گیااور اس سے منزل بتا کر پوچھاگیا کہ چھوٹے سے چھوٹا راستہ کوئی ہے؟
’’زمین ہے تو راستے بھی ہیں۔‘‘رافع نے کہا۔’’یہ مسافر کی ہمت پر منحصر ہے کہ وہ ہر راستے پر چل سکتاہے یا نہیں۔تم منزل تک کسی بھی راستے سے پہنچ سکتے ہو لیکن بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر سانپ بھی نہیں رینگ سکتا۔ میں ایک راستہ بتا سکتا ہوں ، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس سے لشکر کے کتنے آدمی منزل تک زندہ پہنیں گے اور میں یہ بھی بتا سکتاہوں کہ گھوڑا اس صحرائی راستے سے نہیں گزر سکتا، گھوڑا اتنی پیاس برداشت نہیں کر سکتا، اور گھوڑوں کیلئے پانی ساتھ لے جایا نہیں جا سکتا۔‘‘ خالدؓنے اپنا بنایا ہوا نقشہ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ وہ کون سا راستہ بتا رہا ہے؟’’یہ قراقر ہے۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے نقشہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔’’یہاں ایک نخلستان ہے جو اتنا سر سبز و شاداب ہے کہ مسافروں پر اپنا جادو طاری کر دیتا ہے ،یہاں سے ایک راستہ نکلتاہے جو سویٰ کو جاتاہے۔ سویٰ میں پانی اتنا زیادہ ہے کہ سارا لشکر اور لشکر کے تمام جانور پانی پی سکتے ہیں لیکن یہ پانی اسے ملے گا جو سویٰ تک زندہ پہنچ جائے گا۔ اوپر سورج کی تپش دیکھو دن کو کتناچل سکو گے ، کتنی دور تک چل سکو گے؟یہ میں نہیں جانتا، اتنے اونٹ لاؤ کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو۔ ابنِ ولید! تم صحرا کے بیٹے ہو مگر اس صحرا سے نہیں گزر سکو گے۔‘‘رافع بن عمیرہ نے جو راستہ بتایا یہ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق اک سو بیس میل تھا، یہ ایک سو بیس میل کا فاصلہ طے کرنے سے منزل تک کئی دن جلدی پہنچا جا سکتا تھا۔خالدؓ وہ سالار تھے جو مشکلات کی تفصیلات سن کر نہیں بلکہ مشکلات میں پڑ کر اندازہ کیا کرتے تھے کہ ان کی شدت کتنی کچھ ہے ، ان کے دماغ میں صرف یہ سمایا ہوا تھا کہ مدینہ کا لشکر مشکل میں ہے، اور اس کی مدد کو پہنچنا ہے ، سیدھے راستے سے فاصلہ چھ سے سات سو میل تک بنتا تھا۔ رافع کے بتائے ہوئے راستے سے جانے سے فاصلہ کم رہ جاتا تھا۔مگر رافع بتاتا تھا کہ اس خطرناک راستے سے جاؤ تو پانچ چھ دن ایسی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے جو انسان کیا برداشت کرے گا گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پانی تو مل ہی نہیں سکتا، اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ مہینہ مئی کاتھا، جب ریگستان جل رہے ہوتے ہیں۔

’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ایک سالار نے کہا۔’’تو اتنے بڑے لشکر کو اس راستے پر نہیں لیجائے گا۔جو تباہی کا اور بہت بری موت کا رستہ ہوگا۔‘‘
’’اور جس کا دماغ صحیح ہو گا وہ اس راستے پر نہیں جائے گا۔‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’ہم اسی راستے سے جائیں گے۔‘‘خالدؓنے ایسی مسکراہٹ سے کہا،جس میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
’’ہم پر فرض ہے کہ تیری اطاعت کریں۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’لیکن ایک بار پھر سوچ لو۔‘‘’’میں وہ حکم دیتا ہوں جو حکم اﷲمجھے ددیتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہارتے وہ ہیں جن کے ارادے کمزور ہوتے ہیں، اﷲکی خوشنودی ہمیں حاصل ہے اور پھر اﷲکی راہ میں جو مصیبتیں آئیں گی ہم کیوں نہ انہیں بھی برداشت کریں ۔‘‘یہ واقعہ اور یہ گفتگو طبری نے ذرا تفصیل سے بیان کی ہے، خالدؓ کے سالاروں نے ان کے عزم کی یہ پختگی دیکھی تو سب نے پر جوش لہجے میں لبیک کہی، ان میں سے کسی نے کہا۔’’ ابنِ ولید تجھ پر اﷲکا کرم! وہ کر جو تو بہہتر سمجھتا ہے۔ ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘خالدؓنے اس سفر پر روانگی سے پہلے ایک حکم یہ دیا کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو گا۔ گھوڑے سواروں کے بغیر پیچھے پیچھے چلیں گے۔ دوسرا حکم یہ کہ عورتوں اور بچوں کو مدینہ بھیج دیا جائے۔ سالاروں کو خالدؓ نے کہا تھا کہ تمام لشکر کو اچھی طرح بتا دیں کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس راستے پر پہلے کبھی کوئی لشکر نہیں گزرا۔ ہر کسی کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے۔‘‘مئی کا مہینہ اونٹوں کی فراہمی میں گزر گیا۔ جون ۶۳۴ء )ربیع الآخر ۱۳ھ( کا مہینہ شروع ہو گیا۔اب تو صحرا جل رہا تھا۔خالدؓ نے کوچ کا حکم دے دیا۔ان کے ساتھ نو ہزار مجاہدین تھے جو اس خود کُش سفر پر جا رہے تھے۔قراقر تک سفر ویسا ہی تھا جیسا اس لشکر کا ہر سفر ہوا کرتا تھا۔وہ سفر قراقر سے شروع ہونا تھاجسے مسلمان مؤرخوں نے اور یورپی مؤرخوں نے بھی تاریخ کا سب سے خطرناک اور بھیانک سفر کہا ہے۔مثنیٰ بن حارثہ قراقرتک خالدؓ کے ساتھ گئے۔مثنیٰ کو حیرہ واپس آنا تھا۔قراقر سے جس قدر پانی ساتھ لے جایا جا سکتا تھا مشکیزوں میں بھر لیا گیا۔مٹکے بھی اکٹھے کر لیے گئے تھے۔ان میں بھی پانی بھر لیا گیا۔اگلی صبح جب لشکر روانہ ہونے لگا تو مثنیٰ بن حارثہ خالدؓسے اور اس کے سالاروں سے گلے لگ کے ملے۔یعقوبی اور ابنِ یوسف نے لکھا ہے کہ مثنیٰ بن حارثہ پر رقت طاری ہو گئی تھی۔ان کے منہ سے کوئی دعا نہ نکلی، آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ دعائیں ان کے دل میں تھیں۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ خالدؓ کو اور ان کے نو ہزار مجاہدین کوپھر کبھی دیکھ سکیں گے۔
خالدؓ اونٹ پر سوار ہونے لگے تو رافع بن عمیرہ دوڑتا آیا۔’’ابنِ ولید!‘‘رافع نے خالدؓ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اب بھی سوچ لے، رستہ بدل لے، اتنی جانوں سے مت کھیل!‘‘’’ابنِ عمیرہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’اﷲتجھے غارت کرے، مجھے اﷲکی راہ سے مت روک یا مجھے وہ رستہ بتا جو مدینہ کے لشکر تک جلدی پہنچا دے۔ تو نہیں جانتا، توہٹ میرے سامنے سے، اور حکم مان جو میں نے دیا ہے۔‘‘رافع خالدؓ کے آگے سے ہٹ گیا۔خالدؓ اونٹ پر سوار ہوئے اور لشکر چل پڑا۔سب سے آگے رافع کا اونٹ تھا اسے رہبری کرنی تھی۔
مثنیٰ کھڑے دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔’’ امیر المومنین نے ٹھیک کہا تھا کہ اب کوئی ماں خالدجیسا بیٹا پیدا نہیں کرے گی۔

*جاری ہے*

بقیہ اگلی قسط نمبر 37
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا