Saturday, October 16, 2021

شمشیرِ بے نیام* *(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* *( قسط نمبر -7)*

*شمشیرِ بے نیام* 


*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*


*( قسط نمبر -7)*


مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ اس کیفیت میں کہ شہر میں خوراک کاکوئی ذخیرہ نہ تھا، لوگوں کو روزانہ نصف خوراک دی جا رہی تھی۔ منافقین اور یہودی تخریب کار درپردہ حرکت میں آ گئکوئی بھی نہ جان سکا کہ یہ آواز کہاں سے اٹھی ہے لیکن یہ آواز سارے شہر میں پھیل گئی۔’’ محمد ہمیں کیسی بری موت مروانے کا بندوبست کر رہا ہے ۔ایک طرف وہ کہتا ہے کہ بہت جلد قیصروکسریٰ کے خزانے ہمارے قدموں میں پڑے ہوں گے، دوسری طرف ہم نے اس کی نبوت کا یہ اثر بھی نہ دیکھا کہ آسمان سے ہمارے لیے خوراک اترے۔‘‘لوگوں نے اسلام تو قبول کرلیا تھا لیکن وہ گوشت پوست کے انسان تھے۔ وہ پیٹ کی آوازوں سے متاثر ہونے لگے ۔آخر ایک آواز نے انہیں پیٹ کے بھوت سے آزادی دلا دی۔ ’’کیا تم خدا سے یہ کہو گے کہ ہم نے اپنے پیٹ کو خدا سے زیادہ مقدس جانا تھا؟‘‘یہ ایک رعد کی کڑک کی طرح آواز تھی جو مدینہ کے گلی کوچوں میں سنائی دینے لگی ۔’’آج خدا کو وہ لوگ عزیز ہوں گے جو اس کے رسولﷺ کے ساتھ بھوکے اورپیاسے جانیں دے دیں گے۔ خدا کی قسم! اس سے بڑی بزدلی اور بے غیرتی مدینہ والوں کیلئے اور کیا ہو گی کہ ہم اہلِ مکہ کے قدموں میں جا گریں اورکہیں کہ ہم تمہارے غلام ہیں ہمیں کچھ کھانے کو دو۔‘‘رسول ِاکرمﷺ شہرکے دفاع میں اس قدر سر گرم تھے کہ آپﷺ کیلئے دن اور رات ایک ہو گئے تھے ۔آپﷺ اﷲ کے محبوب نبیﷺ تھے ۔آپ چاہتے تو معجزے بھی رونما ہو سکتے تھے لیکن آپ ﷺ کو احساس تھا کہ ہر آدمی پیغمبر اور رسول نہیں،نہ کوئی انسان آپﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا درجہ حاصل کر سکے گا اس لیے آپﷺ ان انسانوں کیلئے یہ مثا ل قائم کر رہے تھے کہ انسان اپنی ان لازوال جسمانی اور نفسیاتی قوتوں کو جو خداوند تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہیں، استقلا ل اور ثابت قدمی سے استعمال کرے تو وہ معجزہ نماکارنامے انجا م دے


سکتا ہے۔

محاصرے کے دوران آپﷺ کی سرگرمیاں اور آپﷺ کی حالت ایک سالار کے علاوہ ایک سپاہی کی بھی تھی۔ آپﷺ کو اس کیفیت اور اس سرگرمی میں دیکھ کر مسلمان بھوک اور پیاس کو بھول گئے اور ان میں ایساجوش پیدا ہو گیا کہ ان میں بعض خندق کے قریب چلے جاتے او ر قریش کو بزدلی کے طعنے دیتے۔وہ سات مارچ ۶۲۷ء کا دن تھا۔جب ابو سفیان نے پریشان ہو کر کہا کہ۔’’ حیُّ بن اخطب کو بلاؤ ۔‘‘ا سکی پریشانی کا باعث یہ تھا کہ دس دنوں میں ہی اس کے لشکر کی خوراک کا ذخیرہ بہت کم رہ گیا تھا۔ سپاہیوں نے قرب و جوار کی بستیوں میں لوٹ مار کر کہ کچھ خوراک تو حاصل کر لی تھی لیکن اس ریگزار میں لوگوں کے گھروں میں بھی خوراک کا کوئی ذخیرہ نہیں ہوتا تھا۔ قریش کے لشکر میں بددلی پھیلنے لگی ۔اپنے لشکر کے جذبے کو یوں ٹھنڈا پڑتے دیکھ کر اس نے یہودیوں کے ایک قبیلے کے سردار کو حیُّ بن اخطب کو بلایا جو قریش کی زمین دوز مدد کیلئے لشکر کے قریب ہی کہیں موجود تھا ۔وہ تو اس انتظار میں تھا کہ اہلِ قریش اسے بلائیں اور ا س سے مدد مانگیں ۔مدینہ سے کچھ ہی دور یہودیوں کے ایک قبیلے بنو قریظہ کی بستی تھی۔ اس قبیلے کا سردار کعب بن اسد اس بستی میں رہتا تھا ۔اس رات جب وہ گہری نیندسویا ہوا تھا۔دروازے پر بڑی زورکی دستک سے اس کی آنکھ کھل گئی۔اس نے اپنے غلام کو آواز دے کر کہا۔’’ دیکھو باہر کون ہے؟‘‘’’حیُّ بن اخطب آیا ہے۔‘‘غلام نے کہا۔’’رات کے اس وقت وہ اپنے ہی کسی مطلب سے آیا ہوگا۔‘‘کعب بن اسد نے غصیلی آواز میں کہا۔’’اسے کہو کہ میں اس وقت تمہارا کوئی مطلب پورا نہیں کر سکتا،دن کے وقت آنا۔‘‘بنو قریظہ یہودیوں کا وہ قبیلہ تھا جس نے مسلمانوں کے ساتھ دوستی کا اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا تھا۔اس معاہدے میں یہودیوں کے دوسرے دو قبیلے۔بنو قینقاع اور بنو نضیر۔بھی شامل تھے لیکن ان دونوں قبیلوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اور مسلمانوں نے انہیں وہ سزا دی تھی کہ وہ لوگ شام کی طرف بھاگ گئے تھے۔صرف بنو قریظہ تھا جس نے معاہدے کو برقرار رکھا اور اس کا احترام کیا۔مسلمان جنگ ِخندق میں اس قبیلے کی طرف سے ذرا سا بھی خطرہ محسوس نہیں کر رہے تھے۔حیُّ بن اخطب بھی یہودی تھا۔ وہ کعب بن اسد کو اپنا ہم مذہب بھائی سمجھ کر اس کے پاس گیا تھا۔وہ کعب بن اسد کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا چاہتا تھا اس لیے وہ غلام کے کہنے پر بھی وہاں سے نہ ہٹا ۔کعب بن اسد نے پریشان ہو کر اسے اندر بلا لیا۔’’میں جانتا ہوں تم اس وقت میرے پاس کیوں آئے ہو؟‘‘کعب بن اسد نے حیُّ سے کہا۔’’اگر تم ابو سفیان کے کہنے پر آئے ہو تو اسے کہہ دو کہ ہم نے مسلمانوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس پر مسلمان پوری دیانتداری سے قائم ہیں۔ وہ ہمیں اپنا حلیف سمجھتے ہیں اور انہوں نے ہمیں پورے حقوق دے رکھے ہیں۔‘‘

’’کعب بن اسد! ہوش میں آ!‘‘حیُّ بن اخطب نے کہا۔’’بنو قینقاع اور بنو نضیر کا انجام دیکھ لے۔مسلمانوں کی شکست مجھے صاف نظر آ رہی ہے خدائے یہودہ کی قسم!دس ہزار کا لشکر مسلمانوں کو کچل ڈالے گا۔پھر یہ مسلمان تم پر ٹوٹ پڑیں گے کہ یہودیوں نے انہیں شکست دلائی ہے۔‘‘’’تم چاہتے کیا ہو حیُّ؟‘‘کعب بن اسد نے پوچھا۔’’قریش کے لشکر کا ایک حصہ پہاڑوں کے پیچھے سے تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔‘‘حیُّ نے کہا۔’’تمہاری موجودگی میں یہ سپاہی مسلمانوں پر عقب سے حملہ نہیں کر سکتے ۔تم اپنے قبیلے سمیت قریش سے مل جاؤاور مسلمانوں پر اس طرح سے حملہ کرو کہ تمہیں جم کر نہ لڑنا پڑے،بلکہ ضرب لگا کر پیچھے ہٹ آؤ۔اس سے قریش کو یہ فائدہ ہو گا کہ مسلمانوں کی توجہ خندق سے ہٹ جائے گی اور قریش کا لشکر خندق کو عبور کرلے گا۔‘‘’’اگر میں تمہاری بات مان لوں اور ہمارا حملہ وہ کام نہ کر سکے جو تم چاہتے ہو تو جانتے ہو مسلمان ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’تم مسلمانوں کے قہر و غضب سے واقف ہو۔کیا بنو قینقاع اور بنو نضیر کا کوئی ایک بھی یہودی تمہیں یہاں نظر آتاہے۔‘‘’’ابو سفیان نے سب کچھ سوچ کر تمہیں معاہدے کی دعوت دی ہے۔‘‘حیُّ بن اخطب نے کہا۔’’اگر مسلمانوں کا قہر و غضب تم پر گرنے لگا تو قریش کے لشکر کا ایک حصہ تمہارے قبیلے کی حفاظت کیلئے شیخین اور لاوا کی پہاڑیوں میں موجود رہے گا۔وہ شب ِ خون مارنے والے تجربہ کارسپاہیوں کالشکر ہو گا جو مسلمانوں کو تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی مہلت نہیں دیں گے۔‘‘’’تم مجھے اتنے بڑے خطرے میں ڈال رہے ہو جو میرے پورے قبیلے کو تباہ کر دے گا۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’تمہارا قبیلہ تباہ ہو یا نہ ہو، اہلِ قریش اتنی قیمت دیں گے جو تم نے کبھی سوچی بھی نہ ہو گی۔‘‘حیُّ نے کہا۔’’یا اپنے تعاون کی قیمت خود بتا دو۔جو کہو گے،جس شکل میں مانگو گے تمہیں قیمت مل جائے گی،اور تمہارے قبیلے کو پورا تحفظ ملے گا۔مسلمان اگلے چند دنوں میں نیست و نابود ہو جائیں گے۔تم اس کا ساتھ دو۔ جو زندہ رہے گا اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہو گی۔‘‘

کعب بن اسد آخر یہودی تھا۔اس نے زروجواہرات کے لالچ میں آ کر حیُّ بن اخطب کی بات مان لی۔


’’قریش کا کوئی سپاہی ہماری بستی کے قریب نہ آئے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔مسلمانوں پر میرا قبیلہ شب خون مارتا رہے گا۔ یہ کام رات کی تاریکی میں کیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کو پتہ ہی نہ چل سکے کہ شبخون مارنے والے بنو قریظہ کے آدمی ہیں……اور حیُّ۔‘‘کعب نے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ میں یہاں اکیلا پڑا ہوں۔ میری راتیں تنہائی میں گزر رہی ہیں۔‘‘’’آج کی رات تنہا گزارو۔‘‘حُیّ نے کہا۔’’کل تم تنہا نہیں ہو گے۔‘‘’’مجھے دس دنوں کی مہلت ملنی چاہیے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’مجھے اپنے قبیلے کو تیار کرنا ہے۔‘‘قریش اور بنو قریظہ کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔’’سعد بن عتیق‘‘ معمولی قسم کا ایک جوان تھا جس کی مدینہ میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ خنجر اور تلواریں تیز کرنے کا کام کرتا تھا ۔اس میں یہ خوبی تھی کہ خدا نے اسے آواز پر سوز اور سریلی دی تھی اور وہ شہسوار تھا۔راتوں کو کسی محفل میں اس کی آواز سنائی دیتی تھی تو لوگ باہر آ کر اس کا گانا سنا کرتے تھے۔کبھی رات کو وہ شہر سے باہر چلا جاتا اور اپنی ترنگ میں گایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ایک رات وہ پُر سوز لَے میں شہر سے دور کہیں گا رہا تھا کہ ایک بڑی خوبصورت اور جوان لڑکی اس کے سامنے یوں آن کھڑی ہوئی جیسے کوئی جن یا چڑیل انسان کے حسین روپ میں آ گئی ہو۔سعد گھبرا کر خاموش ہو گیا۔’’اس آواز سے مجھے محروم نہ کر جو مجھے گھر سے نکال لائی ہے۔‘‘ لڑکی نے کہا۔’’ مجھے دیکھ کے تو خاموش ہو گیا ہے تو میں دور چلی جاتی ہوں۔ اپنے نغمے کا خون نہ کر۔تیری آواز میں ایسا سوز ہے جیسے تو کسی کے فراق میں نغمہ سرا ہے۔‘‘’’کون ہے تو؟‘‘سعد نے کہا۔’’ اگر تو جنات میں سے ہے تو بتا دے۔‘‘لڑکی کی جل ترنگ جیسے ہنسی سنائی دی۔صحرا کی شفاف چاندنی میں اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمک رہی تھیں۔’’میں بنو قریظہ کی ایک یہودی کی بیٹی ہوں۔‘‘’’اور میں مسلمان ہوں۔‘‘’’مذہب کو درمیان میں نہ لا۔‘‘یہودن نے کہا۔’’نغموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔میں تیرے لیے نہیں تیرے نغمے اور تیری آواز کیلئے آئی ہوں۔‘‘سعد دوبارہ اپنی دھن میں گنگنانے لگا۔ایک روز یہودن نے اسے کہا کہ سعد قبول کرے تو وہ اس کے پاس آ جائے گی اور اسلام قبول کرلے گی۔دو تین روز ہی گزرے تھے کہ مدینہ کا محاصرہ آ گیا۔سعد بن عتیق کا کام بڑھ گیا ۔اس کے پاس تلواریں خنجر اور برچھیوں کی انّیاں تیز کروانے والوں کا ہجوم رہنے لگا۔وہ راتوں کو بھی کام کرتا تھا۔ایک روز یہ یہودن اپنے باپ کی تلوار اٹھائے اس کے پاس آئی۔

’’تلوار تیز کرانے کے بہانے آئی ہوں۔‘‘یہودن نے کہا۔’’آج ہی رات یہاں سے نکلو ورنہ ہم کبھی نہ مل سکیں گے۔‘‘’’کیا ہو گیا ہے؟‘‘’’پرسوں شام میرے باپ نے مجھے کہا کہ قبیلے کے سردار کعب بن اسد کو میری ضرورت ہے ۔‘‘یہودن نے بتایا۔’’باپ نے حُیّ بن خطب کا نام بھی لیا تھا۔ میں کعب کے گھر چلی گئی۔وہاں حُیّ کے علاوہ دو اور آدمی بیٹھے ہوئے تھے ،وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ مسلمانوں کے آخری دن آ گئے ہیں۔‘‘کعب بن اسد، حُیّ بن اخطب اور قریش کے درمیان اس لڑکی کی موجودگی میں معاہدہ ہوااور مسلمانوں پر عقب سے حملوں کا منصوبہ طے ہوا۔اس یہودن کو رات بھر کعب کے پا س گزارنی پڑی۔صبح وہ اپنے گھر آگئی۔اسے مسلمانوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ تھی ۔اس کی دلچسپیاں سعد کے ساتھ تھیں۔اس کے کانوں میں یہ بات بھی پڑی تھی کہ کعب اسے بیوی یا داشتہ کی حیثیت سے اپنے پاس رکھ لے گا۔سعد بن عتیق اس یہودن کی محبت کو تو بھول ہی گیا ۔اس نے یہودن کو گھر بھیج دیا اور ایک بزرگ مسلمان کو بتایا کہ کعب بن اسد نے حُیّ کے کہنے پہ قریش کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے ۔اس بزرگ نے یہ اطلاع اوپر پہنچا دی ۔رسولِ اکرمﷺ کو بتایا گیا کہ بنو قریظہ نے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی طرح اپنا معاہدہ توڑ دیا ہے ۔آپﷺ نے کعب بن اسد کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے پہلے یہ یقین کر لینا ضروری سمجھا کہ بنو قریظہ نے واقعی قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔اﷲ اپنے نام لیوا بندوں کی مدد کرتا ہے۔اس کے فوراً بعد ایک ایساواقعہ ہو گیا کہ جس سے تصدیق ہو گئی کہ بنو قریظہ اور قریش کے درمیان بڑا خطرناک معاہدہ ہوا ہے۔واقعہ یوں ہوا۔عورتوں اور بچوں کو شہر کے ان مکانوں اورچھوٹے چھوٹے قلعوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جو خندق سے دو ر تھے۔ایک ایسے ہی قلعے میں رسول اکرمﷺ کی پھوپھی صفیہؓ چند ایک عورتوں اور بہت سے بچوں کے ساتھ مقیم تھیں۔ایک روز صفیہؓ قلعے کی فصیل پر گھوم پھر رہی تھیں کہ انہوں نے نیچے دیکھا۔ایک آدمی دیوار کے ساتھ ساتھ مشکوک سی چال چلتا جارہا تھا۔وہ کہیں رکتا،دیوار کو دیکھتا اور آگے چل پڑتا۔صفیہؓ اسے چھپ کر دیکھنے لگیں۔صاف پتا چلتا تھا کہ یہ آدمی قلعہ کے اندر آنے کا کوئی راستہ یا ذریعہ دیکھ رہاہے۔صفیہؓ کو اس وجہ سے بھی اس آدمی پر شک ہوا کہ شہر کے تمام آدمی خندق کے قریب مورچہ بند تھے

 یا جنگ کے کسی اور کام میں مصروف تھے۔اگر یہ کوئی اپنا آدمی ہوتااور کسی کام سے آیا ہوتا تو دروازے پر دستک دیتا۔

قلعے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ صرف ایک مرد تھا ۔یہ تھے عرب کے مشہور شاعر’’ حسان ؓبن ثابت‘‘۔صفیہ ؓنے حسان ؓسے کہا کہ نیچے ایک آدمی مشکوک انداز سے دیوار کے ساتھ ساتھ جارہا ہے۔’’مجھے شک ہے کہ وہ یہودی ہے۔‘‘صفیہؓ نے حسانؓ سے کہا۔’’تم جانتے ہو حسان! بنو قریظہ نے دوستی کا معاہدہ توڑ دیا ہے۔یہ شخص مجھے یہودیوں کا مخبر معلو ہوتا ہے ۔بنو قریظہ ہم پر عقب سے حملہ کریں گے تاکہ ہمارے مردوں کی توجہ خندق کی طرف سے ہٹ جائے اور وہ پیچھے آ جائیں۔یہودیوں کے پاس ہمارے مردوں کو مورچوں سے نکال کر پیچھے لانے کا یہ طریقہ کارآمد ہو گاکہ وہ ان قلعوں پر حملے شروع کر دیں جن میں عورتیں اور بچے ہیں۔نیچے جاؤ حسان!اﷲ تمہارا نگہبان ہو،اس شخص کو للکارو۔اگر وہ واقعی یہودی ہو تو اسے قتل کر دو۔خیال رکھنا کہ اس کے ہاتھ میں برچھی ہے اور اس کے چغے کے اندر تلوار بھی ہوگی۔‘‘’’اے عظیم خاتون! ‘‘حسانؓ شاعر نے کہا۔’’کیا آپ نہیں جانتیں کہ میں بیمار ہوں اگر مُجھ میں ذرا سی طاقت بھی ہوتی تو اس وقت میں میدان جنگ میں ہوتا۔‘‘مؤرخ ابن ہشام اور ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ عرب کے عظیم شاعر کا یہ جواب سن کر رسول ِاکرمﷺ کی پھوپھی صفیہؓ خود اس مشکوک آدمی کو پکڑنے یا مارنے کیلئے چل پڑیں۔لیکن یہ نہ دیکھاکہ ایک مسلّح مرد کے مقابلے میں جاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں کون سا ہتھیار ہے۔

محمد یحیٰ سندھو

+971551707391

وہ جلدی میں جو ہتھیار لے کر گئیں وہ برچھی نہیں تھی،تلوار نہیں تھی،وہ ایک ڈنڈہ تھا۔صفیہؓ دوڑتی ہوئی باہر نکلیں اور اس مشکوک آدمی کے پیچھے جا رکیں۔جودیوار کے ساتھ کھڑا اوپر دیکھ رہا تھا۔’’کون ہے تو؟‘‘صفیہؓ انے اسے للکارا۔مشکوک آدمی نے بدک کر پیچھے دیکھا۔اگر وہ کسی غلط نیت سے نہ آیا ہوتا تو اس کا انداز کچھ اور ہوتا۔مگر اس نے برچھی تان لی۔صفیہؓ نے اس کا چہرہ دیکھا تو کوئی شک نہ رہا وہ یہودی تھااور وہ بنو قریظہ کا ہی ہو سکتا تھا۔اسے یقین تھا کہ ایک عورت ،وہ بھی ایک ڈنڈے سے مسلّح، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔’’تجھ پر خدا کی لعنت!‘‘صفیہؓ نے للکار کر کہا۔’’کیا تو بنو قریظہ کا مخبر نہیں ہے؟‘‘’’محمد)ﷺ( کی پھوپھی !یہاں سے چلی جا۔‘‘یہودی نے کہا۔’’کیا تو میرے ہاتھوں مرنے آئی ہے۔ہاں میں بنو قریظہ کا آدمی ہوں۔‘‘’’پھر تو یہاں سے زندہ نہیں جائے گا۔‘‘


یہودی نے قہقہہ لگایا اور بڑھ کر برچھی ماری۔جس تیزی سے برچھی آئی تھی ،اس سے زیادہ تیزی سے صفیہؓ ایک طرف ہو گئیں۔یہودی کا وار خالی گیا تو وہ سنبھل نہ سکا۔وہ آگے کو جھکا اور اپنے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک نہ سکا۔صفیہؓ نے پوری طاقت سے اس کے سر پر ڈنڈامارا۔ایک عورت کے بازو میں خدا کا قہر آگیاتھا۔یہودی رُک کر سیدھا ہوا لیکن اس کا سر ڈولنے لگا۔صفیہؓ نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا اوراس کے سر پر پہلے سے زیادہ زور سے ڈنڈا مارا۔اب یہودی کھڑا نہ رہ سکا۔اس کے ہاتھ سے برچھی گری پھر اسکے گھٹنے زمین سے لگے،صفیہؓ نے اس کے سر پر ،جس سے خون بہہ بہہ کر اس کے کپڑوں کو لال کر رہا تھا ایک اور ڈنڈہ مارا ،وہ جب بے ہوش ہو کر لڑھک گیا تو صفیہؓ اس کے سر پر ہی ڈنڈے مارتی چلی گئیں،جیسے زہریلے ناگ کا سر کچل رہی ہوں۔صفیہؓ نے اس وقت ہاتھ روکا جب یہودی کی کھوپڑی کچلی گئی اور اس کا جسم بے حس ہو گیا،صفیہ ؓ قلعہ میں چلی گئیں۔’’حسان! ‘‘صفیہؓ نے اپنے شاعر حسان ؓسے کہا۔’’میں وہ کام کر آئی ہوں جو تمہیں کرنا تھا ۔اب جاؤ اور اس یہودی کے ہتھیار اٹھالاؤ اور اس کے کپڑوں کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی لے آؤ۔میں عورت ہوں کسی مرد کے کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈالنا ایک عورت کیلئے مناسب نہیں۔چاہو تو یہ مالِ غنیمت تم لے سکتے ہو ،مجھے اس کی ضرورت نہیں۔‘‘’’اﷲ آپ کی عصمت و عفت کی حفاظت کرے! ‘‘حسانؓ نے شاعروں کی مسکراہٹ سے کہا۔’’مالِ غنیمت کی ضرورت مجھے بھی نہیں ہے ۔اور میں اپنے اندر اتنی توانائی محسوس نہیں کرتا کہ یہ کام انجام دے سکوں‘‘۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ خبر رسولِ کریمﷺ تک پہنچی تو آپﷺ کو پریشانی ہوئی، شہر میں خوراک کی کیفیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہر فرد کو اس کی اصل ضرورت کی صرف ایک چوتھائی خوراک ملتی تھی۔رسولِ کریمﷺ نے خدائے ذوالجلال سے مدد مانگی اور کوئی حکمت عملی سوچنے لگے۔ادھر خندق کا محاذ سر گرم تھا ۔خالد کو اپنی اس وقت کی بے چینی اور بے تابی اچھی طرح یاد تھی ۔وہ خندق کے ساتھ ساتھ گھوڑا دوڑاتا اور کہیں سے خندق عبور کرنے کے طریقے سوچتا تھا۔وہ مرد ِمیدان تھا لڑے بغیر واپس جانے کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔مگر وہاں لڑائی اس نوعیت کی ہو رہی تھی کہ قریش کے تیر انداز خاصی تعداد میں خندق کے اس مقام پر قریب آتے جہاں مسلمان مورچہ بند تھے۔یہ سلع کی پہاڑی تھی ۔تیر انداز مسلمانوں پر تیر برساتے۔ مسلمان جوابی تیر اندازی کرتے۔کبھی قریش کاکوئی تیر انداز جیش کسی اور جگہ گشتی سنتریوں پر تیر چلاتا مگر مسلمانوں کا جیش فوراً پہنچ جاتا۔رات کو مسلمان خندق پر سنتریوں کی تعدداد میں اضافہ کردیتے تھے اور قریش خندق سے دور پیچھے خیمہ گاہ میں چلے جاتے تھے۔

رسولِ کریمﷺ کو جہاں مدینہ میں خوراک کی قلت کا جو قحط کی صورت اختیار کرتی جا رہی تھی احساس تھا،وہاں آپ ﷺکو یہ بھی معلوم تھا کہ قریش کا لشکر بھی نیم فاقہ کشی پر آگیا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے کی شرائط ماننے پر اور معاہدوں اور سمجھوتوں پر مجبور کر دیتی ہے۔ کسی بھی تاریخ میں اس شخص کا نام نہیں لکھا جسے رسولِ کریمﷺ نے خفیہ طریقے سے قریش کے اتحادی غطفان کے سالار عینیہ کے پاس اس مقصد کیلئے بھیجا کہ اسے قریش کی دوستی ترک کرنے پر آمادہ کرے۔اسے یہ نہیں کہا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل جائے۔رسولِ کریمﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ غطفان اور عینیہ رضا مند ہو جائیں اور اپنے قبیلے کو واپس لے جائیں تو قریش کا لشکر دو ہزار نفری کی فوج سے محروم ہو جائے گا۔ یہ توقع بھی کی جا سکتی تھی کہ دوسرے قبائل بھی غطفان کی تقلید میں قریش کے لشکر سے نکل جائیں گے۔’’کیا 

محمد)ﷺ( ہمیں زبانی معاہدے کی دعوت دے رہا ہے؟‘‘سالار عینیہ نے رسول خداﷺ کے ایلچی سے کہا۔’’ہم نے یہاں تک آنے کا جو خرچ برداشت کیا ہے وہ کون دے گا؟‘‘’’ہم دیں گے۔‘‘رسولِ خداﷺ کے ایلچی نے کہا۔’’نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اپنے قبیلے کو واپس لے جاؤ تو اس سال مدینہ میں کھجور کی جتنی پیداوار ہو گی اس کا تیسرا حصہ تم لے جانا۔خود مدینہ آجانا۔ پوری پیداوار دیکھ لینا اور اپنا حصہ اپنے ہاتھوں الگ کر کے لے جانا۔‘‘سالار عینیہ میدانِ جنگ میں لڑنے اور لڑانے والوں کی قیادت کرنے والا جنگجو تھا۔لیکن غیر جنگی مسائل اور امور کو بہت کم سمجھتا تھا۔مؤرخ ابنِ قتیبہ نے لکھا ہے کہ اس واقع کے کچھ ہی عرصہ بعد رسول اﷲﷺ نے اسے ’’مستعد احمق ‘‘کا خطاب دیا تھا۔وہ بڑے طاقت ور جسم والا اور جسمانی لحاظ سے پھرتیلا اور مستعد رہنے والا آدمی تھا۔اس نے اپنے سردارغطفان سے بات کی ۔’’خدا کی قسم! محمد )ﷺ(نے ہمیں کمزور سمجھ کر یہ پیغام بھیجا ہے۔‘‘غطفان نے کہا۔’’اس کے ایلچی سے پوچھو کہ مدینہ کے اندر لوگوں کو بھوک کا سامنا نہیں؟ہم انہیں بھوک سے نڈھال کر کے ماریں گے۔‘‘’’کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارا اپنا لشکر بھوک سے نڈھال ہو رہا ہے ؟‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’مدینہ والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں ہم اپنے گھر سے بہت دور آگئے ہیں۔ کیا لشکر میں تم بے اطمینانی نہیں دیکھ رہے؟کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہماری کمانوں سے نکلے ہوئے تیر اب اتنی دور نہیں جاتے جتنی دور اس وقت جاتے تھے جب تیر اندازوں کو پیٹ بھر کر کھانا ملتا تھا۔ان کے بازوؤں میں کمانیں کھینچنے کی طاقت نہیں رہی ۔‘‘

’’کیا اس کا فیصلہ تم کرو گے کہ ہمیں محمد )ﷺ(کو کیا جواب دینا چاہیے؟‘‘غطفان نے پوچھا۔’’یا میں فیصلہ کروں گا جوقبیلے کا سردار ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم! میدانِ جنگ میں جو فیصلہ میں کر سکتا ہوں وہ تم نہیں کر سکتے۔‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’اور میدانِ جنگ سے باہر جو فیصلہ تم کر سکتے ہو وہ فیصلہ میری عقل نہیں کر سکتی۔میری عقل تلوار کے ساتھ چلتی ہے۔مگر یہاں میری فوج کی تلواریں اور برچھیاں اور ہمارے تیر مایوس ہو گئے ہیں۔ ہم خندق کے پار نہیں جا سکتے ۔ہمیں محمد)ﷺ( کی بات مان لینی چاہیے۔‘‘اور انہوں نے رسولِ کریمﷺ کی بات مان لی۔ایلچی امید افزا جواب لے کر آ گیا۔اسے قریش کا کوئی آدمی نہیں دیکھ سکا تھا کیونکہ غطفان کی فوج محاصرے کے کسی اور مقام پر تھی۔اﷲ کے رسول ﷺکے خلاف کون بول سکتا تھا۔مگر آپﷺ نے اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے سرکردہ ساتھیوں کو بلایا اور انہیں موقع دیا کہ کسی کو آپﷺ کے فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ بولے۔آپﷺ ایک شخص کا فیصلہ پوری قوم پر ٹھونسنے کے قائل نہ تھے چنانچہ آپﷺ نے سب کو بتایا کہ آپﷺ نے غطفان کو کیا پیش کش کی ہے۔)یہاں اُمت کو مشورے کی اہمیت سکھائی گئی ہے(’’نہیں!‘‘چندپرجوش آوازیں اٹھیں ۔’’ہماری تلواریں جن کے خون کی پیاسی ہیں ،خدا کی قسم! ہم انہیں اپنی زمین کی پیدوار کا ایک دانہ بھی نہیں دیں گے۔جنگ تو ہوئی نہیں ہم لڑے بغیر کیوں ظاہر کریں کہ ہم لڑ نہیں سکتے۔‘‘اس کی تائید میں کچھ آوازیں اٹھیں۔ ایسی دلیلیں دی گئیں جنہیں رسول اﷲﷺ نے اس لیے قبول فرما لیا کہ یہ اکثریت کی آواز تھی۔آپﷺ نے اپنے ایلچی کو دوبارہ غطفان اور عینیہ کے پاس نہ بھیجا لیکن آپﷺ نے سب پر واضح کر دیا کہ تدبر اور حکمت عملی کے بغیر محاصرہ نہیں توڑا جا سکے گا۔خدا حق پرستوں کے ساتھ تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اپنے اﷲ سے مدد مانگی جو ایک انسان کے روپ میں آپ ﷺکے سامنے آگئی ۔یہ تھے’’ نعیم ؓبن مسعود‘‘۔ان کا تعلق غطفان کے قبیلے کے ساتھ تھا۔نعیمؓ سرکردہ شخصیت تھے ۔خدا نے انہیں غیر معمولی دماغ عطا کیا تھا۔تین اہم قبیلوں قریش ،غطفان اور بنو قریظہ پر ان کا اثر و رسوخ تھا۔ ایک روز نعیمؓ جو کہ قبیلہ غطفان میں تھے، مدینہ میں رسولِ خداﷺ کے سامنے آکھڑے ہوئے۔’’خدا کی قسم تو قبیلہ غیر کا ہے۔‘‘رسول اﷲﷺ نے فرمایا ۔’’تو ہم میں سے نہیں۔ تو یہاں کیسے آ گیا؟‘‘’’میں آپ میں سے ہوں۔‘‘نعیمؓ نے کہا۔’’مدینہ میں گواہ موجود ہیں۔ میں نے درپردہ اسلام قبول کر لیا تھا۔اپنے قبیلے کے ساتھ اسی مقصدکیلئے آیا تھا کہ آپﷺ کے حضور حاضر ہو جاؤں مگر موقع نہ ملا ،پتا چلا کہ آپﷺ نے میرے قبیلے کے سردار اور سالار کو قریش سے دوستی ترک کرکے واپس چلے جانے کا پیغام بھیجا تھا اور آپﷺ نے اس کا معاوضہ بھی بتا دیا تھا لیکن آپﷺ نے بات کو مزید آگے نہ بڑھایا ۔‘‘’’اﷲ کی تجھ پررحمت ہو۔‘‘رسولِ خداﷺ نے پوچھا۔’’کیا تو بات کو آگے بڑھانے آیا ہے؟‘‘


’’نہیں، میرے اﷲ کے سچے نبیﷺ! ‘‘نعیم نے جواب دیا۔’’مجھے آپﷺ ہی کے قدموں میں آنا تھا۔اہلِ مدینہ پر مشکل کا وقت آن پڑا ہے۔میں اپنی جان لے کے حاضر ہوا ہوں۔ یہ حضور ﷺکے اور اسلام کے شیدائیوں کے جس کام آ سکتی ہے حضورﷺ کے قدموں میں پیش کرتا ہوں۔اپنے لشکر میں سے چھپ چھپا کر نکلا ہوں۔ خندق میں اتر تو گیا لیکن سنتریوں کی موجودگی میں اوپر آنا خودکشی کے برابر تھا۔اوپر چڑھنا ویسے بھی محال تھا ۔بڑی مشکل پیش آئی۔ خدا سے آپ ﷺکے نام پر التجاکی، گڑ گڑا کر دعا مانگی ،اﷲ نے کرم کیا ۔سنتری آگے چلے گئے اور میں خندق پر چڑھ آیا۔‘‘رسولِ اکرمﷺ کو نعیمؓ کے متعلق بتایا گیا کہ یہ کس حیثیت کی شخصیت ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے ان کے ساتھ دو چار باتیں کیں تو آپﷺ کو اندازہ ہو گیا کہ نعیمؓ اونچی سطح اور عقل کے انسان ہیں۔ آپﷺ نے نعیم ؓکو بتایا کہ محاصرے نے جو حالات پیدا کر دیئے ہیں ان سے نکلنے کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ قریش کے لشکر میں جو مختلف قبائل شامل ہیں انہیں قریش سے بدزن کیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو تین قبائل کے ساتھ خفیہ معاہدے کرلیے جائیں ۔’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ نعیم نے کہا۔’’اگر میں یہ کام اپنے طریقے سے کردوں تو کیا حضورﷺ مجھ پر اعتماد کریں گے ؟‘‘’’تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو نعیم‘‘۔رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔’’ میں تجھے ا ور تیرے نیک ارادوں کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘’’میں واپس اپنے قبیلے میں چلا جاؤں گا۔‘‘نعیم نے کہا۔’’لیکن یہ نہیں بتاؤں گا کہ میں مدینہ میں آیا تھا۔یہاں سے میں کعب بن اسد کے پاس جا رہا ہوں ،میرے اﷲ کے رسولﷺ !میری کامیابی کیلئے دعا فرمائیں۔‘‘مدینہمیں رات کو پہرے بڑے سخت تھے۔ پیچھے کی طرف خندق نہیں تھی ۔ادھر پہاڑیوں نے قدرتی دفاع مہیا کر رکھا تھا ۔ادھر پہرے داروں اور گشتی سنتریوں کی تعداد زیادہ رکھی گئی تھی اور شہر کے کسی آدمی کا بھی ادھر جانا بڑا مشکل تھا۔رسولِ اکرمﷺ نے نعیم ؓکے ساتھ اپنا ایک آدمی بھیج دیا تھا تاکہ کوئی سنتری انہیں روک نہ لے ۔یہ آدمی نعیمؓ کو مدینہ کے ساتھ باہرتک چھوڑ کر واپس آ گیا۔رات کا پہلا پہر تھا جب نعیمؓ بنو قریظہ کی بستی میں کعب بن اسد کے دروازے پر پہنچے۔دروازہ غلام نے کھولا۔’’تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو نہ کعب؟‘‘نعیم ؓنے پوچھا۔’’نعیم بن مسعود کو کون نہیں جانتا۔‘‘کعب نے کہا ۔’’غطفان کے قبیلے کو تجھ جیسے سردار پر بہت فخر ہوگا۔کہو نعیم رات کے اس پہر میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟میں نے دس دنوں کی مہلت مانگی تھی۔

محمد یحیٰ سندھو

+971551707391

ابھی تو چھ سات دن گزرے ہیں ۔میں نے مسلمانوں پر شب خون مارنے کیلئے آدمی تیار کر لیے ہیں۔ کیا تم یہی معلوم کرنے آ ئے ہو؟‘‘

’میں اسی سلسلے میں آیا ہوں ۔‘‘نعیمؓ نے کہا۔’’تم بے وقوفہو کعب۔تم نے قریش کیساتھ کس بھروسے پر معاہدہ کر لیا ہے؟مجھ سے نہ پوچھنا کہ میرے دل میں تمہاری ہمدردی کیوں پیدا ہوئی۔میں مسلمانوں کا بھی ہمدرد نہیں کیونکہ میں مسلمان نہیں۔تم اچھی طرح جانتے ہو میرے دل میں انسانیت کی ہمدردی ہے۔ میرے دل میں ہمدردی ہے تمہاری ان خوبصورت اور جوان بیٹیوں، بیویوں اور بہنوں کی، جو مسلمانوں کی لونڈیاں بن جائیں گی۔تم نے قریش سے بڑا ہی خطرناک معاہدہ کر لیا ہے لیکن اس کی ضمانت نہیں لی کہ اہلِ قریش تمہیں مسلمانوں سے بچا لیں گے۔ہم نے بھی قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن کچھ ضمانت بھی لی ہے ۔‘‘’’کیا قریش جنگ ہار جائیں گے؟‘‘کعب بن اسد نے پوچھا۔’’وہ جنگ ہار چکے ہیں۔‘‘نعیم ؓنے کہا ۔’’کیا یہ خندق انہیں شہر پر حملہ کرنے دے گی؟قریش کے لشکر کو بھوک نے بے حال کرنا شروع کر دیا ہے ۔میرا قبیلہ بھوک سے پریشان ہو گیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کل تم میرے قبیلے کو بدنام کرو کہ غطفان تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے تھے، تم مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں اپنا دشمن بنا لو گے اور قریش اور ہم محاصرہ اٹھا کہ واپس چلے جائیں گے۔ اپنے دونوں قبیلوں قینقاع اور بنو نضیر کا انجام جومسلمانوں کے ہاتھوں ہواتھا وہ تمہیں یا د ہو گا۔‘‘کعب بن اسد پر خاموشی طاری ہو گئی۔’’ میں جانتا ہوں کہ تم نے قریش سے کتنی اجرت لی ہے ۔‘‘نعیم نے کہا ۔’’لیکن یہ خزانہ جو تم ان سے لے رہے ہو، یہ خوبصورت لڑکیاں جو حُیّ بن اخطب نے تمہارے پاس بھیجی ہیں ۔یہ سب مسلمانوں کی ملکیت ہو جائے گی اور تمہارا سر تمہارے تن سے جدا ہوگا۔‘‘’’تو کیا میں قریش سے معاہدہ توڑ دوں؟‘‘ کعب نے پوچھا۔’’معاہدہ نہ توڑو ۔‘‘نعیم ؓنے کہا۔’’انہیں ابھی ناراض نہ کرو لیکن اپنی حفاظت کی ان سے ضمانت لو۔عرب کے رواج کے مطابق انہیں کہو کہ ان کے اونچے خاندانوں کے کچھ آدمی تمہیں یرغمال کے طور پر دے دیں۔اگر انہوں نے اپنے چند ایک معزز اور سرکردہ آدمی دے دیئے تو یہ ثبوت ہو گا کہ وہ معاہدہ میں مخلص ہیں۔‘‘’’ہاں نعیم!‘‘ کعب بن اسد نے کہا۔’’میں ان سے یرغمال میں آدمی مانگوں گا۔‘‘


نعیمؓ بن مسعود رات کے وقت پہاڑیوں میں چلے جا رہے تھے ۔ان کی منزل قریش کی خیمہ گاہ تھی جو کئی میل دور تھی۔ سیدھا رستہ چھوٹا تھالیکن راستے میں خندق تھی۔ وہ بڑی دور کا چکر کاٹ کہ جا رہے تھے۔ وہ گذشتہ رات سے مسلسل چل رہے تھے مگر چھپ چھپ کر چلنے اور عام سفر میں بہت فرق ہوتا ہے ۔نعیمؓ جب ابو سفیان کے پاس پہنچے تو ایک اور رات شروع ہو چکی تھی۔اس وقت ان کی ہڈیاں بھی دکھ رہی تھیں اور ان کی زبان سوکھ گئی تھی۔ ایک ہی بار بے تحاشا پانی پی کر وہ بولنے کے قابل ہوئے۔ابوسفیان نعیم ؓکی دانشمندی اور تدبر سے متاثر تھا۔’’تمہاری حالت بتا رہی ہے کہ تم اپنے لشکر میں سے نہیں آئے۔‘‘ابوسفیان نے نعیمؓ سے پوچھا۔’’کہاں سے آ رہے ہو؟‘‘’’بہت دور سے۔‘‘ نعیمؓ بن مسعود نے جواب دیا۔’’ جاسوسی کی ایک مہم سے آ رہا ہوں ،تم لوگ بنو قریظہ کیساتھ معاہدہ کر آئے ہو۔ کیا تم بھول گئے تھے کہ یہودیوں کو ہمارے ساتھ جو دلچسپی ہے وہ صرف اس لیے ہے کہ وہ اسلام کو ہمارے ہاتھوں یہیں پر ختم کرا دینا چاہتے ہیں۔ میں بنو قریظہ کے دو دوستوں سے مل آیا ہوں اور مجھے مدینہ کا بھی ایک پرانا دوست مل گیا تھا۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کعب بن اسد نے محمد)ﷺ( کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ کعب نے مسلمانوں کو خوش کرنے کا ایک نیا طریقہ سوچا ہے۔ تم نے اسے کہا کہ وہ مدینہ میں مسلمانوں پر حملے کرے ۔وہ اب تم سے قریش کے سرکردہ خاندانوں کے چند افراد یرغمال میں ضمانت کے طور پر رکھنے کیلئے مانگے گا۔ مگر انہیں وہ مسلمانوں کے حوالے کر دے گااور مسلمان ان افراد کو قتل کر دیں گے۔پھر یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے اور دونوں ہم پر حملہ کر دیں گے۔ میں تمہیں خبردار کرنے آیا ہوں کہ یہودیوں کو یرغمال میں اپنا ایک آدمی بھی نہ دینا ۔‘‘’’خدا کی قسم نعیم!‘‘ ابوسفیان نے کہا۔’’اگر تمہاری یہ بات سچ نکلی ۔تو میں بنو قریظہ کی بستیاں اجاڑ دوں گا۔کعب بن اسد کی لاش کو میں اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتا ہوا مکہ لے جاؤں گا۔اس نے کیا سوچ کر ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے؟‘‘’’اس کی سوچ پر آپ نے شراب اور حسین لڑکیوں کا طلسم طاری کر دیا ہے۔‘‘ نعیمؓ بن مسعود نے کہا۔’’ کیا شراب اورعورت کسی کے دل میں خلوص اور دیانت داری رہنے دیتی ہے؟‘‘’’اسے شراب اور عورت کس نے دی؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’کیا بد بخت کعب اتنی سی بات نہیں سمجھ سکا کہ میں نے اس کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس میں اس کی قوم اور اس کے مذہب کا تحفظ ہے۔اگر محمد)ﷺ(کا مذہب اسی طرح پھیلتا چلا گیا تو یہودیت ختم ہو جائے گی۔‘‘


’’تم یہودیوں کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے۔‘‘نعیم ؓنے کہا۔’’وہ اپنے دشمن پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیتے کہ وہ اس کے دشمن ہیں ۔حُیّ بن اخطب بھی یہودی ہے ۔اس نے تمہاری طرف سے کعب کو شراب کا نصف مٹکا اور دو نہایت حسین لڑکیا ں دی ہیں۔ میں جب کعب سے ملا تو وہ شراب میں بد مست تھا اور دونوں لڑکیاں نیم برہنہ حالت میں اس کے پاس تھیں ۔اس نے بد مستی کے عالم میں مجھے کہا کہ وہ اہلِ قریش کو انگلیوں پر نچا رہا ہے۔‘‘’’نعیم!‘‘ ابو سفیان نے تلوار کے دستے پر ہاتھ مار کر کہا۔’’ میں مدینہ سے محاصرہ اٹھاکر بنو قریظہ کی نسل ختم کر دوں گا۔اس کی یہ جرات کہ قبیلہ قریش کے سرکردہ چند افراد کو ضمانت کے طور پر یرغمال بناکر رکھنا چاہتا ہے۔‘‘’’تمہیں اتنا نہیں بھڑکنا چاہیے ابو سفیان۔‘‘نعیمؓنےکہا۔’’ٹھنڈے دل سے سوچواور فیصلہ کر لو کہ کعب کو تم ایک بھی آدمی یرغمال میں نہیں دو گے ۔‘‘’’میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’ کیا تم اہلِ مدینہ کی کوئی خبر دے سکتے ہو؟وہ کس حال میں ہیں؟ وہ کب تک بھوک برداشت کریں گے ؟‘‘نعیمؓ بن مسعود کو ابو سفیان کے پاؤں اکھاڑنے کا موقع مل گیا۔ ’’میں حیران ہوں ابو سفیان !‘‘ نعیمؓ نے کہا۔’’ اہلِ مدینہ خوش اور مطمئن ہیں ۔وہاں بھوک کے کوئی آثار نہیں، خوراک کی کمی ضرور ہے لیکن اہل ِمدینہ کا جوش اور جذبہ ایسا ہے کہ جیسے انہیں خوراک کی ضرورت ہی نہیں۔‘‘’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے محاصرے کا ان پر کوئی اثرنہیں ہوا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’بالکل نہیں۔‘‘نعیم ؓبن مسعود نے کہا۔’’ان پر محاصرے کا یہ اثر ہے کہ وہ جوش و خروش سے پھٹے جا رہے ہیں ۔‘‘’’ہمارے یہودی جاسوس ہمیں بتا رہے ہیں کہ مدینہ میں خوراک تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘‘ابو سفیان نے ذرا پریشان ہو کر کہا۔ ’’وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘نعیمؓ نے اسے اور زیادہ پریشان کرنے کیلئے کہا۔’’میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ یہودیوں پر بھروسہ نہ کرنا۔یہ بتا کر کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہیں وہ تمہیں اکسا رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر کہیں سے خندق عبور کر لو اور مدینہ پر حملہ کر دو۔ وہ اہلِ قریش اور میرے قبیلے غطفان کو مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ کرانا چاہتے ہیں۔‘‘


    


*جاری_ہے*


بقیہ اگلی قسط نمبر 8 میں پڑھیں


اور شیئر کریں

جزاک کم اللہ خیرا



*شمشیرِ بے نیام* 

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* 


*( قسط نمبر-8)*


میں ان کی نیت معلوم کرلیتا ہوں۔‘‘ابو سفیان نے کہااور اپنے غلام کو آوازدی۔’’عکرمہ اور خالد کو بلا لاؤ۔‘‘ابو سفیان نے غلام سے کہا۔نعیمؓ بن مسعود یہ کہہ کر چلے گئے ۔’’میں اپنے سردار غطفان کو خبردار کرنے جا رہا ہوں ۔‘‘خالد اور عکرمہ آئے تو ابوسفیان نے انہیں بتایا کہ نعیم اسے کعب بن اسد کے متعلق کیا بتا گئے ہیں ۔’’غیروں کے سہارے لے کر لڑائیاں نہیں لڑی جاتیں ابو سفیان!‘‘خالد نے کہا ۔’’آپ نے یہ تو سوچا ہی نہیں کہ بنو قریظہ مسلمانوں کے سائے میں بیٹھے ہیں۔ وہ زمین کے نیچے سے مسلمانوں پر وار کر سکتے ہیں لیکن وہ ہیں تو مسلمانوں کے رحم و کرم پر۔اگر آپ لڑنے آئے ہیں تو جنگجوؤں کی طرح لڑیں۔‘‘’’کیا یہ صحیح نہیں ہو گا کہ تم دونوں میں سے کوئی کعب بن اسد کے پاس جائے۔‘‘ ابوسفیان نے پوچھا۔’’ہو سکتا ہے کہ اس نے نعیم سے کہا ہو کہ وہ ہم سے یرغمال مانگے گا۔لیکن تم جاؤ تو وہ ایسی شرط پیش نہ کرے۔کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا ہے کہ تمام کا تمام لشکر نیم فاقہ کشی کی حالت میں ہے۔ کیا یہ لشکر خندق عبور کر سکتا ہے؟ یہی ایک صورت ہے کہ کعب مدینہ کے اندر مسلمانوں پر شب خون مارنے کا انتظام کرے۔‘‘’’میں جاؤں گا ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں آ پ کو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ کعب بن اسد نے یرغمال کی شرط پیش کی تو میں آپ سے پوچھے بغیر معاہدہ منسوخ کر آؤں گا۔‘‘’’کیا میں بھی عکرمہ کیساتھ چلا جاؤں ؟‘‘خالد نے ابو سفیان سے پوچھا۔’’اس کا اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے ۔‘‘’’نہیں!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’اگر خطرہ ہے تو میں دو سالار ضائع نہیں کر سکتا۔عکرمہ اپنی حفاظت کیلئے جتنے لشکری ساتھ لے جانا چاہتا ہے لے جائے۔‘‘عکرمہ اسی وقت روانہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ چار لشکری تھے۔اسے بڑی دور کا چکر کاٹ کر بنو قریظہ تک پہنچنا تھا۔وہ جمعہ کی رات اور تاریخ ۱۴ مارچ ۶۲۷ء تھی ۔جب عکرمہ خندق سے دور دور چلتا شیخین کے سلسلۂ کوہ میں داخل ہوااورکعب بن اسد کے گھر پہنچا۔ کعب کو معلوم تھا کہ عکرمہ کیوں آ یا ہے۔’’آؤ عکرمہ!‘‘ کعب بن اسد نے کہا۔’’ میں جانتا ہوں کہ تم کیوں آ ئے ہو۔ تمہارے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔میں نے دس دن کی مہلت مانگی تھی ۔‘‘کعب بن اسد نے اپنے غلام کو آواز دی ۔غلام آیا تو اس نے غلام سے شراب اور پیالے لانے کو کہا۔’’پہلے میری بات سن لو کعب!‘‘ عکرمہ نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔’’میں شراب پینے نہیں آیا ۔مجھے بہت جلدی واپس جانا ہے۔ ہم محاصرے کو اور زیادہ طول نہیں دے سکتے ۔ہم کل مدینہ پر حملہ کر رہے 

ہیں۔تمہارے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق تم مدینہ میں ان جگہوں پر جو ہم نے تمہیں بتائی ہیں کل سے حملے شروع کر دو۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم نے ظاہری طور پر ہمارے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن درپردہ تم نے وہ معاہدہ قائم کر رکھا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ تم نے کیا ہے۔‘‘

اتنے مین ایک نہایت حسین لڑکی شراب کی صراحی اور پیالے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ عکرمہ کو دیکھ کر مسکرائی۔ عکرمہ نے اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر سنجیدگی کا تاثر اور زیادہ گہرا ہو گیا۔’’کعب!‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’تم نے اپنا مذہب اور اپنی زبان ان چیزوں کے عوض بیچ ڈالی ہے۔جنہوں نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا۔‘‘کعب بن اسد نے لڑکی کو اشارہ کیا تو وہ چلی گئی۔ ’’میرے عزیز عکرمہ!‘‘ کعب نے کہا۔’’میں تمہارے چہرے پر رعونت کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ صاف پتا چلتا ہے کہ تم مجھے اپنا غلام سمجھ کر حکم دینے آئے ہو۔میں نے مسلمانوں کیساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ بنو قریظہ کے تحفظ اور سلامتی کیلئے کیاتھا اور میں نے جو معاہدہ تمہارے ساتھ کیا ہے وہ تمہاری فتح اور مسلمانوں کی شکست کی خاطر کیا ہے۔مسلمانوں کو ختم کرنا میرے مذہب کا حکم ہے۔ تمہارے ساتھ معاہدہ نبھانا اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے۔ اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے کیلئے میں تمہیں استعمال کروں گا۔حُیّ بن اخطب سے میں نے کہہ دیا تھا کہ اہلِ قریش اور اہلِ غطفان مجھے بنو قریظہ کی سلامتی کی ضمانت دیں تاکہ ایسانہ ہو کہ تم لوگ ناکام ہو جاؤ اور مسلمان ہم سے ظالمانہ انتقام لیں۔‘‘نعیمؓ بن مسعود نے جو چنگاری ان لوگوں کے درمیان پھینک دی تھی وہ عکرمہ کے سینے میں سلگ رہی تھی ۔نعیم ؓنے عکرمہ کے ذہن میں ابو سفیان کی معرفت پہلے ہی ڈال دیا تھا کہ کعب افراد کی صورت میں ضمانت مانگے گا۔کعب کی زبان سے ضمانت کا لفظ سنتے ہی عکرمہ بھڑک اٹھا۔’’کیا تمہیں ہم پر اعتماد نہیں؟‘‘عکرمہ نے غصیلی آوا ز میں کہا۔’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم شاید بھول گئے ہیں کہ محمد)ﷺ( ہمارا اور تمہارا مشترکہ دشمن ہے۔‘‘’’میں یہ نہیں کہتا جو تم کہہ رہے ہو۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اپنے مشترکہ دشمن کو جتنا میں جانتا ہوں اتنا تم نہیں جانتے۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ جو عقل خدا نے محمد)ﷺ( کو دی ہے وہ ہم میں سے کسی کو نہیں دی……میں اس کی ضمانت چاہتا ہوں۔‘‘’’کہو، تمہیں کیسی ضمانت چاہیے؟‘‘عکرمہ نے پوچھا۔


’’قبیلۂ قریش کے چند ایک سرکردہ افراد ہمارے پاس بھیج دو۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا عکرمہ! یہ ہمارا تمہارا دستور ہے۔اس رواج اور شرط سے تم واقف ہو۔

محمد یحیٰ سندھو

+971551707391

میں نے ضمانت کے طور پر یرغمال میں لینے والے آدمیوں کی تعداد نہیں بتائی ،یہ تعداد تم خود مقرر کر لو۔تم جانتے ہو کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرو گے تو تمہارے ان سرکردہ افراد کو ہم قتل کر دیں گے۔‘‘’’انہیں تم قتل نہیں کرو گے۔‘‘عکرمہ نے بھڑکی ہوئی آواز میں کہا۔’’تم انہیں مسلمانوں کے حوالے کر دو گے۔‘‘’’کیا کہہ رہے ہو عکرمہ؟‘‘کعب بن اسد نے حیرت اور پریشانی کے لہجے میں پوچھا۔’’کیا تم مجھے اتنا ذلیل سمجھتے ہو کہ میں تمہیں یہ دھوکا دوں گا کہ تمہارے قبیلوں کے سرداروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرواؤں گا؟مجھ پر اعتبار کرو۔‘‘

’’یہودی پر اعتبار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی نے سانپ پر اعتبار کر لیا ہو۔‘‘عکرمہ نے غصے کے عالم میں کہا۔’’اگر تم اپنے آپ کو اتنا ہی قابلِ اعتبار سمجھتے ہو تو کل مدینہ میں ان چھوٹے قلعوں پر حملے شروع کردو جہاں پر مسلمانوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو رکھا ہوا ہے۔‘‘’’کل؟‘‘کعبنے کہا۔’’کل ہفتے کا دن ہے۔ہفتے کا دن یہودیوں کا ایک مقدس دن ہوتا ہے جسے ہم ’’سبت‘‘ کہتے ہیں ۔اس روز عبادت کے سوا ہم اور کوئی کام نہیں کرتے۔کوئی یہودی سبت کے دن کوئی کام یا کاروبار کرے یا کسی پر حملہ کرے تو خدائے یہودہ اسے انسان سے خنزیر یا بندر کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔‘‘عکرمہ دیکھ چکا تھا کہ کعب بن اسد کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔وہ شراب پیتا چلاجا رہا تھا۔عکرمہ نے شراب پینے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کر کے ہی واپس آ ئے گا۔’’تم کل حملہ کرو یا ایک دن بعد کرو۔ہم تمہاری نیت کو عملی صورت میں دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ تمہیں یرغمال میں اپنے آدمی دیئے جائیں یا نہ دیئے جائیں۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’ اس سے پہلے ہم تمہیں ایک آدمی بھی نہیں دیں گے۔‘‘’’میں کہہ چکا ہوں کہ یرغمال کے بغیر ہم کچھ نہیں کریں گے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’جوں ہی تمہارے آدمی ہمارے پاس پہنچ جائیں گے ہم تمہاری منشاء کے مطابق مدینہ کے اندر کھلبلی مچا دیں گے ۔تم دیکھنا کہ ہم محمد )ﷺ(کی پیٹھ میں کس طرح چھرا گھونپتے ہیں۔‘‘عکرمہ اٹھ کھڑا ہوا اور غصے میں بولا۔’’تم بد طینت ہو۔تمہاری نیت صاف ہوتی تو تم کہتے کہ مجھے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں۔آؤ مل کر مسلمانوں کو مدینہ کے اندر ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں۔‘‘’’مجھے اگر حکم ماننا ہی ہے تو میں محمد )ﷺ(کا حکم کیوں نہ مان لوں؟‘‘کعب بن اسد نے عکرمہ کاغصہ دیکھتے ہوئے کہا۔’’ہم مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔جو تحفظ ہمیں ان سے مل سکتا ہے وہ تم نہیں دے سکو گے۔‘‘مؤرخ ابنِ ہشام اور ابنِ سعد نے لکھا ہے کہ نعیمؓ بن مسعود کا چھوڑا ہوا تیر نشانہ پہ لگا ۔عکرمہ غصے کے عالم میں کعب بن اسد کے گھر سے نکل آیا۔یہودیوں اور اہلِ قریش کا معاہدہ جو اگر برقرار رہتا تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ جاتی،کعب کے گھر کے اندر ہی ٹوٹ گیا۔جب عکرمہ کعب بن اسد سے ملنے جا رہا تھا۔اس وقت نعیم ؓبن مسعود اپنے قبیلے کے سردارغطفان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ بھی انہوں نے کعب بن اسد کے متعلق وہی باتیں کیں جن باتوں سے وہ ابو سفیان کو بھڑکا چکے تھے۔ابو سفیان نے غصے میں آ کر ابو سفیان کو بلا لیا تھا۔غطفان نے اپنے سالار عینیہ کو بلالیا۔’’کیا تم نے سنا ہے کہ کعب بن اسد ہمیں کیا دھوکا دے رہا ہے؟‘‘غطفان نے عینیہ سے کہا۔’’وہ ہم سے یرغمال میں رکھنے کیلئے سرکردہ افراد مانگتا ہے۔کیا یہ ہماری توہین نہیں؟‘‘


’’سردار غطفان!‘‘ سالار عینیہ نے کہا۔’’میں پہلے تمہیں کہہ چکا ہوں کہ میرے ساتھ میدانِ جنگ کی بات کرو۔میں آمنے سامنے کی لڑائی جانتاہوں۔مجھے اس شخص سے نفرت ہو گی جو پیٹھ کے پیچھے آکر وار کرتا ہے اور مجھے اس شخص سے بھی نفرت ہوگی جس کی پیٹھ پر وار ہوتا ہے اور پھر تم یہودیوں پر اعتبار کرتے ہو؟اگر کعب بن اسد کہے گا کہ مجھے اپنے قبیلے کا سردار غطفان یرغمال میں دے دوتو کیا میں تمہیں اس کے حوالے کر دوں گا؟‘‘’’میں اس شخص کا سر اڑا دوں گا جو ایسامطالبہ کرے گا۔‘‘نعیمؓ بن مسعود نے کہا۔’’میں ان یہودیوں کو اپنے قبیلے کی ایک بھیڑ یا بکری بھی نہ دوں گا۔خدا کی قسم! کعب نے ہماری توہین کی ہے۔‘‘’’ابو سفیان کیا کہتا ہے؟‘‘غطفان نے نعیمؓ سے پوچھا۔’’یہ بات سن کر ابو سفیان غصے سے کانپنے لگا۔‘‘نعیمؓ نے کہا ۔’’ابو سفیان کہتا ہے کہ وہ کعب بن اسد سے اس توہین کا انتقام لے گا۔‘‘

’’اور اسے انتقام لینا چاہیے۔‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’بنو قریظہ کی حیثیت ہی کیا ہے؟وہ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان اس طرح پس جائیں گے کہ ان کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔‘‘خالد کو آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے وہ وقت یاد آ رہا تھا جب عکرمہ بنو قریظہ کی بستی سے واپس آ یا تھا۔خالد دوڑتا ہوا اس تک پہنچا تھا ۔اُدھر سے ابو سفیان گھوڑا دوڑاتا آگیا۔ عکرمہ کے چہرے پر غصے اور تھکن کے گہرے آثار تھے۔’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘ ابو سفیان نے اس سے پوچھا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان! میں نے کعب سے زیادہ بد طینت انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔‘‘عکرمہ نے گھوڑے سے کود کر اترتے ہوئے جواب دیا۔’’نعیم نے ٹھیک کہا تھا۔‘‘’’کیا اس نے ہم سے یرغمال میں رکھنے کیلئے آدمی مانگے ہیں؟‘‘خالد نے پوچھا تھا۔’’ ہاں خالد!‘‘ عکرمہ نے کہا تھا۔’’ اس نے مجھے شراب پیش کی اور میرے ساتھ اس طرح بولا جیسے ہم اس کے مقروض ہیں۔اس نے کہا کہ پہلے یرغمال میں اپنے آدمی دو پھر میں مدینہ کے اندر شب خون ماروں گا۔‘‘’’کیا تم نے اسے کہا نہیں کہ اہلِ قریش کے سامنے بنو قریظہ کی حیثیت اونٹ کے مقابلے میں ایک چوہے کی سی ہے؟‘‘خالد نے کہا تھا ۔’’کیا تم نے اس کا سر اس کے کندھوں سے اتار نہیں دیا؟‘‘’’میں نے اپنا ہاتھ بڑی مشکل سے روکا تھا۔‘‘ عکرمہ نے کہا تھا۔’’اس کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا تھا وہ میں توڑ آیا ہوں ۔‘‘’’تم نے اچھا کیا۔‘‘ابو سفیان نے دبی دبی آواز میں کہا تھا۔’’تم نے اچھا کیا۔‘‘اور وہ پرے چلا گیا تھا۔

یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا، ڈیڑھ دو سال پہلے کی ہی بات تھی۔ آج جب خالد مدینہ کی طرف جا رہا تھا تو یہ جانا پہچانا رستہ اسے اجنبی سا لگ رہا تھا ۔کبھی اسے ایسا محسوس ہونے لگتا جیسے وہ خود اپنے لیے اجنبی ہو گیا ہو ۔اسے ابو سفیان کا افسردہ چہرہ نظر آنے لگا۔ خالد نے محسوس کرلیا تھا کہ ابو سفیان مدینہ پر حملے سے منہ موڑ رہا ہے۔خالد اور عکرمہ وہیں کھڑے رہ گئے تھے۔ ’’کیا سوچ رہے ہو خالد ؟‘‘عکرمہ نے پوچھا تھا۔’’کیا تم میری تائید نہیں کرو گے کہ میں اس شخص ابو سفیان کی موجودگی کو صرف اس لیے برداشت کر رہا ہوں کہ یہ میرے قبیلے کا سردار ہے۔‘‘خالد نے عکرمہ کو جواب دیا تھا۔’’اہلِ قریش کو ابو سفیان سے بڑھ کر بزدل سردار اور کوئی نہیں ملے گا۔تم پوچھتے ہو کہ میں کیاسوچ رہا ہوں؟ میں اور زیادہ انتظار نہیں کر سکتا ۔

محمد یحیٰ سندھو

+971551707391

میں نے خندق کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھا ہے۔ایک جگہ خند ق کم ہے اور زیادہ گہری بھی نہیں ہے۔ہم وہاں سے خندق کے پار جا سکتے ہیں اگر تم میرا ساتھ دو تو میں آج ہی ابھی اس جگہ سے چند سوار خندق کے اس پار لے جانا چاہتاہوں۔ابو سفیان کسی غیبی مدد اور سہارے کا انتظار کرنا چاہتا ہے تو کرتا رہے۔‘‘ ’’میں تمہارا ساتھ کیوں نہ دوں گا خالد؟‘‘ عکرمہ نے کہا تھا ۔’’کیا میں مسلمانوں کے ان قہقہوں کو برداشت کرسکوں گا جو اس وقت بلند ہوں گے جب ہم یہاں سے لڑے بغیر واپس جائیں گے۔چلو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔‘‘وہ جگہ ذباب کی پہاڑی کے مغرب اور سلع کی پہاڑی کے مشرق میں تھی۔جہاں خندق کی چوڑائی اتنی تھی کہ گھوڑا اسے پھلانگ سکتا تھا۔ضرورت شہسوار کی تھی۔پیادے خندق میں اتر کر اوپر چڑھ سکتے تھے۔ اسی جگہ کے قریب تقریباً سامنے مسلمانوں کی خیمہ گاہ تھی۔ خالد نے عکرمہ کو یہ جگہ دور سے دکھائی۔ ’’پہلے میرے سوار خندق پھلانگیں گے ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’ لیکن ابھی ہم تمام کا تمام سوا ر دستہ نہیں گزاریں گے۔ پار جا کر مسلمانوں کو ایک ایک سوار کے مقابلے کیلئے للکاریں گے۔وہ اس رواج کی خلاف ورزی نہیں کریں گے،میرے ساتھ آؤ خالد۔میں اپنے منتخب سوار آگے لاؤں گا۔تم ابھی خندق کے پاس نہ جانا۔اگرہم دونوں مارے گئے تو اہلِ قریش کو سوائے ذلت کے اورکچھ نہ ملے گا۔ابو سفیان کا دل محاصرہ اٹھا چکا ہے۔وہ لڑنے کے جذبے کو سرد کر چکا ہے۔‘‘


وہ مقام جہاں خندق گھوڑے کی لمبی چھلانگ سے پھلانگی جا سکتی تھی ایسی اوٹ میں تھا۔جسے گشتی سنتری قریب آ کر ہی دیکھ سکتے تھے۔عکرمہ نے سات سوار منتخب کر لیے تھے ان میں ایک قوی ہیکل بلکہ دیو قامت شخص ’’عمرو بن عبد و‘‘بھی تھا۔جس کی دھاک اس کی جسامت کی بدولت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ عکرمہ ان سات سواروں کو مقررہ مقام سے کچھ دور تک اس اندازے سے لے گیا جیسے گھوڑوں کو ٹہلائی کیلئے لے جا رہے ہوں۔مسلمانوں کے سنتریوں کو ان پر شک نہ ہوا۔’’سب سے پہلے میں خندق پھلانگوں گا۔‘‘عکرمہ نے چلتے چلتے اپنے سات سواروں سے کہا۔’’کیا یہ ٹھیک نہیں ہو گا کہ سب سے پہلے میرا گھوڑا خندق کو پھلانگے؟‘‘عمرو بن عبدو نے کہا ۔’’نہیں عمرو!‘‘عکرمہ نے کہا۔’’پہلے میں جاؤں گا۔ اگر میرا گھوڑا خندق میں گر پڑا تو تم خندق پھلانگنے کی کوشش نہ کرنا۔تمہارا سالار اپنی جان کی قربانی دے گا۔‘‘یہ کہہ کر عکرمہ نے گھوڑے کی باگ کو جھٹکا دیا ۔گھوڑے کا رخ خندق کی طرف ہوا۔تو عکرمہ نے ایڑھ لگا دی۔عربی نسل کا گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔عکرمہ نے لگام اور ڈھیلی کر دی اور گھوڑے کو پھر ایڑھ لگائی گھوڑے کی لگام اور تیز ہو گئی۔خندق کے کنارے پہ جا کر عکرمہ گھوڑے کی پیٹھ سے اٹھااور آگے کو جھک گیا۔گھوڑا ہوا میں بلند ہو گیا۔خالد کچھ دور کھڑا دیکھ رہا تھا قبیلہ ٔ قریش کے بہت سے لشکری دیکھ رہے تھے۔ زمین و آسمان دیکھ رہے تھے تاریخ دیکھ رہی تھی۔گھوڑے کے اگلے پاؤں خندق کے دوسرے کنارے سے کچھ آگے اور پچھلے پاؤں عین کنارے پر لگے گھوڑا رفتار کے زور پر آگے چلا گیا۔اس کی اگلی ٹانگیں دوہری ہو گئیں ۔اس کا منہ زمین سے لگا ،عکرمہ گرتے گرتے بچا۔گھوڑا بھی سنبھل گیا اور عکرمہ بھی،اسے اپنے پیچھے للکار سنائی دی ۔’’آگے نکل جاؤ عکرمہ !‘‘عکرمہ نے پیچھے دیکھا۔عمرو بن عبدو کا گھوڑا ہوا میں اڑا آ رہا تھا ۔عمرو رکابوں پر کھڑا آگے کو جھکا ہوا تھا۔کسی کو توقع نہیں تھی کہ اتنے وزنی سوار کے نیچے گھوڑا خندق پھلانگ جائے گا لیکن گھوڑا اسی جگہ جا پڑا جہاں عکرمہ کا گھوڑا گرا تھا۔عمرو کے گھوڑے کی ٹانگیں ایسی دوہری ہوئیں کہ منہ کے بل گرا اور ایک پہلو پر لڑھک گیا ۔عمرو گھوڑے کی پیٹھ سے لڑھک کر قلابازیاں کھاتا گیا ۔ایک لمحے میں گھوڑا اٹھ کھڑا ہوا ،ادھر عمرو اٹھا اور پلک جھپکتے میں گھوڑے پر سوار ہو گیا۔


*جاری_ہے*

بقیہ اگلی قسط نمبر ۹ میں پڑھیں


اور شیئر کریں

جزاک کم اللہ خیرا

No comments:

Post a Comment