Saturday, October 16, 2021

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* *( قسط نمبر-25)*قسط نمبر-26

[,

10:*

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*   

*( قسط نمبر-25)*

خالدؓ اس وقت یمامہ میں تھے۔ان کیدونوں نئی بیویاں لیلیٰ ام تمیم اوربنتِ مجاعہ ان کے ساتھ تھیں۔امیر المومنینؓ کا پیغام ملتے ہی خالدؓ یمامہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ پہنچ گئے ۔’’کیا مثنیٰ بن حارثہ کا نام تم نے کبھی سنا ہے؟‘‘خلیفہؓ نے خالدؓ سے پوچھا۔’’سنا ہے۔‘‘خالدؓ نے جواب دیا۔’’اور یہ بھی سنا ہے کہ فارسیوں کے خلاف اس نے ذاتی قسم کی جنگ شروع کر رکھی ہے ،لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس کی ذاتی جنگ ذاتی مفاد کیلئے ہے یا وہ اسلام کی خاطر لڑ رہا ہے۔‘‘’’وہ یہاں آیا تھا۔‘‘امیر المومنین نے کہا۔’’جہاد جو اس نے شروع کر رکھا ہے اس میں اس کا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔میں نے اس لئے تمہیں بلایا ہے کہ تم سے مشورہ کر لوں کہ مثنیٰ ہم سے جو مدد مانگتا ہے وہ اسے دی جائے یا اس وقت کا انتظار کیا جائے جب ہم فارسیوں کی اتنی بڑی قوت کے خلاف لڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
وہ کس قسم کی جنگ لڑ رہا ہے؟‘‘ خالدؓ نے پوچھا۔امیر المومنینؓ نے خالدؓ کو پوری تفصیل سے بتایا کہ مثنیٰ شب خون کی نوعیت کی جنگ لڑ رہاہے اور اس وقت تک وہ کتنی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔’’اس کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ ہے خالد!‘‘خلیفہ ؓ نے کہا۔’’کہ اس نے زرتشتوں کے محکوم مسلمانوں کو متحد رکھا ہوا ہے اور ان میں ایسا جذبہ پیدا کیا ہے کہ انہوں نے زرتشتوں کے ظلم و ستم میں اپنے سینوں میں اسلام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ابلہ اور عراق کے دوسرے علاقوں میں جہاں مسلمان آباد ہیں،وہ فارسیوں کے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ان حالات میں اپنے عقیدوں کو سینے سے لگائے رکھنا بے معنی سا بن جاتا ہے ،وہ مسلمان صرف اتنا کہہ دیں کہ مدینہ اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں تو ان کے سارے مصائب ختم ہو جائیں گے۔یہ مثنیٰ اور اس کے چند ایک ساتھیوں کا کمال ہے کہ انہوں نے ان حالات میں بھی وہاں کے مسلمانوں کو اسلام سے منحرف ہونے نہیں دیا۔اس کے علاوہ انہیں اپنے عقیدے کا اتنا پکا بنارکھا ہے کہ وہ زرتشتوں کے خلاف زمین دوز کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’مثنیٰ نے کچھ کیا ہے یا نہیں کیا،مسلمان کی حیثیت سے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جو مسلمان غیر مسلموں کے جوروستم کا نشانہ بنے ہوئے ہوں ان کی مدد کو پہنچیں۔‘‘’’کیا تم یہ مشورہ دیتے ہو کہ ہمیں ایرانیوں سے ٹکر لے لینی چاہیے؟‘‘خلیفہؓ نے پوچھا۔’’ہاں امیر المومنین!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ٹکر کیوں نہ لی جائے؟……یہاں تو صورتِ حال کچھ اور ہے۔جیسا کہ آپ نے بتایا ہے کہ مثنیٰ نے وہاں کچھ کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اس نے ہمارے حملے کیلئے راہ ہموار کر دی ہے۔

شب خون اور چھاپے مارنے والے اتنا ہی کر سکتے ہیں جتنا مثنیٰ نے کیا ہے۔وہ کسی علاقے پر قبضہ نہیں کر سکتے۔قبضہ کرنا منظم لشکر کا کام ہے۔یہ کام ہمیں ہر قیمت پرکر نا چاہیے۔اگر ہم نے مثنیٰ کی کامیابیوں کو آگے نہ بڑھایا تو اس کے دو نقصان ہوں گے۔ایک یہ کہ یہ کامیابیں ضائع ہو جائیں گی،اور دوسرے یہ کہ زرتشت مثنیٰ اور تمام مسلمانوں سے بہت برا انتقام لیں گے۔اس کے علاوہ فارسی دلیر ہو جائیں گے۔‘‘’’جیسا کہ مثنیٰ نے آپ کو بتایا ہے کہ اس نے ایرانیوں کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ ان کے حوصلے مجروح ہو گئے ہیں ،اگر انہیں دم لینے کا موقع دے دیا گیا تو وہ اپنے محکوم مسلمانوں کو قتل کریں گے اور اس خطرے کو ختم کرکے وہ اس سرحدی علاقے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیں گے۔اپنے علاقوں کو محفوظ کرنے کیلئے وہ اپنی سرحد کے باہر کے علاقوں پر بھی قابض ہو سکتے ہیں،اس خطرے سے محفوظ رہنے کی یہی ایک صورت ہے کہ ہم مثنیٰ کی مدد کو پہنچیں اور پیشتر اس کے کہ زرتشت ہماری طرف بڑھیں ہم انہیں ان کے اپنے علاقے سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیں۔‘‘
خلیفہ ابو بکرؓ نے خالدؓ کو یہ ہدایت دے کر رخصت کر دیا کہ وہ اپنے لشکر کو ساتھ لے کر عراق کی طرف پیش قدمی کریں۔’’خالد! ‘‘خلیفہ ابو بکرؓ نے کہا۔’’تمہارے لشکر میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو بڑے لمبے عرصے سے گھروں سے دور لڑ رہے ہیں۔انہیں فارسیوں جیسے طاقتور دشمن کے خلاف لڑانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔میں کسی کو مجبور نہیں کروں گا۔بہتر صورت یہ ہو گی کہ تم رضا کاروں کی ایک فوج بناؤ ۔اس میں ایسے آدمیوں کو رکھو جو مرتدین کے خلاف لڑ چکے ہیں تمہارے ساتھ کچھ ایسے آدمی بھی ہوں گے جو مرتدین کے ساتھ تھے ۔شکست کھا کر انہوں نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ وہ اسلامی لشکر میں شامل ہو جائیں،ایسے کسی آدمی کو اپنے لشکر میں نہ رکھنا۔ہم بڑے طاقتور دشمن کو للکارنے جا رہے ہیں۔میں اس لئے کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’کیا آپ مجھے یہ اجازت دے رہے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنے لشکر سے نکال دوں؟‘‘’’نکال دینا اور بات ہے ولید کے بیٹے!‘‘خلیفہ ابو بکرؓ نے کہا۔’’تم اپنے لشکر سے یہ کہنا کہ جو آدمی اپنے گھر کو جانا چاہتا ہے اسے جانے کی اجازت ہے۔پھر دیکھنا تمہارے ساتھ کون رہتا ہے ،اگر تمہارا لشکر بہت کم رہ گیا تو خلافت اس کی کمی کو کسی نہ کسی طرح پورا کرے گی……جاؤ ولید کے بیٹے! اﷲ تمہارے ساتھ ہے۔‘‘خلیفہ ابو بکرؓ عزم اور ایمان کے پکے تھے،انہوں نے عراق پر حملے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر وہ ہر حال میں ہر قیمت پر پورا عمل کرنا چاہتے تھے۔خالدؓ تو چاہتے ہی یہی تھے کہ انہیں لڑنے کا موقع ملتا رہے۔انہوں نے خلیفہ کے ارادے کو اور زیادہ پختہ کردیا۔عراق کے اس علاقے میں جہاں دجلہ اور فرات ملتے ہیں ،مسلمانوں کی بستیاں تھیں۔یہ مسلمان مجبوری اور مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے ۔اب وہاں کی صورت حال یہ ہو گئی کہ وہ پہلے کی طرح مظلوم اور مقہور رہے جیسے وہ چلتی پھرتی لاشیں ہوں۔لیکن ان کے گھروں میں ایسی سرگرمی شروع ہو گئی کہ وہ چھپ چھپ کر برچھیاں اور کمان بنانے لگے،انہیں مثنیٰ بن حارثہ کی طرف سے جو پیغام ملتا تھا وہ سرگوشیوں میں گھر گھر پہنچ جاتاتھا۔مثنیٰ کے چھاپہ ماروں نے عراق کی سرحد سے دور ایک دشوار گزار علاقے میں اپنا اڈہ بنا رکھا تھا۔برچھیاں اور تیر و کمان جو گھروں میں چوری چھپے تیار ہوتے تھے ،وہ رات کی تاریکی میں اس اڈے تک پہنچ جاتے تھے۔بستیوں سے جوان آدمی بھی غائب ہونے لگے ۔ایرانیوں کی سرحدی چوکیوں پر اور ان کے فوجی قافلوں پر مسلمانوں کے شب خون پہلے سے زیادہ ہو گئے۔یہ مسلمان در پردہ ایک فوج کی صورت میں منظم ہو رہے تھے اور اس فوج کی نفری بڑھتی جا رہی تھی۔

یمامہ میں خالدؓ کی فوج میں صورت ِ حال اس کے الٹ ہو گئی۔خالدؓنے جب اپنی فوج میں جاکر یہ اعلان کیا کہ جو کوئی اپنے گھر کو واپس جانا چاہتا ہے وہ جا سکتا ہے،تو اس کے دس ہزار نفری کے لشکر میں صرف دو ہزار آدمی رہ گئے۔
آٹھ ہزار آدمی مدینہ کو روانہ ہو گئے ۔خالدؓ نے خلیفہ ؓکے نام پیغام لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ ان کے پاس صرف دو ہزار کی نفری رہ گئی ہے ۔خالدؓ نے زور دے کر لکھا کہ انہیں فوری طور پر کمک کی ضرورت ہے۔امیر المومنین ابو بکرؓ اپنی مجلس میں بیٹھے تھے،خالد ؓکے قاصد نے انہیں خالدؓ کا تحریری پیغام دیا۔خلیفہ ؓنے یہ خط بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا۔اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مجلس میں ان کے جو مشیر اور دیگر افراد بیٹھے ہیں وہ سن لیں تاکہ کوئی مشورہ دے سکیں۔’’امیر المومنین!‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’خالد کیلئے کمک بہت جلدی چلی جانی چاہیے۔دو ہزار نفری سے زرتشتوں کے خلاف لڑائی کی سوچی بھی نہیں جا سکتی۔‘‘’’قعقاع بن عمرو کو بلاؤ۔‘‘امیر المومنین ؓنے حکم دیا۔تھوڑی دیر بعد گٹھے ہوئے جسم کا ایک قد آور نوجوان خلیفہ ؓکے سامنے آن کھڑا ہوا۔’’قعقاع!‘‘امیر المومنینؓ نے اس نوجوان سے کہا۔’’خالد کو کمک کی ضرورت ہے ۔تیاری کرو اور فوراً یمامہ پہنچو اور اس سے کہو کہ میں ہوں تمہاری کمک۔‘‘ ’’یا امیر المومنین!‘‘ایک مشیر نے حیران ہو کر کہا۔’’خدا کی قسم !آپ مذاق نہیں کر رہے لیکن اس سالار کو جس کی آٹھ ہزار فوج اس کا ساتھ چھوڑ گئی ہو،صرف ایک آدمی کی کمک دینا مذاق لگتا ہے۔‘‘امیر المومنین ابوبکرؓ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ تھے۔انہوں نے قعقاعؓ بن عمرو کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور سکون کی آہ لے کربولے۔’’مجاہدین کے جس لشکر میں قعقاع جیساجوان ہوگاوہ لشکر شکست نہیں کھائے گا۔ قعقاعؓ اسی وقت گھوڑے پر سوارہوا اورمدینہ سے نکل گیا۔مشہورمورخ طبری، ابنِ اسحٰق ،واقدی اور سیف بن عمر نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایک ایسا واقعہ ہو چکا تھا۔ایک سالار عیاض بن غنم نے محاذ سے مدینہ میں قاصد بھیجا تھا کہ کمک کی ضرورت ہے۔ خلیفہ ابو بکرؓ نے صرف ایک آدمی عبد بن عہف الحمیری کو کمک کے طور پر بھیجا تھا۔اس وقت بھی اہلِ مجلس نے حیرت کا اظہار کیا تھا اور امیرالمومنین ؓنے یہی جواب دیا تھا جو قعقاع ؓکو خالدؓ کے پاس بھیجنے پر دیا۔حقیقت یہ تھی کہ خلیفہ ابو بکرؓ خالدؓ کو مایوس نہیں کرنا چاہتے تھے۔لیکن مدینہ میں کمک نہیں تھی۔صرف یہی ایک محاذ نہیں تھا ،اس وقت تمام کے تمام مشہور سالار مختلف محاذوں پر لڑ رہے تھے،اور یہ ساری جنگ ارتداد کے خلاف لڑی جا رہی تھی۔اسلام کے دشمن دیکھ چکے تھے کہ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں شکست دینا بڑا مہنگا سودا ہے۔

چنانچہ اسلام کو کمزور کرکے ختم کرنے کا انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ کئی افراد نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اپنے اپنے طریقوں سے پیروکار بنا لیے،متعدد ایسے قبیلے جو اسلام قبول کر چکے تھے،اسلام سے منحرف ہو گئے اور اسلام سے انحراف کا یہ سلسلہ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ارتداد کے فتنے کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ تھا۔خلیفہ ابو بکرؓ کی خلافت اسی فتنے کے خلاف بر سر پیکار رہی۔اس فتنے کو وعظوں اور تبلیغی لیکچروں سے نہیں دبایا جا سکتا تھا۔اس کیلئے مسلح جہاد کی ضرورت تھی۔
۔یہ جنگی پیمانے کی مہم تھی جسے سر کرنے کیلئے مدینہ فوج سے خالی ہو گیا تھا۔کمزور محاذوں کو کمک دینے کیلئے دوسرے محاذوں سے فوج بھیجی جاتی تھی۔امیر المومنینؓ نے خالدؓ کو صرف ایک آدمی دینے پر اکتفا نہ کیا،انہوں نے دو طاقتور قبیلوں مفر اور ربیعہ ۔کے سرداروں کو پیغام بھیجے کہ خالدؓ کو زیادہ سے زیادہ آدمی دیں۔
صرف ایک آدمی؟قعقاع ؓبن عمرو جب خالدؓ کے پاس پہنچا تو خالدؓ نے اپنے خیمے میں غصے سے ٹہلتے ہوئے کہا۔’’صرف ایک آدمی؟کیا میں نے امیر المومنین کو بتایا نہیں کہ میرے پاس صرف دو ہزار لڑنے والے رہ گئے ہیں؟اور خلافت مجھ سے توقع رکھتی ہے کہ میں فارس کی اس فوج سے ٹکر لوں جو زرہ میں ڈوبی ہوئی ہے۔‘‘’’میرے سالار!‘‘قعقاعؓ نے کہا۔’’میں آٹھ ہزار کی کمی پوری نہیں کر سکتا۔خدا کی قسم !کوئی کمی رہنے بھی نہیں دوں گا۔وقت آنے دیں۔جس رسولﷺ کا کلمہ پڑھتا ہوں اس کی روح مقدس کے آگے تمہیں شرمسار نہیں ہونے دوں گا۔‘‘’’میں یمامہ میں بیٹھا نہیں رہوں گا۔‘‘خالدؓ نے ایسے کہا جیسے اپنے آپ سے بات کررہے ہوں۔’’مثنیٰ میرا انتظار کر رہا ہو گا۔میں اسے اکیلا نہیں چھوڑوں گا،لیکن……‘‘خالدخاموش ہو گئے۔انہوں نے اوپر دیکھا اور سرگرشی میں کہا ۔’’خدائے عزوجل!میں نے تیرے نام کی قسم کھائی ہے۔اپنے نام کی خاطر میری مدد کر۔مجھے ہمت اور استقلال عطا فرما کہ میں اس آگ میں کود کر اسے ٹھنڈا کر دوں جس کی زرتشت عبادت کرتے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں اور محمدﷺتیرے رسول ہیں۔‘‘’’کیا تو ہمت ہار رہا ہے ولید کے بیٹے؟‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’کیا تو نے نہیں کہاتھا کہ اﷲ کی راہ میں لڑنے والوں کی اﷲ مدد کرتا ہے؟‘‘’’میں ہمت نہیں ہاروں گا۔‘‘خالد نے کہا۔’’میں شکست کا عادی نہیں…… اﷲ مددکرے گا۔خدا کی قسم!میں جاہ و جلال کا طلبگار نہیں ۔مجھے فارس کے بادشاہ کا تخت نہیں چاہیے ۔مجھے وہ زمین چاہیے جو اﷲ کی ہے،اور اس پر بسنے والے اﷲ اور اس کے رسولﷺ کے نام لیوا ہوں گے۔‘‘وہ دو ہزار مجاہدین جو خالدؓ کے ساتھ رہ گئے تھے ،یمامہ کے ایک میدان میں خالدؓ کے ساتھ کھڑے تھے ۔خالد ؓگھوڑے پرسوار تھے۔’’مجاہدینِ اسلام!‘‘خالدؓ اپنی اس قلیل فوج سے بڑی بلند آواز اسے مخاطب ہوئے۔’’اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کا نام دور دور تک پہنچانے کیلئے چنا ہے۔وہ جنہیں اپنے گھر اور اپنے مال و عیال عزیز تھے وہ چلے گئے ہیں۔ ہمیں ان سے گلا نہیں،انہوں نے خاک و خون کے راستوں پر ہمارا ساتھ دیا تھا ۔بڑے لمبے عرصے تک وہ ہمارے ہم سفر رہے۔ اﷲ انہیں جہاد کا صلہ عطا فرمائے۔ تم نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس کا اجر میں نہیں اﷲ دے گا ۔ہم بہت ہی طاقتور دشمن پر حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ مت دیکھو ہماری تعداد کتنی ہے۔

بدر کے میدان میں تم کتنے اور قریش کتنے تھے ۔احد میں بھی مسلمان تھوڑے تھے ۔میں اس وقت مسلمانوں کے دشمن قبیلے کا فرد تھا۔ تم میں بھی ایسے موجود ہیں جو قبولِ اسلام سے پہلے بدر کے میدان میں مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ کیا ہم نے کہا نہیں تھا کہ ان تھوڑے سے مسلمانوں کو ہم گھوڑوں کے سموں تلے کچل ڈالیں گے؟کیا تمہیں یاد نہیں کہ ہم جو تعداد میں بہت زیادہ تھے ان کے ہاتھوں پسپا ہوئے تھے جو تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔ کیوں ……؟ایسا کیوں ہوا تھا……؟اس لئے کہ مسلمان حق پرتھے،اور اﷲ حق پرستوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ آج تم حق پرست ہو۔‘‘خالدؓ کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جو انہوں نے کھول کر اپنے سامنے کیا۔ ’’امیر المومنین نے ہمارے نام ایک پیغام بھیجا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے میں خالد بن ولید کو فارسیوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے بھیج رہا ہوں۔ تم سب خالد کی قیادت میں اس وقت تک جنگ جاری رکھو گے جب تک تمہیں خلافت کی طرف سے حکم نہیں ملتا۔خالد کا ساتھ نہ چھوڑنا اور دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو بزدلی نہ دکھانا،تم ان میں سے ہو جنہوں نے اس اجازت کے باوجود کہ جو گھروں کو جانا چاہتے ہیں جا سکتے ہیں۔اﷲ کی تلوار کا ساتھ نہیں چھوڑا۔تم نے اپنے لیے وہ راستہ منتخب کیا ہے جو اﷲ کی راہ کہلاتا ہے۔تصور میں لاؤاس ثوابِ عظیم کو جو اﷲ کی راہ پر چلنے والوں کو ملتا ہے۔اﷲ تمہارا حامی و ناصر ہو۔تمہاری کمی وہی پوری کرے گا۔اسی کی رضا اور خوشنودی کے طلبگار رہو۔‘‘ایک مورخ ازدی نے اس خط کا پورا متن اپنی تاریخ میں دیا ہے۔ معلوم نہیں ابنِ خلدون اور ابنِ اثیر نے جن کی تحریریں مستند مانی جاتی ہیں اس خط کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ان دو ہزار مجاہدین کو کسی وعظ کی یا اشتعال انگیزی کی ضرورت نہیں تھی ۔یہ تو رضاکارانہ طور پر خالدؓ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ ان میں بیشتر ایسے تھے جنہوں نے رسولِ کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور اسلام قبول کیااور آپ ﷺ کی قیادت میں لڑائیاں لڑی تھیں۔حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد وہ یوں محسوس کرتے جیسے آپ ﷺ کی روحِ مقدس ان کی قیادت کر رہی ہو۔

رسول ﷲﷺ کے ان شیدایوں نے خالدؓ کی اجازت سے ایک کام یہ بھی کیا کہ گھوڑوں پر سوار ہوکر یمامہ کے گردونواح میں نکل گئے اور بستی بستی جا کر لوگوں کو گھوڑ سواری کے مختلف کرتب دکھانے لگے۔مثلا دوڑتے گھوڑوں سے اترنا اور سوار ہونا ،سرپٹ دوڑتے گھوڑوں سے نشانے پر تیر چلانا، نیزہ بازی اور گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے تیغ زنی کے کمالات۔وہ جوانوں کو فوج میں بھرتی ہو جانے پر اکساتے اور انہیں بتاتے کہ جنگ میں جا کر انہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے ۔اس کے علاوہ ان لوگوں کو یہ بھی بتاتے تھے کہ وہ فوج میں بھرتی نہ ہوئے تو ایرانی آکر انہیں اپنا غلام بنا لیں گے۔جو ان سے بیگار لے گی ،انہیں دیں گے بھی کچھ نہیں ،اور ان کی جوان بہنوں ،بیویوں اور بیٹیوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا کریں گے۔اس خطے نے ایرانیوں کا دورِ حکومت دیکھا تھا ۔پھر انہوں نے جھوٹے پیغمبروں کی شعبدے بازیاں دیکھی تھیں اور اب وہ مسلمانوں کی حکومت دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں نے انہیں غلام بنانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ان کے انداز ،طور طریقے او رہن سہن بادشاہوں جیسے یا حکمرانوں جیسے نہیں تھے۔ وہ عام لوگوں کی طرح رہتے ،عام لوگوں کے ساتھ باتیں کرتے اور ان کی سنتے تھے۔ان کی عورتوں کی عزت محفوظ تھی۔
ان لوگوں میں وہ بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن مسیلمہ جیسے شعبدے باز نے انہیں گمراہ کیا اور اسلام کے راستے سے ہٹا لیا تھا۔انہوں نے مسیلمہ کی نبوت کو مسلمانوں کے ہاتھوں بے نقاب ہوتے دیکھا اور مسیلمہ کی جنگی قوت کو مسلمانوں کی قلیل نفری کی بے جگری کے آگے ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا تھااور وہ محسوس کر رہے تھے کہ سچا عقیدہ اور نظریہ اسلام ہی ہے۔جو جھوٹ کی طاقتوں کو کچل دیتا ہے اور وہ غیبی طاقت جو سچے کو جھوٹے پر حق کو باطل پر فتح دیتی ہے وہ اسلام میں مضمر ہے ۔چنانچہ یہ لوگ خالدؓ کی فوج میں شامل ہونے لگے ۔یہ خالدؓ کے مجاہدین کی کوششوں کا حاصل تھا۔یمامہ میں شور اٹھا ۔کچھ لوگ دوڑتے ہوئے بستی سے باہر چلے گئے۔عورتیں چھتوں پر جا چڑھیں،افق سے گرد کی گھٹائیں اٹھ رہی تھیں اوریمامہ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔’’آندھی آ رہی ہے۔‘‘’’لشکر ہے ……کسی کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘’’ہوشیار……خبردار……تیار ہوجاؤ۔‘‘خالدؓ ایک قلعہ نما مکان پر جا چڑھے۔یہ آندھی نہیں۔کسی کی فوج تھی۔مرتدین کے سوا اور کس کی فوج ہو سکتی تھی؟خالدؓ کو افسوس ہونے لگا کہ کس برے وقت انہوں نے اپنی فوج سے کہا تھا کہ جو گھروں کو جانا چاہتے ہیں چلے جائیں۔گرد کے جو بادل اٹھتے نظر آ رہے تھے یہ بہت بڑے لشکر کی گرد تھی۔خالدؓ کے پاس صرف دو ہزار نفری تھی یا وہ نفری تھی جو ابھی ابھی فوج میں شامل ہوئی تھی۔اس پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔لیکن اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔یمامہ کی آبادی تھی۔اس میں لڑنے والے آدمی موجود تھے۔لیکن یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ یہ لوگ دشمن سے مل جائیں گے،اور یہ خطرہ بھی کہ یہ پیٹھ پر وار کریں گے۔’’مجاہدینِ اسلام!‘‘خالد ؓنے قلعہ نما مکان کی چھت سے للکار کر کہا۔’’بہت بڑے امتحان کا وقت آ گیا ہے۔اﷲ کے سوا تمہارا مددگار کوئی نہیں۔‘‘خالد چپ ہو گئے کیونکہ انہیں دفوں اور ڈھولوں کی دھمک سنائی دینے لگی تھی۔حملہ آور دف بجاتے نہیں آیا کرتے۔دھمک بلند ہوتی جا رہی تھی۔خالدؓ نے اُدھر دیکھا۔گرد بہت قریب آ گئی تھی،اور اس میں چھپے ہوئے اونٹ اور گھوڑے نظر آنے لگے تھے۔گرد کے دبیز پردے میں آنے والا لشکر نعرے لگانے لگا۔’’اسلام کے پاسبانو!‘‘خالد ؓنے اوپر سے چلا کر کہا۔’’اﷲ کی مدد آ رہی ہے۔
۔آگے بڑھو، استقبال کرو، دیکھو! یہ کون ہیں؟‘‘خالدؓ دوڑتے نیچے اترے ۔اپنے گھوڑے پر کود کر سوار ہوئے اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر بستی سے نکل گئے۔آنے والا لشکر بستی سے کچھ دور رک گیااور دو گھوڑ سوار آگے بڑھے ۔خالدؓ ان تک پہنچے اور گھوڑے سے اترے۔وہ دونوں سوار بھی اتر آئے۔وہ مضر اور ربیعہ قبائل کے سردار تھے۔
’’مدینہ سے اطلاع آئی تھی کہ تمہیں مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ایک سردار نے کہا۔’’میں چار ہزار آدمی ساتھ لایا ہوں۔ان میں شتر سوار بھی ہیں،گھوڑ سوار بھی ہیں اور پیادے بھی۔‘‘’’اور چار ہزار کی تعداد میرے قبیلے کی ہے۔‘‘دوسرے سردارنے کہا۔خالدؓ نے فرطِ مسرت سے دونوں کو اپنے بازوؤں میں لے لیااور خوشی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولے۔’’اﷲ کی قسم!اﷲ نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔‘‘خالدؓ کے پاس اب دس ہزار نفری کا لشکر جمع ہو گیا تھا۔انہوں نے مضر اور ربیعہ کے سرداروں کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ انہیں کہاں جانا ہے اور دشمن کتنا طاقتور ہے۔’’ہم تمہاری مدد کو آئے ہیں ولید کے بیٹے!‘‘ایک سردار نے کہا۔’’ہماری منزل وہی ہے جوتمہاری ہے۔‘‘’’مدینہ سے ہمیں اطلاع ملی ہے کہ امیرِلشکر تم ہو۔‘‘دوسرے سردار نے کہا۔’’جہاں کہو گے چلیں گے۔دشمن جیسا بھی ہو گا لڑیں گے۔‘‘خالدؓ نے ایرانی سلطنت کے ایک حاکم ہرمزکے نام پیغام لکھوایا۔اس وقت عراق ایران کی شہنشاہی کا ایک صوبہ تھا۔اس کا حاکم یا امیر ہرمز تھا۔جس کی حیثیت آج کل کے گورنر جیسی تھی۔اس کا ذکر پیچھے آ چکا ہے۔وہ بڑا ہی بد طینت ،جھوٹا اور فریب کار تھا۔ کمینگی میں اس کا نام ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔خالدؓ نے اس کے نام خط میں لکھوایا:’’تم اسلام قبول کرلو گے تو تمہارے لیے امن ہو گا۔اگر نہیں تواپنا علاقہ سلطنت ِ اسلامیہ میں شامل کر دو۔اس کے حاکم تم ہی رہو گے اور مدینہ کی خلافت کو جزیہ ادا کرتے رہو گے۔اس کے عوض تمہاری اورتمہارے لوگوں کی سلامتی اور دفاع کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔اگر یہ بھی منظور نہیں تو اپنی سلامتی کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔ اﷲ ہی جانتا ہے کہ تمہارا انجام کیا ہوگا۔فتح و شکست اﷲ کے اختیار میں ہے لیکن میں تمہیں خبردار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ہم وہ قوم ہیں جو موت کی اتنی ہی عاشق ہے جتنی کہ تمہیں زندگی عزیز ہے۔میں نے اﷲ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے۔‘‘خالدؓ نے یہ خط ایک ایلچی کو دے کر کہا کہ وہ دو محافظ اپنے ساتھ لے جائے اور جس قدر تیز جا سکتا ہے ،یہ پیغام ہرمز تک پہنچائے اور جواب لائے۔’’تمہاری واپسی تک میں یمامہ میں نہیں ہوں گا۔‘‘خالدؓ نے ایلچی سے کہا۔’’مجھے عراق کی سرحد پر کہیں ڈھونڈ لینا۔اُبلہ کو یاد رکھنا۔وہاں سے تمہیں پتا چل جائے گا کہ میں کہاں ہوں۔‘‘ایلچی کی روانگی کے فوراً بعدخالد ؓنے دس ہزار کے لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا۔خالدؓ کو پتا نہیں تھا کہ اﷲ کی ابھی اور مدد اس کی منتظر ہے۔امیرالمومنینابو بکرؓ نے شمال مشرقی عرب کے علاقوں میں آباد تین قبیلوں کے سرداروں مذعور بن عدی،ہرملہ اور سُلمہ، کو پیغام بھیجے تھے کہ اپنے اپنے قبیلے کے زیادہ سے زیادہ ایسے آدمی مثنیٰ بن حارثہ کے پاس لے جائیں جنہیں جنگ کا تجربہ ہو اور جو پیٹھ دکھانے والے نہ ہوں۔انہیں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ خالد ؓاپنی فوج لے کر آ رہا ہے اور وہ ان کا اور اپنے لشکر کا سالارِ اعلیٰ ہوگا۔
-----------

ابلہ اور دیگر ایسے علاقوں میں جہاں عربی مسلمان ایرانیوں کے محکوم تھے،صورتِ حال کچھ اور ہی ہو چکی تھی۔پہلے مثنیٰ بن حارثہ نے ان بستیوں کے چند ایک جوشیلے جوانوں کو ایرانیوں کی فوجی چوکیوں اور فوجی قافلوں پر شبخون مارنے کیلئے اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔لیکن اب اس محکوم آبادی میں سے ایک فوج تیار کرنی تھی۔کچھ فوج تو ا س نے اپنے قبیلے بکر بن وائل سے تیار کر لی تھی،جو مدینہ کے ایک سالار علاء بن حضرمی کے دوش بدوش عراق کی سرحد کے علاقوں میں مرتدین کے خلاف لڑی بھی تھی۔مثنیٰ نے ایرانیوں کے محکوم مسلمانوں کو اطلاع بھیج دی تھی کہ جس قدر جوان آدمی وہاں سے نکل کر باہر آسکیں ،آ جائیں۔
مسلمانوں کا وہاں سے نکلنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔کیونکہ زرتشتوں کی فوج مسلمانوں کی بستیوں پر کڑی نظر رکھتی تھی۔انہیں معلوم تھا کہ ان پر شبخون مارنے والے یہی مسلمان ہیں۔اب ایران کی فوج کو نئے احکام ملے تھے۔یہ احکام جاری کرنے والا عراقی صوبے کا حاکم ہرمز تھا۔چند ہی دن پہلے کا واقعہ تھا کہ خالد ؓکا ایلچی ہرمز کے دربار میں پہنچا۔یہ شہنشاہوں کا دربار تھا۔ہرمز کو جب اطلاع دی گئی تھی کہ مدینہ کے سالار خالدؓ کا ایلچی آیا ہے تو ہرمزنے چہرے پر نفرت اور رعونت کے آثارپیدا کر لئے تھے۔’’میں کسی مسلمان کی صورت نہیں دیکھنا چاہتا۔‘‘اس نے کہا تھا۔’’لیکن میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیوں آیا ہے؟‘‘
’’زرتشت کی قسم!‘‘ایک درباری نے اٹھ کر ہرمز سے کہا۔’’خالد کا ایلچی کوئی پیغام لایا ہوگا۔ جو اس کی اپنی موت کا پیغام ثابت ہو گا۔‘‘’’لے آؤ اسے اندر!‘‘ہرمز نے کہا۔خالد ؓکا ایلچی دو محافظوں کے ساتھ بڑے تیز قدم اٹھاتا ہرمز کے دربار میں داخل ہوااور سیدھا ہرمز کی طرف گیا۔دو برچھی برداروں نے سامنے آ کر اسے روکا لیکن وہ دونوں کے درمیان سے گزر کر ہر مز کے سامنے جا کھڑا ہوا۔’’السلام و علیکم!‘‘ایلچی نے کہا۔’’ہرمز آتش پرست کو خالد بن ولید سالارِ مدینہ کا سلام پہنچے جن کا ایک پیغام لایا ہوں۔‘‘’’ہم اس سالار کاسلام قبول نہیں کریں گے جس کے ایلچی میں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ہمارے جاہ وجلال کو پہچان سکے۔‘‘ہرمز نے حقارت سے کہا۔’’کیا مدینہ میں جنگلی اور گنوار آباد ہیں ؟کیا تمہیں نہیں بتایا گیا کہ تم ایک شاہی دربار میں جا رہے ہو،تمہیں دربار کے آداب نہیں سکھائے گئے؟‘‘
’’مسلمان صرف اﷲ کے دربار کے آداب سے آگاہ ہوتا ہے۔‘‘ایلچی نے جرات سے سر کچھ اور اونچا کر کے کہا۔’’اس انسان کواسلام کوئی حیثیت نہیں دیتا جو اﷲ کے بندوں پر اپنے دربار کا رعب گانٹھتا ہے۔میں تمہارا درباری نہیں،اس سالار کا ایلچی ہوں جسے اﷲ کے رسولﷺ نے اﷲ کی تلوار کہا ہے۔‘‘’’ہرمز کے سامنے وہ تلوار کند ہو جائے گی۔‘‘ہرمز نے فرعونوں کے سے لہجے میں کہا اور ہاتھ بڑھا کرتحکمانہ لہجے میں بولا۔’’لاؤ تمہارے اﷲ کی تلوار نے کیا پیغام بھیجا ہے؟‘‘ایلچی نے پیغام اس کے ہاتھ میں دے دیا ،جو وہ اس طرح پڑھنے لگا جیسے ازراہِ مذاق اس نے ایک کاغذ ہاتھ میں لے لیا ہو۔پیغام پڑھ کر اس نے اسے مٹھی میں اس طرح چُڑ مُڑ کردیا جیسے یہ ایک ردّی کا ٹکڑا ہو،جسے وہ پھینک دے گا۔’’کیا کیڑے مکوڑے یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ ایک چٹان سے ٹکر لے سکیں گے؟‘‘ہرمزنے کہا۔’’کیا مدینہ والوں کو کسی نے نہیں بتایا کہ ہرقل بھی اس چٹان سے ٹکرا کر اپنا سر پھوڑ چکا ہے؟کیا ہم تمہیں اپنی فوج کی ایک جھلک دِکھائیں تاکہ تم اپنے سالار کو اور اپنے بوڑھے خلیفہ کو بتا سکو کہ عراق کی سرحد کی طرف دیکھنے کی بھی جرات نہ کریں؟‘‘’’مجھے سالارِ اعلیٰ نے صرف یہ حکم دیا تھا کہ یہ پیغام ہرمز تک پہنچا کر اس کا جواب لاؤں۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’میں تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے ایسا کوئی حکم نہیں ملا۔‘‘

’’تم جیسے ایلچی کے ساتھ ہم یہ سلوک کرتے ہیں کہ اسے قید خانے میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘ہرمز نے کہا۔’’اگر ہم رحم کریں تو اسے قید خانے کی اذیت سے بچانے کیلئے جلاد کے حوالے کر دیتے ہیں۔‘‘’’میری جان میرے اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ایلچی نے پہلے سے زیادہ جرات سے کہا۔’’اگر تم مسلمان ہوتے تو تمہیں علم ہوتا کہ مہمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔لیکن اﷲ کے منکر اور آگ کے پجاری سے اس سے بہتر سلوک کی توقع نہیں کی جا سکتی۔مجھے جلاد کے حوالے کر دو لیکن یہ سوچ لو کہ مسلمان میرے اور میرے محافظوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لیں گے۔‘‘ہرمز بدک کر سیدھا ہو بیٹھا۔غصے سے اس کی آنکھیں لال سرخ ہو گئیں۔ویسی ہی سرخی اس کے چہرے پر بھی آگئی۔جیسے کہ وہ خالدؓ کے اس ایلچی کو کچا چبا جائے گا۔’’نکال دو اسے ہمارے دربار سے۔‘‘ہرمز نے گرج کر کہا-
چار پانچ درباری جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں،تیزی سے آگے بڑھے، ایلچی کے دونوں محافظوں نے تلواریں نکال لیں، پہلے وہدونوں ایلچی کے پیچھے کھڑے تھے، اب وہ ایلچی کے پہلوؤں میں اس طرح کھڑے ہو گئے کہ ان کی پیٹھیں ایلچی کی طرف تھیں۔
’’ہرمز!‘‘ ایلچی نے بارعب آوازمیں کہا۔’’جنگجو میدانِ جنگ میں لڑا کرتے ہیں، اپنی طاقت کا گھمنڈ اپنے دربار میں نہ دِکھا،مجھے اپنے سالار کے پیغام کا جواب مل گیا ہے،۔تجھے ہماری کوئی شرط قبول نہیں……کیا یہی ہے تیرا جواب؟‘‘’’نکل جاؤ اس دربار سے۔‘‘ہر مز نے غصے سے کانپتی ہوئی بلند آواز سے کہا۔’’اپنے سالار سے کہنا کہ میری طاقت کو میدانِ جنگ میں آزمالے۔‘‘ہرمز کے برچھی بردار درباری اس کے اشارے پر رک گئے تھے۔ ایلچی کے محافظوں نے تلواریں نیاموں میں ڈال لیں۔ایلچی پیچھے کومڑا اور تیز قدم دربار سے نکل گیا۔
-----

دونوں محافظ اس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ہرمز نے مٹھی کھولی، جس میں خالد کا پیغام چڑ مڑ کیا ہوا تھا۔ چونکہ یہ پیغام باریک کھال پر لکھا ہوا تھا اس لیے یہ مٹھی کھولتے ہی سیدھا ہو گیا۔ ہرمز نے یہ پیغام فارس کے شہنشاہ اُردشیر کی طرف اس اطلاع کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ مسلمانوں سے مقابلے کیلئے فوری طور پر سرحد کی طرف کوچ کر رہا ہے اور وہ مسلمانوں کو سرحد سے دور ہی ختم کر دے گا۔’’ہرمز کا اقبال بلند ہو۔‘‘اس کے ایک درباری نے کہا۔’’جس دشمن کو آپ سرحد سے دور ہی ختم کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی سرحد کے اندر موجود ہے۔‘‘ہرمز نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔’’یہ وہ عربی مسلمان ہیں۔‘‘اس درباری نے کہا۔’’جو دجلہ اور فرات کے اس علاقے میں آباد ہیں جہاں یہ دونوں دریا ملتے ہیں ۔یہ علاقہ ابلہ تک چلا جاتا ہے۔انہوں نے کبھی کی سلطنتِ ایران کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔مدینہ والوں نے ہم پر حملہ کیا تو یہ مسلمان ان سے مل جائیں گے۔‘‘’’میں ایک عرض کرنے کی جرات کرتا ہوں۔‘‘ایک فوجی مشیر نے کہا۔’’کئی دنوں سے اطلاعیں مل رہی ہیں کہ مسلمان جو لڑنے کے قابل ہیں یعنی جوان ہیں ۔وہ اپنی بستیوں سے غائب ہوتے جا رہے ہیں ۔وہ یقینا مثنیٰ بن حارثہ تک پہنچ رہے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ فوج کی صورت میں منظم ہو رہے ہیں۔‘‘’’کیا تم نے فرار کا یہ سلسلہ روکنے کیلئے کوئی کارروائی کی ہے؟‘‘ہرمز نے پوچھا۔’’فوجی دستے باقاعدہ نگرانی کر رہے ہیں۔‘‘فوجی مشیر نے جواب دیا۔’’اس کے باوجود مسلمان غائب ہو رہے ہیں……?‘‘ہرمز نے غصے اور طنز سے کہا۔’’سرحدی چوکیوں کو ابھی حکم بھیجو کہ مسلمانوں کی بستیوں پر چھاپے مارتے رہیں۔ہر بستی کی تمام آبادی کو باہر نکال کر دیکھیں کہ کتنے آدمی غائب ہیں اور وہ کب سے غائب ہیں ؟جس گھر کا آدمی غائب ہو اس گھر کو آگ لگا دو۔کوئی مسلمان سرحد کی طرف جاتا نظر آئے تو اسے پکڑ کر قتل کر دو یا دور سے اس پر تیر چلا دو۔‘‘اس علاقے میں مسلمانوں کی ایک بستی تھی جو سرحد کے بالکل قریب تھی۔ایرانی فوج کی تھوڑی سی نفری نے اس بستی میں جا کر اعلان کیا کہ بچے سے بوڑھے تک باہر نکل آئیں۔سپاہیوں نے گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔عورتوں کو الگ اور مردوں کو الگ کھڑا کر دیا گیا۔سپاہیوں کا انداز بڑا ہی ظالمانہ تھا۔وہ گالیوں کی زبان میں بات کرتے اور ہر کسی کودھکے دے دے کر اِدھر سے اُدھر کرتے۔انہوں سے اعلان کیا کہ اُن آدمیوں کے نام بتائے جائیں اور ان کے گھر دِکھائے جائیں جو بستی میں نہیں ہیں۔تمام آبادی خاموش رہی۔’’جواب دو۔‘‘ایرانی کمانڈر نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔اسے کوئی جواب نہ ملا۔کمانڈر نے آگے بڑھ کر ایک بوڑھے آدمی کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا اور اس سے پوچھا کہ اس ہجوم میں کون کون نہیں ہے؟’’ مجھے معلوم نہیں۔‘‘بوڑھے نے جواب دیا۔

کمانڈر نے نیام سے تلوار نکال کر بوڑھے کے پیٹ میں گھونپ دی اور تلوار زور سے باہر کو کھینچی۔بوڑھا دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ کر گر پڑا۔کمانڈر پھر ایک بار لوگوں کی طرف متوجہ ہوا۔اچانک ایک طرف سے آٹھ دس گھوڑے سرپٹ دوڑتے آئے۔ان کے سواروں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ۔ایرانی فوجی دیکھنے بھی نہ پائے تھے کہ یہ کون ہیں۔ان میں سے کئی ایک کے جسموں میں برچھیاں اتر چکی تھیں اور گھوڑے جس طرح آئے تھے اسی طرح سرپٹ دوڑتے بستی سے نکل گئے۔ایرانی فوجیوں کی تعداد چالیس پچاس تھی، ان میں بھگدڑ مچ گئی ۔ان میں سے آٹھ دس زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے۔گھوڑوں کے قدموں کی دھمک سنائی دے رہی تھی جو دور ہٹتی گئی اور اب پھر قریب آنے لگی تھی۔اب فوجیوں نے بھی برچھیاں اور تلواریں تان لیں اور اس طرف دیکھنے لگے جدھر سے گھوڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔پیچھے سے بستی کی آبادی ان کے اوپر ٹوٹ پڑی۔ان سپاہیوں میں سے وہی زندہ رہے جو کسی طرف بھاگ نکلے تھے۔جب سوار بستی میں پہنچے تو انہیں گھوڑے روکنے پڑے کیونکہ ان کی راہ میں بستی کے لوگ حائل تھے ۔جو ایرانی فوجیوں کا کشت و خون کر رہے تھے۔اس سے پہلے مسلمانوں نے یوں کھلے بندوں ایرانی فوج پر حملے کرنے کی جرات کبھی نہیں کی تھی ۔ایک ایرانی سپاہی پر ہاتھ اٹھانے کی سزا یہ تھی کہ ہاتھ اٹھانے والے کے پورے خاندان کو ختم کر دیا جاتا تھا۔اب یہاں کے مسلمان اس لئے دلیر ہو گئے تھے کہ اُنہیں اطلاع مل چکی تھی کہ مدینہ کی فوج آ گئی ہے۔جن سواروں نے ایرانیوں پر حملہ کیا تھا وہ کچھ اس بستی کے رہنے والے جوان تھے، کچھ دوسری بستیوں کے تھے۔یہ محض اتفاق تھا کہ وہ مثنیٰ بن حارثہ کی طرف جاتے ہوئے اس بستی کے قریب سے گزر رہے تھے۔انہوں نے اس بستی کی آبادی کو باہر کھڑے دیکھا اور ایرانی فوجیوں کو بھی دیکھا۔وہ چھپ کر آگے نکل سکتے تھے لیکن ایرانی کمانڈر نے بوڑھے کے پیٹ میں تلوار گھونپی تو سب نے آپس میں صلاح و مشورے کئے بغیر گھوڑوں کے رُخ اس طرف کر لئے ۔ایرانی فوجیوں نے تو انہیں جاتے ہوئے دیکھا ہی نہیں تھا۔یہ اﷲ کی مدد تھی جو اس مظلوم بستی کو بر وقت مل گئی۔یہ بستی تو خوش قسمت تھی کہ اسے مدد مل گئی اور ایرانیوں کی بھیانک سزا سے بچ گئی۔مسلمانوں کی دوسری بستیوں پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔ہر بستی کے ہر گھر کی تلاشی ہر رہی تھی۔یہ دیکھا جا رہا تھا کہ کتنے آدمی غائب ہو چکے تھے ۔ہر بستی میں ایرانی کئی آدمیوں کو قتل کررہے تھے۔بعض مکانوں کو انہوں نے نذرِ آتش بھی کر دیا۔
تین چار روز یہ سلسلہ چلا۔اس کے بعد ایرانی فوج کو بستیوں کی طرف توجہ دینے کی مہلت نہ ملی۔ہرمز اپنی فوج لے کر آگیا۔سرحدی فوج کو بھی اس نے اپنے ساتھ لے لیا اور سرحد سے نکل گیا۔اس کا ارادہ یہ تھاکہ۔۔۔
کہ خالدؓ کو وہ سرحد سے دور روک لے گا۔

*( جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر26
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
[29/03, 3:21 p.m.] +92 312 5867358: *شمشیرِ بے نیام*

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
   

*( قسط نمبر-26)*

ہرمز کی پیش قدمی بہت تیز تھی۔مارچ ۶۳۳ء کاتیسرا ہفتہ تھا جب خالدؓ نے یمامہ سے دس ہزار فوج لے کر کوچ کیا تھا ۔یہ محرم ۱۲ ھ کا مہینہ تھا۔ان کی پیش قدمی بھی بہت تیز تھی۔ہرمز اپنی فوج کے ساتھ اپنی سرحد سے بہت دور کاظمہ کے مقام پر پہنچ گیا اور فوج کو وہیں خیمہ زن کر دیا۔یہ مقام یمامہ اور اُبلہ کے راستے میں پڑتا تھا۔ہرمز کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی پیش قدمی کو دیکھنے والے موجود ہیں۔خالدؓ ابھی کاظمہ سے دور تھے کہ انہیں عراق کی سمت سے آتے ہوئے دو شتر سوار ملے۔انہوں نے خالدؓ کو بتایا کہ زرتشتوں کی فوج کاظمہ میں خیمہ زن ہے۔خالدؓ نے وہیں سے رستہ بدل دیا۔یہ شتر سوار مثنیٰ کے بھیجے ہوئے تھے۔انہوں نے خالد ؓکو یہ بھی بتایا کہ وہ حفیر کے مقام تک اس طرح پہنچ جائے کہ زرتشتوں کی فوج کے ساتھ اس کی ٹکر نہ ہو۔شتر سواروں نے خالد ؓکو ایک خوشخبری یہ سنائی کہ ان کیلئے آٹھ ہزار نفری کی فوج تیار ہے۔یہ فوج اس طرح تیار ہوئی تھی کہ مثنیٰ بن حارثہ ،مذعور بن عدی ،ہرملہ اور سُلمہ نے دو دو ہزار لڑنے والے جوان اکھٹے کر لئے تھے ۔اس طرح خالدؓ کی فوج کی تعداد اٹھارہ ہزار ہوگئی۔خالدؓ نے اپنی پیش قدمی کا راستہ اس طرح بدل دیا کہ کاظمہ کے دورسے گزر کر حفیر تک پہنچ سکیں ،لیکن ہرمز کے جاسوس بھی صحرا میں موجود تھے۔انہوں نے خالدؓ کے لشکر کو دور کے راستے سے جاتے دیکھ لیا۔آگے وہ راستہ تھا جو حفیر سے نبّاج کی طرف جاتا تھا۔ہرمز نے اپنی فوج کو خیمے اکھاڑنے اور بہت تھوڑے وقت میں حفیر کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا۔حفیر کے اردگرد پانی کے کنوئیں موجود تھے۔ہرمز نے وہاں خالدؓ سے پہلے پہنچ کر خیمے گاڑدیئے۔اس طرح پانی ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔خالدؓ ابھی حفیر سے کچھ دور تھے کہ ایک بار پھردونوں شتر سوار ان کے راستے میں آگئے،اور خالدؓ کو اطلاع دی کے دشمن حفیر کے مقام پرپانی کے کنوئیں پر قابض ہو چکا ہے۔خالدؓ نے کچھ اور آگے جا کر ایسی جگہ پڑاؤ کا حکم دے دیا جہاں دور دور تک پانی کی ایک بوند نہیں مل سکتی تھی۔فوج نے وہاں پڑاؤ تو ڈال دیا لیکن خالد ؓکو بتایا گیا کہ فوج میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے کہ پڑاؤ ایسی جگہ کیا گیا ہے جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں۔’’میں نے کچھ سوچ کر یہاں پڑاؤ کیا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمام لشکر سے کہو کہ اگر دشمن پانی پر قابض ہے تو پریشان نہ ہوں۔ہماری پہلی لڑائی پانی کیلئے ہو گی۔پانی اسی کو ملے گا جو جان کی بازی لگا کر لڑے گا،تم نے دشمن کو پانی سے محروم کردیا تو سمجھو تم نے جنگ جیت لی۔‘‘سالارِ اعلیٰ کایہ پیغام سارے لشکر کو سنا دیا گیااور سب ایک خونریز جنگ لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔اب لشکر کی نفری اٹھارہ ہزار ہو گئی تھی۔مثنیٰ بن حارثہ ،مذعور بن عدی ،ہرملہ اور سُلمہ دودوہزار آدمی ساتھ لئے خالدؓ سے آملے تھے۔خالد ؓنے جو ایلچی ہرمز کے پاس بھیجا تھا ،وہ بھی اسی پڑاؤ میں خالدؓ کے پاس آیا اور بتایا کہ ہرمز نے اس کے ساتھ کیسا توہین آمیز سلوک کیا ہے۔’’اس کی ایک لاکھ درہم کی ٹوپی نے اس کا دماغ خراب کر رکھاہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا،کہا۔’’خدا یہ نہیں دیکھتا کہ کسی انسان کے سر پر کیا رکھا ہے ۔خدا تو دیکھتا ہے کہ اس کے سر کے اندر کیا ہے۔اس کے عزائم کیا اور اس کی نیت کیا ہے اور وہ سوچتا کیا ہے؟‘‘

’’ایک لاکھ درہم کی ٹوپی؟‘‘خالدؓ نے حیران ہو کرپوچھا۔’’کیا ہرمز اتنی قیمتی ٹوپی پہنتا ہے؟‘‘’’فارس کی شہنشاہی کا ایک دستور ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے جواب دیا۔’’ان کے ہاں حسب و نسب اور حیثیت کو دیکھ کر اس کے مطابق ٹوپی پہنائی جاتی ہے جو ان کے شہنشاہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔زیادہ قیمتی ٹوپی صرف وہ افراد پہنتے ہیں جو اعلیٰ حسب و نسب کے ہوں اور جنہوں نے رعایا میں بھی اور شاہی دربار میں بھی توقیر اوروجاہت حاصل کر رکھی ہو۔اس وقت ہرمز سب سے زیادہ قیمتی ٹوپی پہنتا ہے ۔کوئی اور ایک لاکھ درہم کی ٹوپی نہیں پہن سکتا۔اس ٹوپی میں بیش قیمت ہیرے لگے ہوئے ہیں اور اس کی کلغی بھی بہت قیمتی ہے۔‘‘’’فرعونوں نے اپنے سروں پر خدائی ٹوپیاں سجا لی تھیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کہاں ہیں وہ ؟کہاں ہیں ان کی ٹوپیاں؟مجھے کسی کی بیش قیمت ٹوپی مرعوب نہیں کر سکتی، نہ کسی کی ٹوپی تلوار کے وار کو روک سکتی ہے۔مجھے یہ بتاؤکہ آتش پرستوں کی فوج لڑنے میں کیسی ہے اور میدانِ جنگ میں کتنی تیزی سے نقل و حرکت کرتی ہے؟‘‘’’فارس کے سپاہی کی زِرہ اور ہتھیار دیکھ کر خوف سا آتا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے خالد ؓکو بتایا۔’’سرپر لوہے کی زنجیروں کی خود،بازوؤں پر کسی اور دھات کے خول اور ٹانگیں آگے کی طرف سے موٹے چمڑے یا دھات سے محفوظ کی ہوئیں ،ہتھیار اتنے کہ ہر سپاہی کے پاس ایک برچھی ایک تلوار ،ایک وزنی گُرز ،ایک کمان اورایک ترکش ہوتی ہے جس میں ہر سپاہی تیس تیر رکھتا ہے۔‘‘’’اورلڑنے میں کیسے ہیں؟‘‘’’جرات اور عقل سے لڑتے ہیں۔‘‘
-------
مثنیٰ بن حارثہ نے جواب دیا۔’’ان کی دلیری مشہور ہے۔‘‘
’’مثنیٰ!‘‘خالد ؓنے کہا۔’’کیا تم نے محسوس نہیں کیاکہ آتش پرستوں کے سپاہی کتنے کمزور ہیں اور ان کی جرات کی حد کیا ہے؟……ان کی جرات کی حد آہنی خود اور بازوؤں اور ٹانگوں پر چڑھائے ہوئے خولوں تک ہے۔وہ نہیں جانتے کہ جذبہ لوہے کو کاٹ دیا کرتا ہے۔لوہے کی تلوار اور برچھی کی انّی جذبے کو نہیں کاٹ سکتی۔زِرہ اور دھات یاچمڑے کے خول حفاظت کے جھوٹے ذریعے ہیں۔ایک خول کٹ گیا تو سپاہی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔پھر اس میں اتنی سی جرات رہ جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی اوربھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ اﷲ کے سپاہی کی زِرہ اس کا عقیدہ اور ایمان ہے ……میں تمہیں فارسیوں کی ایک اور کمزوری
دِکھاؤں……؟ــ‘‘خالدؓ نے قاصد سے کہا۔’’سالاروں اور کمانداروں کو فوراً بلاؤ۔‘‘
’’فوریطور پر کاظمہ کی طرف کوچ کرو۔‘‘خالد ؓنے حکم دیا۔’’اور کوچ بہت تیز ہو۔‘‘ہرمز حفیرہ کے علاقے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔وہ کاظمہ سے اپنی فوج کو یہاں لایا تھا۔کیونکہ خالدؓ کا لشکر حفیرہ کی طرف آ گیا تھا۔اب یہ لشکر پھر کاظمہ کی طرف جا رہا تھا۔دونوں فوجوں کی چند ایک گھوڑ سوار ایک دوسرے کی خیمہ گاہ کو دیکھتے رہتے تھے ۔ہرمز کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر کاظمہ کی طرف کوچ کر گیا ہے توہرمز نے اپنی فوج کو کاظمہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ہرمز کو اُبلہ کی بہت فکر تھی۔یہ ایرانیوں کی بادشاہی کا بہت اہم شہر تھا۔یہ تجارتی مرکز تھا۔ہندوستان کو تاجروں کے قافلے یہیں سے جایا کرتے تھے،اور ہندوستان خصوصاًسندھ کا مال اسی مقام پر آیا کرتا تھا۔یہ ایران کا فوجی مرکز بھی تھا۔اس علاقے کے رہنے والے مسلمانوں کو دبائے رکھنے کیلئے اُبلہ میں فوج رکھی گئی تھی۔ہرمز کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کا لشکر اُبلہ تک نہ پہنچ سکے۔ہرمزکو ابلہ پہلے سے زیادہ خطرے میں نظر آنے لگا کیونکہ مسلمان اُبلہ کے جنوب میں کاظمہ کی طرف جا رہے تھے۔مسلمانوں کیلئے کوچ اتنا مشکل نہ تھا۔جتنا ایرانیوں کیلئے دشوار تھا۔مسلمانوں کے پاس اونٹ اور گھوڑے خاصے زیادہ تھے۔سپاہی ہلکے پھلکے تھے۔وہ آسانی سے تیز چل سکتے تھے،ان کے مقابلے میں ایرانی سپاہی زِرہ اور ہتھیاروں سے لدے ہوئے تھے اس لئے وہ تیز چل نہیں سکتے تھے۔ایک دو دن پہلے ہی وہ کاظمہ سے حفیرہ آئے تھے۔اس کوچ کی تھکن ابھی باقی تھی کہ انہیں ایک بار پھر کوچ کرنا پڑا اور وہ بھی بہت تیز تاکہ مسلمانوں سے پہلے کاظمہ کے علاقے میں پہنچ جائیں ۔اس کوچ نے راستے میں ہی انہیں تھکا دیا۔ہرمز کی فوج جب کاظمہ میں مسلمانوں کے بالمقابل پہنچی تونڈھال ہو چکی تھی۔مسلمان سپاہی صحرائی لڑائیوں اور صحرا میں نقل و حرکت کے عادی تھے۔خالد ؓنے ہرمز کو یہ تاثر دینے کیلئے کہ وہ اپنے لشکر کوآرام نہیں کرنے دے گا۔لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔خود قلب میں رہے۔دائیں اور بائیں پہلوؤں کی کمان عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کے پاس تھی۔عاصم بن عمرو، قعقاع بن عمرو کے بھائی تھے اور عدی بن حاتم قبیلہ طے کے سردار تھے جو دراز قد مضبوط جسم والے بڑے بہادر جنگجو تھے۔خالدؓ کو اپنی فوج کو لڑائی کی ترتیب میں کرتے دیکھ کر ہرمز نے بھی اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔قلب میں وہ خود رہا اور دونوں پہلوؤں کی کمان شاہی خاندان کے د و افراد قباذ اور انوشجان کو دی۔ہرمز دیکھ رہا تھا کہ اس کی فوج پسینے میں نہا رہی ہے۔اور سپاہیوں کی سانسیں پھولی ہوئی ہیں۔انہیں آرام کی ضرورت تھی لیکن مسلمان جنگی ترتیب میں آ چکے تھے۔ہرمز نے اپنی فوج کی ترتیب ایسی رکھی کہ کاظمہ شہر اس کی فوج کے پیچھے آ گیا۔ان کے سامنے ریگستانی میدان تھا اور ایک طرف بے آب و گیاہ ٹیلہ نما پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔

خالدؓ نے اپنی فوج کو اس طرح آگے بڑھایا کہ یہ پہاڑی سلسلہ اُن کی پشت کی طرف ہو گیا۔اپریل ۶۳۳ء کے پہلے ہفتے کا ایک دن تھا جب مسلمان پہلی بار آتش پرست ایرانیوں کے مقابل آئے۔
’’اگر خالدؓ بن ولید مارا جائے تو یہ معرکہ بغیر لڑے ختم ہو سکتا ہے۔‘‘ہر مز کے ایک سالار نے اسے کہا۔’’مسلمان جو اتنی دور سے آئے ہیں،اپنے سالار کی موت کے بعد ہمارے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔‘‘
’’فوج سے کہو زنجیریں باندھ لیں۔‘‘ہرمز نے سالار سے کہا۔’’میں ان کے سالار کا بندوبست کرتا ہوں۔سب سے پہلے یہی مرے گا۔‘‘اس نے سالار کو بھیج کر اپنے محافظوں کو بلایا اور انہیں کچھ بتایا۔
زنجیریں باندہ لینے کا مطلب یہ تھا کہ ایرانی فوج کے سپاہی اپنے آپ کو اس طرح زنجیروں سے باندھ لیتے تھے کہ پانچ سے دس سپاہی ایک لمبی زنجیر میں بندھ جاتے تھے۔ان کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ وہ آسانی سے لڑ سکتے تھے۔زنجیریں باندھ کر لڑنے سے ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ کوئی سپاہی بھاگ نہیں سکتا تھا۔ دوسرا فائدہ یہ کہ ان کے دشمن کے گھوڑ سوار جب ان پر ہلہ بولتے تھے تو سپاہی زنجیریں سیدھی کر دیتے۔زنجیریں گھوڑوں کی ٹانگوں کے آگے آ جاتیں اور گھوڑے گر پڑتے تھے۔لیکن زنجیروں کا بہت بڑا نقصان یہ تھا کہ ایک زنجیر میں سے بندھے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک دو زخمی یا ہلاک ہو جاتے تو باقی بے بس ہو جاتے اور دشمن کا آسان شکار بنتے تھے۔اس جنگ کو جو ہرمز اور خالدؓ کے درمیان لڑی گئی،جنگِ سلاسل یعنی زنجیروں کی جنگ کہتے ہیں۔مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ایرانی اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ رہے ہیں تو وہ حیران ہونے لگے۔کسی نے بلند آواز سے کہا۔’’وہ دیکھو!فارسی اپنے آپ کو ہمارے لیے باندھ رہے ہیں۔‘‘’’فتح ہماری ہے۔‘‘خالدؓ نے بلند ٓواز سے کہا۔’’اﷲ نے ان کے دماغوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘خالدؓ نے کچھ سوچ کر کاظمہ سے حفیر اور حفیر سے کاظمہ کو کوچ کیا تھا۔وہ فائدہ انہیں نظر آ گیا تھا۔ہرمزکی و ہ فوج جو زِرہ اور ہتھیاروں سے لدی ہوئی تھی ،لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی تھک گئی تھی۔خالدؓ نے ایرانیوں کو آرام کی مہلت ہی نہیں دی تھی۔

اب ایرانیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں باندھ لیا تھا ۔خالدؓنے سوچ لیا کہ و ہ کیا چال چلیں گے،اور ایرانیوں کو کس طرح لڑائیں گے۔ہرمز نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور دونوں فوجوں کے درمیان ایسی جگہ آ کر رک گیا جہاں زمیں کٹی پھٹی اورکہیں کہیں ٹیلے تھے۔اس کے محافظ اس سے کچھ دور آکر رک گئے۔’’کہاں ہے خالد!‘‘ہرمز نے للکار کر کہا۔’’آ!پہلے میرا اور تیرا مقابلہ ہو جائے۔‘‘یہ اس زمانے کا دستور تھا کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے دونوں فوجوں کے سالار ذاتی مقابلوں کیلئے ایک دوسرے کو للکارتے تھے۔دونوں فوجوں کے آدمی انفرادی طور پر آگے جا کر تلواروں سے بھی لڑتے تھے اور کشتی بھی کرتے تھے ۔نتیجہ دونوں میں سے ایک کی موت ہوتا تھا۔جنگِ سلاسل میں ہرمز نے خود آگے آ کر خالدؓ کو انفرادی مقابلے کیلئے للکارا۔ہرمز مانا ہوا جنگجو اور بہادر آدمی تھا۔تیغ زنی کی مہارت کے علاوہ اس کے جسم میں بہت طاقت تھی۔خالدؓ کی عمر اڑتالیس سال ہو چکی تھی۔وہ جنگی چالوں کے ماہر تھے ۔ان کے جسم میں اچھی خاصی طاقت تھی لیکن ہرمز زیادہ طاقتور تھا۔اس کی للکار پر خالدؓ نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ہرمز کے سامنے جا رکے۔ہرمز گھوڑے سے اترا اور خالدؓ کو گھوڑے سے اترنے کا اشارہ کیا۔دونوں نے تلواریں نکال لیں۔دونوں نے ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر وار کیے۔پینترے بدلے ،گھوم گھوم کر ایک دوسرے پر آئے مگر تلواریں آپس میں ہی ٹکراتی رہیں۔پھر خالدؓ کے ہاتھوں اور پینتروں میں پھرتی آگئی۔دونوں فوجیں شوروغل بپا کر رہی تھیں۔ہرمزمحسوس کرنے لگاتھا کہ وہ خالدؓ کی تلوار سے بچ نہیں سکے گا۔وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گیا اور اس نے تلوارپھینک دی۔

’’تلواریں فیصلہ نہیں کر سکیں گی۔‘‘ہرمز نے کہا۔’’آخالد!ہتھیار کے بغیر آ،اور کشتی لڑ۔‘‘خالدؓ تلوار پھینک کر کشتی کیلئے آگے بڑھے اور دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔کشتی میں ہرمزکا پلّہ بھاری نظر آتا تھا لیکن مورخ لکھتے ہیں کہ ہرمز کی چال کچھ اور تھی۔اس نے اپنے محافظوں کو پہلے ہی بتا رکھا تھاکہ جب وہ خالد ؓکو اتنی مضبوطی سے پکڑ لے کہ خالدؓ ہلنے کے قابل نہ رہیں تو محافظ دونوں کو اس طرح گھیرے میں لے لیں کہ ان کی نیت اور ارادے پر شک نہ ہو۔یعنی وہ تماشائی بنے رہیں اور ان میں سے ایک محافظ خنجر نکال کرخالد کاپیٹ چاک کر دے۔جنگجو اس طرح دھوکا نہیں دیا کرتے تھے لیکن ہرمز کمینگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ہرمزکے محافظ آگے بڑھ آئے اور اپنی فوج کی طرح نعرے لگاتے نرغے کی ترتیب میں ہوتے گئے ۔وہ گھوڑوں پر سوار نہیں تھے ۔وہ گھیرا تنگ کرتے گئے حتیٰ کے دونوں کے قریب چلے گئے ۔خالدؓ کی توجہ بٹ گئی۔ہرمز نے پھرتی سے خالد ؓکے دونوں بازو اس طرح جکڑ لیے کہ اس کے بازو خالد ؓکی بغلوں میں تھے ۔محافظ اور قریب آ گئے۔ہرمز نے اپنی زبان میں محافظوں سے کچھ کہا۔خالدؓ ا س کی زبان تو نہ سمجھ سکے ،اشارہ سمجھ گئے۔انہوں نے خطرے کو بھانپ لیا اور جسم کی تمام تر طاقت صرف کرکے اتنی زور سے گھومے کے ہرمزکو بھی اپنے ساتھ گھمالیا۔پھر خالدؓ ایک جگہ کھڑے گھومتے رہے۔ہرمز کے پاؤں زمین سے اٹھ گئے۔خالدؓ نے ہرمز کے بازواپنی بغلوں میں جکڑ لیے تھے اور اپنے ہاتھ ہرمز کی بغلوں میں لے جاکر اسے گھماتے رہے۔اس طرح محافظوں کا دائرہ کھلتا گیااور ان میں سے کسی کو بھی آگے بڑھ کر خالد ؓپر وارکرنے کا موقع نہیں ملا۔لیکن خالدؓ کا یہ داؤ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا۔وہ تھک چکے تھے۔اچانک ایک طرف سے ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا آیا جسے ہرمز کے محافظ نہ دیکھ سکے۔گھوڑا محافظوں کے دائرے کو کا ٹتا گذر گیا اور تین محافظ زمین پر تڑپنے لگے۔ان میں سے ایک کو گھوڑے نے کچل ڈالا تھا اور دو کو گھوڑ سوار کی تلوار نے کاٹ دیا تھا۔گھوڑا آگے جا کر مڑا اور پھر ہرمز کے محافظوں کی طرف آیا۔محافظوں نے اب اس سے بچنے کی کوشش کی پھر بھی تین محافظ گرے اور تڑپنے لگے۔باقی بھاگ گئے اور سوار اپنی فوج سے جاملا۔یہ سوار نوجوان قعقاعؓ بن عمرو تھا جسے خلیفہ ابو بکر صدیق ؓ نے کمک کے طور پر خالد ؓکی طرف بھیجا اور کہا تھا۔’’جس لشکر میں قعقاع جیسا جوان ہوگا وہ لشکر شکست نہیں کھائے گا۔‘‘اس سوار سے نظریں ہٹا کر سب نے خالدؓاور ہرمزکو دیکھا۔ہرمز پیٹھ کے بل زمین پر پڑا تھااور خالدؓ اس کی پیٹھ پر بیٹھے اس کے سینے سے اپنا خنجر نکال رہے تھے ۔خنجر سے ہرمزکاخون ٹپک رہا تھا ،قعقاعؓ نے ہرمزکے محافظوں کی نیت بھانپ لی تھی اور کسی کے حکم کے بغیر گھوڑے کو ایڑ لگا کر محافظوں پر جا ہلّہ بولااورخالدؓ کو بچا لیا تھا۔خالد ؓہرمز کی لاش سے اٹھے۔

ہرمز کی ایک لاکھ درہم کی ٹوپی خالدؓ کے ہاتھ میں تھی اور اس کے خون میں لتھڑا ہوا خنجر بلند کر کے خالدؓ نے اپنی فوج کو کھلے حملے کا حکم دے دیا۔ان کے پہلے سے دیئے ہوئے احکام کے مطابق مسلمان لشکر کے دونوں پہلو کھل گئے اور اس نے دائیں اور بائیں سے ایرانیوں پرحملہ کیا۔ایرانی اپنے ہرمز جیسے سالار کی موت سے بد دل ہو گئے تھے لیکن اپنی روائتی شجاعت سے وہ دستبردارنہ ہوئے۔ان کی تعداد مسلمانوں کی نسبت خاصی زیادہ تھی۔ہتھیاروں اور گھوڑوں کے لحاظ سے بھی انہیں برتری حاصل تھی۔وہ مسلمانوں کے مقابلے میں جم گئے۔نظر یہی آ رہا تھا کہ ایرانیوں کو شکست نہیں دی جا سکے گی یا یہ کہ انہیں شکست دینے کیلئے بے شمار جانیں قربان کرنا پڑیں گی۔

ایرانی سپاہی پانچ پانچ، سات سات،دس دس، ایک ایک زنجیر سے بندھے ہوئے تھے اورہر طرف سے آنے والے حملے روک رہے تھے ۔خالدؓ نے انہیں تھکانے کیلئے گھوڑ سواروں کو استعمال کیا۔ گھوڑ سواروں نے پیادوں پر اس طرح حملے شروع کر دیئے کہ پیادوں کو دائیں بائیں دوڑناپڑتا ۔اپنے پیادوں کو بھی خالدؓنے اسی طرح استعمال کیا۔ایرانی پیادوں کو بھاگنا دوڑنا پڑا۔ان کے مقابلے میں مسلمان تیزی سے حرکت کر سکتے تھے۔آخر ایرانیوں میں تھکن اور سستی کے آثار نظر آنے لگے۔انہوں نے اپنی روایت کے مطابق جو زنجیریں باندھ رکھی تھیں،وہ ان کے پاؤں کی بیڑیاں بن گئیں۔ہتھیاروں کی برتری وبالِ جان بن گئی،ایرانیوں کی تنظیم اور ترتیب بکھرنے لگی،ان کے قلب کی کمان تو پہلے ہی ہرمز کے مرتے ہی ختم ہوگئی تھی ۔ان کے پہلوؤں کے سالاروں قباذ اور انوشجان نے شکست یقینی دیکھی تو پسپائی کا حکم دے دیا۔پسپا وہی ہو سکے جو زنجیروں میں بندھے نہیں تھے ۔ان میں زیادہ گھوڑ سوار تھے ۔قباذ اور انوشجان پہلوؤں سے اپنی فوج کی بہت سی نفری بچا کر لے گئے لیکن قلب کے ہزاروں سپاہی مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ گئے ۔یہ تو آتش پرستوں کا قتلِ عام تھا جوسورج غروب ہونے کے بعد تک جاری رہا۔شام تاریک ہو گئی تو یہ خونی سلسلہ رکا۔مسلمانوں نے ایک بڑے ہی طاقتور دشمن کو بہت بری شکست دے کر ثابت کر دیاکہ نفری کی افراط اور ہتھیاروں کی برتری سے فتح حاصل نہیں کی جا سکتی ،جذبہ لڑا کرتا ہے۔اگلے روز مالِ غنیمت اکھٹا کیا گیا۔خالد ؓنے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا،چار حصے اپنے لشکر میں تقسیم کر دیئے اور ایک حصہ مدینہ خلیفہ ابو بکرؓ کو بھیج دیا۔ہر مز کی ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بھی خالدؓ نے خلیفہ ؓکو بھیج دی۔خلیفہ ؓنے یہ ٹوپی خالدؓ کو واپس بھیج دی کیونکہ ذاتی مقابلوں میں مارے جانے والے کا مالِ غنیمت جیتنے والے کا حق ہوتا ہے۔یہ ٹوپی خالدؓ کی ملکیت تھی۔’’یہ دیکھو……باہر آؤ……دیکھو یہ کیا ہے!‘‘مدینہ کی گلیوں میں کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ لوگ دوڑتے گھروں سے باہر آنے لگے۔ ’’جانور ہے۔‘‘’’نہیں ،خدا کی قسم! ہم نے ایسا جانور کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ ’’یہ جانور نہیں، خدا کی عجیب مخلوق ہے۔‘‘عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے۔ سب کے چہروں پر حیرت تھی۔ بچے ڈر کر پیچھے ہٹ گئے ۔جنہوں نے خدا کی اس عجیب مخلوق کو پکڑ رکھا تھا وہ ہنس رہے تھے اور وہ آدمی بھی ہنس رہا تھا جو اس عجیب مخلوق کی گردن پر بیٹھا تھا۔’’یہ کیا ہے؟لوگ پوچھ رہے تھے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟‘‘’’اسے ہاتھی کہتے ہیں ۔‘‘ہاتھی کے ساتھ ساتھ چلنے والے ایک آدمی نے بلند آواز سے کہا۔’’یہ جنگی جانور ہے۔یہ ہم نے فارس والوں سے چھینا ہے۔‘‘جنگِ سلاسل میں جب ایرانی زرتشت بھاگے تھے تو یہ ہاتھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا۔تقریباً تمام مورخین نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ خالد ؓنے مالِ غنیمت کا جو پانچواں حصہ خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ کو بھیجا تھا اس میں ایک ہاتھی بھی تھا۔ مدینہ والوں نے ہاتھی کبھی نہیں دیکھا تھا ۔اس ہاتھی کو مدینہ شہر میں گھمایا پھرایا گیا۔تو لوگ حیران ہو گئے اور بعض ڈر بھی گئے۔ وہ اسے جانور نہیں خدا کی عجیب مخلوق کہتے تھے ۔ہاتھی کے ساتھ اس کا ایرانی مہاوت بھی تھا ۔

اس ہاتھی کو چند دن مدینہ میں رکھا گیا ۔کھانے کے سوا اس کااور کوئی کام نہ تھا۔ مدینہ والے اس سے کام لینا جانتے بھی نہیں تھے ۔اس کے علاوہ صرف ایک ہاتھی سے وہ کرتے بھی کیا ؟امیر المومنینؓ نے اس کے مہاوت کو ہاتھی سمیت رہا کر دیا ،کسی بھی تاریخ میں یہ نہیں لکھا کہ یہ ہاتھی مدینہ سے کہاں چلا گیا تھا۔دجلہ اور فرات آج بھی بہہ رہے ہیں ،ایک ہزار تین سو باون سال پہلے بھی بہہ رہے تھے ،مگر اس روانی میں اور آج کی روانی میں بہت فرق ہے۔ساڑھے تیرہ صدیاں پہلے دجلہ اور فرات کی لہروں میں اسلام کے اولین مجاہد کے جوشیلے اور پر عزم نعروں کا ولولہ تھا ان دریاؤں کے پانیوں میں شہیدوں کا خون شامل تھا۔شمع رسالتﷺ کے شیدائی اسلام کو دجلہ اور فرات کے کنارے کنارے دور آگے لے جا رہے تھے۔زرتشت کی آگ کے شعلے لپک لپک کر مسلمانوں کا راستہ روکتے تھے۔ مسلمان بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے۔ان کا بڑھنا سہل نہیں تھا ۔وہ فارسیوں کی شہنشاہی میں داخل ہو چکے تھے ،ان کی نفری اور جسموں کی تازگی کم ہوتی جا رہی تھی اور دشمن کی جنگی قوت ہیبت ناک تھی۔کبھی یوں لگتا تھا جیسے آتش پرست فارسیوں کی جنگی طاقت مسلمانوں کے قلیل لشکرکو اپنے پیٹ میں کھینچ رہی ہے۔اپریل ۶۳۳ء کا تیسرا اور صفر ۱۲ ہجری کا پہلا ہفتہ تھا خالد ؓکاظمہ کے مقام پر آتش پرست ایرانیوں کو شکست دے کر آگے ایک مقام پر پہنچ گئے تھے ۔انہوں نے دو ہی ہفتے پہلے ایرانیوں کو شکست دی تھی۔یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے اتنی بڑی شہنشاہی سے ٹکرلی تھی جس کی جنگی قوت سے زمین کانپتی تھی۔امیرالمومنین ابوبکرؓ نے کہا تھا کہ ابھی ہم اتنی بڑی طاقت سے ٹکر لینے کے قابل نہیں ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی محسوس کر لیا تھا کہ ٹکر لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ورنہ زرتشت مدینہ پر چڑھ دوڑیں گے۔ان کے عزائم ایسے ہی تھے وہ مسلمانوں سے نفرت کرنے والے لوگ تھے اور اپنی بادشاہی میں مسلمانوں پر بہت ظلم کرتے تھے۔امیر المومنین ؓنے خالدؓ کو یمامہ سے بلاکر زرتشتوں کے خلاف بھیجا تھا۔خالد ؓکو رسولِ کریمﷺ نے سیف اﷲ کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ اب خلیفہ اول ابو بکرؓ نے بھی کہا تھا ’’ا ﷲکی تلوار کے بغیر ہم فارس کی بادشاہی سے ٹکر نہیں لے سکتے ۔‘‘خالد ؓنے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ اﷲ کی تلوار ہیں۔فارس کی شہنشاہی کی گدی مدائن میں تھی ۔فارس کا شہنشاہ اردشیر مدائن میں شہنشاہوں کی طرح تخت پر بیٹھا تھا۔اس کی گردن ان شہنشاہوں کی طرح اکڑی ہوئی تھی جواپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے۔ اس کے تخت کے دائیں بائیں ایران کا حسن مچل رہا تھا۔وہ تخت سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ اسے اطلاع دی گئی کہ ابلہ کے محا ذ سے قاصد آیا ہے۔’’فوراً بلاؤ۔‘‘اردشیر نے شاہانہ رعونت سے کہا۔’’اس کے سوا وہ اور کیا خبر لایا ہوگا کہ ہرمز نے مسلمانوں کو کچل ڈالا ہے۔کیا حیثیت ہے عرب کے ان بدوؤں کی۔جنہوں نے کھجور اور جَوکے سوا کھانے کی کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی۔‘‘

قاصد دربار میں داخل ہوا تو اس کا چہرہ اور اسکی چال بتارہی تھی کہ وہ اچھی خبر نہیں لایا۔اس نے ایک بازو سیدھا اوپر کیا اور جھک گیا۔’’سیدھے ہو جاؤ۔‘‘اردشیر نے فاتحانہ لہجے میں کہا۔’’ ہم اچھی خبر سننے کیلئے اتنا انتظار نہیں کر سکتے ۔کیا مسلمانوں کی عورتوں کو بھی پکڑا گیا ہے۔بولو ،تم کیوں خاموش ہو؟‘‘’’زرتشت کی ہزار رحمت تختِ فارس پر!‘‘ قاصد نے دربار کے آداب کے عین مطابق کہا۔’’شہنشاہ اردشیر کی شہنشاہی ……‘‘’’خبر کیا لائے ہو؟‘‘اردشیر نے گرج کر پوچھا۔’’عالی مقام !ہرمز نے کمک مانگی ہے۔‘‘ قاصد نے کہا۔’’ہرمز نے ؟‘‘اردشیر چونک کر آگے کو جھکا اور ا س نے حیران ہوکر پوچھا۔’’ کمک مانگی ہے؟کیا وہ مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا ہے؟کیا وہ پسپا ہو رہاہے؟ہم نے سنا تھا کہ مسلمان لٹیروں کے ایک گروہ کے مانند ہیں۔کیا ہوگیا ہے ہرمز کو؟کیا اس نے سپاہ کو زنجیروں سے نہیں باندھا تھا؟بولو۔‘‘دربار پر سناٹا طاری ہو گیا۔جیسے وہاں کوئی بھی نہ ہو اور درودیوار چپ چاپ ہوں۔’’شہنشاہِ فارس کی شہنشاہی افق تک پہنچے۔‘‘قاصد نے کہا ۔’’زنجیریں باندھی تھیں مگر مسلمانوں نے ایسی چالیں چلیں کہ یہی زنجیریں ہماری سپاہ کے پاؤں کی بیڑیاں بن گئیں ۔‘‘’’مدینہ والوں کی تعداد کتنی ہے؟‘‘’’بہت تھوڑی شہنشاہِ فارس۔‘‘قاصد نے جواب دیا۔’’ہمارے مقابلے میں ان کی تعداد کچھ بھی نہیں تھی لیکن……‘‘ ’’دور ہو جا ہماری نظروں سے۔‘‘شہنشاہ اردشیر گرجا اور ذرا سوچ کر بولا۔’’قارن کو بلاؤ۔‘‘قارن بن قریانس ایرانی فوج کا بڑا ہی قابل اور دلیر سپاہ سالار تھا۔وہ بھی ہرمزکی طرح لاکھ درہم کا آدمی تھا اور ہرمز کی ٹوپی کی طرح ٹوپی پہنتا تھا۔اطلاع ملتے ہی دوڑا آیا۔’’قارن!‘‘ اردشیر نے کہا۔’’کیا تم اس خبر کو سچ مان سکتے ہو کہ ہرمزنے مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے کمک مانگی ہے۔‘‘اردشیر نے درباریوں پر نگاہ دوڑائی تو تمام درباری اٹھ کھڑے ہوئے ۔سب تعظیم کوجھکے اور باہر نکل گئے ۔اردشیر قارن کے ساتھ تنہائی میں بات کرنا چاہتا تھا۔’’کیا یہ قاصد مسلمانوں کا آدمی تو نہیں جو ہمیں دھوکا دینے آیا ہو۔‘‘’’مسلمان اتنی جرات نہیں کر سکتے۔‘‘قارن نے کہا۔’’میدانِ جنگ میں ذراسی غلطی پانسا پلٹ دیا کرتی ہے۔اگر ہرمز نے کمک مانگی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کمک کی ضرورت ہے اور اس سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔‘‘
’’کیا مسلمانوں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ہماری فوج کو پسپا کر سکیں؟

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 27
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا

ل

No comments:

Post a Comment