*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-23)*
۔شاید حضورﷺ اسے اچھی طرح پہچان نہ سکے۔’’کیا تم وہ وحشی ہو ؟‘‘رسولِ کریمﷺ نے اس سے پوچھا۔’’وہی وحشی ہوں۔‘‘وحشی نے جواب دیا ۔’’اور اب آپﷺ کو اﷲکا رسول مانتا ہوں۔‘‘۔رسولِ کریمﷺ نے اس کی جان بخشی کردی۔وحشیؓ بن حرب رسولِ کریمﷺ کا گرویدہ ہو چکا تھا۔اُس کے سر پر حمزہؓ کا قتل تھا جس کاوحشی کو بہت دکھ تھا۔وہ مکہ سے چلا گیا اور اس نے دو سال طائف کے علاقے میں کبھی یہاں کبھی وہاں گزارے۔اس پر خاموشی طاری رہتی اور وہ سوچوں میں گم رہتا تھا۔ اس نے اسلام کودل سے قبول کر لیا تھا وہ سچا مسلمان رہا۔ دو سال بعد اپنے بے چین ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے وہ اسلامی لشکر میں شامل ہو گیا اور اس نے خالدؓ کے دستوں میں رہنا پسند کیا۔یمامہ کی جنگ میں اسے پتا چل گیا تھا کہ خالدؓ مسیلمہ کو ہلاک کرنے کی کوشش میں ہیں ۔یہ فرض اس نے اپنے ذمہ لیا اور فرض پوراکر دیا۔اسکے بعد وحشی خالدؓ کے دستوں میں رہااور کئی لڑائیوں میں اس نے بہادری کے جوہر دکھائے ۔شام کی فتح کے بعد وہ اسلامی لشکر سے الگ ہوکر حمص میں گوشہ نشین ہو گیا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے حمزہ ؓ کا قتل بہت بڑا گناہ بن کر اس کے ضمیر پر سوار ہو گیا ہو۔ اس نے شراب نوشی شروع کر دی جو عیاشی نہیں تھی بلکہ وہ اپنے آپ کو فراموش کرکے الگ پڑ ارہتا تھا۔حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اسے شراب نوشی کے جر م میں اسّی کوڑوں کی سزا دی تھی جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا،وہ شراب پیتا رہا۔زندگی کے آخری دنوں میں اسے ایسی شہرت ملی کہ لوگ اسے عقیدت سے ملتے تھے مگر وہ ہوش میں کم ہی ہوتا ۔جب کبھی ہوش میں ہوتا تو لوگوں کو حمزہؓ اور مسیلمہ کے قتل کے واقعات سناتا۔لوگ اس سے یہی واقعات سننے کیلئے جاتے تھے۔اس نے کئی بار اپنی برچھی ہاتھ میں لے کر کہا۔’’ میں جب مسلمان نہیں تھا تو اس برچھی سے میں نے ایک بہت ہی اچھے آدمی کو قتل کیا تھا اور میں مسلمان ہوا تو اس برچھی سے ایک بہت ہی برے آدمی کو قتل کیا۔‘‘)قربان جائیے اﷲ کی حکمت پہ۔۔۔رسولِ کریم ﷺ کی رحمت پہ۔۔۔اور وحشیؓ کے عشق و ایمان کی عظمت پہ۔۔۔( اُم عمارہ ؓایک عظیم خاتون تھیں ۔جنگِ احد میں ان مسلمان عورتوں کے ساتھ تھیں جو زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کیلئے اپنے لشکر کے ساتھ گئی تھیں۔اس لڑائی میں ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ میدان پر قریش چھا گئے انہوں نے رسول ِکریمﷺ پر ہلّے بولنے شروع کر دیئے ۔صحابہ کرامؓ نے رسول اﷲﷺکے گرد گھیرا ڈال رکھاتھا۔مگر دشمن کے ہلّے اتنے شدید تھے کہ آپﷺ کے محافظوں کا گھیرا ٹوٹ گیا۔ قریش کا ایک آدمی ابنِ قمہ رسول کریمﷺ تک پہنچ گیا
۔رسولِ کریمﷺ کے دائیں مصعب ؓبن عمیر تھے اور اس وقت اُم عمارہؓ بھی قریب ہی تھیں ۔انہوں نے جب رسول ِ کریم ﷺ کو خطرے میں دیکھا تو زخمیوں کو پانی پلانے اور انہیں اٹھانے کا کام چھوڑ کر رسولِ اکرمﷺ کی طرف دوڑیں،انہوں نے ایک لاش یا شدید زخمی کی تلوار لے لی۔ابنِ قمہ حضورﷺ پر حملہ کرنے کے بجائے آپﷺ کے محافظ مصعبؓ کی طرف گیا۔ مصعبؓ نے اس کے ساتھ مقابلہ کیا ۔اُم عمارہؓ نے ابنِ قمہ پر تلوارکا وار کیا جو اس کے کندھے پر پڑا مگر ابنِ قمہ نے ذرہ بکتر پہن رکھی تھی۔ اس لئے تلوار اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی ۔ابن قمہ نے گھوم کر اُم عمارہ ؓپر جوابی وار کیا جو اس خاتون کے کندھے پر پڑا اور اتنا گہرا زخم آیا کہ وہ گر پڑیں ۔ابنِ قمہ نے دوسرا وار نہ کیا کیونکہ وہ رسول ِ اکرمﷺپرحملہ کرنا چاہتا تھا۔اب جنگِ یمامہ میں ام عمارہؓ اپنے بیٹے کے ساتھ آئی تھیں، یہاں ان کی دلیری کا یہ عالم کہ مسیلمہ کو قتل کرنے کا خطرہ مول لے لیامگر ان کاایک ہاتھ کٹ گیا۔وہ دسمبر ۶۳۲ء کے آخری دنوں میں سے ایک دن تھا۔حدیقۃ الرحمٰن سر سبز اور ہرا بھرا باغ ہوا کرتا تھا۔جو لوگوں کو پھل دیا کرتا تھا ۔وہاں تھکے ماندے مسافر آ کر سستایا کرتے تھے ۔وہاں پھولوں کی مہک تھی مگر اب وہ حدیقۃ الموت بن چکا تھا۔اس کا حسن خون میں ڈوب گیا تھا۔ اس کی رعنائیاں لاشوں تلے دب گئی تھیں۔جہاں پرندے چہچہاتے تھے وہاں زخمیوں کی چیخ و پکار تھی ۔زخمی گھوڑے بے لگام بھاگ دوڑ رہے تھے ۔ان کے ٹاپ یوں سنائی دے رہے تھے جیسے موت بے ہنگم قہقہے لگا رہی ہو۔جب شور اٹھا کہ مسیلمہ مارا گیا ہے تو مرتدین نکل بھاگنے کا راستہ دیکھنے لگے وہ تو پہلے ہی بھاگے ہوئے اس باغ میں آئے تھے ۔ان پر پہلے ہی مسلمان دہشت بن کر طاری ہو چکے تھے۔ باغ میں وہ ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے تھے۔ وہ ایسی جنگ لڑ رہے تھے جو وہ پہلے ہی ہار چکے تھے۔ اب ان کے کانوں میں یہ صدائیں پڑیں کہ ان کا نبی مارا گیا ہے تو ان کی رہی سہی سکت بھی ختم ہو گئی۔ ان میں جو ابھی تک لڑ رہے تھے وہ باغ سے نکل بھاگنے کی کوشش تھی ۔شکست ان کے ذہنوں پر مسلط ہو چکی تھی۔وہاں سے کچھ دور مسلمانوں کی لٹی ہوئی تباہ حال خیمہ گاہ میں صرف ایک خیمہ صحیح سلامت کھڑا تھا، یہ خالدؓکا خیمہ تھا ۔بنو حنیفہ باقی تمام خیمے پھاڑ کر پرزے پرزے کر گئے تھے۔ وہ خالدؓ کے خیمے میں بھی گئے تھے لیکن وہاں ان کااپنا سردار مجاعہ بن مرارہ زنجیروں میں جکڑا بیٹھا تھا۔وہ لیلیٰ کو قتل کرنا یا اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن مجاعہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ پہلے مردوں کی طرف جاؤ ابھی عورتوں کو پکڑنے کا وقت نہیں۔وہ سب اپنے سردار کے حکم سے چلے گئے تھے۔اس طرح خالدؓ کا خیمہ محفوظ رہا تھا ۔ خالدؓ کی بیوی لیلیٰ خیمے کے باہر ایک اونٹ پر بیٹھی تھی۔ اسے کہیں جانا نہیں تھا
۔وہ اونچی ہوکر میدانِ جنگ کو دیکھ رہی تھی ۔ میدان خالی ہو چکا تھا ۔اسے باغ کی دیوار اور درختوں کے بالائی حصے نظر آ رہے تھے لیکن یہ نظر نہیں آ رہا تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔وہ اونٹ سے کود آئی اورخیمہ میں چلی گئی۔’’ابنِ مرارہ!‘‘لیلیٰ نے مجاعہ سے کہا۔’’تمہارا نبی میدان خالی کر گیا ہے۔خدا کی قسم !بنو حنیفہ بھاگ گئے ہیں ۔‘‘ ’’میں نے کبھی نہیں سنا کہ تیرہ ہزار نے چالیس ہزار کو شکست دی ہے۔‘‘ مجاعہ نے کہا ۔’’میدان چھوڑ جانا مسیلمہ کی چال ہو سکتی ہے پسپائی نہیں۔‘‘’’سب باغ کے اندر ہیں۔‘‘ لیلیٰ نے کہا۔ ’’اگر سب باغ میں ہیں تو وہاں سے زندہ صرف بنو حنیفہ نکلیں گے ۔‘‘مجاعہ بن مرارہ نے کہا۔’’اگر مسلمان باغ میں میرے قبیلے کے پیچھے چلے گئے ہیں تو سمجھ لو کہ انہیں موت باغ میں لے گئی ہے۔ بنو حنیفہ ناقابلِ تسخیر ہیں ۔‘‘’’آج فیصلہ ہو جائے گا ۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’ٹھہرو…… مجھے گھوڑے کے ٹاپ سنائی دے رہے ہیں ،میرے خاوند کا قاصد ہو گا۔‘‘وہ خیمے سے نکل کے کھڑی ہو گئی اور بولی۔’’ وہ فتح کی خبرلایا ہو گا۔وہ آ رہاہے ۔‘‘گھوڑا جو سر پٹ دوڑا آ رہا تھا لیلیٰ کے قریب آ رکا اورسوار گھوڑے سے کود آیا۔ وہ خالدؓ تھے، لیلیٰ انہیں اکیلا دیکھ کر گھبرائی ۔سالار کے اکیلے آنے کا مطلب یہی ہو سکتاتھا کہ اس کی سپاہ تتر بتر ہو گئی ہے ۔ ’’میدانِ جنگ کی کیا خبر ہے ؟‘‘لیلیٰ نے پوچھا۔’’آپ اکیلے کیوں آئے ہیں؟‘‘’’خدا کی قسم! میں نے بنو حنیفہ کو کاٹ دیا ہے۔‘‘خالدؓ نے جوشیلی آواز میں کہا۔’’مسیلمہ کذاب مارا گیا ہے اور وہ قیدی کہاں ہے؟‘‘لیلیٰ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور سکون کی آہ بھر کر بولی ۔’’مجاعہ کہتا ہے کہ بنو حنیفہ ناقابلِ تسخیر ہیں ۔‘‘’’میں پوچھتا ہوں وہ کہاں ہے؟‘‘خالدؓ نے ہانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔’’کیا وہ اسے چھڑا کر لے گئے ہیں ؟‘‘’’میں یہیں ہوں ولید کے بیٹے! ‘‘خیمے کے اندر سے مجاعہ کی آوازآئی۔’’میں تیری اس بات کو سچ نہیں مانوں گا کہ مسیلمہ مارا گیا ہے۔‘‘’’میرے ساتھ چل مجاعہ۔‘‘خالدؓ نے خیمے کے اندر جاکر کہا۔’’ہو سکتا ہے تیری بات سچ ہو۔میں مسیلمہ کو نہیں پہچانتا۔تیرا قبیلہ یہ شور مچاتا بھاگ گیا ہے کہ مسیلمہ مارا گیا ہے ۔میرے ساتھ آ اور لاشوں میں اس کی لاش دیکھ کر بتا کہ یہ ہے اس کی لاش ۔‘‘ ’’پھر کیا ہو گا؟‘‘مجاعہ نے پوچھا۔’’مجھے آزاد کر دو گے؟‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ خالدؓنے کہا۔’’میں اس قبیلے کے ایک سردار کو آزاد نہیں کروں گا جو میرے دین کا دشمن ہے۔رسالت میں شرکت کا دعویٰ کرنے والے اور اس دعویٰ کو ماننے والوں کو میں کیسے بخش دوں؟اﷲکے سوا تجھے کوئی نہیں بخش سکتا ۔‘‘’’او ولید کے بیٹے!‘‘مجاعہ بن مرارہ نے کہا۔’’میں نے اسے کب نبی مانا تھا؟وہ چرب زبانی اور شعبدہ بازیوں سے نبی بن گیا تھااور تو نے دیکھ لیا ہے کہ کتنا بڑا لشکر اس کا مرید ہو گیا تھا۔ اگر میں اسے نبی نہ مانتا تو وہ میرے سارے خاندان کو زندہ جلا دیتا اور یہ وجہ بھی تھی کہ میں اپنے قبیلے سے اپنے آپ کو کاٹ نہیں سکتا تھا۔اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا تو یہ ایک بے گناہ کا قتل ہو گا۔‘‘’’اِس نے مجھے اپنے اُن لوگوں سے بچایا ہے جو ہماری خیمہ گاہ کو لوٹنے اور تباہ بربادکرنے آئے تھے ۔‘‘لیلیٰ نے خالدؓ سے کہا۔’’اِس نے اُنہیں کہا تھا کہ عورتوں کے پیچھے مت پڑو۔ پہلے آدمیوں کے پیچھے جاؤ۔وہ چلے گئے
۔اس نے انہیں یہ بھی نہ کہا کہ وہ اس کی بیڑیاں کھول دیں۔‘‘’’تو نے اس عورت پر رحم کیوں کیا ہے مجاعہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔ ’’کیونکہ ا س نے مجھے قید میں بھی وہی عزت دی ہے جومجھے اپنے قبیلے میں ملا کرتی ہے۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’میں نے اسے اس سلوک کا صلہ دیاہے جو اس نے میرے ساتھ کیا۔کیامیں ایسا نہیں کر سکتا تھا کہ اپنے آدمیوں سے کہتا کہ میری بیڑیاں کاٹ دیں پھر میں تیری اتنی حسین بیوی کو اپنی لونڈی بنالیتا۔‘‘’’بے شک! تو عزت کے لائق ہے مجاعہ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں تیری بیڑیاں اپنے ہاتھوں سے کاٹتا ہوں ۔پھر میرے ساتھ چلنا اور بتاناکہ مسیلمہ کی لاش کون سی ہے۔‘‘مجاعہ بن مرارہ خالدؓ کے ساتھ خیمہ سے نکلا تو اس کے پاؤں میں بیڑیاں نہیں تھیں ۔باہر خالدؓ کے دو محافظ کھڑے تھے ۔خالدؓ اکیلے ادھر آئے تھے۔ ان کے محافظ دستے کو پتا چلا کہ سپہ سالارکسی اور طرف نکل گئے ہیں تو دو محافظ ان کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم پھر کر ان کی خیمہ تک جا پہنچے ۔وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔مجاعہ نے اپنی آنکھوں سے میدانِ جنگ کی حالت دیکھی ۔اسے اپنے قبیلے کی لاشوں کی سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔’’مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا۔کیا اتنے تھوڑے مسلمان اتنے بڑے لشکرکو شکست دے سکتے ہیں۔‘‘’’یہ فتح انسانوں نے نہیں پائی۔‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’یہ سچے عقیدے اور اﷲ کے سچے رسولﷺ کی فتح ہے۔بنو حنیفہ باطل عقیدے کیلئے میدان میں اترے تھے ،ہماری تلواروں نے اس عقیدے کو کاٹ دیا ہے اور اتنا بڑا لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘وہ لاشوں اورتڑپتے زخمیوں میں سے گزرتے باغ تک چلے گئے۔اندر گئے تووہاں لاشوں پر لاشیں پڑی تھیں ۔مسلمان لاشوں کے ہتھیار اکھٹے کر رہے تھے ۔بنو حنیفہ میں سے جوزندہ تھے ،وہ ادھر ادھر بھاگ گئے تھے۔خالدؓ نے وحشی بن حرب کو بلایا اور اس سے پوچھا۔’’کہ اس شخص کی لاش کہاں ہے جسے اس نے مسیلمہ سمجھ کر ہلاک کیا ہے؟‘‘وحشی خالدؓ کو وہاں لے گیا جہاں مسیلمہ کی لاش پڑی تھی۔ اس نے لاش کی طرف اشارہ کیا۔’’نہیں!‘‘خالدؓنے کہا۔’’یہ ٹھنگنا اور بدصورت آدمی مسیلمہ نہیں ہو سکتا۔اس کے چہرے پر کراہیت ہے۔‘‘’’یہی ہے۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’یہ مسیلمہ کی لاش ہے۔‘‘’’یہ اس شخص کی لاش ہے جس نے ہزاروں لوگوں کو گمراہ کیاتھا ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ شخص اک فتنہ تھا ۔‘‘’’ابن ِولید!‘‘مجاعہ نے خالدؓ سے کہا۔’’فتح پر خوش نہ ہو۔تیرے لیے اصل مقابلہ تو ابھی باقی ہے۔‘‘’’کس کے ساتھ؟‘‘
’’بنو حنیفہ کے ساتھ۔‘‘مجاعہ نے جواب دیا۔’’یہ تو وہ لشکر تھا جو میدان میں آکر لڑا تھا۔ یہ تو چھوٹا سا ایک حصہ تھا ،اس سے بھی بڑا لشکر یمامہ میں قلعے کے اندر تیار کھڑاہے۔اپنی جانی نقصان کو دیکھ اور سوچ کہ تیری یہ سپاہ جو بہت کم ہو گئی ہے اتنے بڑے تازہ دم لشکر کا مقابلہ کرسکے گی؟تیرے سپاہی تھک کر چور ہو چکے ہیں ۔‘‘خالدؓ نے لاشوں سے اٹے ہوئے باغ میں نگاہ دوڑائی۔ ان کا لشکر واقعی لڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔جانی نقصان برداشت کے قابل نہیں تھا۔زخمیوں کی تعدا دبھی زیادہ تھی۔باقی لشکر کی جسمانی کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ اﷲ کے سپاہی اتنے تھک گئے تھے کہ جہاں جگہ دیکھتے وہاں لیٹ جاتے اور سو جاتے تھے ۔
وہ اپنے سے تین گنا زیادہ لشکر سے لڑے تھے ۔انہیں آرام کی ضرورت تھی۔’’اگر تو میری ایک تجویز مان لے تو میں قلعے میں جاکر صلح کی بات کرتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’میراقبیلہمیری بات مان لے گا۔‘‘خالدؓ بڑے قابل سپہ سالار تھے۔جنگی قیادت میں اپنی مثال آپ تھے۔ رسول اﷲﷺ کے سچے عاشق تھے لیکن خود سر تھے اور زندہ دل بھی۔ وہ دشمن کو صرف شکست دے کراسے فتح نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی فتح کو اس وقت مکمل سمجھتے تھے جب بھاگتے ہوئے دشمن کا تعاقب کرکے اس کی بستیوں کو اپنے قبضے میں لے لیتے تھے۔ ان کا اصول تھا کہ دشمن کو سانپ سمجھو اور اس کا سر کچل کربھی دیکھو کہ اس میں ذرا سی بھی حرکت باقی نہ رہ جائے ۔خود سری کو خالدؓ خوبی سمجھتے تھے ۔ان میں ڈسپلن بڑا ہی سخت تھا اس کے باوجود جہاں صورتِ حال پیچیدہ ہو جاتی خالدؓ اپنے نائب سالاروں سے مشورے اور تجاویز لیتے تھے۔ اب مجاعہ بن مرارہ نے صلح کی بات کی تو خالدؓ نے یہ جانتے ہوئے کہ دشمن پسپا ہو چکا ہے اس حقیقت کو بھی سامنے رکھا کہ ان کے مجاہدین لڑنے کے قابل نہیں رہے۔خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں کو بلایا اورانہیں بتایا کہ بنو حنیفہ کا ایک سردار مجاعہ بن مرارہ صلح کی پیش کش کر رہا ہے۔’’اصل فتنہ تو ختم ہو چکاہے ۔‘‘عبداﷲؓ بن عمرؓ نے کہا ۔’’مسیلمہ کذاب کے مر جانے سے بنو حنیفہ کا دم خم ٹوٹ چکا ہے ۔میں تو یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ یمامہ کا محاصرہ فوراً کر لیا جائے اور دشمن کو سستانے کی مہلت نہ دی جائے۔‘‘’’صرف یمامہ نہیں ۔‘‘عبدالرحمٰنؓ بن ابی بکر ؓنے کہا۔’’بنو حنیفہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر ایسی جگہوں میں چھپ گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے قلعے ہیں ۔پہلے انہیں پکڑنا ضروری ہے۔اس کے بعد صلح کی بات ہو سکتی ہے۔‘‘’’صلح کی شرائط ہماری ہوں گی۔‘‘عبداﷲؓ بن عمرؓ نے کہا۔’’کیا تمہاری نظر اپنے لشکر کی جسمانی حالت پر بھی ہے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ابھی شہیدوں اور زخمیوں کی گنتی ہو رہی ہے ۔
خدا کی قسم! کسی جنگ نے ہمارا اتنا خون نہیں پیا،جتنا یہ جنگ پی گئی ہے اور شاید ہمیں ابھی اور خون دینا پڑے گا۔کیا تم بہتر سمجھو گے کہ دشمن کے جو آدمی اِدھر اُدھر چھپ گئے ہیں انہیں پکڑا جائے تاکہ یہ یمامہ کے قلعے میں جاکر ہمارے مقابلے میں نہ آ سکیں؟‘‘’’ہم یقیناً اسی کو بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘عبدالرحمٰنؓ نے کہا۔’’اگر ہم انہیں پکڑ لیں تو صلح کی کیا ضرورت رہ جائے گی۔‘‘ ’’مجاعہ نے بتایا ہے کہ ان کے جس لشکر سے ہم لڑ چکے ہیں اس سے کچھ زیادہ لشکر یمامہ کے اندر موجود ہے۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’تم میری اس رائے کو صحیح مانو گے کہ ہماری سپاہ لڑنے کے قابل نہیں رہی ،تم دیکھ رہے ہو کہ ہمارے مجاہدین تھکن سے بے حال ہوکر جہاں بیٹھتے ہیں وہاں سو جاتے ہیں ۔ہمارے لیے کمک بھی نہیں رہی۔اگر کمک منگوائی بھی جائے تو بہت دن لگ جائیں گے ۔اتنے دنوں میں دشمن منظم ہو جائے گااور اس پر ہماری جو دہشت غالب آئی ہوئی ہے وہ اتر جائے گی۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ عبداﷲؓ نے کہا۔’’تم نے خود بھی تو کچھ سوچا ہو گا؟‘‘’’ہاں ابنِ عمر!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’میں نے سوچا ہے کہ اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے دشمن کو پکڑا جائے پھر یمامہ کا محاصرہ کرلیا جائے اور اس دوران مجاعہ یمامہ میں جاکر اپنے سرداروں کے ساتھ صلح کی بات کرے۔صلح کیلئے ہم یہ شرط ضرور رکھیں گے کہ بنو حنیفہ شکست تسلیم کرکے ہتھیار ڈال دیں۔‘‘’’یہی بہتر ہے۔‘‘عبدالرحمٰنؓ نے کہا۔’’میں بھی اسی کو بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘عبداﷲؓ نے کہا۔’’پھر یہ کام ابھی شروع کر دو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’دستوں کو مختلف سمتو ں میں روانہ کردو اور انہیں کہو کہ بنو حنیفہ کا کوئی آدمی عورت یا بچہ کہیں نظر آجائے تو اسے پکڑ کر لے آؤ۔‘‘دستوں کو روانہ کر دیا گیا اور خالدؓ نے مجاعہ کو اپنے پاس بٹھا لیا۔’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے مجاعہ سے کہا۔’’مجھے تجھ پراعتماد ہے اور میں تجھے اس اعتماد کے قابل سمجھتا ہوں۔جا اور اپنے سرداروں سے کہہ کہ ہم صلح کیلئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہو گی کہ تمہارے ہتھیار ہمارے سامنے زمین پر پڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘’’میں اسی شرط پر صلح کرانے کی کوشش کروں گا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’لیکن ابنِ ولید! اپنی فوج کی حالت دیکھ لے۔‘‘’’میں مزید خون خرابے سے ہاتھ روکنا چاہتا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو نہیں چاہے گا کہ تمہارے اور ہمارے جو آدمی زندہ ہیں وہ زندہ ہی رہیں؟اپنے قبیلے میں جاکر دیکھ ۔آج کتنے ہزار عورتیں بیوہ اور کتنے ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں اور یہ بھی سوچ کہ بنو حنیفہ کی کتنی عورتیں ہماری لونڈیاں بن جائیں گی۔‘‘اس وقت کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کی یہ بات سن کر مجاعہ کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آگئی جس میں تمسخر یا طنز کی جھلک تھی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔’’میں جاتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’ابنِ ولید!تیری خواہش پوری کرنے کی میں پوری کوشش کروں گا۔
‘‘ خالدؓ اپنے خیمے کی طرف چل پڑے۔وہ لاشوں اور زخمیوں کو دیکھتے چلے جا رہے تھے۔لیلیٰ نے خالدؓ کو دور سے دیکھا اور دوڑی آئی۔ ’’کیا تم نے اسے چھوڑ دیا ہے؟‘‘لیلیٰ نے خالدؓ سے پوچھا۔خالدؓ نے اسے بتایا کہ انہوں نے مجاعہ کو کس مقصد کیلئے چھوڑا ہے۔’’ابنِ ولید! ‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اتنے انسانوں کا خون کس کی گردن پر ہوگا؟میں نے اتنی زیادہ لاشیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔‘‘’’جب تک انسانوں میں انسانوں کو اپنی خواہشات کا غلام بنانے کی ذہنیت موجود رہے گی ،انسانوں کا خون بہتا رہے گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں نے بھی اتنی لاشیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔آنے والا زمانہ اس سے زیادہ لاشیں دیکھے گا۔حق اور باطل آپس میں ٹکراتے رہیں گے……میں اسی لیے صلح کی کوشش کررہاہوں کہ اور خون نہ بہے……اس سے آگے نہ جانا۔تم جو دیکھو گی اسے تم برداشت نہیں کر سکو گی۔‘‘آسمان سے گدھ اترنے لگے تھے اور انہوں نے لاشوں کو نوچنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ مسلمان لاشوں کے درمیان اپنے زخمی ساتھیوں کو تلاش کرتے پھر رہے تھے ۔انہیں اٹھا اٹھا کر خیمہ گاہ کی طرف لا رہے تھے۔باقی سپاہ بنو حنیفہ کے چھپے ہوئے آدمیوں کو پکڑنے کیلئے چلی گئی تھی۔رات کو خالدؓ کو اطلاعات ملنے لگیں کہ بنو حنیفہ کے آدمیوں کو لارہے ہیں۔بعض کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے ،خالدؓ نے حکم دیا کہ عورتو ں اور بچوں کو سردی اور بھوک سے بچایا جائے،لیکن خیمہ گاہ لٹ چکی تھی، خوراک کی قلت تھی۔خالدؓ نے کہا کہ خود بھوکے رہو ،قیدی عورتوں اور بچوں کے پیٹ بھرو۔اس کاحل یہ نکالا گیا کہ مسلمان مجاہدین لاشوں سے کھجوروں وغیرہ کی تھیلیاں کھول کر لے آئے۔ہر سپاہی اپنے ساتھ کھانے پینے کا کچھ سامان رکھتا تھا۔ یہ عورتوں اوربچوں کو دیا گیا۔ علی الصبح مجاعہ یمامہ سے واپس آیا اور خالدؓ کے خیمے میں گیا۔ ’’کیا خبر لائے ہو ابنِ مرارہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’خبر بری نہیں۔‘‘ مجاعہ نے جواب دیا۔’’ لیکن تم اسے اچھا نہیں سمجھو گے ۔بنو حنیفہ تمہاری شرط پر صلح کرنے کو تیار نہیں ۔وہ تمہاری غلامی قبول نہیں کریں گے۔‘‘’’خدا کی قسم! میں انہیں اپنا غلام نہیں بنانا چاہتا۔‘‘خالدؓنےکہا ۔’’ہم سب اﷲ کے رسول کے غلام ہیں۔میں انہیں اس سچے رسولﷺ کے عقیدے کا غلام بناؤں گا۔‘‘’’وہ اس شرط کو بھی نہیں مانیں گے ۔‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’ اور یہ بھی دیکھ کہ تیرے پاس رہ کیا گیا ہے ابن ِ ولید۔ میں نے یمامہ کے اندر جاکر دیکھاہے۔ ایک لشکر ہے جو ذرہ پہنے تیری چھوٹی سی فوج کو لہو لہان کردینے کیلئے تیار ہے ۔کبھی یہ حماقت نہ کر بیٹھنا کہ یمامہ کو آکہ محاصرے میں لے لے۔
تو کچلا جائے گا ابن ِولید۔ جوش کو چھوڑ اور ہوش کی بات کر ۔اپنی شرط کو نرم کر۔میں نے بنو حنیفہ کو ٹھنڈا کر لیا ہے، اس لشکرکی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔‘‘
خالدؓ گہری سوچ میں کھو گئے ۔مجاعہ نے انہیں کوئی نئی بات نہیں بتائی تھی ۔یہ تو خالدؓ دیکھ ہی چکے تھے کہ ان کے پاس جو سپاہ رہ گئی ہے وہ لڑنے کے قابل نہیں رہی۔ اس سپاہ کو آرام کی ضرورت تھی لیکن وہ رات بھر دشمن کے چھپے ہوئے آدمیوں کو تلاش اور گرفتار کرتی رہی تھی ۔اب تو ان مجاہدین کے سر ڈول رہے تھے۔ ’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے گہری سوچ سے نکل کر کہا۔’’تجھے شاید معلوم نہ ہو، اپنے ان سرداروں سے پوچھ لینا جو اس جنگ میں شریک تھے کہ ہمارے پاس بنو حنیفہ کاکتنا مال اور سازوسامان ہے اورکتنے باغ اور کتنے قیدی ہمارے قبضے میں ہیں ۔واپس جا اور اپنے سرداروں سے کہہ کہ مسلمان آدھا مالِ غنیمت، آدھے باغ اور آدھے قیدی واپس کر دیں گے۔انہیں سمجھا کہ یمامہ اور اس کی آبادی کو تباہی میں نہ ڈالیں۔‘‘ ابنِ مرارہ چلا گیا ،اس دوران مزید قیدی لائے گئے۔مجاعہ شام سے کچھ پہلے واپس آیا اور ا س نے بتایا کہ بنو حنیفہ کا کوئی سردار اس شرط کو ماننے کیلئے تیار نہیں ۔مجاعہ نے یہ بھی کہا کہ بنو حنیفہ اپنی شکست اور اپنے ہزاروں مقتولین کے خون کا انتقام لیں گے ۔’’میری بات کان کھول کر سن ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓنے جھنجھلا کر کہا۔’’اگر بنو حنیفہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم قلیل تعداد ہونے کی وجہ سے ڈر جائیں گے تو انہیں جا کر کہہ دے کہ مسلمان کٹ مریں گے۔ تمہیں انتقام کی مہلت نہیں دیں گے ۔‘‘’’غصے میں نہ آ ولید کے بیٹے !‘‘مجاعہ نے مسکرا کر کہا۔’’ہمارا جومالِ غنیمت ،باغ اورقیدی تمہارے پاس ہیں ۔ان کا چوتھائی حصہ اپنے پاس رکھ لے باقی ہمیں دے دے اور آ صلح کرلیں۔صلح نامہ تحریر ہو گا۔‘‘خالدؓ ایک بار پھر سوچ میں کھو گئے۔’’میں تجھے ایک بار پھر خبردار کرتا ہوں ولید کے بیٹے!‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’ یہ میرا کمال ہے کہ میں نے بنو حنیفہ کو صلح پر راضی کر لیا ہے ۔میں نے ان کی لعنت ملامت بردازشت کی ہے۔ انہو ں نے مجھے غدار بھی کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم مسلمانوں سے انعام لے کر ہمیں ان کا غلام بنانا چاہتے ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری تعداد اگر کم بھی ہوتی تو بھی ہم صلح نہ کرتے۔ہمارے پاس نہ سازوسامان کی کمی ہے نہ خوراک کی۔ان چیزوں کی کمی ہے تو مسلمانوں کو ہو گی ۔وہ کہتے ہیں کہ اتنی سخت سردی میں مسلمان کب تک محاصرے میں بیٹھے رہیں گے۔ راتو ں کی سردی کو وہ کھلے آسمان تلے برداشت نہیں کر سکیں گے ۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تیری اس چھوٹی سی فوج کے پاس خیمے بھی نہیں رہے ۔سوچ لے ابنِ ولید ۔اچھی طرح سوچ لے ۔اگر تجھے شک ہے تو ذرا آگے جا کر یمامہ کی دیواروں پر ایک نظر ڈال اور دیکھ کہ ایک دیوار تو قلعے کی ہے اور اس کے اوپر ایک دیوار انسانی جسموں کی ہے۔‘‘خالدؓ بے شک اپنی کمزوریوں سے آگاہ تھے لیکن وہ دشمن کی ہر شرط ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے تھے۔وہ اپنے خیمے سے باہر نکل گئے۔ ان کے نائب سالار باہر کھڑے تھے۔سالاروں نے بے تابی سے خالدؓ سے پوچھا کہ صلح کی بات کہاں تک پہنچی ہے؟’’ میرے ساتھ آؤ۔‘‘خالدؓ نے ان سے کہا۔ نائب سالار خالدؓ کے ساتھ چل پڑے۔ خالدؓانہیں بتاتے گئے کہ مجاعہ صلح نامے کی کیا شرط لایا ہے ۔وہ چلتے گئے اور ایسی جگہ جا رکے جہاں سے یمامہ شہر کی دیوار نظر آتی تھی۔
انہوں نے دیکھاکہ دیوار پر آدمی ہی آدمی تھے۔مجاعہ نے ٹھیک کہاتھا کہ شہر کی دیوار کے اوپر انسانی جسموں کی دیوار کھڑی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ شہر میں بہت بڑا لشکر موجود ہے۔’’میراخیال ہے کہ ہم نے محاصرہ کیا تو ہم نقصان اٹھائیں گے۔‘‘خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’دیوار پر جو مخلوق کھڑی ہے اس کے تیر ہمیں دیوارکے قریب نہیں جانیں دیں گے۔ہمارے پاس مروانے کیلئے اتنے زیادہ آدمی نہیں۔‘‘’’میں تو صلح کی رائے دوں گا۔‘‘ایک نائب سالار نے کہا۔’’جس فتنے کو ہم ختم کرنا چاہتے تھے وہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘ایک اور نائب سالار نے کہا۔’’اب ہم صلح کر لیں تو ہم پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے؟‘‘خالدؓ واپس اپنے خیمے میں آئے اور مجاعہ کو بتایا کہ وہ صلح کیلئے تیار ہیں ۔اسی وقت صلح نامہ تحریر ہوا جس پر خالدؓ نے خلافت کی طرف سے مجاعہ بن مرارہ نے بنو حنیفہ کی طرف سے دستخط کیے۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان یمامہ کے کسی آدمی کو جنگی مجرم قرار دے کر قتل نہیں کریں گے۔مجاعہ واپس چلا گیا ۔اسی روزاس نے یمامہ کے دروازے کھول دیئے اور خالدؓ کو شہر میں مدعو کیا۔خالدؓاپنے سالاروں اور کمانداروں کے ساتھ یمامہ شہر کے دروازے تک پہنچے ۔انہوں نے اوپر دیکھا ۔دیواروں پر اب ایک بھی آدمی نہیں کھڑا تھا۔ بُرج بھی خالی تھے۔خالدؓکو توقع تھی کہ قلعے کے اندر انہیں بنو حنیفہ کا وہ لشکر نظر آئے گا جس کے متعلق مجاعہ نے انہیں بتایا تھا کہ مسلمانوں کو کچل ڈالے گا مگروہاں کسی لشکر کا نام و نشان نہ تھا۔وہاں عورتیں تھیں ،بچے اور بوڑھے تھے۔جوان آدمی ایک بھی نظر نہیں آتا تھا۔عورتیں اپنے گھروں کے سامنے کھڑی تھیں،بعض منڈیروں پر بیٹھی تھیں۔ان مین زیادہ تر عورتیں رو رہی تھیں،ان کے خاوند ،باپ بھائی یا بیٹے جنگ میں مارے گئے تھے۔’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے مجاعہ سے پوچھا۔’’وہ لشکر کہاں ہے؟‘‘’’دیکھ نہیں رہے ہو ابنِ ولید! ‘‘مجاعہ نے دروازوں کے سامنے اور چھتوں پر کھڑی عورتوں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔’’یہ ہے وہ لشکر جو شہر کی دیوارپر تیروکمان اور برچھیاں اٹھائے کھڑاتھا۔‘‘’’یہ عورتیں؟‘‘خالدؓنے حیران سا ہو کہ پوچھا۔’’ہاں ولید کے بیٹے! ‘‘مجاعہ نے کہا۔’’شہر میں کوئی لشکر نہیں۔یہاں صرف بوڑھے آدمی ہیں جو لڑنے کے قابل نہیں ۔عورتیں ہیں اور بچے ہیں۔‘‘’’کیا یہ ہمارے حملے کو روک سکتے تھے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’کیا عورتیں مقابلے میں آئی تھیں؟‘‘
نہیں ابنِ ولید!‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’یہ میری ایک چال تھی۔شہر سے تمام آدمی لڑنے کیلئے چلے گئے ہیں۔شہر میں کوئی جوان آدمی نہیں رہا تھا۔میں اپنے قبیلے کو تباہی سے بچانا چاہتا تھا۔میں نے تمام عورتوں،بوڑھوں اور کمسن لڑکوں کو زرہ اورسروں پر خودیں پہنائیں،اور ان کے ہاتھوں میں تیروکمان اور برچھیاں دے کر دیوارپر کھڑا کر دیا۔میں نے خود باہر جاکر دیکھا۔پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ عورتیں ،بوڑھے آدمی اور کمسن لڑکے ہیں،میں نے تجھے موقع دیاکہ دیوار پر اک نظر ڈال لے تاکہ تو اس جھانسے میں آجائے کہ یمامہ میں بہت بڑا لشکر موجود ہے ……اور تو میرے جھانسے میں آ گیا۔‘‘خالدؓ خشمگیں ہوئے ۔وہ مجاعہ کو اس دھوکے کی سزا دے سکتے تھے۔لیکن اس عہد نامے کی خلاف ورزی انہیں گوارا نہیں تھی جس پر وہ دستخط کر چکے تھے۔’’خداکی قسم!‘‘خالدؓنے مجاعہ سے کہا۔’’تو نے مجھے دھوکا دیاہے۔‘‘ ’’میں تجھے دھوکا دے سکتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’اپنے قبیلے کی عورتوں اور بچوں سے غداری نہیں کر سکتا ۔میں انہیں تیری تلواروں سے بچانا چاہتا تھا۔میں نے انہیں بچا لیا ہے۔‘‘’’تو خوش قسمت ہے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اسلام معاہدہ توڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔میں صلح نامے پر دستخط کر چکا ہوں۔ورنہ میں تمہاری ان تمام عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتا۔‘‘’’مجھے معلوم تھا کہ تو ایسا نہیں کرے گا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’لیکن ایک بات سن لے ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’میں نے معاہدہ صرف یمامہ شہر کیلئے کیا ہے۔اس میں اردگرد کے علاقے شامل نہیں۔میں پابند ہوں کہ یمامہ کے اندر کسی جنگی مجرم کو قتل نہ کروں۔یمامہ کے باہر میں جسے سمجھوں گا کہ اسے قتل ہونا چاہیے ۔اس کے قتل سے میں گریز نہیں کروں گا۔‘‘ارتداد کا سب سے بڑا مرکز یمامہ تھا جو خالدؓ نے اکھاڑ پھینکا اور جھوٹے نبی کو ہلاک کرکے اس کی لاش کی نمائش کی گئی۔اس کے پیروکاروں سے کہا گیا کہ مسیلمہ کے پاس معجزوں کی طاقت ہوتی تو تمہارے چالیس ہزار سے زیادہ لشکر کا یہ حشر تیرہ ہزار آدمیوں کے ہاتھوں نہ ہوتا۔’’بنو حنیفہ! ‘‘مسلمان یمامہ کی گلیوں میں اعلان کرتے پھر رہے تھے ۔’’عورتیں مت ڈریں۔کسی کو لونڈی نہں بنایا جائے گا۔شہرکے اندر کسی مرد بچے یا عورت پرہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا۔ مسیلمہ فریب کار تھا۔اس نے تم سب کو دھوکا دے کر تمہارے گھر اجاڑ دیئے ہیں۔‘‘یمامہ پر خوف و ہراس اور موت کی ویرانی تھی۔عورتیں شہر سے باہر نکلنے سے ڈرتی تھیں۔انہیں مسلمانوں سے کوئی ڈر اور خدشہ نہیں رہا تھا۔وہ اپنے آدمیوں کی لاشیں دیکھنے سے ڈرتی تھیں ۔وہ شہر کی دیوار پر جاکر باہر کا منظر دیکھتی تھیں۔انہیں گِدھوں ،گیدڑوں اور بھیڑیوں کی خوفناک آوازیں سنائی دیتی تھیں۔یہ سب لاشیں کھارہے تھے۔ یمامہ اور گردونواح کے لوگوں نے اتنی قتل و غارت کبھی دیکھی نہ سنی تھی۔یہ تو قہر نازل ہوا تھا ۔گھر گھر ماتم ہو رہا تھا۔اس بھیانک صورت حال میں لوگ اس غیبی قوت کے آگے سجدے کرنا چاہتے تھے جس نے ان پر قہر نازل کیا تھا ۔مسلمانوں کی فوج میں قرآن کے حافظ اور قاری بھی تھے۔ انہوں نے لوگوں کو آیاتِ قرآنی سنا کر بتانا شروع کر دیا تھا کہ انہیں تباہ کرنے والی غیبی طاقت کیا ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ بنو حنیفہ کے جو آدمی بھاگ گئے تھے۔
ان کی تعداد کم و بیش بیس ہزار تھی۔وہ یوں لا پتا ہوئے کہ ادھر ادھر چھپ گئے تھے۔مسلمان انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے تھے ۔وہ بھی خوفزدہ تھے، وہ نادم بھی تھے کہ انہوں نے ایک جھوٹے نبی کے ہاتھ پر بیعت کی جس نے انہیں کہا تھا کہ اسے خدانے ایسی طاقت دی ہے کہ فتح بنو حنیفہ کی ہی ہو گی اور مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔انہیں تبلیغ کی یا اسلام کے تفصیلی تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ان میں سے بیشتر نے ازخود اسلام قبول کرلیا۔مجاعہ بن مرارہ بنو حنیفہ کی سرداری میں مسیلمہ کذاب کا جانشین تھا ۔اس نے دیکھا کہ اس کا قبیلہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کرتا جا رہا ہے تو اس سے اسے یہ اطمینان ہوا کہ خالدؓ کے دل میں اس کے خلاف جو خفگی تھی وہ نکل گئی ہے۔بنو حنیفہ کے لوگ جوق در جوق خالدؓ کے پاس بیعت کیلئے آ رہے تھے۔خالدؓنے ان میں سے چند ایک سرکردہ افراد کا ایک وفد تیار کیا اور انہیں خلیفۃالمسلمین ؓکے ہاتھ پر بیعت کیلئے مدینہ بھیج دیا۔خالدؓ کو یہ جنگ بہت مہنگی پڑی تھی۔قدیم تحریروں اور دیگر ذرائع سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کو اتنے بڑے لشکرپر فتح حاصل کرنے کی توقع کم ہی تھی۔انہوں نے یہ اﷲ کے بھروسے اور اپنی جنگی قابلیت کے بل بوتے پر لڑی تھی۔ان کے اعصاب تھک کر چور ہو چکے تھے۔اس جنگ کی خونریزی کا اندازہ یہ ہے کہ بنو حنیفہ کے اکیس ہزار آدمی مارے گئے تھے ۔زخمیوں کی تعداد الگ ہے۔اس کے مقابلے میں شہید ہونے ہونے والے مجاہدین کی تعداد ایک ہزار دو سو تھی۔ان میں تین سو شہید قرآن کے حافظ تھے۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جب خلیفہ ابو بکرؓ کو اطلاع ملی کہ شہیدوں میں تین سو حافظ قرآن تھے تو انہوں نے یہ سوچ کرکہ جنگوں میں قرآن کے تمام حافظ شہید ہو سکتے ہیں ،حکم دیا کہ قرآن ایک جگہ تحریر میں جمع کر لیا جائے۔چنانچہ پہلی بار قرآن کو اس شکل میں جمع کیا گیا جو آج ہمارے سامنے ہے۔جنگِ یمامہ کے بعد خالدؓکی کیفیت یہ تھی کہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے شل ہو چکے تھے۔لیلیٰ ان کے تھکے ماندے اعصاب سہلاتی تھی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتناجانی نقصان نہیں ہواتھا۔اب ایک ہی بار ایک ہزار دو سو مجاہدین شہید ہو گئے تو باقی مجاہدین پر جیسے غم کے پہاڑ آ پڑ ے ہوں۔خالدؓ دکھ اور غم کو قبول کرنے والے نہیں تھے۔اگر وہ مرنے والوں کا ماتم کرنے بیٹھ جاتے یا دل پر غم طاری کر لیتے تو سپہ سالاری نہ کر سکتے۔انہیں آگے چل کر عراق اور شام فتح کرنا تھا۔
انہیں ارتداد کو کچل کر اسلام کو دور دور تک پھیلانا تھا۔اس لیے وہ اپنے آپ کو رنج و الم سے آزادرکھتے تھے۔’’ولید کے بیٹے! ‘‘لیلیٰ نے خالد ؓسے کہا۔’’میں تمہیں اس عظیم فتح پر ایک تحفہ دینا چاہتی ہوں۔‘‘ ’’کیا اﷲ کی خوشنودی کافی نہیں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’وہ تو تمہیں مل ہی گئی ہے۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’تم اﷲ کی تلوار ہو۔ میں اس دنیا کی بات کر رہی ہوں۔تم بہت تھک گئے ہو۔‘‘’’تحفہ کیا ہے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’مجاعہ بن مرارہ کی بیٹی!‘‘ لیلیٰ نے کہا۔’’تم نے اسے نہیں دیکھا۔میں اس کے گھر گئی تھی ۔بہت خوبصورت لڑکی ہے ۔یمامہ کا ہیرا ہے۔وہ تمہیں چاہتی بھی ہے۔کہتی ہے کہ خالدعظیم انسان ہے۔جس نے ہم پر فتح پاکر بھی اعلان کیا ہے کہ کسی عورت کو لونڈی نہیں بنایا جائے گا۔حالانکہ اسے یمامہ کی عورتوں نے دھوکا دیا تھا۔‘‘اس دور میں عربوں کے ہاں سوکن کا تصور نہیں تھا ۔خالدؓ نے مجاعہ بن مرارہ سے کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں
۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مجاعہ اتنا حیران ہوا جیسے اس نے غلط سناہو۔’’کیا کہاتو نے ولید کے بیٹے!‘‘مجاعہ نے پوچھا۔’’میں تمہاری بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ خالدؓ نے اپنی بات دہرائی۔’’کیا خلیفہ ابو بکر ہم دونوں سے خفا نہ ہوں گے؟‘‘مجاعہ نے کہا۔)مجاعہ کے صحیح الفاظ یہ تھے ۔کیا خلیفہ ہم دونوں کی کمر نہ توڑ ڈالیں گے؟(خالدؓ اسی بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ مجاعہ کی بیٹی کے ساتھ شادی کریں گے ۔آخر انہوں نے اس حسین اور جوان لڑکی کو اپنے عقد میں لے لیا۔یہ خبر مدینہ پہنچی تو خلیفۃ المسلمین ابو بکر صدیقؓ نے خالدؓ کو خط لکھا:’’او ولید کے بیٹے!تمہیں کیا ہو گیا ہے؟شادیاں کرتے پھرتے ہو۔تمہارے خیمے کے باہر بارہ سو مسلمانوں کا خون بہہ گیا ہے۔تم نے شہیدوں کا خون بھی خشک نہیں ہونے دیا۔‘‘’’یہ عمر بن خطاب کی کارستانی ہے ۔‘‘خالدؓ نے یہ خط پڑھ کر زیرِلب کہا ۔)یاد رہے کہ یہ عظیم صحابہ ؓ کی آپس کی گفتگو ہے جن کا سب کچھ اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ پر نثار تھا۔بعض ناعاقبت اندیش منظر پسِ منظر جانے بغیر اُن سے بد گمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن کی رفعتوں کے ادراک کے لئے رگوں میں حلال خون کا ہونا شرطِ اول ہے (یہ معاملہ سرزنش کے خط پر ہی ختم ہو گیا ۔خلیفہ ابو بکرؓ نے خالدؓ کویہ پیغام بھی بھیجا کہ وہ یمامہ کے علاقے میں رہیں اور اگلے حکم کا انتظار کریں۔خالدؓمجاعہکی بیٹی اور لیلیٰ کو ساتھ لے کریمامہ کے قریب وادیٔ وبر میں جاخیمہ زن ہوئے۔دو ماہ بعد انہیں اگلا حکم ملا۔فروری ۶۳۳ء کے پہلے ہفتے )ذیقعد ۱۱ہجری کے آخری ہفتے(کے ایک دن خلیفہ ابو بکر صدیقؓ سے ملنے ایک شخص آیا۔جس نے اپنا نام مثنیٰ بن حارثہ شیبانی بتایا۔خلیفہؓ کیلئے اور اہلِ مدینہ کیلئے وہ ایک غیر اہم بلکہ گمنام آدمی تھا۔اگر ایسا شخص کسی بادشاہ کے دربار میں جاتا تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا لیکن ابو بکرؓ کسی اقلیم کے بادشاہ نہیں بلکہ شہنشاہِ دوجہاں کے خلیفہ تھے جن کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے رہتے تھے۔یہ شخص جب خلیفہ ابو بکر صدیقؓ کے پاس آیا ،اس وقت اس کے چہرے پر تھکن اور شب بیداری کی گہری پرچھائیاں تھیں۔کپڑوں پر گَرد تھی اور وہ قدرتی روانی سے بول بھی نہیں سکتا تھا۔ ’’کیا مجھے کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ یہ اجنبی مہمان کون ہے؟‘‘امیر المومنین ابو بکرؓ نے پوچھا۔’’یہ شخص جس نے اپنا نام مثنیٰ بن حارثہ بتایا ہے ،یہ معمولی آدمی نہیں ۔‘‘قیس بن عاصم المنقری نے جواب دیا۔’’امیرالمومنین ! اس کے یہاں آنے میں کوئی فریب نہیں۔شہرت اور عزت جو اس نے پائی ہے وہ اﷲ ہر کسی کو عطا کرے۔ہرمز جو عراق میں فارس کا سالار ہے اور جس کی فوج کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے ،مثنیٰ بن حارثہ کا نام سن کے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘کسی اور نے کہا۔’’آپ کا اجنبی مہمان بحرین کے قبیلہ بکر بن وائل کا معزز فرد ہے ۔یہ اسلام قبول کرنے والے ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے کفر اور ارتداد کی آندھیوں میں اسلام کی شمع روشن رکھی ہے اور اس نے ہمارے سالار علاء بن حضرمی کے ساتھ مل کر عراق کی سرحد کے علاقوں میں مرتدین کے خلاف لڑائیاں لڑی ہیں۔‘‘امیر المومنین ؓ کاچہرہ چمک اٹھا۔اب انہوں نے مثنیٰ بن حارثہ کو بدلی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔ان کے ذہن میں عربی مسلمانوں کے وہ قبائل آگئے جو ایرانیوں کے محکوم تھے۔یہ عراق کے علاقے میں آباد تھے۔
یہ تھے بنو لخم ،تغلب،ایاد،نمبراور بنو شیبان
۔ایک روایت کے مطابق یہ وہ عربی باشندے تھے جنہیں پہلی جنگوں میں ایرانی جنگی قیدی بنا کر لے گئے اور انہیں دجلہ اور فرات کے ڈیلٹا کے دلدلی علاقے میں آباد کر دیا۔ان قبائل نے ایرانیوں کا غلام ہوتے ہوئے بھی اپنے عقیدوں کو اپنے وطن کے ساتھ وابستہ رکھا۔عرب میں اسلام کو فروغ ملا تو انہوں نے بھی اسلام کو قبول کرلیا۔عراق سے سجاع جیسے چند افراد نے نبوت کے دعوے کیے تو ان محکوم عربوں نے اس ارتداد کے خلاف محاذ بنا لیا۔ادھر مسلمان ایک ایسی جنگی طاقت بن چکے تھے جن کے سامنے مرتدین اور کفار کے متحدہ لشکر بھی نہ جم سکے۔میدانِ جنگ سے ہٹ کر مسلمان جو عقیدہ پیش کرتے تھے وہ دلوں میں اتر جاتا تھا۔اس طرح سے مسلمان عسکری اور نظریاتی لحاظ سے چھاتے جا رہے تھے۔لیکن ابھی وہ آتش پرست ایرانیوں کے خلاف ٹکر لینے کے قابل نہیں ہوئے تھے۔ایران اس وقت کی بڑی طاقتور بادشاہی تھی جس کے طول و عرض کا حساب نہ تھا۔اس بادشاہی کی فوج تعداد اور ہتھیاروں کے لحاظ سے بہت طاقتور تھی۔صرف رومی تھے جنہوں نے ان سے جنگیں لڑیں اور انہیں کچھ کمزور کردیا تھا۔اس کے باوجود خلیفہ ابو بکرؓ ایران کی بادشاہی میں رسول اﷲﷺ کا پیغام پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ایرانی نہ صرف یہ کہ اسلام کو قبول کرنے پر تیارنہ تھے بلکہ وہ اسلام کامذاق اڑاتے تھے۔اگر مسلمانوں کا کوئی ایلچی ان کے کسی علاقے کے امیر کے دربار میں چلاجاتا تو وہ اس کی بے عزتی کرتے اور بعض کو قیدمیں ڈال دیا کرتے تھے۔حکومتوں اور حکمرانوں کے انداز اور خیالات اپنے ہی ہوتے ہیں ان کے سوچنے کے انداز بھی مصلحت اور حالات کے تابع ہوتے ہیں لیکن عوام کی سوچیں ان کے جذبوں کے زیرِاثر ہوتی ہیں اور ملک و ملت کی خاطر عوام آگ اگلتے پہاڑوں کے خلاف بھی سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔
اس دور میں عراق ایران کی بادشاہی کا ایک صوبہ تھا۔اس کا امیر یا حاکم ہرمز تھا جو اس دور میں مانا ہوا جنگجو اورنڈر جنگی قائد تھا۔ظالم اوربدطینت اتنا کہ اس کے علاقے کے لوگ کسی کے خلاف بات کرتے تو کہتے تھے :’’وہ تو ہرمز سے بڑھ کر کمینہ اور بد فطرت ہے۔‘‘اس کے ظلم و ستم کا زیادہ تر شکار مسلمان تھے۔جو دجلہ اور فرات کے سنگم کے علاقے میں رہتے تھے۔ان کے خلاف ہرمز کو یہی ایک دشمنی تھی کہ وہ اسلام کے پیروکار ہیں۔کسی ایرانی کے ہاتھوں کسی مسلمان کا قتل ہوجانا اور کسی مسلمان عورت کا اغواء کوئی جرم نہیں تھا۔ہندوؤں کی طرح ایرانی مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر،کسی بہانے ان کے گھروں کو لوٹ کر اور جلا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔مسلمان خوف و ہرا س میں زندگی گزار رہے تھے۔مسلمان جس علاقے میں آباد تھے۔اس کی زمین سونا اگلتی تھی۔اناج اور پھلوں کی پیداوار کیلئے وہ علاقہ بڑا ہی زرخیز تھا۔یہ علاقہ جو کم و بیش تین سو میل لمبا تھا۔زرخیزی اور شادابی کے علاوہ قدرتی مناظر کی وجہ سے حسین خطہ تھا۔حاکم عیش و عشرت کیلئے اسی علاقے میں آتے اور کچھ دن گزارکر جاتے تھے۔اس زرخیز اور شاداب علاقے میں مسلمانوں کو آباد کرنے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ کھیتی باڑی کریں اور خوشحال رہیں بلکہ انہیں یہاں مزارعوں کی حیثیت سے رکھا گیا تھا۔وہ زمین کا سینہ چیر کر شبانہ روز محنت اور مشقت سے اناج اور پھل اگاتے مگر اس میں سے انہیں اتنا ہی حصہ ملتا جو انہیں محض زندہ رکھنے کیلئے کافی ہوتا تھا۔
*جاری ہے*
بقیہ اگلی قسط نمبر 24
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-24)*
زمین کی اگلی ہوئی تمام دولت حاکموں کے گھروں میں اور ایرانی فوج کے پاس چلی جاتی تھی۔مسلمان مزارعوں کیلئے غربت اور ایرانیوں کی نفرت رہ جاتی تھی۔مسلمان اپنی جوان بیٹیوں کو کو گھروں میں چھپا کر رکھتے تھے۔کسی ایرانی فوجی کو کوئی مسلمان لڑکی اچھی لگتی تووہ کسی نہ کسی بہانے یا اس کے گھر والوں پر کوئی الزام عائد کرکے اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ایرانی فوجی کسی بہانے کے بغیر بھی مسلمان لڑکیوں کو اپنے ساتھ زبردستی لے جاسکتے تھے لیکن غلامی اور مظلومیت کے باوجود مسلمانوں میں غیرت کاجذبہ موجود تھا۔پہلے پہل زبردستی اغواء کی وارداتیں ہوئیں تو مسلمانوں نے دو تین فوجیوں کو قتل کردیا تھا۔مسلمانوں کواس کی سزا تو بڑی ظالمانہ ملی تھی اورانہیں اپنی لڑکیوں کو بچانے کی قیمت بھی بہت دینی پڑی تھی لیکن زبردستی اغواء کا سلسلہ رک گیا تھا۔
آتش پرست ایرانی اپنے فوجیوں کو سانڈوں کی طرح پالتے تھے۔ہر سپاہی اس قسم کی زِرہ پہنتا تھاکہ سر پر آہنی زنجیروں کی خود اور بازوؤں پر دھات کے خول اس طرح چڑھے ہوئے تھے کہ بازوؤں کی حرکت میں رکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ان کی ٹانگوں کو بھی بڑے سخت چمڑے یا کسی دھات سے محفوظ کیا ہوتا تھا۔
اسلحہ اتنا کہ ہر سپاہی کے پاس ایک تلوار ایک برچھی اور ایک گُرز ہوتا تھا۔گُرزپر ایرانی سپاہی خاص طور پر فخر کیاکرتے تھے ۔ان ہتھیاروں کے علاوہ ہر سپاہی کے پاس ایک کمان اور ترکش میں تیس تیر ہوتے تھے انہیں عیش و عشرت کھانے پینے اور لوٹ مار کی کھلی اجازت تھی۔وہ ہ جرات اور عسکری مہارت میں قابلِ تعریف تھے۔ان کی کمزوری صرف یہ تھی کہ وہ صرف آمنے سامنے کی لڑائی لڑ سکتے تھے اور لڑتے بھی بے جگری سے تھے لیکن اتنا اسلحہ اٹھا کر وہ پھرتی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے تھے۔کسی دستے یا جَیش کو فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا تو وہ مطلوبہ وقت میں نہیں پہنچ سکتے تھے۔اتنے زیادہ ہتھیاروں کا بوجھ انہیں جلدی تھکا دیتا تھا البتہ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کی سست رفتاری کی کمزوری کو چھپا لیتی تھی۔دجلہ اور فرات کے سنگم کے علاقے کے جنوب میں اُبلہ ایک مقام تھا جو عراق اور عرب کی سرحد پر تھا۔اس زمانے میں ابلہ ایک شہر تھا۔اس کے اردگرد کا علاقہ شاداب اور سرسبز تھا۔وہاں بڑے خوبصورت جنگل اور ہری بھری پہاڑیاں تھیں۔یا تاریخی اہمیت کا علاقہ تھا۔آج بھی وہاں کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں جو بزبان ِخاموشی تاریخی کہانیاں سناتے ہیں۔ہر کہانی عبرت ناک ہے۔اس خطے میں ان قوموں کی تباہی اور بربادی کے آثار بھی موجود ہیں جنہوں نے عیش و عشرت کو زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور رعایا کو وہ انسانیت کا درجہ نہیں دیتے تھے ۔خدا نے انہیں راہِ مستقیم دکھانے کیلئے پیغمبر بھیجے او ران لوگوں نے پیغمبروں کامذاق اڑایا اور کہا کہ تم تو ہم میں سے ہو اور دنیا میں تمہاری حیثیت اور تمہارا رتبہ بھی کوئی نہیں،پھر تم خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہو؟آخر خدا نے انہیں ایسا تباہ و برباد کیا کہ ان کے محلّات اور ان کی بستیوں کو کھنڈر بنا دیا۔خدا نے ان کا تفصیلی ذکر قرآن میں کیا اور فرمایا۔کیا تم نے زمین پر گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ جو اپنی بادشاہی پر اتراتے اور خدا کی سرکشی کرتے تھے اور جو اونچے پہاڑوں پر اپنی یادگاریں بناتے تھے کہ ان کے نام ہمیشہ زندہ رہیں،وہ اب کہاں ہیں؟اب زمین کے نیچے سے ان کے محلات اور ان کی یادگاروں کے کھنڈرات نکل رہے ہیں۔ان کے بعد بھی پر شکوہ شہنشاہ آئے اور ایک کے بعد ایک اپنے کھنڈرات چھوڑتا گیا ۔بابل کے کھنڈربھی آج تک موجود ہیں۔اس خطے میں اشوری آئے،ساسانی آئے،اور اب جب مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ امیر المومنین تھے۔دجلہ اور فرات کے اس حسین اور عبرت انگیز خطے میں ایرانیوں کا طوطی بول رہا تھا اور یہ آتش پرست قوم پہلی قوموں کی طرح یہی سمجھتی رہی کہ اسے تو زوال آہی نہیں سکتا۔وہ محکوموں کے خدا بنے ہوئے تھے۔
’’بنتِ سعود!‘‘ ایک نوجوان مسلمان لڑکی اپنی سہیلی سے پوچھ رہی تھی۔’’خداّم نہیں آیا؟‘‘زہرہ بنتِ سعود کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے آہ بھر کر منہ پھیر لیا۔’’تم کہتی تھیں کہ وہ تمہیں دھوکا نہیں دے گا۔‘‘سہیلی نے زہرہ سے کہا۔’’خدا نہ کرے،وہ اس بدبخت ایرانی کے ہاتھ چڑھ گیاہو۔‘‘’’خدا نہ کرے۔‘‘زہرہ بنتِ سعود نے کہا۔’’وہ آئے گا……چار دن گزر گئے ہیں……میں اس ایرانی کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔موت قبول کرلوں گی اسے قبول نہیں کروں گی۔خدام مجھے دھوکانہیں دے گا۔‘‘’’زہرہ! ‘‘سہیلی نے اسے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ تم اس ایرانی کماندار کو قبول کرلو؟تمہارے خاندان کیلئے بھی یہی بہتر ہو گا۔یہی ہے نہ کہ تمہیں اپنا عقیدہ بدلنا پڑے گا۔ساری عمر عیش توکرو گی ناں!‘‘’’میں نے جس خدا کو دیکھ لیا ہے اسی کی عبادت کروں گی۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’آگ خدا نے پیدا کی ہے ،آگ خدا نہیں ہو سکتی۔میں خداکی موجودگی میں کسی اورکی پرستش کیوں کروں؟‘‘’’سوچ لو زہرہ!‘‘ سہیلی نے کہا۔’’تم اسے قبول نہیں کرو گی تو وہ زبردستی تمہیں اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔اسے کون روک سکتا ہے؟وہ شاہی فوج کا کماندار ہے۔وہ تمہارے خاندان کے بچے بچے کو قید خانے میں بند کرا سکتا ہے۔ہوں تو میں بھی مسلمان کی بیٹی۔میں اﷲ کی عبادت کرتی اور اﷲ کی ہی قسم کھاتی ہوں۔
لیکن اﷲ نے ہماری کیا مدد کی ہے؟کیا تمہیں یقین ہے کہ اﷲ تمہاری مدد کرے گا؟‘‘’’اگر اﷲ نے میری مدد نہ کی تو میں اپنی جان لے لوں گی۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’اور اﷲ سے کہوں گی کہ یہ لے۔اگر میرے وجود میں جان تو نے ڈالی تھی تو واپس لے لے۔‘‘اور اس کے آنسو بہنے لگے۔زہرہ اپنے جیسے ایک خوبصورت جوان خدام بن اسد کو چاہتی تھی اور خدام اس پر جان نثا ر کرتا تھا۔ان کی شادی ہو سکتی تھی لیکن شِمر ایرانی فوج کا ایک کماندار تھا جس کی نظر زہرہ بنتِ سعود پر پڑ گئی تھی۔اس نے اس لڑکی کے باپ سے کہا تھا کہ وہ اس کی بیٹی کو بڑی آسانی سے گھر سے لے جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کرے گا۔’’میں تمہاری بیٹی کو مالِ غنیمت سمجھ کر نہیں لے جاؤں گا۔‘‘شمر نے کہاتھا ۔’’اسے دوگھوڑوں والی اس بگھی پر لے جاؤں گا جس پر دولہے اپنی دلہنوں کو لے جایا کرتے ہیں۔تم لوگوں کو فخر سے بتایا کرو گے کہ تمہاری بیوی ایک ایرانی کماندار کی بیوی ہے۔‘‘’’لیکن ایرانی کماندار! ‘‘زہرہ کے باپ نے کہا تھا۔’’تمہارا احترام ہم پر لازم ہے۔اگر لڑکی تمہاری دلہن بنناچاہے گی تو ہم اسے نہیں روکیں گے۔‘‘’’تم غلیظ عربی! ‘‘ایرانی کماندار نے اس نفرت سے جس سے وہ ہر مسلمان سے بات کیا کرتا تھا ،کہا۔’’تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے والی قوم میں سے ہے اور کہتا ہے کہ اپنی شادی کا فیصلہ تیری بیٹی خود کرے گی۔زرتشت کی قسم! اگر تیری بیٹی نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں نہ دیا تو تجھے اور تیری بیٹی کو ان کوٹھڑیوں میں بند کروں گا جن میں کوڑھی بند ہیں……بہت تھوڑی مہلت دوں گا بوڑھے۔‘‘
اس کے ساتھ اس کے تین گھوڑ سوار سپاہی تھے ۔انہوں نے بڑی زور کا قہقہہ لگایاتھا۔’’ مدینہ بہت دور ہے بدبخت بوڑھے!‘‘ ایک سپاہی نے اسے دھکادے کر کہاتھا۔’’تیرا امیر المومنین تیری مدد کو نہیں آئے گا۔‘‘زہرہ کے باپ کو اور اس کے بھائیوں کو معلوم تھا کہ وہ ایران کے ایک سپاہی کی بھی حکم عدولی نہیں کر سکتے۔یہ تو کماندار تھا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شِمر ان کی بیٹی کو اٹھوا بھی سکتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے لیکن اس خطے کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ کے پجاریوں کی جو نفرت تھی وہ انہیں مجبور کر رہی تھی کہ وہ ان کے غلام ہوتے ہوئے بھی ان کی غلامی قبول نہ کریں،اور اس کا انجام کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو ،اسے برداشت کریں ۔انہیں اپنے اﷲ پر بھروسہ تھا۔زہرہ اور خدام کو ملنے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔وہ پھلوں کے باغات میں کام کرتے تھے۔جس روز شِمر زہرہ کے گھر آیا تھا اس کے اگلے روز زہرہ خدام سے ملی اور خوفزدہ لہجے میں خدام کو بتایا کہ ایرانی کماندار کیا دھمکی دے گیا ہے۔’’ہم یہاں سے بھاگ نہ چلیں؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘خدام نے جواب دیا۔’’اگر ہم بھاگ گئے تو یہ بد بخت تمہارے اور میرے خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیں گے۔‘‘’’پھر کیا ہو گا؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’جو خدا کو منظور ہو گا۔‘‘خدا م نے کہا۔’’خدا……خدا……خدا۔‘‘زہرہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں کہا۔’’جو خدا ہماری مدد نہیں کر سکتا……‘‘’’زہرہ!‘‘ خدام نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔’’خدا اپنے بندوں کو امتحان میں ڈالا کرتا ہے۔بندے خدا کا امتحان نہیں لے سکتے۔‘‘خدام گہری سوچ میں کھو گیا۔’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تم اس آتش پرست شِمر کا مقابلہ کرو گے۔‘‘زہرہ نے کہا۔خدام گہری سوچ میں کھویا رہا۔’’سوچتے کیا ہو؟‘‘زہرہ نے کہا۔’’تم اس شخص کو قتل تو نہیں کر سکتے۔ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے۔‘‘’’خدا نجات کا راستہ بھی دِکھا دے گا۔‘‘خدام نے کہا۔’’تمہیں ایک اور راستہ میں بھی دکھا سکتی ہوں۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’مجھے اپنی تلوار سے قتل کر دو اور تم زندہ رہو۔‘‘’’تھوڑی سی قربانی دو۔‘‘خدام نے کہا۔’’میں اس نفرت کا اندازہ کر سکتا ہوں جو شِمر کے خلاف تمہارے دل میں بھری ہوئی ہے۔لیکن اس پر یہ ظاہر کرو کہ تم اسے پسند کرتی ہو اسے دھوکے میں رکھو ،میں کچھ دنوں کیلئے غائب ہوجاؤں گا۔‘‘’’کہاں جاؤ گے؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’کیا کرنے جاؤ گے؟‘‘’’مجھ سے ہر بات نہ پوچھو زہرہ!‘‘خدام نے کہا۔’’میں خدائی مدد حاصل کرنے جا رہا ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم خدام!‘‘ زہرہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اگر تم نے مجھے دھوکا دیا تو میری روح تمہیں چین سے نہیں جینے دے گی ۔میں ایک دن کیلئے بھی اس کافر کی بیوی بن کے نہیں رہ سکوں گی۔اس کی بیوی بننے کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے تم ہی نہیں میرا مذہب بھی چھن جائے گا۔‘‘’’اگر تم مذہب کی اتنی پکی ہو تو خدا ہماری مدد کو آئے گا۔‘‘خدا م نے کہا۔’’خدام!‘‘زہرہ نے مایوسی کے لہجے میں کہا۔’’میں مذہب کی تو پکی ہوں لیکن خدا پر میرا عقیدہ متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔
خدام کچھ اور کہنے ہی لگا تھا کہ باغ میں کام کرتے ہوئےلوگوں میں ہڑبونگ سی مچ گئی۔تین چار آدمیوں نے خدام کو پکارا۔زہرہ اٹھی اور وہیں سے پودوں میں غائب ہو گئی۔خدام نے اٹھ کر دیکھا۔
کچھ دور پرے ایرانی کماندار شِمر اپنے گھوڑے پر سوار آ رہا تھا۔اس نے دور ہی سے کہا تھا کہ خدام کو اس کے پاس بھیجا جائے ۔خدام آہستہ آہستہ چلتا شمر کی طرف گیا۔’’تیز چلو!‘‘شمر نے گھوڑا روک کر دور سے کہا۔خدام نے اپنی چال نہ بدلی۔شمر نے ایک بار پھر گرج کر اسے تیز چلنے کو کہا۔خدا م اپنی ہی رفتار سے چلتا رہا۔شمر گھوڑے سے کود کر اترا اور کولہوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا۔باغ میں کام کرنے والے مسلمان دم بخود دیکھتے رہے۔انہیں معلوم تھا کہ شمر خدام کی ہڈی پسلی ایک کردے گا۔لیکن خدام جب اس کے سامنے جا رکا تو شمر نے ہاتھ بھی نہ اٹھایا۔’’دیکھ کمینے انسان!‘‘ شمر نے خدام سے حقارت آمیز لہجے میں کہا۔’’ میں تمہارے باپ اور تمہاری جوانی پر رحم کرتا ہوں۔آج کے بعد میں تمہیں اس لڑکی کے ساتھ نہ دیکھوں۔‘‘’’اگر تم نے مجھے اس لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا تو پھر کیا ہو گا؟‘‘خدام نے پوچھا۔’’پھر میں تمہارے منہ پر ایک دو تھپڑ نہیں ماروں گا۔‘‘شمر نے کہا۔’’تمہیں درخت کے ساتھ الٹا لٹکا دوں گا ۔جاؤ میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔‘‘شمر گھوڑے پر سوار ہوا اور چلاگیا۔خدام وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔’’خدام!‘‘ اسے کسی نے بلایااور کہا۔’’ادھر آ جاؤ۔‘‘پھر اسے تین چار آدمیوں کی آوازیں سنائی دیں۔’’آجاؤ خدام ……آجاؤ۔‘‘وہ پیچھے مڑا اور لوگوں کے پاس جا رکا۔سب اس سے پوچھنے لگے کہ شمر نے کیا کہا تھا۔خدام نے انہیں بتایا۔سب جانتے تھے کہ خدام کاجرم کیا ہے۔اگر یہ مسلمان آزاد ہوتے ان کی اپنی حکومت ہوتی اور یہ معاشرہ ان کا اپنا ہوتا تو وہ خدام کو برا بھلا کہتے کہ وہ کسی کی نوجوان بیٹی کو اپنے پاس بٹھائے ہوئے تھا۔لیکن وہاں صورت مختلف تھی۔انہیں یہ بھی معلوم تھاکہ خدام برے چال چلن کا نوجوان نہیں۔اس مظلومیت میں بھی مسلمان متحد تھے۔لیکن باغ میں کام کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ آتش پرست ادھر کیا لینے آیا تھا۔’’اسے ادھر لایا گیا تھا۔‘‘ایک نے کہا۔’’اور لانے والا ہم میں سے کوئی ایک ہی تھا۔‘‘’’معلوم کرو وہ کون ہو سکتا ہے۔‘‘اک بوڑھے نے کہا۔’’یہاں سوال ایک لڑکے اور لڑکی کا نہیں۔یہ ظالم اور مظلوم کا معاملہ ہے۔یہ ہماری آزادی اور خودداری کامعاملہ ہے۔آج اگر اس شخص نے اس ذرا سی بات پر مخبری کی ہے تو کل وہ بہت بڑی غداری کر سکتا ہے۔‘‘سب پر خاموشی طاری ہو گئی ۔ایک ادھیڑ عمر عورت نے جو ان آدمیوں کے پیچھے کھڑی تھی بول پڑی۔’’میں بتاتی ہوں وہ کون ہے؟‘‘اس عورت نے کہااور ان آدمیوں میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کی طرف دیکھنے لگی۔عورت نے ہاتھ لمبا کرکے انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا۔’’ابو نصر! تم وہاں اس ٹیکری کے پیچھے کھڑے کیاکر رہے تھے؟‘‘
ابو نصر کے ہونٹ ہلے لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا۔اسی سے سب سمجھ گئے کہ یہ شخص آتش پرستوں کامخبر ہے ۔اس نے آخر اس الزام کو تسلیم نہ کیا۔’’میں تمہیں دیکھ رہی تھی۔‘‘اس عورت نے کہا۔’’تم ٹیکری کے پیچھے غائب ہو گئے اور وہاں سے شمر نکلا۔‘‘’’دیکھ ابو نصر! ‘‘ایک بوڑھے نے کہا۔’’ہمیں کوئی ڈر نہیں کہ اب تم شمرکو یہ بھی جا کر بتا دو گے کہ ہم نے تمہیں مخبر اور غدار کہا ہے ۔یہ سوچ لو کہ آتش پرست تمہیں گلے نہیں لگائیں گے۔وہ کہتے ہوں گے کہ تم ان کے غلام ہو اور اپنی قوم کے خلاف مخبری اور غداری تمہارا فرض ہے۔‘‘ابو نصر نے سر جھکا لیا۔اس پر طعنوں اور گالیوں کے تیر برسنے لگے جس کے منہ میں جو آیا اس نے کہا۔آخر ابو نصر نے سر اٹھایا ۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے دھلا ہوا تھا اور آنسو بہے چلے جا رہے تھے۔ندامت کے یہ آنسو دیکھ کر سب خاموش ہو گئے۔’’تمہیں آخر کتنا انعام ملتا ہو گا؟‘‘ان کے ایک بزرگ نے پوچھا۔’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ابو نصر نے سسکی لینے کے انداز میں کہا۔’’میں نے یہ پہلی مخبری کی ہے ۔اگر تم لوگ مجھے موت کی سزا دینا چاہو تو مجھے قبول ہے۔‘‘’’ہم پوچھتے ہیں ،کیوں؟‘‘ایک نے کہا۔’’آخر تم نے یہ حرکت کیوں کی؟‘‘’’میری مجبوری۔‘‘ابونصرنے جواب دیا۔’’پرسوں کی بات ہے ،اس کماندار نے مجھے راستے میں روک کر کہا تھاکہ میں زہرہ کے گھر پر نظر رکھوں ۔اس کامطلب یہ تھا کہ میں یہ نظررکھوں کہ زہرہ گھر سے بھاگ نہ جائے اور اسے کسی جوان آدمی کے ساتھ الگ تھلگ کھڑا دیکھو ں تو اسے اطلاع دوں……میں نے اسے کہا کہ میں اس لڑکی پر نظر رکھوں گا۔ لیکن میری دو بیٹیوں پر کون نظر رکھے گا۔میں نے کہا کہ شاہی فوج کے کماندار اور سپاہی ہماری بیٹیوں کو بری نظر سے دیکھتے رہتے ہیں……‘‘’’شمر میری بات سمجھ گیا،اس نے کہا کہ تمہاری بیٹیوں کو کوئی شاہی فوجی آنکھ اٹھاکربھی نہیں دیکھے گا۔اس نے میرے ساتھ پکا وعدہ کیا کہ وہ میری بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کا پکا انتظام کرے گا……یہ میرے لیے بہت بڑا انعام تھا۔‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں مسلمان کہا جائے۔تم نے اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کیلئے اپنے بھائی کی بیٹی کی عزت کا خیال نہ کیا۔‘‘’’تجھ پر خدا کی لعنت ہو ابو نصر!‘‘ ایک اور بولا۔’’تو جانتا ہے کہ ان آتش پرستوں کے وعدے کتنے جھوٹے ہوتے ہیں۔ان میں تمہیں کوئی ایک بھی نہیں ملے گا جو کسی مسلمان سے وفا کرے۔‘‘’’اپنی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کیلئے ہم خود موجود ہیں۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’تمہاری بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔‘‘’’میں اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘زہرہ کے باپ سعود نے کہا۔
’’اور میں بھی اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘خدام بولا۔’’خدا کی قسم! میں شمر سے انتقام لوں گا۔‘‘’’جوش میں مت آ لڑکے!‘‘بزرگ عرب نے کہا۔’’کچھ کرنا ہے تو کرکے دکھا۔اور یہ بھی یاد رکھ کہ جوش میں آکہ مت بول، دماغ کو ٹھنڈا کرکے سوچ۔‘‘دوسری صبح جب یہ مسلمان کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کیلئے گئے تو ان میں خدام نہیں تھا۔ہر کسی نے خدام کے باپ سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟باپ پریشان تھا۔اسے صبح پتا چلا تھا کہ خدام غائب ہے۔’’زرتشت کے یہ پجاری میرے بیٹے کو کھا گئے ہیں۔‘‘خدام کے باپ نے روتے ہوئے کہا۔’’اسے انہوں نے کسی طرح دھوکے سے باہر بلایا ہو گا اور قتل کرکے لاش دریا میں بہا دی ہو گی۔‘‘سب کا یہی خیال تھا۔صرف زہرہ تھی جسے امید تھی کہ خدام خود کہیں چلا گیا ہو گا۔اس نے زہرہ کو بتایا تھا کہ کہ وہ کچھ دنوں کیلئے کہیں غائب ہو جائے گا۔زہرہ نے یہ بات کسی کو نہ بتائی بلکہ اس نے بھی یہی کہاکہ خدام کو ایرانیوں نے غائب کردیا ہے۔زہرہ نے اپنی سہیلیوں سے کہا کہ وہ دو تین روز ہی خدام کا انتظار کرے گی ۔وہ نہ آیا تو دریا میں ڈوب مرے گی۔تین چار روز بعد رات کو شمر فوج کی ایک چوکی میں بیٹھا دو نو عمر لڑکوں کا رقص دیکھ رہا تھا۔ایران کے شاہی درباروں میں ایسے لڑکوں کا رقص مقبول تھا جن کے جسم لڑکیوں کی طرح دل کش ،گداز اور لچکدار ہوتے تھے۔انہیں ایسا لباس پہنایا جاتا تھا جس میں وہ نیم عریاں رہتے تھے۔شِمر شاہی خاندان کا فرد تھا ۔اس رات یہ دولڑکے اس نے اپنے سپاہیوں کیلئے بلائے تھے ۔شراب کا دور چل رہا تھا۔سپاہی چیخ چیخ کا داد دے رہے تھے ۔شراب میں بدمست ہوکر دو تین سپاہیوں نے بھی لڑکوں کے سات ہی ناچنا شروع کر دیا۔شمر کے حکم پر ان سپاہیوں کو دوسرے سپاہی اٹھاکر چوکی سے باہر پھینک آئے۔یہ چوکی چھوٹا سا ایک قلعہ تھا۔لیکن اس کے دروازے رات کو بھی کھلے رہتے تھے۔ایرانیوں کو کسی دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔وہ اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے۔رقص جب اپنے عروج کو پہنچا اور شراب کا نشہ شمر اور اس کے سپاہیوں کے دماغ کو ماؤف کرنے لگا تو سنسناتا ہوا ایک تیر آیا جو شمر کی گردن میں ایک طرف سے لگا اور اس کی نوک دوسری طرف سے باہر نکل گئی۔شمر دونوں ہاتھ اپنی گردن پر رکھ کر اٹھا۔سپاہیوں میں ہڑبونگ مچ گئی ۔وہ سب شمر کے گرد اکھٹے ہو گئے ۔تین چار اور تیر آئے ۔تین چار چیخیں سنائی دیں ۔پھر ان ایرانیوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملااور وہ کٹنے لگے۔ان میں سے جو بھاگ کر دروازوں کی طرف گئے وہ دروازوں میں کٹ گئے۔
چوکی والوں کو کہیں سے بھی مدد نہیں مل سکتی تھی۔کسی بھی دروازے سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا۔انہیں ہتھیار اٹھانے کی تو مہلت ہی نہیں ملی تھی۔اس حملے میں جو بچ گئے وہ زمین پر لیٹ گئے ۔یہ ایک طوفان تھا یا بگولہ جو غیر متوقع طورپر آیا اور جب گزر گیا تو اپنے ساتھ وہ تمام مال و دولت جو اس چوکی میں تھا لے گیا ۔پیچھے لاشیں رہ گئیں یا تڑپتے ہوئے زخمی یا وہ اچھے بھلے ایرانی سپاہی جو جان بچانے کیلئے لاشوں اور زخمیوں میں لیٹ گئے تھے۔
صبح ہوئی ۔مسلمان کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کیلئے گھروں سے نکل رہے تھے کہ گھوڑ سوار ایرانی فوج نے ان کی بستی کو گھیرے میں لے لیا۔دوسری چوکی کو اس وقت اس چوکی پر حملے کی اطلاع ملی تھی جب حملہ آور اپناکام کرکے بہت دور نکل گئے تھے۔مسلمانوں کو کام پرجانے سے روک لیا گیا ۔ایرانی فوجیوں نے مردوں کو الگ اکھٹا کرکے کھڑا کر دیا اور ان کے گھروں سے عورتوں کو باہر نکال کر مردوں سے دور کھڑا رہنے کا حکم دیا۔فوجی ان کے گھروں میں گھس گئے اور اس طرح تلاشی لی جیسے ان کے مکانوں کے فرش بھی کھودکر دیکھے ہوں۔انہیں کسی گھر سے ایسی کوئی چیز نہ ملی جو شک پیدا کرتی البتہ سپاہیوں کو اپنے کام کی جو چیزیں نظر آئیں وہ انہوں نے اٹھالیں۔پھر انہوں نے عورتوں اور مردوں کو اکھٹا کھڑا کرکے انہیں دھمکیاں دیں۔مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ان کیلئے نیانہیں تھا۔کسی نہ کسی بہانے ان کے گھروں کی تلاشی ہوتی ہی رہتی تھی۔اس کے بعد انہیں اسی طرح کی دھمکیاں ملتی تھیں لیکن اب ایرانیوں کو معقول بہانہ ملاتھا۔’’رات ابلہ کی ایک مضافاتی چوکی پر بہت سے آدمیوں نے شبخون مارا ہے۔‘‘ایک ایرانی کماندار نے مسلمانوں سے کہا۔’’ہمارا ایک کماندار اور ساٹھ سپاہی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں اگر تم میں کوئی مرد یا عورت اس گروہ کے کسی ایک آدمی کو بھی پکڑ وائے گا اسے انعام ملے گا۔نقد انعام کے علاوہ اسے اس فصل کا آدھا حصہ ملے گا۔‘‘اس نے سب پر نگاہ دوڑائی اور پوچھا۔’’ایک دوسرے کو دیکھ کر بتاؤ کہ تم میں کون غیر حاضر ہے۔‘‘سب نے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ کون غیر حاضر ہے۔ان کی نگاہیں خدام کو ڈھونڈ رہی تھیں۔وہ تین چار دنوں سے بستی سے غائب تھا۔ سب نے دیکھا کہ خدام وہاں موجود تھا۔سب نے سکون کی سانس لی۔پھر بہت سی آوازیں اٹھیں کہ کوئی بھی غیر حاضر نہیں۔ایرانی فوجیوں کے جانے کے بعد جنہیں معلوم تھا کہ خدام تین چار روز غائب رہاہے وہ باری باری اس سے پوچھنے لگے کہ وہ کہاں چلا گیا تھا۔’’میں شمر کے ڈر سے بھاگ گیا تھا۔‘‘خدام نے ہر کسی کو یہی جواب دیا۔اس کے باپ نے سب کو بتایا تھا کہ خدام گزشتہ رات کے پچھلے پہر آیا تھا۔اس روز باغ میں کام کرتے ہوئے زہرہ اور خدام کام سے کھسک گئے اور اس جگہ جا بیٹھے جہاں انہیں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔زہرہ خوشی سے پاگل ہوئی جا رہی تھی اوروہ رہ رہ کر خدام کی بلائیں لیتی تھی۔’’یہ کیسے ہوا خدام؟‘‘اس نے خوشی سے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا۔’’یہ ہوا کیسے؟‘‘’’اسے اﷲ کی مدد کہتے ہیں زہرہ!‘‘خدام نے کہا۔’’اب نہ کہنا کہ خدا مدد نہیں کرتا۔‘‘
’’خدام!‘‘زہرہ سنجیدہ ہو گئی جیسے اس کے ہونٹوں پر کبھی مسکراہٹ آئی ہی نہ ہو۔خدام کے چہرے پر نظریں گاڑھ کر قدرے پریشان سے لہجے میں بولی۔’’سچ کہوخدام!شمر کے قاتل تم ہی تو نہیں؟……کہتے ہیں رات صحرائی ڈاکو ؤں کے بہت بڑے گروہ نے شمر کی چوکی پر اس وقت شب خون مارا جب وہ شراب اور رقص میں بد مست تھے ۔ایسا تو نہیں کہ تم ان ڈاکوؤں سے جا……‘‘خدام کے اچانک قہقہے نے بنتِ سعود کی بات پوری نہ ہونے دی۔ وہ ہنستا ہی رہا۔جیسے اس سے بڑا مذاق اس نے کبھی سُنا ہی نہ ہو۔خدام نے قہقہے میں ایک راز چھپا لیاتھا۔زہرہ کو یہ خطرہ نظر آیا تھا کہ خدام غیر معمولی طور پر دلیر،غیرت مند اور جسمانی لحاظ سے طاقتور اورپھرتیلا ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ وہ شمر کو قتل کرانے کیلئے ڈاکوؤں کے گروہ سے جا ملا ہو۔اس زمانے میں صحرائی ڈاکوؤں کے گروہ فوجی دستوں کی طرح اپنی کارروائیاں کرتے تھے۔وہ مسافروں کے قافلوں کو لوٹتے اور اگر فوج کے مقابلے میں آجاتے تو جم کر مقابلہ کرتے اور لڑتے لڑتے یوں غائب ہوجاتے جیسے انہیں صحرا کی ریت اور ریتیلے ٹیلوں نے نگل لیا ہو۔زہرہ نے کئی بار دیکھا تھا کہ دو تین اجنبی مسافر آئے اور یہ بتا کر کہ وہ بہت دور جا رہے ہیں ،کسی مسلمان کے گھر ٹھہرے اور صبح ہوتے ہی چلے گئے،وہ جب بھی آتے تھے ،خدام اور اس جیسے تین چار نوجوان زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارتے اور ان کے جانے کے بعد یہ نوجوان پراسرار سی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تھے۔زہرہ نے یہ بھی دیکھا تھا کہ اجنبی مسافروں کے جانے کے بعد مسلمان قبیلوں کے بزرگ سرجوڑ کر بیٹھ جاتے اور سرگوشیوں میں باتیں کرتے تھے۔پھر جب مسلمان کھیتی باڑی،باغبانی اور دیگر کاموں میں مصروف ہوتے تو یہ بزرگ ان کے درمیان گھومتے پھرتے اور ان کے ساتھ ایسی باتیں کرتے جیسے وعظ کر رہے ہوں۔’’اپنے مذہب کو نہ چھوڑنا۔‘‘بزرگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔’’جس خدا کے بھیجے ہوئے رسولﷺ کو مانتے ہو اس خدا کی مدد آ رہی ہے……آتش پرست طاقتور ہیں ،بہت طاقتور ہیں لیکن وہ اﷲ سے زیادہ طاقتور نہیں……ثابت قدم رہو……ظالم کا ہاتھ کٹنے والا ہے……اﷲ مظلومین کے ساتھ ہے۔‘‘
’’کب؟……آخر کب؟‘‘ایک روز ایک آدمی نے جھنجھلا کر ان بزرگوں سے پوچھا۔’’خدا کی قسم! تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم ظلم و ستم سہتے چلے جائیں اور چپ رہیں اور تمہارے وعظ سنتے رہیں ۔اگر آج ہم کہہ دیں کہ ہم مسلمان نہیں اور اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں تو غلامی کی زنجیریں ٹوٹ جائیں……خدا کی مدد آرہی ہے۔کب آ رہی ہے؟‘‘’’اسے بتاؤ۔‘‘ایک بزرگ نے اس آدمی کے ساتھ کام کرنے والے ایک آدمی سے کہا۔’’اسے اچھی طرح سمجھاؤ……اسے بتاؤ کہ اس علاقے میں یہ صدیوں پرانے کھنڈر ہیں ،خدا کا ہاتھ ان میں سے اٹھے گا اور ظالم کا ہاتھ کٹ جائے گا۔‘‘ان بزرگوں کے سینے میں وہی راز تھا جو خدام نے زہرہ بنتِ سعود سے چھپا لیا تھا۔ایرانی کماندار شمر کی چوکی پر جو اتنا زبردست شب خون مارا گیا تھا وہ پہلا شب خون نہیں تھا۔اُبلہ کے علاقے میں یہ پہلا تھا ۔یہ چوکی چونکہ آبادی کے قریب تھی اس لیے ان مسلمانوں کو پتا چل گیا تھا ۔اگر ان کے گھروں کی تلاشی نہ لینی ہوتی تو شاید انہیں پتا ہی نہ چلتا۔عراق کے سرحدی علاقے میں یہ دوسری تیسری رات ایرانیوں کی کسی نہ کسی چوکی پر ایسا ہی شب خون پڑتا اور شب خون مارنے والے چوکی میں قتل و غارت کرکے وہاں سے جو مال اور سامان ہاتھ لگتا ،لے کر غائب ہو جاتے۔دو بار ایرانی فوج نے یہ جوابی کارروائی کی کہ کثیر تعداد گھوڑ سوار دستہ شب خون مارنے والوں کی تلاش میں گیا۔اس سر سبز اور شاداب علاقے سے نکلتے ہی صحرا شروع ہو جاتا تھا۔جو ہموار صحرا نہیں تھا۔وہاں ریت کی گول گول اور اونچی اونچی ٹیکریاں تھیں۔آگے وسیع نشیب تھے جن میں عجیب و غریب شکلوں کے ٹیلے کھڑے تھے۔ریت کی پہاڑیاں تھیں جن سے شعلے سے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔اس خوفناک علاقے میں جو میل ہامیل پھیلا ہوا تھا،صحرا کے بھیدی ہی جا سکتے تھے۔کسی اجنبی کا وہاں جانا ہی محال تھا اور وہاں جاکر زندہ نکل آنا تو ناممکن تھا۔دونوں بار ایرانی فوج کے گھوڑ سوار دستے کا یہ انجام ہوا کہ اسے گھوڑوں اورانسانوں کے نقوش ِ پا ملتے رہے جو صاف بتاتے تھے کہ یہ ایک گروہ ہے اور شب خون مارنے والا یہی گروہ ہو سکتا ہے۔مگر یہ نقوش انہیں سیدھے موت کے منہ میں لے گئے۔ایرانی جوں ہی پہلے نشیب میں داخل ہوئے اورپورا دستہ نشیب میں اتر گیا تو ان پر تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔پہلی بوچھاڑ میں کئی سوار اور گھوڑے گھائل ہو گئے۔زخمی گھوڑے بے لگام ہو کر ادھر ادھر بھاگے ۔سارے دستے میں بھگدڑ مچ گئی۔ان پر تیر برستے رہے مگر بکھر جانے کی وجہ سے تیر خطا ہونے لگے۔بھول بھلیوں جیسے اس نشیب میں سے چند ایک گھوڑ سوار نکلے۔ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں۔ان کے کرتے بڑے لمبے اورسروں پر سیاہ کپڑے اس طرح لپٹے ہوتے تھے کہ ان کے چہرے اور گردنیں بھی ڈھکی ہوئی ہوتی تھیں ۔ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ان گھوڑوں کے قدموں میں اور ان کے سواروں کے بازوؤں میں ایسی پھرتی تھی کہ ایرانی سوار جو پہلے ہی ہراساں تھے ،برچھیوں سے زخمی ہوکر گرنے لگے۔ان میں سے کئی بھاگ نکلے۔وہ ٹیلوں اور گھاٹیوں واے نشیب سے تو نکل گئے لیکن ریت کی گول گول ٹیکریوں میں داخل ہوئے تو گھومنے لگے۔ان سینکڑوں ٹیکریوں میں جو ایک دوسری کے ساتھ ساتھ کھڑی تین چار میل کی وسعت میں پھیلی ہوئی تھیں ،یہی خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی اجنبی ان کے اندر چلا جائے تو وہ اندر ہی اندر چلتا رہتاہے ،نکل نہیں سکتا۔آخر تھک کر بیٹھ جاتا ہے ۔پیاس سے حلق میں کانٹے چبھنے لگتے ہیں اور ریگستان کے یہ گول گول بھوت اسے بڑی اذیت ناک موت مارتے ہیں۔
دوسری بار ایرانیوں کے سوار دستے پر کسی اور جگہ سے ایسا ہی حملہ ہواتھا اور سوار بکھر کر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے تو انہیں ایک للکار سنائی دینے لگی۔’’زرتشت کے پجاریوں !میں مثنیٰ بن حارثہ ہوں……زرتشت کو ساتھ لاؤ……مثنیٰ بن حارثہ ……ہرمز کو یہ نام بتا دینا……مثنیٰ بن حارثہ۔‘‘اس ایرانی دستے کے جو سوار زندہ بچ گئے وہ نیم مردہ تھے۔انہوں نے اپنے کمانداروں کو بتایا کہ انہیں صحرا میں یہ للکار سنائی دی تھی۔اس کے بعد ایرانیوں کی سرحدی چوکیوں پر چھاپے پڑتے رہے لیکن انہوں نے چھاپہ مار وں کے تعاقب کی اور ان کو تلاش کرنے کی جرات نہ کی۔بعض چھاپوں کے بعد بھی یہ للکار سنائی دیتی تھی۔’’مثنیٰ بن حارثہ……آتش پرستو……میں مثنیٰ بن حارثہ ہوں۔‘‘پھر مثنیٰ بن حارثہ دہشت کا،کسی جن بھوت کا،کسی بدروح کا ایک نام بن گیا۔ایرانی فوجی اس نام سے ڈرنے لگے ۔انہوں نے مثنیٰ بن حارثہ یا اس کے گروہ کے کسی ایک آدمی کو پکڑنے کے بہت اہتمام کیے لیکن جب کہیں شب خون پڑتا تھا تو ایرانی فوجی جن کی جرات اور بے جگری مشہور تھی ،دہشت سے دبک جاتے تھے۔یہ تھا وہ مثنیٰ بن حارثہ جو فروری ۶۳۳ء کے ایک روز مدینہ میں خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ کے سامنے ایک گمنام اجنبی کی حیثیت سے بیٹھا تھا۔وہ جنوبی عراق کارہنے والا اور اپنے قبیلے بنو بکرکا سردار تھا۔تاریخ میں ایسا اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ اس نے کب اور کس طرح اسلام قبول کیا تھا ۔یہ اسی کی کاوش کا نتیجہ تھاکہ نہ صرف اس کے اپنے قبیلے نے بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے کئی اور قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔جب جنگِ یمامہ ختم ہوئی اورارتداد کے فتنے کا سر کچل دیا گیاتو مثنیٰ بن حارثہ نے عراق کے جنوبی علاقوں میں ایرانیوں کیخلاف جہاد شروع کر دیا۔انہوں نے ان مسلمانوں میں سے جو ایرانی بادشاہی کی رعایا تھے۔ایک گروہ بنالیا اور ایرانی فوج کی سرحدی چوکیوں پر شب خون مارنے شروع کر دیئے۔ان کے شب خون اس قدر اچانک اور تیز ہوتے تھے کہ چوکی والوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھااورمثنیٰ کا گروہ صفایا کرکے غائب ہو جاتا تھا۔انہوں نے بڑے ہی دشوار گزار صحرامیں اپنا اڈہ بنالیا تھا جسے انہوں نے مالِ غنیمت سے بھر دیا تھا۔پھر انہوں نے ان بستیوں پر بھی شب خون مارنے شروع کردیئے جہاں صرف ایرانی رہتے تھے۔مثنیٰ نے سرحد پر ایرانی فوج کو بے بس اور مجبور کردیا۔ایرانی فوج کے کئی سینئر کماندار مثنیٰ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
مثنیٰ بن حارثہ نے دوسرا کام یہ کیا کہ عراق کے جنوبی علاقے مین جومسلمان ظلم و ستم میں زندگی گزار رہے تھے انہیں اس نے اپنے زمین دوز اثر میں لے کرمتحد رکھا ہوا تھا۔ان کا ایک گروہ تو شب خون مارنے کاکام کرتا تھا اور ایک گروہ بستیوں میں رہ کر مسلمانوں کو اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھتا تھا اور انہیں بتاتا رہتا تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔مسلمان اپنے چھاپہ ماروں کی کامیابیاں دیکھ رہے تھے اور وہ مطمئن تھے۔یہ تھی وہ خدائی مدد جس کے انتظارمیں وہ ایرانیوں کا ظلم و ستم سہہ رہے تھے اور اپنا مذہب نہیں چھوڑ رہے تھے۔ورنہ مظالم سے بچنے کا ان کے سامنے بڑا سہل طریقہ یہ تھاکہ اسلام سے منحرف ہو کر آتش پرست ہو جاتے۔خدام نے زہرہ سے کہا تھا کہ وہ تین چار دنوں کیلئے غائب ہو جائے گا ۔وہ غائب ہوکر چھاپہ ماروں کے ا ڈے پر چلا گیا تھا اور انہیں ایرانی کماندار شمر کے متعلق بتایا تھا ۔اس کی چوکی تک چھاپہ ماروں کی رہنمائی اسی نے کی تھی ۔چوکی پر حملہ پوری طرح کامیاب رہا ۔اسکے فورا ً بعد خدام اپنے گھر آ گیا تھا۔مثنیٰ بن حارثۃنے امیر المومنین ابو بکر ؓ کو تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے خلیج فارس کے ساحل کے ساتھ ساتھ اور عراق کے جنوبی علاقے میں کس طرح عربی مسلمانوں کے قبیلوں کو اپنے اثر میں لیا اورانہیں اسلام پر قائم رکھ کر انہیں زمین دوز محاذپر جمع کیا۔’’تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو ابن ِحارثہ! ‘‘خلیفہؓ نے کہا۔’’تو اگر یہ مشورہ دینے آیا ہے کہ میں ایرانیوں پر فوج کشی کروں تو مجھے سوچنا پڑے گا۔کیا تو نے دیکھا نہیں کہ ایرانیوں کی فوج کی تعداد کتنی زیادہ ہے اور ان کے وسائل اور ذرائع کتنے وسیع اور لا محدود ہیں ؟ہم اپنے مستقر سے اتنی دور قلیل تعداد اور بغیر وسائل، کثیر تعداد اور طاقتور فوج کے مقابلے کے قابل نہیں ہوتے لیکن میں نے سلطنت فارس کونظر انداز بھی نہیں کیا۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘مثنیٰ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا۔’’اگرایک آدمی اتنی بڑے ملک کی فوج کے ساتھ ٹکر لے سکتا ہے اور ان پرمسلمانوں کے عسکری جذبے کی دھاک بٹھا سکتا ہے تو میں اپنے اﷲ کے بھروسے پہ کہتا ہوں کہ ایک منظم فوج بہت کچھ کر سکتی ہے ۔میں اس آتش پرست سلطنت کی اندرونی کیفیت دیکھ آیا ہوں۔شاہی خاندان تخت و تاج کی خاطر آپس میں دست و گریباں ہو رہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ شہنشاہ ہرقل فارسیوں کو نینوا اور دستجرد میں بہت بری شکست دے چکا ہے۔اس کی فوجیں آتش پرست فارسیوں کے دارالحکومت مدائن کے دروازوں تک پہنچ گئی تھیں۔اس کے بعد فارسی)ایرانی(سنبھل نہیں سکے۔اگر ان میں عیش پرستی کو دیکھاجائے تو وہ سنبھلے ہوئے لگتے ہیں لیکن اب ان میں بادشاہی کے تاج پر رسہ کشی ہو رہی ہے۔یمن ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور وہاں کے حاکم بازان نے اسلام قبول کرلیا ہے،ان کی رعایا ان کی زنجیریں توڑنا چاہتی ہے ۔ان کی محکومی میں ان کے جنوبی علاقوں کے مسلمان میرے اشارے اورمدینہ کی فوج کے منتظر ہیں۔‘‘’’تجھ پر رحمت ہی رحمت ہو مثنیٰ!‘‘امیر المومنینؓ نے کہا۔’’لارَیب تیری باتیں میرے دل میں اتر رہی ہیں ۔میرا اگلا قدم وہیں پڑے گا جہاں تو کہتا ہے۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گاکہ میں سالاروں کی مجلس سے بات کر لوں؟‘‘
’’یا امیرالمومنین!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’فیصلہ وہی بہتر ہوتا ہے جو صلح و مشورے کے بعد کیا جاتا ہے لیکن میں امیر المومنین سے اجاز ت چاہوں گا کہ جو کہنا چاہتا ہوں وہ کہہ لوں اور آپ میری باتیں سالاروں کے سامنے ضرور رکھیں……دجلہ اور فرات جہاں ملتے ہیں ،وہاں کے بڑے وسیع علاقے میں عربی قبیلے آباد ہیں جو سب کے سب مسلمان ہیں۔چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لئے وہ آگ کے پجاری بادشاہوں کے جورو ستم کا نشانہ بنے ہوتے ہیں۔مسجدوں پر بھی ان کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا۔فارسیوں کے ہاتھوں ان کی جان محفوظ نہیں۔ان کی عزت محفوظ نہیں……وہ مسلمان فصل اگاتے ہیں جو پک جاتی ہے تو آتش پرست زمیندار اور فوجی اٹھا کر لے جاتے ہیں ،وہاں مسلمان مزارعے ہیں اور انہیں دھتکاری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا ہے ۔وہ مسلسل خوف و ہراس میں رہتے ہیں۔ان کیخلاف الزام صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور کفر کے طوفانوں میں بھی وہ اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔وہ مدینہ کو روشنی کا مینار سمجھتے ہیں……امیر المومنین! اگر آپ بیٹھے یہ سوچتے رہیں کہ دشمن بہت طاقتور ہے تو وہ روز بروز طاقتور ہوتا جائے گا اور مسلمان مایوس ہو کراپنی بھلائی کا کوئی ایسا طریقہ سوچ لیں گے جو اسلام کے منافی ہو گا۔میرے چھاپہ ماروں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آپ کی فوج کیلئے جو زمین ہموار کی ہے وہ دشمن کے حق میں چلی جائے گی……کیارسول اﷲﷺمظلوم مسلمانوں کی مدد کو نہیں پہنچا کرتے تھے؟‘‘’’خدا کی قسم! میں ان کی مدد کو پہنچوں گا۔‘‘خلیفہ ابو بکرؓ نے کہا اور اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک سالار سے پوچھا۔’’ولید کا بیٹا خالد کہاں ہے؟‘‘’’یمامہ میں آپ کے اگلے حکم کا انتظار کررہا ہے امیر المومنین!‘‘انہیں جواب ملا۔’’کوئی تیز رفتار قاصد بھیجو اور اسے پیغام بھیجو کے جلدی مدینہ پہنچے۔‘‘خلیفہ ابو بکر ؓ نے کہا ۔’’فارس کی بادشاہی سے ہم اﷲ کی تلوار کے بغیر نہیں لڑ سکتے۔‘‘خلیفہؓؓ مثنیٰ سے مخاطب ہوئے۔’’اور تم مثنیٰ!واپس جاؤ اور عرب قبیلوں کے جس قدرآدمی اکھٹا کر سکتے ہو کرلو۔اب تمہیں کھلی جنگ لڑنی پڑے گی۔جو تم شب خون اور چھاپوں کے انداز سے بھی لڑ سکتے ہو۔لیکن اپنے فیصلوں میں تم آزاد نہیں ہو گے۔خالد سالارِاعلیٰ ہوگا ۔تم اس کے فیصلوں کے پابندہو گے۔‘‘’’تسلیم امیر المومنین!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ایک اور عرض ہے……اس علاقے میں جو عرب قبیلے ہیں وہ سب کے سب مسلمان نہیں۔ان میں عیسائی بھی ہیں اور دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی۔وہ سب آتش پرستوں کے خلاف ہیں ۔فارس کے آتش پرست ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تو غیر مسلم عربوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے جیسا وہاں کے عرب مسلمانوں کے ساتھ ہو گا۔‘‘’’ایسے ہی ہو گا!‘‘امیر المومنین ابو بکرؓ نے کہا۔’’جنہوں نے اسلام کے خلاف کچھ نہیں کیا ،اسلام ان کی پریشانی کا باعث نہیں بنے گا……تم آج ہی روانہ ہو جاؤ۔‘‘
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 25
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment