*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-21 )*
‘’’ابھی نہیں۔‘‘طلیحہ نے کہا۔’’تم لڑائی جاری رکھو۔‘‘’’وحی کب نازل ہو گی؟‘‘عینیہ نے جھنجھلا کر پوچھا۔’’تم کہا کرتے ہو کہ مشکل کے وقت وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘’’خدا تک میری دعا پہنچ گئی ہے۔‘‘طلیحہ نے کہا۔’’وحی کا انتظا رہے۔‘‘عینیہ اپنے لشکر میں چلا گیا مگر اب اس کا لشکر خالد ؓکے گھیرے میں آ گیا تھا۔عینیہ گھبراہٹ کے عالم میں ایک بار پھر طلیحہ کے پاس گیا اور اسے اپنے لشکر کی کیفیت بتا کر پوچھا کہ وحی نازل ہوئی ہے یا نہیں۔’’ہاں!‘‘طلیحہ نے جواب دیا۔’’وحی نازل ہو چکی ہے۔‘‘’’کیا؟‘‘’’یہ کہ……‘‘طلیحہ نے جواب دیا۔’’مسلمان بھی جنگ لڑ رہے ہیں تم بھی جنگ لڑ رہے ہو
۔تم اس وقت کو کبھی نہ بھول سکو گے۔‘‘عینیہ کوکچھ اور توقع تھی ۔لیکن طلیحہ نے اسے مایو س کر دیا ۔اسے یہ بھی پتا چل گیا کہ طلیحہ جھوٹ بول رہا ہے ۔’’لا ریب ایسا ہی ہو گا۔‘‘عینیہ نے غصے سے کہا۔’’وہ وقت جلد ہی آ رہا ہے جسے تم ساری عمر نہیں بھول سکو گے۔‘‘عینیہ دوڑتا باہر گیا اور چلا چلا کر اپنے قبیلے سے کہنے لگا ۔’’اے بنو فرازہ! طلیحہ کذاب ہے ۔جھوٹے نبی کے پیچھے جانیں مت گنواؤ ۔بھاگو، اپنی جانیں بچاؤ۔‘‘بنو فرازہ تو بھاگ اٹھے ۔طلیحہ کے اپنے قبیلے کے لڑنے والے لوگ طلیحہ کے خیمہ کے اردگرد جمع ہو گئے۔ خالدؓ تماشہ دیکھنے لگے۔طلیحہ کے خیمے کے ساتھ ایک گھوڑا اور ایک اونٹ تیار کھڑے تھے۔قبیلہ طلیحہ سے پوچھ رہا تھا کہ پھر اب کیا حکم ہے؟طلیحہ کی بیوی جس کا نام نوار تھا، اس کے ساتھ تھی۔طلیحہ گھوڑے پر سوار ہو گیا اور اس کی بیوی اونٹ پر چڑھ بیٹھی۔’’لوگو! ‘‘طلیحہ نے اپنے قبیلے سے کہا۔’’میری طرح جس کے پاس بھاگنے کا انتظام ہے۔وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر بھاگ جائے۔‘‘ اس طرح اس کذاب کا فتنہ ختم ہو گیا ۔عمرؓ کے دورِ خلافت میں طلیحہ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور مسلمان ہو گیاتھا۔خالدؓ نے اور کئی قبیلوں کو مطیع کیا اور انہیں ارتداد کی کڑی سزا دی۔ان پر اپنی شرائط عائد کیں،اسلام سے جو منحرف ہو گئے تھے انہیں دوبارہ حلقہ بگوش اسلام کیا۔طلیحہ کی نبوت کو بھی خالدؓ نے ختم کر دیا اور عینیہ جو یہودیوں سے بڑھ کر مسلمانوں کا دشمن تھا،ایسا بھاگا کہ اس نے عراق جا دم لیا،مگر اس کا زہر ابھی پیچھے رہ گیا تھا۔ یہ زہر ایک عورت کی شکل میں تھا جو سلمیٰ کہلاتی تھی۔اس کا پورا نام امِ زمل سلمیٰ بنت مالک تھا۔سلمیٰ بنو فرازہ کے سرداروں کے خاندان کی ایک مشہور عورت ام قرفہ کی بیٹی تھی۔رسولِ کریمﷺ کی زندگی کا واقعہ ہے کہ زید بن حارثہؓ)اسامہؓ کے والد(بنی فرازہ کے علاقے میں جا نکلے ۔
یہ قبیلہ مسلمانوں کا جانی دشمن تھا۔وادی القراء میں زید ؓکا سامنا بنی فرازہ کے چند آدمیوں سے ہو گیا۔زیدؓ کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے۔بنی فرازہ کے ان آدمیوں نے ان سب کو قتل کر دیا اور زیدؓ کو گہرے زخم آئے۔وہ گرتے پڑتے مدینہ پہنچ گئے ۔جب ان کے زخم ٹھیک ہو گئے تو رسولِ اکرمﷺ نے انہیں باقاعدہ فوجی دستے دے کر بنو فرازہ پر حملہ کیلئے بھیجا تھا۔مسلمانوں نے بنی فرازہ کے بہت سے آدمیوں کو ہلاک اور کچھ کو قید کر لیا۔جھڑپ بڑی خونریز تھی ۔ان قیدیوں میں ام قرفہ فاطمہ بنت بدر بھی تھی۔اس عورت کی شہرت یہ تھی کہ اپنے قبیلے کے علاوہ دوسرے قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی رہتی تھی۔اسے مدینہ لا کر سزائے موت دے دی گئے۔اس کے ساتھ اس کی کم سن بیٹی ام زمل سلمیٰ بھی تھی۔رسولِ کریمﷺ نے یہ لڑکی ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کے حوالے کر دی۔اسے پیار سے رکھا گیا مگر وہ ہر وقت اداس رہتی تھی۔عائشہ صدیقہؓ نے اس پر رحم کرتے ہوئے اس کو آزاد کر دیا۔بجائے اس کے کہ سلمیٰ مسلمانوں کی شکر گزار ہوتی کہ اسے لونڈی نہ رہنے دیا گیا اور اسے آزاد کر کے اونچی حیثیت میں واپس بھیج دیا گیا اس نے اپنے دل میں اپنی ماں کے قتل کا انتقام رکھ لیا اور جنگی تربیت حاصل کرنے لگی۔وہ سرداروں کے خاندان کی لڑکی تھی ۔اس میں قیادت کے جوہر بھی پیدا ہو گئے۔اس نے مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر تیارکر لیا اور مدینہ پر حملے کیلئے پر تولنے لگی۔مگر مسلمان ایک جنگی قوت بن چکے تھے اس لیے سلمیٰ مدینہ کے قریب آنے کی جرات نہ کر سکی۔اب طلیحہ اور عینیہ کو شکست ہوئی تو سلمیٰ میدان میں آ گئی۔ اس کی ماں عینیہ کی چچازاد بہن تھی ،جن قبیلوں نے خالدؓ سے ٹکر لی تھی انہیں یہ لڑائی بڑی مہنگی پڑی تھی۔جو بچ گئے تھے وہ اِدھر اُدھر بھاگ گئے تھے۔ ان میں غطفان ،طئی ،بنو سلیم اور ہوازن کے بعض سرکردہ لوگ سلمیٰ کے ہاں جا پہنچے اور عہد کیا کہ سلمیٰ اگر ان کا ساتھ دے تو وہ مسلمانوں سے انتقام لینے کیلئے جانیں قربان کر دیں گے۔سلمیٰ تو موقع کی تلاش میں تھی وہ تیار ہو گئی اور چند دنوں میں اپنا لشکر تیار کرکے روانہ ہو گئی۔ اس وقت خالدؓ بزاخہ میں تھے جہاں انہوں نے طلیحہ کو شکست دی تھی۔ اُنہیں اطلاع ملی کہ بنو فرازہ کا لشکر آ رہا ہے ۔خالدؓ نے اپنے دستوں کو تیار کر لیا۔جس طرح سلمیٰ کی ماں اپنے جنگی اونٹ پر سوار ہو کر لشکر کے آگے آگے چلا کرتی تھی ،اسی طرح سلمیٰ بھی اپنے لشکر کے آگے آگے تھی۔اس کے ارد گرد ایک سو شتر سواروں کا گھیرا تھا جو تلواروں اور برچھیوں سے مسلح تھے۔یہ لشکر جوش و خروش بلکہ قہر اور غضب کے نعرے لگاتا آ رہا تھا ۔خالدؓ نے انتظار نہ کیاکہ دشمن اور قریب آئے۔ان کے ساتھ نفری تھوڑی تھی ،وہ دشمن کواتنی مہلت نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ حملہ کی ترتیب یا قلیل تعداد مسلمانوں کو نفری کی افراط کے بل بوتے پرگھیرے میں لینے کی پوزیشن میں آئے۔
خالدؓنے ہلہ بولنے کے انداز سے حملہ کر دیا، انہیں معلوم تھا کہ دشمن کا لشکر سفر کا تھکا ہوا ہے۔ خالدؓ نے دشمن کی اس جسمانی کیفیت سے بھی فائدہ اٹھایا ۔سلمیٰ جو ایک سو جانباز شتر سواروں کے حفاظتی نرغے میں تھی ۔اشتعال انگیز الفاظ سے اپنے لشکر کے جوش و خروش میں جان ڈال رہی تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ بنو فرازہ نے خالدؓ کو بڑا ہی سخت مقابلہ دیا۔نفری تھوڑی ہونے کی وجہ سے خالدؓ مجبور ہوتے جا رہے تھے اور دشمن کے حوصلے بڑھتے جا رہے تھے۔سلمیٰ کی للکار اور الفاظ جلتی پر تیل کا کام کر رہے تھے ۔خالدؓ نے سوچا کہ صرف یہ عورت ماری جائے تو بنو فرازہ کے قدم اُکھڑ جائیں گے۔ انہوں نے اپنے چند ایک منتخب جانبازوں سے کہا کہ وہ سلمیٰ کا حفاظتی حصار توڑ کر اسے اونٹ سے گرا دیں ۔سلمیٰ کے محافظ بھی جانباز ہی تھے، وہ خالدؓ کے جانبازوں کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ ان جانبازوں نے یہ طریقہ اختیار کیاکہ ایک ایک محافظ شتر سواروں کو دوسروں سے الگ کر کے مارنا شروع کر دیا۔اس طرح جانبازوں نے گھیرا توڑ دیا لیکن کوئی جانباز سلمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔زخمی ہو کر پیچھے آ جاتا تھا۔ آخر پورے ایک سو محافظ مارے گئے ۔خالدؓ کو اس کی بہت قیمت دینی پڑی ۔جانبازوں نے تلواروں سے سلمیٰ کے کچاوے کی رسیاں کاٹ دیں ۔کچاوہ سلمیٰ سمیت نیچے آ پڑا ۔جانبازوں نے خالدؓ کی طرف دیکھا کہ کیا حکم ہے، قیدی بنانا ہے یا قتل کرنا ہے؟خالدؓ نے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ایک جانباز نے تلوار کے ایک ہی وار سے سلمیٰ کا سر تن سے جدا کر دیا۔بنو فرازہ نے یہ منظر دیکھا تو ان میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ اپنی لاشوں اور زخمیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔مدینہ سے تقریباً دو سو پچھتر میل شمال مشرق میں بطاح نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں بدؤوں کے چند ایک کنبے آباد ہیں ۔اس گاؤں کو کوئی اہمیت کوئی حیثیت حاصل نہیں۔اگر وہاں اِدھر اُدھر غور سے دیکھیں تو ایسے آثار ملتے ہیں جیسے یہاں کبھی شہر آباد رہا ہو۔ چودہ صدیاں گزریں،یہاں ایک شہر آباد تھا ،اس کا نام بطاح تھا۔جو آج تک زندہ ہے مگر شہر سکڑ سمٹ کر چھوٹا سا گاؤں رہ گیا ہے۔ اس شہر میں خوبصورت لوگ آباد تھے ،وہ بہادر تھے نڈر تھے اور باتیں ایسے انداز سے کرتے تھے جیسے کوئی نظم سنا رہے ہوں۔ عورتیں حسین تھیں اور مرد وجیہہ تھے۔یہ ایک طاقت ور قبیلہ تھا جسے ’’بنی تمیم ‘‘کہتے تھے۔بنو یربوع بھی ایک قبیلہ تھا لیکن الگ تھلگ نہیں بلکہ بنی تمیم کا سب سے بڑا حصہ تھا۔اس کا سردار ’’مالک بن نویرہ‘‘ تھا۔بنی تمیم کا مذہب مشترک نہیں تھا ۔ان میں آتش پرست بھی تھے، قبر پرست بھی لیکن اکثریت بت پرست تھی۔بعض عیسائی ہو گئے تھے ،یہ لوگ سخاوت، مہمان نوازی اور شجاعت میں مشہور تھے ۔رسولِ اکرمﷺ نے ہر طرف قبولِ اسلام کے پیغام جن قبیلوں کو بھیجے تھے ان میں بنو تمیم خاص طور پر شامل تھے۔
اسلام کے فروغ اور استحکام کیلئے بنو تمیم جیسے طاقتور اور با اثر قبیلے کو ساتھ ملانا ضروری تھا۔یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس قبیلے نے اسلام کس طرح قبول کیا تھا، مختصر یہ کہ بنی تمیم کی غالب اکثریت نے اسلام قبول کرلیا ۔مالک بن نویرہ منفرد شخصیت اور حیثیت کا حامل تھا۔ وہ آسانی سے اپنے عقیدے بدلنے والا آدمی نہیں تھا۔لیکن اس نے دیکھا کہ بنو تمیم کے بیشتر قبائل مسلمان ہو گئے ہیں تو اس نے اپنی مقبولیت اور اپنی سرداری کو قائم رکھنے کیلئے اسلام قبول کرلیا ۔
چونکہ یہی شخص زیادہ با رعب اور اثر و رسوخ والا تھا اس لئے رسولِ کریمﷺ نے اسے بطاح کا امیر مقرر کر دیا تھا۔زکوٰۃ ،عشر دیگر محصول اور واجبات وصول کرکے مدینہ بھجوانا اس کی ذمہ داری تھی ۔مشہور مؤرخ بلاذری اور محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں کہ مالک بن نویرہ بڑا وجیہہ اور خوبصورت آدمی تھا ۔اس کے قد کاٹھ میں عجیب سی کشش تھی ۔اسکے سر کے بال لمبے اور خوبصورت تھے ۔شہسوار ایسا کہ کوئی اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا تھا ۔اچھا خاصا شاعر تھا ۔آواز میں مٹھاس اور ترنم تھا اور اس میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ہنس مکھ تھا۔ غم کے مارے ہوؤں کو ہنسا دیتا تھا۔ اس میں خرابی یہ تھی کہ اس میں غرور اور تکبر بہت تھا ۔اس کی ایک وجہ تو اس کی وہ حیثیت تھی جو اسے بنو تمیم میں اور خصوصاً اپنے قبیلے میں حاصل تھی دوسری وجہ اس کا مردانہ حسن اور دیگر مردانہ اوصاف تھے۔جو ایک طلسم کی طرح دوسروں پر حاوی ہو جاتے تھے ۔اس کا تعلق متعدد عورتوں کے ساتھ تھا۔ قبیلے کی جوان لڑکیاں اس کا قرب حاصل کرنے کی خواہاں اور کوشاں رہتی تھیں ۔لیکن وہ وقتی تعلق رکھتا اور کسی کو بیوی نہیں بناتا تھا۔کہتا تھا کہ اس طرح ایک عورت اس کے ہم پلہ ہو جائے گی حالانکہ اس وقت بیویوں کو یہ مقام حاصل نہیں تھا۔وہ قبیلے کی عورتوں کے دلوں میں بستا تھا۔اُس کے دِل کو مسخر کرنے والی عورت کا نام لیلیٰ تھا۔مالک بن نویرہ نے لیلیٰ سے شادی کر لی لیلیٰ کو قبیلے نے اُمّ تمیم کا نام دیا تھا۔ رسولِ کریمﷺ کے وصال کی خبر ملتے ہی مالک بن نویرہ نے مدینہ والوں سے نظریں پھیر لیں اور ظاہر کر دیا کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا ایمان نہیں۔اس نے زکوٰ ۃ اور محصولات وصول کرکے اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے ۔چند دنوں تک اس نے یہ مال مدینہ کو بھیجنا تھا۔ اس نے قبیلے کے لوگوں کو اکھٹا کرکے انہیں زکوٰ ۃ اور محصولات واپس کردیئے۔’’اب تم آزاد ہو۔‘‘مالک نے کہا۔’’میں نے مدینہ کی زنجیر توڑ ڈالی ہے۔اب جو کچھ تم کماؤ گے وہ سب تمہارا ہو گا۔‘‘لوگو ں نے دادوتحسین کے نعرے بلندکیے ۔مالک بہت خوش تھا کہ مدینہ سے تعلق توڑ کر وہ اپنے قبیلے کا پھر خود مختار سردار بن گیا ہے مگر اس کی خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔دو تین قبیلوں کے سرکردہ آدمیوں نے مالک سے کہا کہ اس نے مدینہ سے تعلق توڑ کر اچھا نہیں کیا۔ مالک نے انہیں مدینہ کے خلاف کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی زبان کا جادو نا چل سکا۔زکوٰۃ اور محصولات کی ادائیگی کے مسئلے پر بنو تمیم تین حصوں میں بٹ گئے۔ ایک وہ تھے جو زکوٰۃ وغیر ہ کی ادائیگی کرنا چاہتے تھے ۔دوسرے وہ جو مدینہ والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے اور تیسرے وہ تھے جن کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ کیا کریں۔ان سب کے اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ قبیلوں کی آپس میں خونریز لڑائیاں شروع ہو گئیں۔اتنے میں سجاع اپنا لشکر لے کر آ گئی ۔سجاع کا ذکر پہلے آ چکا ہے اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔الحارث کی بیٹی سجاع اپنے لشکر کے ساتھ مالک بن نویرہ کے قبیلے بنو یربوع کے علاقے میں جا خیمہ زن ہوئی ۔اس نے مالک بن نویرہ کو بلاکر کہا کہ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔’’اگر تم اپنے قبیلے کو میرے لشکر میں شامل کر دو توہم مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتے ہیں ۔‘‘سجاع نے کہا۔’’تمہیں معلوم ہو گا کہ میں بنو یربوع میں سے ہوں ۔‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ مالک بن نویرہ نے کہا۔’’میں تمہارا دستِ راست بن جاؤں گا لیکن ایک شرط ہے جو دراصل ہماری ضرورت ہے۔ تم دیکھ رہی ہوکہ بنو تمیم کے قبیلوں میں دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ ان سب کو مصالحت کی دعوت دے کر انہیں مدینہ پر حملہ کیلئے تیار کریں گے ۔اگر یہ مصالحت پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم انہیں تباہ و بربادکر دیں گے۔اگر تم نے انہیں ختم نہ کیا تو یہ سب مل کر تمہارے خلاف ہو جائیں گے۔ ان میں مدینہ کے وفادار بھی ہیں، انہوں نے سچے دل سے اسلام قبول کرلیا ہے۔‘‘مالک بن نویرہ کی خواہش یہ تھی کہ سجاع کے لشکر کو ساتھ ملا کر بنی تمیم کے مسلمانوں کو اور اپنے دیگر مخالفین کو ختم کیاجائے ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ سجاع ،مالک بن نویرہ کے مردانہ حسن و جلال سے متاثر ہو گئی تھی ۔اس نے مالک کی بات فوراً مان لی ۔دونوں نے تمام قبیلوں کے سرداروں کو مصالحت کے پیغامات بھیجے۔پیغام میں یہ بھی شامل تھا کہ مدینہ پر حملہ کیا جائے گا۔ صرف ایک قبیلے کا سردار’’ وکیع بن مالک‘‘ تھا جس نے ان سے مصالحت قبول کرلی۔باقی تمام قبیلوں نے انکار کر دیا۔اس کے نتیجے میں سجاع ،مالک اور وکیع کے متحدہ لشکر نے دوسرے قبیلوں پر حملہ کردیا۔بڑی خونریز لڑائیاں لڑی جانے لگیں۔بنو تمیم جو سخاوت، مہمان نوازی اور زبان کی چاشنی کیلئے مشہور تھے ۔
ایک دوسرے کیلئے وحشی اور درندے بن گئے ۔بستیاں اجڑ گئیں ،خون بہہ گیا ،لاشیں بکھر گئیں ۔لیلیٰ کو اپنے دروازے پر عورتوں کی آہ و بکا سنائی دی۔کچھ عورتیں بَین کر رہی تھیں۔’’کیا میں بیوہ ہو گئی ہوں ؟‘‘لیلیٰ ننگے پاؤں باہر کو دوڑی ۔وہ کہہ رہی تھی۔’’ مالک بن نویرہ کی لاش لائے ہیں۔‘‘اس نے دروازہ کھولا تو باہر دس بارہ عورتیں کھڑی بَین کر رہی تھیں۔لیلیٰ کو دیکھ کر ان کی آہ و زاری اور زیادہ بلند ہو گئی ۔تین عورتوں نے اپنے بازوؤں پر ننھے ننھے بچوں کی لاشیں اٹھا رکھی تھیں ۔لاشوں پر جو کپڑے تھے وہ خون سے لال تھے۔’’لیلیٰ کیا تو عورت ہے؟‘‘ایک عورت اپنے بچے کی خون آلود لاش لیلیٰ کے آگے کرتے ہوئے چلائی ۔’’تو عورت ہوتی تو اپنے خاوند کا ہاتھ روکتی کہ بچوں کا خون نہ کر۔‘‘’’یہ دیکھ۔‘‘ایک اور عورت نے اپنے بچے کی لاش لیلیٰ کے آگے کرتے ہوئے کہا۔’’یہ بھی دیکھ۔‘‘ایک اور بچے کی لاش لیلیٰ کے آگے آگئی۔’’یہ دیکھ میرے بچے ۔‘‘ایک عورت نے اپنے دو بچے لیلیٰ کے سامنے کھڑے کرکے کہا۔’’یہ یتیم ہو گئے ہیں ۔‘‘لیلیٰ کو چکر آنے لگا۔عورتوں نے اسے گھیر لیا اور چیخنے چلانے لگیں۔’’تو ڈائن ہے۔‘‘’’تیرا خاوند جلاد ہے۔‘‘’’سجاع کو نبوت کس نے دی ہے؟‘‘’’سجاع تیرے خاوند کی داشتہ ہے۔‘‘’’سجاع تیری سوکن ہے۔‘‘’’تیرے گھر میں ہمارے گھروں کا لوٹا ہوا مال آ رہا ہے۔‘‘’’مالک بن نویرہ تجھے ہمارے بچوں کا خون پلا رہا ہے۔‘‘’’ہمارے تمام بچوں کو کاٹ کر پھینک دے ،ہم سجاع کی نبوت نہیں مانیں گی۔‘‘’’ہمارے نبی محمدﷺ ہیں ۔محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں۔‘‘بستی کے لوگ اکھٹے ہوگئے ۔ان میں عورتیں زیادہ تھیں۔ لیلیٰ نے اپنا حسین چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔اس کا جسم ڈولنے لگا۔دو عورتوں نے اسے تھام لیا۔اس نے اپنے سر کو زور زور سے جھٹکا اور وہ سنبھل گئی۔ اس نے عورتوں کی طرف دیکھا ۔’’میں تمہارے بچوں کے خون کی قیمت نہیں دے سکتی۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’میرا بچہ لے جاؤ اور اسے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔‘‘’’ہم چڑیلیں نہیں۔‘‘ایک شور اٹھا ۔’’ہم ڈائنیں نہیں۔لڑائی بند کراؤ۔لوٹ مار اور قتل و غارت بند کراؤ۔تمہارا خاوند وکیع بن مالک اور سجاع کے ساتھ مل کر لوٹ مار کر رہا ہے ۔‘‘’’لڑائی بند ہو جائے گی۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’بچوں کی لاشیں اندر لے آؤ۔‘‘مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اندر لے گئیں۔ لیلیٰ نے تینوں لاشیں اس پلنگ پر رکھ دیں جس پر وہ اور مالک بن نویرہ سویا کرتے تھے۔
مالک بن نویرہ لیلیٰ کا پجاری تھا۔اس پر لیلیٰ کا حسن جادو کی طرح سوار تھا۔اس زمانے میں سردار اپنی بیویوں کو لڑائیوں میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔لیکن یہ لڑائی اس قسم کی تھی کہ مالک لیلیٰ کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا تھا۔لیلیٰ سے وہ زیادہ دیرتک دور بھی نہیں رہ سکتا تھا۔اگر کہیں قریب ہوتا تو رات کو لیلیٰ کے پاس آجایا کرتا تھا۔وہ اس رات آ گیا۔
کیا اس پلنگ پر کوئی سویا ہوا ہے؟‘‘مالک بن نویرہ نے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’تمہارے لیے ایک تحفہ ڈھانپ کر رکھا ہوا ہے……تین پھول ہیں لیکن مرجھا گئے ہیں۔‘‘مالک نے لپک کر چادر ہٹائی اور یوں پیچھے ہٹ گیا جیسے پلنگ پہ سانپ کنڈلی مارے بیٹھاہو۔اس نے لیلیٰ کی طرف دیکھا۔’’خون پینے والے درندے کیلئے اس سے اچھا تحفہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘لیلیٰ نے کہا اور اسے سنایا کہ ان کی مائیں کس طرح آئی تھیں اور کیا کچھ کہہ گئی ہیں۔اس نے اپنا دودھ پیتا بچہ مالک کے آگے کر کے کہا۔’’جا!لے جا اسے اور اس کا بھی خون پی لے۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’کیا تو وہ مالک بن نویرہ ہے جسے لوگ ہنس مکھ کہتے ہیں؟کیایہ ہے تیری سخاوت اور شجاعت کہ تو ایک عورت کے جال میں آکر لوٹ مار کرتا پھر رہا ہے ؟اگر تو بہادر ہے تو مدینہ پر چڑھائی کر۔یہاں نہتے مسلمانوں کو قتل کرتا پھر رہا ہے۔‘‘مالک بن نویرہ معمولی آدمی نہیں تھا۔اس کی شخصیت میں انفرادیت تھی جودوسروں پر تاثر پیدا کرتی تھی۔اس نے طعنے کبھی نہیں سنے تھے۔اس کا سر کبھی جھکا نہیں تھا۔’’کیایہ ہے تیرا غرور؟‘‘لیلیٰ نے اسے خاموش کھڑا دیکھ کر کہا۔’’کیا تو ان معصوم بچوں کی لاشوں پر تکبر کرے گا؟……ایک عورت کی خاطر……ایک عورت نے تیرا غرور اور تکبر توڑ کر تجھے قاتل اور ڈاکو بنا دیا ہے۔میں اپنے بچے کو تیرے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں۔پیچھے سے ایک تیر میری پیٹھ میں اتار دینا۔‘‘ ’’لیلیٰ!‘‘مالک بن نویرہ گرج کربولا مگر بجھ کہ رہ گیااور مجرم سی آواز میں کہنے لگا۔’’میں کسی عورت کے جال میں نہیں آیا۔‘‘’’جھوٹ نہ بول مالک!‘‘ لیلیٰ نے کہا۔’’میں جا رہی ہوں۔سجاع کو لے آ یہاں ……یہ یاد رکھ لے۔تیری سرداری ،تیری خوبصورتی ،تیری شاعری اور تیری خونخواری تجھے ان مرے ہوئے بچوں کی ماؤں کی آہوں اور فریادوں سے بچا نہیں سکیں گی۔یہ تو صرف تین لاشیں ہیں ۔بستیوں کولوٹتے معلوم نہیں کتنے بچے تیرے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے گئے ہوں گے۔تو سزا سے نہیں بچ سکے گا ۔تیرا بھی خون بہے گا اور میں کسی اور کی بیوی ہوں گی۔‘‘ مالک بن نویرہ نے یوں چونک کر لیلیٰ کی طرف دیکھا جیسے اس نے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ہو ۔وہ آہستہ آہستہ چلتا باہر نکل گیا۔مالک رات بھر واپس نہ آیا۔صبح طلوع ہوئی ۔بطاح جو بارونق بستی تھی ،ایک ایسے مریض کی طرح دکھائی دے رہی تھی جو کبھی خوبرو جوان ہوا کرتا تھا۔اب اس کا چہرہ بے نور اور آنکھوں میں موت کا خوف رچا ہوا تھا۔بطاح کی عورتوں کے چہروں پر مُردنی چھائی ہوئی تھی۔یہ اس مار دھاڑ کا نتیجہ تھا جو بنو تمیم میں ہو رہی تھی۔سورج کی پہلی کرنیں آئیں تو بطاح کی گلیوں میں ڈری ڈری سی داخل ہوئیں۔اس وقت سورج کچھ اور اوپر اٹھ آیا تھا۔
جب بطاح میں ہڑ بونگ مچ گئی۔بعض عورتیں بچوں کو اٹھا کر گھروں کو دوڑی گئیں اور اندر سے دروازے بند کر لیے۔کچھ عورتیں اپنی جوان بیٹیوں کو ساتھ لیے بستی سے نکل گئیں۔وہ کہیں چھپ جانے کو جا رہی تھیں۔بوڑھے آدمی کمانیں اور ترکش اٹھائے چھتوں پر چڑھ گئے۔بوڑھوں کے علاوہ جو آدمی بستی میں تھے۔انہوں نے برچھیاں اور تلواریں نکال لیں۔کسی نے بڑی بلند آواز سے کہہ دیا تھا کہ دشمن کا لشکر آ رہا ہے۔دور زمین سے جو گرد اٹھ رہی تھی وہ کسی لشکر کی ہی ہو سکتی تھی۔بطاح میں جوان آدمی کم ہی رہ گئے تھے۔سب مالک بن نویرہ کے ساتھ دوسرے قبیلوں کی لڑائی میں چلے گئے تھے ۔بطاح میں جو رہ گئے تھے ان پر خوف وہراس طاری ہو گیا تھا۔ لیلیٰ کے گھر میں پلنگ پر تین بچوں کی لاشیں پری تھیں اور وہ اپنے بچے کو سینے سے لگائے اپنے قلعہ نما مکان کی چھت پر کھڑی تھی۔وہ بار بار اپنے بچے کو دیکھتی اور چومتی تھی۔وہ شاید یہ سوچ رہی تھی کہ بچوں کے خون کا انتقام اس کے بچے سے لیا جائے گا۔زمین سے اٹھتی ہوئی گرد بہت قریب آ گئی تھی اور اس میں گھوڑے اور اونٹ ذرا ذرا دکھائی دینے لگے تھے۔’’ہوشیار بنو یربوع خبردار!‘‘بطاح میں کسی کی واز سنائی دی۔’’جانیں لڑا دو۔ ڈرنا نہیں۔‘‘لشکر گرد سے نکل آیااور قریب آ گیا۔بستی کے کئی ایک آدمی گھوڑوں پر سوار ،ہاتھوں میں برچھیاں اور تلواریں لیے آگے چلے گئے۔ان کا انجام ظاہر تھا لیکن انہیں اپنی طرف آتے دیکھ کر لشکر کی ترتیب میں کوئی فرق نہ آیا۔آگے جا کر وہ لشکر کا حصہ بن گئے۔’’اپنے ہیں۔‘‘انہوں نے نعرے لگائے۔’’اپنے ہیں……مالک بن نویرہ ہے ……لڑائی ختم ہو گئی ہے۔‘‘بطاح میں سے بھی نعرے گرجنے لگے۔لوگوں نے آگے بڑھ کر اپنے لشکر کااستقبال کیا۔
مالک بن نویرہ کہیں بھی نہ رکا۔ وہ سیدھا اپنے گھر کے دروازے پر آیااور گھوڑے سے کود کر اندر چلا گیا۔اسے لیلیٰ صحن میں کھڑی ملی۔ اسکے دلکش چہرے پہ اداسی تھی اور اس کی وہ آنکھیں بجھی بجھی سی تھیں جن پر قبیلے کے جوان جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔’’میں نے تیرا حکم مانا ہے لیلیٰ! ‘‘’’لڑائی ختم کردی ہے۔ہم ایک دوسرے کے قیدی واپس کردیں گے۔میں نے سجاع سے تعلق توڑ لیا ہے۔اس پھول سے چہرے سے اداسی دھوڈالو۔‘‘ لیلیٰ اُداس بیٹھی رہی۔مالک نے اسے بہلانے کی بہت کوشش کی لیکن لیلیٰ کا چہرہ بجھا ہی رہا۔’’میرے دل پر ایک خوف بیٹھ گیا ہے۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’کیسا خوف؟‘‘مالک نے پوچھا۔’’کس کا خوف؟‘‘’’سزا کا۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’انتقام کا۔‘‘سجاع اکیلی رہ گئی۔وکیع بن مالک نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔مالک بن نویرہ نے وکیع سے کہا تھا کہ وہ ایک عورت کے جھانسے میں آکر اپنے قبیلے پر ٹوٹ پڑے تھے۔سجاع اپنے لشکر کو ساتھ لیے نباج کی طرف چلی گئی۔پہلے سنایا جا چکا ہے کہ وہ یمامہ پر حملہ کرنے گئی تھی لیکن مسیلمہ کے جال میں آگئی اور مسیلمہ نے اسے اپنی بیوی بنالیا۔مالک بن نویرہ کے گناہوں کی سزا شروع ہو چکی تھی۔وکیع بن مالک جو اس کا دستِ راست تھا اس کا ساتھ چھوڑ گیا اور مسلمانوں سے جا ملا۔مالک بن نویرہ نے اسے روکا تھا۔’’اگر ہم دونوں الگ ہو گئے تو مسلمان ہمیں کچل کہ رکھ دیں گے۔‘‘مالک نے وکیع سے کہا تھا۔’’ہم دونوں مل کر ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘’’ہمیں زندہ رہنا ہے مالک!‘‘وکیع نے کہا تھا۔’’مدینہ کی فوج کا مقابلہ کس نے کیا ہے؟غطفان ہار گئے،طئی ہار گئے،بنو سلیم،بنو اسد،ہوازن۔کوئی بھی مسلمانوں کے آگے ٹھہر نہ سکا۔پھر سب اکھٹے ہوئے اور ام زمل سلمیٰ کو بھی ساتھ ملا لیا۔‘‘’’کیا تم نہیں جانتے مالک! الولید کے بیٹے خالد نے انہیں کس طرح بھگا دیاہے؟سلمیٰ قتل کر دی گئی ہے۔مسلمان ہمیں مسلمانوں کا خون معاف نہیں کریں گے۔تمام قبیلوں کو شکست دینے والا خالد واپس مدینہ نہیں چلا گیا ۔وہ بزاخہ میں ہے ۔دوسری طرف مسلمانوں کامانا ہوا سپہ سالار اسامہ ہے۔ان دونوں میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت یہاں کارخ کر سکتا ہے ۔ان سے خون معاف کرانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میں ان کی اطاعت قبول کرکے انہیں اپنے قبیلے کی زکوٰۃ اور محصول ادا کرتا رہوں۔‘‘مالک بن نویرہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکا۔خالد ؓبن ولید تک اطلاع پہنچ چکی تھی کہ مالک بن نویرہ کو رسول اﷲﷺنے امیر مقررکیا تھا مگر اس نے زکوٰۃ وغیرہ وصول کرکے مدینہ نہ بھیجی اور لوگوں کو واپس کر دی ہے۔جاسوسوں نے خالدؓ کو مالک کا ایک شعر بھی سنایا ۔اس میں اس نے رسولِ کریمﷺ کے وصال کے بعد اپنے قبیلے سے کہا تھا کہ:’’ اپنے مال کو اپنے پاس رکھو اور مت ڈرو کہ نہ جانے کیا ہو جائے۔اگر اسلامی حکومت کی طرف سے ہم پر کوئی مصیبت آئے گی تو ہم کہیں گے کہ ہم نے محمد )ﷺ( کے دین کو قبول کیاتھا ،ابو بکر کے دین کو نہیں۔‘‘مالک بن نویرہ نے سجاع کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا جو قتلِ عام کیا تھا ،اس کی بھی اطلاع خالدؓ کو مل گئی تھی۔خالدؓ نے اپنے دستوں کو بطاح کی طرف تیز کوچ کا حکم دیا ۔ان کے دستوں میں انصارِ مدینہ بھی تھے۔انہوں نے بطاح کی طرف پیش قدمی کی مخالفت کی۔ ’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں اپنی سپاہ میں پہلے آدمی دیکھ رہا ہوں جو اپنے امیر اور سالار کی حکم عدولی کر رہے ہیں۔‘‘’’اسے حکم عدولی سمجھیں یا جو کچھ بھی سمجھیں۔
۔‘‘انصار کی نمائندگی کرنے والے نے کہا۔’’خلیفۃ المسلمین کا حکم یہ تھا کہ طلیحہ کو مطیع کر کے اس علاقے میں رسول اﷲﷺ کی قائم کی ہوئی عملداری کو بحال کریں اور جو جنگ پہ اتر آئے اس سے جنگ کریں اور بزاخہ میں اگلے حکم کا انتظار کریں۔ہم جانتے ہیں کہ مدینہ سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا کہ ہم بطاح پر حملہ کیلئے جائیں۔‘‘’’کیا تم میں کوئی ہے جسے یہ معلوم نہ ہو کہ میں تمہارا امیر اورسپہ سالار ہوں؟‘‘خالد ؓبن ولید نے پوچھا اور سب کی طرف دیکھنے لگے۔انہیں کوئی جواب نہ ملا تو انہوں نے کہا۔’’میں نہیں جانتا کہ خلیفۃ المسلمین کے ساتھ تم کیا معاہدہ کرکے آئے ہو۔میں یہ جانتا ہوں کہ خلیفہ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ جہاں بھی اسلام سے انحراف کی خبر ملے اور جہاں بھی مدینہ کے ساتھ کیے ہوئے معاہدوں کی خلاف ورزی نظر آئے ،وہاں تک جاؤ اور اسلام کا تحفظ کرو۔میں سپہ سالار ہوں۔اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے اگر مجھے کوئی ایسی کارروائی کرنی پڑے گی جوخلیفہ کے احکام میں شامل نہیں ہو گی تومیں وہ کارروائی ضرور کروں گا……خلافت کے احکام میرے پاس آتے ہیں ،تمہارے پاس نہیں۔‘‘’’ہم نے کوئی قاصد آتا نہیں دیکھا۔‘‘انصار میں سے کسی نے کہا۔’’میں اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا۔‘‘خالد ؓنے جھنجھلا کر کہا۔’’اور میں کسی ایسے آدمی کو اپنی سپاہ میں نہیں دیکھنا چاہتا جس کے دل میں ذرا سا بھی شک و شبہ ہو۔مجھے اﷲ کی خوشنودی چاہیے۔اگر تمہیں اپنی ذات کی خوشنودی چاہیے تو جاؤ ۔اپنے آپ کو خوش کرو۔میرے لیے مہاجرین کافی ہیں اور میرے ساتھ جو نو مسلم ہیں ،میں انہیں بھی کافی سمجھتا ہوں۔‘‘مشہور مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ ابو بکرؓ نے اپنے احکام میں یہ شامل کیا تھا کہ بنو اسد کے سردار طلیحہ کی سرکوبی کے بعد خالد ؓکے دستے بطاح تک جائیں گے جہاں کے امیر مالک بن نویرہ نے زکوٰ ۃ اور محصولات کی ادائیگی نہیں کی اور وہ اسلام سے منحرف ہو کر اسلام کادشمن بن گیا ہے۔طبری اور دیگر مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انصار بزاخہ میں رہ گئے اور خالدؓ اپنے مجاہدین کو ان کے بغیر بطاح لے گئے۔جب یہ لشکر بزاخہ سے چلا تو انصار نے باہم صلاح مشورہ کیا۔وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اتنی دور سے اکھٹے آئے تھے۔اکھٹے لڑائیاں لڑیں اور اب ہم میں پھوٹ پڑ گئی ہے ۔ہمیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا۔’’اور اس لئے بھی ہمیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا ۔‘‘انصار میں سے ایک نے کہا۔’’کہ مہاجرین اور نو مسلموں نے فتح حاصل کرلی تو اس میں ہمارا نام نہیں ہوگا۔ہمیں مدینہ جا کر شرمساری ہو گی۔‘‘ ’’اور اس لئے بھی۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’کہ خالد بن ولید کو اگر کہیں شکست ہوئی تو مدینہ میں لوگ ہم پر لعنت بھیجیں گے کہ ہم نے مدینہ سے اتنی دور محاذ پر جا کر خالد کو اور اپنے ساتھیوں کو دھوکا دیا۔ہم ملعون کہلائیں گے۔‘‘ خالدؓ کے دستے بزاخہ سے دور نکل گئے۔ایک تیز رفتار گھوڑسوار پیچھے سے آن ملا اور خالدؓ کے پاس جا گھوڑ اروکا۔’’کیا تم انصار میں سے نہیں ہو جو پیچھے رہ گئے ہیں ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’ہاں امیر لشکر!‘‘ سوار نے کہا۔’’میں اُنہی میں سے ہوں۔انہوں نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے کہوں کہ ان کا انتظار کریں ۔وہ آ رہے ہیں۔‘‘خالدؓ بن ولید نے اپنے دستوں کو روک لیا۔کچھ دیر بعد تمام انصار آ گئے اور دستے بطاح کی طرف روانہ ہو گئے۔’’لیلیٰ !‘‘بطاح میں مالک بن نویرہ اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا۔’’تو نے مجھے محبت دی ہے
۔تیری ذات میرے شعروں میں نئی روح ڈالی ہے۔اب مجھے حوصلہ دو لیلیٰ!میرے دل میں خوف نے آشیانہ بنا لیا ہے۔‘‘’’میں نے تجھے پہلے دن کہا تھا غرور اور تکبر چھوڑ دے مالک!‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’لیکن تم اتنی دور نکل گئے کہ انسانوں کو چیونٹیاں سمجھ کر مسل ڈالا۔‘‘’’مت یاد دلا مجھے میرے گناہ لیلیٰ!‘‘مالک بن نویرہ نے کہا۔’’گناہوں نے میری بہادری کو ڈس لیا ہے۔‘‘’’آج کیا بات ہو گئی ہے کہ تم پر اتنا خوف طاری ہو گیا ہے؟‘‘’’بات پوچھتی ہو لیلیٰ؟‘‘مالک بن نویرہ نے کہا۔’’یہ موت کی بات ہے۔میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ میرا تیرا ساتھ ختم ہو رہا ہے……میں نے اپنے جاسوس بڑی دور دورتک بھیج رکھے ہیں ۔آج ایک جاسوس آیا ہے۔اس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر بڑی تیزی سے ادھر آ رہا ہے۔اگر لشکر کی یہی رفتار رہی تو پرسوں شام تک یہاں پہنچ جائے گا۔‘‘’’پھر تیاری کرو۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’قبیلوں کو اکھٹا کرو۔‘‘’’کوئی میرا ساتھ نہیں دے گا۔‘‘مالک نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا۔’’میں نے وکیع اور سجاع کے ساتھ مل کر اپنے قبیلوں کا جو خون بہایا ہے وہ کوئی نہیں بخشے گا۔ان سے مصالحت تو کرلی تھی لیکن دل پھٹے ہوئے ہیں ۔میرے قبیلے کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔‘‘’’پھر آگے بڑھواور مسلمانوں کے سپہ سالار سے کہو کہ تم نے اسلام ترک نہیں کیا۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’شاید وہ تمہیں بخش دیں۔‘‘’’نہیں بخشیں گے۔‘‘مالک نے کہا۔’’نہیں بخشیں گے۔انہوں نے کسی کو نہیں بخشا۔‘‘
مالک بن نویرہ پر خوف طاری ہوتا چلا گیا۔اسے خبریں مل رہی تھیں کہ خالدؓ کا لشکر قریب آ رہا ہے ۔اس نے اپنے قبیلے کو اکھٹا کیا۔’’اے بنو یربوع!‘‘اس نے قبیلے سے کہا۔’’ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے مدینہ کی حکمرانی کو تسلیم کیا اور ان سے منحرف ہو گئے۔انہوں نے ہمیں اپنا مذہب دیا جو ہم نے قبو ل کیا پھر نا فرمان ہو گئے۔وہ آ رہے ہیں۔سب اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔اور دروازے بند کرلو۔یہ نشانی ہے کہ تم ان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاؤ گے۔ان کے بلانے پر ان کے سامنے نہتے جاؤ۔کچھ فائدہ نہ ہوگا مقابلے میں……جاؤ،اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔‘‘لوگ سر جھکائے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے۔نومبر ۶۳۲ء)شعبان ۱۱ہجری(کے پہلے ہفتے میں خالدؓ بطاح پہنچ گئے۔ تفصیل سے پڑھئے
انہوں نے اپنے لشکر کو محاصرے کی ترتیب میں کیا۔مگر ایسے لگتا تھا جیسے بطاح اجڑ گیا ہو۔شہر کا دفاع کرنے والے تو نظر ہی نہیں آتے تھے۔کوئی دوسرا بھی دکھائی نہ دیا۔کسی مکان کی چھت پر ایک بھی سر نظر نہیں آتا تھا۔’’کیا مالک بن نویرہ اپنے آپ کو اتنا چالاک سمجھتا ہے کہ مجھے گھیرے میں لے لے گا؟‘‘خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’محاصرے کی ترتیب بدل دواور اپنے عقب کا خیال رکھو۔میں اس بستی کو آگ لگادوں گا۔وہ یہاں سے نکل گئے ہیں ۔عقب سے حملہ کریں گے۔‘‘خالدؓ بن ولید زندہ دل،بے خوف اور مہم جو تھے۔ان کے احکام بہت سخت ہوا کرتے تھے۔انہوں نے اپنے دستوں کو اس ترتیب میں کر دیاکہ عقب سے حملہ ہو تو روک لیں اور اگر اس کے ساتھ ہی شہر سے بھی حملہ ہو جائے تو دونوں طرف لڑا جائے۔مسلمانوں کو اس دشواری کا سامنا تھا کہ ان کی نفری تھوڑی تھی اور وہ اپنے مستقر)مدینہ(سے بہت دور تھے۔انہوں نے جن قبیلوں کو مطیع کیا تھا ،ان کی بستیوں کو اڈے بنا لیا تھا لیکن ابھی وہاں کے لوگوں پر پوری طرح سے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔یہ خالدؓ کی پرجوش اور ماہرانہ قیادت تھی جو مجاہدین کی قلیل تعداد میں بجلیوں جیسا قہر پیدا کئے رکھتی تھی۔خالدؓ نے بستی میں ایک دستہ داخل کیا تو اس پر ایک بھی تیر نہ آیا۔ہر مکان کا دروازہ بند تھا۔خالدؓ نے یہ خاموشی دیکھی تو وہ خود بستی میں داخل ہوئے۔’’مالک بن نویرہ!‘‘خالدؓ نے کئی بار مالک کوپکارا اورکہا۔’’باہر آ جاؤ۔نہیں آؤ گے تو ہم بستی کو آگ لگا دیں گے۔‘‘’’تجھ پر خدا کی سلامتی ہو۔‘‘ایک چھت سے ایک آدمی کی آواز آئی۔’’مت جلا ہمارے گھروں کو ۔وہ جسے تو بلا رہا ہے،یہاں نہیں ہے ۔یہاں کوئی نہیں لڑے گا۔‘‘’’الولید کے بیٹے!‘‘ایک اور چھت سے آواز آئی۔’’کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ہم اپنے مکانوں کے بند دروازوں کے پیچھے بیٹھے ہیں۔کیا مدینہ میں یہ رواج نہیں کہ بند دروازہ ایک اشارہ ہے کہ آجاؤ،ہم تمہارے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔‘‘’’بے شک میں یہ اشارہ سمجھتا ہوں!‘‘خالد نے کہا۔’’مکانوں کے دروازے کھول دو اور باہر آجاؤ۔عورتوں اور بچوں پر جبر نہیں۔ان کی مرضی ہے،باہر آئیں یا نہ آئیں۔‘‘لوگوں کو رسم و رواج معلوم تھا۔وہ ہتھیاروں کے بغیر باہر آ گئے۔عورتیں اور بچے بھی نکل آئے۔خالدؓ نے اپنے دستوں کو حکم دیا کہ ہر گھر کے اندر جا کر دیکھیں۔کوئی آدمی اندر نہ رہے۔خالدؓ نے خاص طور پر حکم دیاکہ کسی گھر میں کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا جائے نہ کسی پر ہلکا سا بھی تشدد کیا جائے۔ مالک بن نویرہ کے قلعہ نمامکان میں خالد ؓخود گئے۔وہاں سامان پڑا تھا۔ایسے لگتا تھا جیسے یہاں کے رہنے والے کچھ ہی دیر پہلے یہاں سے نکلے ہوں۔بستی سے خالد ؓکو اتنا ہی پتا چلا کہ مالک بن نویرہ اپنے قبیلے کو یہ کہہ کر کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں۔لیلیٰ کو ساتھ لے کربستی سے نکل گیا تھا۔جنہوں نے اسے جاتے دیکھا تھا،انہوں نے سمت بتائی جدھر وہ گیا تھا۔مالک گھوڑے پر اور لیلیٰ اونٹ پر سوار تھی۔خالدؓ نے اردگرد کی بستیوں کو اپنے آدمی بھیج دیئے اور کچھ آدمی اس سمت روانہ کیے جدھر بتایا گیا تھا کہ مالک گیاہے۔وہ صحرا تھا اونٹ اور گھوڑے کے قدموں کے نشان بڑے صاف تھے۔یہ خالدؓکے آدمیوں کو ایک بستی میں لے گئے۔یہ بنو تمیم کی ایک بستی تھی۔’’
’’اے بنو تمیم!‘‘خالدؓ کے آدمیوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا۔’’مالک بن نویرہ کو اور بطاح کاکوئی اور آدمی جو یہاں چھپا ہوا ہو،اسے ہمارے حوالے کر دیں۔اگر وہ ہماری تلاشی پرملے تو اس بستی کو آگ لگا دی جائے گی۔‘‘ذرا ہی دیر بعد مالک بن نویرہ لیلیٰ کے ساتھ باہر آیااور اپنے آپ کو خالدؓ بن ولید کے آدمیوں کے حوالے کر دیا۔بنو یربوع کے چند اور سرکردہ افراد بھی جو یہاں آکر چھپ گئے تھے۔باہر آگئے۔ان سب کومالک بن نویرہ کے ساتھ بطاح لے آئے۔لیلیٰ بھی ساتھ تھی۔’’مالک بن نویرہ!‘‘خالدؓ نے مالک کو اپنے سامنے بلا کر پوچھا۔’’کیایہ غلط ہے کہ تم نے زکوٰۃ اورمحصول مدینہ کو بھیجنے کے بجائے لوگوں کو واپس کر دیئے تھے؟‘‘’’میں اپنے قبیلے کو یہ کہہ کر نکلا تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرنا۔‘‘مالک بن نویرہ نے جواب دیا۔’’اور میں نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان ہو جاؤ اور زکوٰ ۃ ادا کرو۔‘‘’’اور تم خود اس لئے روپوش ہو گئے تھے کہ تم اسلام سے منحرف ہو گئے تھے؟‘‘خالد نے کہا۔’’اور تم منحرف ہی رہنا چاہتے ہو……تم نے اپنے شعروں میں لوگوں سے کہا تھا کہ وہ زکوٰۃ اور محصول ادا نہ کریں اور تم نے انہیں کہا تھا کہ اسلامی حکومت کے احکام کی تم خلاف ورزی کرو گے جو تم نے کی۔‘‘’’ہاں ولید کے بیٹے!‘‘مالک نے کہا۔’’میں نے خلاف ورزی کی لیکن میں اپنے قبیلے سے کہہ رہا ہوں کہ اب وہ خلاف ورزی نہ کریں۔‘‘’’اور تم نے سجاع کی جھوٹی نبوت کو تسلیم کیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اور اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو قتل کیا اور انہیں لوٹااور تم نے ان لوگوں کا قتل عام کیا جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیاتھا۔‘‘مالک نے سر ہلاکر اس جرم کااقرار کیا۔’’کیا تو مجھے بتا سکتا ہے کہ میں تجھے قتل کیوں نہ کروں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں جانتا ہوں کہ تمہارے خلیفہ نے تمہیں میرے قتل کا حکم نہیں دیا۔‘‘مالک بن نویرہ نے کہا۔’’خداکی قسم!‘‘خالد ؓنے کہا۔’’میں تجھے زندہ رہنے کا حق نہیں دے سکتا۔‘‘ خالدؓ نے وہ اجڑی ہوئی بستیاں دیکھی تھیں،جو مالک بن نویرہ اور سجاع نے اجاڑی تھیں۔خالد ؓنے مالک بن نویرہ کی بستی بطاح پر بلاوجہ چڑھائی نہیں کی تھی۔انہیں تمام رپورٹیں ملتی رہی تھیں کہ اس شخص نے اس علاقے میں مسلمانوں کو کس طرح تباہ و برباد کیاتھا۔’’لے جاؤ اسے اور اس کے ساتھیوں کو جو اس کے ساتھ روپوش تھے اور انہیں قتل کردو۔‘‘خالدؓ بن ولید نے حکم دیا۔انہیں جب لے گئے تو خالد ؓبن ولید کو اطلاع دی گئی کہ ایک بڑی ہی حسین عورت جس کا نام لیلیٰ ہے اور جو مالک بن نویرہ کی بیوی ہے۔اپنے خاوند کی زندگی کی التجا لے کر آئی ہے۔خالد ؓنے کہا کہ اسے آنے دو۔خالد ؓایک سردار کے فرزند تھے۔انہوں نے امیر گھرانے میں پرورش پائی تھی۔اس لئے ان کے دل و دماغ میں وسعت تھی۔وہ خوش ذوق،خوش طبع اور زندہ مزاج تھے
۔لیلیٰ جب ان کے سامنے آئی تو خالد ؓنے پوچھا’’کیا تواپنے خاوند کو موت سے بچانے آئی ہے؟‘‘’’اس کے سوا میرا اور مقصد ہو ہی کیا سکتا ہے؟‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اگر تو اس وقت اسے ان جرائم سے روک دیتی جب وہ سمجھتا تھاکہ ہر بستی پر اس کی حکمرانی ہے تو آج تو بیوہ نہ ہوتی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا اس نے تجھے بتایانہیں تھا کہ اس کی تلوار نے کتنی عورتوں کو بیوہ کیا ہے؟اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں ایک دن انصاف کا بھی آئے گا۔‘‘’’میں اس کا ہاتھ نہیں روک سکی۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اور تومیرا ہاتھ بھی نہیں روک سکتی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ میرا نہیں میرے اﷲ کا حکم ہے۔‘‘خالدؓ نے لیلیٰ کی التجا قبول نہ کی ۔لیلیٰ ابھی خالدؓ کے پاس ہی تھی کہ اطلاع آئی کہ مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔پھر ایک ایساواقعہ ہو گیا جس نے خالدؓ کے دستوں میں اور مدینہ میں ہلچل مچا دی۔ہوایوں کہ بطاح میں ہی خالد ؓنے لیلیٰ کے ساتھ شادی کرلی۔انصارِمدینہ اس شادی پر بہت برہم ہوئے۔ابو قتادہ انصاریؓ نے قسم کھائی کہ وہ آئندہ خالد ؓکی قیادت میں کبھی کسی لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے۔اعتراض کرنے والے یہ کہتے تھے کہ خالدؓ نے لیلیٰ کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر اس کے خاوند مالک بن نویرہ کو قتل کیا ہے کہ لیلیٰ کے ساتھ خود شادی کرلیں۔ لیکن خالد ؓوہ شخصیت تھی جس نے بسترِ مرگ پر کہا تھا کہ’’ میرے جسم پر کوئی جگہ ایسی ہے جس پر جہاد کا زخم نہ آیا ہو؟‘‘ان کاکردار اتنا کمزور نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ایک عورت کی خاطر اپنے رتبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے۔خالدؓ کے حق میں بات کرنے والوں نے کہا ہے کہ خالدؓ نے مالک بن نویرہ اور اسکے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا تھااور انہیں مدینہ بھیجنا تھا۔رات بہت سرد تھی۔خالدؓ کو خیال آیا کہ قیدی سردی سے ٹھٹھر رہے ہوں گے۔انہوں نے حکم دیا۔’’دافؤ اسراکم۔‘‘اس کا ترجمہ ہے۔’’قیدیوں کو گرمی پہنچاؤ۔‘‘کنانہ کی زبان میں مدافاۃ کا لفظ قتل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے یہ قیدی جن آدمیوں کے پہرے میں تھے وہ کنانہ کے رہنے والے تھے۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھیوں کے جرائم کتنے سنگین ہیں۔چنانچہ انہوں نے ’’گرمی پہنچاؤ‘‘کو قتل کے معنوں میں لیا اور مالک اور ا سکے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔خالدؓ کو پتا چلا تو انہوں نے کہا۔’’اﷲ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔
‘‘ان دو کے علاوہ اور بھی روایات مختلف تاریخوں میں آئی ہیں۔جو ایک دوسرے کی تردید کرتی ہیں۔ان میں بعض خالد ؓکے حق میں جاتی ہیں بعض خلاف۔ مخالفانہ روایات کے مصنفوں کے مذہبی فرقوں کو دیکھو تو صاف پتا چلتا ہے کہ ان کے ایک ایک لفظ میں تعصب بھرا ہوا ہے اور وہ خالدؓ بن ولید کو رُسوا کر رہے ہیں۔تاریخ میں متضاد کہانیاں ملتی ہیں لیکن کسی بھی مؤرخ نے یہ نہیں لکھا ہے کہ اس شادی پر لیلیٰ کا کیا ردِ عمل تھا۔کیا لیلیٰ نے خالدؓ کو مجبور ہو کر قبول کیا تھا؟یا وہ خوش تھی کہ ایک عظیم سپہ سالارکی بیوی بن گئی ہے جس کی فتوحات کے چرچے سرزمینِ عرب کے گوشے گوشے تک پہنچ گئے ہیں۔اس وقت کے جنگی رواج کے مطابق لیلیٰ مالِ غنیمت تھی۔خالد ؓاسے لونڈی بنا کر اپنے پاس رکھ سکتے تھے
۔تاریخ میں ایک ایسا اشارہ ملتا ہے جو خالدؓ کے حق میں جاتاہے۔وہ یوں ہے کہ خالدؓ نے اسے کسی کی یا اپنی لونڈی بننے سے بچا لیا تھا ۔وہ اتنی حسین تھی کہ شہزادی لگتی تھی۔خالد ؓجانتے تھے کہ لونڈیوں کی زندگی کیا ہوتی ہے؟خالدؓ نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ لیلیٰ جتنی خوبصورت ہے اتنی ہی ذہین اور دانا ہے۔انہوں نے اس عورت کی صلاحیتوں کو تباہی سے بچا لیا تھا۔ یہ خبر مدینہ بھی پہنچ گئی کہ خالدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی بیوی کے ساتھ شادی کرلی ہے ۔خبر پہنچی بھی سیدھی خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ کے پاس،اور خبر پہنچانے والے ابو قتادہ انصاریؓ تھے۔جو اس شادی پر ناراض ہوکر مدینہ چلے گئے تھے۔ابو بکرؓ نے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہ دی ۔انہوں نے کہا کہ خالدؓ کو رسول اﷲﷺ نے سیف اﷲ کا خطاب دیا تھا ۔ان کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔خالد ؓنے کسی زندہ آدمی کی بیوی کو ورغلا کر اپنی بیوی نہیں بنایا۔ابو قتادہ انصاریؓ ،خلیفۃ المسلمینؓ کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے۔وہ عمرؓ کے پاس چلے گئے اور انہیں ایسے انداز سے لیلیٰ کی خالد ؓکے ساتھ شادی کی خبر سنائی جیسے خالدؓ عیاش انسان ہوں اور ان کی عیش پرستی ان کے فرائض پر اثر انداز ہو رہی ہو۔عمرؓ غصے میں آگئے اور ابو قتادہؓ کو ساتھ لے کر ابو بکرؓ کے پاس گئے۔’’خلیفۃ المسلمین!‘‘عمرؓنے ابو بکرؓ سے کہا۔’’خالد کا جرم معمولی نہیں۔وہ کیسے ثابت کرسکتا ہے کہ بنو یربوع کے سردار مالک بن نویرہ کا قتل جائز تھا؟‘‘’’مگر تم چاہتے کیا ہو عمر؟‘‘ابو بکرؓ نے پوچھا۔’خالد کی معزولی!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’صرف معزولی نہیں۔خالد کو گرفتار کرکے یہاں لایا جائے اور اسے سزا دی جائے۔‘‘’’عمر!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں اتنا مان لیتا ہوں کہ خالد سے غلطی ہوئی ہے لیکن یہ غلطی اتنی سنگین نہیں کہ اسے معزول بھی کیا جائے اور سزا بھی دی جائے۔‘‘عمرؓ ابو بکرؓ کے پیچھے پڑے رہے۔دراصل عمرؓ انتہا درجے کے انصاف پسند اور ڈسپلن کی پابندی میں بہت سخت تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سالاروں میں کوئی غلط حرکت رواج پا جائے۔’’نہیں عمر!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں اس شمشیر کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اﷲ نے کافروں پر مسلط کیا ہو۔‘‘عمرؓ مطمئن نہ ہوئے۔ابو بکرؓ عمرؓ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے خالدؓ کو مدینہ بلوالیا۔خالدؓ بڑی ہی مسافت طے کر کے بہت دنوں بعد مدینہ پہنچے اور سب سے پہلے مسجدِ نبویﷺ میں گئے۔انہوں نے اپنے عمامے میں ایک تیر اُڑس رکھا تھا۔عمرؓ مسجد میں موجود تھے۔ خالد ؓکو دیکھ کر عمرؓ طیش میں آگئے۔وہ اٹھے۔خالدؓ کے عمامے سے تیر کھینچ کر نکالا اور اسے توڑکر پھینک دیا۔’’تم نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔‘‘عمرؓ نے غصے سے کہا۔’’اور اس کی بیوہ کو اپنی بیوی بنا لیاہے۔تم سنگسار کر دینے کے قابل ہو۔‘‘خالدؓ ڈسپلن کے پابند تھے۔وہ چپ رہے۔انہوں نے عمرؓ کے غصے کو قبول کرلیا۔سوہ خاموشی سے مسجد سے نکل آئے اور خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ کے ہاں چلے گئے۔انہیں ابو بکرؓ نے ہی جواب طلبی کیلئے بلایا تھا۔ابو بکرؓ کے کہنے پر خالد ؓنے مالک بن نویرہ کے تمام جرائم سنائے اور ثابت کیا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کا دشمن تھا۔ابو بکرؓ خالد ؓسے بہت خفا ہوئے اور انہیں تنبیہہ کی کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں۔جو دوسرے سالاروں میں غلط رواج کا باعث بنے۔ابو بکرؓ نے )طبری اور ہیکل کے مطابق(فیصلہ سنایا کہ مفتوحہ قبیلے کی کسی عورت کے ساتھ شادی کرلینا اور عدت کا عرصہ پورا نہ کرنا عربوں کے رواج کے عین مطابق ہے۔
اس عورت کو آخر لونڈی بننا تھا۔یہ اس کے آقا کی مرضی ہے کہ اسے لونڈی بنائے رکھے یا اسے نکاح میں لے لے۔
۔
ابو بکرؓ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ اس وقت مسلمان ہر طرف سےخطروں میں گھرے ہوئے ہیں ۔قبیلے باغی ہوتے جا رہے ہیں ۔اپنے پاس نفری بہت تھوڑی ہے۔ان حالات میں اگر کوئی سالار دشمن کے کسی سردار کو غلطی سے قتل کرا دیتاہے تو یہ سنگین جرم نہیں۔عمرؓ کو خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے یہ کہہ کر ٹھنڈا کیا کہ’’ اسلام کا ایک بڑا دشمن مسیلمہ بن حنیفہ نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔جنگی طاقت بن گیا ہے۔اس کے پاس کم و بیش چالیس ہزار نفری کالشکر ہے اور عکرمہ بن ابو جہل اس سے شکست کھا چکے ہیں۔اب سب کی نظریں خالد کی طرف اٹھ رہی ہیں۔اگر مسیلمہ کو شکست نہ دی گئی تو اسلام مدینہ میں ہی رہ جائے گا۔اس کامیابی کیلئے صرف خالد موزوں ہیں۔‘‘عمرؓ خاموش رہے۔انہیں بھی ان خطروں کا احساس تھا ۔ابو بکرؓ نے خالد ؓکو حکم دیا کہ فوراً بطاح جائیں اور وہاں سے یمامہ پر چڑھائی کرکے اس فتنے کو ختم کر دیں۔ خالد ؓایک بڑی ہی خطرناک جنگ لڑنے کیلئے روانہ ہو گئے۔دسمبر ۶۳۲ء)شوال ۱۱ہجری(کے تیسرے ہفتے میں خالد ؓبن ولید نے تیرہ ہزار مجاہدین سے مُرتدین کے چالیس ہزار سے زیادہ لشکر کے خلاف یمامہ کے مقام پر وہ جنگ لڑی جسے اسلام کی پہلی خونریز جنگ کہا جاتا ہے۔اس جنگ کا آخری معرکہ ایک وسیع باغ حدیقۃ الرحمٰن میں لڑا گیا تھا۔وہاں دونوں طرف اس قدر جانی نقصان ہوا تھا کہ حدیقۃ الرحمٰن کو لوگ حدیقۃ الموت)موت کا باغ(کہنے لگے۔آج تک اسے حدیقۃ الموت کہاجاتا ہے۔اس وقت خالدؓ مدینہ میں تھے۔انہیں خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓنے عمرؓ کی اس شکایت پر جواب طلبی کیلئے مدینہ بلایا تھا کہ انہوں نے مالک بن نویرہ کو قتل کراکے اس کی بیوی لیلیٰ کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ابو بکرؓ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے جن میں اسلام گھر گیا تھا۔خالدؓ کے حق میں فیصلہ دیا اور خالد ؓکو واپس بطاح جانے اور یمامہ کے مسیلمہ کذاب کے فتنے کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔مسیلمہ کذاب کے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔اس کے پیروکاروں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ اس کا لشکرمسلمانوں کیلئے خطرہ بن گیا تھا ، اس وقت تک مسلمان ایک طاقت بن چکے تھے لیکن مسیلمہ کی طاقت بڑھتی جا رہی تھی۔یہ مدینہ کیلئے بھی خطرہ تھااور اسلام کیلئے بھی۔مدینہ سلطنت اسلامیہ کا مرکز تھا۔خالدؓ کالشکر بطاح میں تھا۔وہیں انہوں نے مالک بن نویرہ کو سزائے موت دی اور اس کی بیوی لیلیٰ کے ساتھ شادی کی تھی۔لیلیٰ وہیں تھی۔خالد بطاح کو روانہ ہو گئے۔انہیں معلوم تھا کہ ان کے پرانے ساتھی سالار عکرمہؓ اسی علاقے میں اپنے لشکر کے ساتھ موجود ہیں اور مسیلمہ کے خلاف مدد کو پہنچیں گے۔عکرمہؓ بن ابو جہل ان گیارہ سالاروں میں سے تھے جنہیں خلیفۃ المسلمین ؓ نے مختلف علاقوں میں مُرتد اور باغی قبائل کی سرکوبی کیلئے بھیجا تھا۔دوسرے قبیلے اتنے طاقتور نہیں تھے جتنا مسیلمہ کا قبیلہ بنو حنیفہ تھا۔اس لیے اس علاقے میں عکرمہؓ کو بھیجا گیا تھا۔
۔ان کے پیچھے پیچھے ایک اور سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو بھیج دیا گیا۔خلیفہ ابو بکرؓ نے شرجیلؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ عکرمہؓ کو مدد دیں گے۔ عکرمہؓ یمامہ کی طرف جا رہے تھے۔یہ دو اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے ۔اس وقت خالدؓ طلیحہ سے نبرد آزما تھے۔انہوں نے طلیحہ کو بہت بری شکست دی تھی ۔یہ خبر عکرمہؓ تک پہنچی تو وہ جوش میں آ گئے۔انہوں نے ابھی کسی قبیلے کے خلاف جنگی کارروائی نہیں کی تھی۔کچھ دنوں بعد عکرمہؓ کو خبرملی کہ خالد ؓ نے سلمیٰ کے طاقتور لشکر کو شکست دی ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ عکرمہؓ پر انسانی فطرت کی ایک کمزور ی غالب آ گئی۔انہوں نے اپنے ساتھی سالاروں سے کہا کہ خالد فتح پہ فتح حاصل کرتے جا رہے ہیں اور اِنہیں ابھی لڑنے کا موقع بھی نہیں ملا۔خالدؓ اور عکرمہؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ساتھی اور ایک جیسے جنگجو اور میدانِ جنگ کے ایک جیسے قائد تھے۔’’کیوں نہ ہم ایک ایسی فتح حاصل کریں جس کے سامنے خالد کی تمام فتوحات کی اہمیت ختم ہو جائے۔ ‘‘عکرمہؓ نے اپنے ماتحت سالاروں سے کہا۔’’مجھے اطلاع مل چکی ہے کہ شرجیل بن حسنہ ہماری مدد کو آرہا ہے۔معلوم نہیں وہ کب تک پہنچے۔میں زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔ میں مسیلمہ پر حملہ کروں گا۔‘‘مسیلمہ معمولی عقل و ذہانت کا آدمی نہیں تھا۔اسے معلوم تھا کہ مسلمان اس کی نبوت کو برداشت نہیں کر رہے اورکسی بھی روز اسلامی لشکر اس پر حملہ کردے گا۔اس نے اپنے علاقے کے دفاع کا بندوبست کر رکھا تھا۔جس میں دیکھ بھال اور جاسوسی کا انتظام بھی شامل تھا۔
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 22
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
[
*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*(قسط نمبر-22)*
عکرمہؓ سوچے سمجھے بغیربڑھتے گئے اور یمامہ کے قریب پہنچ گئے ۔وہ چونکہ جذبات سے مغلوب ہو کر جا رہے تھے اس لئے احتیاط نہ کر سکے کہ دشمن دیکھ رہاہو گا،انہیں مسیلمہ کے جاسوسوں نے دیکھ لیا اور مسیلمہ کو اطلاع دی۔ایک اور علاقے میں جہاں اونچے ٹیلے اور ٹیکریاں تھیں،عکرمہ ؓکو مسیلمہ کے کچھ آدمی دکھائی دیئے۔ عکرمہؓ نے ان پر حملہ کر دیامگر یہ مسیلمہ کا بچھایا ہوا جال تھا۔مسیلمہ نے وہاں خاصا لشکر چھپا رکھا تھا۔جس نے دائیں بائیں سے عکرمہؓ کے لشکرپر حملہ کر دیا۔عکرمہؓ اس غیر متوقع صورتِ حال میں سنبھل نہ سکے ۔مسیلمہ کے لشکر نے انہیں سنبھلنے دیا ہی نہیں۔عکرمہؓکے ساتھ نامی گرامی اور تجربہ کارسالاراور کماندار تھے۔لیکن میدان دشمن کے ہاتھ تھا۔اس نے مسلمانوں کی کوئی چال کامیاب نہ ہونے دی۔عکرمہؓ کو نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔عکرمہؓ اپنی اس شکست کو چھپا نہیں سکتے تھے۔چھپا لیتے تو لشکر میں سے کوئی مدینہ اطلاع بھیج دیتا۔چنانچہ عکرمہ ؓنے خلیفۃ المسلمین ؓ کو لکھ بھیجاکہ ان پر کیا گزری ہے۔خلیفہ ابو بکرؓ کو سخت غصہ آیا۔انہوں نے عکرمہؓ کو واضح حکم دیا تھا کہ شرجیل ؓکا انتظار کریں اور اکیلے مسیلمہ کے سامنے نہ جائیں۔مگر عکرمہؓ نے جلد بازی سے کام لیا تھا۔ابو بکرؓ نے عکرمہؓ کو جو تحریری پیغام بھیجا تھا اس میں غصے کا اظہار اس طرح سے کیا تھاکہ عکرمہؓ کو ابنِ ابو جہل لکھنے کے بجائے ابنِ امِ عکرمہ)عکرمہ کی ماں کے بیٹے(لکھا،یہ عربوں میں رواج تھا کہ کسی کی توہین مقصود ہوتی تو اس کے باپ کے نام کے بجائے اسے اس کی ماں سے منسوب کرتے تھے۔خلیفہ المسلمین ؓنے لکھا: ’’اے ابنِ اُمِ عکرمہ! میں تمہاری صورت نہیں دیکھنا چاہتا ،میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ مدینہ آؤ۔تم آئے تو یہاں کے لوگوں میں مایوسی پھیلاؤ گے۔مدینہ سے دور رہو۔تم اب یمامہ کا علاقہ چھوڑ دو اور حذیفہ کہ ساتھ جاملو اور اہلِ عمان سے لڑو۔وہاں سے فارغ ہوکر عرفجہ کی مدد کیلئے مہرہ چلے جانا،اس کے بعد یمن جاکر مہاجر بن امیہ سے جا ملنا۔جب تک تم سالاری کے معیار پر پورے نہیں اترتے ،مجھے اپنی صورت نہ دکھانا۔میں تم سے بات تک نہیں کروں گا۔‘‘ خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے شرجیل کو پیغام بھیجا کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں اور جب خالد ؓآئیں تو اپنا لشکر ان کے ساتھ کرکے خود ان کے ماتحت ہو جائیں ۔خالدؓ کو بتا دیا گیا تھا کہ شرجیل ؓکا لشکر بھی اُنہیں مل رہا ہے ۔وہ خوش ہوئے کہ اب وہ مسیلمہ کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔اُنہیں توقع تھی کہ شرجیل کا لشکر تازہ دم ہو گا۔مگر یہ لشکر خالد ؓکو ملا تو وہ تازہ دم نہیں تھا۔اس میں کئی مجاہدین زخمی تھے۔’’کیا ہوا شرجیل؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’ندامت کے سوا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’میں نے خلیفۃ المسلمین کی حکم عدولی کی ہے۔میرے لیے حکم تھا کہ عکرمہ کو مدددوں، مگر میرے پہنچنے سے پہلے عکرمہ ،مسیلمہ کے لشکر سے ٹکر لے کر پسپاہو چکا تھا۔یہ ایک خبط تھا جس نے مجھ پر بھی غلبہ پالیا کہ……‘‘’’کہ ایک فتح تمہارے حساب میں لکھی جائے۔‘‘باریک بین اور دور اندیش خالدؓ نے طنزیہ لہجے میں شرجیل ؓکا جواب پورا کرتے ہوئے کہا۔
اکیلے پتھر کی کوئی طاقت نہیں ہوتی شرجیل!پتھر مل کرچٹان بنا کرتے ہیں۔پھر اس چٹان سے جو ٹکراتا ہے وہ دوسری بار ٹکرانے کیلئے زندہ نہیں رہتا۔خود غرضی اور ذاتی مفاد کا انجام دیکھ لیا تم نے؟عکرمہ جیسا تجربہ کار سالار پِٹ کرذلیل ہو چکا ہے۔میں تم پر کرم کرتا ہوں کہ خلیفہ کو تمہاری حماقت کی خبر نہیں ہونے دوں گا۔‘‘شرجیلؓ بن حسنہ نے عکرمہؓ جیسی غلط حرکت کی تھی۔اس نے بھی خالدؓ سے بازی لے جانے کیلئے راستے میں مسیلمہ کے لشکر سے ٹکرلی اور پسپا ہونا پڑا تھا۔مسیلمہ کذاب دربار لگائے بیٹھا تھا۔ ٹھنگنے قد والا یہ بد صورت انسان مکمل نبی بن چکا تھا۔اس کا قبیلہ بنو حنیفہ تو اسے نبی مان ہی چکا تھا۔دوسرے قبیلے کے لوگ جوق در جوق اس کی بیعت کیلئے آتے اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتے تھے۔لوگوں نے اس کی قوت اور کرامات دیکھ لی تھیں۔اب اس کے پیروکاروں نے دو معجزے اور دیکھ لیے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کے دو نامور سالاروں کو ذرا ذرا سی دیر میں میدان سے بھگا دیا تھا۔مذہبی اور نظریاتی کے لحاظ سے تو مسلمان ریشم کی طرح نرم تھے لیکن میدانِ جنگ میں وہ فولاد سے زیادہ سخت اور بجلیوں کی طرح قہر بن جاتے تھے۔جنگی لحاظ سے مسلمان دہشت بن گئے تھے۔عکرمہؓ اور شرجیلؓ نے اپنی غلطی اور کج فہمی سے شکست کھائی تھی۔لیکن بنو حنیفہ نے انہیں اپنے کذاب نبی کے معجزوں اور کرامات کے کھاتے میں لکھ دیا۔وہ کہتا تھا کہ مسلمانوں کو مسیلمہ کے سوا کون شکست دے سکتا ہے۔’’نہار الرجال!‘‘مسیلمہنے اپنے پاس بیٹھے ہوئے اپنے دستِ راست نہار الرجال سے کہا۔’’اب ہمیں مدینہ کی طرف کوچ کی تیاری کرنی چاہیے،مسلمانوں میں اب وہ دم خم نہیں رہا۔‘‘ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نہارالرجال بن عنفوہ وہ شخص تھا جس نے رسولِ کریمﷺ کے سائے تلے بیٹھ کر قرآن پڑھا اور مذہب پر عبور حاصل کیا تھااور اسے مبلغ بنا کر مسیلمہ کے علاقے میں بھیجا گیا تھا۔مگر اس پر مسیلمہ کا جادو چل گیا۔اس نے مسیلمہ کی نبوت کا پرچار شروع کر دیا۔آیاتِ قرآنی کو توڑ موڑ کر اس نے ان لوگوں کو بھی مسیلمہ کا پیروکار بنا دیا جو اسلام قبول کر چکے تھے۔مسیلمہ نے اسے اپنا معتمد ِ خاص بنا لیا تھا۔یہ شراب اور نسوانی حسن کا جادو تھا ۔خود مسیلمہ جس کی شکل و صورت مکروہ سی تھی اور قد مضحکہ خیز حد تک ٹھنگنا تھا۔عورتوں میں زیادہ مقبول تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ عورتوں کیلئے اس میں ایک مخصوص کشش تھی۔سجاع جیسی عورت جو قلوپطرہ کی طرح جنگی قوت لے کر مسیلمہ کو تہہ تیغ کرنے آئی ،صرف ایک ملاقات میں اس کی بیوی بن گئی تھی۔یہ مسیلمہ کی جسمانی طاقت اور مقناطیسیت تھی۔
۔اب تو وہ بہت بڑی جنگی طاقت بن گیا تھا۔عکرمہؓ اور شرجیلؓ کو پسپا کرکے اس کے اپنے اور اس کے لشکر کے حوصلے بڑھ گئے تھے۔وہ اب مدینہ پر چڑھائی کی باتیں کر رہا تھا۔وہ دربار میں بیٹھا نہارالرجال سے کہہ رہا تھا کہ مدینہ کی طرف کوچ کی تیاری کرنی چاہیے۔نہارالرجال کچھ کہنے بھی نہیں پایا تھا کہ مسیلمہ کو اطلاع دی گئی کہ ایک جاسوس آیا ہے۔مسیلمہ نے اسے فوراً بلالیا۔’’مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘جاسوس نے کہا۔’’تعداد دس اور پندرہ ہزار کے درمیان ہے۔‘‘’’تم نے جب دیکھا،یہ لشکر کہاں تھا؟‘‘مسیلمہ نے پوچھا۔’’وادیٔ حنیفہ سے کچھ دور تھا۔‘‘جاسوس نے کہا۔’’اب اور آگے آ چکا ہو گا۔‘‘’’ان بد بختوں کوموت وادیٔ حنیفہ میں لے آئی ہے۔‘‘مسیلمہ نے رعونت سے کہا۔’’انہیں معلوم نہیں کہ ان کا دس پندرہ ہزار کا لشکر میرے چالیس ہزار شیروں کے ہاتھوں چیرا پھاڑا جائے گا۔‘‘وہ اٹھ کھڑا ہوا۔تمام درباری احترام کیلئے اٹھے۔وہ نہار الرجال کو ساتھ لے کر دربار سے نکل گیا۔اس نے اپنا گھوڑا تیار کرایا۔نہار الرجال کو ساتھ لیا اور دونوں گھوڑے انہیں یمامہ سے دور لے گئے۔وہ وادیٔ حنیفہ کی طرف جارہے تھے۔’’اس وادی سے وہ زندہ نہیں نکل سکیں گے۔‘‘راستے میں مسیلمہ نے نہارالرجال سے کہا۔’’میرے اس پھندے سے وہ واقف نہیں۔‘‘نہارالرجال نے قہقہہ لگایا اور کہا۔’’آج محمد)ﷺ( کا اسلام وادیٔ حنیفہ میں دفن ہو جائے گا۔‘‘ وہ آدھا راستہ طے کر چکے تھے کہ آگے سے ایک گھوڑ سوار گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آ رہا تھا۔مسیلمہ کو دیکھ کر وہ رک گیا۔’’یانبی!‘‘گھوڑ سوار نے ہانپتی ہوئی آواز میں کہا۔’’مجاعہ بن مرارہ کو مسلمانوں نے قید کر لیاہے۔‘‘’’مجاعہ کو؟‘‘مسیلمہ نے حیرت سے کہا۔’’مجاعہ کو مسلمانوں نے ……۔‘‘نہارالرجال نے ڈری ہوئی سی آواز میں کہا۔’’مجاعہ کی ٹکر کا ہمارے پاس اور کوئی سالار نہیں ۔‘‘مسیلمہ نے کہا۔’’مجاعہ کا قید ہو جانا ہمارے لئے اچھا شگون نہیں۔‘‘
مجاعہ بن مرارہ مسیلمہ کا بڑا ہی قابل اور دلیر سالار تھا۔وہ خالدؓ سے ملتا جلتا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ کے مقابلے میں لڑنے اور جنگی چالیں چلنے کی اہلیت صرف مجاعہ میں تھی۔مجاعہ مسلمانوں کے ہاتھ اس طرح چڑھ گیا تھا کہ اس کے کسی قریبی رشتے دار کو بنی عامر اور بنی تمیم کے کچھ لوگوں نے قتل کر دیا تھا۔مجاعہ نے مسیلمہ سے اجازت لی تھی کہ وہ لشکر کے چالیس سوار ساتھ لے جا کر اپنے رشتے دار کے قتل کا انتقام لے لے۔مسیلمہ اپنے اتنے قابل سالار کو مایوس نہیں کر سکتا تھا۔اس نے اسے اجازت دے دی۔مجاعہ اپنے دشمن کی بستی میں گیا اور انتقام لے کر واپس آ رہا تھا ۔اسے معلوم نہیں تھا کہ جس علاقے کو وہ محفوظ سمجھتا تھا وہ اب محفوظ نہیں۔اس نے اپنے سواروں کو ایک جگہ آرام کیلئے روک لیا۔وہ سب اپنا فرض کامیابی سے پوراکر آئے تھے۔گھوڑوں کی زینیں اتار کر وہ لیٹ گئے اور گہری نیند سو گئے۔خالدؓ کا لشکر اسی طرف آ رہا تھا۔علی الصبح اس لشکر کا ہراول دستہ وہاں پہنچا جہاں مجاعہ اپنے چالیس سواروں کے ساتھ گہری نیند سویا ہوا تھا۔ان سب کو مجاہدین نے جگایا
۔ان سے ہتھیار اور گھوڑے لے لیے اور انہیں حراست میں لے کر پیچھے خالدؓ کے پاس لے گئے۔خالدؓ کو معلوم نہیں تھاکہ مجاعہ مسیلمہ کا بڑا قیمتی سالار ہے۔خالدؓ اسے بھی محض سوار یا سپاہی سمجھ رہے تھے۔انہوں نے دراصل بڑا موٹا شکار پکڑا تھا۔انہوں نے یہ تو بتا دیا کہ وہ مسیلمہ کی فوج کے آدمی ہیں لیکن مجاعہ کا رتبہ ظاہرنہ ہونے دیا۔’’کیا تم ہمارے مقابلے کیلئے آئے تھے؟‘‘خالدؓ نے ان سے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘ایک نے جواب دیا۔’’ہمیں تو معلوم ہی نہ تھا کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے۔ہم بنی عامر اور بنی تمیم سے اپنے ایک خون کا بدلہ لینے گئے تھے۔‘‘’’میں نے مان لیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں تمہاری جان بخشی کر سکتا ہوں۔
اب میرے اس سوال کا جواب دو کہ تم کسے اﷲکا سچا رسول مانتے ہو اور کس پر ایمان رکھتے ہو؟‘‘’’بے شک مسیلمہ اﷲ کا سچا رسول ہے۔‘‘ایک سوار نے جواب دیا۔’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تم میری توہین کر دیتے تو میں تمہیں بخش دیتا ،اپنے رسولﷺ کی توہین کو میں کس طرح برداشت کر سکتا ہوں؟‘‘’’تم اپنے رسول کو مانو،ہم اپنے نبی کو مانتے ہیں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’اصل بات بھی یہی ہے کہ مسیلمہ رسالت میں محمد )ﷺ(کا برابر کا حصہ دار ہے۔‘‘’’ہم سب کا عقیدہ یہی ہے۔‘‘سواروں نے کہا۔’’ایک نبی تم میں سے ہے ۔ایک نبی ہم میں سے ہے۔‘‘ خالدؓ نے تلوار کھینچی اور ایک ہی وار سے ایک سوار کا سر اڑا دیااور حکم دیا کہ سب کو قتل کر ڈالو۔ خالدؓ کے آدمی آگے بڑھے اور مجاعہ کو پکڑ کر اس کا سر کاٹنے کیلئے جھکا دیا۔اسے قتل کرنے والے کی تلوار ہوا میں بلند ہوئی۔’’ہاتھ روک لو۔‘‘قیدی سواروں میں سے ایک جس کا نام ساریہ بن عامر تھا،چلایا۔’’اس آدمی کو زندہ رہنے دو ۔یہ تمہارے کام آ سکتا ہے۔‘‘تب انکشاف ہوا کہ مجاعہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ہے لیکن یہ پھر بھی نہ بتایا گیا کہ یہ سالار بھی ہے۔خالدؓ دور اندیش تھے،کسی قبیلے کا سردار بڑا قیمتی یرغمال ہوتا ہے۔اسے کسی نہ کسی موقع پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔خالدؓ مجاعہ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈلوا کر اسے اپنے خیمے میں لے گئے اور اسے اپنی بیوی لیلیٰ کے حوالے کردیا۔باقی سب کو قتل کرا دیا۔مسیلمہ کے لئے مجاعہ کی گرفتاری کوئی معمولی نقصان نہیں تھا۔لیکن وادیٔ حنیفہ وہ پھندا تھا جو اس نقصان کو پورا کر سکتا تھا۔اس کے علاوہ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی اور مسلمانوں کی تعداد تیرہ ہزارتھی۔مسیلمہ کے پاس گھوڑ سواراور شتر سوار دستے زیادہ تھے۔بعض مؤرخوں نے مسیلمہ کے لشکر کی تعداد تیس ہزار لکھی ہے ۔بہر حال تعداد چالیس ہزار سے زیادہ تھی ،کم نہ تھی۔خالدؓ کی ایک کمزوری تو یہ تھی کہ لشکر کی تعداد خطرناک حد تک کم تھی ،دوسری کمزوری یہ کہ وہ اپنے مستقر سے بہت دور تھے جہاں کمک اور رسد کا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔انہیں صرف ایک سہولت حاصل تھی
اس علاقے میں پانی اور جانوروں کیلئے ہرے چارے کی کمی نہیں تھی۔وہ زرخیز کھیتوں اور باغوں کا علاقہ تھا۔مسیلمہ کو ہرے بھرے کھیتوں اور باغوں کا غم کھا رہا تھا۔اس نے نہارالرجال سے کہا کہ وہ ایسے انداز سے لڑنا چاہتا ہے کہ مدینہ کا لشکر بستیوں کو ،کھیتوں کو اور باغوں کو نہ اجاڑ سکے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ مسیلمہ کسی قسم کے تذبذب ،اضطراب یا پریشانی میں مبتلا نہ تھا۔وہ اس طرح سے بات کرتا تھا جیسے اسے اپنی فتح کا یقین ہو۔وہ بڑی موزوں بنیادوں پر کھڑابات کر رہا تھا۔اس کا چالیس ہزار کا لشکر برتر بھی تھا اور یہ سب مسیلمہ کے نام پر جانیں قربان کرنے والے لوگ تھے۔مسیلمہ کی نبوت کا تحفظ ان سب کیلئے جنون بن چکا تھا۔خالدؓ پھندے میں آنے والے سالار نہیں تھے۔مُوتہ میں وہ پھندے میں آ چکے تھے۔یمامہ کے علاقوں سے وہ واقف نہیں تھے۔انہوں نے دیکھ بھال اور آگے کی زمین کا جائزہ لینے کیلئے ایک پارٹی بھیج دی تھی۔رات کو اس پارٹی نے جو رپورٹ دی ،اس کے مطابق خالدؓ نے اپنا رستہ بدل دیا تاکہ حنیفہ کی وادی کے اندر سے نہ گزرنا پڑے۔وہ ذرا دور کاچکر کاٹ کر آگے نکل گئے۔مسیلمہ نے بھی دیکھ بھال کا انتظام کر رکھا تھا۔اسے اطلاع ملی کہ مدینہ والے آگے نکل گئے ہیں تو اس نے اپنا لشکر بڑی تیزی سے عقربا کے میدان میں منتقل کر دیا۔خالدؓ کی نظر اسی میدان پر تھی لیکن دشمن پہلے پہنچ گیا تھا۔خالدؓ نے ایک جگہ دیکھ لی جو میدان سے بلند تھی ،انہوں نے وہیں اپنا لشکر روک لیا۔وہاں سے وہ مسیلمہ کے پڑاؤ کو اچھی طرح دیکھ سکتے تھے۔ مسیلمہ نے اسی میدان کو بہتر اور موزوں سمجھاتھا۔ایک تو اس نے اپنے لشکر کا تمام تر سازوسامان اور مال و اسباب اپنی خیمہ گاہ سے پیچھے رکھا تھا۔دوسرے یہ کہ کھیتیاں اور باغات بھی لشکر کے پیچھے تھے۔ان سب کی وہ بڑی اچھی طرح سے حفاظت کر سکتاتھا۔اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ خالدؓ یہاں سے آگے یمامہ کو بڑھے تو وہ ان پر عقب سے حملہ کر دے گا۔خالدؓ بھی اس صورت کو بھانپ چکے تھے کہ وہ یہاں سے آگے بڑھے تو مارے جائیں گے۔مسیلمہ نے اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔اس نے دائیں حصے کی قیادت نہارالرجال کو دی۔بائیں حصے کا سالار محکم بن طفیل تھا اور درمیان میں یعنی قلب میں وہ خود رہا۔اس نے اپنے بیٹے کو جس نام شرجیل تھا کہا کہ وہ لشکر سے خطاب کرے۔ایک شرجیل بن حسنہ خالدؓ کے لشکر کا سالار تھا۔مسیلمہ کے بیٹے کا نام بھی شرجیل تھا۔شرجیل گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے لشکر کے تینوں حصوں کے سامنے باری باری جاکر کہا۔’’اے بنو حنیفہ!آج اپنی آن اور اپنی آبرو پر مر مٹنے کا وقت آگیا ہے۔خدا نے تمہارے نبی کو نبوت دی ہے۔آج اپنی نبوت اور آبرو کی خاطر اس طرح لڑو کہ مسلمانوں کو پھر کبھی تمہارے سامنے آنے کی جرات نہ ہو۔اگر تم نے پیٹھ دکھائی تو دشمن تمہاری بیویوں ،تمہاری بہنوں اور تمہاری بیٹیوں کو لونڈیاں بنا لے گااور اس زمین پر ہی جو تمہاری زمین ہے ،ان کی آبرو لوٹے گا۔
ا۔کیا تم یہ منظر برداشت کرلو گے؟‘‘مسیلمہ کے لشکرکو جیسے آگ لگ گئی ہو۔وہ مسیلمہ کے نام کے نعرے لگانے لگے ۔گھوڑے کھر مارمارکر ہنہنانے لگے۔خالدؓ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھے کہ مسیلمہ کا لشکر ان پر فوراً حملہ کر دے گا۔نفری کی افراط کے زور پر مسیلمہ کو حملہ کر دیناچاہیے تھا لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ وہ جنگ کے فن میں مہارت رکھتا تھا۔اس نے حملے میں پہل نہ کی۔اس کا خیال تھا کہ پہلے خالدؓ حملہ کرے اور دفاع میں لڑا جائے اور جب مسلمان تھک جائیں تو دائیں بائیں سے حملے کرکے انہیں ختم کر دیا جائے۔اس دور کی تحریریں بتاتی ہیں کہ خالدؓ مسیلمہ کی چال نہ سمجھ سکے۔انہوں نے اپنے سالاروں سے کہا کہ مرتدین سے آمنے سامنے کی جنگ اس طرح لڑی جائے کہ اسے اپنے دستوں کو اِدھر ُادھرکرنے کی مہلت نہ ملے اور وہ دفاعی لڑائی لڑتا رہے۔خالدؓ کو توقع تھی کہ تیرہ ہزار سے چالیس ہزار کو اسی طریقے سے شکست دی جا سکتی ہے کہ اسے کوئی چال چلنے کا موقع نہ دیا جائے۔اس وقت کے رواج کے مطابق خالدؓ کو بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھائیں ۔خلیفۃ المسلمین ؓ نے خالدؓ کی مددکیلئے جو دستے بھیجے تھے ان میں قرآن کے حافظ اور خوش الحان قاری بھی خاصی تعداد میں تھے۔اس دور کے حافظِ قرآن اور قاری ماہر تیغ زن اورلڑنے والے بھی ہوتے تھے۔وہ مسجدوں میں بیٹھے رہنے والے لوگ نہیں تھے۔ اس کے علاوہ خالدؓ کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے ہر میدان میں اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کو شکستیں دی تھیں۔خالدؓ کے لشکر میں عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداﷲؓ بھی تھے۔اسکے علاوہ ابو دجانہؓ بھی تھے جو جنگِ احد میں ان تیروں کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے جو رسولِ کریمﷺ پر آ رہے تھے۔انہوں نے اپنے جسم کو آپﷺ کی ڈھال بنا دیا تھا۔خلیفۃ المسلمین ؓ کے بیٹے عبدالرحمٰنؓبھی تھے اور ایک خاتون اُمّ ِ عمارہؓ اپنے بیٹے کے ساتھ گئی تھیں ۔اُمّ ِ عمارہؓ جنگِ احد میں باقاعدہ لڑی تھیں۔ان کے علاوہ وحشی نام کا حبشیؓ بھی خالدؓ کے ساتھ تھا۔جس کی پھینکی ہوئی برچھی نشانے سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتی تھی۔قبولِ اسلام سے پہلے جنگِ احد میں اسی وحشی ؓنے حمزہ ؓ کو برچھی پھینک کر شہید کیا تھا۔مجاہدین کالشکر تعداد میں تو کم تھا لیکن جوشِ جہاد اور جذبے کے لحاظ سے کمتر نہ تھا۔ خالدؓ نے خود بھی اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھایا اور قرآن کے حافظوں اور قاریوں سے کہاکہ وہ مجاہدینِ مدینہ کو آیاتِ قرآنی سناکر بتائیں کہ وہ گھروں سے اتنی دور کس مقصد کیلئے لڑنے آئے ہیں۔قاری اپنی پر اثر آوازوں میں لشکر کو وہ آیات سنانے لگے جن میں مسلمانوں کیلئے جہاد فرض قرار دیا گیا ہے ۔یہ سلسلہ رات بھر چلتا رہا ۔اﷲکے سوا اور کون تھا جو ان قلیل تعداد مجاہدین،اسلام کی مدد کرتا۔مؤرخین کے مطابق مجاہدین کے اس لشکر نے تمام رات عبادت اور دعاؤں میں گزار دی۔
دسمبر ۶۳۲ء کے تیسرے ہفتے کی ایک صبح طلوع ہوئی تو خالدؓ نے مسیلمہ کے لشکر پر حملے کا حکم دے دیا۔خالدؓ نے بھی اپنے لشکرکو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔قلب کی قیادت انہوں نے اپنے پاس رکھی تھی ،ایک طرف ابو حذیفہؓ اور دوسری طرف زیدؓ بن خطاب تھے۔مسلمان جس قہروغضب سے حملہ آور ہوئے اور جس بے جگری سے لڑے وہ دیکھ کر خالدؓ کو امید بندھ گئی کہ وہ مرتدین کے لشکر کو اکھاڑ پھینکیں گے ۔
خود خالدؓ سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے۔لیکن خاصا وقت گزر جانے کے بعد بھی مسیلمہ کا لشکر جہاں تھا وہیں رہا۔بہت سے مجاہدین پہلے ہلّے میں ہی شہید ہو گئے۔دن گزرتا جا رہا تھا۔میدانِ جنگ کا قہر بڑھتا جا رہا تھا۔ایک شور تھا،چیخ و پکار تھی ،کربناک آہ و بکا تھی جو زمین و آسمان کوہلا رہی تھی ۔مسیلمہ کا لشکر گھوم پھر کر لڑ رہاتھا۔اس کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کو گھیرے میں لے لے اور مسلمانوں کا عزم یہ تھا کہ مرتدین کے اس لشکر کے قدم اکھاڑنے ہیں اور یمامہ پر قبضہ کرنا ہے۔دونوں لشکر اپنی اپنی کوششوں میں ناکام ہو رہے تھے۔اگر کامیاب تھا تو وہ مسیلمہ کالشکر تھا۔مسیلمہ بہت چالاک اور ہوشیار جنگی قائد تھا۔وہ جائزہ لیتا رہا کہ مسلمان کب تھک کر چور ہوتے ہیں ،آدھا دن گزر گیا۔زمین خون سے لال ہوتی جا رہی تھی ۔زخمی انسان بھاگتے دوڑتے گھوڑوں تلے کچلے جا رہے تھے ۔مسلمان اس قدر بے جگری سے لڑنے کی وجہ سے کچھ جلدی تھک گئے۔مسیلمہ نے بھانپ لیا۔اس نے اپنے لشکر کے ایک تازہ دم حصے کو مسلمانوں پر حملے کا حکم دے دیا۔اس کے لشکر کا یہ حصہ طوفانی موج کی طرح آیا۔مسیلمہ نے سب کو یقین دِلارکھا تھا کہ جو اس کی نبوت کی خاطر لڑتا ہوامرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ خالدؓ نے تھوڑی ہی دیر بعد محسوس کرلیا کہ اس کے لشکر پر دباؤ بہت تیز ہو گیا ہے۔خالدؓ کوئی چال سوچ ہی رہے تھے کہ مسلمانوں نے پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔آگے والے دستے تیزی سے پیچھے ہٹے۔پیچھے والے ان سے زیادہ تیزی سے پسپا ہوئے۔سالاروں نے بہت شور مچایا۔ لشکر کو پکارا۔نعرے لگائے لیکن مرتدین کا دباؤ ایسے قہر کی صورت اختیار کر گیا تھاجسے مسلمان برداشت نہ کر سکے اور ان میں بد نظمی پھیل گئی۔دیکھا دیکھی مسلمان ایسی بری طرح پسپا ہوئے کہ اپنی خیمہ گاہ میں بھی نہ رکے اور دور پیچھے چلے گئے۔مسیلمہ کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا۔احد کے میدان میں بھی مسلمانوں نے اپنے لئے ایسی ہی صورتِ حال پیداکر لی تھی اور ہزیمت اٹھائی تھی۔یہ ان کی دوسری پسپائی تھی جو بھگدڑ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔مسیلمہ کا لشکر جب مسلمانوں کی خیمہ گاہ تک پہنچا تو اس نے وہاں لوٹ مار شروع کرد ی۔وہاں انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔خالدؓ اور ان کے سالار دوڑ دوڑ کر اپنے لشکر کو روکنے کیلئے چیخ چلا رہے تھے لیکن مسلمان اپنی خیمہ گاہ سے خاصی دور جا کر رکے۔مسیلمہ کے کچھ آدمیوں کو خالدؓ کا خیمہ مل گیا۔وہ اس میں جا گھسے۔وہاں انہیں زیادہ مال و دولت ملنے کی توقع تھی لیکن اس خیمے میں انہیں دو اتنے قیمتی انسان مل گئے جن کی انہیں توقع نہیں تھی۔
۔ایک تو ان کا اپنا سردار اور سالار مجاعہ تھا جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھااور اس کے ساتھ خالدؓ کی نئی بیوی لیلیٰ ام تمیم تھی جس کے حسن کے چرچے انہوں نے سن رکھے تھے لیکن اسے دیکھا کبھی نہیں تھا۔مجاعہ کو تو انہوں نے پہچان لیا۔لیلیٰ کے متعلق انہیں مجاعہ نے بتایا کہ یہ کون ہے۔بیک وقت دو تین آدمی لیلیٰ کی طرف لپکے۔وہ اسے قتل کرنا یا اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔’’رک جاؤ۔‘‘انکے قیدی سردار مجاعہ نے حکم دیا۔’’دشمن کے آدمیوں کے پیچھے جاؤ۔ابھی عورتوں کے پیچھے پڑنے کا وقت نہیں ۔میں اب اس کا نہیں یہ میری قیدی ہے۔‘‘ان کے سردار کا حکم اتنا سخت تھا کہ وہ بڑی تیزی سے خیمے سے نکل گئے ۔انہیں اتنا بھی ہوش نہ رہا کہ اپنے سردار کی بیڑیاں ہی توڑ جاتے۔’’تم نے مجھے ان آدمیوں سے کیوں بچایا ہے؟‘‘لیلیٰ نے مجاعہ سے پوچھا۔’’کیا تم مجھے اپنا مالِ غنیمت سمجھتے ہو؟اگر تمہاری نیت یہی ہے تو کیا تمہیں یہ احساس نہیں کہ میں تمہیں قتل کر سکتی ہوں۔‘‘’’تم نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک قید کے دوران کیا ہے میں اس کے صلے میں اپنی جان دے سکتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’خدا کی قسم! میری بیڑیاں ٹوٹ کر تمہارے پاؤں میں پڑ جائیں تو بھی میں تمہیں مالِ غنیمت یا لونڈی نہیں سمجھوں گا۔تم نے مجھے قیدی نہیں مہمان بنا کر رکھا ہے۔‘‘’’میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’یہ مسلمانوں کی روایت ہے کہ دشمن ان کے گھر چلا جائے تو وہ اسے معزز مہمان سمجھتے ہیں۔اگر تم میرے گھر میں ہوتے تو میں تمہیں اور زیادہ آرام پہنچا سکتی تھی۔‘‘’’لیلیٰ!‘‘مجاعہ نے کہا۔’’کیا تجھے ابھی احساس نہیں ہوا کہ تمہاراخاوند شکست کھا کر بھاگ گیا ہے اور تم میرے قبضے میں ہو؟‘‘’’فتح اور شکست کا فیصلہ خدا کرے گا۔‘‘لیلیٰ نے جواب دیا۔’’میرا خاوند اس سے زیادہ سخت چوٹیں برداشت کر سکتا ہے۔‘
’’کم فہم خاتون!‘‘مجاعہ نے فاتحانہ مسکراہٹ سے کہا۔’’کیا تجھے ابھی تک احساس نہیں ہوا کہخدا مسیلمہ کے ساتھ ہے جو اس کا سچا نبی ہے؟محمد )ﷺ(کی رسالت سچی ہوتی……‘‘’’مجاعہ!‘‘لیلیٰ نے گرج کر اس کی بات وہیں ختم کر دی اور بولی۔’’اگر تو نے محمدﷺکی رسالت کے خلاف کوئی بات کی تو مجھ پر تیرا قتل فرض ہو جائے گا۔میں دیکھ رہی ہوں کہ میرا لشکرمجھے اس خیمہ گاہ میں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔جہاں میرے دین کے دشمن لوٹ مار کر رہے ہیں۔لیکن میرے دل پر ذرا سا بھی خوف نہیں۔خوف اس لئے نہیں کہ مجھے اﷲ پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘مجاعہ خاموش رہااور وہ کچھ دیر نظریں لیلیٰ کے چہرے پر گاڑے رہا۔باہر فاتح لشکر کا فاتحانہ غل غپاڑہ تھا۔وہ مسلمانوں کے خیموں کو پھاڑ پھاڑ کر ان کے ٹکڑے بکھیر رہے تھے۔مجاعہ اور لیلیٰ کو توقع تھی کہ ابھی مسیلمہ کے آدمی آئیں گے اوردونوں کو ساتھ لے جائیں گے لیکن اچانک غل غپاڑہ ختم ہو گیا اور لوٹ مار کرنے والے لوگ بھاگتے دوڑتے خیمہ گاہ سے نکل گئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیلمہ کی طرف سے حکم آیا تھا کہ فوراً واپس میدانِ عقربا میں پہنچو کیونکہ مسیلمہ نے دیکھ لیا تھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے اکھٹے ہو کر منظم ہو رہے تھے۔مسیلمہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔وہ مسلمانوں کی شجاعت اور ان کے جذبے سے مرعوب تھا۔مجاعہ اور لیلیٰ خیمے میں اکیلے رہ گئے۔مجاعہ کے چہرے پہ جو رونق آئی تھی وہ پھر بجھ گئی۔خالدؓ اتنی جلدی ہارماننے والے نہیں تھے ۔ضائع کرنے کیلئے ان کے پاس ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔انہوں نے اپنے سالاروں اور کمانداروں کو اکھٹا کیا اور انہیں اس پسپائی پر شرم دلائی ،اتنے میں ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا اور سالاروں وغیرہ کے اجتماع میں آ رکا۔وہ عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن خطاب تھے۔’’خداکی قسم ابنِ ولید!‘‘زیدؓ بن خطاب نے گھوڑے سے کود کر اترتے ہوئے جوشیلی آواز میں کہا۔’’میں نے مسیلمہ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا ہے……میں نے نہارالرجال کواپنے ہاتھوں قتل کیا ہے۔یہ اﷲ کا اشارہ ہے کہ فتح ہماری ہوگی۔‘‘نہارالرجال کا ہلاک ہو جانا مسیلمہ کیلئے کوئی معمولی نقصان نہیں تھا۔بتایا جا چکا ہے کہ وہ مسیلمہ کا معتمدِ خاص واحد مشیر اور صحیح معنوں میں دستِ راست تھا۔خالدؓ اور ان کے سالاروں نے یہ خبر سنی تو ان کے چہروں پر تازہ حوصلوں کی سرخی آ گئی۔’’کیا تم جانتے ہو کہ ہمیں کس جرم کی سزا ملی ہے؟‘‘خالدؓ نے غصیلی آواز میں کہا۔’’مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے لشکر میں دل پھٹ گئے تھے ۔لڑائی سے پہلے ہی ہمارے لشکر کے مہاجر کہنے لگے تھے کہ بہادری میں انصار اور بدّو ان کامقابلہ نہیں کر سکتے۔انصار کہتے تھے کہ مسلمانوں میں ان جیسا بہادر کوئی نہیں اور بدوؤں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کے لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ جنگ ہوتی کیا ہے……تم جانتے ہو کہ ہم میں مکہ کے مہاجر بھی ہیں ،مدینہ کے انصار بھی ہیں اور اردگرد کے علاقوں سے آئے ہوئے بدو بھی ہمارے ساتھ ہیں،ان لوگوں نے ایک دوسرے پر طعنہ زنی شروع کر دی تھی۔‘‘’’اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔‘‘ایک سالار نے کہا۔ ’’میرے پاس اس کا علاج ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم نے لشکر میں ان سب کو اکھٹا رکھا ہوا ہے۔مزید وقت ضائع کیے بغیر تم سب جاؤ اور مہاجرین کو الگ انصار کو الگ اور بدوؤں کو الگ کرلو۔‘‘تھوڑے سے وقت میں خالدؓ کے حکم کی تعمیل ہو گئی،لشکر تین حصوں میں تقسیم ہو چکاتھا۔ایک حصہ مہاجروں کا،دوسرا انصار کا اورتیسرا بدوؤں کا تھا۔
خالدؓ گھوڑے پر سوار ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔’’اﷲ کے سپاہیو!‘‘خالدؓ نے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔’’ہم نے میدان میں پیٹھ دکھا کر دشمن کیلئے ہنسی اورطعنہ زنی کا موقع پیدا کر دیا ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ تم میں سے کون بہادری سے لڑا اور کون سب سے پہلے بھاگ اٹھا……مہاجرین؟انصار ؟یابدو؟‘‘’’اب میں نے تمہیں اس لئے الگ الگ کر دیا ہے کہ دشمن پر فوراً جوابی حملہ کرنا ہے۔اب دیکھیں گے کہ تم میں سے کون کتنابہادر ہے۔بہادری اور بزدلی کا فیصلہ طعنہ زنی سے نہیں کیا جا سکتا۔میدان میں کچھ کر کے دکھاؤ لیکن اتحاد کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔رسول اﷲﷺ نے تمہیں جس باہمی پیار کا سبق دیا تھا وہ بھول نہ جانا،تم میں سے کوئی گروہ دشمن کے دباؤ کوبرداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹے تو دوسرے گروہ اس کی مدد کو پہنچیں۔ہمیں دشمن پر ثابت کرنا ہے کہ مسیلمہ جھوٹانبی ہے۔اگر ہم شکست کھا گئے تو یہ جھوٹی نبوت ہم پر مسلط ہو جائے گی،اور ہم مسیلمہ کے غلام اور ہماری عورتیں مرتدین کی لونڈیاں بن جائیں گی۔‘‘خالدؓ کے یہ الفاظ ان تیروں کی طرح کارگر ثابت ہوئے جو اپنے نشانے سے ادھر ادھر نہیں جایا کرتے۔لشکر میں نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔ادھر مرتدین مجاہدین کی خیمہ گاہ لوٹ کر اورتباہ کرکے جا چکے تھے۔ادھر سے مسلمان اشارہ ملتے ہی مسیلمہ کے لشکر کی طرف چل پڑے۔مسیلمہ نے اپنے لشکر کو پھر حملہ روکنے کی ترتیب میں کر لیا تھا۔جب مجاہدین ِ اسلام کا لشکر مقابلے میں پہنچا تو انصار سے ایک سردار ثابت بن قیس گھوڑے کو ایڑلگا کرلشکر کے سامنے آ گئے۔’’اے اہل ِمدینہ!‘‘ انہوں نے بلند آواز سے کہا۔’’تم ایک شرمناک مظاہرہ کر چکے ہو۔‘‘ثابت بن قیس نے دشمن کی طرف اشارہ کر کے کہا۔’’اے میرے اﷲ!جس کسی کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘انہوں نے مجاہدین کی طرف منہ کرکے کہا۔’’اے اﷲ!جو بری مثال میرے اس لشکر نے قائم کی ہے میں اس پر بھی لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘اتنا کہہ کر ثابت بن قیسؓ نے نیام سے تلوار کھینچی اور گھوڑے کارخ دشمن کی طرف کے ایڑ لگادی۔ان کے آخری الفاظ یہ تھے۔’’دیکھو!میری تلوار دشمن کو مزہ چکھائے گی اور تمہیں ہمت اور استقلال کا نمونہ دکھائے گی۔‘‘ثابت بن قیس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اورخالدؓنے حملے کا حکم دے دیا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی تلوار ایسی شدت اور ایسی مہارت سے چل رہی تھی کہ جو ان کے سامنے آیا وہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑا نظر نہ آیا۔ان کے جسم کا شاید ہی کوئی حصہ رہ گیا ہو گا جہاں دشمن کی تلوار برچھی یا انی نہ لگی ہو۔دشمن کی صفوں کے دور اندر جاکر ثابت بن قیس گرے اور شہید ہو گئے۔اپنے لشکر کیلئے وہ واقعی ہمت اور استقلال کابے مثال نمونہ پیش کرگئے۔
۔ محمد حسین ہیکل نے بعض مؤرخوں کے حوالے دے کر لکھا ہے کہ خالدؓ کے لشکر نے قسمیں کھالی تھیں کہ اب ان کی لاشیں ہی اٹھائی جائیں گی۔وہ زندہ نہیں نکلیں گے۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ انہوں نے قسم کھائی کہ ہاتھ میں ہتھیار نہ رہا ،ترکش میں تیر نہ رہا تو وہ دانتوں سے لڑیں گے۔خالدؓ نے یہ مثال قائم کی کہ چند ایک جانباز چن کر اپنے ساتھ اس عزم سے کر لئے کہ جہاں لڑائی زیادہ خطرناک ہوگی وہاں ان جانبازوں کے ساتھ جا کودیں گے۔انہوں نے اپنے جانبازوں سے کہا۔ُ’’تم سب میرے پیچھے رہنا۔‘‘آگے وہ خود رہنا چاہتے تھے۔ دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو نئی مصیبت آن پڑی ۔آندھی آ گئی جس کا رخ مجاہدینِ اسلام کی طرف تھا۔ کچھ مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ صحرائی آندھی نہیں تھی بلکہ تیز ہوا تھی۔میدانِ جنگ میں گھوڑوں اور پیادوں کی اڑاتی ہوئی گرد زمین سے اٹھتے بادلوں کی مانند تھی۔تیز وتند ہوا کا رخ مجاہدین کی طرف تھا اس لئے مٹی اور ریت مسلمانوں کی آنکھوں میں پڑتی تھی۔بدر میں کفار کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا ۔ہوا تیز ہوتی جا رہی تھی۔کچھ مجاہدین نے زیدؓ بن خطاب سے پوچھا کہ ایسی آندھی میں وہ کیا کریں؟’’خدا کی قسم!‘‘زیدؓ بن خطاب نے گرجدار آواز میں کہا۔’’میں اپنے اﷲ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے دشمن کو شکست دینے تک زندہ رکھے……اے اہلِ مکہ و مدینہ! آندھی سے مت ڈرو۔سروں کو ذرا جھکا کہ رکھو۔اس طرح ریت اور مٹی تمہاری آنکھوں میں نہیں پڑے گی۔پیچھے نہ ہٹ جانا۔ہمت سے کام لو۔استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔آندھی اور طوفان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘زیدؓ بن خطاب سالار تھے۔انہوں نے مجاہدین کیلئے یہ مثال قائم کی کہ تلوار لہراتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ان کے دستے ان کے پیچھے گئے۔زیدؓ بن خطاب تلوار چلاتے ہوئے دورتک نکل گئے اور شہید ہو گئے۔ایک اور سالار ابو حذیفہ ؓنے بھی یہی مثال قائم کی۔وہ یہ نعرہ لگا کر دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔’’اے اہلِ قرآن !اپنے اعمال سے قرآنِ حکیم کی ناموس کو بچاؤ۔‘‘وہ بھی مقابلے میں آنے والے ہر مرتد کو کاٹتے گئے ،زخم کھاتے گئے اور شہید ہو گئے۔ان سالاروں نے جانیں دے کر مجاہدین کے عزم میں جان ڈال دی اور وہ آسمانی بجلیوں کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑنے لگے۔اس کے باوجود مسیلمہ کالشکر قائم و دائم تھا۔خالدؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا۔یہ ایسی جنگ تھی کہ جس میں چالیں چلنے کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی۔یہ آمنے سامنے کی ٹکرتھی۔اس میں صرف ذاتی شجاعت ہی کام آ سکتی تھی۔خالدؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ مسیلمہ کے محافظ اس کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں ۔خالدؓ کو فتح کاایک یہی طریقہ نظر آیا کہ مسیلمہ کو مار دیا جائے۔یہ کام اتنا سہل نہیں تھا جتنی آسانی سے دماغ میں آیا تھا،لیکن خالدؓ ناممکن کو ممکن کر دکھانے کیلئے اس طرح مسیلمہ کی طرف بڑھے کہ ان کے جانبازوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔
جب قریب گئے تو مسیلمہ کے محافظوں نے ان پر ہلّہ بول دیا۔خالدؓ کے قریب جو آیا وہ زندہ نہ رہا مگر مسیلمہ تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔
خالدؓ کے جانبازوں نے اپنی ترتیب بکھرنے نہ دی ۔ایک موزوں موقع دیکھ کر خالدؓ نے اپنے جانبازوں کو مل کر ہلّہ بولنے کا حکم دے دیا۔خالدؓ خود بھی ہلّے میں شریک ہو گئے۔کچھ محافظ پہلے ہی مر چکے تھے یا زخمی ہو کر تڑپ رہے تھے۔خالدؓ کے جانبازوں کا ہلّہ اتنا شدید تھا کہ مسیلمہ کے محافظ بوکھلا گئے۔میدانِ جنگ کی صورتِ حال یہ ہو گئی تھی کہ مجاہدین جو فتح یا موت کی قسمیں کھا چکے تھے وہ مرتدین پر ایک خوف بن کر چھا رہے تھے۔مسیلمہ کو اپنی حفاظت کیلئے کوئی اور محافظ نہیں مل سکتا تھا۔مسلمانوں کے نعروں کے ساتھ آندھی کی چیخیں میدانِ جنگ کی ہولناکی میں اضافہ کر رہی تھیں۔مسیلمہ کے بچے کھچے محافظ گھبرانے لگے۔خالدؓ کے جانبازوں نے ان کا حلقہ توڑ دیا۔’’یا نبی!‘‘ کسی محافظ نے کہا۔’’اپنا معجزہ دکھا۔‘‘’’اپنا وعدہ پوراکر ہمارے نبی!‘‘ایک اور محافظ نے کہا۔’’تیرا وعدہ فتح کا تھا۔‘‘مسیلمہ نے موت کو اپنی طرف تیزی سے بڑھتے دیکھا تو اس نے بلند آواز سے اپنے محافظوں سے کہا۔’’اپنے حسب و نسب اور اپنی ناموس کی خاطر لڑو۔‘‘اور وہ بھاگ اٹھا۔دشمن کا قلب ٹوٹ گیا۔پرچم غائب ہو گیا تو مرتدین میں شور اٹھا۔’’نبی میدان چھوڑ گیا ہے……رسول بھاگ گیا ہے۔‘‘اس پکار نے مرتدین کے حوصلے توڑ ڈالے اور وہ میدان سے نکلنے لگے۔تھوڑی سی دیر میں مرتدین میدان چھوڑ گئے ،لیکن میدانِ جنگ کی کیفیت یہ تھی کہ خون ندی کی طرح ایک طرف کو بہنے لگا۔جہاں یہ معرکہ لڑا گیا وہ تنگ سی گھاٹی تھی۔اس کا کوئی نام نہ تھا۔اس معرکے نے اسے ایک نام دے دیا۔یہ تھا شعیب الدم جس کے معنی ہیں خونی گھاٹی۔دونوں لشکروں کا جانی نقصان اتنا زیادہ ہوا کہ میدان میں لاشوں کے اوپر لاشیں پڑی تھیں۔زخمی تو ہزاروں کی تعداد میں تھے۔مسیلمہ کے لشکر کا جانی نقصان اس کی تعداد کی زیادتی کی وجہ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کا جانی نقصان بھی کچھ کم نہ تھا۔کئی زخمی گھوڑے بے لگام ہوکر لاشوں اور زخمیوں کو روند رہے تھے۔انہوں نے کئی اچھے بھلے آدمیوں کو کچل ڈالا۔مسیلمہ کا لشکر جب بددل ہو کربھاگا تو مجاہدین ان کے تعاقب میں گئے۔مسیلمہ کا ایک سالار محکم بن طفیل اپنے لشکر کو پکار رہا تھا۔’’بنو حنیفہ! باغ کے اندر چلے جاؤ۔‘‘انہیں اب باغ میں ہی پناہ مل سکتی تھی۔اس باغ کا نام حدیقۃ الرحمٰن تھا جو وسیع و عریض تھا۔اس کے اردگرد دیوار تھی۔مسیلمہ اس باغ میں چلا گیا تھا۔باغ میدانِ جنگ کے بالکل قریب تھا۔مسیلمہ کے لشکر کے بچے کھچے آدمی بھی اس میدان میں داخل ہو گئے۔جب مجاہدین باغ کے قریب پہنچے تو باغ کے دروازے بند ہو چکے تھے ۔مؤرخین کے مطابق باغ میں پناہ لینے والے مرتدین کی تعداد سات ہزار تھی۔خالدؓ گھوڑا دوراتے باغ کے اردگرد گھوم گئے ۔انہیں اندر جانے کا کوئی رستہ نظر نہ آیا۔اندر جانا ضروری تھا۔مسیلمہ کو قتل کرنا تھا کہ یہ فتنہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے۔اﷲ کے ایک مجاہد براءؓ بن مالک آگے بڑھے اور بولے۔’’مجھے اٹھا کے دیوار کے اندر پھینک دو۔خدا کی قسم! دروازہ کھول دوں گا۔‘‘براءؓ بن مالک صحابہ کرامؓ میں خصوصی درجہ رکھتے تھے ۔
کسی نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ انہیں باغ کے اندر پھینک دیا جائے لیکن انہوں نے اتنا زیادہ اصرار کیا کہ دو تین مجاہدین نے انہیں اپنے کندھوں پر کھڑا کر دیااور وہ دیوار پر جاکر باغ میں کود گئے۔باغ میں دشمن کے سات ہزار آدمی تھے اور براءؓ اکیلے۔ سات ہزار کفار میں ایک مسلمان کا کود جانا ایسے ہی تھا جیسے کوئی آتش فشاں پہاڑ کے دہانے کے اندر کود گیا ہو۔براءؓ بن مالک سراپا عشق تھے جو آتشِ نمرود میں کود گئے تھے۔انہوں نے باغ کا دروازہ اندر سے کھولنے کا بے حد خطرناک کام کسی کے حکم کے بغیر اپنے ذمے لے لیا تھا۔انہوں نے دروازے کے قریب سے دیوار پھاندی تھی۔سات ہزار بنو حنیفہ جو باغ کے اندر چلے گئے تھے اور جنہوں نے دروازہ بند کر لیا تھا ،ابھی افراتفری کے عالم میں تھے۔انہیں معلوم تھا کہ مسلمان ان کے تعاقب میں آگئے ہیں اور انہوں نے باغ کو محاصرے میں لے لیا ہے لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی مسلمان اکیلا دیوار پھاند کر اندر آنے کی جرات کر سکتا ہے۔’’وہ کون ہے؟‘‘کسی نے بڑی بلند آواز میں کہا۔’’وہ دروازہ کھول رہا ہے۔‘‘’’کاٹ دو اسے!‘‘کوئی مرتد للکارا۔’’گردن مار دو۔‘‘ایک اور للکارا۔’’پکڑ لو،مار ڈالو۔‘‘ایک شور اٹھا۔بے شمارمرتد تلوریں اور برچھیاں تانے براءؓ بن مالک کی طرف دوڑے۔براءؓ ابھی دروازہ کھول نہیں سکے تھے ۔انہوں نے تلوار نکالی اور بنو حنیفہ کا جو آدمی سب سے پہلے ان تک پہنچا تھا۔اسے براءؓ کی تلوار کے بھرپور وار نے وہیں روک دیا۔وہ لڑکھراتا ہوا پیچھے ہٹا۔براءؓ نے ایک بار پھر دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔وہ بروقت پیچھے کو گھومے بیک وقت دو آدمیوں نے ان پر برچھیوں کے وار کیے تھے۔براءؓ پھرتی سے ایک طرف ہو گئے دونوں برچھیوں کی انیاں جو براءؓ کے جسم میں اترنے کیلئے آئی تھیں دروازے میں اتر گئیں۔براءؓ نے بڑی تیزی سے تلوار چلائی اور دونوں آدمیوں کو اس وقت گھائل کر دیا جب وہ دروازے میں سے برچھیاں نکال رہے تھے۔کئی مرتد براءؓ بن مالک پر مل کر حملہ کرتے تھے اور براءؓ دروازے کے ساتھ پیٹھ لگائے بڑی تیزی سے تلوار چلا رہے تھے ان کی زبان سے دو ہی نعرے گرجتے تھے ’’اﷲ اکبر۔۔ محمد رسول اﷲ ‘‘وہ وار روکتے وار کرتے اور دروازے کھولنے کی کوشش کرتے تھے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ براءؓ بن مالک نے بنو حنیفہ کے بہت سے آدمیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا اور دروازہ کھول دیا۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ براءؓ بن مالک کے پیچھے چند اور مسلمان دیوار پھاند کر اندر چلے گئے تھے،جنہوں نے تیروں سے مرتدین کو دور رکھا اور براءؓ بن مالک نے دروازہ کھول دیا۔اس پر تمام مؤرخ متفق ہیں کہ سب سے پہلے براءؓ بن مالک دیوار پھاند کر اندر گئے تھے۔دروازہ کھلتے ہی مسلمان اس طرح دروازے میں سے اندر جانے لگے جیسے نہر کا کنارا کہیں سے ٹوٹ گیا ہو۔بہت سے مسلمان خالدؓ کے کہنے پر دیوار پر چڑھ گئے یہ سب تیر انداز تھے انہوں نے بنو حنیفہ پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔ مسلمان جو اند رچلے گئے تھے وہ بنو حنیفہ پر قہر کی مانند ٹوٹے۔مرتدین کا قتلِ عام ہونے لگا ۔ان کے بھاگ نکلنے کے راستے مسدود ہو چکے تھے وہ اب زندہ رہنے کیلئے لڑ رہے تھے۔ ان کا نبی خواہ جھوٹا ہی تھا ان کے ساتھ تھا۔اس کی للکار سنائی دے رہی تھی اور وہ بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے۔
مرتدین کی تعداد بہت زیادہ تھی جو بڑی تیزی سے کم ہوتی جا رہی تھی ۔باغ خون سے سیراب ہو رہا تھا ۔خالدؓ کے ذہن میں یہی ایک ارادہ تھا کہ مسیلمہ کو قتل کیا جائے ورنہ لڑائی ختم نہیں ہوگی لیکن مسیلمہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔مسیلمہ کذاب خالدؓ کو تو نظر نہیں آ رہا تھا ایک اور انسان تھا جس کی عقابی نگاہوں نے مسیلمہ کو دیکھ لیاتھا۔ وہ حبشی غلام وحشی ؓبن حرب تھے۔برچھی نشانے پر پھینکنے میں وحشی کا
مقابلہ کرنے والا کوئی نہ تھا۔اس نے ایک بار اپنی برچھی کا کمال سب کو دکھایا تھا ۔ایک رقاصہ کے سر پر ایک کڑا جوکانچ کے اوسط سائز کا تھا اس کے بالوں کے ساتھ اس طرح باندھ دیا گیا تھا کہ کڑا اس کے سر پر کھڑا تھا۔ وہ ناچنے لگی اور وحشی برچھی لے کر چند قدم دور کھڑا ہو گیا۔ اس نے برچھی ہاتھ میں اٹھاکر تولی ،رقاصہ رقص کر رہی تھی ۔جونہی رقاصہ موزوں زاویہ پر آئی ،وحشی نے تاک کر برچھی پھینکی،برچھی رقاصہ کے سر پر کھڑے کڑے میں سے گزر گئی۔جنگِ احد میں وحشی بن حرب نے رسول کریمﷺ کے چچا حمزہ ؓبن عبدالمطلب کو اسی طرح برچھی پھینک کر شہید کیا اور ابو سفیان کی بیوی ہند سے انعام وصول کیاتھا۔اس وقت وحشی مسلمان نہیں ہوا تھا۔فتحِ مکہ کے بعد اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اب مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں وحشی ؓمسلمانوں کے لشکر میں تھا۔ باغ کے خونریز معرکے میں اس نے مسیلمہ کو دیکھ لیا تھا۔ اس نے خالدؓ کی زبان سے سن لیا تھا کہ مسیلمہ کوختم کیے بغیر لڑائی ختم نہیں ہو گی۔وحشیؓ مسیلمہ کی تلاش میں دشمن کی تلواروں اور برچھیوں سے اور اپنے ساتھیوں کے تیروں سے بچتا، لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں سے ٹھوکریں کھاتا سارے باغ میں گھوم گیا اوراسے مسیلمہ نظر آگیا۔مسیلمہ اپنے محافظوں کے نرغے میں تھا جو اس قدر جانبازی کامظاہرہ کر رہے تھے کہ کسی مسلمان کوقریب نہیں آنے دیتے تھے۔وحشی کو قریب جانے کی ضرورت نہیں تھی ۔مسلمان مسیلمہ کے محافظوں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور ان کے اردگرد وحشیؓ گھوم رہا تھا کہ مسیلمہ پر برچھی پھینکنے کا موزوں موقع اور صحیح زاویہ مل جائے۔ اسے ایک موقع مل گیا۔لیکن اس کے راستے میں ایک خاتون اُم عمارہ ؓآ گئیں وہ بھی مسیلمہ تک پہنچنے کی سعی کر رہی تھیں ۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تھیں۔ وہ مسیلمہ کے محافظوں کا حصار توڑنے کیلئے آگے بڑھیں تو ایک مرتد کی تلوار نے انہیں روک لیا ۔اُم عمارہ ؓنے اپنی تلوار سے اسے گرانے کی بہت کوشش کی لیکن مرتد کے ایک وار نے اُم عمارہ ؓکا ایک ہاتھ صاف کاٹ دیا ۔ان کے بیٹے نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس مرتد کو مار گرایا اور یہ مجاہد اپنی ماں کو ساتھ لے گیا ۔ وحشیؓ کو موقع اور زاویہ مل گیا۔ اس نے برچھی کو ہاتھ میں تولا اور تاک کرپوری طاقت سے برچھی مسیلمہ پر پھینکی ۔برچھی مسیلمہ کے پیٹ میں اتر گئی ۔اس کے ہاتھوں نے برچھی کو پکڑ لیا لیکن برچھی اپنا کام کر چکی تھی۔ مسیلمہ کے ہاتھوں میں برچھی کو پیٹ سے نکالنے کی سکت نہیں تھی ۔مسیلمہ گرا ،اسے مرنا ہی تھا۔لیکن ابو دجانہؓ نے اسے تڑپ تڑپ کر مرنے کی اذیت سے اس طرح بچا لیا کہ اس کا سرتلوار کے ایک زور دار وار سے اس کے دھڑ سے الگ کر دیا۔ابو دجانہؓ مسیلمہ کی سر کٹی لاش ابھی دیکھ ہی رہے تھے کہ مسیلمہ کے ایک محافظ نے پیچھے سے اتنا سخت وار کیا کہ ابو دجانہؓ گرے پھر اٹھ نہ سکے اور شہید ہو گئے۔’’بنو حنیفہ……‘‘ ایک مرتد گلا پھاڑ کر چلایا۔’’ہمارے نبی کو ایک سیاہ فام حبشی نے مار ڈالا ہے ۔‘‘مشہور مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ باغ کے اندر معرکے کی خونریزی میں یہ آوازیں سنائی دینے لگیں ۔’’نبی مارا گیا۔مسیلمہ قتل ہو گیا ہے۔‘‘ مسیلمہ کذاب کے قتل کا سہرا بلا شک و شبہہ وحشی ؓبن حرب کے سر ہے۔ وحشی ؓکی زندگی عجیب گزری ہے۔ بتایا جا چکا ہے کہ اس نے بالکل اسی طرح جس طرح اس نے مسیلمہ کو برچھی کھینچ کر قتل کیا تھا ،حمزہؓ کو جنگِ احد میں شہید کیا تھا۔جب مسلمانوں نے مکہ فتح کرلیا تو رسول اﷲﷺ نے مکہ کے چند لوگوں کو جنگی مجرم قرار دیا تھاان میں وحشی کا نام بھی تھا۔اسے کسی طرح پتا چل گیا تھا کہ اسے مسلمان زندہ نہیں رہنے دیں گے وہ مکہ سے نکل گیا اور طائف میں قبیلہ ثقیف کے ہاں جا پناہ لی۔قبیلہ ثقیف کو مسلمانوں نے جس طرح شکست دی تھی وہ بیان ہو چکا ہے ،اس قبیلے نے اسلام قبول کیا اور وحشی ؓنے بھی اسلام قبول کر لیااور بیعت کیلئے اور اپنی جان بخشی کیلئے رسولِ کریمﷺ کے حضور گیا ۔آپﷺ نے اسے کئی بر س پہلے دیکھا تھا۔۔
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر23
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment