*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر -&65 )*
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے گھر گئے.
اپنی ایک خادمہ سے کہاکہ وہ یوحاوہ یہودن کو بلا لائے۔یوحاوہ اتنی جلدی اس کے پاس آئی جیسے وہ اس کے بلاوے کے انتظار میں قریب ہبیٹھی تھی۔’’تم نے مسلمانوں کو کامیابی سے دھوکا دیا ہے۔‘‘خالد نے یوحاوہ سے کہا۔’’ اورمغیث کے قبیلے کے لوگ تمہیں جادوگرنی کہنے لگے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ مجھے پسند نہیں آیا۔‘‘’’میری بات غور سے سنو خالد !’’تم اپنے قبیلے کے نامور جنگجو ہو لیکن تم میں عقل کی کمی ہے۔ دشمن کو مارناہے ۔تلوار سے مارو اور اسے تیکھی نظروں سے ہلاک کر دو، تیر اور تلوار چلائے بغیر دشمن کو کوئی مجھ جیسی عورت ہی مار سکتی ہے۔ آج چار برس بعد وہ جب صحرا میں تنہا جا رہا تھا۔ تو یوحاوہ کی باتیں اُسے یاد آ رہی تھیں۔ اس حد تک تو وہ خوش تھا کہ یہودی ان کے ساتھ تھے لیکن اسے یہ بھی معلوم تھاکہ یہودیوں کی دوستی میں جہاں مسلمانوں کی دشمنی ہے وہاں ان کے اپنے مفادات بھی ہیں ۔البتہ ا س نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ یوحاوہ اگر جادوگرنی نہیں تو اس کے سراپا میں جادوکا کوئی اثر ضرور ہے۔خالد کا گھوڑا مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا ۔ اس کے ذہن میں پھر خبیب ؓبن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ آگئے۔ لوگ ان کی بولیاں بڑھ بڑھ کر دے رہے تھے۔ آخر سودا ہو گیا اور قریش کے دو آدمیوں نے انہیں بہت سے سونے کے عوض خرید لیا۔ یہ دونوں آدمی ان دونوں صحابیوںؓ کو ابو سفیان کے پاس لے گئے ۔’’ہم نے اپنے عقیدے سے ہٹ کر محمد )ﷺ(کے پاس چلے جانے والے ان دو آدمیوں کو اس لئے خریدا ہے کہ ان اہلِ قریش کے خون کا انتقام لیں جو احد کے میدان میں مارے گئے تھے۔‘‘ انہیں خریدنے والوں نے کہا ۔’’ہم انہیں آپ کے حوالے کرتے ہیں ۔آپ قریش کے سردار و سالار ہیں
۔‘‘’’ہاں!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’مکہ کی زمین مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے ۔ان دو مسلمانوں کا خون اپنی زمین کو پلا دو۔لیکن مجھے یاد آ گیا ہے کہ یہ مہینہ جو گزر رہا ہے ہمارے دیوتاؤں عزیٰ اور ہبل کا مقدس مہینہ ہے ۔یہ مہینہ ختم ہو لینے دو ۔اگلے دن انہیں کھلے میدان میں لے جا کر لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ باندھ دینا اور مجھے بلا لینا۔‘‘خالد نے جب ابو سفیان کا یہ حکم سنا تو وہ اس کے پاس گیا۔ ’’مجھے آپ کا یہ فیصلہ اچھا نہیں لگا ۔‘‘خالد نے ابو سفیان سے کہا ۔’’ہم دگنی اور تگنی تعداد میں ہوتے ہوئے اپنی زمین کو مسلمانوں کا خون نہیں پلا سکے تو ہمیں حق حاصل نہیں کہ دو مسلمانوں کو دھوکے سے یہاں لا کر ان کا خون بہایا جائے ۔ابو سفیان کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو دھوکا دینے والی تین چار عورتیں تھیں ؟کیا آپ اپنے دشمن سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ اہلِ قریش اب عورتوں کی آڑ میں بیٹھ گئے ہیں؟‘‘
’’خالد!‘‘ ابو سفیان نے با رعب لہجے میں کہا۔’’ خبیب اور زید کو میں بھی اتنا ہی اپنے قریب سمجھا کرتا تھا جتنا تم انہیں اپنے قریب سمجھتے تھے ۔تم اب بھی انہیں اپنے قریب سمجھ رہے ہو ؟اور یہ بھول رہے ہو کہ اب یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اگر تم انہیں آزاد کرانا چاہتے ہو تو لاؤ اس سے دگنا سونا لے آؤ اور ان دونوں کو لے جاؤ۔‘‘ ’’نہیں!‘‘ پردے کے پیچھے سے ایک گرجدار نسوانی آواز آئی۔ یہ ابو سفیان کی بیوی ہند کی آواز تھی ۔اس نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’ حمزہ کا کلیجہ چبا کر بھی میرے سینہ میں انتقام کی آگ سرد نہیں ہوئی ہے ۔اگر ساری دنیا کا سونا بھی میرے آگے لا رکھو گے تو بھی میں ان دو مسلمانوں کو آزاد نہیں کروں گی۔‘‘’’ابو سفیان !‘‘خالد نے کہا
اگر میری بیوی میری بات کے درمیان یوں بولتی تو میں اس کی زبان کھینچ لیتا۔‘‘’’تم اپنی بیوی کی زبان کھینچ سکتے ہو؟‘‘ہند کی آواز آئی۔’’ تمہارا باپ نہیں مارا گیا تھا۔ تمہارا کوئی بیٹا نہیں مارا گیا اور تمہارا چچا بھی نہیں مارا گیا۔ایک بھائی قید ہوا تھا اور تم مسلمانوں کے پاس جا کر منہ مانگا فدیہ دے کر اپنے بھائی کو چھڑا لائے ۔آگ جومیرے سینہ میں جل رہی ہے تم اس کی تپش سے نا آشنا ہو۔‘‘خالد نے ابو سفیان کی طرف دیکھا ۔ابو سفیان کے چہرے پر جہاں مردانہ جاہ و جلال اور ایک جنگجو سردار کا تاثر تھا۔ وہاں ایک خاوند کی بے بسی کی جھلک بھی تھی۔ ’’ہاں خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’جس کے دل پر چوٹ پڑتی ہے ا سکے خیالات تم سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔کسی کو اپنا دشمن کہنا کچھ اور بات ہے لیکن اپنے دشمن کو پنے کسی عزیز کا خون بخش دینا بڑی ہی ناممکن بات ہے۔ تم کس کس کو قائل کرو گے کہ وہ ان دو مسلمانوں کی جان بخشی کر دے؟تم جاؤ خالد۔ ان دو مسلمانوں کو اپنے قبیلے کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔‘‘خالد خاموشی سے واپس چلا گیا۔پھر خالد کو وہ بھیانک منظر یاد آیا جب باہر میدان میں لکڑی کے دو کھمبوں کے ساتھ خبیبؓ اور زیدؓبندھے کھڑے تھے۔ تماشائیوں کا چیختا چلاتا ہوا ہجوم اکھٹا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے ابو سفیان اور ہند گھوڑوں پر سوار ہجوم میں داخل ہوئے ۔ہجوم کے نعرے اور انتقامی نعرے پہلے سے زیادہ بلند ہو گئے۔ اگر اس ہجوم میں کوئی خاموش تھا تو صرف خالد تھا۔
ابو سفیان گھوڑے پر سوار دونوں قیدیوں کے قریب گیا اور دونوں نے اسے کہا کہ’’ وہ زندگی کی آخری نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے انہیں اجاز ت دے دی ۔خالد اب مدینہ کی طرف جا رہا تھا۔ اسے جب وہ منظر یاد آیا کہ دونوں قیدیوں کے ہاتھ کھول دیئے گئے اور وہ قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔خالدپر اس وقت جو اثر ہوا تھا وہ اب چار برس بعد اس کی ذات سے ابھر آیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے خالد کا سر جھک گیا ۔خبیبؓ بن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ ہجوم کی چیخ و پکار سے لا تعلق پنی موت سے بے پرواہ خدا کے حضور رکوع و سجود میں محوَ تھے۔ انہوں نے نہایت اطمینان سے نماز پڑھی ۔دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ کوئی نہی بتا سکتا، تاریخ بھی خاموش ہے کہ انہوں نے خدا سے کیا دعا مانگی؟ انہوں نے خدا سے یہ نہیں کہا ہوگا کہ دشمن انہیں آزاد کردے۔وہ اٹھے اورخود ہی لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ پیٹھیں لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ’’او بد قسمت انسانو! ‘‘ابو سفیان نے بڑی بلند آواز سے خبیبؓ اور زیدؓ سے کہا۔’’ تمہاری قسمت اور زندگی میرے ہاتھ میں ہے۔ا پنی زبانوں سے کہہ دو کہ ہم اسلام کو ترک کرتے ہیں اور اب ہم اہلِ قریش میں سے ہیں اور تین سو ساٹھ بتوں کو برحق مانتے ہیں ۔یہ اعلان کر دو اور اپنی زندگیاں مجھ سے واپس لو۔اگر نہیں تو موت کو گلے لگاؤ۔یہ بھی سوچ لو کہ تمہاری موت سہل نہیں ہو گی۔‘‘’’اے باطل کے پجاری ابو سفیان!‘‘زیدؓ کی آواز گرجی۔ ’’ہم لعنت بھیجتے ہیں پتھر کے ان بتوں پر جو اپنے اوپر بیٹھی ہوئی مکھی کوبھی نہیں اڑا سکتے۔ ہم لعنت بھیجتے ہیں عزیٰ اور ہبل پر جو تمہیں اگلے جہان دوزخ کی آگ میں پھینکیں گے۔ ہم پجاری ہیں اس ایک اﷲ کے جو رحمٰن اور رحیم ہے اور ہم عاشق ہیں محمد )ﷺ(کے جو اﷲکے رسول ہیں۔‘‘ ’’میرا رستہ وہی ہے جو زید نے تمہیں دِکھا دیا ہے۔‘‘ خبیب نے بلند آواز سے کہا۔’’اے اہلِ مکہ !سچا وہی ہے جس کے نام پر ہم قربان ہو رہے ہیں۔ ہمیں نئی زندگی ملے گی جواس زندگی سے بہت زیادہ حسین اور مقدس ہو گی۔‘‘’’باندھ دو انہیں ان کھبوں کے ساتھ ۔‘‘ابو سفیان نے حکم دیا۔ ’’یہ موت کا ذائقہ چکھنے کے مشتاق ہیں ۔‘‘دونوں کے ہاتھ پیچھے کرکے کھمبوں کے ساتھ جکڑ دیئے گئے ۔ابو سفیان نے گھوڑا موڑا اور ہجوم کی طرف آیا۔
’’عزیٰ اور ہبل کی قسم! ‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے ہجوم سے کہا۔’’ میں نے اپنے قبیلے میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں دیکھا جو اپنے سردار پر اس محبت اور ایثار سے جان قربان کرنے کیلئے تیار ہو۔جس طرح محمد)ﷺ( کے پیروکار اس کے نام پر فدا ہوتے ہیں ۔‘‘ہند اپنے گھوڑے پر سوار کچھ دور کھڑی تھی۔ اس کے قریب اس کے چند ایک غلام کھڑے تھے۔ ایک غلام نے اپنے آقاؤ ں کو خوش کرنے کیلئے جوش کا ایسا مظاہرہ کیا کہ برچھی تان کر دونوں قیدیوں کی طرف کسی کے حکم کے بغیر بڑی تیز دوڑا اور کھمبے سے بندھے زیدؓ کے سینے پر برچھی کااتنا زور داروار کیا کہ برچھی کی انی زید کی پیٹھ سے باہر نکل گئی۔ زیدؓ بن الدثنہ فوراً شہید ہو گئے۔اس غلام نے سینہ تان کر ہجوم کی طرف خراجِ تحسین کی توقع پر دیکھا لیکن ہجوم کچھ اور ہی قسم کا شور بلند کرنے گا ۔تماشائی کہتے تھے کہ’’ یہ کوئی تماشا نہیں ہوا ۔یہ مسلمان اتنی سہل موت کے قابل نہیں ۔ہمیں کوئی تماشا دِکھاؤ۔‘‘’’ قتل کر دو اس غلام کو جس نے ایک مسلمان پر اتنا رحم کیا ہے کہ اسے اتنی جلدی مار ڈالا ۔‘‘ہند نے دبی آواز میں کہا ۔کئی آدمی تلواریں اور برچھیاں لہراتے اس غلام کی طرف دوڑے لیکن بہت سے آدمی دوڑ کر ان آدمیون اور غلام کے درمیان آ گئے۔ ’’خبردار! پیچھے کھڑے رہو۔‘‘ ایک آدمی نے جو گھوڑے پر سوار تھا للکار کر کہا ۔’’عربی خون اتنا بزدل نہیں کہ دو آدمیوں کو باندھ کر مارنے کیلئے قریش کاپورا قبیلہ اکھٹا ہو گیا ہے ۔خداکی قسم! ابو سفیان کی جگہ اگرمیں ہوتا تو ان دونوں آدمیوں کو آزاد کر دیتا۔ یہ ہمارا خون ہیں اور یہ ہمارے مہمان ہیں ۔ہم ان سے میدان ِجنگ میں لڑیں گے۔یہ خالد تھا ۔‘‘’’یہ ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ ہجوم میں سے کئی آوازیں سنائی دیں ۔’’دشمن کو باندھ کر مارنا عرب کی روایت کے خلا ف ہے۔‘‘تماشائیوں کے ہجوم میں سے بے شمار آوازیں ایسی سنائی دے رہی تھیں جو کہتی تھیں کہ ’’ہم تماشا دیکھیں گے۔ ہم دشمن کواس طرح ماریں گے کہ وہ مر مر کے جیئے۔‘‘تھوڑی دیر بعد تماشائیوں کا ہجوم دو حصوں میں بٹ گیا کہ ایک گروہ خبیبؓ کے قتل کے خلاف تھا اسے وہ عرب کی روایتی بہادری کے منافی سمجھتا تھا اور دوسرا گروہ خبیبؓ کو تڑپا تڑپا کہ مارنے کے نعرے لگا رہا تھا۔خالد نے جب اہلِ مکہ کو اور دور دور سے آئے ہوئے تماشائیوں کو اس طرح ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا تو وہ دوڑتاہوا ابو سفیان تک گیا۔
محمد یحیٰ سندھو
+971551707391
’’دیکھ لیا ابو سفیان!‘‘خالد نے کہا ۔’’دیکھ لیں ۔یہاں میرے کتنے حامی ہیں ،ایک کو مار دیا ہے دوسرے کو چھوڑ دیں ورنہ اہلِ قریش آپس میں ٹکرا جائیں گے ۔‘‘ہند نے خالد کو ابو سفیان کے پاس کھڑے دیکھا تو وہ سمجھ گئی کہ خالد بھی خبیبؓ کی رہائی کا حامی ہے۔ ہند نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ان دونوں کے پاس جا پہنچی۔’’خالد!‘‘ہند نے سخت بپھری ہوئی آواز میں کہا۔’’ میں جانتی ہوں تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم ابو سفیان کو اپنا سردار نہیں مانتے؟اگر نہیں تو یہاں سے چلے جاؤ۔ میں نے جو سوچاہے وہ ہو کر رہے گا۔ ‘‘’’خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ا گر تم سمجھتے ہو کہ میرا حکم ا ور میرے ارادے صحیح نہیں تو بھی مجھے ان پر عمل کر نے دو۔اگرمیں نے اپنا حکم واپس لے لیا تو یہ میری کمزوری ہو گی۔ پھر لوگ میرے ہر حکم پر یہ توقع رکھیں گے کہ میں اپنا حکم واپس لے لوں۔‘‘خالد کو آج مدینہ کے راستے میں یاد آ رہا تھا اور اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے ابو سفیان کا حکم مان لیا تھا ۔خالد کی خوبیوں میں سب سے بڑی خوبی نظم و نسق اور اپنے سردار کی اطاعت تھی۔اس نے اپنے سینے پر پتھر رکھ کر صرف اس لئے ابوسفیان کا حکم مان لیا تھاکہ اہلِ قریش میں حکم عدولی کی روایت قائم نہ ہو۔’’اے اہلِ مکہ!‘‘ ابو سفیان نے دو گروہوں میں بٹے ہوئے تماشائیوں سے بلند آواز میں کہا۔’’ا گر آج یہاں دو مسلمانوں کے قتل پرہم یوں بٹ گئے تو ہم میدانِ جنگ میں بھی کسی نہ کسی مسئلے پربٹ جائیں گے اور فتح تمہارے دشمن کی ہو گی۔ اگر اپنے سردار کی اطاعت سے یوں انحراف کرو گے تو تمہارا انجام بہت برا ہو گا۔‘‘ ہجوم کا شورور غوغا کم ہو گیا لیکن خالد نے دیکھا کہ اہلِ مکہ کے کئی ایک سردار چہروں پر نفرت کے آثار لیے واپس گھروں کو جا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر بہت سے لوگ بھی جو تماشا دیکھنے آئے تھے واپس چلے گئے۔ خالد وہاں نہیں رکنا چاہتا تھا لیکن وہ خطرہ محسوس کر رہا تھا کہ دونوں گروہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ اس کے اپنے قبیلے کے زیادہ تر لوگ تماشائیوں میں موجود تھے وہ کم از کم اپنے قبیلے کو اپنے قابو میں رکھ سکتا تھا ۔ہند نے تماشے کا پورا انتظام کر رکھا تھا۔ اس کے اشارے پر چالیس کم سن لڑکے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں، دوڑتے اور چیختے چلاتے ہوئے تماشائیوں میں سے نکلے اور خبیبؓ کے اردگرد ناچنے اور چیخنے چلانے لگے۔
دو چار لڑکے برچھیاں تانے ہوئے خبیبؓ تک جاتے اوردوڑ کر خبیبؓ پر وار کرتے تھے لیکن خبیبؓکو گزند پہنچائے بغیر ہاتھ روک لیتے ،خبیب ؓبدکتے اور نعرہ لگاتے تھے۔ ’’میرا خدا سچا ہے اورمحمد)ﷺ( خدا کے رسول ہیں۔‘‘ چند اور لڑکے اس طرح برچھیاں تان کران پر ہلہ بولتے جیسے خبیبؓ کے جسم کو چھلنی کر دیں گے لیکن وار کرکے وار روک لیتے۔ خبیب ؓکے بدکنے پر تماشائیوں کا ہجوم دادوتحسین کے نعرے اور قہقہے لگاتا ۔لڑکوں کا یہ کھیل کچھ دیر جاری رہا اس کے بعد لڑکوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ برچھی کا وار بڑی زور سے کرتے لیکن خبیبؓ کے جسم پر اتنا سا وار لگتا کہ برچھیوں کی انّیاں کھال میں ذرا سی اتر کر پیچھے جاتیں۔ بہت دیر تک یہی کھیل چلتا رہا۔ تماشائی دادوتحسین کے نعرے اور خبیبؓ اﷲ اکبر اور محمد رسول اﷲ)ﷺ(کے نعرے بلند کرتے رہے۔خبیبؓ کے کپڑے خون سے لال ہو چکے تھے ۔ابو جہل کا بیٹا عکرمہ ہاتھ میں برچھی لیے ان لڑکوں کے پاس جا پہنچا اور انہیں ہدایات جاری کرنے لگا ۔لڑکے اب اپنی برچھیاں خبیب ؓکے جسم میں چبھو رہے تھے ۔وہ گول دائرے میں گھومتے اور ناچتے تھے۔ خبیبؓ کے جسم کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ رہا جہاں برچھی نہ چبھی ہو اور وہاں سے خون نہ ٹپک رہا ہو۔ ان کے چہرے پر بھی برچھیاں ماری گئیں ۔جب بہت دیر گزر گئی اور لڑکے ناچ ناچ کر اور برچھیاں چبھو چبھو کر تھک گئے تو عکرمہ نے لڑکوں کو وہاں سے ہٹا لیا۔ خبیبؓ خون میں نہائے ہوئے تھے اور ابھی زندہ تھے۔ اورہر طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے نعروں میں کمی نہیں آئی تھی۔ عکرمہ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور برچھی تان کر خبیبؓ کے سینے امیں اتنی زور سے ماری کہ فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے برچھی خبیب ؓکے جسم سے پار ہو گئی۔ خبیبؓ شہید ہو گئے۔‘‘ ’’ان کی لاشیں یہیں بندھی رہنے دو ۔‘‘ہند کی گرجدار آواز سنائی دی۔ ’’اب کئی دن ان کی لاشوں کے گلنے سڑنے کا تماشا دیکھتے رہو۔‘‘یہ واقعہ جولائی ۶۲۵ء کا تھا۔جو خالد کو یاد آ رہا تھا ۔اس نے اپنے دل میں درد کی ٹیس محسوس کی۔خبیبؓ اور زیدؓ کے قتل نے قریش کے سرداروں میں اختلاف کا بیج بو دیا تھا۔ جس طرح ان دو مسلمانوں نے آخری وقت نماز پڑھی اور اسلام سے نکل آنے پر موت کو ترجیح دی تھی۔ اس نے قریش کے کئی سرداروں پرگہرا اثر چھوڑا تھا ۔خود خالد نے اگر اسلام کی نہیں تو خبیبؓ اور زیدؓ کی دل ہی دل میں بہت تعریف کی تھی۔
ابوسفیان اور اس کی بیوی ہند کے خلاف اس کے دل میں نا پسندیدگی پیدا ہو گئی تھی۔’’ جنگجوؤں کا شیوہ نہیں تھا۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا ۔’’یہ جنگجوؤں کو زیب نہیں دیتا ۔‘‘ایک روز وہ ان سرداروں کی محفل میں بیٹھا تھا جو رسولِ خدا ﷺ کے ان دو اصحابؓ کے قتل کے خلاف تھے ۔’’کیا تم سب جانتے ہو کہ مارے جانے والے یہی دو نہیں بلکہ چھ مسلمان تھے۔‘‘خالد نے پوچھا۔’’ہاں!‘‘ ایک نے جواب دیا۔’’ یہ شارجہ بن مغیث کا کام ہے ۔وہ ان چھ مسلمانوں کو دھوکے سے پھندے میں لایاتھا۔‘‘’’اوراس کے پیچھے مکہ کے یہودیوں کا دماغ کام کر رہا ہے۔‘‘ خالد نے کہا ۔’’اور اس میں یوحاوہ یہودن نے دوتین اور یہودی لڑکیاں ساتھ لے جا کر اپنے اور ان کے حسن کا جادو چلایا۔یوحاوہ جادوگرنی ہے۔‘‘ایک سردار نے کہاکہ’’ بھائی کو بھائی کے ہاتھوں ذبح کرا سکتی ہے۔ کیا یہ خطرہ نہیں کہ یہودی ہمیں بھی ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں گے ۔‘‘کسی اور سردار نے کہا۔’’ نہیں ۔‘‘ایک بوڑھا سردار بولا۔’’ وہ محمد کے اتنے ہی دشمن ہیں جتنے ہم ہیں ۔یہودیوں کامفاد اس میں ہے کہ وہ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی اتنی پکی اور اتنی شدید کر دیں کہ ہم مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیں ۔‘‘’’ہمیں یہودیوں پر شک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ایک سردار نے کہا۔’’ بلکہ ضرورت یہ ہے کہ ہم یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف زمین کے نیچے استعمال کریں ۔‘‘لیکن ایسے نہیں جیسے شارجہ نے کیا ۔خالد نے کہا ور ایسے بھی نہیں کہ جیسے ابو سفیان اور اس کی بیوی نے کیا ’’کیا تم سب جانتے ہو کہ یوحاوہ مکہ کے چند ایک یہودیوں کے ساتھ مدینہ چلی گئی ہے؟‘‘ بوڑھے سردار نے پوچھا ۔اور خود ہی جواب دیا۔’’ وہ مدینہ اور اردگرد کے یہودیوں اور دوسرے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف ابھاریں گے ۔اسلام کے فروغ سے وہ لوگ خود خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ اگر محمد)ﷺ( کا عقیدہ پھیلتا چلا گیا تو اور میدانِ جنگ میں محمد )ﷺ(کے پیروکاروں کا جذبہ یہی رہا تو جو ہم دیکھ چکے ہیں تو خدائے یہودہ کا سورج غروب ہو جائے گا۔‘‘ ’’لیکن یہودی لڑنے والی قوم نہیں ۔‘‘خالد نے کہا ۔’’وہ میدانِ جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دی سکتی۔‘‘’’مسلمانوں کیلئے وہ میدانِ جنگ میں زیادہ مہلک ثابت ہوں گے۔‘‘ ایک اور سردار نے کہا۔’’ وہ اپنی یوحاوہ جیسی دل کش لڑکیوں کے ذریعے مسلمان سرداروں اور سالاروں کو میدانِ جنگ میں اترنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
یوحاوہ کا کردار خالد بھلا نہیں پا رہا تھا اور چار برس پرانی باتیں اسے سنائی دے رہی تھیں ۔وہ مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا اور احد کی پہاڑی اوپر اٹھتی چلی آ رہی تھی ۔پھر یہ پہاڑی اس کی نظروں سے اوجھل ہونے لگی۔اس کا گھوڑا گھاٹی اتر رہا تھا۔ یہ کوئی ایک میل لمبا اور ڈیڑھ دو فرلانگ چوڑا نشیب تھا۔ اس میں کہیں کہیں مخروطی ٹیلے کھڑے تھے۔ یہ ریتیلی مٹی کے تھے ۔خالد کو دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے چونک کراُدھر دیکھا اور اس کاہاتھ تلوار کے دستے پر چلا گیا ۔وہ چار پانچ غزال تھے جو اس سے نیچے دوڑتے جا رہے تھے ۔کچھ دور جا کرایک غزال نے دوسرے غزال کے پہلو میں ٹکرماری پھر دونوں غزال آمنے سامنے آ گئے اور ان کے سر ٹکرانے لگے ۔دوسرے غزال انہیں دیکھنے رک گئے۔’’اتنے خوبصورت جانور آپس میں لڑتے اچھے نہیں لگتے۔‘‘ خالدانہیں دیکھتا رہا ۔ایک تماشائی غزال نے خالد کے گھوڑے کو دیکھ لیا۔ا س نے گردن تانی اور کھر زمین پر مارا۔ لڑنے والے غزال جہاں تھے وہیں ساقط و جامد ہو گئے اور پھر تمام غزال ایک طرف بھاگ کھڑے ہوئے اور خالدکی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔قریش کے سردار دو گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کی آپس میں دشمنی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن پیار محبت اتحاد والی پہلی سی بات بھی نہیں رہی تھی۔خالد کو یاد آ رہا تھاکہ سب ابو سفیان کی سرداری اور سالاری کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن کھچاؤ سا پیدا ہو گیا تھا۔
محمد یحیٰ سندھو
+971551707391
جب اتحاد کی ضرورت تھی اس وقت اہلِ قریش نفاق کے راستے پر چل نکلے تھے۔ خالد کو یہ صورت حال سخت ناگوار گزرتی تھی۔’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپس کا نفاق دشمن کو تقویت دیا کرتا ہے؟‘‘خالد نے ایک روز ابو سفیان سے کہا تھا ۔’’کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس نفاق کو اتفاق میں کس طرح بدلہ جا سکتا ہے ؟‘‘’’بہت سوچا ہے خالد!‘‘ابو سفیان نے اکتائے ہوئے سے لہجے میں کہا تھا۔’’ بہت سوچا ہے۔ سب مجھے پہلے کی طرح ملتے ہیں لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض کے دل صاف نہیں ۔کیا تم کوئی صورت پیدا کر سکتے ہو کہ دلوں سے مَیل نکالا جائے؟‘‘ ’’ہاں! میں نے ایک صورت سوچ رکھی ہے ‘‘۔خالد نے کہا تھا۔ ’’میں یہی تجویز آپ کے سامنے لا رہا تھا ،جن سرداروں کے دلوں میں میل پیدا ہوگئی ہے وہ اب سمجھنے لگے ہیں کہ ہم نام کے جنگجو رہ گئے ہیں اور ہم نے مسلمانوں کا ڈر اپنے دلوں میں بٹھا لیا ہے ۔شارجہ نے چھ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اور ان میں سے دو کو آپ کے ہاتھوں مروا کر ہماری شکل و صورت ہی بدل ڈالی ہے۔
۔اس کا علاج یہ ہے کہ ہم مدینہ پر حملہ کریں یا مسلمانوں کو کہیں للکاریں اور ثابت کر دیں کہ ہم جنگجو ہیں اور ہم مسلمانوں کو ختم کر کے ہی دم لیں گے۔
’’ہمارے پاس جواز موجود ہے۔‘‘ابو سفیان نے کہا تھا۔’’ میں نے اُحد کی لڑائی میں آخر میں محمد )ﷺ(کو للکار کر کہا تھا کہ تم نے بدر میں ہمیں شکست دی تھی۔ ہم نے احد کی پہاڑی کے دامن میں انتقام لے لیا ہے ۔میں نے محمد سے یہ بھی کہا تھا کہ قریش کے سینوں میں انتقام کی آگ جلتی رہے گی ۔ہم اگلے سال تمہیں بدر کے مقام پر للکاریں گے۔‘‘’’ہاں! مجھے یاد ہے ۔‘‘خالد نے کہا۔’’ ادھر سے عمر کی آواز آئی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ ہمارے اﷲ نے چاہا تو ہماری اگلی ملاقات بدر کے میدان میں ہی ہو گی۔‘‘’’آواز تو عمر کی تھی،الفاظ محمد )ﷺ(کے تھے۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’محمد)ﷺ( بہت زخمی تھا۔ وہ اونچی آواز میں بول نہیں سکتا تھا۔ میں محمد)ﷺ( کو پیغام بھیجتا ہوں کہ فلاں دن بدر کے میدان میں آجاؤ اور اپنے انجام کو پہنچو۔‘‘دونوں نے ایک دن مقرر کر لیا اور فیصلہ کیا کہ کسی یہودی کو مدینہ بھیجا جائے۔دوسرے ہی دن ابو سفیان نے قریش کے تمام سرداروں کو اپنے ہاں بلایا اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں کو بدر کے میدان میں للکار رہا ہے۔ قریش یہی خبر سننے کے منتظر تھے۔ انہیں اپنے عزیزوں کے خون کا انتقام لینا تھا۔ان کے دلوں میں رسول اﷲﷺ کی نفرت بارود کی طرح بھری ہوئی تھی۔جوا یک چنگاری کی منتظر تھی۔وہ کہتے تھے کہ محمد )ﷺ(نے باپ بیٹے کو اور بھائی بھائی کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ابو سفیان کے اس اعلان نے سب کے دل صاف کر دیئے اور وہ جنگی تیاریوں کی باتیں کرنے لگے۔ایک دانشمند یہودی کو پیغام دیا گیا کہ وہ مدینہ جا کر نبی کریمﷺ کو دے کر جواب لے آئے۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ وہ اس روز کس قدر مطمئن اور مسرور تھا۔ قریش کے سرداروں کے دلوں میں جو تکدر پیدا ہو گیا تھا وہ صاف ہو گیا تھا ۔خالد بڑ ہانکنے والا آدمی نہیں تھا لیکن اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ رسولِ خداﷺ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے گا۔یہودی ایلچی جواب لے کر آ گیا۔رسول اﷲﷺ نے ابو سفیان کی للکار کو قبول کر لیا تھا۔لڑائی کا جو دن مقرر ہوا وہ مارچ ۶۲۶ء کا ایک دن تھا لیکن ہوا یوں کہ سردیوں کے موسم میں جتنی بارش ہوا کرتی تھی اس سے بہت کم ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ موسم تقریباً خشک گزر گیا اور مارچ کے مہینے میں گرمی اتنی زیادہ ہو گئی جتنی اس کے دو تین ماہ بعد ہوا کرتی تھی ۔ابو سفیان نے اس موسم کو لڑائی کیلئے موزوں نہ سمجھا۔اس یاد نے خالد کو شرمسار سا کر دیا۔وجہ یہ ہوئی تھی کہ ابو سفیان موسم کی گرمی کا بہانہ بنا رہا تھا۔ مشہور مؤرخ ابنِ سعد لکھتا ہے کہ ابو سفیان نے قریش کے سرداروں کو بلا کر کہا کہ وہ کوچ سے پہلے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس نے یہودیوں کی خدمات حاصل کیں اور انہیں خاصی اجرت دے کر تاجروں کے بھیس میں مدینہ بھیج دیا۔انہیں ابو سفیان نے یہ کام سونپا تھا کہ وہ مدینہ میں یہ افواہ پھیلائیں کہ قریش اتنی زیادہ تعداد میں بدر کے میدان میں آ رہے ہیں جو مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی
*#جاری_ہے*
بقیہ اگلی قسط نمبر ۶ میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر 6 )*
اس مؤرخ کے مطابق ،مدینہ میں اس افواہ کو سچ مانا گیا اور مسلمانوں کے چہروں پر اس کے اثرات بھی دیکھے گئے۔جب رسولِ کریمﷺ تک یہ افواہ پہنچی اور یہ اطلاع بھی کہ بعض مسلمانوں پر خوف و ہراس کے اثرات دیکھے گئے ہیں تو رسولِ کریمﷺ نے باہر آ کر لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا:’’کیا اﷲ کے نام لیوا صرف یہ سن کر ڈر گئے ہیں کہ قریش کی تعداد زیادہ ہو گی؟کیا اﷲسے ڈرنے والے آج بتوں کے پجاریوں سے ڈرگئے ہیں ؟اگر تم قریش سے اس قدر ڈر گئے ہو کہ ان کی للکار پر تم منہ موڑ گئے ہو تو مجھے قسم ہے خدائے ذوالجلال کی !جس نے مجھے رسالت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ میں بدر کے میدان میں اکیلا جاؤں گا۔‘‘رسولِ خداﷺ کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے لیکن رسالتِ مآبﷺ کے شیدائیوں نے نعروں سے آسمان کو ہلا ڈالا۔یہ سراغ نہ مل سکا کہ افواہ کس نے اڑائی تھی لیکن رسول اﷲ ﷺ کی پکار پر قریش کی پھیلائی ہوئی افواہ کے اثرات زائل ہو گئے اور مسلمان جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ دن تھوڑے سے رہ گئے تھے۔ کوچ کے وقت مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی۔ ان میں صرف پچاس گھوڑ سوار تھے۔جن یہودیوں کو افواہ پھیلانے کیلئے مدینہ بھیجا گیا تھا انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ’’ افواہ نے پہلے پورا کام کیا تھا لیکن ایک روز محمد)ﷺ( نے مسلمانوں کو اکھٹا کرکے چند ہی الفاظ کہے تو مسلمان بدر کو کوچ کیلئے تیار ہو گئے۔ان کی تعداد مدینہ میں ہماری موجودگی تک ڈیڑھ ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ہمارا خیال ہے کہ تعداد اس سے کم یا زیادہ نہیں ہو گی۔‘‘آج مدینہ کو جاتے ہوئے اس واقعہ کی یاد نے خالد کو اس لیے شرمسار کر دیا تھا کہ وہ اس وقت محسوس کرنے لگا تھا کہ ابو سفیان کسی نہ کسی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ خالد کو جب مسلمانوں کی تعداد کا پتا چلا تو وہ بھڑکا بپھرا ہوا ابو سفیان کے پاس گیا ۔’’ابو سفیان !‘‘خالد نے اسے کہا۔’’ سردار کی اطاعت ہمارا فرض ہے ۔میں اہلِ قریش میں سردار کی حکم عدولی کی روایت قائم نہیں کر نا چاہتا لیکن مجھے قریش کی عظمت کا بھی خیال ہے۔آپ اپنے رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قبیلہ قریش کی عظمت کا احساس مجھ میں اتنا زیادہ ہو جائے کہ میں آپ کے حکم اور رویہ کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔ ‘‘’’کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ میں نے یہودیوں کو مدینہ کیوں بھیجا تھا۔‘‘ ابو سفیان نے پوچھا۔’’ میں مسلمانوں کو ڈرانا چاہتا تھا۔‘
’ابو سفیان!‘‘ خالد نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے کہا۔’’ لڑنے والے ڈرا نہیں کرتے۔ کیا آپ نے مسلمانوں کو قلیل تعداد میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا؟ کیا آپ نے خبیب اور زید کو اہلِ قریش کی برچھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے لگاتے نہیں سناتھا؟ میں آپ سے صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ اپنی سرداری کا احترام کریں اور بدر کوچ کی تیاری کریں۔‘‘ دوسرے ہی دن مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ مسلمان مدینہ سے بدر کی طرف کوچ کر گئے ہیں ۔اب ابو سفیان کے کیلئے اس کے سوا اورکوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کوچ کاحکم دے ۔قریش کی جوتعداد بدر کو کوچ کیلئے تیار ہوئی وہ دو ہزار تھی اور ایک سو گھڑ سوار اس کے علاوہ تھے۔قیادت ابو سفیان کی تھی اور اس کے ماتحت خالد ،عکرمہ اور صفوان نائب سالار تھے۔ حسبِ معمول ابو سفیان کی بیوی ہند اور اس کی چند ایک کنیزیں اور گانے بجانے والی عورتیں بھی ساتھ تھیں۔مسلمان رسولِ اکرمﷺ کی قیادت میں ۴ اپریل ۶۲۶ء بمطابق یکم ذ ی القعد ۴ ہجری کے روز بدر کے میدان میں پہنچ گئے۔ قریش ابھی عسفان کے مقام تک پہنچے تھے ۔انہوں نے وہیں رات بھر کیلئے پڑاؤ کیا ۔علی الصبح ان کی روانگی تھی لیکن صبح طلوع ہوتے ہی ابو سفیان نے اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دینے کے بجائے اکھٹا کیا اور لشکر سے یوں مخاطب ہوا :’’قریش کے بہادرو! مسلمان تمہارے نام سے ڈرتے ہیں۔ اب ان کے ساتھ ہماری جنگ فیصلہ کن ہو گی۔ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا ہم نام و نشان مٹا دیں گے۔ نہ محمد اس دنیا میں رہے گا نہ کوئی اس کانام لینے والا۔ لیکن ہم ایسے حالات میں لڑنے جا رہے ہیں جو ہمارے خلاف جا سکتے ہیں اور ہماری شکست کا باعث بن سکتے ہیں ۔تم دیکھ رہے ہو کہ ہم اپنے ساتھ پورا اناج نہیں لا سکے ۔مزید اناج ملنے کی امید بھی نہیں کیونکہ خشک سالی نے قحط کی صورت پیدا کردی ہے پھر اس گرمی کو دیکھو۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے بہادروں کو بھوکا اور پیاسا مروا دوں۔میں فیصلہ کن جنگ کیلئے موزوں حالات کا انتظار کروں گا۔ہم آگے نہیں جائیں گے۔ مکہ کو کوچ کرو۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ قریش کے لشکر نے دو طرح کے نعرے بلند کیے۔ ایک ان کے نعرے تھے جو انہی حالات میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے تھے۔ دوسرے نعرے ابو سفیان کے فیصلے کی تائید میں تھے لیکن حکم سب کو ماننا تھا۔ خالد، عکرمہ اورصفوان نے ابو سفیان کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
لیکن ابو سفیان پر ان کے احتجاج کا کچھ اثر نہ ہوا۔ ان تینوں نائب سالاروں نے یہ جائزہ بھی لیا کہ کتنے آدمی انکے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ جائزہ ان کے خلاف ثابت ہوا ۔لشکر کی اکثریت ابو سفیان کے حکم پر مکہ کی طرف کوچ کر گئی۔ خالد اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو مجبوراً لشکر کے پیچھے پیچھے آنا پڑا۔خالد کو وہ لمحہ یاد آ رہاتھا جب وہ اہلِ قریش کے لشکر کے پیچھے پیچھے عکرمہ اور صفوان کے ساتھ مکہ کو چلا جا رہا تھا۔ا س کا سر جھکا ہوا تھا ۔
یہ تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے تھے جیسے ایک دوسرے سے شرمسار ہوں ۔خالد کو بار بار یہ خیال آتا تھا کہ لڑائی میں اس کی ایک ٹانگ کٹ جاتی۔ بازو کٹ جاتے ۔اس کی دونوں آنکھیں ضائع ہوجاتیں تو اسے یہ دکھ نہ ہوتا جو بغیر لڑے واپس جانے سے ہو رہا تھا۔اس وقت وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے اس کی ذات مٹ چکی ہو اور گھوڑے پر اس کی لاش مکہ کو واپس جا رہی ہو۔نبی کریمﷺ کا قتل اس کا عزم اور عہد تھا جو وہ پورا کیے بغیر واپس آ رہا تھا۔ یہ عزم بچھو بن کر اسے ڈس رہا تھا۔ اسے بہت کچھ یاد آ رہا تھا۔ یادوں کا ایک ریلاتھا جو ختم نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یہودیوں کے تینوں قبیلے بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع یادآئے ۔انہوں نے جب دیکھا کہ قریش مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے منہ موڑ گئے ہیں تو وہ سرگرم ہو گئے۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف زمین دوز کارروائیاں شروع کیں ۔مکہ گئے اور قریش کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ مگر قریش کا سردار ابو سفیان ٹس سے مس نہ ہوا۔ خالد کو معلوم نہ ہو سکا کہ ابو سفیان کے دل میں کیا ہے اور وہ مسلمانوں سے لڑنے سے کیوں گھبرا تا ہے۔
اسی سال کے موسم ِ سرما کے اوائل میں خیبر کے چند ایک سرکردہ یہودی مکہ گئے۔ ان کا سردار حیّی بن اخطب تھا ۔یہ شخص یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر کا سردار بھی تھا ۔یہودیوں کے پاس زروجواہرات کے خزانے تھے۔ وہ چند ایک یہودی ابو سفیان اور قریش کے دیگر سرداروں کیلئے بیش قیمت تحفے لے کر گئے ۔ان کے ساتھ حسین و جمیل لڑکیوں کا طائفہ بھی تھا۔ مکہ میں یہ یہودی ابو سفیان سے ملے۔ اسے تحفے پیش کیے اور رات کو اپنے طائفہ کا رقص بھی دکھایا ۔اس کے بعد حیّی بن اخطب نے ابو سفیان سے خالد ،عکرمہ اور صفوان کی موجوگی میں کہا کہ’’ انہوں نے مسلمانوں کو ختم نہ کیا اور ان کے بڑھتے ہوئے قدم نہ روکے تو وہ یمامہ تک پہنچ جائیں گے ۔اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو قریش کیلئے وہ تجارتی راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔جو بحرین اور عراق کی طرف جاتا ہے ۔‘‘قریش کیلئے یہ راستہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا ۔’’اگر آپ ہمارا ساتھ دیں۔‘‘ حیّی بن اخطب نے کہا۔’’ تو ہم مسلمانوں کے خلاف خفیہ کارروائیاں شروع کر دیں گے۔‘‘ ’’ہم مسلمانوں سے دگنے تھے تو بھی انہیں شکست نہ دے سکے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ ان سے تین گنا تعداد میں ان سے لڑے تو بھی انہیں شکست نہ دے سکے اگر چند اور قبیلے ہمارے ساتھ مل جائیں تو ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتے ہیں۔‘‘
’’ہم نے یہ انتظام پہلے ہی کر دیاہے ۔‘‘حیّی بن اخطب نے کہا ۔’’قبیلہ غطفان اور بنو اسد آپ کے ساتھ ہوں گے۔ چند اور قبیلے ہماری کوششوں سے آپ کے ساتھ آ جائیں گے۔‘‘ خالد کو کیا کچھ یاد نہ آ رہا تھا تین چار سال پہلے کے واقعات ،اسے ایک روز پہلے کی طرح یاد تھے۔ اسے ابو سفیان کا گھبرایا گھبرایا چہرہ اچھی طرح یاد تھا۔ خالد جانتا تھاکہ یہودی ا ہلِ قریش کو مسلمانوں کے خلاف صرف اس لیے بھڑکا رہے ہیں کہ یہودیوں کا اپنا مذہب اسلام کے مقابلے میں خطرے میں آ گیا تھا ۔لیکن انہوں نے ابو سفیان کو ایسی تصویر دکھائی تھی جس میں اسے مسلمانوں کے ہاتھوں تباہی نظر آ رہی تھی۔دوسری طرف خالد، عکرمہ اور صفوان بن امیہ نے ابو سفیان کو سر اٹھا نے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔’’ ہم آپ کو اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں ۔لیکن آپ یہ تسلیم کریں کہ آپ بزدل ہیں۔‘‘ ’اگر مسلمان موسم کی خرابی اور قحط میں لڑنے کیلئے آ گئے تھے تو ہم بھی لڑ سکتے تھے۔‘‘ ’’آ پ نے جھوٹ بو ل کر ہمیں دھوکا دیا ہے۔‘‘ ’’ابو سفیان بزدل ہے۔ ابو سفیان نے پورے قبیلے کو بزدل بنا دیا ہے۔ اب محمد )ﷺ(کے چیلے ہمارے سر پر کودیں گے۔‘‘ اور ایسی بہت سی طنز اور غصے میں بھری ہوئی آوازیں مکہ کے گلی کوچوں میں گشت کرتی رہتی تھیں ۔ان آوازوں کے پیچھے یہودیوں کا دماغ بھی کام کر رہا تھا لیکن اہلِ قریش کی غیرت اور ان کا جذبہ انتقام انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ ابو سفیان اس حال تک پہنچ گیا کہ اس نے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا ۔خالد کو وہ دن یاد آیا جب اسے ابوسفیان نے اپنے گھر بلایا تھا۔ خالدکے دل میں ابو سفیان کا وہ احترام نہیں رہ گیا تھا جو کبھی ہوا کرتا تھا ۔وہ بادل نخواستہ صرف اس لیے چلا گیا کہ ابی سفیان اس کے قبیلے کا سردار ہے۔ وہ ابو سفیان کے گھر گیا تو وہاں عکرمہ اور صفوان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’خالد!‘‘ ابوسفیان نے کہا ۔’’میں نے مدینہ پر حملہ کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ خالد کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔ اس نے عکرمہ اور صفوان کی طرف دیکھا ۔ان دونوں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آ گئی۔ ’’ہاں خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’جس قدر جلدی ہو سکے لوگوں کو مدینہ پر حملہ کیلئے تیار کر لو۔‘‘
یہودیوں نے جن قبائل کو قریش کا ساتھ دینے کیلئے تیار کیا تھا ۔ان سب کی طرف پیغام بھیج دیئے گئے ۔یہ فروری627 ء کے آغاز کے دن تھے ۔مختلف قبائل کے لڑاکا دستے مکہ میں جمع ہونے لگے۔ ان قبائل میں سب سے زیادہ فوج غطفان کی تھی ۔اس کی تعداد تین ہزار تھی۔ مُنےّہ اس کا سالار تھا ۔سات سو آدمی بنو سلیم نے بھیجے۔ بنو اسد نے بھی خاصی فوج بھیجی جس کا سالار طلیحہ بن خویلد تھا۔)اس کی تعداد تاریخ میں نہیں ملتی (قریش کی اپنے فوج کی تعداد چار ہزار پیادہ اور تین سو گھڑ سوار اور ڈیڑھ ہزار شتر سوار تھے۔اس پورے لشکر کی تعداد جو مدینہ پر فوج کشی کیلئے جا رہی تھی کل دس ہزار تھی۔اس کی کمان ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔ابو سفیان نے اس متحدہ فوج کو جمیعت القبائل کہا تھا۔ ان میں سے کچھ قبائل مکہ میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اطلاع دی تھی کہ جب لشکر مکہ سے روانہ ہو گا تو وہ اپنی اپنی بستی سے کوچ کر جائیں گے اور راستہ میں لشکر سے مل جائیں گے۔ خالد کو آج وہ وقت یاد آ رہا تھا جب اس نے مکہ سے کوچ کیا تھا ۔لشکر کا تیسرا حصہ ان کی کمان میں تھا۔ اس نے ایک ٹیکری پر گھوڑا چڑھا کر وہاں سے اس تمام لشکر کو دیکھا تھا۔ اسے لشکر کے دونوں سرے نظر نہیں آ رہے تھے۔ دف اور نفریاں اور شہنائیاں اور لشکر کی مترنم آواز جو ایک ہی آواز لگتی تھی۔ خالد کے خون کو گرما رہی تھی۔ اس نے گردن تان کر اپنے آپ سے کہا تھا کہ ’’مسلمان پس کے رہ جائیں گے ۔اسلام کے ذرے عرب کی ریت میں مل کر ہمیشہ کیلئے فنا ہو جائیں گے ۔یہ اس کا عزم تھا ۔یہ لشکر 24فروری627ء بمطابق یکم شوال ہجری مدینہ کے قریب پہنچ گیا ۔قریش نے اپنا پڑاؤ اس جگہ ڈالا جہاں احد کی لڑائی کیلئے خیمہ زن ہوئے تھے۔ وہاں دوند یاں آکر ملتی تھیں۔ دوسرے تمام قبائل احد کی پہاڑی کے مشرق کی طرف خیمہ زن ہوئے۔قریش نے یہ معلوم کر نے کیلئے کہ مدینہ کے لوگوں کو قریش کی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی ہے یا نہیں ۔دو جاسوس تاجروں کے بھیس میں مدینہ بھیجے ۔ابو سفیان اور ا سکے تمام نائب سالاروں کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ مدینہ والوں پر بے خبری میں حملہ کیا جائے لیکن دوسرے ہی دن قریش کاایک جاسوس جو یہودی تھا مدینہ سے آیا۔ا س نے ابو سفیان کو بتایا کہ مسلمانوں کو حملہ آور لشکر کی آمد کی اطلاع مل چکی ہے۔
مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس یہودی جاسوس نے بتایا ۔’’سارے شہر پر خوف طاری ہو گیا تھا لیکن محمد)ﷺ( اور اس کے قریبی حلقے کے آدمیوں کی للکار پر مسلمانوں کے دل مضبوط ہو گئے ۔گلی کوچوں میں ایسے اعلان ہونے لگے جن سے تمام شہر کا جذبہ اور حوصلہ عود کر آیا اور مسلمان لڑائی کیلئے ایک جگہ اکھٹے ہونے لگے۔میرے خیال میں ان کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں ہو گی۔‘‘ مؤرخ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔
محمد یحیٰ سندھو
+971551707391
انہیں اطلاع مل چکی تھی کہ مدینہ پر حملہ کیلئے جو لشکر آیا ہے اس کی تعداد دس ہزار ہے جس میں سینکڑوں گھڑ سوار اور شتر سوار بھی ہیں ۔اس وقت تک عرب کی سرزمین میں کسی لڑائی میں اتنا بڑا لشکر نہیں دیکھا تھا۔ تعداد کو دیکھا جاتا اور فن ِ حرب و ضرب کے پیمانے سے دونوں اطراف کو ناپا تولا جاتا تو مسلمانوں کو لڑے بغیر ہتھیار ڈال دینے چاہیے تھے یا وہ رات کی تاریکی میں مدینہ سے نکل جاتے اور کسی اور بستی میں اپنا ٹھکانا بناتے ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تین ہزار مسلمان دس ہزار کے لشکر کامقابلہ ذرا سی دیر کیلئے بھی کر سکیں گے۔ دس ہزار لشکر نہایت آسانی سے مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا تھا لیکن یہ حق اور باطل کی ٹکر تھی ۔یہ اﷲ کے آگے سجدے کر نے والوں اور بت پرستوں کا تصادم تھا۔ خدا کو حق کا ساتھ دینا تھا۔ خدا کو اپنے اس عظیم پیغام کی لاج رکھنی تھی جو اس کی ذاتِ باری نے غارِ حرا میں عرب کے سپوت کو دیا تھا اور اسے رسالت عطا کی تھی۔ــ’’خدا ان کا ساتھ دیتا ہے جن کے دلوں میں حق اور صدق ہوتا ہے۔‘‘ یہ نبی کریمﷺ کی للکار تھی جو مدینہ کے گلی کوچوں میں سنائی دے رہی تھی ۔’’لیکن اے اﷲ کی عبادت کرنے والوں! خدا تمہارا ساتھ اسی صورت میں دے گا جب تم دلوں سے خوف و ہراس نکال کر ایک دوسرے کا ساتھ دو گے اور اپنی جانیں اﷲ کی راہ میں قربان کر دینے کا عزم کرو گے۔جو ہمارے اﷲ کو نہیں مانتا اور جو ہمارے دین کو نہیں مانتا وہ ہمارا دشمن ہے اور اس کا قتل ہم پر فرض ہے۔ یاد رکھو قتل کرنے کیلئے قتل ہونا بھی پڑتا ہے۔ ایمان سے بڑھ کر اور کوئی طاقت نہیں جو تمہیں دشمن سے بچا سکے گی۔ تمہیں دفاع مدینہ کا نہیں اپنے عقیدے کا کرنا ہے۔ اگر اس عزم سے آگے بڑھو گے تو دس ہزار پر غالب آ جاؤ گے ۔خدا سوئے ہوئے یا خوف زدہ انسان کو معجزے نہیں دکھایا کرتا ۔اپنے عقیدے اور اپنی بستی کے دفاع کا معجزہ تمہیں خود دکھانا ہے ۔‘‘
نبی کریمﷺ نے مدینہ والوں کا حوصلہ اس قدر مضبوط کر دیا تھا کہ وہ اس سے بڑے لشکر کے مقابلے کیلئے بھی تیار ہو گئے۔ لیکن رسولِ خداﷺ اس سوچ میں ڈوب گئے تھے کہ اتنے بڑے لشکر سے مدینہ کو بچانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ کو یہ تو پورا یقین تھا کہ خدا حق پرستوں کے ساتھ ہے لیکن حق پرستوں کو خود بھی کچھ کر کے دکھانا تھا۔ بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ خدا نے اپنے نام لیواؤں کی مدد کا انتظام کر رکھاتھا ۔وہ ایک انسان تھا جس نے عمر کے آخری حصہ میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس انسان کا نام ’’سلمان فارسیؓ ‘‘تھا۔ سلمان فارسیؓ آتش پرستوں کے مذہبی پیشوا تھے۔ لیکن وہ شب و روز حق کی تلاش میں سرکردہ رہتے تھے۔ وہ آگ کو پوجتے تو تھے لیکن آگ کی تپش اور چمک میں اُنہیں وہ راز نظر نہیں آتا تھا جسے وہ پا نے کیلئے بے تاب رہتے تھے ۔عقل و دانش میں ان کی ٹکر کا کوئی نہیں تھا۔ آتش پرست انہیں بھی اسی طرح پوجتے تھے جس طرح آگ کو۔جب سلمان فارسیؓ کی عمر بڑھاپے کی دہلیز پھلانگ کر خاصی آگے نکل گئی تو ان کے کانوں میں عرب کی سرزمین کی ایک انوکھی آواز پڑی۔’’ خدا ایک ہے۔ محمد)ﷺ( اس کا رسول ہے ۔‘‘یہ آواز سلمان فارسیؓ کے کان میں گھر بیٹھے نہیں پڑی تھی۔ ان کی عمر علم کی تلاش میں سفر کرتے گزر رہی تھی۔ وہ تاجروں کے قافلے کے ساتھ شام میں آئے تھے جہاں قریش کے تاجروں کے قافلے اور کچھ مسلمان تاجر بھی جایا کرتے تھے۔ قریش کے تاجروں نے سلمان فارسیؓ کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں بتایا کہ ان کے قبیلے کے ایک آدمی کا دماغ چل گیا ہے اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔
ایک دو مسلمانوں نے عقیدت مندی سے سلمان فارسی کو نبی کریمﷺ کا عقیدہ اور آپﷺ کی تعلیمات سنائیں ۔سلمان فارسیؓ یہ سب سن کر چونک پڑے۔ انہوں نے ان مسلمانوں سے کچھ اور باتیں پوچھیں۔ انہیں جو معلوم تھا وہ انہوں نے بتایا ۔لیکن سلمان فارسیؓ تشنگی محسوس کر رہے تھے۔ وہ اتنا متاثر ضرور ہو گئے تھے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ تک پہنچنے کا فیصلہ کر لیا ۔کچھ عرصہ بعد سلمان فارسیؓ رسولِ خدا ﷺ کے مقدس سائے میں جا بیٹھے ۔انہیں وہ راز مل گیا جس کی تلاش میں وہ مارے مارے عمر گزار رہے تھے۔ انہوں نے رسول اﷲﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا اس وقت تک سلمان فارسیؓ بڑھاپے کے آخری حصہ میں پہنچ چکے تھے۔
اپنے ملک میں سلمان فارسیؓ صرف مذہبی پیشوا ہی نہ تھے وہ جنگی علوم کے ماہر تسلیم کیے جاتے تھے۔ اس دور کے مذہبی پیشوا بھی جنگ و جدل اور سپاہ گری کے ماہر ہوتے تھے۔ علم و ادب کے عالم بھی سپاہی ہوتے تھے لیکن سلمان فارسیؓ کو خدا نے جنگ و جدل کے امور میں غیر معمولی ذہانت دی تھی۔ اپنے ملک میں جب کوئی لڑائی ہوتی تھی یا دشمن حملہ آور ہوتا تھا تو سلمان فارسی ؓکو بادشاہ طلب کر کے صورتِ حال ان کے آگے رکھتا اور مشورے لیتا تھا۔نامور سالار بھی ان کے شاگرد تھے۔ وہ سلمان فارسیؓ اس وقت مدینہ میں رسولِ اکرمﷺ کے صحابہ کرامؓ میں شامل تھے ۔رسولِ اکرمﷺ نے یہ صورتِ حال جو قریش نے آپ ﷺکیلئے پیدا کر دی تھی، سلمان فارسیؓ کے آگے رکھی ۔’’خندق کھودو ،جو سارے شہر کو گھیرے میں لے لے۔‘‘سلمان فارسیؓ نے کہا ۔رسولِ کریمﷺ اور وہاں بیٹھے ہوئے تمام صحابہ کرامؓ اور سالار ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے کہ سلمان فارسی ؓنے یہ کیا کہہ دیا ہے؟عرب خندق سے واقف نہیں تھے۔فارس میں جنگوں میں خندق کا رواج تھا۔ سب کو حیران دیکھ کر سلمان فارسیؓ نے بتایا کہ خندق کیا ہوتی ہے اور اس سے دفاعی کام کس طرح سے لیا جاتا ہے ۔رسولِ کریمﷺ نے جو خود تاریخ کے نامور سالار تھے خندق کی ضرورت اور افادیت کو سمجھ لیا لیکن آپﷺ کے دیگر سالار شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان کیلئے اتنے بڑے شہر کے اردگرد اتنی چوڑی اور اتنی بڑی خندق کھودنا ناقابلِ فہم نہیں تھا لیکن انہیں رسولِ خداﷺ کا حکم ماننا تھا۔خندق کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کا حساب کر لیا گیا۔ رسولِ خداﷺ نے خندق کھودنے والوں کی تعداد کا حساب کیا۔آپﷺ نے کھدائی کا کام اس تعداد پر تقسیم کیا تو ایک سو دس آدمیوں کے حصہ میں چالیس ہاتھ کھدائی آئی تو رسولِ خداﷺ نے دیکھا کہ لوگ خندق کو ابھی تک نہیں سمجھے اور وہ کھدائی سے ہچکچا رہے ہیں تو آپ ﷺنے کدال اٹھائی اور کھدائی شروع کردی۔یہ دیکھتے ہی مسلمان کدالیں اور بیلچے لے کر نعرے لگاتے ہوئے زمین کا سینہ چیرنے لگے۔ ادھر سے اس وقت کے ایک شاعر حسانؓ بن ثابت آ گئے۔ حسان مشہور نعت گو تھے جنہیں رسولِ اکرمﷺ اکثر اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔
اس موقع پر جب مسلمان خندق کھود رہے تھے حسانؓ نے ایسے اشعار ترنم سے سنانےشروع کر دیئے کہ خندق کھودنے والوں پر وجد اور جنون کی کیفیت طاری ہو گئی۔ خندق کی لمبائی چند گز نہیں تھی، اسے میلوں دور تک جانا تھا۔ شیخین کی پہاڑی سے لے کر جبل بن عبید تک یہ خندق کھودنی تھی زمین نرم بھی تھی اور سنگلاخ بھی تھی اوریہ نہایت تیزی سے مکمل کرنی تھی، کیونکہ دشمن سر پر آن بیٹھا تھا۔قریش کا لشکر اس عجیب و غریب طریقۂ دفاع سے بے خبر احد کی پہاڑی کے دوسری طرف خیمہ زن تھا۔اس کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ تھا، چلتے چلتے خالد کواپنی آواز سنائی دینے لگی۔اہلِ قریش تو ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔ان پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ گھوڑا اپنی مرضی کی چال چلا جا رہا تھا۔ مدینہ ابھی دور تھا، خالد کو جھینپ سی محسوس ہوئی۔ اس کے قبیلہ قریش نے اسے شرمسار کر دیا تھا۔ اسے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی کہ یہودیوں کے اکسانے پر اس کے قبیلے کے سردار اور سالار ابو سفیان نے مدینہ پر حملہ کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن وہ خوش تھا کہ حملہ کا فیصلہ تو ہوا۔اتنا بڑا لشکر جو سر زمینِ عرب پر پہلی بار دیکھا گیاتھا یہودیوں نے ہی جمع کیا تھا لیکن خالد اس پر بھی مطمئن تھا کہ کسی نے بھی یہ کام کیا ہو، لشکر تو جمع ہو گیا تھا۔وہ اس روز بہت خوش تھا کہ اتنے بڑے لشکر کو دیکھ کر ہی مسلمان مدینہ سے بھاگ جائیں گے۔اگر مقابلے پر جم بھی گئے تو گھڑی دو گھڑی میں ان کا صفایا ہو جائے گا۔وہ اس وقت تو بہت ہی خوش تھا جب احد کی پہاڑی کی دوسری طرف یہ سارا لشکر خیمہ زن تھا۔ جس صبح حملہ کرنا تھا اس رات اس پر ایسی ہیجانی کیفیت طاری تھی کہ وہ اچھی طرح سوبھی نہ سکا۔ اسے ہر طرف مسلمانو ں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آ رہی تھیں۔دوسری صبح جب قریش اور دوسرے اتحادی قبائل کا لشکر جس کی تعداد دس ہزار تھی،خیمہ گاہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کیلئے شہرکے قریب پہنچا تواچانک رک گیا۔شہر کے سامنے ایک بڑی گہری خندق کھدی ہوئی تھی۔ابو سفیان جو لشکر کے قلب میں تھا لشکر کو رکا ہوا دیکھ کر گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آگے گیا۔’’قریش کے جنگجو کیوں رک گئے ہیں ؟‘‘ابوسفیان چلاتا جا رہا تھا۔’’ طوفان کی طرح بڑھو اور محمد)ﷺ( کے مسلمانوں کو کچل ڈالو،شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔‘‘ابو سفیان کا گھوڑا جب آگے گیا تو اس نے گھوڑے کی لگام کھینچ دی ا ور اس کا گھوڑا اسی طرح رک گیا جس طرح اس کے لشکر کے تمام سوار رکے کھڑے تھے۔اس کے سامنے خندق تھی اس پر خاموشی طاری ہو گئی ۔’’خدا کی قسم! یہ ایک نئی چیز ہے جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔‘‘ابو سفیان نے غصیلی آواز میں کہا۔’’عرب کے جنگجو کھلے میدان میں لڑا کرتے ہیں ۔خالد بن ولید کو بلاؤ، عکرمہ اور صفوان کو بھی بلاؤ۔‘‘ابو سفیان خندق کے کنارے کنارے گھوڑا دوڑاتا لے گیا۔ اسے کہیں بھی ایسی جگہ نظر نہیں آ رہی تھی جہاں سے اس کا لشکر خندق عبور کر سکتا۔یہ خندق شیخین کی پہاڑی سے لے کر جبلِ بنی عبید کے اوپر سے پیچھے تک چلی گئی تھی ۔مدینہ کے مشرق میں شیخین اور لاوا کی پہاڑیاں تھیں۔ یہ مدینہ کا قدرتی دفاع تھا۔
ابو سفیان دور تک چلا گیا۔اس نے دیکھاکہ خندق کے پار مسلمان اس انداز سے گھوم پھر رہے ہیں جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اس نے گھوڑا پیچھے موڑا اور اپنے لشکر کی طرف چل پڑا۔تین گھوڑے اس کی طرف سر پٹ دوڑے آ رہے تھے جو اس کے قریب آ کر رک گئے۔ وہ خالد، عکرمہ اور صفوان کے گھوڑے تھے۔’’کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ مسلمان کتنے بزدل ہیں؟‘‘ابو سفیان نے ان تینوں سے کہا ۔’’کیا تم کبھی اپنے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرکے یا رکاوٹ کھود کر اپنے دشمن سے لڑے ہو؟‘‘خالد پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے سے یاد آ رہا تھاکہ وہ اس خیال سے چپ نہیں ہو گیا تھا کہ ابو سفیان نے مسلمانوں کو بزدل جو کہا تھا وہ ٹھیک کہا تھا۔بلکہ خاموش رہ کر وہ اس سوچ میں کھو گیا تھا کہ یہ خندق بزدلی کی نہیں دانشمندی کی علامت تھی۔جس کسی نے شہر کے دفاع کیلئے یہ طریقہ سوچا تھا وہ کوئی معمولی عقل والا انسان نہیں تھا ۔اس سے پہلے بھی اس نے محسوس کیا تھا کہ مسلمان لڑنے میں اپنے جسم کی طاقت پر ہی بھروسہ نہیں کرتے ۔وہ عقل سے بھی کام لیتے ہیں ۔خالد کا دماغ ایسی ہی جنگی چالیں سوچتا رہتا تھا۔
محمد یحیٰ سندھو
+971551707391
مسلمانوں نے بدر کے میدان میں نہایت تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے قریش کو بہت بری شکست دی تھی ۔خالد نے اکیلے بیٹھ کر اس لڑائی کا جائزہ لیا تھا۔ مسلمانوں کی اس فتح میں اسے مسلمانوں کی عسکری دانشمندی نظر آئی تھی۔’’کوئی اور بات بھی تھی خالد!‘‘ اسے خیال آیا ۔’’کوئی اور بات بھی تھی۔‘‘’’کچھ بھی تھا !‘‘خالد نے اپنے آپ کو جواب دیا۔’’ جو کچھ بھی تھا ،میں یہ نہیں مانوں گا کہ یہ محمد)ﷺ(کے جادو کا اثر تھایا اس کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے۔ ہماری عقل جس عمل اور جس مظاہرے کو سمجھ نہیں سکتی اسے ہم جادوکہہ دیتے ہیں۔ اہلِ قریش میں ایسا کوئی دانشمند نہیں جو مسلمانوں جیسے جذبے سے اہلِ قریش کو سرشار کر دے اور ایسی جنگی چالیں سوچے جو مسلمانوں کو ایک ہی بار کچل ڈالے۔‘‘’’خدا کی قسم !ہم اس لیے واپس نہیں چلے جائیں گے کہ مسلمانوں نے ہمارے راستے میں خندق کھود رکھی ہے۔‘‘ابو سفیان خالد، عکرمہ اور صفوان سے کہہ رہاتھا۔پھر اس نے ان سے پوچھا ۔’’کیا خندق عبور کرنے کا کوئی طریقہ تم سوچ سکتے ہو؟‘‘خالد کوئی طریقہ سوچنے لگا،لیکن اسے خیال آیا کہ اگر ان کے لشکر نے خندق عبور کر بھی لی تو مسلمانوں کو شکست دینا آسان نہ ہو گا۔ خواہ وہ کتنی ہی تھوڑی تعداد میں کیوں نہ ہوں ۔جن انسانوں نے تھوڑے سے وقت میں زمین اور چٹانوں کا سینہ چیر ڈالا ہے ان انسانوں کو بڑے سے بڑا لشکر بھی ذرامشکل سے ہی شکست دے سکے گا۔’’کیا سوچ رہے ہو ولید کے بیٹے !‘‘ابو سفیان نے خالد کو گہری سوچ میں کھوئے ہوئے دیکھ کر کہا ۔’’ہمارے پاس سوچنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ ہم بوکھلاگئے ہیں ۔‘‘’’ہمیں تمام تر خندق دیکھ لینا چاہیے ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’کہیں نہ کہیں کوئی ایسی جگہ ہوگی جہاں سے ہم خندق عبور کر سکیں گے۔‘‘ صفوان نے کہا۔
’’محاصرہ۔‘‘خالدنے خود اعتمادی سے کہا۔’’مسلمان خندق کھود کر اندر بیٹھ گئے ہیں۔ ہم محاصرہ کرکے باہر بیٹھے رہیں گے ۔وہ بھوک سے تنگ آ کر ایک نہ ایک دن خود ہی خندق کے اس طرف آ جائیں گے جدھر ہم ہیں ۔‘‘’’ہاں!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’مجھے یہی ایک طریقہ نظر آتا ہے جو مسلمانوں کو باہر آ کر لڑنے پر مجبور کر دے گا۔‘‘ابو سفیان اپنے ان تینوں نائب سالاروں کے ساتھ خندق کے ساتھ ساتھ تمام تر خندق کو دیکھنے کیلئے جبلِ بنی عبید کی طرف چل پڑا۔سلع کی پہاڑی مدینہ اور جبلِ بنی عبید کے درمیان واقع تھی۔ مسلمان اس کے سامنے مورچہ بند تھے۔ ابو سفیان نے مسلمانوں کی تعداد دیکھی تو اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔وہ ذرا آگے بڑھا تو ایک گھوڑا جو بڑا تیز دوڑا آ رہا تھا ا سکے پہلو میں آ ن رکا۔ سوار کو ابو سفیان بڑی اچھی طرح پہچانتا تھا ۔وہ ایک یہودی تھا جو تاجروں کے بہروپ میں مدینہ کے اندر گیا تھا۔ وہ مدینہ سے شیخین کے سلسلۂ کوہ میں سے ہوتا ہوا قریش کے لشکر میں پہنچا تھا۔’’اندر سے کوئی ایسی خبر لائے ہو جو ہمارے کام آ سکے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا اور کہا۔’’ ہمارے ساتھ ساتھ چلو اور اتنا اونچا بولتے چلو کہ میرے یہ تینوں نائب بھی سن سکیں۔‘‘’’مسلمانوں نے شہر کے دفاع اور آبادی کے تحفظ کے جو انتظامات کر رکھے ہیں وہ اس طرح ہیں‘‘یہودی نے کہا۔’’ یہ تو تم کو معلوم ہوگا کہ مدینہ چھوٹے چھوٹے قلعوں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی بستیوں کا شہر ہے۔مسلمانوں نے شہر کی عورتوں ،بچوں اور ضعیفوں کو پیچھے کی طرف والے قلعوں میں بھیج دیا ہے۔ خندق پر نظر رکھنے کیلئے مسلمانوں نے گشتی پہرے کا جو انتظا م کیاہے اس میں دو اڑھائی سو افراد شامل ہیں ۔یہ افراد تلواروں کے علاوہ پھینکنے والی برچھیوں اور تیر کمانوں سے مسلح ہیں۔ انہوں نے علاقے تقسیم کر رکھے ہیں جس میں وہ سارا دن اور پوری رات گشت کرتے ہیں ۔جہاں کہیں سے بھی تم خندق عبور کرنے کی کوشش کرو گے وہاں مسلمانوں کی خاصی زیادہ تعداد پہنچ جائے گی اور اس قدر زیادہ تیر اوربرچھیاں برسائے گی کہ تم لوگ پیچھے کو بھاگ آنے کے سوا کچھ نہیں کر سکو گے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راتوں کو مسلمانوں کے خویش خندق سے باہر آ کر تم پر شب خون مار کر واپس چلے جائیں ۔‘‘’’عبداﷲ بن ابی کیا کر رہا ہے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’اے قریش کے سردار!‘‘ یہودی جاسوس نے کہا۔’’اتنی عمر گزار کر بھی تم انسانوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکے۔عبداﷲ بن ابی منافق ہے ۔مسلمان اسے جماعتِ منافقین کا سردار کہتے ہیں اور ہم اسے یہودیت کا غدا ر سمجھتے ہیں ۔اس نے مسلمان ہو کر ہم سے غداری کی تھی۔ مسلمانوں میں جاکر اس نے تمہارے حق میں انہیں دھوکے دیئے ۔اگر احد کی جنگ میں تم جیت جاتے تو وہ تمہارے ساتھ ہوتا مگر مسلمانوں کا پلہ بھاری دیکھ کر اس نے تم سے بھی اور یہودیوں سے بھی نظریں پھیر لی ہیں۔تمہیں اس آدمی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے جو کسی مذہب کا پیروکار اور وفادار نہ ہو ۔‘‘’’اور حیُّ بن اخطب کہاں ہے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔
اسے محاصرے کامنظر یاد آنے لگا۔ لشکر کا جو حصہ اس کی زیرِ کمان تھا اسے اس نے بڑے اچھے طریقے سے محاصرے کی ترتیب میں کردیا تھا۔یہ محاصرہ بائیس روز تک رہا۔پہلے دس دنوں میں ہی شہر کے اندر مسلمان خوراک کی کمی محسوس کرنے لگے لیکن اس سے قریش کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے ساتھ خوراک اوررسد بہت کم لائے تھے ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں مسلمان اپنے محاصرے میں لمبے عرصہ کیلئے بٹھا لیں گے۔ خوراک کی جتنی کمی شہر والے محسوس کر رہے تھے اس سے کچھ زیادہ کمی قریش کے لشکر میں اپنا اثر دِکھانے لگی تھی۔ سپاہیوں میں نمایاں طور پر بے چینی نظر آنے لگی تھی۔
*جاری_ہے*
بقیہ اگلی قسط نمبر ۷ میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment