*
شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر -4اور3 )*
قریش کے ساتھ جو عورتیں آئی تھیں وہ بھاگ گئی تھیں لیکن عمرہ نام کی ایک عورت وہیں پرچم زمین پر پڑا نظر آ گیا ۔اس عورت نے پرچم اٹھا کر اوپر کر دیا۔ ابو سفیان نے اپنے بھاگتے ہوئے پیادوں پر قابو پا لیا تھا۔ اس نے ادھر دیکھا تو اسے اپنا پرچم لہراتا ہوا نظر آ گیا۔ اس نے ہبل زندہ باد اور عزیٰ زندہ باد کے نعرے لگائے اور پیادوں کو واپس لاکر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔ خالد کو وہ وقت یاد آ رہا تھا۔ وہ رسولِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا اور آج چار برس بعد وہ مدینہ جا رہا تھا۔ اس کے ذہن پر رسولِ کریمﷺ کا غلبہ تھا ۔
اُحد کی پہاڑی افق سے ابھرتی آ رہی تھی اور خالد کا گھوڑا خراماں خراماں چلا جا رہا تھا۔ خالد کی ذہنی کیفیت کچھ ایسی ہوتی جا رہی تھی جیسے اسے آگے جانے کی کوئی جلدی نہ ہو اور کبھی وہ لگام کو یوں جھٹکا دیتا جیسے اسے بہت جلدی پہنچنا ہو،لیکن جس منزل کو وہ جا رہا تھا وہ منزل ابھی اس پر پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ کبھی اسے یوں لگتا جیسے ایک مقناطیسی قوت ہے جو اسے آگے ہی آگے کھینچ رہی ہے اور کبھی وہ محسوس کرتا جیسے اس کے اندر سے اٹھتی ہوئی ایک قوت اسے پیچھے دھکیل رہی ہے۔”خالد!“ اسے ایک آواز سنائی دی ۔جو اس کے اندر سے اٹھتی تھی لیکن اسے حقیقی سمجھ کر اس نے گھوڑے کی باگ کھینچی اور آگے پیچھے دیکھا وہاں ریت کے سوا کچھ بھی نہ تھا لیکن آواز آ رہی تھی ۔”خالد کیا یہ سچ ہے جو میں نے سنا ہے؟“خالد نے اس آواز کو پہچان لیا ۔یہ اس کے ساتھی عکرمہ کی آواز تھی۔
ایک ہی روز پہلے اسے عکرمہ کہہ رہا تھا ”اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ محمد)ﷺ( خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے تووہ خیال دل سے نکال دو ۔محمد)ﷺ( ہمارے بہت سے رشتے داروں کا قاتل ہے۔ اپنے قبیے کو دیکھ جو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے محمد )ﷺ(کو قتل کرنے کی قسم کھائے ہوئے ہے۔“ خالد نے لگام کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور گھوڑا چل پڑا ۔اس کا ذہن پھر چار برس پیچھے چلا گیا جب وہ احد کے معرکے میں رسولِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔وہ قریش کی اس قسم کو پورا کرنے کا عزم لیے ہوئے تھا کہ رسول اﷲﷺ کو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے قتل کرنا ہے۔ اسے یاد آرہا تھا کہ مسلمانوں کے تیر اندازوں نے جب عینین کی پہاڑی چھوڑ دی تھی تو اس نے ا س پہاڑی پر حملہ کرکے عبداﷲ بن جبیرؓ اور ان کے نو تیر اندازوں کو جو رسول اﷲﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے وہاں رہ گئے تھے ختم کیا تھا۔ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھاگے ہوئے قریش پھر واپس آ گئے تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو منظم کر لیا تھا۔مسلمان یہ معرکہ ہار چکے تھے اور یہ اپنے رسول اﷲﷺکی حکم عدولی کا نتیجہ تھا۔ خالد اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ فنِ حرب و ضرب کے ماہر تھے۔ ان کیلئے ایک ایک مسلمان کو قتل کرنا اب مشکل نہیں رہا تھا ۔ خالد دیکھ رہا تھا کہ مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے تھے بڑا حصہ الگ تھا جو اپنے کمانڈر رسولِ کریمﷺ سے کٹ گیا تھا۔ چند ایک تیر انداز رسول اﷲﷺ کے ساتھ تھے۔یہ وہ صحابہ کرامؓ تھے جو قریش کے حملے کی وجہ سے افرا تفری کا شِکار نہیں ہوئے تھے۔ ان کی تعداد تیس تھی ۔ان میں ابو دجانہؓ ،سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت ابو بکرصدیقؓ،حضرت ابو عبیدہؓ ، طلحہ بن عبداﷲؓ ،مصعب بن عمیرؓ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان چودہ خواتین میں سے جو زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے ساتھ آئی تھیں ۔دو رسول اﷲﷺ کے ساتھ تھیں ۔ایک اُمّ ِعمارہؓ تھیں اور دوسری اُمّ ِایمنؓ نام کی ایک حبشی خاتون تھیں۔ اُمّ ِایمن آپﷺکے بچپن میں آپ ﷺکی دایہ رہ چکی تھیں۔ باقی بارہ خواتین ابھی تک زخمیوں کو اٹھانے اور پیچھے لانے اور ان کی مرہم پٹی کرنے میں مصروف تھیں ۔خالد رسول ِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن وہ میدانِ جنگ میں زیادہ گھوم پھر نہیں سکتا تھاکیونکہ اس کی کمان میں گھڑ سواروں کا ایک جیش تھا جسے اس نے پوری طرح اپنی نظم و نسق میں رکھا ہوا تھا ۔وہ اندھا دھند حملے کا قائل نہ تھا۔ اس کا اصول تھا کہ دشمن کی ایسی رگ پر ضرب لگاؤ کہ دوسری ضرب سے پہلے وہ گھٹنے ٹیک دے۔
آج چار برس بعد جب کہ وہ تن تنہا صحرا میں جا رہا تھا ۔اس کے ذہن میں گھوڑے دوڑ رہے تھے ۔اسے تیر کمانوں کے زنّاٹے سنائی دے رہے تھے ۔اس کے ذہن میں مسلمانوں کے نعرے گونج رہے تھے ۔اس کا خیال تھا کہ مسلمان یہ ظاہر کرنے کیلئے نعرے لگا رہے ہیں کہ انہیں موت کا کوئی ڈر نہیں ۔طنز اور نفرت سے اب بھی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرے گا ۔قیدی کم ہی بنائے گا ۔اسے ابھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ رسولِ کریمﷺ کہاں ہیں ۔اس نے دیکھا کہ ابو سفیان جو بھاگتے ہوئے قریش کو ساتھ لے کر واپس آ گیا تھا۔ مسلمانوں کی فوج کے بڑے حصے پر حملہ آور ہو چکا تھا اور مسلمان بے جگری سے لڑ رہے تھے۔ مسلمانوں نے اسے اپنی زندگی کا آخری معرکہ سمجھ کر شجاعت و بے خوفی کے ایسے ایسے مظاہرے کیے کہ کثیر تعداد قریش پریشان ہو گئی۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر خالد آگ بگولہ ہو گیا ۔اس نے اپنے سواروں کو مسلمانوں پر ہلہ بولنے کا حکم دیا۔ اس نے تلوار نیام میں ڈال لی اور برچھی ہاتھ میں لے لی ۔اس نے مسلمانوں پر عقب سے حملہ کیا ۔اس نے برچھی سے مسلمانوں کو چن چن کر مارا ۔اس کی برچھی جب کسی مسلمان کے جسم میں داخل ہوتی تو وہ چلا کر کہتا ۔”میں ہوں ابو سلیمان !“ہر برچھی کے وار کے ساتھ اس کی للکار سنائی دیتی تھی کہ” میں ہوں ابو سلیمان!“آج چار برس بعد جب وہ مسلمانوں کے مرکز مدینہ کی جانب جا رہا تھا تو اسے اپنی ہی للکار سنائی دے رہی تھی”میں ہوں ابو سلیمان !“ اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ اس کی برچھی کتنے مسلمانوں کے جسموں میں اتری تھی ۔وہ رسول اﷲﷺ کو بھول گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے پتا چلا تھا کہ مسلمان اپنے نبیﷺ کی کمان سے نکل چکے ہیں اور عکرمہ مسلمانوں کے نبیﷺ کی طرف چلا گیا ہے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ رسول اﷲﷺ کی کمان ختم ہو چکی تھی اور معرکے کی صورت حال ایسی ہو گئی تھی کہ آپﷺ مسلمانوں کو از سرِ نو منظم نہیں کر سکتے تھے لیکن آپ ﷺ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کیلئے میدانِ جنگ سے نکلنا بھی نہ چاہتے تھے۔ حالانکہ صورتِ حال ایسی تھی کہ پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا لیکن آپﷺ کسی بہتر پوزیشن میں جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ آپ ﷺکو معلوم تھا کہ قریش آپﷺ کو ڈھونڈ رہے ہوں گے اور آپﷺ کے گروہ پر بڑا شدید حملہ ہو گا۔
آپﷺ ایک پہاڑی کی طرف بڑھنے لگے ۔آپﷺ کے ساتھیوں نے آپﷺکو اپنے حلقے میں لے رکھا تھا۔ آپﷺ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ عکرمہ نے اپنے گھڑ سواروں سے آپﷺ پر حملہ کر دیا۔ قرiش کے ایک پیادہ جیش کو کسی طرح پتا چل گیا کہ رسولِ کریمﷺ پر عکرمہ نے حملہ کر دیا ہے تو قریش کا یہ پیادہ جیش بھی آپﷺ کے گروہ پر ٹوٹ پڑا۔ آپﷺ کے اور آپﷺ کے کسی ایک بھی ساتھی کے بچ نکلنے کا سوال ہی ختم ہو گیا تھا۔ آپﷺ کے تیس ساتھیوں نے اور ان دو خواتین نے جو آپﷺ کے ساتھ تھیں ۔آپﷺ کے گرد گوشت پوست کی دیوار کھڑی کر دی۔ خالد کو یاد آ رہا تھا کہ رسول اﷲﷺ جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی مشہور تھے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ آپﷺ نے عرب کے مانے ہوئے پہلوان رکانہ کو تین بار اٹھا اٹھا کہ پٹخا تھا ۔اب میدانِ جنگ میں ان کی طاقت کے ایک اور مظاہرے کا وقت آ گیا تھا ۔گوشت پوست کی وہ دیوار جو آپﷺ کے فدائین نے آپﷺ کے ارد گرد کھڑی کر دی تھی اسے آپﷺ نے خود توڑا۔آپﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی ۔ترکش میں تیر بھی تھے۔ اس وقت خالد مسلمانوں کے بڑے حصے میں الجھا ہوا تھا۔ اسے جب بعد میں بتایا گیا تھا کہ جب رسول اﷲﷺ اور ان کے تیس ساتھی اور دو عورتیں قریش کے گھڑ سواروں اور پیادوں کے مقابلے میں جم گئے تھے تو خالد نے بڑی مشکل سے یقین کیا تھا ۔اس نے ایک بار پھر کہا تھا کہ یہ طاقت جسمانی نہیں ہو سکتی، یہ کوئی اور ہی طاقت ہے ۔اس وقت سے ایک سوال اسے پریشان کر رہا تھا کہ کیا عقیدہ طاقت بن سکتا ہے ؟وہ اپنے قبیلے میں کسی سے اس سوال کا جواب نہیں لے سکتا تھا کیونکہ فوراً یہ الزام عائد ہو سکتا تھا کہ اس پر بھی محمد )ﷺ( کا جادو اثر کر گیا ہے ۔آج وہ یہی سوال اپنے ذہن میں لیے مدینہ کی طرف جا رہا تھا احد کی پہاڑی افق سے اوپر اٹھ آئی تھی ۔چار برس پرانی یادیں اسے پھر اس پہاڑی کے دامن میں لے گئیں جہاں اسے اپنا ہی نام سنائی دے رہا تھا ۔”ابو سلیمان ابو سلیمان “وہ اپنے تصور میں دیکھنے لگا کہ ان تیس آدمیوں اور دو عورتوں نے اتنے سارے گھڑ سواروں اور پیادوں کا مقابلہ کس طرح کیا ہو گا۔ رسولِ کریمﷺ اپنے دستِ مبارک سے تیر برسا رہے تھے۔ آپﷺ کے ساتھی بڑھ چڑھ کر آپﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیتے ۔ایک مؤرخ مغازی کی تحریر کے مطابق آپﷺ اپنے گرد حلقے کو بار بار توڑتے اور جدھرسے دشمن ان کی طرف بڑھتا اس پرتیر چلاتے۔آپﷺ کی جسمانی طاقت عام انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔
آپﷺ کمان کو اس قدر زور سے کھینچتے تھے کہ آپﷺ کا چھوآڑا ہوا تیر جس جسم میں لگتا تھا تیر کی نوک اس جسم کے دوسری طرف نکل جاتی تھی۔ آپﷺ نے اس قدر تیر چلائے تھے ایک تیر چلانے کیلئے آپﷺ نے کمان کو کھینچا تو کمان ٹوٹ گئی ۔آپﷺ نے اپنے ترکش میں بچے ہوئے تیر سعد بن ابی وقاصؓ کو دے دیئے ۔سعد بن ابی وقاصؓ کے نشانے کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ خود آپﷺ بھی سعد ؓکے نشانے کو تسلیم کرتے تھے۔ ادھر مسلمان ابو سفیان اور خالد کے ہاتھوں کٹ رہے تھے اور خون کا آخری قطرہ بہہ جانے تک مقابلہ کر رہے تھے ۔ادھر آپ ﷺکے تیس فدائین اور دو خواتین کی بے جگری کا یہ عالم تھا جیسے ان کے جسم نہیں ان کی روحیں لڑ رہی ہوں۔ مشہور مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ کہ ایک ایک مسلمان نے بیک وقت چار چار پانچ پانچ قریش کا مقابلہ کیا ۔ان کا انداز ایسا دہشت ناک تھا کہ قریش پیچھے ہٹ جاتے تھے یا ان پر حملہ کرنے والا اکیلا مسلمان زخموں سے چور ہو کر گر پڑتا تھا۔ قریش نے جب رسول ِاکرمﷺ کے فدائین کی شجاعت کا یہ عالم دیکھا تو کچھ پیچھے ہٹ کر ان پر تیروں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی برسانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی قریش کے چند ایک گھڑ سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے آپﷺ پر حملہ آور ہوئے لیکن آپ ﷺکے ساتھیوں کے تیر ان کے جسموں میں اتر کر انہیں واپس چلے جانے پر مجبور کردیتے تھے ۔اس صورتِ حال سے بچنے کیلئے قریش نے چاروں طرف سے تیروں اور پتھروں کا میِنہ برسا دیا۔ خالد کو عکرمہ نے بتایاتھا کہ:” ابو دجانہ‘ محمد)ﷺ (کے آگے جا کھڑے ہوئے ۔ان کی پیٹھ دشمن کی طرف تھی۔ ابو دجانہ بیک وقت دو کام کر رہے تھے ایک یہ کہ وہ اپنے تیر سعد بن ابی وقاص کو دیتے جا رہے تھے اور سعد بڑی تیزی سے تیر برسا رہے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ابو دجانہ محمد)ﷺ( کو تیروں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تیروں اور پتھروں کی بارش میں کوئی نہ دیکھ سکا کہ ابو دجانہ کس حال میں ہیں۔ جب ابو دجانہ گر پڑے تواس وقت دیکھاکہ ان کی پیٹھ میں اتنے تیر اتر گئے تھے کہ ان کی پیٹھ خار پشت کی پیٹھ لگتی تھی۔ “رسولِ اکرمﷺ کو بچانے کیلئے آپﷺ کے کئی ساتھیوں نے جان دے دی۔لیکن عکرمہ اور اسکے گھڑ سواروں اور پیادوں پر اتنی دہشت طاری ہو چکی تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گئے۔ قریش تھک بھی گئے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں کاجائزہ لیا ۔ہر طرف خون ہی خون تھا لیکن زخمیوں کو اٹھانے اور مرہم پٹی کرنے کا موقع نہ تھا۔ دشمن ایک اور ہلّہ بولنے کیلئے پیچھے ہٹا تھا ۔
”مجھے قریش کے ایک اور آدمی کا انتظار ہے۔“ رسولِ اکرمﷺنے اپنے ساتھیوں سے کہا۔” کون ہے وہ یا رسول اﷲﷺ!“ آپ ﷺکے ایک صحابیؓ نے پوچھا ۔”کیا وہ ہماری مدد کو آ رہا ہے؟“ ”نہیں! “آپﷺ نے فرمایا۔” وہ مجھے قتل کرنے آئے گا، اسے اب تک آ جانا چاہیے تھا۔“صحابی ؓ نے پوچھا” لیکن وہ ہے کون؟“”اُبی بن خلف !“آپﷺ نے فرمایا۔ابی بن خلف ‘رسولِ اکرمﷺ کے کٹر مخالفین میں سے تھا۔ وہ مدینہ کا رہنے والا تھا ۔اسے جب پتا چلا کہ رسول اﷲﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ایک روز وہ آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپﷺ کا مذاق اڑایا۔ آپﷺ نے تحمل اور بردباری سے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ”کیا تم مجھے اتناکمزور سمجھتے ہو کہ میں تمہارے اس بے بنیاد عقیدے کو قبول کرلوں گا۔“ ابی بن خلف نے گستاخانہ لہجے میں کہا تھا۔ ”میری بات غور سے سن لے محمد‘ کسی روز میرا گھوڑا دیکھ لینا اسے میں اس وقت کیلئے موٹاتازہ کر رہا ہوں جب تم قریش کو پھر کبھی جنگ کیلئے للکارو گے ۔اب بدر کے خواب دیکھنے چھوڑ دو۔میں اسی گھوڑے پر سوار ہوں گا اور تم مجھے میدانِ جنگ میں اپنے سامنے دیکھو گے اور میں اپنے دیوتاؤں کی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ تمہیں اپنے ہاتھوں قتل کروں گا۔“ ”ابی!“رسولِ خداﷺ نے مسکرا کہ کہاتھا۔” زندگی اور موت اس اﷲ کے اختیار میں ہے جس نے مجھے نبوت عطا فرمائی ہے اور مجھے گمراہ لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کا فرض سونپا ہے‘ ایسی بات منہ سے نہ نکالو جسے میرے اﷲ کے سوا کوئی بھی پورا نہ کر سکے۔یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے آؤ اور تم میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤ۔“ ابی بن خلف رسول اﷲﷺ کی اس بات پر طنزیہ ہنسی ہنس پڑا اور ہنستا ہوا چلا گیا۔ اب احد کے معرکے میں رسولِ خداﷺ کو ابی بن خلف یاد آ گیا۔ جوں ہی آپﷺ نے اس کا نام لیا تو دور سے ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا۔ سب نے ادھر دیکھا۔ ”میرے عزیز ساتھیو !“رسولِ اکرمﷺ نے اپنے
جو آپﷺ کو ہر طرف تلاش کرکر کہ تھک چکی تھیں۔ آپﷺ کے پاس آ پہنچی تھیں ۔قریب ہی ایک چشمہ تھا ۔
حضرت علیؓ وہاں سے کسی چیز میں پانی لائے اور آپﷺ کو پلایا ۔حضرت فاطمہؓ آپﷺ کے زخم دھونے لگیں ۔وہ سسک سسک کر رو رہی تھیں۔ ؓخالد کو آج یاد آ رہا تھا کہ رسولِ کریمﷺ کی شہادت کی خبر نے اسے روحانی سا اطمینان دیا تھا لیکن ایک للکار نے اسے چونکا دیا۔ وادی میں للکار کی گونج بڑی دور تک سنائی دے رہی تھی ۔کوئی بڑی ہی بلند آواز میں کہہ رہا تھا:” مسلمانو! خوشیاں مناؤ ۔ہمارے نبیﷺ زندہ اور سلامت ہیں ۔“اس للکار پر خالد کو ہنسی بھی آئی تھی اور افسوس بھی ہوا تھا۔اس نے اپنے آپ سے کہا تھا کہ کوئی مسلمان پاگل ہو گیا ہے۔ہوا یوں تھا کہ جس طرح مسلمان اِکا دُکا اِدھر ُادھر بکھر گئے یا چھپ گئے تھے ۔اسی طرح کعب بن مالکؓ نام کا ایک مسلمان اِدھر ُادھر گھومتا پہاڑی کے اس مقام کی طرف چلا گیا جہاں رسولِ اکرمﷺ سستا رہے تھے۔ اس نے نبی کریمﷺ کو دیکھا تو اس نے جذبات کی شدت سے نعرہ لگایا ”ہمارے نبیﷺ زندہ ہیں“۔ تمام مسلمان جو اکیلے اکیلے یا د دو چار چار کی ٹولیوں میں اِدھر ُادھر بکھر گئے تھے اس آواز پر دوڑ کر آئے۔ حضرت عمرؓ بھی اسی آواز پر رسولِ خداﷺ تک پہنچے تھے۔ اس سے پہلے ابو سفیان میدانِ جنگ میں پڑی ہوئی ہر ایک لاش کو دیکھتا پھر رہا تھا‘ وہ رسولِ کریمﷺ کا جسدِمبارک تلاش کر رہا تھا ۔ اسے قریش کا جو بھی آدمی ملتا اس سے پوچھتا :”تم نے
محمد کی لاش نہیں دیکھی؟“اسی تلاش میں خالد اس کے سامنے آگیا۔ ”خالد!“ ابو سفیان نے پوچھا:” تم نے محمد ﷺ
کی لاش نہیں دیکھی؟“”نہیں“۔خالد نے جواب دیا اور ابو سفیان کی طرف ذرا جھک کر پوچھا :”کیا تمہیں یقین ہے کہ محمدﷺ شھید ھو چکے ھیں"؟“
”ہاں !“ ابی سفیان نے جواب دیا:” وہ ہم سے بچ کر کہاں جا سکتاہے ۔تمہیں شک ہے؟“”ہاں ابوسفیان!“خالد نے جواب دیا ۔”میں اس وقت تک شک میں رہتا ہوں جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں ۔محمد)ﷺ( اتنی آسانی سے قتل ہوجانے والا شخص نہیں ہے۔“ ”معلوم ہوتا ہے تم پر محمد)ﷺ( کا طلسم طاری ہے۔“ ابو سفیان نے تکبر کے لہجے میں کہا۔” کیا محمد)ﷺ( ہم میں سے نہیں تھا ؟کیا تم اسے نہیں جانتے تھے۔ جو شخص اتنی قتل و غارت کا ذمہ دار ہے ۔ایک روز اسے بھی قتل ہونا ہے ۔محمد)ﷺ( قتل ہو چکا ہے۔ جاؤ اور دیکھو‘ اس کی لاش کو پہچانو۔ہم اسکا سر کاٹ کر مکہ لے جائیں گے۔“عین اس وقت پہاڑی میں سے کعب ؓبن مالک کی للکار گرجی” مسلمانو! خوشیاں مناؤ ۔ہمارے نبیﷺ زندہ سلامت ہیں۔“ پھر یہ آواز بجلی کی کڑک کی طرح گرجتی کڑکتی وادی اور میدان میں گھومتی پھرتی رہی۔”سن لیا ابو سفیان!“ خالد نے کہا ۔”اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ محمد)ﷺ(کہاں ہے۔ میں اس پر حملہ کرنے جا رہا ہوں لیکن میں تمہیں یقین نہیں دلا سکتا کہ میں محمد)ﷺ( کو قتل کر آؤں گا۔“کچھ دیر پہلے خالد نے رسولِ کریمﷺ اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑی کے اندر جاتے دیکھا تھا لیکن وہ بہت دور تھا۔ خالد ہار ماننے والا اور اپنے ارادے کوادھورا چھوڑنے والا آدمی نہیں تھا ۔اس نے اپنے چند ایک سواروں کو ساتھ لیا اورپہاڑی کے اس مقام کی طرف بڑھنے لگا جدھر اس نے رسولِ کریمﷺ کو جاتے دیکھا تھا۔ مشہور مؤرخ ابن ہشام کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے جب خالد کو اپنے سواروں کے ساتھ اس گھاٹی پر چڑھتے دیکھا جہاں آپﷺ تھے تو آپﷺ کے منہ سے بے ساختہ دعا نکلی” خدائے ذوالجلال! انہیں اس وقت وہیں کہیں روک لے۔“خالد اپنے سواروں کے ساتھ گھاٹی چڑھتا جا رہا تھا۔و ہ ایک درہ سا تھا جوتنگ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ گھوڑوں کو ایک قطار میں ہونا پڑا۔ رسولِ کریمﷺ زخموں سے چور پڑے تھے ۔حضرت عمرؓ نے جب خالد اور اس کے سواروں کو اوپر آتے ہوئے دیکھا تو وہ تلوار نکال کر کچھ نیچے اترے۔ ”ولید کے بیٹے !“حضرت عمرؓ نے للکارا۔”اگر لڑائی لڑنا جانتے ہو تو اس درّہ کی تنگی کو دیکھ لو۔ اس چڑھائی کو دیکھ لو ۔کیا تم اپنے سواروں کے ساتھ ہمارے ہاتھ سے بچ کر نکل جاؤ گے؟“ خالد لڑنے کے فن کو خوب سمجھتا تھا ۔اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ جگہ گھوڑوں کو گھما پھرا کر لڑانے کیلئے موزوں نہیں ہے بلکہ خطرناک ہے ۔خالد نے خاموشی سے اپنا گھوڑا گھمایا اور اپنے سواروں کے ساتھ وہاں سے نیچے اتر آیا ۔
جنگِ اُحد ختم ہو چکی تھی۔ قریش اس لحاظ سے برتری کا دعویٰ کر سکتے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچایا لیکن یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ ”لیکن یہ ہماری شکست تھی۔“ خالد کو جیسے اپنی آواز سنائی دی۔ ”مسلمانوں کی نفری سات سو تھی اور ہم تین ہزار تھے۔ ہمارے پاس دو سو گھوڑے تھے ۔ہماری فتح تب ہوتی جب ہم محمد)ﷺ( کو قتل کردیتے۔“خالد نے اپنے آپ میں جھنجھناہٹ محسوس کی۔ اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ اس کے دانت بجنے لگے۔ اسے جنگ کا آخری منظر یاد آنے لگا تھا۔ اُس نے اِس بھیانک یاد کو ذہن سے نکالنے کیلئے سر کو جھٹکا دیا لیکن مکھیوں کی طرح یہ یاد اس کے ارد گرد بھنبھناتی رہی۔ اسے اپنے آپ میں شرم سی محسوس ہونے لگی ۔جنگجو یوں نہیں کیا کرتے ۔خالد جب حضرت عمرؓ کی للکار پر واپس آ رہا تھا تو اس بلندی سے اس کی نظر میدانِ جنگ پر پڑی ۔وہاں لاشیں بکھری ہوئی تھیں ۔شاید ان میں بے ہوش زخمی بھی ہوں گے۔ لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کیلئے نہ ابھی مسلمان آگے بڑھے تھے نہ اہلِ قریش ۔خالد کو ابو سفیان کی بیوی ہند نظر آئی ۔وہ ہاتھ میں خنجر لیے ہوئے دوڑے چلی آ رہی تھی۔ اس کے اشارے پر قریش کی وہ عورتیں جو قریش کے لشکر کے ساتھ آئی تھیں اس کے پیچھے پیچھے دوڑی آئیں۔ ہند ہر ایک لاش کو دیکھتی تھی ۔وہ اونچے قد کی اور فربہی مائل جسم کی پہلوان قسم کی عورت تھی۔ وہ ہر ایک لاش کو دیکھتی تھی۔ کوئی لاش اوندھے منہ پڑی ہوئی نظر آتی تو وہ پاؤں کی ٹھوکر سے اس لاش کو سیدھا کر کے دیکھتی تھی۔ اس نے اپنے ساتھ کی عورتوں سے کہا کہ وہ حمزہؓ کی لاش تلاش کریں۔ اسے حمزہ ؓکی لاش مل گئی۔
*جاری ھے*
بقیہ اگلی قسط
*نمبر 4* میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر -4 )*
اسے حمزہ ؓکی لاش مل گئی۔ ہند بھوکے درندے کی طرح لاش کو چیرنے پھاڑنے لگی ۔اس نے لاش کے کچھ اعضاءکاٹ کر پرے پھینک دیئے۔ اس نے دوسری عورتوں کو دیکھا جو اس کے قریب کھڑی تھیں ۔
”کھڑی دیکھ کیا رہی ہو؟“ ہند نے ان عورتوں سے یوں کہا جیسے وہ پاگل ہو چکی ہو ۔”یہ دیکھو میں نے اپنے باپ ،اپنے چچا اور اپنے بیٹے کے قاتل کی لاش کا کیا حال کر دیا۔ جاؤ مسلمانوں کی ہر ایک لاش کا یہی حال کردواور سب کے کان اور ناک کاٹ کر لے آؤ۔“
اب وہ عورتیں مسلمانوں کی لاشوں کو چیرنے پھاڑنے کیلئے وہاں سے ہٹ گئیں.
’’محمد(ﷺ) کے پیروکارو !‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے کہا ۔’’کیا تم میں محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘
رسولِ کریمﷺ نے آواز سنی تو اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہیں ۔ابو سفیان نے اپنا سوال اور زیادہ بلند آواز سے دہرایا۔ا ب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔’’کیا ابو بکر تم میں زندہ موجود ہے ؟‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے پوچھا۔ اب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔تین بار پوچھنے کے باوجود بھی مسلمان خاموش رہے۔’’ کیا عمر زندہ ہے؟‘‘ ابوسفیان نے پوچھا۔اب کے بھی مسلمانوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ابو سفیان نے گھوڑے کو دوڑایا۔ اس نے نیچے دیکھا ۔قریش کے بہت سے آدمی رسولِ اکرمﷺ کے متعلق صحیح خبر سننے کو بیتاب کھڑے تھے۔ ’’اے اہلِ قریش!‘‘ ابو سفیان نے چلّا کر اعلان کیا ۔’’محمد)ﷺ شھید ھو چکا ھے..
ابو بکر و عمر بھی زندہ نہیں۔
اب مسلمان تمہارے سائے سے بھی ڈریں گے۔ خوشیاں مناؤ ،ناچو۔‘‘اہلِ قریش ناچنے اور ہلڑ مچانے لگے لیکن گرجتی ہوئی ایک آواز نے انہیں خاموش کر دیا۔ ’’اے خدا کے دشمن !‘‘درّے کے بلندی سے حضرت عمرؓ کی آواز گونجی۔’’ اتنا جھوٹ نہ بول ،وہ تینوں زندہ ہیں جن کے نام لے کہ تو انہیں مردہ کہہ رہا ہے۔ اپنے قبیلے کو دھوکہ مت دے۔ تجھے تیرے گناہوں کی سزا دینے کیلئے ہم سب زندہ ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور بلند آواز سے بولا۔’’ ابنِ الخطاب! تیرا خدا تجھے ہم سے محفوظ رکھے ۔کیاتو اب بھی ہمیں سزا دینے کی بات کر رہا ہے؟ کیا تو یقین سے کہتا ہے کہ محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘’’اﷲ کی قسم! ہمارے نبیﷺ زندہ ہیں ‘‘۔حضرت عمرؓ ابنِ الخطاب کی آوا ز جواب میں گرجی۔’’ اﷲ کے رسولﷺ تمہارا ایک ایک لفظ سن رہے ہیں ۔‘‘عربوں میں رواج تھا کہ ایک معرکہ ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے سردار یا سالار ایک دوسرے پر طعنوں اور پھبتیوں کے تیر برسایا کرتے تھے۔ ابو سفیان اسی دستور کے مطابق دور کھڑا حضرت عمرؓ سے ہم کلام تھا ۔’’تم ہبل اور عزیٰ کی عظمت کو نہیں جانتے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔ حضرت عمرؓ نے رسولِ اکرمﷺ کی طرف دیکھا ۔آپﷺ اونچا بول نہیں سکتے تھے ۔آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو بتایا کہ وہ ابو سفیان کو کیا جواب دیں ۔’’او باطل کے پجاری۔‘‘ حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ اﷲ کی عظمت کو پہچان ،جو سب سے بڑاا ور سب سے زیادہ طاقت والا ہے۔‘‘’’ہمارے پاس ہبل جیسا دیوتا اور عزیٰ جیسی دیوی ہے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’کیا تمہارے پاس کوئی ایسا دیوتا یا دیوی ہے؟‘‘
’’ہمارے پاس اﷲ ہے۔‘‘ رسولِ کریمﷺ نے حضرت عمر ؓکی زبان سے کہلوایا۔ جو حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ تمہارا خدا کوئی نہیں ۔‘‘جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا ۔ابو سفیان نے کہا ۔’’تم نے بدر میں فتح پائی تھی، ہم نے اس پہاڑی کے دامن میں تم سے انتقام لے لیا ۔اگلے سال ہم تمہیں بدر کے میدان میں ہی مقابلے کیلئے للکاریں گے ۔‘‘’’انشاء اﷲ !‘‘حضرت عمر ؓنے رسول اﷲﷺ کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے۔’’ اب تمہارے ساتھ ہماری ملاقات بدر کے میدان میں ہی ہو گی۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا گھوڑا دو قدم ہی چلا ہو گا کہ اس نے گھوڑے کو روک دیا۔ ’’اے عمر، ابو بکر اور محمد)ﷺ(!‘‘ ابو سفیان نے اب کے ذرا ٹھہری ہوئی آواز میں کہا۔’’ تم جب میدان سے اپنی لاشیں اٹھاؤ گے تو تمہیں کچھ ایسی لاشیں بھی ملیں گی جن کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں گے اور انہیں چیرا پھاڑا گیا ہو گا۔ خدا کی قسم! میں نے کسی کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور میں نے تمہاری لاشوں کے ساتھ یہ سلوک بالکل بھی پسند نہیں کیا ۔اگر اس کا الزام مجھ پر عائد کرو گے تو میں اسے اپنی توہین سمجھوں گا ۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا اور گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔چلتے چلتے خالد کے گھوڑے نے اپنے آپ ہی رخ بدل لیا۔ خالد نے گھوڑے کو نہ روکا ۔وہ سمجھ گیاکہ گھوڑے نے پانی کی مشک پا لی ہے۔ کچھ دور جا کر گھوڑا نیچے اترنے لگا ۔خالد کو یہ مقام یاد آ گیا۔ جنگِ احد کے بعد واپسی پر قریش نے کچھ دیر یہاں پر قیام کیا تھا۔ نیچے پانی کا خاصا ذخیرہ موجود تھا۔ گھوڑا بڑا تیزی سے گھاٹی اتر گیا اور پانی پر جا رکا ۔خالد گھوڑے سے کود کر نیچے اترا اور دو زانو ہو کر چلو بھر بھر کر اپنے چہرے پر پانی پھینکنے لگا
۔ذرا سستانے کیلئے بھربھر ی سی ایک چٹا ن کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب احد کے معرکے کے بعد اہلِ قریش واپس آ ئے تھے۔ انہوں نے مدینہ سے کچھ دور آ کر قیام کیا تھا ۔اس قیام کے دوران قریش کے سردار اس بحث میں الجھ گئے تھے کہ واپس مکہ پہنچا جائے یا مسلمانوں پر ایک اور حملہ کیا جائے۔ صفوان بن امیہ نے کہا تھا۔’’ ہم شکست کھا کر نہیں آئے ۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مسلمانوں کی حالت بہت بری ہے تو اپنی حالت دیکھو ۔ہماری حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ اب مسلمانوں کے ساتھ اتنی جلدی لڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے ۔ہو سکتا ہے قسمت ہمارا ساتھ نہ دے۔‘‘
جب یہ بحث جاری تھی تو قریش کے کچھ آدمی دو مسافروں کو پکڑ کر سرداروں کے سامنے لے آئے ۔انہیں بتایا گیا کہ یہ دونوں آدمی جو اپنے آپ کو مسافر کہتے ہیں ہمارے خیموں کے اردگرد گھوم پھر رہے تھے اور ہمارے چار پانچ آدمیوں سے انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ان دونوں نے ابو سفیان اور دوسرے سرداروں کے سامنے بھی یہی بیان دیئے کہ وہ مسافر ہیں اور کسی جگہ کا نام لے کر کہاکہ وہ ادھر جارہے ہیں ۔ابو سفیان کے حکم سے ان کے پھٹے پرانے کپڑے جو انہوں نے پہن رکھے تھے۔اتر وائے گئے تو اندر سے خنجر اور تلواریں برآمد ہوئیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ ہتھیار چھپا کر کیوں رکھے ہیں؟ خالد کی نظر بہت تیز تھی۔ اسے شک ہوا کہ یہ مسلمانوں کے جاسوس ہیں ۔ان دونوں کو قریش کی فوج کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور پوچھا گیا کہ انہیں کوئی پہچانتا ہے ؟دو تین آوازیں آئیں کہ ’’ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔یہ یثرب )مدینہ( کے رہنے والے ہیں۔‘‘ ’’اس ایک کومیں اچھی طرح جانتا ہوں ۔‘‘قریش کے آدمی نے اٹھ کر کہا۔’’ اسے میں نے اپنے خلاف لڑتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘’’تم اپنی زبان سے کہہ دو کہ تم محمد کے جاسوس ہو ۔‘‘ابو سفیان نے ان دونوں سے کہا۔’’ اور جاؤ میں تمہاری جان بخشی کرتا ہوں۔‘‘ دونوں میں سے ایک نے اعتراف کر لیا۔ ’’جاؤ!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’ہم نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ دونوں جو واقعی مسلمانوں کے بھیجے ہوئے جاسوس تھے اور قریش کے عزائم معلوم کرنے آئے تھے ۔ہنسی خوشی اپنے اونٹوں کی طرف چل پڑے ۔ابو سفیان کے اشارے پر کئی ایک تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈالے اور پیچھے سے ان دونوں مسلمانوں پر چلا دیئے۔ دونوں کئی کئی تیر اپنے جسم میں لے کر گرے پھر اٹھ نہ سکے۔’’ کیا تم اس کا مطلب سمجھتے ہو؟‘‘ ابو سفیان نے اپنے قریب کھڑ ے سرداروں سے کہا۔’’ جاسوس بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہارے نہیں۔ وہ ابھی یا کچھ ہی عرصے بعد ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔فوراً مکہ کو کوچ کرو اور اگلی جنگ کی تیاری کرو۔‘‘ اگلے روز رسولِ اکرمﷺ کو کسی نے آ کر بتایا کہ ا ہل ِقریش نے جہاں پڑاؤ کیا تھاوہاں اپنے دونوں جاسوسوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور اہلِ قریش مکہ کو روانہ ہو گئے ہیں-
خالد نے یہ پہلی جنگ لڑی ۔لیکن وہ سمجھتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ آج چار برس بعد وہ اس سوچ میں غرق تھا کہ مسلمانوں کی یہ طاقت عام انسانوںکی طاقت نہیں تھی کوئی راز ہے جسے وہ ابھی تک نہیں پا سکا۔ اسے اہلِ قریش کی کچھ خامیاں یاد آنے لگیں۔ کچھ باتیں اور کچھ اعمال اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ اسے یہودیوں کی دو بڑی خوبصورت عورتیں بھی یاد آئیں جو اہلِ قریش کے سواروں میں گھل مل گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی اپنے نسوانی حسن کے جادو سے اہلِ قریش پر چھا جانے کی اور انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ اسے پسند نہ تھا لیکن ان میں سے ایک عورت ایک روز خالد سے ملی تو خالد نے محسوس کیا کہ یہ عورت جو کچھ کہہ رہی ہے اس میں عقل و دانش ہے۔ اس عورت کے حسن و جوانی کا اپنا ایک اثر تھا لیکن طلسم جو اس کی زبان میں تھا اس کا اثر خالد نے بھی محسوس کیا تھا۔ کچھ دیر تک یہ عورت خالدکے خیالوں پر چھائی رہی۔ اسکا گھوڑا ہنہنایا تو خالد جیسے خواب سے بیدار ہو گیا۔ وہ تیزی سے اٹھا، گھوڑے پر سوار ہوا اور پھر مدینہ کے راستے پر ہو لیا۔ولید کا بیٹا خالد شہزادہ تھا ۔عیش و عشرت کا بھی دلدادہ تھا لیکن فنِ حرب و ضرب کا جنون ایسا تھا کہ عیش و عشرت کو اس جنون پر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔
مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے وہ حسین و جمیل یہودن یاد آئی جس کا نام’’ یو حاوہ ‘‘تھا۔ اس نے اس یہودن کو ذہن سے نکال دیا لیکن یوحاوہ رنگ برنگی تتلی بن کر اس کے ذہن میں اڑتی رہی۔ خالد اسے ذہن سے نکال نہ سکا۔ خالد کے ذہن میں اڑتی ہوئی اس تتلی کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ۔پھر تمام رنگ مل کر سرخ ہو گئے۔ خون جیسے سرخ ۔یہ ایک بھیانک یاد تھی۔ خالد نے اسے ذہن سے اگل دینے کی بہت کوشش کی لیکن تتلی جو زہریلی بھڑ بن گئی تھی۔ اس کے ذہن سے نہ نکلی۔ یہ معرکہ احد کے تین چار ماہ بعد کا ایک واقعہ تھا۔ یہ ایک سازش تھی جس میں وہ شریک نہ تھا لیکن وہ قبیلہ قریش کا ایک بڑا ہی اہم فرد تھا ۔مسلمانوں کے خلاف کسی سازش میں شریک نہ ہونے کے باوجود وہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس میں شریک نہ تھا۔ معرکہ احد میں زخمی ہونے والے بعض اہلِ قریش کے زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تھے کہ ایک روز خالد کو خبر ملی کہ مدینہ سے چھ مسلمان تبلیغِ اسلام کیلئے رجیع کی طرف جا رہے تھے کہ عفان سے تھوڑی دور ایک غیر مسلم قبیلے نے انہیں روک لیا اور ان میں سے دو کو مکہ لایا گیا اور انہیں نیلام کیا جا رہا ہے ۔
خالد دوڑتا ہوا وہاں گیا ۔وہ دو مسلمان خبیبؓ بن عدی، اور زیدؓ بن الدثنہ تھے۔ خالد دونوں کو جانتا پہچانتا تھا ۔وہ اسی کے قبیلے کے افراد ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ان میں حب رسولﷺ کا یہ عالم تھا کہ رسولِ خدا ﷺ پر جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔ رسولِ خداﷺ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ خالد نے دیکھا کہ انہیں ایک چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا تھا اور اردگرد اہلِ قریش کا ہجوم تھا۔ ایک غیر مسلم قبیلے کے چار افراد ان کے پاس کھڑے تھے ۔دونوں کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔’’یہ دونوں مسلمان ہیں۔‘‘ ایک آدمی چبوترے پر کھڑا علان کر رہا تھا۔’’ یہ دونوں احد میں تمہارے خلاف لڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں تمہارے عزیز اور خون کے رشتے دار مارے گئے تھے ۔ہے کوئی جو انتقام کی آگ بجھانا چاہتا ہے ؟انہیں خریدو انہیں اپنے ہاتھوں قتل کرو،اور خون کے بدلے خون بہاؤ ۔یہ آدمی سب سے اونچی بولی دینے والے کو ملیں گے ۔بولو؟‘‘ ’’دو گھوڑے۔‘‘ ایک آواز آئی۔’’بولو بڑھ کر بولو۔‘‘’’دو گھوڑے ایک اونٹ ۔‘‘ایک اور آواز آئی۔’’گھوڑوں اونٹوں کو چھوڑو ۔سونے میں بولی دو۔سونا لاؤ، دشمن کے خون سے انتقام کی پیاس بجھاؤ۔‘‘وہ لوگ جن کے قریبی رشتے دار احد کی لڑائی میں مارے گئے تھے ۔بڑھ چڑھ کر بولی دے رہے تھے۔ خبیب ؓاور زیدؓ چپ چاپ کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف نہ تھا گھبراہٹ نہیں تھی ۔ہلکی سی بے چینی بھی نہیں تھی ۔خالد ہجوم کو چیرتا ہوا آگے چلا گیا۔’’او قریش کے سردار کے جنگجو بیٹے !‘‘خبیبؓ نے خالد کو دیکھ کر بڑی بلند آواز سے کہا۔’’تیرا قبیلہ ہم دونوں کا خون بہا کر اس مقدس آواز کو خاموش نہیں کر سکتا جو غارِ حرا سے اٹھی ہے ۔لا اپنے قبیلے کا کوئی نامور لڑاکا اور میرے ہاتھ کھلوادے پھر دیکھ کون کس کے خون سے پیاس بجھاتا ہے؟‘‘’’میدانِ جنگ میں پیٹ دکھانے والو! ‘‘زیدؓ نے گرجدار آواز میں کہا۔’’ تم نے شکست کا انتقام ہمارے بھائیوں کی لاشوں سے لیا ۔تمہاری عورتوں نے احد کے میدان میں ہماری لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کے ہار اپنے گلوں میں لٹکائے ہیں۔‘‘ آج چار برس بعد مدینہ کی طرف جاتے ہوئے خالد کو خبیب ؓاور زیدؓ کی للکار اور طعنے صاف سنائی دے رہے تھے۔ وہ زیدؓ کے طعنے کو برداشت نہیں کر سکا تھا۔ آج چار برس بعد اسے یہ طعنہ یاد آیا تو بھی اس کے جسم میں جھرجھری لی ۔
اسے احد کے میدان کا وہ منظر یاد آیا جب ابو سفیان کی بیوی ہند نے حمزہؓ کی لاش کا کلیجہ نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور چبا کر اگل دیا تھا ۔اسی عورت نے اپنے ساتھ کی عورتوں سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کی لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ لائیں ۔ان عورتوں نے اس کے آگے کانوں اور ناکوں کا ڈھیر لگا دیا تھا۔ ہند نے ان کا نوں اور ناکوں کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈال لیا تھا اور وہ پاگلوں کی طرح میدان میں ایک گیت گاتی اور ناچتی پھری تھی ۔اس منظر کو اس کے خاوند ابو سفیان نے پسند نہیں کیا تھا ۔خالد نے تو نفرت سے منہ پھیر لیا تھا۔تین چار ماہ بعد دو مسلمان جن کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔اسے طعنے دے رہے تھے ۔وہ اوچھے طریقے سے انتقام لینے والا آدمی نہیں تھا۔ وہ یہاں سے کھسک آیا اور اہلِ قریش کے ہجوم میں گم ہو گیا۔اسے اس قبیلے کا ایک آدمی مل گیاجو ان دو مسلمانوں کو پکڑ لایا تھا۔ کسی بھی تاریخ میں ا س قبیلے کا نام نہیں ہے۔ مؤرخوں نے بھی ہشام کے حوالے سے ایک جنگجو قبیلہ لکھا ہے جو قریش کا اتحادی تھا۔ خالد نے اس جنگجو قبیلے کے اس آدمی سے پوچھا کہ ان دو مسلمانوں کو کس طرح پکڑا گیا۔’’ خدا کی قسم! ‘‘اس آدمی نے کہا۔’’ کہو تو ہم ان مسلمانوں کے رسول کو پکڑ لائیں اور نیلامی کے چبوترے پر کھڑا کر دیں ۔‘‘’’تم جو کام نہیں کر سکتے اس کی قسم نہ کھاؤ۔‘‘خالد نے کہا ۔’’مجھے بتاؤ کہ ان دو کو کہاں سے پکڑا گیا ہے ؟‘‘یہ چھ تھے ۔اس شخص نے جواب دیا۔’’ ہم نے احد میں مارے جانے والوں کا انتقام لیا ہے۔ آئندہ بھی ایسے ہی انتقام لیتے رہیں گے۔ ہمارے قبیلے کے کچھ آدمی مدینہ میں محمد)ﷺ( کے پاس گئے اور کہا کہ وہ اسلام قبول کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا پورا قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر چکا ہے لیکن پورا قبیلہ مدینہ نہیں آ سکتا۔ ہمارے ان آدمیوں نے محمد )ﷺ(سے کہا کہ ان کے ساتھ چند ایک مسلمانوں کو ان کے قبیلے میں بھیجا جائے جو پورے قبیلے کو مسلمان کرے اور پھر قبیلے کو مذہبی تعلیم دینے کیلئے کچھ عرصہ وہیں رہے۔‘‘’’ہمارے یہ آدمی جب واپس آئے تو ان کے ساتھ چھ مسلمان تھے ۔ادھر ہمارے سردار شارجہ بن مغیث نے ایک سو آدمیوں کو رجیع کے مقام پر بھیج دیا ۔جب یہ چھ مسلمان رجیع پہنچے تو ہمارے ایک سو آدمیوں نے انہیں گھیر لیا۔ تم سن کر حیران ہو گے کہ یہ چھ مسلمان تلواریں نکال کر ایک سو آدمیوں سے مقابلے پر آگئے ۔ہم نے تین کو مار ڈالا اور تین کو پکڑ لیا۔ان کے ہاتھ رسیوں سے باندھ دیئے ۔شارجہ بن مغیث نے حکم دیا تھا کہ مدینہ سے کچھ مسلمان تمہارے دھوکے میں آکر تمہارے ساتھ آ گئے تو ان میں سے دو تین کو مکہ لے جانا اور انتقام لینے والوں کے ہاتھوں فروخت کر دینا۔‘‘
’’ہم تین کو ادھر لا رہے تھے۔ راستے میں ان میں سے ایک نے رسیوں میں سے ہاتھ نکال لیے مگر وہ بھاگا نہیں۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ اس نے ہمارے ایک آدمی کی نیام سے تلوار نکال لی کیونکہ اسے ہم نے نہتا کر رکھا تھا۔ اس نے بڑی تیزی سے ہمارے دو آدمیوں کو مار ڈالا۔ اکیلا آدمی اتنے سارے آدمیوں کا مقابلہ کب تک کرتا؟ وہ مارا گیااور ہم نے اس کے جسم کا قیمہ کر دیا ۔یہ دو رہ گئے۔ ہم نے ان کے ہاتھ اور زیادہ مضبوطی سے باندھ دیئے اور یہاں لے آئے ۔‘‘’’اور تم خوش ہو؟‘‘خالد نے اسے طنزیہ کہا ۔’’محمد)ﷺ( کیا کہے گا اہلِ قریش اور ان کے دوست قبیلے اتنے بزدل ہو گئے ہیں کہ اب دھوکہ دینے اور چھ آدمیوں کو ایک سو سے مروانے پر اتر آئے ہیں؟ کیا تم نے مجھے یہ بات سناتے شرم محسوس نہیں کی؟کیا ان ایک سو آدمیوں نے اپنی ماؤں کو شرمسار نہیں کیا؟جن کا انہوں نے دودھ پیا ہے؟‘‘’’تم نے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا ولید کے بیٹے!‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’ کیا تم محمد)ﷺ( کی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہو؟بدر میں ایک ہزار قریش تین سو تیرہ مسلمانوں سے مار کھا آئے تھے۔احد کی لڑائی میں محمد)ﷺ( کے پیروکار کتنی تعداد میں تھے۔سات سو سے کم ہوں گے زیادہ نہیں۔قریش کتنے تھے؟ہزاروں ۔سن خالد بن ولید۔محمد )ﷺ(کے ہاتھ میں جادو ہے۔ جہاں جادو چلتا ہے وہاں تلوار نہیں چل سکتی۔‘‘’پھر تمہاری تلوار کس طرح چل گئی؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’
اگر محمد کے ہاتھ میں جادو ہے تو وہ تمہارے سردار شارجہ بن مغیث کے دھوکے میں کس طرح آگیا ؟اس کے چار آدمیوں کو کس طرح مار ڈالا؟ان دو کو محمد)ﷺ( کا جادو آزاد کیوں نہیں کرا دیتا؟تم جس چیز کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے اسے جادو کہہ دیتے ہو۔‘‘’’ہم نے جادو کو جادو سے کاٹا ہے۔‘‘ شارجہ بن مغیث کے قبیلے کے آدمی نے کہا۔’’ ہمارے پاس یہودی جادوگر آئے تھے ۔انکے ساتھ تین جادوگرنیاں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک کا نام یوحاوہ ہے ۔ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ایک گھنی جھاڑی میں سے ایک برچھی زمین سے سرکتی ہوئی باہر آئی ۔
یہ برچھی جھاڑی میں واپس چلی گئی اور سانپ بن کر واپس آئی۔یہ سانپ واپس جھاڑی میں چلا گیا ۔‘‘مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے یہ واقعہ یاد آ رہا تھا ۔وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن زہریلی بھڑوں کی طرح یہ یاد اس کے اوپر بھنبھناتی رہی۔اسے یوحاوہ یاد آئی۔ وہ جادو گرنی تھی یا نہیں۔ا س کے حسن میں، جسم کی ساخت، مسکراہٹ اور بولنے کے انداز میں جادو تھا۔ اس نے شارجہ بن مغیث کے اس آدمی کے منہ سے یوحاوہ کا نام سنا تو وہ چونکا۔
معرکہ احد کے بعد جب اہلِ قریش کی فوج مکہ واپس آئی تھی تو مکہ کے یہودی ایسے انداز سے ابو سفیان ،خالد اور عکرمہ کے پاس آئے تھے جیسے احد میں یہودیوں کو شکست ہوئی ہو۔ یہودیوں کے سرداروں نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ مسلمانوں کو شکست نہیں ہوئی اور لڑائی ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی ہے، تو یہ قریش کی شکست ہے۔ یہ یہودیوں کی ناکامی ہے ۔یہودیوں نے اہلِ قریش کے ساتھ اس طرح ہمدردی کا اظہار کیا تھا جیسے وہ اہلِ قریش کی ناکامی پر غم سے مرے جا رہے ہیں ۔انہی دنوں خالد نے پہلی بار یوحاوہ کو دیکھا تھا۔ وہ اپنے گھوڑے کی ٹہلائی کیلئے آبادی سے باہر نکل گیا تھا۔جب وہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں اسے یوحاوہ مل گئی ۔
تمہاری شکست ہماری شکست ہے۔ اب ہم تمہارا ساتھ دیں گے لیکن تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تم ہمیں اپنے ساتھ نہیں دیکھ سکو گے۔۔‘‘خالد نے یوں محسوس کیا جیسے اس کی زبان بند ہو گئی ہو۔ تلواروں برچھیوں اور تیروں کی بوچھاڑوں کا مقابلہ کرنے والا خالد یوحاوہ کی مسکراہٹ کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ ’’اگر یہودی ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے تو ہمارے کس کام آ سکیں گے؟‘‘ خالد نے پوچھا۔’’ کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف تیر ہی انسان کے جسم سے پار ہو جاتا ہے؟‘‘ یوحاوہ نے کہا ۔’’عورت کا تبسم تم جیسے دلیر اور جری مردوں کے ہاتھوں سے تلوار گرا سکتا ہے۔‘‘ خالد اس سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن کچھ پوچھ نہ سکا ۔یوحاوہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پھولوں کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر تبسم آ گیا ۔یوحاوہ آگے چل پڑی ۔خالد اسے دیکھتا رہا ۔ اس کے گھوڑے نے کھر مارا تو خالد اپنے آپ میں آ گیا۔ وہ بڑی تیزی سے گھوڑے پر سوار ہوا اور چل پڑا۔ کچھ دور آ کر اس نے پیچھے دیکھا ۔یوحاوہ رک کر اسے دیکھ رہی تھی۔ یوحاوہ نے اپنا ہاتھ ذرا اوپر کر کے لہرایا ۔
اب جب کہ دو مسلمانوں کو نیلام کیا جا رہا تھا اور خالد کو ایک آدمی نے بتایا تھا کہ ان مسلمانوں کو کس طرح دھوکے میں لایا گیا ہے اور اس آدمی نے یوحاوہ کا نام بھی لیا تو اس نے ارادہ کر لیا کہ معلوم کرے گا کہ یوحاوہ نے وہ جادو کس طرح چلایا ہے۔ اسے اپنے قبیلے کاایک سرکردہ آدمی مل گیا۔ اس سے اسے پتا چلاکہ یہ مسلمان اہلِ قریش کے ہاتھ کس طرح آئے ہیں ۔تین چار سرکردہ یہودی یوحاوہ اور دو تین اور یہودیوں کو ساتھ لے کر شارجہ بن مغیث کے پاس چلے گئے ۔یہ قبیلہ تھا تو جنگجو لیکن اس پر مسلمانوں کارعب کچھ اس طرح طاری ہو گیاتھا جیسے لوگ جادوگروں سے ڈرتے تھے۔ اس قبیلے میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ رسولِ اکرمﷺ کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے۔ یہودیوں نے اپنی زمین دوز کارروائیوں کیلئے اس قبیلے کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ جنگجو قبیلہ تھا ۔یہودی بڑی دانشمند قوم تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر مسلمانوں کے جادو کا وہم پھیل گیا تو دوسرے قبیلے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ یہ یہودی اس قبیلے کے سردار شارجہ بن مغیث کے پاس گئے اور اس کا یہ وہم دور کرنے کیلئے کہ مسلمان جادوگر ہیں ،اسے بہت کچھ کہا۔ لیکن شارجہ بن مغیث نے تسلیم نہ کیا۔رات کو یہودیوں کے کہنے پر شارجہ بن مغیث نے ان مہمانوں کی ضیافت کا انتظام باہر کھلے آسمان تلے کیا۔ ان یہودیوں نے اپنے ہاتھوں اپنے میزبانوں کو شراب پلائی۔شارجہ بن مغیث اور اس کے قبیلے کے چند ایک سرکردہ افراد کوجو شراب پلائی گئی اس میں یہودیوں نے کوئی سفوف سا ملا دیا تھا، پھر یہودیوں نے اپنے جادو کے کچھ شعبدے دکھائے۔یوحاوہ نے اپنے حسن کا جادو چلایا۔ اس کا ذریعہ ایک رقص بھی تھا جس میں یہ یہودنیں نیم ہرہنہ تھیں۔ ناچتے ناچتے ان کے جسموں پر جو ادھورے سے لباس تھے وہ بھی سرک کر زمین پر جا پڑے ۔یہودی اپنے سازندے ساتھ لے گئے تھے۔
اگلے روز جب شارجہ بن مغیث کی آنکھ کھلی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ بڑے ہی حسین خواب سے جاگا ہو۔ اس کے خیالات بدلے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ پھر اپنے قبیلے کے دوسرے سرداروں کیساتھ یہودیوں کے پاس بیٹھا تھا۔ یہودنیں بھی وہاں موجود تھیں۔ یوحاوہ کو دیکھ کر وہ بے قابو ہو گیا۔ اس نے لپک کریوحاوہ کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔’’ضروری نہیں کے دشمن کو میدان میں للکار کر اسے شکست دی جائے ۔‘‘ایک یہودی نے کہا ۔’’ہم مسلمانوں کو دوسرے طریقوں سے بھی ختم کر سکتے ہیں اس کا ایک طریقہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔‘‘خالد کو بتایا گیا کہ ان چھ مسلمانوں کو مدینے سے دھوکے سے لانے کا یہ طریقہ یہودیوں نے بتایا تھا اور شارجہ بن مغیث نے جو آدمی رسولِ کریمﷺ کے پاس بھیجے تھے ان میں ایک یہودی بھی تھا ۔خالد مسلمانوں کو اپنابد ترین دشمن سمجھتا تھا لیکن اسے یہ غیر جنگی طریقے اچھے نہیں لگتے تھے۔
*جاری_ہے*
بقیہ اگلی قسط
*نمبر ۵* میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment