02 *شمشیرِ بے نیام
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-35)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مجاہدین مالِ غنیمت لا لا کر ایک جگہ جمع کر رہے تھے۔سالار ابو لیلیٰ کے پاس ایک بہت ہی حسین لڑکی کو لایاگیا۔اس نے درخواست کی تھی کہ اسے سالارِ اعلیٰ یا کسی سالار کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی جائے۔’’یہ ایک سردار کی بیٹی ہے۔‘‘اسے لانے والے سالار نے ابو لیلیٰ سے کہا۔’’سالار کا نام ربیعہ بن بجیر بتاتی ہے۔یہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔‘‘’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘ابو لیلیٰ نے لڑکی سے پوچھا۔’’صابحہ!‘‘لڑکی نے جواب دیا۔’’صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر
……میرے باپ کو لڑنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔‘‘’’کیا تو یہی بات کہنے کیلئے ہمارے سالارِ اعلیٰ سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘سالار ابو لیلیٰ نے پوچھا۔’’جنہیں لڑنے کا موقع ملا تھا، کیا تو نے ان کا انجام نہیں دیکھا؟……اب بتا تُو چاہتی کیا ہے!‘‘’’تم لوگ مجھے اجازت نہیں دو گے کہ میں لاشوں میں ایک آدمی کی لاش ڈھونڈ لوں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اس کا نام بلال بن عقہ ہے۔‘‘’’کیا جلی ہوئی لکڑیوں کے انبار میں کسی ایک خاص درخت کی لکڑی کو ڈھونڈ لے گی؟‘‘ابولیلیٰ نے پوچھا۔’’تو اسے ڈھونڈ کہ کیا کرے گی؟ زندہ ہے تو ہمارا قیدی ہوگا۔مر گیا ہے تو تیرے کس کام کا؟‘‘صابحہ نے سالار ابو لیلیٰ کو وہ گفتگو سنائی جو اس کے اور بلال بن عقہ کے درمیان ہوئی تھی اور کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ زندہ ہے یا مارا گیا ہے۔مسلمان سالاروں نے چند عیسائیوں کو اس مقصد کیلئے زندہ پکڑ لیا تھا کہ ان سے اس علاقے اور علاقے کے لوگوں کے متعلق معلومات اور جنگی اہمیت کی معلومات لی جائیں۔ابولیلیٰ کے حکم سے ایسے دو تین آدمیوں کو بلا کر بلال بن عقہ کے متعلق پوچھا۔’’دو تین روز پہلے تک وہ یہیں تھا۔‘‘ایک عیسائی نے بتایا۔’’وہ ذومیل چلا گیا ہے۔‘‘’’کیا اسے وہاں ہونا چاہیے تھا یا یہاں؟‘‘ابولیلی ٰنے پوچھا۔’’وہ قبیلے کے سردار کا بیٹا ہے۔‘‘عیسائی نے بتایا۔’’وہ کسی کے حکم کا پابند نہیں۔وہ حکم دینے والوں میں سے ہے۔‘‘’’کیا وہ اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے آیا ہے؟‘‘’’اس نے کئی بار کہا ہے کہ وہ ابنِ ولید سے اپنے باپ کے خون کا انتقام لے گا۔‘‘دوسرے عیسائی نے جواب دیا۔’’اب بتا لڑکی!‘‘ابو لیلیٰ نے صابحہ سے پوچھا۔’’میں تمہاری قیدی ہوں۔‘‘ صابحہ نے کہا۔’’میرے ساتھ لونڈیوں اور باندیوں جیساسلوک کرو گے تو میں تمہیں نہیں روک سکوں گی۔سنا ہے مسلمانوں کے دلوں میں رحم ہوتا ہے۔میری ایک التجا ہے……میں اک سردار کی بیٹی ہوں، کیا میری اس حیثیت کا خیال رکھا جائے گا؟‘‘
’’اسلام میں انسانوں کو درجوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔‘‘بولیلیٰ نے کہا۔’’ہم اس شخص کو بھی اپنا سردار مان لیا کرتے ہیں جس کے آباء اجداد نے کبھی خواب میں بھی سرداری نہیں دیکھی ہوتی۔ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ سرداری کا اہل ہے اور اس کا اخلاق بہت اونچا اور پاک ہے اور ا س کو اپنی ذات کا کوئی لالچ نہیں ……پریشان نہ ہو لڑکی!تو خوبصورت ہے۔ایسا نہیں ہو گا کہ تجھے جو چاہے گا اپنا کھلونا بنا لے گا۔کوئی ہمت والا تجھے خریدے گا اور تیرے ساتھ شادی کر لے گا۔‘‘’’تمہاری قیدی ہو کر میری پسند اور ناپسند ختم ہو گئی ہے۔اگر مجھے پسند کی ذرا بھی آزادی دی جائے تو میں تم میں سے اس کی بیوی بننا پسند کروں گی جو سب سے زیادہ بہادر ہے ۔جو اپنی قوم اور قبیلے کی عزت اور غیرت پر جان دینے والا ہو۔میدان سے بھاگنے والا نہ ہو……عورت کا مذہب وہی ہوتا ہے جو اس آدمی کا مذہب ہے جس کی ملکیت میں اسے دے دیا جاتا ہے لیکن عقیدے دلوں میں ہوتے ہیں۔عورت کے جسم کو ملکیت میں لے سکتے ہو،اس کے دل کا مالک کوئی نہیں بن سکتا……میں وعدہ کرتی ہوں کہ مجھے کوئی مضبوط دل والا اور قبیلے کی غیرت پر دشمن کا خون بہانے والا اور اپنا سر کٹوانے والا آدمی مل جائے تو میں اپنا دل اور اپنے عقیدے اس پر قربان کر دوں گی۔‘‘’’خداکی قسم!تو غیرت اور عقل والی لڑکی ہے۔‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ تو نے بلال بن عقہ سے جو وعدہ کیا تھا وہ میں پورا کروں گا،شرط یہ ہوگی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کردے۔وہ ہمارے سالارِ اعلیٰ خالد بن ولید کو اپنے ہاتھوں قتل کردے، لیکن بنتِ ربیعہ !وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ابنِ ولید کے سر پر اﷲکا ہاتھ ہے، اسے رسول ﷺ نے اﷲکی تلوار کہاہے۔پھر بھی تم انتظار کرو۔ذومیل میں بلال کے ساتھ ہماری ملاقات ہو گی۔‘‘’’کیا میں اپنے گھر میں رہ سکتی ہوں؟‘‘’’کیا ہے اس گھر میں ؟‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’وہاں تیرے باپ، بھائیوں اور محافظوں کی لاشوں کے سوا رہ ہی کیا گیا ہے؟ اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ رہ، کوئی تکلیف نہیں ہو گی تجھے۔ہمارا کوئی آدمی کسی عورت کے قریب نہیں جائے گا۔‘‘صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر رنجیدہ سی چال چلتی ہوئی ایک مجاہد کے ساتھ اس طرف چلی گئی جہاں عورتوں اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔اس کی رنجیدہ چال میں اور ملول چہرے پر تمکنت تھی ۔صاف پتا چلتا تھا کہ وہ عام سے کردار کی لڑکی نہیں۔
’’ابنِ حارثہ!‘‘خالدؓنےفتح کی مسرت سے لبریزلہجے میں مثنیٰ بن حارثہ سے کہا۔’’کیا اﷲنے تیری ہر خواہش پوری نہیں کردی؟‘‘’’لاریب،لاریب!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے جوشیلے لہجے میں کہا۔’’کفار کی آنے والی نسلیں کہیں گی کہ مسلمانوں نے ان کے آبا ء اجداد پر بہت ظلم کیا تھا اور ہماری نسلیں انہیں اپنے اﷲکا یہ فرمان سنائیں گی کہ جس پرظلم ہوا وہ اگر ظالم پر ظلم کرے تو اس پر کوئی الزام نہیں……تو نہیں جانتا ولید کے بیٹے !ان آتش پرستوں نے اور صلیب کے پجاریوں نے جو ظلم ہم پر توڑے ہیں، تو نہیں جانتا۔تو نے سنے ہیں، ہم نے سہے ہیں۔‘‘’’اب یہ لوگ اﷲکی گرفت میں آگئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن حارثہ کے بیٹے!میں ڈرتا ہوں تکبر اور غرورسے……دل میں بار بار یہ ارادہ آتا ہے حج پر جاؤں۔
میں خانہ کعبہ میں جا کر اﷲکا شکر اداکروں گا۔کیا اﷲمجھے یہ موقع دے گا کہ میں اپنا یہ ارادہ پورا کر سکوں؟‘‘’’تو نے ارادہ کیا ہے تو اﷲتجھے ہمت بھی دے گا۔موقع بھی پیدا کر دے گا۔‘‘مثنیٰ نے کہا۔کچھ دیر بعد تمام سالار خالدؓکے سامنے بیٹھے تھے اور خالدؓ انہیں بتا رہے تھے کہ اگلا ہدف ذومیل ہے۔جاسوسوں کو ذومیل بھیج دیاگیا تھا۔پہلے یوں ہوتا رہا ہے کہ ایک جگہ ہم حملہ کرتے تھے تو دشمن کے آدمی بھاگ کر کہیں اور اکٹھے ہو جاتے تھے۔خالدؓ نے کہا۔’’اب ہم نے کسی کو بھاگنے نہیں دیا۔ثنّی سے شاید ہی کوئی بھاگ کر ذومیل پہنچا ہو۔لیکن ذومیل خالی نہیں۔وہاں بھی دشمن موجود ہے اور وہ بے خبر بھی نہیں ہوگا۔کل رات ذومیل کی طرف کوچ ہو گا اور اگلی رات وہاں اسی قسم کا شب خون مارا جائے گا۔‘‘تاریخوں میں یہ نہیں لکھا کہ ثنّی میں خالدؓنے کس سالار کو چھوڑا۔سورج غروب ہوتے ہی مسلمانوں کا لشکر ذومیل کی سمت کوچ کر گیا۔ساری رات چلتے گزری۔دن نشیبی جگہوں میں چھپ کر گزرا اور سورج کا سفر ختم ہوا تو مجاہدین اپنے ہدف کی طرف چل پڑے۔ذومیل میں بھی دشمن سویا ہوا تھا۔سنتری بیدار تھے ۔یہاں بھی گشتی سنتریوں اور دیگر سنتریوں کو اسی طریقے سے ختم کیا گیا جو مضیح اور ثنّی وغیرہ میں آزمایا گیا تھا ۔مسلمانوں کی ترتیب وہی تھی یعنی ان کا لشکر تین حصوں میں تقسیم تھا۔یہ شب خون بھی پوری طرح کامیاب رہا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ کسی ایک بھی آدمی کو زندہ نہ نکلنے دیاگیا۔یہاں بھی عورتوں اور بچوں کو الگ کر لیاگیا تھا۔سالار ابولیلیٰ نے بلال بن عقہ کے متعلق معلوم کیا۔پتہ چلا کہ وہ ایک روز پہلے یہاں سے نکل گیا تھا۔یہ بھی پتا چلا لیا گیا کہ ذومیل سے تھوڑی دور رضاب نام کی ایک بستی ہے جس میں عیسائیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی ہے اور ان کے ساتھ مدائن کی فوج کے ایک دو دستے بھی ہیں۔خالدؓ نے دو حکم دیئے۔ایک یہ کہ ثنّی سے مالِ غنیمت اوردشمن کی عورتوں اور بچوں کو ذومیل لایا جائے ۔دوسرا حکم یہ کہ فوری طور پر رضاب پر حملہ کیا جائے،آتش پرستوں کا لڑنے کا جذبہ تو جیسے بالکل سرد پڑ گیا تھا۔مسلمان تین اطراف سے رضاب پر حملہ آور ہوئے لیکن یہ گھونسہ ہوا میں لگا۔رضاب بالکل خالی تھا۔پتہ چلتا تھا کہ یہاں فوج موجود رہی ہے لیکن اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔اپنے باپ عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بھی لا پتا تھا۔فوج کا ایک سوار دستہ دوردور تک گھوم آیا۔دشمن کا کہیں نام و نشان نہیں ملا۔آخر فوج واپس آگئی۔ثنّی کی عورتیں ذومیل لائی جا چکی تھیں۔مالِ غنیمت بھی آگیا۔خالدؓنے خلافتِ مدینہ کا حصہ الگ کرکے باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ابولیلیٰ نے صابحہ کو بلایا۔
بلال بن عقہ یہاں سے بھی بھاگ گیا ہے۔‘‘
ابولیلیٰ نے اسے کہا۔’’اس نے اپنے باپ کے خون کا انتقام لینا ہوتا تو یوں بھاگانہ پھرتا۔کیا اب بھی تو اس کا انتظار کرے گی؟‘‘’’میں اپنی مرضی سے تو کچھ بھی نہیں کرسکتی۔‘‘صابحہ نے کہا۔ابولیلیٰ خالدؓ سے بات کر چکے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس لڑکی کی خوبصورتی اور جوانی کو دیکھ کر سب کا خیال یہ تھا کہ خالدؓ اس سے شادی کر لیں گے۔صابحہ کی یہ خواہش بھی پوری ہو سکتی تھی کہ وہ سب سے زیادہ بہادر اور بے خوف آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہے لیکن خالدؓ نے کہا کہ مجھ سے زیادہ بہادر موجود ہیں۔چنانچہ خالدؓ نے اس پیغام کے ساتھ مالِ غنیمت اور عورتیں مدینہ کو روانہ کر دیں۔جو دستہ مالِ غنیمت کے ساتھ بھیجا گیا اس کے کماندار نعمان بن عوف شیبانی تھے۔انہوں نے صابحہ کے متعلق مدینہ میں بتایا کہ یہ لڑکی کون ہے۔کیسی ہے اور اس کی خواہش کیا ہے۔مؤرخوں کے مطابق صابحہ کو حضرت علیؓ نے خریدلیا۔صابحہ نے بخوشی اسلام قبول کر لیا اور حضرت علیؓ نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔حضرت علیؓ کے صاحبزادے عمر اور صاحبزادی رقبعہ صابحہ کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔مدائن میں کسریٰ کے محل پہلے کی طرح کھڑے تھے۔ان کے درودیوار پر خراش تک نہ آئی تھی۔ان کا حسن ابھی جوان تھا لیکن ان پر ایسا تاثر طاری ہو گیا تھا جیسے یہ کھنڈر ہوں۔ایران کی اب کوئی رقاصہ نظر نہیں آتی تھی۔رقص و نغمہ کی محفلیں اب سوگوار تھیں۔یہ وہی محل تھا جہاں سے انسانوں کی موت کے پروانے جاری ہوا کرتے تھے۔یہاں کنواریوں کی عصمتیں لٹتی تھیں۔
رعایا کی حسین بیٹیوں کو زبردستی نچایا جاتا تھا۔عرب کے جو مسلمان عراق میں آباد ہو گئے تھے انہیں فارس کے شہنشاہوں نے بھیڑ بکریاں بنا دیاتھا۔عراق فارس کی سلطنت میں شامل تھا۔مسلمانوں کو آتش پرستوں نے دجلہ اور فرات کے سنگم کے دلدلی علاقے میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ان کی فصل ان کے خون پسینے کی کمائی اور ان کے مال و اموال پر ان کا کوئی حق نہ تھا۔حد یہ کہ مسلمانوں کی بیٹیوں بہنوں اور بیویوں پر بھی ان کا حق نہیں رہا تھا۔کسریٰ کا کوئی حاکم کسی بھی مسلمان خاتون کو جب چاہتا زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔
یہی وہ حالات ہوتے ہیں جو مثنیٰ بن حارثہ جیسے مجاہدین کو جنم دیا کرتے ہیں،مثنیٰ بن حارثہ کو پکڑ کر قتل کردینے کا حکم انہی محلات میں سے جاری ہوا تھااور اب ان محلات میں یہ خبر پہنچی تھی کہ مدینہ کے مسلمانوں کا لشکر فارس کی سرحد میں داخل ہو گیا ہے تو یہاں سے فرعونوں جیسی آواز اٹھی تھی کہ عرب کے ان بدوؤں کو یہ جرات کیسے ہوئی……تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ فرعونوں کے ان محلات میں موت کا سناٹا طاری تھا۔ان کا کوئی سالار مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تھا،نامی گرامی سالار مارے گئے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ بھاگے بھاگے پھر رہے تھے۔’’مدائن کو بچاؤ۔‘‘اب کسریٰ کے محلات سے بار بار یہی آواز اٹھتی تھی۔
’’مدائن مسلمانوں کا قبرستان بنے گا۔‘‘یہ آواز ہارے ہوئے سالاروں کی تھی۔’’وہ مدائن پر حملے کی جرات نہیں کریں گے۔‘‘’’کیا تم اب بھی اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہو؟‘‘کسریٰ کا جانشین کہہ رہا تھا۔’’کیا وہ مدائن تک آنے کی جرات نہیں کریں گے جنہوں نے چند دنوں میں چار میدان اس طرح مار لیے ہیں کہ ہماری تجربہ کار فوج کو ختم کر ڈالا ہے؟ہماری فوج میں رہ کیا گیا ہے؟ڈرے ہوئے شکست خوردہ سالار اور اناڑی نوجوان سپاہی……کیا کوئی عیسائی زندہ رہ گیا ہے؟……مدائن کو بچاؤ۔‘‘خالدؓ کی منزل مدائن ہی تھی،مدائن فارس کی شہنشاہی کا دل تھا لیکن مدائن پر شب خون نہیں مارا جا سکتا تھا۔خالدؓجانتے تھے کہ مدائن کوبچانے کیلئے کسریٰ ساری جنگی طاقت داؤ پر لگا دیں گے اور خالدؓ یہ بھی جانتے تھے کہ غیر مسلموں خصوصاًعیسائیوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلے ہیں جو کسی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے۔خطرہ تھا کہ آتش پرست ان قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لیں گے اور مدائن کے اردگرد انسانوں کی بڑی مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے گی۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ضروری تھا کہ ان قبیلوں کو اپنا وفادار بنا لیا جائے۔اس مقصد کیلئے خالدؓ نے اپنے ایلچی مختلف قبیلوں کے سرداروں سے ملنے کیلئے روانہ کر دیئے صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ یہ لوگ سوچتے کیا ہیں اور ان کا رجحان کیا ہے۔’’ان قبیلوں پر ہماری دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ایک جاسوس نے خالدؓ کو تفصیلی اطلاع دی۔’’وہ اپنی عورتوں اور اموال کی وجہ سے پریشان ہیں۔انہیں کسریٰ پر بھروسہ نہیں رہا۔‘‘’’……اور وہ نوشیرواں عادل کے دور کو یاد کرتے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے آکر بتایا۔’’وہ مدائن کی خاطر لڑنے پر آمادہ نہیں۔انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ بنی تغلب ،نمر اور ایاد۔ جیسے بڑے اور جنگجو قبیلوں کا کیا انجام ہوا ہے۔‘‘’’وہ اطاعت قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘ایک اور ایلچی نے بتایا۔’’بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور محصولات کیلئے انہیں مفلس اور کنگال نہ کر دیاجائے۔‘‘’’خداکی قسم!وہ مانگیں گے ہم انہیں دیں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’کیا انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ہم زمین پر قبضہ کرنے اور یہاں کے انسانوں کو غلام بنانے نہیں آئے؟……
بلاؤ……ان سب کے سرداروں کو بلاؤ۔‘‘ایک دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے عراق کے طول و عرض میں جگہ جگہ حملے کرکے اور شب خون مار کر تمام قبیلوں کو اپنا مطیع بنا لیا تھا۔یہ صحیح نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو زیادہ تر مؤرخوں نے بیان کی ہے کہ خالدؓ نے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ان قبیلوں کو اپنا اتحادی بنا لیا تھا،ان کے اطاعت قبول کرنے میں خالدؓکی دہشت بھی شامل تھی۔یہ خبر صحرا کی آندھی کی طرح تما م تر قبیلوں کو پہنچ گئی تھی کہ مسلمانوں میں کوئی ایسی طاقت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ایرانیوں کے متعلق بھی انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ ہر میدان میں انہوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی ہے اور عیسائیوں کو آگے کر کے خود بھاگ کر آتے رہے ہیں۔
ان کے علاوہ ایرا ن کے بادشاہوں اور ان کے حاکموں نے انہیں زرخرید غلام بنائے رکھا اور ان کے حقوق بھی غصب کیے تھے۔خالدؓ نے ان کے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان سے اطاعت بھی قبول کروا لی اور انہی میں سے عمال مقررکرکے محصولات وغیرہ کی فراہمی کا بندوبست کر دیا۔انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی میں پوری آزادی دی۔ان لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان ان کی اتنی خوبصورت عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔خالدؓنے ان کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی شامل کرلیا کہ مسلمان ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
’’ولید کے بیٹے!‘‘ایک قبیلے کے بوڑھے سردار نے خالدؓ سے کہا تھا۔’’نوشیرواں عادل کے دور میں ایسا ہی انصاف تھا۔یہ ہمیں بڑی لمبی مدت بعد نصیب ہوا ہے۔‘‘خالدؓنے دریائے فرات کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔آگے عراق )فارس کے زیرنگیں(کی سرحد ختم ہوتی اور رومیوں کی سلطنت شروع ہوتی تھی۔شام پر رومیوں کا قبضہ تھا۔خالدؓنے بڑے خطرے مول لیے تھے مگر یہ خطرہ جس میں وہ جا رہے تھے ،سب سے بڑا تھااور مسلمانوں کی فتوحات پر پانی پھیر سکتا تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یکے بعد دیگرے اتنی زیادہ فتوحات نے خالدؓ کا دماغ خراب کر دیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ حقائق کا جائزہ لے کر سوچتے تھے ۔ان کا کوئی قدم بلاسوچے نہیں اٹھتا تھا۔’’خدا کی قسم!ہم نے مدینہ کو زرتشت کے پجاریوں سے محفوظ کر لیا ہے۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اب ایسا خطرہ نہیں رہا کہ وہ ہماری خلافت کے مرکز پر حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا یہ اﷲکا کرم نہیں کہ فارسیوں کو اب اپنے مرکز کا غم لگ گیا ہے؟‘‘سالار قعقاع نے کہا۔’’وہ اب عرب کی طرف دیکھنے سے بھی ڈریں گے۔‘‘’’لیکن سانپ ابھی مرا نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر ہم یہیں سے واپس چلے گئے تو کسریٰ کی فوج پھر اٹھے گی اور یہ علاقے واپس لینے کی کوشش کرے گی جو ہم نے فارسیوں سے چھین لیے ہیں،ہمیں ان کے راستے بند کرنے ہیں……اور میرے بھائیو!کیا تم میں سے کسی نے ابھی سوچا نہیں کہ آتش پرستوں کے پہلو میں رومی ہیں،اگر رومیوں میں کچھ عقل ہے تو وہ اس صورتِ حال سے جو ہم نے عراق میں پیدا کر دی ہے،فائدہ اٹھائیں گے۔وہ آگے بڑھیں گے اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو عرب کیلئے وہی خطرہ پیدا ہو جائے گا جو اس سے پہلے ہمیں زرتشت کے پجاریوں سے تھا۔‘‘خالدؓنے زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچ کر اپنے سالاروں کو بتایا کہ وہ کون سا راستہ ہے جس سے رومی آسکتے ہیں،اور وہ کون سا مقام ہے جہاں قبضہ کرکے ہم اس راستے کو بندکر سکتے ہیں۔
وہ مقام فراض تھا۔یہ شہر فرات کے مغربی کنارے پر واقع تھا۔وہاں پر رومیوں اور فارسیوں کی یعنی شام اور عراق کی سرحدیں ملتی تھیں۔عراق کے زیادہ تر علاقے پر اب مسلمان قابض ہو گئے تھے۔یہی علاقے خطرے میں تھے۔فراض سے خشکی کے راستے کے علاوہ رومی یا فارسی دریائی راستہ بھی اختیار کر سکتے تھے۔مشہور یورپی مؤرخ لین پول اور ہنری سمتھ جو جنگی امور پر زیادہ نظر رکھتا تھا ،لکھتے ہیں کہ خالدؓ نہ صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو غیر متوقع چالیں چل کر شکست دینے کی اہلیت رکھتے تھے بلکہ جنگی تدبر بھی ان میں موجود تھا اور ان کی نگاہ دور دور تک دیکھ سکتی تھی۔وہ آنے والے وقت کے خطروں کو پہلے ہی بھانپ لیا کرتے تھے۔خالدؓ جب فراض کی طرف کوچ کر رہے تھے اس وقت ایک خطرے سے وہ آگاہ نہیں تھے،وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ دشمن فوجوں کے درمیان آجائیں گے۔رومیوں کے دربار میں ایسی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جن میں ضروری پن تھا، اور صاف پتا چلتا تھا کہ کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔تخت شاہی کے سامنے رومی فوج کے بڑے بڑے جرنیل بیٹھے تھے۔’’خبر ملی ہے کہ مسلمان فراض تک پہنچ گئے ہیں۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔‘‘’’وہ کسی اچھے ارادے سے تو نہیں آئے……کیا آپ کو فارسیوں کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی؟‘‘’’ان کے پاس مدائن کے سوا کچھ نہیں رہا۔‘‘’’پھر ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔پیشتر اس کے کہ مسلمان ہمارے ملک میں داخل ہو جائیں ہمیں ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔‘‘’’کیا تم سے بڑھ کر کوئی احمق ہماری فوج میں کوئی اور ہو گا؟کیا تم نے سنا نہیں کہ فارس کی فوج کو اور ان کے ساتھی ہزار ہا عیسائیوں کو ان مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ ہر جگہ شکست دی ہے بلکہ ان کے نامور جرنیلوں کواورہزاروں سپاہیوں کو مار ڈالا ہے؟‘‘’’آپ نے ٹھیک کہا ہے۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مدینہ والوں کے لڑنے کا طریقہ کیا ہے۔‘‘’’ بہت ضروری ہے دیکھنا۔جو اتنی تھوڑی تعداد میں اتنی زیادہ تعداد کو شکست دے کر ختم کر چکے ہیں، ان کا کوئی خاص طریقہ جنگ ہو گا، ہم بھی فارس کی فوج کے خلاف لڑ چکے ہیں، یہ صحیح ہے کہ ہم نے فارسیوں کو شکست دی تھی لیکن ہماری فوج کی نفری ان سے زیادہ تھی۔‘‘’’اب میرا فیصلہ سن لو۔ہم فارسیوں کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔‘‘’’فارسیوں کو ساتھ ملا کر؟کیا ہیمں یہ بھول جانا چاہیے کہ فارسیوں کے ساتھ ہماری دشمنی ہے؟ہماری آپس میں جنگیں ہو چکی ہیں۔‘‘’’ہاں!ہمیں بھول جانا چاہیے۔مسلمان ان کے اور ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔ایسے دشمن کو شکست دینے کیلئے اپنے دشمن کو دوست بنالینا دانشمندی ہوتی ہے۔ہم فارسیوں کی طرح شکست نہیں کھانا چاہتے۔اگر فارسی ہمارے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے ساتھ عیسائی قبیلے بھی آجائیں گے۔‘‘
اس فیصلے کے مطابق رومیوں کا ایلچی دوستی کا پیغام لے کر مدائن گیا تو آتش پرستوں نے بازو پھیلا کر ایلچی کا استقبال کیا۔تحائف کا تبادلہ ہوا اور ایلچی کے ساتھ معاہدے کی شرطیں طے ہو گئیں۔فارس والوں کو اپنا تخت الٹتا نظر آرہا تھا۔رومیوں کے اس پیغام کو انہوں نے غیبی مدد سمجھا۔مدائن کے دربار سے ان تمام عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو بلاوابھیجا گیا۔یہ وہی تین قبیلے بنی تغلب، نمر اور ایاد تھے جو مسلمانوں سے بہت بری شکست کھا چکے تھے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ انہیں جوں ہی اطلاع ملی تو وہ فوراًمدائن پہنچے۔وہ اپنے ہزار ہا مقتولین کا انتقام لینا چاہتے تھے اور وہ اسلام کے پھیلاؤ کو بھی روکنا چاہتے تھے۔ان قبیلوں میں جو لڑنے والے تھے وہ مسلمانون کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے ۔جواں سال آدمی بہت کم رہ گئے تھے۔اب اکثریت ادھیڑ عمرلوگوں کی تھی۔خالدؓ کا فراض کی طرف کوچ ان کی خود سری کا مظاہرہ تھا۔امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ نے انہیں صرف فارس والوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔امیر المومنینؓ کو یہ بھی توقع نہیں تھی کہ اپنی اتنی کم فوج فارس جیسی طاقتور فوج کو شکست دے گی لیکن امیرالمومنینؓ ایسا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ اتنی لڑائیاں لڑکر رومیوں سے بھی ٹکر لی جائے،رومیوں کی فوج فارسیوں کی فوج سے بہتر تھی۔یہ خالدؓ کا اپنا فیصلہ تھا، کہ فراض کے مقام پر جا کر رومیوں اور فارسیوں کی ناکہ بندی کردی جائے۔ خالدؓ چَین سے بیٹھنے والے سالار نہیں تھے۔اس کے علاوہ وہ رسول کریمﷺ کے جنگی اصولوں کے شائق تھے۔مثلاًیہ کہ دشمن کے سر پر سوار رہو۔اگر دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے تو اس کے حملے کا انتظار نہ کرو۔آگے بڑھو اور حملہ کردو۔خالدؓنے اپنے آپ پر جہادکا جنون طاری کر رکھا تھا۔جب خالدؓ کے جاسوسوں نے انہیں اطلاعیں دینی شروع کیں تو خالدؓکے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی ۔انہیں پتا چلا کہ وہ دو فوجوں کے درمیان آگئے ہیں۔ ایک طرف رومی اور دوسری طرف فارسی اور ان کے ساتھ عیسائی قبیلوں کے لوگ بھی تھے۔خالدؓ کے ساتھ نفری پہلے سے کم ہو گئی تھی کیونکہ جو علاقے انہوں نے فتح کیے تھے وہیں اپنی کچھ نفری کا ہونا لازمی تھا۔بغاوت کا بھی خطرہ تھااور آتش پرست فارسیوں کے جوابی حملے کابھی۔خالدؓ فراض میں رمضان۱۲ھ)دسمبر ۶۳۳ء کے پہلے( ہفتے میں پہنچے تھے۔مجاہدین روزے سے تھے۔مسلمانوں کی فوج دریائے فرات کے ایک کنارے پر خیمہ زن تھی۔دوسرے کنارے پر بالکل سامنے رومی، ایرانی او رعیسائی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔دونوں طرف کے سنتری فرات کے کناروں پر ہر وقت پہرے پر کھڑے رہتے اور گشتی سنتری گھوڑوں پر سوار دریا کے کناروں پر پھرتے رہتے تھے۔خود خالدؓ دریا کے کنارے دور تک چلے جاتے اور دشمن کو دیکھتے تھے۔ایک شام رومیوں اور ایرانیوں کی خیمہ گاہ میں ہڑبونگ مچ گئی، اور وہ لڑائی کیلئے تیار ہو گئے۔وجہ یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے کیمپ سے ایک شور اٹھا تھااور دف اور نقارے بجنے لگے تھے۔تمام فوج اچھل کود کررہی تھی،دشمن اسے حملے سے پہلے کا شور سمجھا۔اس کے سالار وغیرہ فرات کے کنارے پر آکر دیکھنے لگے۔
ان کے گھوڑے زینوں کے بغیر بندھے ہوئے ہیں۔‘‘دشمن کے کسی آدمی نے چلا کر کہا۔’’وہ تیاری کی حالت میں نہیں ہیں۔‘‘کسی اور نے کہا۔’’وہ دیکھو!‘‘ایک اور نے کہا۔’’آسمان کی طرف دیکھو۔مسلمانوں نے عیدکا چاند دیکھ لیا ہے ۔آج رات اور کل سارا دن یہ لوگ خوشیاں منائیں گے۔‘‘اگلے روز مسلمانوں نے ہنگامہ خیز طریقے سے عیدالفطر کی خوشیاں منائیں۔اسی خوشی میں فتوحات کی مسرتیں بھی شامل تھیں۔مسلمان جب عید کی نمازکیلئے کھڑے ہوئے تو دریا کے کنارے اور کیمپ کے اردگرد سنتریوں میں اضافہ کردیا گیا تاکہ دشمن نماز کی حالت میں حملہ نہ کر سکے۔’’مجاہدینِ اسلام!‘‘خالدؓ نے نماز کے بعد مجاہدین سے مختصرسا خطاب کیا۔’’نماز کے بعد ایسے انداز سے اس تقریب ِ سعید کی خوشیاں مناؤ کہ دشمن یہ تاثر لے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کا اندیشہ نہیں اور انہیں اپنی فتح کا پورا یقین ہے۔دریاکے کنارے جاکر ناچوکودو،تم نے جس طرح دشمن پر اپنی تلوار کی دھاک بٹھائی ہے، اس طرح اس پر اپنی خوشیوں کی دہشت بٹھا دو۔لیکن میرے رفیقو! اس حقیقت کو نہ بھولنا کہ تم اﷲکی طرف سے آئی ہوئی ایک سے ایک کٹھن آزمائش میں پورے اترے ہو ،مگر اب تمہارے سامنے سب سے زیادہ کٹھن اور خطرناک آزمائش آگئی ہے۔تمہارا سامنا اس وقت کی دو طاقتور فوجوں سے ہے جنہیں عیسائیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔میں جانتا ہوں تم جسمانی طور سے لڑنے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن اﷲنے تمہیں روح کی جو قوتیں بخشی ہیں انہیں کمزور نہ ہونے دینا، کیونکہ تم ان قوتوں کے بل پر دشمن پر غالب آتے چلے جا رہے ہو۔میں بتا نہیں سکتا کہ کل کیا ہوگا۔ ہر خطرے کیلئے تیار رہو۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔
خالدؓکے خاموش ہوتے ہی مجاہدین کے نعروں نے ارض و سما کو ہلا ڈالا۔پھر سب دوڑتے کودتے دریا کے کنارے جا پہنچے۔انہوںنے دریا کے کنارے گھوڑے بھی دوڑائے اور ہر طرح عید کی خوشی منائی۔خالدؓ کے سالاروں کو توقع تھی کہ خالدؓ بن ولید یہاں بھی شب خون کی سوچ رہے ہوں گے۔خالدؓ نے اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی سالاروں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایک مہینہ گزر چکا تھا۔فوجیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔آخر خالدؓ نے اپنے سالاروں کو مشورے تجاویز اور احکام کیلئے بلایا۔’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’شاید تم یہ سوچ رہے ہو گے کہ یہاں بھی شب خون مارا جائے گالیکن تم دیکھ رہے ہو کہ یہاں صورتِ حال شب خون والی نہیں۔دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ہم ہمیشہ قلیل تعداد میں لڑے ہیں لیکن یہاں ہمارے درمیان دریا حائل ہے۔دشمن اس دریا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ دشمن اتنی زیادہ تعداد کے باوجود ہم پر حملہ نہیں کر رہا ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ اس کی احتیاط کو ہم اور طول دیں اور حملے میں پہل نہ کریں۔میں چاہتا ہوں کہ حملے میں پہل وہ کرے۔اگر تم کوئی مشورہ دینا چاہو تو میں اس پر غور اور عمل کروں گا۔‘‘
تقریباً تمام سالاروں نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم پہل نہ کریں اور کوئی ایسی صورت پیدا کریں کہ دشمن دریا عبور کرآئے۔کچھ دیر سالاروں نے بحث و مباحثہ کیا اور ایک تجویز پر متفق ہو گئے،اور اسی روز اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔اس کے مطابق کوئی ایک دستہ تیار ہو کر دریا کے ساتھ کسی طرف چل پڑتا۔دشمن یہ سمجھتا کہ مسلمان کوئی نقل و حرکت کر رہے ہیں چنانچہ اسے بھی اس کے مطابق کوئی نقل و حرکت یا پیش بندی کرنی پڑتی۔یہ سلسلہ پندرہ سولہ دن چلتا رہا۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رومی مسلمانوں کی ان حرکات سے تنگ آگئے۔وہ پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف کسی میدان میں نہیں لڑے تھے،ان کے سالاروں کے ذہنوں پر یہ بات آسیب کی طرح سوار ہو گئی تھی کہ جس قلیل فوج نے فارسیوں جیسی طاقت ور فوج کو ہلنے کے قابل نہیں چھوڑا، وہ فوج کوئی خاص داؤ چلتی ہے جسے ان کے سوا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔پہلے کہا جا چکا ہے کہ خالدؓ دشمن پر نفسیاتی وار کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔اس صورتِ حال میں بھی انہوں نے رومیوں کو تذبذب میں مبتلا کرکے ان کے ذہنوں پر ایسا نفسیاتی اثر ڈالا کہ وہ نہ کچھ سمجھنے کے اور نہ کوئی فیصلہ کرنے کے قابل رہے۔۲۱ جنوری ۶۳۴ء )۱۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز دشمن اس قدر تنگ آگیا کہ کے ایک سالار نے دریا کے کنارے کھڑے ہوکر بڑی بلند آواز سے مسلمانوں سے کہا ۔’’ کیا تم دریا پار کرکے ادھر آؤ گے یا ہم دریا پار کرکے اُدھر آجائیں؟لڑنا ہے تو سامنے آؤ۔‘‘’’ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔‘‘خالدؓ بن ولید نے اعلان کروایا۔’’ہم سے ڈرتے کیوں ہو؟تمہاری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمہیں ہم سے پوچھے بغیر ادھر آجانا چاہیے۔‘‘’’پھر سنبھل جاؤ۔‘‘دشمن کی طرف سے للکار سنائی دی۔’’ہم آرہے ہیں۔‘‘دشمن نے دریا عبور کرنا شروع کر دیا۔خالدؓ نے اپنے مجاہدین کو دریا کے کنارے سے ہٹا کر کچھ دور لڑائی کی ترتیب میں کرلیا۔حسبِ معمول ان کی فوج تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی،اور خالدؓ خود درمیانی حصے کے ساتھ تھے۔جنگی مبصروں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے دشمن کیلئے اتنی زیادہ جگہ خالی کردی کہ دشمن اور اس کے پیچھے دریا، ان دونوں کے درمیان اتنی جگہ خالی رہے کہ اس کے عقب میں جانا پڑے تو جگہ مل جائے ورنہ دریا ان کے عقب کی حفاظت کرتا۔جب دشمن# میدان میں آگیا تو رومی جرنیلوں نے فارسیوں اور عیسائیوں کے لشکر کو ان کے قبیلوں کے مطابق تقسیم کر دیا۔انہوں نے ایرانی سالاروں سے کہا کہ اس تقسیم سے یہ پتہ چل جائے گا کہ کون کس طرح لڑا ہے؟ بھاگنے والوں کے قبیلے کا بھی علم ہو جائے گا۔‘‘یہ تقسیم اس طرح ہوئی کہ رومی الگ ہو گئے، مدائن کی فوج ان سے کچھ دور الگ ہو گئی، اور عیسائیوں کے قبیلے مدائن کی فوج سے الگ اور ہر قبیلہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہو گیا۔رومی جرنیلوں نے )مؤرخوں کے مطابق(یہ تقسیم اس لیے بھی کی تھی کہ مسلمانوں کو بھی اس تقسیم کے مطابق اپنی تقسیم کرنی پڑے گی جس کے نتیجے میں وہ بکھر جائیں گے اور انہیں آسانی سے شکست دی جا سکے گی۔
’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے دشمن کو اس طرح تقسیم ہوتے دیکھ کر اپنے سالاروں کو بلایا اور ان سے کہا۔’’خدا کی قسم !دشمن خود احمق ہے یا ہیمں احمق سمجھتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ دشمن نے اپنی جمیعت کو کس طرح بکھیر دیا ہے؟‘‘’’دشمن نے ہمارے لیے مشکل پیدا کر دی ہے ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’اس کے مطابق ہمیں بھی بکھرنا پڑے گا۔پھر ایک ایک کا مقابلہ دس دس کے ساتھ ہو گا۔‘‘’’دماغوں کو روشنی دینے والا اﷲہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’ہم آمنے سامنے کی لڑائی نہیں لڑیں گے۔سوار دستوں کے سالار سن لیں ۔فوراًسوار دو حصوں میں تقسیم ہو کر دشمن کے دائیں اور بائیں چلے جائیں۔پیادے بھی ان کے ساتھ رہیں اور دائیں اور بائیں پہنچ کر عقب میں جانے کی کوشش کریں۔میں اپنے دستوں کے ساتھ دشمن کے سامنے رہوں گا،دشمن پر ہر طرف سے شدید حملہ کردو۔دشمن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوا۔چاروں طرف سے دشمن پر ایسا حملہ کردو کہ اس کی تقسیم درہم برہم ہوجائے۔اﷲکا نام لو اور نکل جاؤ۔‘‘رومی ایرانی اور عیسائی تقسیم تو ہو گئے تھے لیکن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے۔
۔خالدؓکے اشارے پر مسلمانوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا۔دشن پر جب حملے کے ساتھ ہر طرف سے تیر برسنے لگے تو اس کے بٹے ہوئے حصے اندر کی طرف ہونے لگے اور ہوتے ہوتے وہ ہجوم کی صورت میں یکجا ہوگئے۔مسلمان سواروں نے تھوڑی سی تعداد میں ہوتے ہوئے اتنے کثیر دشمن کو گھیرے میں لے لیا۔دشمن کی حالت ایک گھنے ہجوم کی سی ہو گئی جس سے گھوڑوں کے گھومنے پھرنے کیلئے جگہ نہیں رہی۔ایرانی اور عیسائی پہلے ہی مسلمانوں سے ڈرے ہوئے تھے،وہ چھپنے یا پیچھے ہٹنے کے انداز سے رومی دستوں کے اندر چلے گئے اور انہیں حرکت کے قابل نہ چھوڑا۔مسلمان سواروں نے دوڑتے گھوڑوں سے دشمن کے اس ہجوم پر تیر برسائے جیسے دشمن کی اتنی بڑی تعداد اور زیادہ سمٹ گئی۔اس کیفیت میں پیادہ مجاہدین نے ہلّہ بول دیا۔عقب سے حملہ ایک سوار دستے نے کیا۔خالد ؓنے اپنے تمام سوار دستوں کو ایک ہی بار حملے میں نہ جھونک دیا۔دستے باری باری حملے کرتے تھے۔خالدؓنے ایسی چال چلی تھی کہ لڑائی کی صورت لڑائی کی نہ رہی بلکہ یہ رومیوں آتش پرستوں اور عیسائیوں کا قتلِِ عام تھا۔رومیوں نے دفاعی لڑائی لڑنے کی کوشش کی لیکن میدانِ اس کے زخمیوں اور اس کی لاشوں سے بھر گیا۔سپاہیوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ میدان سے بھاگنے لگے۔’’پیچھے جاؤ۔‘‘ خالدؓ نے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے جاؤ۔ کوئی زندہ بچ کر نہ جائے۔‘‘
مجاہدین نے تعاقب کرکے بھاگنے والوں کو تیروں اور برچھیوں سے ختم کیا اور معرکہ ختم ہو گیا۔تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس معرکے میں ایک لاکھ رومی، ایرانی اور عیسائی مارے گئے تھے۔ایک بہت بڑی اتحادی فوج ختم ہو گئی، مسلمانوں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔خالدؓدس روز وہیں رہے، انہوں نے بڑی تیزی سے وہاں کا انتظامی ڈھانچہ مکمل کیا۔ایک دستہ وہاں چھوڑا، اور ۳۱ جنوری ۶۳۴ء )۲۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز لشکر کو حیرہ کی طرف کوچ کا حکم دیا۔’’کیا تم دیکھ نہیں رہے، ابنِ ولید چپ سا ہو گیا ہے؟‘‘ایک سالار اپنے ساتھی سالار سے کہہ رہا تھا۔’’خدا کی قسم!میں نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید تھک گیا ہے یا مسلسل معرکوں سے اُکتا گیا ہے۔‘‘’’اور میں یہ بھی نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید ڈر گیا ہے کہ وہ اپنے مستقر سے اتنی دور دشمن ملک کے اندر آگیا ہے۔‘‘دوسرے سالار نے کہا۔’’لیکن میں اسے کسی سوچ میں ڈوبا ہوا ضرور دیکھ رہا ہوں۔‘‘’’ہاں وہ کچھ اور سوچ رہا ہے۔‘‘’’پوچھ نہ لیں؟‘‘’’ہم نہیں پوچھیں گے تو اور کون پوچھنے آئے گا؟‘‘خالدؓ سوچ میں ڈوب ہی جایا کرتے تھے۔یہ ایک معرکے کی فراغت کے بعد اگلے معرکے کی سوچ ہوتی تھی۔وہ سوچ سمجھ کر اور تمام تر دماغی قوتوں کو بروئے کار لا کر لڑاکرتے تھے۔دشمن کے پاس بے پناہ جنگی قوت تھی۔وہ گہری سوچ کے بغیر اپنی فوج کی برتری اور افراط کے بل بوتے پر بھی لڑ سکتا تھا۔ مسلمان ایساخطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ان کی تعداد کسی بھی معرکے میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ان کی تعداد پندرہ اور اٹھارہ ہزارکے درمیان رہتی تھی۔ایک ایک مجاہد کا مقابلہ تین سے چھ کفار سے ہوتا تھا۔لہٰذا انہیں عقل اور ہوشمندی کی جنگ لڑنی پڑتی تھی۔
ایسی عقل اورہوشمندی میں خالدؓ کا کوئی ثانی نہ تھاانہی اوصاف کی بدولت رسولِ اکرمﷺ نے انہیں اﷲکی تلوار کہا تھا۔جذبہ تو خالدؓ میں تھا ہی لیکن انہیں دماغ زیادہ لڑانا پڑتا تھا۔ہر معرکے سے پہلے خالدؓ جاسوسوں سے دشمن کی کیفیت اور اس کی زمین اور نفری وغیرہ کی تفصیلات معلوم کرکے گہری سوچ میں ڈوب جاتے پھر اپنے سالاروں سے صلاح و مشورہ کرتے تھے لیکن فراض کی جنگ کے بعد ان پر ایسی خاموشی طاری ہو گئی تھی جوکچھ اور ہی قسم کی تھی۔ان کی اس خاموشی کو دیکھ کر ان کے سالار کچھ پریشان سے ہو رہے تھے، یہ فراض سے حیرہ کی طرف کوچ )۲۵ذیقعد ۱۲ ھ(سے دو روز پہلے کا واقعہ ہے۔تین چار سالار خالدؓکے خیمے میں جا بیٹھے۔’’ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’خدا کی قسم!جس سوچ میں تو ڈوبا ہوا ہے اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں، تجھے اکیلا پریشان نہیں ہونے دیں گے۔‘‘خالدؓ نے سب کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔
’’ابنِ عمرو ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔’’میں جس سوچ میں پڑا رہتا ہوں اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں۔‘‘’’کچھ ہمیں بھی بتا ابنِ ولید!‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو پسند نہیں کرے گا کہ ہم سب تجھے دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتے رہیں۔‘‘’’نہیں پسند کروں گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تم میں سے کوئی بھی پریشان ہو گا تو یہ مجھے ناپسند ہو گا۔میں کسی لڑائی کیلئے کبھی پریشان نہیں ہوا۔تین تین دشمنوں کی فوجیں مل کر ہمارے خلاف آئیں ، میں پریشان نہیں ہوا۔میں نے خلیفۃ المسلمین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رومیوں کو جا للکارا۔ میں نے ایک خطرہ مول لیا تھا۔میں پریشان نہیں ہوا۔ مجھے ہر میدان میں اور ہر مشکل میں اﷲنے روشنی دکھائی ہے اور تمہیں اﷲنے ہمت دی ہے کہ تم اتنے جری دشمن پر غالب آئے……‘‘’’اب میری پریشانی یہ ہے کہ میں فریضہ حج ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ میں کہاں ہوں اور میری ذمہ داریاں کیا ہیں۔کیا میں اس فرض کو چھوڑ کر حج کا فرض ادا کر سکتا ہوں؟……نہیں کر سکتا میرے رفیقو! لیکن میرا دل میرے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ خدا کی قسم!یہ میری روح کی آواز ہے کہ ولید کے بیٹے، کیا تجھے یقین ہے کہ تو اگلے حج تک زندہ رہے گا؟……مجھے یقین نہیں میرے رفیقو!ہم نے جن دو دشمنوں کو شکستیں دی ہیں ، ان کی جنگی طاقت تم نے دیکھ لی ہے اور تم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ تمام قبیلے فوراً ان سے جا ملتے ہیں۔میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری زندگی چند روزہ رہ گئی ہے……اور میرے رفیقو! میں کچھ بھی نہیں۔تم کچھ بھی نہین۔صرف اﷲہے جو ہمارے سینوں میں ہے۔ وہی سب کچھ ہے۔ پھر میں کیوں نہ اس کے حضور اس کے عظیم گھر میں جا کر سجدہ کروں۔ کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اپنی طرف سے تم سب کی طرف سے اور ہر ایک مجاہد کی طرف سے خانہ کعبہ جاکر اﷲکے حضور شکر ادا کروں؟‘‘’’بے شک، بے شک۔ ‘‘ایک سالار نے کہا۔’’کون رَد کر سکتا ہے اس جذبے کو اور اس خواہش کو جو تو نے بیان کی ہے!‘‘’’لیکن تو حج پر جائے گا کیسے ابنِ ولید؟‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے پوچھا۔’’ پیچھے کچھ ہو گیا تو؟‘‘’’میں کسی لڑائی میں مارا جاؤں گا تو خدا کی قسم تم یہ نہیں سوچو گے کہ اب کیا ہوگا؟‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’کیا میرے نہ ہونے سے تمہارے حوصلے ٹوٹ جائیں گے؟ ……نہیں……نہیں……ایسا نہیں ہو گا۔‘‘’’رب کعبہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’ہم میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو گا تو وہ اسلام کے پرچم کو گرنے نہیں دے گا……یوں کر ابنِ ولید!آج ہی قاصد کو روانہ کر دے کہ وہ امیرالمومنین سے اجازت لے آے کہ تو حج پر جا سکتا ہے۔‘‘
’’جس سوچ نے مجھے پریشان کر رکھا ہے یہی وہ سوچ ہے۔‘‘ خالدؓنےمسکرا کر کہا۔’’ میں جانتا ہوں امیر المومنین اجازت نہیں دیں گے۔انہیں یہاں کے حالات کا علم ہے۔ اگر وہ اجازت دے بھی دیں تو یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ دشمن کو پتا چل جائے گا کہ ابنِ ولید چلا گیا ہے۔ میں اپنے لشکر کو بھی نہیں بتانا چاہتا کہ میں ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں بہت کم وقت میں جا کر واپس آنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’خدا کی قسم ولید کے بیٹے!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تو نہیں جانتا کہ تو جو کہہ رہا ہے یہ نا ممکن ہے۔‘‘ ’’اﷲناممکن کو ممکن بنا دیا کرتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔ ’’انسان کو ہمت کرنی چاہیے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔ اور کس راستے سے جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے انہیں پہلے یہ بتایا کہ وہ کیا کریں پھر وہ راستہ بتایا جس راستے سے انہیں حج کیلئے مکہ جانا اور آناتھا۔حج میں صرف چودہ دن باقی تھے۔ اور فراض سے مکہ تک کی مسافت تیز چلنے سے اڑھائی مہینے سے کچھ زیادہ تھی۔خالدؓ کو کوئی چھوٹا راستہ دیکھنا تھا لیکن کوئی چھوٹا راستہ نہیں تھا۔خالدؓتاجر خاندان کے فرد تھے، قبولِ اسلام سے پہلے خالدؓ نے تجارت کے سلسلے میں بڑے لمبے اور کٹھن سفر کئے تھے۔ وہ ایسے راستوں سے بھی واقف تھے جو عام راستے نہیں تھے۔ بلکہ وہ راستے کہلاتے ہی نہیں تھے۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو ایک ایسا ہی راستہ بتایا۔’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تیرا دماغ خراب نہیں ہوا، پھر بھی تو نے ایسی بات کہہ دی ہے جو ٹھیک دماغ والے نہیں کہہ سکتے۔ تو جو راستہ بتا رہاہے وہ کوئی راستہ نہیں، وہ ایک علاقہ ہے اور اس علاقے سے صحرا کی ہوائیں بھی ڈر ڈر کر گزرتی ہیں، کیا تو مرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں جانتا!کیا میں اس علاقے سے واقف نہیں؟‘‘’’جس اﷲنے ہمیں اتنے زبردست دشنموں پر غالب کیا ہے وہ مجھے اس علاقے سے بھی گزاردے گا۔‘‘ خالدؓ نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جس میں عزم اور خود اعتمادی تھی۔ ’’میں یقین سے کہتا ہوں کہ تم مجھے جانے سے نہیں روکو گے اور میرے اس راز کواس خیمے سے باہر نہیں جانے دو گے۔ میں راز امیر المومنین سے بھی چھپا کر رکھوں گا۔‘‘’’اگر امیر المومنین بھی حج پر آگئے تو کیا کرے گا تو؟‘‘ایک سالار نے پوچھا۔’’میں ان سے اپنا چہرہ چھپا لوں گا۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’تم سب میرے لیے دعا تو ضرور کرو گے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس طرح تم سے آملوں گا کہ تم کہو گے کہ یہ شخص راستے سے واپس آگیا ہے۔‘‘
زیادہ تر مؤرخین ، خصوصاً طبری نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ خالدؓ نے ۱۲ ہجری کا حج کس طرح کیا ۔ان حالات میں کہ ان کی ٹکر فارس کی شہنشاہی سے تھی اور انہوں نے روم کی شہنشاہی کے اندر جاکر حملہ کیا تھا ، یہ خطرہ ہر لمحہ موجود تھا کہ یہ دونوں بادشاہیاں مل کر حملہ کریں گی۔ اس خطرے کے پیشِ نظر خالدؓوہاں سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے تھے، لیکن حج کا عزم اتناپکا اور خواہش اتنی شدید تھی کہ اسے وہ دبا نہ سکے۔پہلے سنایا جاچکا ہے کہ لشکرفراض سے حیرہ کو کوچ کر رہا تھا۔خالدؓنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ ہراول تھا۔دوسرا اس کے پیچھے اور تیسرا حصہ عقب میں تھا۔خالدؓ نے خاص طور پر اعلان کرایا کہ وہ عقب کے ساتھ ہوں گے۔لشکر کو حیرہ تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔تیز کوچ اس صورت میں کیا جاتا تھا جب کہیں حملہ کرنا ہوتا یا جب اطلاع ملتی تھی کہ فلاں جگہ دشمن حملے کی تیاری کر رہاہے۔ اب ایسی صورت نہیں تھی۔لشکر کے کوچ کی رفتار تیز نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ کوچ میدانِ جنگ کی طرف نہیں بلکہ اپنے مفتوحہ شہر کی طرف ہو رہا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مجاہدین متواتر لڑائیاں لڑتے اور پیش قدمی کرتے رہے تھے۔ان کے جسم شل ہو چکے تھے ۔خالدؓ نے کوچ معمولی رفتارسے کرنے کا حکم ایک اور وجہ سے بھی دیا تھا۔ اس وجہ کا تین سالاروں اور خالدؓ کے چند ایک ساتھیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔وہ وجہ یہ تھی کہ خالدؓ کو کوچ کے دوران لشکر کے عقبی حصے سے کھسک جاناتھا،اور اک گمنام راستے سے مکہ کو روانہ ہونا تھا۔لشکر ۳۱ جنوری ۶۳۴ء کے روز چل پڑا۔ تاریخ میں اس مقام کا پتا نہیں ملتا جہاں لشکر نے پہلا پڑاؤ کیا تھا۔رات کو جب لشکر گہری نیند سو گیا تو خالدؓاپنے چند ایک ساتھیوں کے ساتھ خیمہ گاہ سے نکلے اور غائب ہو گئے۔ کسی بھی مؤرخ نے ان کے ساتھیوں کے نام نہیں لکھے جو ان کے ساتھ حج کرنے گئے تھے۔خالدؓ اور ان کے ساتھی اونٹوں پر سوار تھے ، جس علاقے میں سے انہیں گزرنا تھا۔ وہاں سے صرف اونٹ گزر سکتا تھا۔گھوڑا بھی جواب دے جاتا تھا۔صحراؤں میں بعض علاقے بے حد دشوار گزار ہوتے تھے۔مسافر ادھرسے گزرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔صحرائی قزاق اور بڑے پیمانے پر رہزنی کرنے والے انہی علاقوں میں رہتے تھے اور لوٹ مار کا مال وہیں رکھتے تھے۔ان میں کچھ علاقے ایسے خوفناک تھے کہ قزاق اور رہزن بھی ان میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرتے تھے۔اس دور میں صحرا کے جس علاقے کو دشوار گزار اور خطرناک کہنا ہوتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہاں تو ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے۔خالدؓ نے مکہ تک جلدی پہنچنے کا جو راستہ اختیار کیا تھا وہ ایسا ہی تھا جہاں ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے تھے۔اتنے خطرناک اور وسیع علاقے سے زندہ گزر جانا ہی ایک کارنامہ تھا لیکن خالدؓ دنوں کی مسافت منٹوں میں طے کرنے کی کوشش میں تھے ۔انہیں صرف یہ سہولت حاصل تھی کہ موسم سردیوں کا تھا لیکن سینکڑوں میلوں تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔
اس علاقے میں ایک اور خطرہ ریت اور مٹی کے ان ٹیلوں کا تھا جن کی شکلیں عجیب و غریب تھیں۔یہ کئی کئی میل وسیع نشیب میں کھڑے تھے۔بعض چٹانوں کی طرح چوڑے تھے ۔بعض گول اور بعض ستونوں کی طرح اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ایسے نشیب بھول بھلیوں کی طرح تھے۔ان میں بھٹک جانے کا خطرہ زیادہ تھا۔گھوم پھر کر انسان وہیں کا وہیں رہتا تھا اور سمجھتا تھا کہ وہ بہت سا فاصلہ طے کر آیا ہے۔حتٰی کہ وہ ایک جگہ ہی چلتا، اور مڑتا تھک کر چور ہو جاتا تھا۔پانی پی پی کر پانی کا ذخیرہ بھی وہیں ختم ہو جاتا تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ صحرا کے اس حصے کی صعوبتیں ، دشواریاں اور وہاں کے خطرے ایسے تھے جو دیکھے بغیر انسان کے تصور میں نہیں آسکتے۔کئی جگہوں پر اونٹ یوں بدک گئے جیسے انہوں نے کوئی ایسی چیز دیکھ لی ہو جو انسانوں کو نظر نہیں آسکتی تھی۔اونٹ صحرائی جانور ہونے کی وجہ سے اس پانی کی بُو بھی پالیتا ہے جو زمین کے نیچے ہوتا ہے،کہیں چشمہ ہو جو نظر نہ آتا ہو۔اونٹ اپنے آپ اس طرف چل پڑتا ہے ،اونٹ خطروں کو بھی دور سے سونگھ لیتا ہے۔خالدؓ کے مختصر سے قافلے کے اونٹ کئی جگہوں پر بِدکے ۔ان کے سواروں نے اِدھر اُدھر اور نیچے دیکھا مگر انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔زیادہ خطرہ صحرائی سانپ کا تھا جو ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو بالشت کا ہوتا ہے۔یہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے سانپوں کی طرح آگے کو نہیں رینگتا بلکہ پہلو کی طرف رینگتا ہے، انسان یا جانور کو ڈس لے تو دوچار منٹوں میں موت واقع ہو جاتی ہے،صحرائی بچھو اس سانپ کی طرح زہریلا ہوتا ہے۔ایک مؤرخ یعقوبی نے خالدؓکے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔اس نے اپنے دور کے کسی عالم کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ایک معجزے وہ تھے جو خدا نے پیغمبروں کو دکھائے، اور خالدؓ کا یہ سفر ان معجزوں میں سے تھا جو انسان اپنی خداداد قوتوں سے کر دکھایا کرتے ہیں۔خالدؓ اپنے ساتھیوں سمیت بروقت مکہ پہنچ گئے۔انہیں اس خبر نے پریشان کر دیا کہ خلیفۃ المسلمین ابو بکر صدیقؓ بھی فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آئے ہوئے ہیں۔خالدؓنے سنت کے مطابق اپنا سر استرے سے منڈوادیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے چہرے چھپا کر رکھیں تاکہ انہیں کوئی پہچان نہ سکے۔فریضہ حج ادا کرکے خالدؓ نے بڑی تیزی سے پانی اور دیگر زادِ راہ اکٹھا کیا اور واپسی کے سفر کو روانہ ہو گئے۔یوں کہناغلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بار پھر موت کی وادی میں داخل ہو گئے۔
تمام مؤرخ متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ خالدؓ اس وقت حیرہ پہنچے جب فراض سے چلا ہوا ان کا لشکر حیرہ میں داخل ہو رہا تھا۔لشکر کا عقبی حصہ جس کے ساتھ خالدؓ کو ہونا چاہیے تھا، وہ ابھی حیرہ سے کچھ دور تھا۔خالدؓ خاموشی سے عقبی حصے سے جا ملے اور حیرہ میں اس انداز سے داخل ہوئے جیسے وہ فراض سے آرہے ہوں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ لشکر نے جب دیکھا کہ ان کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ اور چند اور افراد کے سر استرے سے صاف کیے ہوئے ہیں تو لشکر میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں لیکن سر منڈوانا کوئی عجیب چیز نہیں تھی۔ اگر لشکر کو خالدؓ خود بھی بتاتے کہ وہ حج کرکے آئے ہین توکوئی بھی یقین نہ کرتا۔مشہور مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ خالدؓ مطمئن تھے کہ انہیں مکہ میں کسی نے نہیں پہچانا۔چار مہینے گزر گئے۔کسریٰ کے خلاف جنگی کارروائیاں ختم ہو چکی تھیں۔عراق کا بہت سا علاقہ کسریٰ سے چھین کر سلطنتِ اسلامیہ میں شامل کر لیا گیا تھا۔کسریٰ کی جنگی طاقت کا دم خم توڑ دیا گیاتھا۔آتش پرست فارسیوں کی دھونس اوردھاندلی ختم ہو چکی تھی۔یہ خطرہ اگر ہمیشہ کیلئے نہیں تو بڑی لمبی مدت کیلئے ختم ہوگیا تھاکہ فارس کی جنگی طاقت حملہ کرکے مسلمانوں کو کچل ڈالے گی۔فارس آتش پرستوں کے نامور جرنیل قارن، ہرمز، بہمن جاذویہ، اندرزغر، روزبہ، اور زرمہر اور دوسرے جن کی جنگی اہلیت اور دہشت مشہور تھی۔خالدؓ اور ان کے مجاہدین کے ہاتھوں مختلف معرکوں میں مارے گئے تھے۔ان جیسے جرنیل پیدا کرنے کیلئے بڑی لمبی مدت درکار تھی۔اب تو پورے عراق میں اور مدائن کے محلات کے اندر بھی ان مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی جنہیں انہی محلات میں عرب کے بدو اور ڈاکو کہا گیا تھا۔سب سے بڑی فتح تو یہ تھی کہ اسلام نے اپنی عظمت کا احساس دلادیا تھا۔خالدؓ نے حیرہ میں چار مہینے گزار کر اپنے لشکر کو آرام کرنے کی مہلت دی اور اس خیال سے جنگی تربیت بھی جاری رکھی کہ مجاہدین ِ لشکر سست نہ ہوجائیں۔اس کے علاوہ خالدؓنے مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق اور محصولات کی وصولی کا نظام بھی بہتر بنایا۔مئی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کو امیر المومنین ابو بکر ؓ کا خط ملا جس کا پہلا فقرہ خالدؓ کے حج کے متعلق تھا جس کے متعلق خالدؓ مطمئن تھے کہ امیر المومنینؓ اس سے بے خبر ہیں۔خط میں خالدؓ کے حج کا اشارہ کرکے صرف اتنا لکھا تھا ۔ آئندہ ایسا نہ کرنا۔باقی خط کا متن یہ تھا:’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ عتیق بن ابو قحافہ کی طرف سے خالد بن ولید کے نام۔ )یاد رہے کہ امیر المومنین اوّل ابو بکر صدیقؓ کہلاتے تھے لیکن انکا نام عبداﷲ بن ابی قحافہ تھا اور عتیق ان کا لقب تھا جو انہیں رسولِ کریم ﷺنے عطا فرمایا تھا(۔السلام و علیکم۔ تعریف اﷲکیلئے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔درود و سلام محمد الرسول اﷲ)ﷺ( پر……’’حیرہ سے کوچ کرو اور شام )سلطنت روما(میں اس جگہ پہنچو جہاں اسلامی لشکر جمع ہے۔ لشکر اچھی حالت میں نہیں، مشکل میں ہے۔ میں اس تمام لشکر کا جو تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے اور اس لشکر کا جس کی مدد کو تم جا رہے ہو، سپہ سالار مقررکرتا ہوں۔ رومیوں پر حملہ کرو۔ ابو عبیدہ اور اس کے ساتھ کے تمام سالار تمہارے ماتحت ہوں گے……
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 36
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-36)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابوسلیمان!)خالدکا دوسرا نام(پختہ عزم لے کر پیش قدمی کرو۔ اﷲکی حمایت اور مدد سے اس مہم کو پورا کرو۔ اپنے لشکر کو جو اس وقت تمہارے پاس ہے، دو حصوں میں کردو۔ ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے سپرد کر جاؤ۔ عراق )سلطنت فارس کے مفتوحہ علاقوں کا(سپہ سالار مثنیٰ بن حارثہ ہوگا۔ لشکر کا دوسرا حصہ اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اﷲتمہیں فتح عطا فرمائے۔ اس کے بعد یہیں واپس آجانا اور اس علاقے کے سپہ سالار تم ہوگے……تکبر نہ کرنا، تکبر اور غرور تمہیں دھوکہ دیں گے۔ اور تم اﷲکے راستے سے بھٹک جاؤ گے ۔کوتاہی نہ ہو۔ رحمت و کرم اﷲکے ہاتھ میں ہے، اور نیک اعمال کا صلہ اﷲہی دیا کرتا ہے۔‘‘خط پڑھتے ہی خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور کچھ کھسیانا سا ہوکے انہیں بتایا کہ ان کے خفیہ حج کا امیر المومنینؓ کو پتا چل گیا ہے۔’’اور میں خوش ہوں اس پر کہ فراغت ختم ہو گئی ہے۔‘‘
خالدؓ نے کہا۔’’ہم شام جا رہے ہیں۔‘‘خالدؓ تو جیسے میدانِ جنگ کیلئے پیدا ہوئے تھے۔قلعے اور شہر میں بیٹھنا انہیں پسند نہ تھا۔انہوں نے سالاروں کو خط پڑھ کر سنایا اور تیاری کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے لشکرکو دوحصوں میں تقسیم کیا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ رکھا۔صحابہ کرامؓ کو لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’خدا کی قسم!میں اس تقسیم پر راضی نہیں ہوں جو تو نے کی ہے۔تو رسول اﷲﷺ کے تمام ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔صحابہ کرام کو بھی صحیح تقسیم کر۔ آدھے صحابہ کرام تیرے ساتھ جائیں گے، آدھے میرے ساتھ رہیں گے۔کیا تو نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت اﷲہمیں فتح عطا کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے مسکرا کر صحابہ کرامؓ کی تقسیم مثنیٰ بن حارثہ کی خواہش کے مطابق کردی اور اپنے لشکر کے سالاروں کو حکم دیاکہ جتنی جلدی ممکن ہو تیاری مکمل کریں۔’’اور یہ نہ بھولناکہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مدد کو جا رہے ہیں جو وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ضائع کرنے کیلئے ہمارے پاس ایک سانس جتنا وقت بھی نہیں۔‘مسلمانوں کا وہ لشکر جو شام میں جاکر مشکل میں پھنس گیا تھا ،وہ ایک سالار کی جلد بازی کا اور حالات کو قبل از وقت نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ تھا۔اس نے شام کے اندر جاکر رومیوں پر حملہ کرنے کی اجازت امیر المومنینؓ سے اس طرح مانگی کہ جس طرح وہ خود آگے کے احوال و کوائف کو نہیں سمجھ سکا تھا، اسی طرح اس نے امیر المومنینؓ کو بھی گمراہ کیا۔ امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ دانشمند انسان تھے۔انہوں نے اس سالار کو حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ دی بلکہ یہ لکھا:
’’……رومیوں سے ٹکر لینے کی خواہش میرے دل میں بھی ہے۔ اور یہ ہماری دفاعی ضرورت بھی ہے۔ رومیوں کی جنگی طاقت کو اتنا کمزور کردینا ضروری ہے کہ وہ سلطنت اسلامیہ کی طرف دیکھنے کی جرات نہ کر سکیں لیکن ابھی ہم ان سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ تم ان کے خلاف بڑے یپمانے کی جنگ نہ کرنا، محتاط ہو کر آگے بڑھنا تاکہ خطرہ زیادہ ہو تو پیچھے بھی ہٹ سکو، تم یہ جائزہ لینے کیلئے حملہ کرو کہ رومیوں کی فوج کس طرح لڑتی ہے اور اس کے سالار کیسے ہیں۔‘‘امیر المومنینؓ نے صاف الفاظ میں لکھا کہ اپنے لشکر کو ایسی صورت میں نہ ڈال دینا کہ پسپائی اختیار کرو اور تمہیں اپنے علاقے میں آکر بھی پناہ نہ ملے۔اس سالار کا نام بھی خالد تھا ، خالد بن سعید۔لیکن میدانِ جنگ میں وہ خالدؓ بن ولید کی گَردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اسے جن دستوں کا سالار بنایا گیا تھا وہ سرحدی فرائض انجام دینے والے دستے تھے۔ ان میں لڑنے کی اہلیت تھی اور ان میں لڑنے کا جذبہ بھی تھا لیکن انہیں جنگ کا ویسا تجربہ نہ تھا جیسا خالدؓ بن ولید کے دستوں نے حاصل کر لیا تھا۔امیرالمومنینؓ نے خالد بن سعید کو اپنی سرحدوں پر پہرہ دینے کیلئے بھیجا تھا۔ان دستوں کا ہیڈ کوارٹر تیما کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
بعض مؤرخوں نے لکھا کہ خالدؓ کی پے در پے کامیابیاں دیکھ دیکھ کر خالدبن سعید کو خیال آیا کہ خالدؓ نے فارس کو شکستیں دی ہیں تو وہ رومیوں کو ایسی ہی شکستیں دے کر خالدؓ کی طرح نام پیدا کرے۔ ابنِ ہشام اور ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے یہ بھی لکھا ہے کہ خلیفۃ المسلمینؓ خالد بن سعید کی قیادت اور صلاحیتوں سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے اس سالار کو بڑی جنگوں سے دور رکھا تھا لیکن وہ اس کی باتوں میں آگئے۔خالدؓ نے بھی فراض کے مقام پر رومیوں سے ٹکرلی تھی، لیکن سرحد پر معرکہ لڑا تھا، انہوں نے آگے جانے کی غلطی نہیں کی تھی، خالد بن سعید نے امیرالمومنینؓ کا جواب ملتے ہی اپنے دستوں کو کوچ کا حکم دیا اور شام کی سرحد میں داخل ہو گئے ۔ اس وقت شام میں ہرقل رومی حکمران تھا۔ اسے جنگوں کا بہت تجربہ تھا، رومیوں کی اپنی جنگی تاریخ اور روایات تھیں،وہ اپنی فوج کو انہی کے مطابق ٹریننگ دیتے تھے۔یہ تقریباً انہی دنوں کا واقعہ ہے جب خالدؓ فراض کے مقام پر رومیوں ، فارسیوں اور عیسائیوں کے متحدہ لشکر کے خلاف لڑے اورانہیں شکست دی تھی۔ اس سے رومی محتاط ، مستعد اور چوکس ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہر لمحہ تیار رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔
خالد بن سعید نے آگے کے احوال و کوائف معلوم نہ کیے، کوئی جاسوس آگے نہ بھیجا، اوراندھا دھند بڑھتے گئے۔ آگے رومی فوج کی کچھ نفری خیمہ زن تھی۔ خالد بن سعید نے دائیں بائیں دیکھے بغیر اس پر حملہ کردیا۔ رومیوں کا سالار باہان تھا، جو جنگی چالوں کے لحاظ سے خالدؓ بن ولید کے ہم پلّہ تھا ۔خالد بن سعید نہ سمجھ سکا کہ رومیوں کی جس نفری پر اس نے حملہ کیا ہے ، اس کی حیثیت جال میں دانے کی ہے، وہ انہی میں الجھ گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد اسے پتا چلا کہ اس کے اپنے دستے رومیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں اور عقب سے رومی ان پر ہلّہ بولنے کیلئے بڑھے آرہے ہیں۔ خالد بن سعید کیلئے اپنے دستوں کو بچانا ناممکن ہو گیا۔ اس نے یہ حرکت کی کہ اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور اپنے دستوں کو رومیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔مسلمانوں کے ان دستوں میں مشہور جنگجو عکرمہؓ بن ابو جہل بھی تھے۔ اس ابتر صورتِ حال میں انہوں نے اپنے ہراساں دستوں کی کمان لے لی، اور ایسی چالیں چلیں کہ اپنے دستوں کو تباہی سے بچا لائے، جانی نقصان تو ہوا اور زخمیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ خالدبن سعید کے بھاگ جانے سے تمام دستوں کے جنگی قیدی بننے کے حالات پیدا ہو گئے تھے، عکرمہؓ نے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچالیا۔مدینہ اطلاع پہنچی تو خلیفۃ المسلمینؓ نے خالدبن سعید کو معزول کرکے مدینہ بلالیا۔ خلیفۃ المسلمینؓ کے غصے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خالد بن سعید کو بھری محفل میں بزدل اور نالائق کہا۔ خالد بن سعید خاموشی کی زندگی گزارنے لگا۔ اس سے زیادہ اور افسردہ آدمی اور کون ہو سکتا تھا ۔آخر خدا نے اس کی سن لی ، بہت عرصے بعد جب مسلمانوں نے شام کو میدانِ جنگ بنالیا تھا ۔خالد بن سعید کو وہاں ایک دستے کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔ اس نے اپنے نام سے شکست کا داغ یوں دھویا کہ بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔
امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ نے اپنی مجلسِ مشاورت کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔اس مجلس میں جو اکابرین شامل تھے ، ان میں عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰنؓ بن عوف، سعدؓ بن ابی وقاص، ابو عبیدہؓ بن الجراح، معاذؓ بن جبل، ابیؓ بن کعب، اور زیدؓ بن ثابت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔’’میرے دوستو!‘‘خلیفہ ابو بکر صدیقؓ نے کہا۔’’ رسولِ کریم ﷺکا ارادہ تھا کہ شام کی طرف سے رومیوں کے حملہ کا سدّباب کیا جائے ۔آپﷺنے جو تدبیریں سوچی تھیں ،ان پر عمل کرنے کی آپﷺکو مہلت نہ ملی۔آپﷺانتقال فرما گئے۔اب تم نے سن لیا ہے کہ ہرقل جنگی تیاری مکمل کر چکا ہے، اور ہمارا ایک سالار شکست کھا کر واپس بھی آگیا ہے۔ اگر ہم نے رومیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو ایک تو اپنے لشکر کے حوصلے کمزور ہوں گے اور وہ رومیوں کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھنے لگیں گے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ رومی آگے بڑھ آئیں گے اور ہمارے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس صورتِ حال میں تم مجھے کیا مشورہ دو گے؟یہ بھی یاد رکھنا کہ ہمیں مزید فوج کی ضرورت ہے۔‘‘
’’امیرالمومنین!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’آپ کے عزم کو کون رد کر سکتا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ شام پر حملے کا اشارہ اﷲکی طرف سے ملا ہے۔
لشکر کیلئے مزید نفری بھرتی کریں ، اور جو کام رسول اﷲﷺنے کرنا چاہا تھا اسے ہم پورا کریں۔‘‘’’امیرالمومنین!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’اﷲکی سلامتی ہو تم پر، غور کر لے، رومی ہم سے طاقتور ہیں۔ خالدبن سعید کاانجام دیکھ، ہم رسول اﷲﷺکے ارادوں کو ضرور پورا کریں گے لیکن ہم اس قابل نہیں کہ رومیوں پر بڑے پیمانے کا حملہ کریں۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہمارے دستے رومیوں کی سرحدی چوکیوں پو حملے کرتے رہیں اور ہر حملے کے بعد دور پیچھے آجائیں۔ اس طرح رومیوں کا آہستہ آہستہ نقصان ہوتا رہے گا اور اپنے مجاہدین کے حوصلے کھلتے جائیں گے،اس دوران ہم اپنے لشکر کیلئے لوگوں کو اکھٹا کرتے رہیں۔ امیرالمومنین !لشکر میں اضافہ کرکے تم خود جہاد پر روانہ ہو جاؤ اور چاہو تو قیادت کسی اور سردار کو دے دو۔‘‘مؤرخوں نے اس دور کی تحریروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تمام مجلس پر خاموشی طاری ہو گئی، عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے بڑی جرات سے اپنا مشورہ پیش کیا تھا۔ ایسالگتا تھا جیسے اب کوئی اور بولے گا ہی نہیں۔’’خاموش کیوں ہو گئے ہو تم؟‘‘ امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’اپنے مشورے دو۔‘‘’’کون شک کر سکتا ہے تمہاری دیانتداری پر!‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’بے شک تم مسلمانوں کی او ردین کی بھلائی چاہتے ہو۔ پھر کیوں نہیں تم حکم دیتے کہ شام پر حملہ کرو۔نتیجہ جو بھی ہوگا ہم سب بھگت لیں گے۔‘‘مجلس کے دوسرے شرکاء نے عثمانؓ بن عفان کی تائید کی اور متفقہ طور پر کہا کہ دین اور رسول اﷲ ﷺکی امت کے وقار کیلئے مسندِ خلافت سے جو حکم ملے گا سے سب قبول کریں گے۔’’تم سب پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ خلیفۃ المسلمینؓ نے آخر میں کہا۔’’میں کچھ امیر مقرر کرتا ہوں۔ اﷲکی اور اس کے رسولﷺ کے بعد اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اپنی نیتوں اور ارادوں کو صاف رکھو۔ بے شک اﷲانہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ امیر المومنین ابو بکرؓ کا مطلب یہ تھا کہ شام پر حملہ ہوگا اور رومیوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے گی ۔مجلس پر پھر خاموشی طاری ہو گئی۔ محمد حسین ہیکل لکھتا ہے کہ یہ خاموشی ایسی تھی کہ جیسے وہ رومیوں سے ڈر گئے ہوں یا انہیں امیرالمومنینؓ کا یہ فیصلہ پسند نہ آیا ہو۔ عمرؓ نے سب کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں جذبات کی شدت سے سرخ ہو گئیں۔’’اے مومنین!‘‘عمرؓ نے گرج کر کہا۔’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ خلیفہ کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہتے؟ کیا خلیفہ نے اپنی بھلائی کیلئے کوئی حکم دیا ہے؟ کیا خلیفہ کے حکم میں تمہاری بھلائی شامل نہیں؟ امتِ رسول کی بھلائی نہیں؟……بولو……لبیک کہو اور آواز اپنے دلوں سے نکالو۔‘‘مجلس کا سکوت ٹوٹ گیا، لبیک لبیک کی آوازیں اٹھیں، اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ وہ رومیوں سے ٹکر لیں گے۔
حج سے واپس آکر خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے مدینہ میں گھوڑ دوڑ ، نیزہ بازی ، تیغ زنی، تیر اندازی، اور کُشتیوں کا مقابلہ منعقدکرایا۔اردگرد کے قبیلوں کو بھی اس مقابلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تین دن مدینہ میں انسانوں کے ہجوم کا یہ عالم رہا کہ گلیوں میں چلنے کو رستہ نہیں ملتا تھا۔کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔ جدھر نظر جاتی تھی گھوڑے اور اونٹ کھڑے نظر آتے تھے۔دف اور نفیریاں بجتی ہی رہتی تھیں۔قبیلے اپنے شہسواروں اور پہلوانوں کو جلوسوں کی شکل میں لا رہے تھے۔تین دن ہر طرح کے مقابلے ہوتے رہے۔ جن قبیلوں کے آدمی جیت جاتے وہ قبیلے میدان میں آکر ناچتے کودتے اور چلّا چلّا کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کی عورتیں اپنے جیتنے والے آدمیوں کی مدح میں گیت گاتی تھیں، مقابلے میں باہر کا کوئی گھوڑ سوار یا تیغ زن یا کوئی شتر سوارزخمی ہو جاتا تھا تو مدینہ کا ہر باشندہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔مدینہ والوں کی میزبانی نے قبیلوں کے دل موہ لیے۔مقابلوں اور میلے کا یہ اہتمام خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے کیا تھا،مقابلے کے آخری روز مدینہ کا اک آدمی گھوڑے پر سوار میدان میں آیا۔میدان کے اردگرد لوگوں ، گھوڑوں اور اونٹوں کا ہجوم جمع تھا۔’’اے رسول اﷲﷺکے امتیو!‘‘میدان میں اترنے والے سوار نے بڑی بلند سی آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!کوئی نہیں جوتمہیں نیچا دِکھا سکے ۔تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنے جوہر دیکھ لیے ہیں۔کونسا دشمن ہے جو تمہارے سامنے اپنے پاؤں پرکھڑا رہ سکے گا، یہ طاقت جو تم نے اک دوسرے پر آزمائی ہے ، اب اسے دشمن پر آزمانے کا وقت آگیا ہے جو تمہاری طرف بڑھا آرہا ہے……‘‘’’اے مومنین!اپنی زمین کو دیکھو۔ اپنے اموال کو دیکھو، اپنی عور توں کو دیکھو جو تمہارے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، اپنی جوان اور کنواری بیٹیوں کو دیکھو، جو تمہارے دامادوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں کہ حلال بچے پیدا کریں۔ اپنے دین کودیکھو جو اﷲکا سچا دین ہے۔ خدا کی قسم!تم غیرت والے ہو۔ عزت والے ہو، اﷲنے تمہیں برتری دی ہے۔ تم پسند نہیں کرو گے کہ کوئی دشمن اس وقت تم پر آپڑے جب تم سوئے ہوئے ہو گے، اور تمہارے گھوڑے اور تمہارے اونٹ بغیر زینوں کے بندھے ہوئے ہوں گے اور تم نہیں بچا سکو گے اپنے اموال کو، اپنے بچوں کو، اپنی عورتوں کو، اور اپنی کنواری بیٹیوں کو اور دشمن تمہیں مجبور کر دے گا کہ سچے دین کو چھوڑ کر دشمن کے دیوتاؤں کی پوجا کرو۔‘‘’’بتا ہمیں وہ دشمن کون ہے؟ ‘‘ایک شتر سوار نے چلّا کر پوچھا۔ ’’کون ہے جو ہماری غیرت کو للکار رہا
ہے۔‘‘’’رومی!‘‘گھوڑ سوار نے اعلان کرنے کے لہجے میں کہا۔’’وہ ملک شام پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، ان کی فوج ہم سے زیادہ ہے، بہت زیادہ ہے، ان کے ہتھیار ہم سے اچھے ہیں، لیکن وہ تمہارا وار نہیں سہہ سکتے، تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنی ہمت دیکھ لی ہے، اب اُس میدان میں چلوجہاں تمہاری طاقت اور ہمت تمہارا دشمن دیکھے گا۔‘‘
’’ہمیں اس میدان میں کون لے جائے گا؟‘‘ ہجوم میں سے کسی نے پوچھا۔’’مدینہ والے تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘مدینہ کے گھوڑ سوار نے کہا۔’’دیکھو انہیں جو برسوں سے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ کٹ رہے ہیں اور وہین دفن ہو رہے ہیں، انہیں اپنے بچوں کی یاد نہیں رہی، انہیں اپنے گھر یاد نہیں رہے، وہ بڑی تھوڑی تعداد میں ہیں اور اس دشمن کو شکست پہ شکست دے رہے ہیں جوتعداد میں ان سے بہت زیادہ ہے۔ وہ راتوں کو بھی جاگتے ہیں تمہاری عزتوں کیلئے……انہوں نے آتش پرست فارسیوں کا سر کچل ڈالا ہے۔ اب رومی رہ گئے ہیں لیکن ہمارے مجاہدین تھک گئے ہیں۔ محاذ ایک دوسرے سے دور ہیں، وہ ہر جگہ فوراً نہیں پہنچ سکتے……کیا تم جو غیرت اور عزت والے ہو، طاقت اور ہمت والے ہو، ان کی مدد کو نہیں پہنچوگے؟‘‘ہجوم جو پہلے ہی بے چین تھا، جوش و خروش سے پھٹنے لگا۔ امیرالمومنینؓ کا یہی منشاء تھا کہ لوگوں کو اسلامی لشکرمیں شامل کیا جائے۔ قبیلوں کی جو عورتیں مدینہ آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کو لشکر میں بھرتی ہونے پر اکسانا شروع کر دیا۔اس روز جو مقابلوں کا آخری روز تھا ، مقابلوں میں کچھ اور ہی جوش اور کچھ اور ہی شور تھا۔ مقابلوں میں اترنے والوں کا انداز ایسا ہی تھاجیسے وہ لشکر میں اچھی حیثیت حاصل کرنے کیلئے اپنے جوہر دِکھا رہے ہوں۔ اس کے بعد ان لوگوں میں سے کئی اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔یمن میں اسلام مقبولِ عام مذہب بن چکا تھا۔ارتداد بھی ختم ہو گیا تھا اور یہاں کا غالب مذہب اسلام تھا۔ خلیفۃ المسلمینؓ نے اہلِ یمن کے نام ایک خط لکھا جو ایک قاصد لے کر گیا۔خط میں لکھا تھا:’’اہلِ یمن !تم پر اﷲکی رحمتیں برسیں۔تم مومنین ہو اور مومنین پر اس وقت جہاد فرض ہو جاتا ہے جب ایک طاقتور دشمن کا خطرہ موجود ہو۔ حکم رب العالمین ہے کہ تم تنگدستی میں ہو یا خوشحالی میں، تمہارے پاس سامان کم ہے یا زیادہ، تم جس حال میں بھی ہو ،دشمن کے مقابلے کیلئے نکل پڑو۔ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو۔ تمہارے جو بھائی مدینہ آئے تھے۔انہیں میں نے بغرضِ جہاد جانے کی ترغیب دی تو وہ بخوشی تیار ہوگئے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔میں یہی ترغیب تمہیں دیتا ہوں۔میری آواز تم تک پہنچ گئی ہے، اس میں اﷲکا حکم ہے وہ سنو اور جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘اس دور کے رواج کے مطابق مدینہ کے قاصد نے یمن میں تین چار جگہوں پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور امیرالمومنینؓ کا پیغام سنایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک سردار ذوالکلاع حمیری نے نہ صرف اپنے قبیلے کے جوان آدمیوں کو تیار کرلیا بلکہ اپنے زیرِاثر چند اور قبیلوں کے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لیا اور مدینہ کو روانہ ہو گیا۔
مدینہ کا قاصد ہر قبیلے میں گیا تھا تین اور قبیلوں کے سرداروں قیس بن ھبیرمرادی، جندب بن عمرو الدوسی اور حابس بن سعد طائی۔ نے اپنے اپنے قبیلے کے جوانوں اور لڑنے کے قابل افراد کو ساتھ لیا اور شام کی جنگی مہم میں شریک ہونے کیلیئے عازمِ مدینہ ہوئے۔یہ ایک اچھا خاصہ لشکر بن گیا،ہر فرد گھوڑے یا اونٹ پر سوار اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر آیا، یہ لوگ تیروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ساتھ لے آئے، مدینہ میں اس لشکرکا اجتماع ۶۳۴ء )محرم ۱۳ھ (میں ہوا تھا۔امیرالمومنین ابو بکرؓ نے خود اس اجتماع کے ہر آدمی کواچھی طرح سے دیکھاکہ وہ تندرست ہے اور وہ کسی کے مجبور کرنے پر نہیں بلکہ جہاد کا مطلب اور مقصد سمجھ کرخود آیا ہے۔ پھر اس لشکرکی چھان بین یہ معلوم کرنے کیلئے کی گئی کہ ان میں کئی افراد مرتدین کے ساتھ رہے اور مسلمانوں نے ارتداد کے خلاف جو جنگ لڑی تھی، اس میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ انہوں نے اسلام تو قبو ل کرلیا تھا لیکن ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا،مرتدین نے یہ عادت بنالی تھی کہ مرتد بنے رہے، جب مسلمانوں کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں پِٹ گئے تو اسلام قبول کر لیا مگر مسلمان ان پر بھروسہ کرکے ان کی بستیوں سے ہٹے تو ان میں سے کئی ایک اسلام سے منحرف ہو کر پھر مرتد ہو گئے۔مدینہ میں چھان بین کی گئی تو ان میں سے بعض کو لشکر سے نکال دیا گیا۔باقی لشکر کو چار حصوں مین بانٹ کر ہر حصے کا سالار مقرر کیا گیا۔ ہر حصے میں سات ہزار آدمی تھے یعنی لشکر کی تعداد اٹھائیس ہزار تھی۔زیادہ تر مؤرخوں نے یہ تعداد تیس ہزار لکھی ہے، ایک حصے کے سالار تھے عمروؓ بن العاص، دوسرے کے یزید ؓبن ابی سفیان ، تیسرے کے شرجیلؓ بن حسنہ اور چوتھے حصے کے سالار ابو عبیدہؓ بن الجراح تھے۔ان سالاروں نے چند دن لشکر کو بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی ٹریننگ دی جس میں معرکے کے دوران دستوں کا آپس میں رابطہ اور نظم و نسق قائم رکھنا شامل تھا۔اپریل ۶۳۴ء )صفر ۱۳ھ( کے پہلے ہفتے میں اس لشکر کو شام کی طرف کوچ کا حکم ملا۔ہر حصے کے الگ الگ مقامات پر پہنچنا اور ایک دوسرے سے الگ کوچ کرنا تھا۔ عمروؓ بن العاص کو اپنے دستوں کے ساتھ فلسطین تک جانا تھا، یزیدؓ بن ابی سفیان کی منزل دمشق تھی، انہیں تبوک کے راستے سے جانا تھا، شرجیلؓ بن حسنہ کو اردن کی طرف جانا تھا، انہیں کہا گیا تھا کہ یزیدؓ بن ابی سفیان کے دستوں کے پیچھے پیچھے جائیں، ابو عبیدہؓ بن الجراح کی منزل حمص تھی۔ انہیں بھی تبوک کے راستے سے ہی جانا تھا۔
’’اﷲ تم سب کا حامی و ناصر ہو۔ ‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے آخری حکم یہ دیا۔’’سالار اپنے اپنے دستے ایک دوسرے سے الگ رکھیں گے۔ اگر رومیو ں کے ساتھ کہیں ٹکر ہو گئی تو سالار ایک دوسرے کو مدد کیلئے بلا سکتے ہیں۔ اگر لشکرکے چاروں حصوں کو مل کر لڑنا پڑا تو ابو عبیدہ بن الجراح تمام لشکر کے سپاہ سالار ہوں گے۔‘‘سب سے پہلے یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے تھے۔چھتوں پر عورتیں کھڑی ہاتھ اوپر کرکے ہلا رہی تھیں۔بوڑھی عورتوں نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔کئی بوڑھوں کی آنکھیں اس لیے اشکبار ہو گئی تھیں کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کے آگے آگے جا رہے تھے۔یزیدؓ کے ساتھ امیر المومنین ابو بکرؓ پیدل جا رہے تھے، یزیدؓ گھوڑے سے اتر آئے، امیرالمومنینؓ کے اصرار کے باوجود وہ گھواڑے پر سوار نہ ہوئے ، امیرالمومنینؓ ضعیف تھے پھر بھی وہ دستوں کی رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ یزیدؓ نے انہیں کئی بار کہا کہ وہ واپس چلے جائیں لیکن ابو بکرؓ نہ مانے، مدینہ سے کچھ دور جاکر یزیدؓ رک گئے۔’’امیرالمومنین واپس نہیں جائیں گے تو میں ایک قدم آگے نہیں بڑھوں گا ۔‘‘ یزیدؓ بن ابی سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان!‘‘امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’تو مجھے سنتِ رسول اﷲﷺسے روک رہا ہے۔ کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اﷲﷺجہاد کو رخصت ہونے والے ہر لشکرکے ساتھ دور تک جاتے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے؟ آپﷺفرمایا کرتے تھے، کہ پاؤں جو جہاد فی سبیل اﷲکے راستے پر گرد آلود ہو جاتے ہیں، دوزخ کی آگ ان سے دور رہتی ہے۔‘‘تاریخ کے مطابق امیر المومنینؓ کے لشکر کے اس حصے کے ساتھ مدینہ سے دو میل دور تک چلے گئے تھے۔’’یزید!‘‘امیرالمومنین ؓنے کہا۔’’اﷲتجھے فتح و نصرت عطا فرمائے، کوچ کے دوران اپنے آپ پر اور اپنے لشکر پر کوئی سختی نہ کرنا۔ فیصلہ اگر خود نہ کر سکو تو اپنے ماتحتوں سے مشورہ لے لینا، اور تلخ کلامی نہ کرنا ……عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑنا۔ ظلم سے باز رہنااور بے انصافی کرنے والی قوم کو اﷲپسند نہیں کرتا، اور ایسی قوم کبھی فاتح نہیں ہوتی……میدانِ جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا، کہ جنگی ضرورت کے بغیر پیچھے ہٹنے والے پر اﷲکا قہر نازل ہوتا ہے……اور جب تم اپنے دشمن پر غالب آجاؤ تو عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، اور جو جانور تم کھانے کیلئے ذبح کرو ان کے سوا کسی جانور کو نہ مارنا۔‘‘
مؤرخین واقدی، ابو یوسف، ابنِ خلدون اور ابنِ اثیر نے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے یہ الفاظ لکھے ہیں، ان مؤرخین کے مطابق امیرالمومنین ابو بکرؓ نے یزید ؓبن ابی سفیان سے کہا۔’’ تجھے خانقاہیں یا عبادت گاہیں سی نظر آئیں گی اور ان کے اندر راہب بیٹھے ہوں گے، وہ تارک الدنیا ہوں گے۔ انہیں اپنے حال میں مست رہنے دینا، نہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان پہنچانا، نہ ان کے راہبوں کو پریشان کرنا……اور تمہیں صلیب کو پوجنے والے بھی ملیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان کے سروں کے اوپر درمیان میں بال ہوتے ہی نہیں ، منڈوادیتے ہیں۔ ان پر اسی طرح حملہ کرنا جس طرح میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے۔ انہیں صرف اس صورت میں چھوڑنا کہ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں……اﷲکے نام پر لڑنا، اعتدال سے کام لینا۔ غداری نہ کرنا، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے بلا وجہ قتل نہ کرنا نہ ایسے لوگوں کے اعضاء کاٹنا۔‘‘یہ رسولِ کریمﷺکا طریقہ تھا کہ رخصت ہونے والے ہر لشکر کے ساتھ کچھ دورتک جاتے، سالاروں کوان کے فرائض یاد دلاتے، اور لشکر کو دعاؤں سے رخصت کرتے تھے۔خلیفہ اول ابو بکرؓ نے رسول کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے چاروں سالاروں کو آپﷺہی کی طرح رخصت کیا۔لشکر اور دستے تو محاذوں پر روانہ ہوتے ہی رہتے تھے لیکن یہ لشکر بڑے ہی خطرناک اور طاقتور دشمن سے نبرد آزما ہونے جا رہا تھا۔ شہنشاہ ہرقل جو حمص میں تھا، صرف شہنشاہ ہی نہیں تھا وہ میدانِ جنگ کا استاد اور جنگی چالوں کا ماہر تھا اس لشکر کو مدینہ سے روانہ کرکے مدینہ والوں پر خاموشی سی طاری ہو گئی تھی اور وہ خاموشی کی زبان میں ہر کسی کے سینے سے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔یہ تھی وہ جنگی مہم جس کیلئے امیر المومنینؓ نے فیصلہ کیا تھاکہ اس کی کمان اور قیادت کیلئے خالدؓ سے بہتر کئی سالار نہیں۔ مدینہ کا یہ اٹھائیس ہزار کا لشکر پندرہ دنوں میں شام کی سرحدوں پر اپنے بتائے ہوئے مقامات پر پہنچ چکا تھا۔حمص میں شہنشاہ ہرقل کے محل میں وہی شان و شوکت تھی جو شہنشاہوں کے محلات میں ہوا کرتی تھی۔مدائن کے محل کی طرح حمص کے محل میں بھی حسین اور نوجوان لڑکیاں ملازم تھیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی تھیں، اور ایک ملکہ بھی تھی اور جس کی وہ ملکہ تھی اس کی ملکہ ہونے کی دعویدار چند ایک اور بھی تھیں۔شہنشاہ ہرقل کے دربار میں ایک ملزم پیش تھا ،اس کا جرم یہ تھا کہ وہ شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا، اس کا تعلق اس خاندان کے ساتھ تھا جوشہنشاہ کا نام سنتے ہی سجدے میں گر پڑتاتھا، یہ ملزم ان لوگوں میں سے تھا جو شہنشاہ کو روزی رساں سمجھا کرتے تھے۔
اس ملزم کا جرم یہ تھا کہ شاہی خاندان کی ایک شہزادی اس پر مر مٹی تھی۔ شہزادی غزال کے شکار کو گئی تھی، اور جنگل میں اسے کہیں یہ آدمی مل گیا تھا۔ شہزادی نے تیر سے ایک غزال کو معمولی سا زخمی کر دیا تھا، اور اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیا تھا، لیکن غزال معمولی زخمی تھا، وہ گھوڑے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز بھاگ رہا تھا۔اس ملزم نے دیکھ لیا، وہ گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اس نے غزال کے پیچھے گھوڑا دوڑادیا۔ غزال مڑتا تھا تو سوار رستہ چھوٹا کرکے اس کے قریب پہنچ جاتا تھا، وہ غزال کو اس طرف لے جاتا جدھر شہزادی رُکی کھڑی تھی۔شہزادی نے تین چار تیر چلائے۔ سب خطا گئے۔ اس جوان اور خوبرو آدمی نے گھوڑے کو ایسا موڑا کہ غزال کے راستے میں آگیا، اس نے برچھی تاک کر پھینکی جو غزال کے پہلو میں اتر گئی اور وہ گر پڑا۔شہزادی اپنا گھوڑا وہاں لے آئی تو یہ آدمی اپنے گھوڑے سے کود کر اترا اور شہزادی کے گھوڑے کے قدموں میں سجدہ ریز ہو گیا۔’’میں اگر شہزادی کے شکار کو شکار کرنے کا مجرم ہوں تو مجھے معاف کیا جائے۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑکر کہا۔’’لیکن میں غزال کو شہزادی کے سامنے لے آیا تھاکہ شہزادی اسے شکار کرے۔‘‘
’’تم شہسوار ہو۔‘‘ شہزادی نے مسکرا کر کہا۔’’کیا کام کرتے ہو؟‘‘’’ہر وہ کام کر لیتا ہوں جس سے دو وقت کی روٹی مل جائے۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’میں تجھے محل کے محافظوں میں شامل کروں گی۔‘‘رعایا کے اس ناچیز بندے میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انکار کرتا۔شہزادی اسے ساتھ لے آئی اور محافظوں میں رکھوادیا، اسے جب شاہی محافظوں کا لباس ملا اور جب وہ اس لباس میں شاہی اصطبل کے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کی مردانہ وجاہت نکھر آئی۔ وہ شہزادی کا منظورِ نظر بن گیا پھر شہزادی نے اسے اپنا دیوتا بنا لیا۔شہزادی کی شادی ہونے والی تھی لیکن اس نے اپنے منگیتر کے ساتھ بے رخی برتنا شروع کردی۔ منگیتر نے اپنے مخبروں سے کہا کہ وہ شہزادی کو دیکھتے رہا کریں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور اس کے پاس کون آتا ہے۔ایک رات شہزادی کے منگیتر کو اطلاع ملی کہ شہزادی شاہی محل کے باغ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ محل سے تھوڑی ہی دور ایک بڑی خوبصورت جگہ تھی۔وہاں چشمہ تھا اور سبزہ زار تھا۔ درخت تھے اور پھولدار پودوں کی باڑیں تھیں۔ چاندنی رات تھی۔ شہزادی اور اس کا منظورِنظر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ انہیں بھاری بھرکم قدموں کی دھمک سنائی دی ۔وہ شاہی محافظوں کے نرغے میں آگئے تھے۔
اس محافظ کو قید میں ڈال دیا گیا،شہنشاہ ہرقل کو صبح بتایا گیا اور محافظ کو زنجیروں میں باندھ کر دربار میں پیش کیا گیا۔اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ایک شہزادی کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ الزام دربار میں بلند آواز سے سنایا گیا۔’’شہنشاہِ ہرقل کی شہنشاہی ساری دنیا میں پھیلے!‘‘ملزم نے کہا۔’’شہزادی کو دربار میں بلا کر پوچھا جائے کہ میں نے گستاخی کی ہے یا محبت کی ہے……اور محبت میں نے نہیں شہزادی نے کی ہے۔‘‘’’لے جاؤ اسے!‘‘شہنشاہ ہرقل نے گرج کر کہا۔’’رَتھ کے پیچھے باندھ دو اور رتھ اس وقت تک دوڑتی رہے جب تک اس کا گوشت اس کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہوجاتا۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ملزم للکار کر بولا۔’’ تو ایک شہزادی کی محبت کا خون کر رہا ہے۔‘‘اُسے دربار سے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے اور اس کی پکار اور للکار سنائی دے رہی تھی……وہ رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔’’تیرا انجام قریب آرہا ہے ہرقل!‘‘وہ چلّاتا جارہا تھا۔’’اپنے آپ کو دیوتا نہ سمجھ ہرقل!ذلت اور رسوائی تیری طرف آرہی ہے۔‘‘محبت کے اس مجرم کو ایک رتھ کے پیچھے باندھ دیاگیا اور دو گھوڑوں کی رتھ دوڑ پڑی، محل سے شور اٹھا۔ ’’شہزادی نے پیٹ میں تلوار اتار لی ہے۔‘‘یہ خبر شہنشاہ ہرقل تک پہنچی تو اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔وہ تخت پر بیٹھا رہا،درباریوں پر سناٹا طاری تھا۔کچھ دیر بعد اٹھا اور اپنے خاص کمرے میں چلا گیا۔وہ سر جھکائے یوں کمرے میں ٹہل رہاتھا، ملکہ کمرے میں آئی،ہرقل نے اسے قہر کی نظروں سے دیکھا۔’’شگون اچھا نہیں۔‘‘ملکہ نے رُندھی ہوئی آواز میں کہا۔’’صبح ہی صبح دو خون ہو گئے ہیں۔‘‘’’یہاں سے چلی جاؤ۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’میں شاہی خاندان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘’’میں کچھ اور کہنے آئی ہوں۔‘‘ ملکہ نے کہا۔’’سرحد سے ایک عیسائی آیا ہے۔اس نے تمام رات سفر میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری ہے۔اسے کسی نے دربار میں داخل ہونے نہیں دیا۔ مجھے اطلاع ملی تو……‘‘’’وہ کیوں آیا ہے؟‘‘ہرقل نے جھنجھلا کر پوچھا۔’’کیا وہ سرحد سے کوئی خبر لایا ہے؟‘‘’’مسلمانوںکی فوجیں آرہی ہیں۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’اندر بھیجو اسے!‘‘ہرقل نے کہا۔ملکہ کے جانے کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی کمرے میں آیا۔اس کے کپڑوں پر اور چہرے پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی۔وہ سلام کیلئے جھکا۔’’تو نے محل تک آنے کی جرات کیسے کی؟‘‘ہرقل نے شاہانہ جلال سے پوچھا۔’’کیا تو یہ خبر کسی سالار یا ناظم کو نہیں دے سکتا تھا؟‘‘’’یہ جرم ہے تو مجھے بخش دیں۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’مجھے ڈر تھا کہ اس خبرکو کوئی سچ نہیں مانے گا۔‘‘
’’تو نے مسلمانوں کا لشکر کہاں دیکھا ہے؟‘‘’’حمص سے تین روز کے فاصلے پر۔‘‘اس نے جواب دیا۔یہ ایک عیسائی عرب تھا۔جس نے ابو عبیدہؓ بن الجراح کے دستوں کو شام سے کچھ دور دیکھ لیا تھا ۔
اسی شام دو اور جگہوں سے اطلاعیں آئیں کہ مسلمانوں کی فوج ان جگہوں پر پڑاؤڈالے ہوئے ہے ۔مسلمانوں کے لشکر کے چوتھے حصے کی اطلاع ابھی نہیں آئی تھی۔رات کو ہرقل نے اپنے جرنیلوں اور مشیروں کو بلایا۔’’کیا تمہیں معلوم ہے سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ہرقل نے پوچھا۔’’ مدینہ کی فوج تین جگہوں پر آگئی ہے۔اپنی کسی سرحدی چوکی نے کوئی اطلاع نہیں دی ۔کیا وہاں سب سوئے رہتے ہیں؟ کیا تم برداشت کر سکتے ہو کہ عرب کے چند ایک لٹیرے قبیلے تمہیں سرحدوں پر آکر للکاریں،کیا تم ان کے ایک سالار کو اپنی طاقت نہیں دکھا چکے۔وہ خوش قسمت تھا کہ نکل گیا اب وہ زیادہ تعداد میں آئے ہیں وہ مالِ غنیمت کے بھوکے ہیں۔ فوراً تیاری شروع کرو ان کا کوئی ایک آدمی اور کوئی گھوڑا یا اونٹ واپس نہ جائے ۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ شام کی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’آپ اتنے نا تجربہ کار تو نہیں جیسی آپ نے بات کی ہے۔ اگر یہ معاملہ کچھ اور ہوتا تو ہم آپ کی تائید کرتے لیکن یہ مسئلہ جنگی ہے آپ جانتے ہیں کہ شکست کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے سبق نہیں مشورہ چاہیے۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’وہ کیا ہے جو میں نہیں جانتا۔‘‘ ’’شہنشاہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسی بات نہ کریں۔ جس نے فارس کے شہنشاہ اردشیر کی جان لے لی تھی۔‘‘رومی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’اس کی جنگی طاقت ہماری ٹکر کی تھی۔آپ بھی اس فوج سے لڑ چکے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو بھی عراق پر فوج کشی کی جرات نہیں ہوئی۔ اب فراض کے میدان میں ہمیں مسلمانوں کے خلاف فارسیوں کو اتحادی بنانا پڑا اور ہم نے عیسائی قبیلوں کو ساتھ ملایا مگر خالد بن ولید ہمیں شکست دے گیا۔‘‘’’کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمیں مسلمانوں سے ڈرنا چاہیے؟‘‘ہرقل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’نہیں شہنشاہ ۔‘‘کمانڈر نے کہا۔’’اردشیر بھی مدائن میں بیٹھا ایسی ہی باتیں کیا کرتا تھا۔جیسی آپ حمص میں بیٹھے کر رہے ہیں۔میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ فارسیوں کاانجام دیکھیں ،مدائن کے محل اب بھی کھڑے ہیں لیکن مقبروں کی طرح۔ اردشیر نے پہلے پہل مسلمانوں کو عرب کے بدو اور ڈاکو کہا تھا۔میں نے فارسیوں کی شکست کی چھان بین پوری تفصیل سے کی ہے۔اردشیر کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے۔کچل دو۔ مگر اس کا جو بھی جرنیل مسلمانوں کے مقابلے کو گیا وہ چلا گیا۔مسلمان ان کے علاقوں پہ علاقہ فتح کرتے آئے حتیٰ کہ ان کے تیر مدائن میں گرنے لگے۔‘‘ ’’اور شہنشاہِ ہرقل! مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی جنون سے لڑتے ہیں۔ مالِ غنیمت کیلئے نہیں۔ہم زمین کیلئے لڑتے ہیں مسلمان جنگ کو ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔ہم ان کے عقیدے کو سچا سمجھیں یا نہ سمجھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔شہنشاہ کو اس پر بھی غور کرنا پڑ ے گا کہ مسلمان ہر میدان میں تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔وہ جذبے اور جنگی چالوں کے زور پر لڑتے ہیں۔
فراض میں ہم نے اپنے فارسیوں کی اور عیسائیوں کی نفری کو اتنا زیادہ پھیلا دیا تھا کہ مسلمانوں کی تھوڑی سی نفری ہمارے پھیلاؤمیں آکر گم ہو جاتی، لیکن مسلمانوں نے ایسی چال چلی کہ ہمارا پھیلاؤ سکڑ گیا اور ہم پِٹ کر رہ گئے۔‘‘دوسرے جرنیلوں نے بھی اسی طرح کے مشورے دیئے اور ہرقل قائل ہو گیاکہ مسلمانوں کو طاقت ور اور خطرناک دشمن سمجھ کر جنگ کی تیاری کی جائے۔’’لیکن میں اسے اپنی توہین سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو کچھ ہی سال پہلے وجود میں آئے ہیں، عظیم سلطنت روم کو للکاریں ۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’ہمارے پاس ہماری صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ رومیوں نے ساری دنیا پر دہشت طاری کیے رکھی ہے۔ ہمارا مذہب دیوتاؤں کا مذہب ہے۔ آسمانوں اور زمین پر ہمارے دیوتاؤں کی حکمرانی ہے۔ اسلام ایک انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے جس کے پھیل جانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔میں صرف یہ حکم دوں گاکہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اس طرح ختم کرو کہ اسلام کا نام لینے والا کوئی زندہ نہ رہے۔‘‘اگلے ہی روز ہرقل کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کے ساتھ رومی فوج کی ٹکر ہوئی ہے اور رومی فوج بڑی بری طرح پسپا ہوئی ہے۔یہ عمروؓ بن العاص کے دستے تھے جو تبوک سے آگے بڑھے تو رومی فوج کے کچھ دستے ان کی راہ میں حائل ہو گئے۔یہ شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھے۔جن کے ذمے سرحدوں کی دیکھ بھال کا کام تھا۔ عمروؓ بن العاص بڑے ہوشیار سالار تھے۔انہوں نے ایسی چال چلی کہ اپنے ہراول دستے کو دشمن سے ٹکر لینے کیلئے آگے بھیجا اور دشمن کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئے۔عمروؓ بن العاص ایلہ کے مقام پرپہنچ گئے ۔یزیدؓ بن ابی سفیان بھی اپنے دستوں کے ساتھ ان سے آملے۔ جوں ہی مدینہ کے لشکر کے یہ دونوں حصے اکھٹے ہوئے روم کی فوج ان کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آگئی۔مؤرخوں کے مطابق روم کی اس فوج کی نفری تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ مسلمانوں کی تھی۔اب دو مسلمان سالار اکٹھے ہو گئے تھے انہوں نے رومیوں کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لی۔ رومیوں نے جم کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن قدم جما نہ سکے اور پسپا ہو گئے۔
یزیدؓ بن ابی سفیان نے ایک سوار دستے کو ان کے تعاقب میں بھیج دیا۔ رومیوں پر کچھ ایسی دہشت طاری ہو گئی تھی کہ وہ سوائے کٹ کٹ کر مرنے کہ اور کچھ بھی نہ کر سکے۔شہنشاہ ہرقل کو جب اپنے دستوں کی اس پسپائی کی اطلاع ملی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کو ایک بار پھر بلایا اور حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرکے شام کی سرحد کے باہر کسی جگہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور انہیں وہیں ختم کیا جائے۔
مسلمان سالاروں نے ان جگہوں سے جہاں وہ پڑاؤڈالے ہوئے تھے، چند آدمیوں کو اپنے زیرِ اثر لے لیا،اور انہیں بے انداز انعام و اکرام کا لالچ دیا جس کے عوض وہ مسلمانوں کیلئے جاسوسی کرنے پر آمادہ ہو گئے۔چند دنوں میں ہی وہ مطلوبہ خبریں لے آئے۔ ان کی رپورٹوں کے مطابق رومی جو فوج اکٹھی کر رہے تھے اس کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ اس فوج کا ایک حصہ اجنادین کی طرف کوچ کر رہا تھا جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ رومی فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہو کر آرہے ہیں۔جاسوسوں نے تیاریوں کی پوری تفصیل بیان کی۔ ابو عبیدہؓ بن الجراح کو امیر المومنینؓ نے یہ حکم دیا تھا کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھے لڑنا پڑا تو وہ یعنی ابو عبیدہؓ پورے لشکر کے سالارہوں گے ۔صورت ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھا ہونا پڑا۔ابو عبیدہؓ نے پورے لشکر کی کمان لے لی، لیکن لشکر کو مکمل طور پر ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے امیرالمومنینؓ کو تیز رفتار قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا جس میں مکمل صورتِ حال لکھی اور یہ بھی کہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گی۔یہ تھے وہ حالات جن کے پیشِ نظر امیر المومنینؓ نے خا لدؓ کو حکم بھیجا تھا کہ وہ شام کی سرحد پر اس جگہ پہنچیں جہاں مدینہ کا لشکر خیمہ زن ہے۔اس حکم میں یہ بھی لکھاتھا کہ اپنا لشکر کچھ مشکلات میں الجھ گیا ہے ۔اس پیغام نے خالدؓ کو پریشان کر دیا تھا۔ یہ سنایا جا چکا تھا کہ انہوں نے امیر المومنینؓ کے حکم کے مطابق اپنے لشکر کو دو حصو ں میں تقسیم کیا، ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے حوالے کر دیا۔خالدؓنے فوج کو فوری کوچ کا حکم دے دیا۔انہوں نے جب فاصلے کا اندازہ کیا، تو وہ اتنا زیادہ تھا کہ خالدؓ کو وہاں پہنچتے بہت دن لگ جاتے ۔انہیں ڈر تھاکہ اتنے دن ضائع ہو گئے تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رومیوں کی فوج فارسیوں کی نسبت زیادہ طاقتور اور برتر ہے۔خالدؓان راستوں سے واقف تھے۔ سیدھا اور آسان راستہ بہت طویل تھا۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں بتایاکہ بہت جلد پہنچنے کیلئے انہیں کوئی راستہ معلوم نہیں۔سالارو ں میں سے کسی کو چھوٹا راستہ معلوم نہیں تھا۔
’’ اگر کوئی راستہ چھوٹا ہوا بھی تو وہ سفرکے قابل نہیں ہوگا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اگر کسی ایسے راستے سے ایک دو مسافر گزرتے بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ راستہ ایک لشکر کیلئے گزرنے کے قابل ہو۔‘‘’’میں ایک آدمی کو جانتا ہوں ۔‘‘ایک اور سالار بولا۔’’ رافع بن عمیرہ۔ وہ ہمارے قبیلے کا زبردست جنگجو ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ خد انے اسے کوئی ایسی طاقت دی ہے کہ وہ زمین کے نیچے کے بھید بھی بتا دیتا ہے۔ وہ اس صحرا کا بھیدی ہے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے رافع بن عمیرہ کو بلایا گیااور اس سے منزل بتا کر پوچھاگیا کہ چھوٹے سے چھوٹا راستہ کوئی ہے؟
’’زمین ہے تو راستے بھی ہیں۔‘‘رافع نے کہا۔’’یہ مسافر کی ہمت پر منحصر ہے کہ وہ ہر راستے پر چل سکتاہے یا نہیں۔تم منزل تک کسی بھی راستے سے پہنچ سکتے ہو لیکن بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر سانپ بھی نہیں رینگ سکتا۔ میں ایک راستہ بتا سکتا ہوں ، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس سے لشکر کے کتنے آدمی منزل تک زندہ پہنیں گے اور میں یہ بھی بتا سکتاہوں کہ گھوڑا اس صحرائی راستے سے نہیں گزر سکتا، گھوڑا اتنی پیاس برداشت نہیں کر سکتا، اور گھوڑوں کیلئے پانی ساتھ لے جایا نہیں جا سکتا۔‘‘ خالدؓنے اپنا بنایا ہوا نقشہ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ وہ کون سا راستہ بتا رہا ہے؟’’یہ قراقر ہے۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے نقشہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔’’یہاں ایک نخلستان ہے جو اتنا سر سبز و شاداب ہے کہ مسافروں پر اپنا جادو طاری کر دیتا ہے ،یہاں سے ایک راستہ نکلتاہے جو سویٰ کو جاتاہے۔ سویٰ میں پانی اتنا زیادہ ہے کہ سارا لشکر اور لشکر کے تمام جانور پانی پی سکتے ہیں لیکن یہ پانی اسے ملے گا جو سویٰ تک زندہ پہنچ جائے گا۔ اوپر سورج کی تپش دیکھو دن کو کتناچل سکو گے ، کتنی دور تک چل سکو گے؟یہ میں نہیں جانتا، اتنے اونٹ لاؤ کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو۔ ابنِ ولید! تم صحرا کے بیٹے ہو مگر اس صحرا سے نہیں گزر سکو گے۔‘‘رافع بن عمیرہ نے جو راستہ بتایا یہ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق اک سو بیس میل تھا، یہ ایک سو بیس میل کا فاصلہ طے کرنے سے منزل تک کئی دن جلدی پہنچا جا سکتا تھا۔خالدؓ وہ سالار تھے جو مشکلات کی تفصیلات سن کر نہیں بلکہ مشکلات میں پڑ کر اندازہ کیا کرتے تھے کہ ان کی شدت کتنی کچھ ہے ، ان کے دماغ میں صرف یہ سمایا ہوا تھا کہ مدینہ کا لشکر مشکل میں ہے، اور اس کی مدد کو پہنچنا ہے ، سیدھے راستے سے فاصلہ چھ سے سات سو میل تک بنتا تھا۔ رافع کے بتائے ہوئے راستے سے جانے سے فاصلہ کم رہ جاتا تھا۔مگر رافع بتاتا تھا کہ اس خطرناک راستے سے جاؤ تو پانچ چھ دن ایسی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے جو انسان کیا برداشت کرے گا گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پانی تو مل ہی نہیں سکتا، اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ مہینہ مئی کاتھا، جب ریگستان جل رہے ہوتے ہیں۔
’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ایک سالار نے کہا۔’’تو اتنے بڑے لشکر کو اس راستے پر نہیں لیجائے گا۔جو تباہی کا اور بہت بری موت کا رستہ ہوگا۔‘‘
’’اور جس کا دماغ صحیح ہو گا وہ اس راستے پر نہیں جائے گا۔‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’ہم اسی راستے سے جائیں گے۔‘‘خالدؓنے ایسی مسکراہٹ سے کہا،جس میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
’’ہم پر فرض ہے کہ تیری اطاعت کریں۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’لیکن ایک بار پھر سوچ لو۔‘‘’’میں وہ حکم دیتا ہوں جو حکم اﷲمجھے ددیتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہارتے وہ ہیں جن کے ارادے کمزور ہوتے ہیں، اﷲکی خوشنودی ہمیں حاصل ہے اور پھر اﷲکی راہ میں جو مصیبتیں آئیں گی ہم کیوں نہ انہیں بھی برداشت کریں ۔‘‘یہ واقعہ اور یہ گفتگو طبری نے ذرا تفصیل سے بیان کی ہے، خالدؓ کے سالاروں نے ان کے عزم کی یہ پختگی دیکھی تو سب نے پر جوش لہجے میں لبیک کہی، ان میں سے کسی نے کہا۔’’ ابنِ ولید تجھ پر اﷲکا کرم! وہ کر جو تو بہہتر سمجھتا ہے۔ ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘خالدؓنے اس سفر پر روانگی سے پہلے ایک حکم یہ دیا کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو گا۔ گھوڑے سواروں کے بغیر پیچھے پیچھے چلیں گے۔ دوسرا حکم یہ کہ عورتوں اور بچوں کو مدینہ بھیج دیا جائے۔ سالاروں کو خالدؓ نے کہا تھا کہ تمام لشکر کو اچھی طرح بتا دیں کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس راستے پر پہلے کبھی کوئی لشکر نہیں گزرا۔ ہر کسی کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے۔‘‘مئی کا مہینہ اونٹوں کی فراہمی میں گزر گیا۔ جون ۶۳۴ء )ربیع الآخر ۱۳ھ( کا مہینہ شروع ہو گیا۔اب تو صحرا جل رہا تھا۔خالدؓ نے کوچ کا حکم دے دیا۔ان کے ساتھ نو ہزار مجاہدین تھے جو اس خود کُش سفر پر جا رہے تھے۔قراقر تک سفر ویسا ہی تھا جیسا اس لشکر کا ہر سفر ہوا کرتا تھا۔وہ سفر قراقر سے شروع ہونا تھاجسے مسلمان مؤرخوں نے اور یورپی مؤرخوں نے بھی تاریخ کا سب سے خطرناک اور بھیانک سفر کہا ہے۔مثنیٰ بن حارثہ قراقرتک خالدؓ کے ساتھ گئے۔مثنیٰ کو حیرہ واپس آنا تھا۔قراقر سے جس قدر پانی ساتھ لے جایا جا سکتا تھا مشکیزوں میں بھر لیا گیا۔مٹکے بھی اکٹھے کر لیے گئے تھے۔ان میں بھی پانی بھر لیا گیا۔اگلی صبح جب لشکر روانہ ہونے لگا تو مثنیٰ بن حارثہ خالدؓسے اور اس کے سالاروں سے گلے لگ کے ملے۔یعقوبی اور ابنِ یوسف نے لکھا ہے کہ مثنیٰ بن حارثہ پر رقت طاری ہو گئی تھی۔ان کے منہ سے کوئی دعا نہ نکلی، آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ دعائیں ان کے دل میں تھیں۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ خالدؓ کو اور ان کے نو ہزار مجاہدین کوپھر کبھی دیکھ سکیں گے۔
خالدؓ اونٹ پر سوار ہونے لگے تو رافع بن عمیرہ دوڑتا آیا۔’’ابنِ ولید!‘‘رافع نے خالدؓ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اب بھی سوچ لے، رستہ بدل لے، اتنی جانوں سے مت کھیل!‘‘’’ابنِ عمیرہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’اﷲتجھے غارت کرے، مجھے اﷲکی راہ سے مت روک یا مجھے وہ رستہ بتا جو مدینہ کے لشکر تک جلدی پہنچا دے۔ تو نہیں جانتا، توہٹ میرے سامنے سے، اور حکم مان جو میں نے دیا ہے۔‘‘رافع خالدؓ کے آگے سے ہٹ گیا۔خالدؓ اونٹ پر سوار ہوئے اور لشکر چل پڑا۔سب سے آگے رافع کا اونٹ تھا اسے رہبری کرنی تھی۔
مثنیٰ کھڑے دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔’’ امیر المومنین نے ٹھیک کہا تھا کہ اب کوئی ماں خالدجیسا بیٹا پیدا نہیں کرے گی۔
*جاری ہے*
بقیہ اگلی قسط نمبر 37
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment