[31: *شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-33)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
’’دشمن کا تعاقب کرو۔‘‘خالدؓ نے اپنی سپاہ کو حکم دیا۔’’زخمیوں کو سنبھالنے کیلئے کچھ آدمی یہیں رہنے دو اور بہت تیزی سے عین التمر کا محاصرہ کرلو۔‘‘عین اس وقت مثنیٰ بن حارثہ گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آیا اور خالدؓ کے پاس گھوڑا روک کر اترا۔وہ خالدؓسے بغلگیر ہو گیا۔
’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’قسم رب العالمین کی!دشمن عین التمر سے بھاگ گیا ہے۔‘‘’’کیا تیرا دماغ اپنی جگہ سے ہِل تو نہیں گیا؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’یوں کہہ کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے خالدؓکو بتایا کہ اس نے جو جاسوس عین التمر کے اردگرد بھیج رکھے تھے ،انہوں نے اطلاع دی ہے کہ فارس کی جو فوج شہر میں تھی ،شہر سے نکل گئی ہے۔’’کیا تو نہیں سمجھ سکتا کہ یہ فوج ہمارے عقب پر اس وقت حملہ کرے گی جب ہم عین التمر کو محاصرے میں لیے ہوئے ہوں گے؟‘‘خالدؓنے کہا۔’’ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’مہراں اپنی فوج کے ساتھ جا چکا ہے۔اگر وہ فوج یہاں کہیں چھپی ہوئی ہوتی تو میرے چھاپہ مار اسے چَین سے نہ بیٹھنے دیتے۔آگے بڑھ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ۔عین التمر تیرے قدموں میں پڑا ہے۔‘‘یہ خبرجب مجاہدین کے لشکر کو ملی تو ان کے جسم جو تھکن سے ٹوٹ رہے تھے تروتازہ ہوگئے۔انہوں نے فتح و نصرت کے نعروں کی گرج میں عین التمر تک کے دس میل طے کر لیے۔مثنیٰ کے جو آدمی پہلے ہی وہاں موجودتھے ،انہوں نے بتایا کہ شہر کے تمام دروازے بند ہیں۔خالدؓکے حکم سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا۔بدوی عیسائی اور ان کے دیگر ساتھی جو شہر میں پناہ لینے آئے تھے، مقابلے پر اتر آئے۔انہوں نے شہرِ پناہ کے اوپر جا کر مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔’’عقہ بن ابی عقہ کو اور تمام جنگی قیدیوں کو آگے لاؤ۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔ذرا سی دیر میں تام بدوی قیدیوں کو سامنے لے آئے۔خالدؓ نے عقہ کو بازو سے پکڑ ا اور اسے اتنی آگے لے گئے جہاں وہ شہرِ پناہ سے آنے والے تیروں کے زد میں تھے۔’’یہ ہے تمہارا سردار!‘‘خالدؓنےبڑی بلند آوازسے کہا۔’’تم اسے بہادروں کا بہادر سمجھتے تھے،اسی نے تمہاری دوستی فارس والوں سے کرائی تھی۔کہاں ہیں تمہارے دوست؟‘‘خالدؓ نے عقہ کو آگے کرکے کہا۔’’اس سے پوچھومہراں اپنی فوج کو بچا کر کہاں لے گیا ہے؟‘‘پھر بے شمار قیدیوں کو آگے کر دیاگیا۔’’یہ ہیں تمہارے بھائی!‘‘خالدؓنےکہا۔’’چلاؤتیر!سب ان کے سینوں میں اتریں گے۔‘‘یہ خبر کسی طرح شہر میں پھیل گئی کہ قلعے کے باہر مسلمان بنی تغلب اور دیگر قبیلوں کے قیدیوں کو لائے ہیں۔ان قیدیوں میں سے کئی ایک کے بیوی بچے اور لواحقین شہر میں تھے۔ان کی بستیاں تو کہیں اور تھیں لیکن ان کی سلامتی کیلئے انہیں عین التمر میں لے آئے تھے ۔جنگ کی صورت میں وہ انہیں اپنی بستیوں میں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ان عورتوں اور بچوں کو جب پتا چلا کہ ان کے قبیلوں کے قیدی باہر آئے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کو اٹھائے شہر کی دیوار پر آگئیں۔میدانِ جنگ میں جانے والوں میں سے جو واپس نہیں آئے تھے ،ان کی بیویاں ،بہنیں،مائیں اور بیٹیاں اس امید پر دیوار پر آئی تھیں کہ ان کے آدمی قیدیوں میں ہوں گے۔
ان عورتوں نے دیوار کے اوپر ہنگامہ بپا کر دیا۔وہ اپنے آدمیوں کر پکار رہی تھیں۔جنہیں اپنے آدمی قیدیوں میں نظر نہیں آرہے تھے ،وہ آہ و زاری کر رہی تھیں،تیر انداز انہیں پیچھے ہٹا رہے تھے مگر عورتیں پیچھے نہیں ہٹ رہی تھیں۔’’ہم تمہیں زیادہ مہلت نہیں دیں گے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے ان کے ایک محافظ نے بلند آواز سے کہا۔’’ہتھیار ڈال دو اور دروازے کھول دو۔اگر ہمارے مقابلے میں تم ہار گئے اور دروازوں میں ہم خود داخل ہوئے تو تم سب کا انجام بہت برا ہوگا۔‘‘’’ہم اپنی دو شرطوں پر دروازہ کھولنے پر آمادہ ہیں۔‘‘دیوار کے اوپر سے آواز آئی۔’’تمہاری کوئی شرط نہیں مانی جائے گی۔‘‘خالدؓ کی طرف سے جواب گیا۔’’ہتھیار ڈال دو۔دروازے کھول دو،تمہاری سلامتی اسی میں ہے۔‘‘بنی تغلب اور ان کے اتحادی قبیلے جانتے تھے کہ ان کی سلامتی اسی میں ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور مسلمانوں سے رحم کی درخواست کریں چنانچہ انہوں نے دروازے کھول دیئے اور مسلمان شہر میں داخل ہوئے۔اس وقت کی تحریروں سے پتہ چلتاہے کہ مسلمانوں نے کسی شہری کو پریشان نہیں کیا ،البتہ مسلمانوں کے خلاف جو بدوی لڑے تھے،ان سب کو قیدی بنا لیا گیا۔یہ ان قیدیوں کے لواحقین پر منحصر تھا کہ وہ خالدؓ کا مقرر کیا ہوا فدیہ ادا کرکے اپنے قیدیوں کو رہا کرالیں۔تمام شہر کی تلاشی لی گئی۔شہر میں ایک عبادت گاہ یا درس گاہ تھی جس میں پادری بننے کی تعلیم دی جاتی تھی۔اس وقت چالیس نو عمر لڑکے زیرِ تعلیم تھے۔ان سب کو پکڑ لیا گیا۔ان میں سے اکثر نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور ان میں سے ایک کو تاریخ ِ اسلام کی ایک نامور شخصیت کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اس لڑکے کا نام نصیر تھا۔ا س نے اسلام قبول کیااور ایک مسلمان عورت کے ساتھ شادی کی جس نے موسیٰ بن نصیر کو جنم دیا۔یہ موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے امیر مقرر ہوئے۔انہوں نے ہی طارق بن زیاد کو اندلس فتح کرنے کو بھیجا تھا۔دو تین متعصب مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے ان تمام آدمیوں کو قتل کر دیا جو ان کے خلاف لڑے تھے ۔یہ ایک مفروضہ ہے جو خا لدؓکو بدنام کرنے کیلئے گھڑا گیا تھا۔مؤرخوں کی اکثریت نے ایسے قتلِ عام کا ہلکا سا بھی اشارہ نہیں دیا۔محمد حسین ہیکل نے متعدد تاریخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ عقہ بن ابی عقہ کو کھلے میدان میں لا کر خالدؓنے اپناعہد پورا کرتے ہوئے اس کا سر تن سے کاٹ ڈالا۔خالدؓنے اعلان کیا تھا کہ بدوی غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں تو وہ بڑے برے انجام سے محفوظ رہیں گے ۔دشمن نے مسلمانوں کی شرائط پر ہتھیا ر ڈالے تھے۔ان کے قتلِ عام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
عین التمر کی فتح کے بعد خالدؓ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ انبار اورعین التمر کا مالِ غنیمت اکٹھا کرکے مجاہدین میں تقسیم کیا اور خلافت کا حصہ الگ کرکے ولید بن عقبہ کے سپرد کیا کہ وہ مدینہ امیرالمومنینؓ کو پیش کریں۔انہوں نے امیر المومنینؓ کیلئے ایک پیغام بھی بھیجا۔ولید بن عقبہ نے مدینہ پہنچ کر امیرالمومنین ابوبکرؓ کو انبار اور عین التمر کی لڑائی اور فتح کی تفصیل سنائی ،مالِ غنیمت پیش کیا پھرخالدؓ کا پیغام دیا۔پہلے سنایا جا چکا ہے کہ خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے خالدؓ کے لیے حکم بھیجا تھا کہ وہ عیاضؓ بن غنم کے انتظار میں حیرہ میں رُکے رہیں۔اس وقت عیاضؓ دومۃ الجندل میں لڑ رہے تھے لیکن لڑائی کی صورتِ حال عیاضؓ کیلئے اچھی نہ تھی۔خالدؓ نے خلافت کے حکم کو نظر انداز کر دیا اور حیرہ سے کوچ کرکے انبار کو محاصرے میں لے لیا۔فتح پائی پھر عین التمر کا معرکہ لڑا اور کامیابی حاصل کی۔خالدؓنے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ حیرہ میں بیٹھے رہتے تو فارس والوں کو اپنی شکستوں سے سنبھلنے کا اور جوابی حملے کی تیاری کا موقع مل جاتا۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کو کہیں بھی قدم جمانے کا اور جوابی وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے آتش پرستوں کی فوج کو نفسیاتی لحاظ سے کمزور کر دیا۔خالدؓنے امیر المومنینؓ کی حکم عدولی تو کی تھی لیکن عملاًثابت کر دیا تھا کہ یہ حکم عدولی کتنی ضروری تھی۔عیاضؓ بن غنم ابھی تک دومۃ الجندل میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کی کامیابی کی توقع بہت کم تھی۔خالدؓ نے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔خیفہ ابو بکرؓ نے ولیدبن عقبہ سے کہا۔’’اس نے جو سوچا تھا وہی ہوا۔عیاض کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں وہ امید افزاء نہیں ۔دومۃ الجندل پر ہمارا قبضہ بہت ضروری تھا لیکن اب مجھے عیاض کے متعلق تشویش ہونے لگی ہے……ابنِ عقبہ!تم عین التمرواپس نہ جاؤ۔دومۃ الجندل چلے جاؤاور وہاں کی صورتِ حال دیکھ کہ خالد کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عیاض کی مدد کو پہنچے۔‘‘ولید بن عقبہ روانہ ہو گئے۔عیاضؓ بن غنم خود بھی پریشان تھے۔اس کے ساتھ جو سالار تھے ،وہ انہیں کہہ رہے تھے کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کیلئے مدد کی ضرورت ہے ورنہ شکست کا خطرہ صاف نظر آرہا تھا۔آخر)مؤرخ طبری اور ابو یوسف کی تحریروں کے مطابق(عیاضؓ بن غنم نے خالدؓ کو ایک تحریری پیغام بھیجا جس میں انہوں نے اپنی مخدوش صورتِحال اور اپنی ضرورت لکھی۔ولید بن عقبہ بھی عیاضؓ کے پاس پہنچ گئے۔ان کا جلدی پہنچنا آسان نہ تھا۔مدینہ سے دومۃ الجندل کافاصلہ تین سو میل سے کچھ کم تھااور زیادہ ترعلاقہ صحرائی تھا۔پہنچنا جلد تھا۔ولید جب عیاضؓ کے پاس پہنچے تو وہ جیسے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔انہوں نے آرام کی نہ سوچی،عیاضؓ کی صورتِ حال دیکھی۔’’میں نے خالدکو مدد کیلئے کل ہی پیغام بھیجا ہے۔‘‘عیاضؓ بن غنم نے ولید بن عقبہ سے کہا۔’’معلوم نہیں وہ خود کس حال میں ہے،لیکن میرے لیے اور کوئی چارا نہیں،تم دیکھ رہے ہو۔‘‘
’’الحمدﷲ!‘‘ولیدنے کہا۔’’خالد نے آتش پرستوں کی شہنشاہی اور ان کی جنگی طاقت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے۔امیر المومنین نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تمہاری ضرورت کا جائزہ لے کر انہیں بتاؤں لیکن تمہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔میں مدینہ جانے کے بجائے عین التمر چلا جاتا ہوں ۔خالدتمہاری مدد کو آئے گا۔‘‘یہ اس دور کی فرض شناسی اور جذبہ تھا جس میں خوشامد، دکھاوے اور کام چوری کا ذرا سا بھی عمل دخل نہ تھا،ولید بن عقبہ نے یہ نہ سوچا کہ وہ واپس مدینہ جائیں اور خلیفہ کے حکم کے مطابق انہیں اپنی کار گزاری بڑھا چڑھا کر سنائیں اور ساتھ یہ کہیں کہ حضور عیاض تو بڑا نالائق سالار ہے۔اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو یوں کرتا مگرولید نے دیکھا کہ صورتِ حال مخدوش ہے تو وہ اپنے حاکم خود بن گئے اور مدینہ کے بجائے عین التمر کو گھوڑا دوڑادیا۔ان کے سامنے پورے تین سو میل صحرائی مسافت تھی۔عراق اور شام کے صحرا اسی علاقے میں ملتے اور مسافروں کیلئے جان کا خطرہ بن جاتے۔ولید نے اپنے گھوڑے پر ،اپنے آپ پر،اپنے چار محافظوں اور ان کے گھوڑوں پر یہ ظلم کیا کہ کم سے کم آرام کیلئے کہیں رُکے۔وہ موسم گرمی کے عروج کا تھا۔ مہینہ اگست ۶۳۳ء تھا۔دومۃ الجندل بہت بڑا تجارتی شہر تھا،دور دراز ممالک کے تاجر یہاں آیاکرتے تھے،تجارت کے علاوہ یا تجارت کی بدولت ،اس شہر کو دولت اور زروجواہرات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔رسولِ اکرمﷺ نے اس شہر اور اس سے ملنے والی شاہراہوں کی جغرافیائی پوزیشن دیکھ کر اس پر فوج کشی کی تھی۔یہ مہم غزوہ تبوک کے نام سے مشہور ہوئی،اس وقت دومۃ الجندل کا حاکم اور قلعہ دار اُکیدر بن عبدالملک تھا۔ اس نے مسلمانوں کا مقابلہ بے جگری سے کیا تھا۔خالدؓبھی اس معرکے میں شریک تھے۔انہوں نے اُکیدر کو غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندہ پکڑ لیا تھا اور اس کی سپاہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اُکیدر بن عبدالملک نے رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت قبول کرلی اور وفاداری کا حلف اٹھایا۔اس نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا،اس طرح یہ اتنا بڑا شہر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا تھا۔رسول اﷲﷺکی وفات کے ساتھ ہی ارتداد کا فتنہ طوفان کی طرح اٹھاتھا۔ اُکیدر بھی مدینہ سے منحرف ہو گیااور اس نے اطاعت اور وفاداری کے معاہدے کو الگ پھینک دیا۔اس نے دومۃ الجندل کو ایک ریاست بنالیا جس کے باشندے بھی عیسائی تھے اور بت پرست بھی۔عیسائیوں کا سب سے بڑا اور طاقتور قبیلہ کلب تھا۔امیرالمومنینؓ نے اُکیدر بن عبدالملک کی سرکوبی کیلئے اور اسے اپنی اطاعت میں لانے کیلئے عیاضؓ بن غنم کو ایک لشکر دے کر بھیجا تھا۔وہاں جا کر عیاضؓ نے دیکھا کہ ان کا لشکر تو بہت تھوڑا ہے،اور دشمن کئی گنا طاقتور ہے لیکن مدینہ سے تقریباًتین سو میل دور آکر واپس چل پڑنا تو مناسب نہ تھا۔دومۃ الجندل کی دیوار اونچی اور مضبوط تھی۔پورا شہر بڑا مضبوط قلعہ تھا۔
عیاضؓ نے شہر کا محاصرہ کیا جو مکمل نہ تھا۔ایک طرف راستہ کھلا تھا،اکیدر کی سپاہ کی کچھ نفری خالی طرف سے باہر آتی اور مسلمانوں پر حملہ کرتی،کچھ دیر لڑائی ہوتی ،اور یہ نفری بھاگ کر قلعے میں چلی جاتی،ان حملوں کے علاوہ قلعے کی دیواروں سے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برستا رہتا اور اس کے جواب میں مسلمان تیر اندازدیواروں پر تیر پھینکتے رہتے۔انہوں نے قلعے کے دروازوں پربھی ہلّے بولے مگر قلعے کا دفاع توقع سے زیادہ مضبوط تھا۔مسلمانوں کے خلاف جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ گیا کہ قبیلہ کلب کے عیسائیوں نے عقب سے آکر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔وہ مسلمانوں پر بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے اور مسلمان جان کی بازی لگا کر حملوں کو روکتے اور پسپا کرتے تھے،مسلمانوں کی اس بے خوفی کو دیکھ کر عیسائیوں نے حملے کم کر دیئے۔مگر مسلمانوں کو گھیرے میں رکھا تاکہ وہ پسپا نہ ہو سکیں،اور رسد وغیرہ کی کمی سے پریشان ہوکر ہتھیار ڈال دیں۔عیاضؓ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ایک جگہ راستہ کھلا رکھا اور اس کی حفاظت کیلئے آدمی مقرر کر دیئے تھے،یہ صورتِحال مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک تھی۔ان کا جانی نقصان خاصہ ہو چکا تھا۔زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔مسلمان زندہ رہنے کیلئے لڑ رہے تھے ،صاف نظر آرہاتھا کہ شکست انہی کی ہوگی۔دن پہ دن گزرتے جا رہے تھے۔خالدؓعین التمرکو اپنے انتظام میں لانے کے کام سے فارغ ہو چکے تھے ۔انہوں نے عمال مقرر کر دیئے تھے۔دوچار دنوں میں ہی وہاں کے شہریوں کو یقین ہو گیا تھا کہ مسلمان نہ انہیں زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں نہ ان کے حقوق پامال کر رہے ہیں،نہ ان کی عورتوں پر بُری نظر رکھتے ہیں اور ان کے گھر اور اموال بھی محفوظ ہیں۔اس لیے وہ اسلامی حکومت کے وفادار بن گئے۔خالدؓکے پاس عیاضؓ بن غنم کا قاصد پہنچااور ان کا تحریری پیغام دیا۔عیاضؓ جس مصیبت میں پھنس گئے تھے وہ لکھی تھی۔تفصیل قاصد نے بیان کی۔دوسرے ہی دن ولید بن عقبہ پہنچ گئے۔انہوں نے خالدؓ سے کہا کہ ایک گھڑی جو گزرتی ہے وہ عیاض اور اس کے مجاہدین کو شکست اور موت کے قریب دھکیل جاتی ہے۔’’شکست؟‘‘خالدؓ نے پُر جوش لہجے میں کہا۔’’خدا کی قسم!اسلام کی تاریخ میں شکست کا لفظ نہیں آنا چاہیے……کیا اُکیدر بن عبدالملک مجھے بھول گیا ہے؟ کیا وہ ہمارے رسولﷺکو بھول گیا ہے جنہوں نے اسے اطاعت پر مجبور کیا تھا؟کیا وہ ہمارے اﷲکو بھول گیا ہے جس نے ہمیں اس پر فتح عطا کی تھی؟‘‘تاریخ شاہد ہے کہ بدلے ہیں تو انسان بدلے ہیں۔اﷲنہیں بدلا۔اﷲنے فتوحات کو شکستوں میں اس وقت بدلا تھا جب مسلمان بدل گئے تھے اور خدا کے بندوں کے ’’خدا‘‘بن گئے تھے۔
خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو پیغام کا تحریری جواب دیا۔اُس دور میں عربوں کی تحریروں کاانداز شاعرانہ ہوا کرتا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓکا جواب منظوم انداز کا تھا۔انہوں نے لکھا:
:
’’منجانب خالد بن ولیدبنام عیاض بن غنم۔میں تیرے پاس بہت تیز پہنچ رہا ہوں۔تیرے پاس اونٹنیاں آ رہی ہیں جن پر کالے اور زہریلے ناگ سوارہیں۔فوج کے دستے ہیں جن کے پیچھے بھی دستے آگے بھی دستے ہیں۔ذرا صبر کرو۔گھوڑے ہوا کی رفتار سے آرہے ہیں۔ان پر تلواریں لہرانے والے شیر سوار ہیں۔دستوں کے پیچھے دستے آرہے ہیں۔‘‘پیغام کا جواب قاصد کو دے کر خالدؓنے اسے کہا کہ وہ جتنی تیزی سے آیا تھا اس سے زیادہ تیز دومۃ الجندل پہنچے اور عیاض ؓکو تسلی دے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک نائب سالار عویم بن کاہل اسلمی کو بلایا۔
’’ابنِ کاہل اسلمی!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو جانتا ہے کہ میں تجھے کتنی بڑی ذمہ داری سونپ رہا ہوں؟‘‘’’اﷲمجھے ہر اس ذمہ داری کو نبھانے کی ہمت و عقل عطافرمائے جو مجھے سونپی جائے۔‘‘عویم نے کہا۔’’میری ذمہ داری کیا ہوگی ابنِ ولید؟‘‘’’عین التمر!‘‘خالدؓنےکہا۔’’اس کا انتظام اوراس کی حفاظت۔اندر سے بغاوت اٹھ سکتی ہے،باہر سے حملہ ہو سکتا ہے۔میں تجھے اپنا نائب بنا کر دومۃ الجندل جا رہاہوں۔عیاض بن غنم مشکل میں ہے۔‘‘’’اﷲتجھے سلامتی عطا کرے۔‘‘عویم نے کہا۔’’عین التمر کو اﷲکی امان میں سمجھ۔‘‘خالدؓ کے ساتھ ابتداء میں جو سپاہ تھی وہ جانی نقصان کے علاوہ اس وجہ سے بھی کم ہو گئی کہ ہر مفتوحہ جگہ ایک دو دستے چھوڑ دیئے گئے تھے۔عین التمر تک پہنچتے نفری اور کم ہو گئی تھی۔اس علاقے کے مسلمان باشندوں سے نفری بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔کچھ نو مسلم بھی سپاہ میں شامل ہو گئے تھے لیکن ابھی ان پر پوری طرح اعتماد نہیں کیاجا سکتاتھا۔خالدؓنےکچھ دستے عین التمر میں چھوڑے ،چھ ہزار سوار اپنے ساتھ لیے اور دومۃ الجندل کو روانہ ہو گئے ۔فاصلہ تین سو میل تھا۔خالدؓنے تین سو میل کی یہ صحرائی مسافت صرف دس دنوں میں طَے کرلی۔وہ ابھی رستے میں تھے کہ جب اُکیدر کے آدمیوں نے اس لشکر کو دیکھ لیا۔وہ مسافر ہوں گے۔انہوں نے خالدؓکے پہنچنے سے پہلے دومۃ الجندل میں اطلاع دے دی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر آرہا ہے۔بعض مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ دومۃ الجندل والوں کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس اسلامی لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓہیں۔اس وقت تک عیسائیوں کے تین بڑے قبیلے،بنو کلب، بنو بہراء اور بنو غسان۔جنگ میں شریک تھے۔اُکیدر بن عبدالملک کو اطلاع ملی تو اس نے بڑی عجلت سے عیسائیوں اور بت پرستوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی جنگ میں شریک ہونے کیلئے بلاوا بھیج دیا۔خالدؓکے پہنچنے تک ان چھوٹے قبیلوں نے اپنے آدمی بھیجنے شروع کردیئے تھے۔
خالدؓ طوفان کی مانند پہنچے۔مجاہدین نے خالدؓکے کہنے پر جوش و خروش سے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔عیاضؓ بن غنم کے لشکرنے یہ نعرے سنے تو سارے لشکر نے نعرے لگائے۔ان کے ہارے ہوئے حوصلے تروتازہ ہو گئے۔خالدذؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا پھر قلعے کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر قلعے کی دیواروں کا جائزہ لیا اور قلعے کی دیوارون پر کھڑے دشمن کو دیکھا۔دشمن کی فوج کے دو حصے تھے۔ایک کا سالارِ اعلیٰ اُکیدر بن عبدالملک اور دوسرے کا جودی بن ربیعہ تھا جوقلعے کے باہر تھا۔ قلعے کے باہر ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے آدمی بھی جمع ہو گئے تھے جو اُکیدر کے بلاوے پر ابھی ابھی آئے تھے۔ان کیلئے قلعے کاکوئی دروازہ نہ کھلا کیونکہ خالدؓ کی آمد قلعے کیلئے بڑی خطرناک تھی۔خالدؓ ایک دہشت کا دوسرا نام تھا۔خالدؓ دشمن پر جو نفسیاتی وار کرتے تھے اس کا اثر مستقل ہوتا تھا۔ایسا ہی ایک زخم اُکیدر بن عبدالملک پہلے ہی خالدؓ کے ہاتھوں کھا چکا تھا۔خالدؓ تو سوچ رہے تھے کہ وہ قلعے میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں لیکن ان کی دہشت قلعے کئے اندر پہنچ چکی تھی۔اُکیدر نے عیسائی سرداروں کو بلا رکھا تھا اور انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ خالدؓسے ٹکر نہ لیں اور صلح کر لیں۔عیسائی سردار اس کامشورہ نہیں مان رہے تھے۔’’میرے دوستو!‘‘تقریباًتمام مؤرخوں نے اس کے یہ الفاظ لکھے ہیں۔’’ خالد سے جتنا میں واقف ہوں اتنا تم نہیں ہو۔میں نہیں بتا سکتا کہ اس میں کیسی طاقت ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ قسمت ہر میدان میں اس کے ساتھ ہوتی ہے۔میدانِ جنگ کا اور قلعوں کی تسخیر کا جو کمال اس میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔تم سوچ رہے ہوگے اور وہ تمہارے سر پر کھڑا ہوگا۔خالد کے مقابلے میں جوقوم آتی ہے ،خواہ طاقتور خواہ کمزور، وہ خالد کے ہاتھوں پِٹ جاتی ہے۔میرا مشورہ تسلیم کرو اور خالد سے صلح کرلو۔‘‘عیسائیوں نے خالدؓسے شکستیں کھائی تھیں ۔وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔’’تم اس سے لڑو گے تو ہار جاؤ گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’پھر وہ تم پر رحم نہیں کرے گا۔اگر لڑے بغیر صلح کرلو گے تو وہ تمہاری جان، تمہاری عورتوں اور تمہارے اموال کی حفاظت کرے گا مگر تم اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ تم اس کی چالیں نہیں سمجھتے۔’’ہم لڑے بغیر شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘عیسائی سرداروں نے متفقہ فیصلہ دے دیا۔’’پھر تم میرے بغیر لڑو گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’میں اتنا بڑا شہر تباہ نہیں کراؤں گا۔‘‘
عیسائی سردار لڑنے کے ارادے سے چلے گئے۔انہیں اُکیدر کے ارادوں کا اس کے سوا کچھ علم نہیں تھا کہ وہ لڑنا نہیں چاہتا۔رات کا پہلا پہر تھا۔خالدؓکا سالار عاصم بن عمرو قلعے کے اس طرف گشت پر پھر رہا تھا،جدھر علاقہ خالی تھا۔اسے چار پانچ آدمی قلعے سے نکل کر اس کھُلے علاقے میں آتے دکھائی دیئے۔وہ سائے سے لگتے تھے ۔عاصم بن عمرو کے ساتھ چند ایک محافظ تھے انہیں عاصم نے کہا کہ ان آدمیوں کو گھیرے میں لے کر روک لیں۔محافظوں کو معلوم تھا کہ کس طرح بکھر کر گھیرا ڈالا جاتا ہے،وہ آدمی خود ہی رک گئے۔سالار عاصم ان تک پہنچے۔
’’میں دومۃ الجندل کا حاکم اُکیدر بن عبدالملک ہوں۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’اپنے اور اپنے آدمیوں کے ہتھیار میرے آدمیوں کے حوالے کردو۔‘‘عاصم نے کہا۔’’مجھے خالد کے پاس لے چلو۔‘‘اُکیدر نے اپنی تلوار ایک محافظ کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔’’میں نہیں لڑوں گا۔خالدکے ساتھ صلح کی بات کروں گا۔‘‘’’میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا ابنِ عبدالملک!‘‘خالدؓ نے اپنے خیمے میں اس کی بات کو سن کر کہا۔’’تو میرا مجرم نہیں میرے رسولﷺ کا مجرم ہے۔تو نے اﷲکے رسول ﷺسے بد عہدی کی تھی۔تو نے اسلام قبول کیا پھر ارتداد کے سرداروں کے ساتھ جا ملا۔‘‘اُکیدر نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا۔بہت کچھ پیش کیا۔عیسائی قبیلوں سے لا تعلق ہو جانے کا عہد کیا۔’’اگر یہ لڑائی میری اور تیری ہوتی،یہ دشمنی میری اور تیری ہوتی،توتجھے بخش دینے سے کوئی نہ روک سکتا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’مگر تو میرے رسولﷺ کا ،میرے مذہب کا دشمن تھا۔خدا کی قسم!میں تجھے بخش نہیں سکتا۔تجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں دے سکتا۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔’’لے جاؤ اسے،کل کا سورج اسے زندہ نہ دیکھے۔‘‘رات کو ہی اُکیدر بن عبدالملک کا سر قلم کر دیا گیا۔صبح طلوع ہوتے ہی خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو بلایااور اسے بتایا کہ اب وہ اپنی سپاہ کا خود مختار سالار نہیں،اس حکم کے ساتھ ہی خالدؓ نے عیاضؓ کی سپاہ اپنی کمان میں لے لی۔’’اب لڑائی قلعے کے باہر ہوگی۔‘‘خالدؓنے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اتنے مضبوط قلعے پر وقت اور طاقت خرچ کرنا محض بیکار ہوگا۔پہلے اس دشمن کو ختم کرنا ہے جو قلعے کے باہر ہے۔‘‘خالدؓنے اپنی تمام سپاہ کو ترتیب میں کیا۔عیاض کی سپاہ میں جو مجاہدین نوجوان اور جوان تھے، انہیں الگ کرکے اس طرف بھیج دیاجدھر ایک راستہ عرب کی سمت جاتا تھا۔خالدؓ نے ان جوانوں سے کہا کہ دشمن اِدھر سے بھاگنے کی کوشش کرے گا ،اُسے زندہ نہ نکلنے دیا جائے۔خالدؓ نے کچھ دستے اپنی زیرِ کمان لے کر ایک عیسائی سردار جودی بن ربیعہ کے مقابل رکھے اور عیاضؓ کو کچھ دستے دے کر دشمن کے دو سرداروں ابنِ حدر جان اور الایہم کے دستوں کے سامنے کھڑا کر دیا۔اپنے دونوں سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کو حسبِ معمول پہلوؤں پررکھا۔
عیسائی اور بت پرست سالار قلعے کے اندر سے بھی فوج کی خاصی نفری باہر لے آئے۔اس طرح ان کی تعداد مسلمانوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہو گئی۔خالدؓنے ایک ایسی چال چلی جس سے دشمن پریشان ہو گیا۔چال یہ چلی کہ ذرا بھی حرکت نہ کی۔دشمن اس انتظار میں تھا کہ مسلمان حملے میں پہل کریں گے لیکن مسلمان تو جیسے بت بن گئے تھے۔عیسائی سردار لڑائی کیلئے بے تاب ہو رہے تھے۔جب بہت سا وقت گزر گیا اور مسلمانوں نے دشمن کی للکار کا بھی کوئی جواب نہ دیا تو دشمن نے عیاضؓ کے دستوں پر ہلّہ بول دیا،اس کے ساتھ ہی جودی نے خالدؓ کے دستوں پر حملہ کردیا۔خالدؓنے اپنے سالاروں کو جو ہدایات دے رکھی تھیں ان کے مطابق مجاہدین کے دستوں میں دشمن کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بھی کوئی حرکت نہ ہوئی۔دشمن اور زیادہ جوش میں آگیا۔جب دشمن کے سپاہی مسلمانوں کی صفوں میں آئے تو مسلمانوں نے انہیں رستہ دے دیا۔یہ ایسے ہی تھا جیسے گھونسا کسی کو مارو اور وہ آگے سے ہٹ جائے۔فوراً ہی عیسائیوں اور بت پرستوں کو احساس ہو گیا کہ وہ تو مسلمانوں کے پھندے میں آگئے ہیں۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کے ساتھ عیسائیوں اور بت پرستوں کے سب سے بڑے سالار جودی بن ربیعہ کو گھیرے میں لے لیا۔اس کے خاندان کے چند ایک جوان اس کے ساتھ تھے۔وہ تو کٹ گئے اور جودی کو زندہ پکڑ لیا گیا۔خالدؓنے اپنے لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھاتھا جو دشمن کیلئے پھندہ تھا۔دشمن کے سپاہی جدھر کو بھاگتے تھے ادھر مسلمانوں کی تلواریں اور برچھیاں ان کا راستہ روکتی تھیں ۔آخر وہ قلعے کی طرف بھاگے مگر دروازہ بند تھا۔مسلمان اوپر آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دروازے کے سامنے عیسائیوں اور بت پرستوں کی لاشوں کا انبار لگ گیا۔ایک دروازہ اور بھی تھا۔اپنے آدمیوں کو پناہ میں لینے کیلئے قلعے والوں نے دروازہ کھول دیا۔عیسائی اور بت پرست بھاگ کر دروازے میں داخل ہونے لگے لیکن مسلمان تو جیسے ان کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔اس طرح صورت یہ پیدا ہو گئی تھی کہ دشمن کا ایک آدمی اندر جاتا تو دو مسلمان اس کے اندر چلے جاتے تھے۔عیسائیوں اور بت پرستوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے تھے۔اب جو کچھ ہو رہا تھاوہ لڑائی نہیں تھی۔وہ عیسائیوں اور بت پرستوں کا قتلِ عام تھا۔خالدؓچاہتے تھے کہ قتلِ عام کا یہ سلسلہ جاری رہے۔یہ اگست ۶۳۳ء کے آخری )جمادی الآخر ۱۲ھجری کے وسط کے(دن تھے۔خالدؓ نے جودی بن ربیعہ اور اس کے تمام ساتھی سالاروں اور سرداروں کو سزائے موت دے دی تھی۔دومۃ الجندل مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا۔ اسلام دشمن طاقتیں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔ایران کے آتش پرستوں کو جس طرح اسلام کے علمبرداروں نے شکست پہ شکست دی اور جتنا جانی نقصان انہیں پہنچایا تھا،اتنا کوئی قوم برداشت نہیں کر سکتی تھی۔لیکن وہاں صرف آتش پرست نہیں تھے۔تمام غیر مسلم قبیلے جن میں اکثریت عربی عیسائیوں کی تھی،ان کے ساتھ تھے۔آتش پرستوں نے اب ان قبیلوں کو آگے کرنا شروع کر دیا تھا۔جیسا مہراں بن بہرام نے عین التمر میں کیا تھا۔آتش پرستوں کے سالار میدانِ جنگ سے بھاگ بھاگ کر مدائن میں اکھٹے ہوتے جا رہے تھے۔ان کے نامور سالار بہمن جاذویہ نے جب مہراں بن بہرام کو اپنی فوج کے ساتھ واپس آتے دیکھا تو اسے اتنا صدمہ ہوا تھا کہ اس پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔’’مت گھبرا بہمن!‘‘مہراں نے اسے کہا تھا۔’’دل چھوٹا نہ کر۔آخر فتح ہماری ہو گی۔میں شکست کھا کر نہیں آیا۔شکست بدوی قبیلوں کو ہوئی ہے۔‘‘’’اور تو لڑے بغیر واپس آگیا ہے؟‘‘سالار بہمن جاذویہ نے کہا
تھا۔’’تو اتنا بڑا شہر اپنے دشمن کی جھولی میں ڈال آیا ہے تو خوش قسمت ہے کہ تجھے یہاں سزا دینے والا کوئی نہیں۔سزا دینے والے آپس میں لڑ رہے ہیں۔وہ جانشینی پر ایک دوسرے کے خون بہا رہے ہیں۔‘‘ ’’بہمن!‘‘مہراں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’کیا تومجھے سرزنش کر رہا ہے؟کیا تو مسلمانوں سے شکست کھانے والوں میں سے نہیں؟اگر تو میدان میں جم جاتا تو آج مدینہ والے یوں ہمارے سر پر نہ آبیٹھتے۔شکستوں کی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے۔میری تعریف کر کے میں اپنے لشکر کو بچا کر لے آیا ہوں۔میں اسی لشکر سے مسلمانوں کو شکست دوں گا۔مدائن میں اس وقت جو لشکر جمع ہو چکا ہے اسے ہم ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار کریں گے۔‘‘اس وقت مدائن میں فارس کے جتنے بھی نامور سالار تھے وہ سب خالدؓ سے شکست کھا کر آئے تھے۔انہوں نے اسے ذاتی مسئلہ بنالیا تھا،ورنہ وہاں حکم دینے والا کوئی نہ تھا،حکم دینے والے شاہی خاندان کے افراد تھے جو تخت کی وراثت کیلئے جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے ۔وہ سالاروں کو بھی اپنی سازشوں میں استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن سالار فارس کی شہنشاہی کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔یہ چند ایک سالار ہی تھے جنہوں نے مدائن کا بھرم رکھا ہوا تھا ورنہ کسریٰ کی بنیادیں ہِل چکی تھیں اور یہ عمارت زمین بوس ہوا ہی چاہتی تھی۔اس وقت خالدؓ مدائن سے کم و بیش چار سو میل دور دومۃ الجندل میں تھے۔آتش پرستوں اور عیسائیوں کو ابھی معلوم نہ تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ خالدؓعین التمر میں ہیں۔خالدؓ کو دراصل حیرہ واپس آنا تھا۔ایک تو وہ مفتوحہ علاقوں کے انتظامات وغیرہ کو بہتر بنانا چاہتے تھے،دوسرے یہ کہ فوج کو کچھ آرام دینا تھااور تیسرا کام یہ تھا کہ فوج کو از سر نو نظم کرنا تھا۔ایک تو یہ مجاہدین تھے جو میدانِ جنگ میں دشمن کے آمنے سامنے آکر لڑتے تھے، دوسرے مجاہدین وہ تھے جو دشمن کے مختلف شہروں میں بہروپ دھار کر خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھے۔وہ جاسوس تھے۔وہ ہر لمحہ جان کے خطرے میں رہتے تھے۔وہ دشمن کی نقل و حرکت اور عزائم معلوم کرتے اور پیچھے اطلاع بھجواتے یا خود اطلاع لے کر آتے تھے۔تاریخ میں ان میں سے کسی کا بھی نام نہیں آیا۔)دوچار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانیے کتنے ہیں( ان میں بعض پکڑ لیے گئے اور دشمن کے جلادوں کے حوالے ہوئے۔ان جاسوسوں کی بروقت اطلاعوں پر خالدؓ کئی بار دشمن کے اچانک حملے اور شکست سے بچے۔خالدؓ جب دومۃ الجندل میں تھے تو مفتوحہ علاقوں کیلئے ایک خطرناک صورتِ حال پیدا ہوگئی۔مدائن پر کسریٰ کی شکست اور زوال کی سیاہ کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔لوگوں پر خوف و ہراس طاری تھا۔کسریٰ کی اس تلوار پر زنگ لگ چکا تھا جس کا خوف بڑی دور تک پہنچا ہوا تھا مگر دو چار سالار تھے جو اس ڈوبتی کشتی کو طوفان سے نکال لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ان حالات میں ایک گھوڑا مدائن میں داخل ہوا اور بہمن جاذویہ تک پہنچا۔’’اب اور کیا بُری خبر رہ گئی تھی جو تو لایا ہے؟‘‘بہمن نے پوچھا۔’’کہاں سے آیا ہے تو؟کیا مسلمانوں کا لشکر مدائن کی طرف آرہا ہے؟‘‘’’نہیں۔‘‘اس آدمی نے کہا۔’’مسلمانوں کا لشکر چلا گیا ہے۔‘‘ ’’چلا گیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔’’تو ان لشکریوں میں سے معلوم ہوتا ہے جنہیں مسلمانوں کی دہشت نے پاگل پن تک پہنچا دیا ہے۔کیا تو نہیں جانتا تیرے جرم کی سزا موت ہے؟‘‘یہ آدمی گھوڑے سے اتر چکا تھا۔اس کی اطلاع پر بہمن جاذویہ باہر آگیاتھا۔
۔اس نے اس آدمی کو اندر لے جا کر عزت سے بٹھانے کے قابل نہیں سمجھا تھا۔سزائے موت کانام سنتے ہی اس آدمی نے گھوڑے کی باگ چھوڑدی اور تیزی سے آگے ہوکر سالار بہمن جاذویہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔’’میں عین التمر سے آیا ہوں۔‘‘اس نے گھبرائی ہوئی ملتجی آواز میں کہا۔’’بے شک میں شکست کھانے والوں میں سے ہوں۔لیکن ان میں سے بھی ہوں جو شکست کو فتح میں بدلنا چاہتے ہیں۔پہلے وہ بات سن لیں جو میں بتانے آیا ہوں پھر میرا سر کاٹ دینا لیکن میری بات کو ٹالو گے تو یہ نہ بھولنا کہ تم میں سے کسی کا بھی سر مسلمانوں کے ہاتھوں سلامت نہیں رہے گا۔‘‘’’بول،جلدیبول!‘‘ بہمن نے کہا۔’’کیا بات ہے جو مجھے اتنی دور سے سنانے آیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ کی ایک بیٹی جو جوان تھی ،ایک آدمی کو اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر قریب آگئی۔وہ دیکھ رہی تھی کہ جب سے اس کا باپ شکست کھا کر آیا ہے وہ غصے سے بھرا رہتا ہے اور سزائے موت کے سوا اور کوئی بات نہیں کرتا۔لڑکی تماشہ دیکھنے آئی تھی کہ اس کا باپ آج ایک اور سپاہی کو جلاد کے حوالے کرے گا۔’’خالدعراق سے چلا گیا ہے۔‘‘عین التمر سے آئے ہوئے آدمی نے کہا۔’’میں خود نہیں آیا۔ مجھے شمشیر بن قیس نے بھیجاہے۔آپ اسے جانتے ہوں گے۔مسلمانوں کے سالار خالدنے عین التمر پر قبضہ کرکے وہیں کے سرکردہ افراد کو عمال مقرر کر دیا ہے۔اس کا اور باقی سب حملہ آور مسلمانوں کا سلوک مقامی لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا ہے کہ سب ان کے وفادار ہو گئے ہیں۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔میں خود دیکھ رہا تھا کہ مسلمانوں کی فوج اچانک عین التمر سے نکل گئی۔‘‘’’زرتشت کی قسم!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’خالدان شکاریوں میں سے نہیں جو پنجوں میں آئے ہوئے شکار کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں……کیا اس کی ساری فوج ہمارے علاقے سے نکل گئی ہے؟‘
میں پوری خبر لایا ہوں سالار!‘‘اس آدمی نے کہا۔’’عین التمر ،حیرہ اور دوسرے شہروں میں جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہے ،مسلمانوں کی بہت تھوڑی فوج رہ گئی ہے اورایک ایک سالار ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کا بڑا لشکر دومۃ الجندل چلا گیا ہے جہاں ان کی کسی کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے۔شمشیر بن قیس نے مجھے آپ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔اس وقت اپنے مفتوحہ علاقے مسلمانوں سے چھڑائے جا سکتے ہیں۔‘‘کچھ اور سوال و جواب کے بعد بہمن جاذویہ کو یقین ہو گیا کہ یہ آدمی غلط خبر نہیں لایا ہے۔بہمن کو معلوم تھا کہ دومۃ الجندل کتنی دور ہے اور وہاں تک پہنچنے اور واپس آنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
’’تم واپس چلے جاؤ۔‘‘بہمن جاذویہ نے اس آدمی سے کہا۔’’اور شمشیر بن قیس سے کہنا کہ اتنا بڑا انعام تمہارے نام لکھ دیا گیا ہے جسے تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔ایک آدمی تمہارے پاس تاجر کے روپ میں آئے گا ،اس کے ساتھ تمہاری بات ہوگی۔وہ تمہارا سائل ہوگا۔ہم بہت جلد حملے کیلئے آرہے ہیں۔اندر سے دروازے کھولنا تمہارا کام ہوگا۔‘‘’’کیا ہو گیا ہے محترم باپ؟‘‘بہمن کی بیٹی نے عین التمر کے سوار کے جانے کے بعد بہمن سے پوچھا۔’’مسلمان کہاں چلے گئے ہیں؟‘‘’’اوہ میری پیاری بیٹی!‘‘بہمن نے بیٹی کو فرطِ مسرت سے گلے لگا لیا اور پر جوش اور پر عزم آواز میں بولا۔’’مسلمان وہیں چلے گئے ہیں جہاں سے آئے تھے۔میں نے کہا تھا کہ وہ مدائن تک پہنچنے کی جرات نہیں کریں گے۔انہوں نے جو فتح حاصل کرنی تھی وہ کر چکے ہیں۔اب ہماری باری ہے۔اب میں اپنی بیٹی کو مسلمانوں کی لاشیں دِکھاؤں گا۔‘‘’’کب؟‘‘بیٹی نے بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھا۔’’مجھے خالدکی لاش دِکھانا محترم پدر!یہاں سب کہتے ہیں کہ وہ انسانوں کے روپ میں آیا ہوا جن ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے بڑی زور کا قہقہہ لگایا۔بہمن جاذویہ کا یہ فاتحانہ اور طنزیہ قہقہہ پہلے کسریٰ کے محلات میں پہنچا،وہاں سے سالاروں تک گیا پھر مدائن کی ہزیمت خوردہ فوج نے سنا اور پھر یہ احکام او رہدایت کی صورت اختیار کر گیا۔بہمن جاذویہ کی بیٹی نے اپنی تمام سہیلیوں اور شاہی محل کی عورتوں کو اور جس کے ساتھ بھی اس نے بات کی،یہ الفاظ کہے۔’’میں تمہیں خالد کی لاش دِکھاؤں گی۔‘‘’’خالد کی لاش؟‘‘تقریبٍاًہر لڑکی اور ہر عورت کا رد عمل یہی تھا۔’’کہتے ہیں خالدکو کوئی نہیں مار سکتا۔وہ انسان نہیں۔اسے دیکھ کر فوجیں بھاگ جاتی ہیں۔‘‘شاہی اصطبل میں جہاں شاہی خاندان اور سالاروں کے گھوڑے ہوتے تھے گہما گہمی بڑھ گئی تھی۔سائیسوں کو حکم ملا تھا کہ گھوڑے میں ذرا سا بھی نقص یا کزوری دیکھیں تو اسے ٹھیک کریں یا اسے الگ کر دیں۔بہمن جاذویہ کی بیٹی اس طرح ہر طرف پھدکتی پھر رہی تھی جس طرح عید کاچاند دیکھ کر نئے کپڑوں کی خوشی میں ناچتے کودتے ہیں۔وہ اصطبل میں گئی ۔وہاں اس کے باپ کے گھوڑوں کے ساتھ اس کا اپنا گھوڑا بھی تھا جو باپ نے اسے تحفے کے طور پر دیا تھا۔
’’میرے گھوڑے کا بہت سا را خیال رکھنا۔‘‘اس نے اپنے خاندان کے سائیس سے کہا۔ایک ادھیڑ عمر سائیس جو تین چار مہینے پہلے اس اصطبل میں آیا تھا۔دوڑا آیا اور لڑکی سے پوچھا کہ اپنی فوج کہیں جا رہی ہے یا مدینہ کے لشکر کے حملے کا خطرہ ہے؟’’اب تم مدینہ والوں کی لاشیں دیکھو گے۔‘‘لڑکی نے کہا۔باقی گھوڑوں کے سائیس بھی اس کے اردگرد اکھٹے ہو گئے تھے۔وہ بھی تازہ خبر سننا چاہتے تھے۔لڑکی نے انہیں بتایا کہ خالد تھوڑی سی فوج پیچھے چھوڑ کر زیادہ تر فوج اپنے ساتھ لے گیا ہے اور وہ عراق سے دور نکل گیاہے۔)یہ تمام تر علاقہ جو خالدنے فارس والوں سے چھینا تھا،عراق تھا(لڑکی نے سائیسوں کو بتایا کہ اب اپنی فوج پہلے عین التمرپر پھر دوسرے شہروں پر حملے کرکے انہیں دوبارہ اپنے قبضے میں لے لے گی۔اگر خالد واپس آیابھی تو اسے اپنی شکست اور موت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔’’کیا اسے زندہ پکڑا جائے گا؟‘‘ادھیڑ عمر سائیس نے مسرور سے لہجے میں پوچھا۔’’زندہ یا مردہ!‘‘بہمن کی بیٹی نے کہا۔’’اسے مدائن لایا جائے گا۔اگر زندہ ہوا تو تم اس کا سر قلم ہوتا دیکھو گے۔‘‘تین چار روز گزرے تو یہ ادھیڑ عمر سائیس لا پتا ہو گیا۔اسے سب عیسائی عرب سمجھتے تھے۔ہنس مکھ اور ملنسار آدمی تھا۔صرف ایک سائیس نے اس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنے قبیلے میں واپس جانا چاہتا ہے جہاں وہ قبیلے کی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑے گا۔وہ اپنے خاندان کے ان مقتولین کا انتقام لیناچاہتا تھا جو دو جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔جس وقت شاہی اصطبل میں اس سائیس کی غیر حاضری کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں ،اس وقت وہ مدائن سے دور نکل گیا تھا۔مدائن سے وہ شام کو نکلا تھا،جب شہر کے دروازے ابھی کھلے تھے۔اس کے پاس اپنا گھوڑا تھا۔کسی کو بھی نہیں معلوم تھاکہ وہ عیسائی نہیں مسلمان تھا اور وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا جس پر ایران کے آتش پرستوں کا قبضہ رہا تھا۔وہ مثنیٰ بن حارثہ کا چھاپہ مار جاسوس تھا،اس نے مدائن میں جاکر شاہی اصطبل کی نوکری حاصل کرلی تھی۔بہمن جاذویہ کی بیٹی سے اس نے عراق سے خالدؓاور ان کے لشکر کی روانگی اور مدائن کے سالاروں کے عزائم کی تفصیل سنی تو وہ اسی شام مدائن سے نکل آیا،یہ اطلاع بہت قیمتی تھی۔سورج نے غروب ہوکر جب اس کے اور مدائن کی شہر پناہ کے درمیان سیاہ پردہ ڈال دیا تو اس مسلمان جاسوس نے گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔اس کی منزل انبار تھی جہاں تک وہ اڑ کر پہنچنے کی کوشش میں تھا۔جہاں گھوڑا تھکتا محسوس ہوتا۔وہ اس کی رفتار کم کر دیتا ۔صرف ایک جگہ اس نے گھوڑے کو پانی پلایا۔اگلے روز کا سورج افق سے اٹھ آیا تھا جب وہ انبار میں داخل ہوااور کچھ دیر بعد وہ سالار زبرقان بن بدر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔وہ ہانپ رہا تھا۔اس نے ہانپتے ہوئے سنایا کہ مدائن میں کیا ہو رہا ہے۔’’میں اسی روز آجاتا جس روز مجھے بہمن کی بیٹی سے یہ خبر ملی تھی۔‘‘اس نے سالار زبرقان سے کہا۔’’لیکن میں وہاں تین دن یہ دیکھنے کیلئے رُکا رہا کہ دشمن کیا کیا تیاریں کر رہا ہے،اور وہ سب سے پہلے کہاں حملہ کرے گا۔‘‘
اس جاسوس نے جسے تاریخ نے ’’ایک جاسوس‘‘لکھا ہے،مدینہ کی فوج کے سالار زبرقان بن بدر کوجو تفصیلی رپورٹ دی ،وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تقریباً ہر مؤرخ نے بیان کیا ہے۔خالد ؓجب عین التمر سے عیاضؓ بن غنم کی مدد کیلئے دومۃ الجندل کیلئے روانہ ہوئے تو عین التمر سے ایک عیسائی عرب نے مدائن اطلاع بھیج دی کہ خالدؓعراق سے چلے گئے ہیں۔ان کی منزل دومۃ الجندل بتائی گئی،اس سے مدائن کے تجربہ کار سالار بہمن جاذویہ نے یہ رائے قائم کی کہ مسلمان تخت و تاراج اور لوٹ مار کرنے آئے تھے اور اپنے کچھ دستے برائے نام قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پیچھے چھوڑ کر چلے گئے اور یہ دستے ذرا سے دباؤ سے بھاگ اٹھیں گے۔اس زمانے میں اکثر یوں ہوتا تھا کہ کوئی بادشاہ بہت بڑی فوج تیار کرکے طوفان کی مانند یکے بعد دیگرے کئی ملکوں پر چڑھائی کرتا اور قتلِ عام اور لوٹ مار کرتا اپنے پیچھے کھنڈر اور لاشوں کے انبار چھوڑ جاتا تھا۔وہ کسی بھی ملک پر مستقل طور پر قبضہ نہیں کرتا تھا۔مدائن کے محل میں خالدؓ کے کوچ کے متعلق یہی رائے قائم کی گئی لیکن خالدؓ نے عراق میں فارس کے جو مقبوضہ شہر اور بڑے قلعے فتح کیے تھے ،وہاں وہ ایک ایک سالار اور کچھ دستے چھوڑ گئے تھے ۔یہ صورتِ حال کسریٰ کے سالاروں کو کچھ پریشان کر رہی تھی۔’’فوج کو مدائن سے نکالواور حملے پہ حملہ کرو۔‘‘کسریٰ کے دربار سے حکم جاری ہوا۔’’ہم تیار ہیں۔‘‘شیر زاد نے کہا۔جو حاکم ساباط تھا اور انبار سے مسلمانوں سے شکست کھا کر بھاگا تھا ۔’’ہم بالکل تیار ہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا جو عین التمر کا بھگوڑا تھا۔’’مگر لشکر تیار نہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا جو تجربہ کار سالار تھا ۔شکست تو اس نے بھی کھائی تھی لیکن اس نے کچھ تجربہ حاصل کیا تھا۔’’کیا کہہ رہے ہو بہمن؟‘‘کسریٰ کے اس وقت کے جانشین نے کہا۔’’کیا ہم نے اس لشکر کو اس لئے پالا تھا کہ شکست کھا کر ہمارے پاس بھاگ آئے اور ہم ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سانڈوں کی طرح پالتے رہیں؟‘‘’’اگر ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سزا دینی ہے تو آج ہی کوچ کا حکم دے دیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اپنے لشکر کی حالت مجھ سے سنیں۔‘‘اس نے اپنے لشکر کی جو کیفیت بیان کی وہ،مؤرخوں اور بعد کے جنگی مبصروں کے الفاظ میں یوں تھی کہ ’’فارس کی اس جنگی طاقت کے پرانے اور تجربہ کار سپاہیوں کی بیشتر نفری مسلمانوں کے ہاتھوں چار پانچ جنگوں میں ماری جا چکی تھی یا جسمانی لحاظ سے معذور بلکہ اپاہج ہوگئی تھی۔خاصی تعداد جنگی قیدی تھی اور لشکر کے جو سپاہی اور ان کے کمانڈر بچ گئے تھے وہ ذہنی معذور نظر آتے تھے ۔تین الفاظ مدینہ،خالد بن ولید،اور مسلمان۔ان کیلئے خوف کا باعث بن گئے تھے۔وہ فوری طور پر میدانِ جنگ میں جانے اور لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ان کا جوش اور جذبہ بُری طرح مجروح ہوا تھا۔گھوڑوں کی بھی کمی واقع ہو گئی تھی۔،،
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 34
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
[01/: *شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*(قسط نمبر۔۔ 34)*
بہمن جاذویہ نے دربارِ خاص میں بتایا کہ جو عیسائی قبیلے ان کے اتحادی بن کر لڑے تھے،ان کی بھی یہی کیفیت ہے۔مہراں بن بہرام نے انہیں عین التمر میں جو دھوکا دیا تھا اس کی وجہ سے وہ فارس والوں کے ساتھ ملنے سے انکار کر سکتے تھے۔’’پھر بھی انہیں ساتھ ملا لیا جائے گا۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’لیکن اپنے لشکر کیلئے ہزار ہا جوان آدمیوں کی بھرتی کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے لشکر میں نیا خون شامل کرنا پڑے گا۔ان جوانوں کو ہم بتائیں گے کہ مسلمانوں نے ان کی شہنشاہی کو ،ان کی غیرت کو اور ان کے مذہب کو للکارا ہے۔اگر انہوں نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا تو ان پر زرتشت کا قہرنازل ہوگا۔ان کی جوان اور کنواری بہنوں کو مسلمان اپنی لونڈیاں بنا لیں گے۔‘‘’’اتنے زیادہ لشکر کی کیا ضرورت ہے؟‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’اطلاع تو یہ ملی ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں کی نفری برائے نام ہے۔‘‘’’ہر شہر اور ہر قلعے میں ہمارے اپنے آدمی موجود ہیں۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’اس وقت وہ مسلمانوں کی ملازمت میں ہیں لیکن انہیں جب پتہ چلے گا کہ فارس کی فوج نے شہر کا محاصرہ کیا ہے تو……‘‘’’تو وہ اندر سے قلعے کے دروازے کھول دیں گے۔‘‘بہمن جاذویہ نے شیرزاد کی بات پوری کرتے ہوئے کہا۔’’تم جھوٹی امیدوں کے سہارے لڑائی لڑنا چاہتے ہو؟مجھے اطلاعیں ملتی رہتی ہیں ،مسلمان اپنے مفتوح اور محکوم لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی آدمی بے وفائی نہیں کرتا۔اگر فاتح اپنے مفتوح کی جوان اور حسین بیٹیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے اور اس کی عزت اور اموال کو تحفظ دے تو مفتوح ایسے فاتح کے ساتھ کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔‘‘’’نہ سہی!‘‘شاہی خاندان کے کسی فرد نے کہا۔’’اتنے زیادہ لشکر کی پھر بھی ضرورت نہیں۔‘‘’’یہ ان سالاروں سے پوچھیں جو مسلمانوں سے شکست کھا کر آئے ہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان جتنے تھوڑے ہوتے ہیں اتنے ہی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ،میں کوئی خطرہ مول نہیں لیناچاہتا۔یہ بھی خیال رکھیں کہ مسلمان قلعہ بند ہوں گے۔انہیں زیر کرنے کیلئے ہمارے پاس دس گنا نفری ہونی چاہیے۔میں اپنی جوابی کارروائی کو فیصلہ کن بنانا چاہتا ہوں۔یہ خیال بھی رکھو کہ ہم ایک دن میں مقبوضہ شہر مسلمانوں سے واپس نہیں لے سکتے،مسلمان جہاں مقابلے میں جم گئے وہاں ہمیں مہینوں تک باندھ لیں گے۔اس عرصے میں خالد اپنے لشکرکے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔اس کے واپس آجانے سے صورتِحال بالکل ہی بدل جائے گی۔اگر ہمارے لشکر کی نفری کم ہوئی تو اس جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ہم لشکر تیار کرکے اسے کئی حصوں میں تقسیم کریں گے اور ایک ہی وقت ہر جگہ حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا خالد کے خاتمے کاکوئی انتظام نہیں ہو سکتا؟‘‘کسریٰ کے جانشین نے پوچھا۔’’یہ انتظام بھی میرے پیشِ نظر ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’دیکھ بھال کیلئے میں تیز رفتار گھوڑ سوار ہر طر ف پھیلا دوں گا۔خالدجدھر سے بھی آئے گا،مجھے اطلاع مل جائے گی۔میں اسے عراق سے دور روک لوں گا۔‘‘
بہمن جاذویہ کو وسیع اختیارات مل گئے۔اس نے اپنےلشکر میں ان سپاہیوں کو زیادہ ترجیح دی جو مسلمانوں سے لڑ چکے تھے۔اس کے ساتھ ہی نئی بھرتی شروع کر دی۔نوجوانوں کو ایسا بھڑکایا گیا کہ وہ ہتھیاروں اور گھوڑوں سمیت لشکر میں آنے لگے۔عیسائیوں کو زیادہ مراعات دے کر فوج میں شامل کیا گیا۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو مدائن بلایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ خالدؓ اپنے لشکر کو عراق سے نکال کرلے گیا ہے،اور جو مسلمان فوج پیچھے رہ گئی ہے اسے یہیں ختم کرنا ہے اور زندہ بچے رہنے والے مسلمانوں کو صحرا میں بھٹک بھٹک کر مرنے کیلئے چھوڑ دینا ہے۔’’بنی تغلب سے اب یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تمہاری لڑائی لڑیں گے۔‘‘عیسائی قبیلے بنی تغلب کے ایک سالار نے فارس کے سالاروں سے کہا۔’’ہم ایک بار پھر وہ دھوکا نہیں کھانا چاہتے جو ایک بار کھا چکے ہیں۔عین التمر سے مہراں بن بہرام اپنی ساری فوج لے کر نہ بھاگتا تو مسلمان وہیں ختم ہو جاتے۔ہم اپنی لڑائی لڑیں گے ۔ہمیں مسلمانوں سے اپنے سردار عقہ بن ابی عقہ کے خون کا انتقام لینا ہے ۔ہم تمہاری مدد اور تمہارے ساتھ کے بغیر مسلمانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔‘‘’’کیا تم اپنی لڑائی الگ لڑو گے؟‘‘بہمن جاذویہ نے پوچھا۔’’کیا ایسا نہیں ہوگا کہ مسلمان ہم دونوں کو الگ الگ شکست دے دیں؟‘‘’’لڑیں گے تمہارے دوش بدوش ہی۔‘‘بنی تغلب کے سردار نے کہا۔’’میری عقل میرے قابو میں ہے۔ہمارا دشمن مشترک ہے۔ہم تمہارے ساتھ ہوں گے لیکن تم پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ہمیں خالد کا سر چاہیے۔‘‘’’خالد یہاں نہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’وہ جا چکا ہے۔‘‘’’جہاں کہیں بھی ہے۔‘‘عیسائی سردار نے کہا۔’’زندہ تو ہے۔ہم پہلے ان کے ان دستوں کو ختم کریں گے جو یہاں ہیں۔پھر ہم خالدبن ولید کے پیچھے جائیں گے……وہ خود آجائے گا۔وہ دستوں کی مدد کو ضرور آئے گا۔لیکن یہاں موت اس کی منتظر ہوگی۔‘‘
یہ مسلمان جاسوس مدائن میں عیسائی بن کرشاہی اصطبل میں نوکری کرتا رہا تھا۔اس لیے وہ عیسائیوں میں گھل مل گیا تھا۔اس نے سالار زبرقان بن بدر کو بتایا کہ آتش پرستوں کی نسبت عیسائی قبیلے خالدؓکے زیادہ دشمن بنے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے فارس کے سالاروں سے کہا کہ وہ پیچھے رہیں،مسلمانوں پر پہلا وار عیسائی قبیلے بنی تغلب،نمر اور ایاد ہی کریں گے۔سالار زبرقان بن بدر نے مدائن کی یہ رپورٹ سنی اور اسی وقت دو قاصد بلائے۔انہیں کہا کہ دو بہترین گھوڑے لیں اور اُڑتے ہوئے دومۃ الجندل پہنچیں۔زبرقان نے انہیں خالدؓ کے نام زبانی پیغام دیا۔
’’……اور سالارِ اعلیٰ ابن ِ ولید سے یہ بھی کہنا کہ جب تک انبار میں آخری مسلمان کی سانسیں چل رہی ہوں گی ،دشمن شہر کے اندر نہیں آسکے گا۔‘‘زبر قان بن بدر نے قاصدوں سے کہا۔’’تو آجائے گا تو ہمیں سہولت ہو جائے گی ،نہیں آسکو گے تو وہ اﷲہمارے ساتھ ہے جس کے رسولﷺ کا پیغام ہم اپنے سینوں میں لیے یہاں تک آئے ہیں……اور ابنِ ولید سے کہنا کہ دومۃ الجندل کی صورتِ حال تجھے آنے دیتی ہے تو آ،اور اگر تووہاں مشکل میں پھنسا ہو اہے تو ہمیں اﷲکے سپرد کر،ہم اسی طرح لڑیں گے جس طرح تیری شمشیر کے سائے تلے لڑتے رہے ہیں۔‘‘
مزید اسلامی و تاریخی ناولز پڑھنے کے لئے ھمارا آھٹ پیج ضرور لائیک اور شئیر کریں...
ان قاصدوں کو روانہ کرکے سالار زبرقان نے چند ایک اور قاصدوں کو بلایا اورہر ایک کو اس کی منزل بتائی۔ان قاصدوں کو ان شہروں میں جانا اور وہاں کے سالاروں کو بتانا تھا کہ خالدؓ کی غیر حاضری سے آتش پرستوں نے کیا تاثر لیا ہے اور وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں،پیغام میں زبرقان نے یہ بھی کہا کہ اس نے دومۃ الجندل کو قاصد بھیج دیا ہے،اگر وہاں سے مدد نہیں آئی تو ہم ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے کی کوشش کریں گے۔مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔دشمن کے مقابلے میں نفری پہلے ہی تھوڑی تھی۔وہ بھی بکھری ہوئی تھی۔اس صورت میں کہ دشمن بیک وقت تمام اُن شہروں کو جن پر مسلمانوں کا قبضہ تھا،محاصرے میں لے لیتا تو مسلمان ایک دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔دونوں طرف بے پناہ سرگرمی شروع ہو گئی۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں نے بستی بستی جاکر لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔وہ ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی اپنے سالتھ ملا رہے تھے جو عیسائی نہیں تھے۔وہ بت پرست تھے۔عیسائیوں کی جوان لڑکیاں بھی غیر مسلم بستیوں میں چلی گئیں۔وہ عورتوں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی تھیں کہ وہ اپنے مردوں کو،جوان بھائیوں اور بیٹوں کو باہر نکالیں ورنہ تمام جوان لڑکیوں کو مسلمان اپنے ساتھ لے جا کر لونڈیاں بنالیں گے۔ایسے نعرے بھی ان لڑکیوں نے لگائے ’’ہم مسلمانوں کی لونڈیاں بننے جا رہی ہیں۔‘‘اور دوسرا نعرہ جو بستی میں لگ رہا تھاوہ یہ تھا’’اپنے مقتولوں کے انتقام کا وقت آگیا ہے……باہر آؤ۔انتقام لو۔‘‘اُدھر مدائن میں فارس کے لشکر کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی۔اب لشکر میں شامل ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جو جوش سے پھٹے جا رہے تھے ۔انہیں میدانِ جنگ میں لڑنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔گھوڑ سواری،تیر اندازی، تیغ زنی اور نیزہ بازی تو وہ جانتے تھے، ان میں انہیں مزید طاق کیا جا رہا تھا۔بہمن جاذویہ تو جیسے پاگل ہوا جا رہا تھا۔وہ خود مشقوں کی تربیت اور مشقوں کی نگرانی کرتا تھا۔اس کے ساتھی سالار اسے کہتے تھے کہ حملہ جلدی ہونا چاہیے لیکن وہ نہیں مانتا تھا۔کہتا تھا کہ خالد واپس نہیں آئے گا۔اگر اسے واپس آنا ہی ہوا تو وہ لشکر کے ساتھ اس وقت یہاں پہنچے گا جب عراق کی زمین پر کھڑا ہونے کیلئے اسے ایک بالشت بھر بھی زمین نہیں ملے گی۔مسلمان جن شہروں پر قابض تھے،وہاں کی سرگرمی اپنی نوعیت کی تھی۔ہر شہر میں مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی،انہوں نے کم تعداد سے قلعوں کے دفاع کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔لاکھوں کے حساب سے تیر اور پھینکنے والے برچھے تیارہو رہے تھے۔سالاروں نے مجاہدین کا ایک ایک چھاپہ مار جیش تیار کر لیا تھا۔انہیں زیادہ وقت قلعوں کے باہر گزارنا اور عام راستوں سے دور رہنا تھا۔ان کا کام یہ تھا کہ دشمن شہر کا محاصرہ کر لے تو عقب سے اس پر ’’ضرب لگاؤاور بھاگو‘‘ُکے اصول پر چھاپے اور شبخون مارتے رہیں۔خالدؓ کی غیر حاضری میں سالار عاصم بن عمرو کے بھائی قعقاع بن عمرو مفتوحہ علاقوں میں مختلف شہروں میں مقیم دستوں کے سالار تھے۔
اس کا ہیڈ کوارٹر حیرہ میں تھا۔اس کی ذمہ داری صرف حیرہ کے دفاع تک محدود نہیں تھی۔عراق کے تمام تر مفتوحہ علاقے کا دفاع اس کی ذمہ داریمیں تھا۔اس نے اس علاقے میں بکھرے ہوئے تمام سالاروں کو ہدایات بھیج دی تھیں۔اس نے سب کو زور دے کر کہا تھا کہ دومۃ الجندل سے خالدؓ اور اپنے لشکر کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں،اپنے اﷲپر بھروسہ رکھیں اور یہ سمجھ کر لڑنے کی تیاری کریں کہ ان کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔قعقاع نے ایک کارروائی یہ کی کہ خالدؓنے جو دستے دریائے فرات کے پار خیمہ زن کئے تھے، ان میں سے زیادہ تر نفری کو حیرہ میں بلالیا تاکہ اس شہر کے دفاع کو مضبوط کیا جاسکے۔قعقاع کا اپنا جاسوسی نظام تھا۔اس کے ذریعے قعقاع کو اطلاع ملی کہ فارس کا لشکر کہاں کہاں جمع ہو گا۔یہ دو جگہیں تھیں۔ایک حُصید اور دوسری خنافس۔یہ دونوں مقام انبار اور عین التمر کے درمیان تھے ۔قعقاع نے اپنے ایک دستے کو حصید کو اور دوسرے کو خنافس اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا کہ فارس کی فوج وہاں آئے تو اس پر نظر رکھیں اور فوج کسی طرف پیشقدمی کرے تو اس پر چھاپے ماریں اور اس پیشقدمی میں رکاوٹ ڈالتے رہیں۔شبخون بھی ماریں۔یہ دونوں دستے جب ان مقامات پر پہنچے تو دونوں جگہوں پر فارس کے ہراول دستے آئے ہوئے تھے۔وہ جو خیمے گاڑھ رہے تھے ،ان سے پتا چلتا تھا کہ یہ خیمے کسی بہت بڑے لشکر کیلئے گاڑے جا رہے ہیں۔مسلمان دستوں نے ان کے سامنے اسی انداز سے خیمے گاڑنے شروع کر دیئے جیسے وہ بھی بہت بڑے لشکر کا ہراول ہوں۔اِدھر یہ تیاریاں ہو رہی تھیں۔مجاہدینِ اسلام کو خس و خاشاک کی مانند اُڑالے جانے کیلئے بڑا ہی تُند طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا،اُدھر سالار زبرقان بن بدرکے روانہ کیے ہوئے دونوں قاصد دومۃ الجندل خالدؓ کے پاس پہنچ گئے۔انہوں نے ساڑھے تین سو میل فاصلہ صرف پانچ دنوں میں طے کیا تھا۔خالدؓ جب دومۃ الجندل گئے تھے تو انہوں نے تین سو میل کا فاصلہ دس دنوں میں طے کیا تھا۔اب دو قاصدوں نے ساڑھے تین سو میل سے زیادہ صحرائی اور دشوارمسافت پانچ دنوں میں طے کی۔بھوک او رپیاس سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں ،ان کے چہروں پر باریک ریت کی تہہ جم گئی تھی۔ان کی زبانیں اکڑ گئی تھیں۔انہوں نے پھر بھی بولنے کی کوشش کی۔’’تم پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خشک جسموں سے تم کیسے بول سکو گے؟‘‘
--------------------------------------
اب انہوں نے اتنی غارت گری اور اتنا زیادہ خون دیکھا کہ زمین لال ہو گئی تو انہیں ان پرانے سپاہیوں کی باتیں یاد آنے لگیں جو مسلمانوں سے لڑے اور بھاگے تھے۔اب وہ سپاہی زخمی ہو ہو کر گر رہے تھے یا بھاگ رہے تھے۔نوجوانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔تلواروں اور برچھیوں پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔آتش پرستوں کے لشکر کا حوصلہ تو پہلے ہی ٹوٹ رہا تھا انہوں نے جب وہ نعرے سنے تو وہ فرار کا راستہ دیکھنے لگے۔’’خدا کی قسم!‘‘ یہ کسی مسلمان کا نعرہ تھا۔’’زرتشت کے پجاریوں کے دونوں سالار مارے گئے ہیں۔‘‘یہ للکار بلند ہوتی چلی گئی۔
پھر دشمن کے اپنے سپاہیوں نے چلّانا شروع کر دیا۔’’روزبہ اور زرمہر ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘اس کے ساتھ یہ بھی للکار سنائی دی۔’’خالدبن ولیدآگیا ہے……خالد بن ولید کا لشکر آگیا ہے۔‘‘اس نعرے نے مدائن کے لشکر کا رہا سہا دم خم بھی ختم کر دیا اور لشکر بکھر کرفرداًفرداً بھاگ اٹھا۔بھاگنے والوں کا رخ خنافس کی طرف تھا جہاں مدائن کے لشکرکا دوسرا حصہ خیمہ زن تھا۔خنافس کے لشکر پر حملہ کرنے کیلئے خالدؓ نے سالار ابو لیلیٰ کو اس ہدایت کے ساتھ بھیجا کہ خنافس اور حُصید پر بیک وقت حملے ہوں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔وجہ یہ تھی کہ خنافس حُصید کی نسبت دور تھا۔ابولیلیٰ اپنی پانچ ہزار فوج کو لے کر چلے تو بہت تیز لیکن بر وقت نہ پہنچ سکے۔حُصید پر قعقاع نے پہلے حملہ کر دیا۔تاخیر کا نقصان یہ ہونا تھا کہ دشمن بیدار ہوتا لیکن تاخیر بھی سود مند ثابت ہوئی۔وہ اس طرح کہ ابو لیلیٰ کے پہنچنے سے ذرا ہی پہلے خنافس کے لشکر کو اطلاع مل گئی کہ مسلمانوں نے روزبہ اور زرمہر کو مار ڈالا ہے اور لشکر بُری طر سے کٹ رہا ہے۔ابو لیلیٰ جب دشمن کے سامنے گئے تو دشمن کو لڑائی کیلئے تیار پایا۔دشمن کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی ۔ابو لیلیٰ کو سوچ سمجھ کرآگے بڑھنا تھا۔وہ ہلّہ نہیں بول سکتے تھے۔انہیں چالوں کی جنگ لڑنی تھی۔اس انتظار میں کہ دشمن حملے میں پہل کرے ،حُصید سے بھاگے ہوئے سپاہی خنافس کی خیمہ گاہ میں پہنچنے لگے ۔سب سے پہلے گھوڑ سوار آئے ۔ان میں سے بہت زخمی تھے۔یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ بلا وجہ نہیں بھاگے ،انہوں نے مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اور ان کے لڑنے کے قہر و غضب کو مبالغے سے بیان کیااور ایسی دہشت پھیلائی کہ خنافس کے لشکر کا حوصلہ لڑے بغیر ہی ٹوٹ گیا۔بھگوڑوں نے یہ خبر بھی سنائی کہ خالدؓاپنے لشکر کے ساتھ آگیا ہے۔خنافس والے لشکر کی کمان اب ایک اور آتش پرست سالار مہبوذان کے پاس تھی۔زیادہ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مہبوذان اور دیگر تمام سالاروں کو یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان قلعوں میں بند ہیں اور ان کی نفری بہت تھوڑی ہے اور یہ بھی کہ خالد جا چکا ہے۔لہٰذا قلعوں پر حملے کرکے مسلمانوں کو ختم کر دینا ہے۔اب صورتِ حال بالکل ہی بدل گئی تھی ۔مدائن کے سالار مہبوذان نے روزبہ کے لشکر کی حالت سنی اور اپنے لشکر کی ذہنی حالت دیکھی اور یہ سنا کہ خالدؓاپنے لشکر کو لے کر آگئے ہیں تو اس نے لڑائی کا ارادہ ترک کر دیا اور اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا۔ابو لیلیٰ نے بغیر لڑے ہی فتح حاصل کر لی۔اس نے اپنے ایک دوآدمی مہبوذان کے لشکر کے پیچھے بھیجے کہ وہ چھپتے چھپاتے جائیں اور دیکھیں کہ یہ لشکر کہاں جاتا ہے۔
خالدؓعین التمر میں تھے۔انہیں پہلی اطلاع یہ ملی کہ حُصیدکا لشکر بھاگ گیا ہے۔بہت دیر بعد ابولیلیٰ کا بھیجا ہواقاصد خالدؓ کے پاس پہنچا اور یہ خبر پہنچائی کہ خنافس والا لشکر بغیر لڑے پسپا ہو گیا ہے اور مضیح پہنچ کر عیسائیوں کے ساتھ جا ملا ہے۔وہاں جوعیسائی عربوں کالشکر جمع تھا ،اس کی کمان ھذیل بن عمران کے پا س تھی۔اس طرح مضیح میں دشمن کا بہت بڑا لشکر جمع ہوگیا۔خالدؓ سوچ میں پڑ گئے۔وہ آتش پرستوں کے مرکزی مقام مدائن پر حملہ کر سکتے تھے۔مدائن فارس کی جنگی طاقت کا دل تھا۔خالدؓ نے سوچا کہ وہ اس دل میں خنجر اتار سکتے ہیں یا نہیں ۔مشہور مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ خالدؓ مدائن پر حملہ کرتے تو فتح کا امکان تھا ،لیکن ان پر عقب سے یہ لشکر حملہ کر سکتا تھا جو مضیح میں جمع ہو گیا تھا۔خالدؓنے اپنے سالاروں سے مشورہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ پہلے مضیح کی اجتماع گاہ کو ختم کیاجائے۔یہ فیصلہ اور ارادہ کر لیناکہ اس لشکر کو ختم کیا جائے ،آسان تھا عملاًاتنے بڑے لشکر کو اتنی تھوڑی نفری سے ختم کرنا کہاں تک ممکن تھا۔یہ یقینی نہیں تھا مگر خالدؓ اسے یقینی بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔وہ نا ممکن کو ممکن کر دکھانے والے جرنیل تھے۔انہوں نے ایسی اسکیم بنائی جسے آج کے جنگی مبصر بے مثال کہتے ہیں۔’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں ،نائب سالاروں اور کمانداروں کو بلا کر کہا۔’’خدا کی قسم!تم نے جتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں یہ انسانی سطح سے بالاتر تھیں ۔تم نے پانچ گُنا قوی دشمن کو اس سے بھی زیادہ نفری کو جس طرح کاٹا اور بھگایا ہے ،یہ تمہاری مافوق الفطرت طاقت تھی۔یہ ایمان کی قوت ہے۔تمہیں اس کا اجر خدا دے گا……اب میں تمہیں ایک بڑے ہی کٹھن امتحان میں ڈال رہا ہوں۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے خالدؓکو ٹوک دیا۔’’کیا اتنی باتوں کو ضروری سمجھتا ہے؟ربّ کعبہ کی قسم!ہم اس اﷲکے حکم سے لڑ رہے ہیں جس نے تجھے ہمارا امیر بنایا ہے۔حکم دے کہ ہم آگ میں کود جائیں پھر ہمارے جسموں کو جلتا ہوا دیکھ۔‘‘
’’تجھ پر خدا کی رحمت ابنِ عمرو!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں نے یہ باتیں اس لئے ضروری سمجھی تھیں کہ میں تمہیں آگ میں کودنے کا حکم دینے والا ہوں۔میں ڈرتا ہوں کہ کوئی مجاہد یہ نہ کہے کہ ولید کے بیٹے نے بڑا ظالم حکم دے دیا تھا……میرے رفیقو!ہمیں جان کی بازی لگانی ہے ۔تمام مجاہدین سے کہو کہ تمہارے صبر اور استقلال کا ایک اور امتحان باقی ہے اور اسے اﷲکا حکم سمجھنا۔‘‘خالدؓ نے اپنی جو سکیم سب کو بتائی تھی وہ یہ تھی کہ دشمن پر رات کے وقت تین اطراف سے حملہ کرنا ہے اور حملے کے مقام تک اتنی خاموشی سے پہنچنا ہے کہ دشمن کو خبر نہ ہونے پائے۔خالدؓ نے اپنی تمام تر فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ہر حصے میں تقریباً پانچ ہزار سوار اور پیادے تھے۔یہ تینوں حصے ایک جگہ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے دور مختلف جگہوں پر تھے۔حُصید ،خنافس اور عین التمر۔ان سب کو اپنے اپنے مقام سے مقررہ راستوں سے مضیح تک پہنچنا تھا۔
خالدؓ نے حملے کی رات بھی مقرر کر دی تھی اور مقام بھی جومضیح میں دشمن کی اجتما گاہ سے کچھ دور تھا۔تینوں حصوں کو رات کے وقت اس مقام پر پہنچنا تھا۔مضیح میں دشمن کا جو لشکر خیمہ زن تھا ،اس کی تعداد کے متعلق مؤرخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ دشمن کی تعداد ساٹھ اور ستّر ہزار کے درمیان تھی۔اس پر حملہ کرنے والے مجاہدین کی تعداد پندرہ ہزار تھی۔اس قسم کی اسکیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا نا ممکن کی حد تک مشکل تھا۔پانچ پانچ ہزار کے لشکر کیلئے سفر کے دوران خاموشی برقرار رکھنا آسان کام نہیں تھا لیکن بڑی سختی سے خاموشی برقرار رکھنی تھی۔دوسری مشکل خالدؓ کیلئے تھی۔وہ خود عین التمر میں تھے جہاں ان کی فوج کا صرف ایک حصہ تھا۔دوسرے دو حصوں کو حُصید اور خنافس سے چلنا تھا۔انہیں قاصدوں کے ذریعے اپنے رابطے میں رکھنا تھا تاکہ حملے والے مقام پر بروقت پہنچ سکیں۔جو رات مقرر کی گئی تھی وہ نومبر ۶۳۳ء کے پہلے )شعبان ۱۲ ہجری کے چوتھے (ہفتے کی ایک رات تھی۔خالدؓکے مجاہدین کے تینوں حصے اپنے اپنے مقام سے چل پڑے۔گھوڑوں کے منہ باندھ دیئے گئے تھے۔تینوں حصوں نے یہ انتظام کیا تھا کہ چندایک آدمی لشکر کے آگے اور دائیں بائیں جا رہے تھے۔ان کا کام یہ تھا کہ کوئی بھی آدمی رستے میں مل جائے اُسے پکڑ لیں تاکہ وہ دشمن تک خبر نہ پہنچا سکے۔دشمن کے بیدار ہوجانے کی صورت میں مجاہدین کی کامیابی مخدوش ہو جاتی اور دشمن گھات بھی لگا سکتا تھا۔رات کے چلے ہوئے اُسی رات نہیں پہنچ سکتے تھے۔دن کو لشکر کو چھپا کر رکھا گیا۔دیکھ بھال والے آدمی دور دور پھیلے رہے۔خالدؓ نے اپنے جاسوس دشمن کی اجتماع گاہ مضیح تک بھیج رکھے تھے۔وہ دشمن کے متعلق اطلاعیں دے رہے تھے۔ان کی آخری اطلاع یہ تھی کہ دشمن نے ابھی تک کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے پتہ چلے کہ وہ کسی طرف حملہ کیلئے کوچ کرنے والا ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ دشمن کے سالار اپنے سالارِ اعلیٰ بہمن جاذویہ کے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے ۔خالدؓ کے آجانے سے ان کیلئے صورتِ حال بدل گئی تھی۔اس کے مطابق انہوں نے اپنی ساری اسکیم بدلنی تھی۔
انہیں کھلایا پلایا گیا تو وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئے۔’’سالارِ اعلیٰ کو انبار کے سالار زبرقان بن بدر کا سلام پہنچے۔‘‘ایک قاصد نے کہا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’اور وہ پیغام کیا ہے جو لائے ہو؟‘‘’’مدائن میں بہت بڑا لشکر تیار ہو رہا ہے۔‘‘قاصد نے کہا۔’’اور ایک لشکر عیسائیوں کا تیار ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں ابنِ ولید ان کے علاقوں سے چلاگیا ہے اور وہ تھوڑے سے جو دستے چھوڑ گیا ہے انہیں ایک ہی حملے میں ختم کرکے اپنے علاقے واپس لیں گے۔‘‘دونوں قاصدوں نے خالدؓ کو تمام تر تفصیل بتائی اور کہا کہ خالدؓ کے دومۃ الجندل کے حالات اجازت نہ دیں تو نہ آئیں۔دستے جو فارس کی شہنشاہی کے علاقے میں ہیں وہ اسی طرح لڑیں گے جس طرح خالدؓ کی قیادت میں لڑے تھے۔
خالدؓ دومۃ الجندل پر قبضہ مکمل کرچکے تھے۔انہوں نے وہاں کا انتظام ایک نائب سالار کے حوالے کیا اور فوری طور پر کوچ کا حکم دے دیا۔’’خدا کی قسم!‘‘مؤرخوں کے مطابق خالدؓنے ان الفاظ میں قسم کھائی۔’’بنی تغلب پر اس طرح جھپٹوں گا کہ پھر کبھی وہ اسلام کے خلاف اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے مجاہدین سے کہا کہ اتنی تیز چلو کہ صحرا کی ہوائیں پیچھے رہ جائیں ،پیادے گھوڑوں سے آگے نکل جائیں۔یہ ایک امتحان ہے جوبڑا ہی سخت ہے۔یہ ایک دوڑ تھی آتش پرستوں اور حق پرستوں کی۔آتش پرستوں کو اپنے ہی علاقے میں پہنچنا تھا اور یہ مسافت کچھ بھی نہیں تھی۔حق پرست بڑی دور سے چلے تھے۔ان کے سامنے سینکڑوں میلوں کی مسافت ہی نہیں تھی ،بڑا ظالم صحرا تھا۔میل ہا میل کی وسعت میں صحرائی ٹیلے تھے اور باقی سب ریت کا سمندر تھا۔سب سے بڑا مسئلہ پانی کا اور اس سے بڑا مسئلہ رفتار کا تھا جو کم نہیں کی جا سکتی تھی۔نا ممکن کو ممکن کر دکھانا تھا۔چاند اور ستاروں نے انہیں چلتے دیکھا۔سورج نے انہیں چلتے دیکھا۔صحرا کی آندھی بھی انہیں نہ روک سکی۔آندھی،سورج ،پیاس اور بھوک جسموں کو معذور کیا کرتی ہے۔وہ جو تپتے صحراؤں میں پیاس سے مر جاتے ہیں وہ جسم ہوتے ہیں،اور وہ جو خالدؓکی قیادت میں دومۃ الجندل سے چلے تھے وہ اپنے جسموں سے دستبردار ہو گئے۔ان کی قوت ارادی کا اور قوت ایمانی کا کرشمہ یہ تھا کہ انہوں نے جسمانی ضروریات سے نگاہیں پھیر لیں اور روحانی قوتوں کو بیدار کر لیا تھا۔ان کی زبان پر اﷲکا نام تھا۔دلوں میں ایمان اور یقین محکم تھا۔اپنی ہی آواز ان پر وجد طاری کر رہی تھی۔جنگی ترانے گانے والے لشکر کے وسط میں اونٹوں پر سوار تھے۔ان کی آوا زآگے بھی اور پیچھے بھی جاتی تھی۔لشکر کے قدم دفوں اور نفیریوں کیتال پر اٹھتے تھے اور یہ تال بڑی تیز تھی۔کچھ فاصلہ طے کرکے ترانے اور دف خاموش ہو جاتے اور تمام لشکر کلمہ طیبہ کا ورد بلند آواز میں شروع کر دیتا۔ہزار ہا حق پرستوں کی آواز ایک ہو جاتی،پھر یہ آواز ایک گونج بن جاتی اور یوں لگتا جیسے صحرا اور صحرائی ٹیلوں پر وجد طاری ہو گیا ہو۔اسلام کے شیدائیوں کا لشکر اپنی ہی آواز سے مسحور ہوتا چلا جا رہا تھا۔
بہمن جاذویہ نے اپنے تیار کیے ہوئے لشکر کو آخری بار دیکھا،اور اسےدو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو حُصید کی طرف اوردوسرے کو خنافس کی طر ف روانہ کر دیا۔اب اس نے کمان نئے سالاروں کو دے دی تھی۔حُصید والے حصے کا سالار روزبہ تھااور خنافس والے حصے کا زرمہر۔ان کیلئے حکم تھا کہ اپنے اپنے مقام پر جا کر خیمہ زن ہو جائیں اور بنی تغلب اور دوسرے عیسائی قبیلوں کے لشکر کا انتظار کریں ۔قعقاع کے جاسوس نے صحیح اطلاع دی تھی کہ مدائن کے لشکر حُصید اور خنافس کو اجتماع گاہ بنائیں گے اور اگلی کارروائی یہیں سے کریں گے۔
عیسائیوں کا لشکر ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ایرانیوں کی طرح عیسائی بھی دو حصوں میں تیار ہو رہے تھے۔ایک کا سردار ہذیل بن عمران تھا اور دوسرے کا ربیعہ بن بجیر۔یہ لشکر حُصید اور خنافس سے کچھ دور دو مقامات ثنٰی اور ذُمیل پر جمع ہو رہے تھے۔مدائن کے لشکر کے دو حصوں اور عیسائیوں کے دو حصوں کو یکجا ہونا تھا۔یہ بہت بڑی جنگی طاقت تھی،مسلمانوں کی تعداد ہر جنگ میں دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑی رہی ہے لیکن اب مسلمان آٹے میں نمک کے برابر لگتے تھے۔اسلام کے فدائیوں کا سامنا اتنے بڑے لشکر سے کبھی نہیں ہوا تھا۔ان چاروں خیمہ گاہوں میں رات کو سپاہی اس طرح ناچتے اور گاتے تھے جیسے انہوں نے مسلمانوں کو بڑی بُری شکست دے دی ہو۔انہیں اپنی فتح صاف نظر آرہی تھی۔حالات ان کے حق میں تھے ،نفری ان کی بے پناہ تھی، ہتھیار ان کے بہتر تھے۔گھوڑوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔انعام و اکرام جو انہیں پیش کیے گئے تھے پہلے کبھی نہیں کیے گئے تھے۔مالِ غنیمت کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا کہ سب ان کا ہوگا،ان سے کچھ نہیں لیا جائے گا۔ان میں صرف ان پرانے سپاہیوں پر سنجیدگی سی چھائی ہوئی تھی جو مسلمانوں کے ہاتھ دیکھ چکے تھے۔وہ جب کوئی سنجیدہ بات کرتے تھے تو نوجوان سپاہی ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ایسی ایک اور رات فارس کے لشکر نے گاتے بجاتے اور پیتے پلاتے گذاردی۔صبح ابھی سورج نہیں نکلا تھا، اور حُصیدکی خیمہ گاہ میں مدائن کے ایک لشکر کا ایک حصہ سویا ہوا تھا۔انہیں جاگنے کی کوئی جلدی نہیں تھی،انہیں معلوم تھا کہ مسلمان قلعوں میں ہیں اور تعداد میں اتنے تھوڑے کہ وہ باہر آنے کی جرات نہیں کریں گے۔انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے کچھ دور مسلمانوں نے آکر جو ڈیرے ڈالے تھے وہ واپس چلے گئے ہیں۔مسلمان ایک شام پہلے وہاں سے آگئے تھے۔
آتش پرستوں کی خیمہ گاہ کے سنتری جاگ رہے تھے یا چند ایک وہ لوگ بیدار تھے جو گھوڑوں کے آگے چارہ ڈال رہے تھے۔پہلے سنتریوں نے واویلا بپا کیا پھر گھوڑوں کو چارہ وغیرہ ڈالنے والے چلّانے لگے۔ ’’ہوشیار……خبردار……مدینہ کی فوج آگئی ہے‘‘خیمہ گاہ میں ہڑبونگ مچ گئی۔سپاہی ہتھیاروں کی طرف لپکے۔سوار اپنے گھوڑوں کی طرف دوڑے لیکن مسلمان صحرائی آندھی کی مانند آرہے تھے۔ان کی تعداد آتش پرستوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی تھی لیکن یہ غیر متوقع تھا کہ ہ حملہ کریں گے ۔مسلمانوں کی تعداد صرف پانچ ہزار تھی۔ ان کا سالار قعقاع بن عمرو تھا۔گذشتہ شام خالدؓ اپنے لشکر سمیت پہنچ گئے تھے۔انہوں نے آرام کرنے کے بجائے صورتِ حال معلوم کی۔انہوں نے شام کو ان مختصر سے دستوں کو حُصید اور خنافس سے واپس بلالیا تھا۔اس سے آتش پرستوں کے حوصلے اور بڑھ گئے۔وہ یہ سمجھے کہ مسلمان ان کے اتنے بڑے لشکر سے مرعوب ہوکربھاگ گئے ہیں۔خالدؓنے دوسرا اقدام یہ کیا کہ پانچ ہزار نفری ایک اور سالار ابو لیلیٰ کو دی اور اسے مدائن کے اس لشکر پر حملہ کرنے کو روانہ کیا جو خنافس کے مقام پر خیمہ زن تھا۔
’’تم پراﷲکی رحمت ہو میرے دوستو!‘‘خالدؓنےان دونوں سالاروں سے کہا۔’’تم دونوں صبح طلوع ہوتے ہی بیک وقت پنے اپنے ہدف پر حملہ کرو گے۔خنافس حُصید کی نسبت دور ہے۔ابو لیلیٰ تجھے تیز چلناپڑے گا۔کیا تم دونوں سمجھتے ہو کہ دونوں لشکروں پر ایک یہ وقت کیوں حملہ کرناہے؟‘‘’اس لیے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کو نہ جا سکیں۔‘‘قعقاع بن عمرو نے جواب دیا۔’’ابنِ ولید!تیری اس چال کو ہم ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘‘’’فتح اور شکست اﷲکے اختیار میں ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارے ساتھ صرف پانچ پانچ ہزار سوار اور پیادے ہیں ۔میں دشمن کی تعداد کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ یہ لڑائی نہیں ہوگی۔یہ چھاپہ ہوگا۔اتنے بڑے لشکر پر اتنے کم آدمیوں کا حملہ چھاپہ ہی ہوتا ہے……وقت بہت کم ہے میرے رفیقو!جاؤ،میں تمہیں اﷲکے سپرد کرتا ہوں۔‘‘خالدؓخود عین التمر میں اس خیال سے تیاری کی حالت میں رہے کہ عیسائی قبیلے جو ثنّی اور ذمیل میں اکٹھے ہو رہے تھے وہ فارس کے لشکر کے ساتھ جاملنے کو چلیں تو انہیں وہیں اُلجھا لیا جائے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ خالدؓ کی جنگی ذہانت کا کمال تھا کہ انہوں نے دشمن کی اس صورتِحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس کا لشکر ابھی چار حصوں میں بٹا ہوا چار مختلف مقامات پر تھا۔ان چار حصوں کو یکجا ہونا تھا۔خالدؓنے ایسی چال چلی کہ چاروں حصے الگ الگ رہیں اور ایک دوسرے کی مدد کو نہ پہنچ سکیں اور ہ ایک کو الگ الگ شکست دی جائے۔یورپی مؤرخوں نے لکھاہے کہ خالدؓکا یہ حکم تھا۔’’دشمن کو تباہ کرو۔‘‘ان مؤرخوں نے اس حکم کا مطلب یہ لیا ہے کہ جنگی قیدی اکٹھے نہ کیے جائیں ،دشمن کا صفایا کردو۔خالدؓ اتنے طاقتور دشمن کی طاقت کو ختم کرناچاہتے تھے لیکن دیکھنا یہ تھا کہ خالدؓاتنی تھوڑی اور تھکی ہوئی نفری سے تنے طاقت ور دشمن کو ختم کر سکتے تھے؟سالار قعقاع بن عمروتو وقت پر اپنے ہدف پر پہنچ گئے۔دشمن کیلئے ان کا حملہ غیر متوقع تھا۔حُصید کی خیمہ گاہ میں ہڑ بونگ مچ گئی۔مسلمان بند توڑ کر آنے والے سیلاب کی مانند آرہے تھے۔پانچ ہزار نفری کو سیلاب نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن ان پانچ ہزار کی تندی اور تیزی سیلاب سے کم نہ تھی۔
آتش پرستوں کا سالار رُوزبہ اس صورتِ حال سے گھبراگیا۔اس نے ایک قاصد کو اپنے اس لشکر کے سالار زرمہر کی طرف جو خنافس میں خیمہ زن تھا، اس پیغام کے ساتھ دوڑا دیا کہ مسلمانوں نے اچانک حملہ کردیا ہے اور صورتِ حال مخدوش ہے۔قاصد بہت تیز وہاں پہنچا۔فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔سالار زرمہر اپنے ساتھی روزبہ کے اس پیغام پر ہنس پڑا۔اس نے کہا کہ روزبہ کا دماغ چل گیا ہے،مسلمانوں میں اتنی جرات کہاں کہ باہر آکر حملہ کریں۔قاصد نے اسے بتایا کہ وہ کیا دیکھ آیاہے۔زرمہر اپنے لشکر کو وہاں سے کہیں بھی نہیں لے جا سکتا تھا کیونکہ اس کے سالارِ اعلیٰ بہمن جاذویہ کا حکم تھا کہ کسی اور جگہ کچھ بھی ہوتا رہے، کوئی لشکر بغیر اجازت اِدھر اُدھرنہیں ہوگا۔لیکن قاصد نے زرمہر کو پریشان کر دیا تھا۔اس نے بہتر سمجھا کہ لشکر کو خنافس رہنے دے اور خود حُصیدجاکر دیکھے کہ معاملہ کیا ہے۔
وہ جب حُصید پہنچا تو اپنے ساتھی سالار روزبہ کو مشکل میں پھنسا ہوا پایا۔قعقاع کا بڑا زور دار ہلّہ تھا۔اس نے دشمن کو بے خبری میں جا لیا تھا۔دشمن کو یہ سہولت حاصل تھی کہ اس کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔اس افراط کے بل بوتے پر آدھا لشکر بڑی عجلت میں لڑنے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔زرمہر بھی آگیا تھا۔اس نے روزبہ کا ساتھ دیا۔توقع یہی تھی کہ آتش پرست مسلمانوں پر چھاجائیں گے۔قعقاع خالدؓ والی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے،وہ روزبہ کو للکار رہے تھے۔روزبہ قلب میں تھا۔قعقاع کی بار بار للکار پر وہ سامنے آگیا۔قعقاع اپنے محافظوں کے نرغے میں اس کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔وہ اپنے محافظوں کے حصار سے نکل آیا۔اِدھر قعقاع اپنے محافظوں کو چھوڑ کر آگے ہوئے۔دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیے۔وار روکے، پینترے بدلے، اور زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ قعقاع کی تلوار روزبہ کے پہلو میں بغل سے ذرا نیچے اُتر گئی۔قعقاع نے تلوار کھینچ لی اور گھوڑے کو روک کر پیچھے کو موڑا۔روزبہ گھوڑے پر سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔قعقاع نے پیچھے سے آکر تلوار اس کی پیٹھ میں خنجر کی طرح مار دی جو روزبہ کے جسم میں کئی انچ اُتر گئی۔روزبہ گھوڑے سے اس طرح گرا کہ اس کا ایک پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔قعقاع نے دیکھ لیا اور گھوڑے کو روزبہ کے گھوڑے کے قریب کرکے گھوڑے کو تلوار کی نوک چبھوئی۔گھوڑا سر پٹ دوڑ پڑااور روزبہ کو زمین پر گھسیٹتا اپنے ساتھ ہی لے گیا۔زرمہر قریب ہی تھا،کسی بھی مؤرخ نے اس مسلمان کماندار کا نام نہیں لکھا جس نے زرمہر کو دیکھ لیا اوراسے للکارا۔زرمہر مقابلے کیلئے سامنے آیا اور اس کا بھی وہی انجام ہواجو اس کے ساتھی روزبہ کا ہو چکا تھا۔فرق صرف یہ تھا کہ اسے اس کے گھوڑے نے گھسیٹا نہیں تھا۔وہ خون سے لت پت اپنے گھوڑے سے گرا اور مر گیا۔مدائن کے اس لشکر میں ایک تو وہ کماندار اور سپاہی تھے جو پہلے بھی مسلمانوں کے ہاتھوں پٹ چکے تھے اور انہیں بے جگری سے لڑتے دیکھ چکے تھے۔انہیں اپنی شکست کا یقین تھا۔ان کے حوصلے اور جذبے میں ذرا سی بھی جان نہیں تھی۔وہ کٹ رہے تھے یا لڑائی سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔جاذویہ نے جن نوجوانوں کو بھرتی کیا تھا وہ تیغ زنی اور تیر اندازی وغیرہ میں تو طاق تھے اور ان میں جوش و خروش بھی تھا لیکن انہوں نے میدانِ جنگ پہلی بار دیکھا تھا اور مسلمانوں کو لڑتا بھی انہوں نے پہلی بار دیکھا تھا۔انہوں نے تڑپتے ہوئے اور پیاس سے مرتے ہوئے زخمی کبھی نہیں دیکھے تھے۔زخم خوردہ گھوڑوں کو بے لگام دوڑتے اور انسانوں کو کچلتے بھی انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
اس رات بھی مضیح کی خیمہ گاہ میں دشمن کا لشکر گہری نیند سو رہا تھا جس رات خالدؓ کی فوج کے تینوں حصے بخیرو خوبی سکیم کے عین مطابق مضیح کے قریب مکمل خاموشی سے پہنچ گئے تھے۔بعض مؤرخوں نے اسے محض ایک معجزہ کہا ہے اور کچھ اسے خالدؓ کی دی ہوئی ٹریننگ اور ان کے پیدا کیے ہوئے ڈسپلن کا کرشمہ کہتے ہیں۔
آدھی رات سے ذرا بعد دشمن پر قہر ٹوٹ پڑا۔لشکر سویا ہوا تھا۔مجاہدین نے جگہ جگہ آگ لگا دی تھی۔جس کی روشنی میں اپنے پرائے کی پہچان آسان ہو گئی تھی۔مدائن کے اور عیسائی قبیلوں کے اس لشکر کو سنبھلنے اور تیار ہونے کی مہلت ہی نہ ملی۔مسلمان نعرے لگا رہے تھے۔زخمیوں کی چیخ و پکار اس دہشت میں اضافہ کر رہی تھی،جو دشمن کے لشکر پر طاری ہو گئی تھی۔’’مدینہ کے مجاہدو!‘‘خالدؓ کے حکم سے یہ للکاربڑی بلند تھی۔’’کسی کو زندہ نہ رہنے دو۔دشمن کا صفایا کردو۔‘‘دشمن کے گھوڑے جہاں بندھے تھے، وہیں بندھے رہے۔ان کے سوار ان تک پہنچنے سے پہلے ہی کٹ رہے تھے۔مسلمانوں نے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھایا تھا۔اسی اندھیرے سے دشمن نے بھی فائدہ اٹھایا ۔کئی آتش پرست اور عیسائی زندہ نکل گئے۔ان کی اجتماع گاہ ڈیڑھ دو میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔حملہ تین طرف سے کیا گیا تھا۔صبح کا اجالا صاف ہوا تو دشمن کی اتنی وسیع و عریض خیمہ گاہ میں کوئی بھی لشکری زندہ نہیں تھا۔زندہ وہی رہے تھے جو مسلمانوں کے اس پھندے سے نکل گئے تھے۔منظر بڑا ہی ہیبت ناک تھا۔جدھر نظر جاتی تھی سوائے لاشوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔لاشوں کے اوپر لاشیں پڑی تھیں۔زخمی تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو رہے تھے ۔فضاء خون اور موت کی بُو سے بوجھل تھی۔سالاروں کے خیمے دیکھے گئے۔ان میں سامان وغیرہ پڑا تھا۔شراب کی صراحیاں رکھی تھیں۔ہر چیز ایسے پڑی تھی جیسے ان شاہانہ خیموں کے مکین ابھی ابھی نکل کے گئے ہیں اور ابھی واپس آجائیں گے۔کوئی سالار نظر نہ آیا۔وہ زندہ نکل گئے تھے۔سالار مہبوذان بھی نکل گیا تھا اور عیسائیوں کا سردار اور سالار ھذیل بن عمران بھی زندہ نکل گیا تھا۔
جاسوسوں کی اطلاعوں کے مطابق آتش پرستوں اور عیسائیوں کے سردار ذُومیل چلے گئے تھے جہاں عیسائی قبائل کا دوسرا حصہ خیمہ زن تھا۔وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ابھی تیاری ہی کر رہا تھا۔وہ جس لشکر کا حصہ تھا،اس کے تین حصے تباہ ہو چکے تھے ۔ذومیل والے اس لشکر کا سردار ربیعہ بن بجیر تھا۔مالِ غنیمت میں مسلمانوں کو جو سب سے زیادہ قیمتی اور کارآمد چیز ملی وہ ہزاروں گھوڑے تھے جو انہیں زینوں سمیت مل گئے تھے۔اس سے آگے ثنّی اور ذومیل دو مقامات تھے جہاں بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے عیسائی مسلمانوں کے خلاف خیمہ زن تھے ۔وہ بھی مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے ارادے سے گھروں سے نکلے تھے۔عیسائیوں کے سردار عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بن عقہ بھی کہیں آگے تھا۔وہ اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینے کیلئے عیسائی لشکر کے ساتھ آیا تھا۔’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے مضیح کی معجزہ نما فتح کے بعد اپنے سالاروں سے کہا۔’’میں دومۃ الجندل سے قسم کھا کر چلا تھا کہ بنی تغلب پر اس طرح جھپٹوں گا کہ پھر وہ کبھی اسلام کے خلاف اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے……بنی تغلب ابھی آگے ہیں،ان پر جھپٹنے کی تیاری کرو۔‘‘مضیح کی بستی پر بھی مسلمانوں نے چھاپہ مارا تھا۔یہ عیسائیوں کی بستی تھی۔
وہاں دو ایسے آدمیوں کو مسلمانوں نے قتل کر دیا جو مسلمان تھے۔انہوں نے کسی وقت مدینہ میں آکر اسلام قبول کیا اور واپس اپنی بستی میں چلے گئے تھے۔انہیں مجاہدین نے انجانے میں عیسائی سمجھ کر مارڈالا۔خالدؓ نے اتنی بڑی فتح کی خبر خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکر صدیقؓ کو مدینہ بھیجی اور پیغام میں یہ اطلاع بھی دے دی کہ مجاہدین کے ہاتھوں عیسائیوں کی ایک بستی میں دو مسلما ن بھی غلطی سے مارے گئے ہیں،خلیفۃ المسلمینؓ نے فتح کی خبر کے ساتھ ان دو مسلمانوں کے قتل کی خبر بھی سب کو سنا دی۔’’خالدؓ کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’مسلمان کا خون معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘’’جو لوگ کفار کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس صورتِ حال میں جو وہاں پیدا ہو گئی تھی،مارے جا سکتے ہیں۔‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے کہا۔’’اس قتل کا ذمہ دار خالدہے۔‘‘عمرؓ نے اصرار کیا۔’’اسے سزا ملنی چاہیے۔‘‘’’خلافتِ مدینہ کی طرف سے دونوں مقتولین کے پسماندگان کو خون بہا ادا کیا جائے گا۔‘‘ابو بکر صدیقؓ نے فیصلہ سنایا۔’’اور یہ خون بہا اسی قاصدکے ساتھ بھیج دیا جائے جو فتح کی خبر لایا ہے۔‘‘عمرؓ نے پھر سزا کی بات کی۔’’عمر!‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے گرج کر کہا۔’’خالدواپس نہیں آئے گا،میں اس شمشیر کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اﷲنے کفار کے خلاف بے نیام کیا ہے۔‘‘)بحوالہ طبری، ابنِ ہشام، ابو سعید، حسین ہیکل(مضیح کے میدانِ جنگ میں ہڈیاں اور کھوپڑیاں رہ گئی تھیں۔جو دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔گدّھ، گیدڑ ، بھیڑیئے ،صحرائی لومڑیاں،گرگٹ،سانپ، اور حشرات الارض ان ہڈیوں سے گوشت کھا گئے تھے۔یہ آتش پرستوں کی اس جنگی قوت کی ہڈیاں تھیں،جس نے عرب عراق اور شام پر دہشت طاری کر رکھی تھی۔ان میں ان عیسائیوں کی ہڈیاں بھی شامل تھیں جو فارس کی جنگی قوت میں اضافہ کرنے آئے تھے۔یہ عیسائی اپنے سرداروں کے خون کا بدلہ لینے آئے تھے ۔اسے انہوں نے مذہبی جنگ بھی سمجھا تھا،وہ اسلام کے راستے میں حائل ہونے آئے تھے۔ان ہڈیوں میں ان ہاتھوں کی ہڈیاں بھی تھیں جنہوں نے حق پرستوں کو کاٹنے کیلئے نیاموں سے تلواریں نکالی تھیں۔ان ہاتھوں میں برچھیاں بھی تھیں۔ان ہاتھوں میں گھوڑوں کی باگیں بھی تھیں۔وہ اس خوش فہمی میں مبتلاہو کر آئے تھے کہ ارض و سما کی طاقت انہی کے ہاتھوں میں ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ جب وہ گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں تو ان کے نیچے زمین کانپتی ہے مگر اب وہ زمین جو کبھی کسی انسان اور اس کے گھوڑے کے بوجھ اور خوف سے نہیں کانپی،ان کے نیچے سے نکل گئی تھی،اور زمین نے ان کے مُردہ جسموں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔زمین اور حق پرستوں کے بوجھ اور رعب سے بھی نہیں کانپتی تھی۔اﷲکا فرمان قرآن کی صورت میں مکمل ہو چکا تھا اور اﷲکو وحدہٗ لا شریک ماننے والے اﷲکے اس فرمان سے آگاہ تھے کہ گردن کو کتنا ہی اکڑا لے، سر کو جتنا اونچا کرلے ، تو پہاڑوں سے اونچا نہیں ہو سکے گا، اور تو کتنے ہی رعب اور دبدبے سے کیوں نہ چلے، زمیں کو تُو نہیں پھاڑ سکے گا۔حق پرستوں کو اﷲ کا یہ وعدہ بھی یاد تھا کہ تم میں دس ایمان والے ہوئے تو ایک سو کفار پر غالب آئیں گے۔یہ ایمان کی ہی قوت تھی کہ دس ایمان والے ایک سو پر اور بیس دوسو پر غالب آگئے تھے۔
’’سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید کہے نہ کہے، کیا تم خود نہیں جانتے؟‘‘مسلمانوں کے سالار ابو لیلیٰ اپنے کمانداروں اور چند ایک سپاہیوں کو جو ان کےاردگرد اکٹھے ہو گئے تھے ،کہہ رہے تھے۔’’اگر تم سے ایمان لے لیا جائے تو تمہارے پاس گوشت اور ہڈیوں کے جسم رہ جائیں گے……کیا انجام ہو گا ان جسموں کا……؟وہ دیکھو۔وہ کھوپڑیاں دیکھو۔ان کے اوپر کا گوشت کھایا جا چکا ہے۔ان کے اندر مغز موجود ہیں مگر یہ مغز اب سوچنے کے قابل نہیں رہے۔ان میں کیڑے داخل ہو چکے ہیں اور ان کے مغز کیڑوں کی خوراک بن رہے ہیں۔‘‘وہ ذرا اونچی جگہ کھڑے تھے ۔سب نے اس وسیع میدان کی طرف دیکھاجہاں کسریٰ کی فوج کا اور عیسائیوں کے لشکر کا کیمپ تھا۔تین راتیں پہلے یہاں گہما گہمی تھی۔سپاہی ناچ رہے تھے،اس کے سالار اور سردار خیموں میں شراب پی رہے تھے۔مسلمانوں کا شب خون ان پر قیامت بن کر ٹوٹا تھا۔’’……اور اب دیکھو!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے اپنے ماتحتوں اور سپاہیوں سے کہہ رہے تھے۔’’یہ ان کا انجام ہے جنہوں نے اﷲکو نہ مانا،محمدﷺ کو اﷲکا رسول نہ مانا،انہوں نے اپنے خدا بنائے ہوئے تھے۔ان کے سردار خداؤں کے ایلچی بنے ہوئے تھے۔فارس کے بادشاہ اﷲکے بندوں کو اپنے بندے سجھتے تھے۔سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید نے کہا ہے کہ مجاہدین کوبتاؤکہ تمہیں اﷲدیکھ رہا ہے،اور وہی ہے اجر دینے والا، اور اسی نے تمہارے جسموں میں اتنی طاقت بھر دی ہے کہ آرام کا ایک پل نہیں ملتا ۔تمہارے جسم لڑ رہے ہوتے ہیں یا کوچ کر رہے ہوتے ہیں اور اگلے روز اگلی لڑائی کیلئے تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ طاقت جسمانی نہیں، یہ روح کی طاقت ہے اور روح کو ایمان تقویت دیتا ہے۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ سب سے کہہ دو کہ تم زمین کی ملکیت پر لڑنے نہیں آئے، تم کفر پر غالب آنے کیلئے لڑ رہے ہو۔‘‘سالار زبرقان اپنے دستوں کے کمانداروں سے کہہ رہے تھے۔’’ابنِ ولید نے کہاہے کہ ان جسموں کو ایمان سے اور پاک عزم سے خالی کردوتو ابھی گر پڑو گے اور جسم روحوں سے خالی ہو جائیں گے۔جسم تو دو لڑائیاں لڑ کرہی ختم ہوگئے تھے، اب تمہاری روحیں لڑ رہی ہیں۔‘‘سالار عدی بن حاتم بھی اپنے دستوں کو سالارِ اعلیٰ کا یہی پیغام دے رہے تھے۔سالار عاصم بن عمرو بھی جو سالار قعقاع بن عمرو کے بڑ ے بھائی تھے۔اپنے مجاہدین کے ساتھ یہی باتیں کر رہے تھے۔خالدؓ نے اپنے تمام سالاروں سے کہا تھا کہ مجاہدین کے جسم لڑنے کے قابل نہیں رہے اور یہ عزم کی پختگی کا کرشمہ ہے کہ شل اور چور جسموں سے بھی ہر میدان میں یہ تازہ دم ہو جاتے ہیں، خالدؓنے سالاروں سے کہا تھا کہ ان کے حوصلے اور جذبے کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
’دشمن کے پاؤں اکھڑے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓنے کہا تھا۔اسے سنبھلنے کی مہلت مل گئی تو یہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے……اور میرے رفیقو!جس طرح اﷲہمیں فتح پر فتح عطا کرتا چلا جا رہا ہے، یہ فتوحات بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ہمارا یہ لشکر کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ ہمیں شکست ہو ہی نہیں سکتی ۔انہیں بتاؤ کہ انہیں دشمن پر ہر میدان مین غالب کرنے والا صرف اﷲہے۔اس کی ذاتِ باری کو دل سے نہ نکالیں اور تکبر سے بچیں۔‘‘مدینہ کے مجاہدین کا حوصلہ تو بھاگتے دشمن کو، میدانِ جنگ میں اس کے زخمیوں کو تڑپتا اور لاشوں کو سرد ہوتا دیکھ کر تروتازہ ہو جاتا تھا لیکن وہ آخر انسان تھے اور انسان کوتاہی کا مرتکب بھی ہو سکتاہے۔اپنا سر غرور اور تکبر سے اونچا بھی کر سکتا ہے۔خالد اس خطرے کو محسوس کر رہے تھے انہوں نے کفار پر اپنی دہشت طاری کر کے اسے نفسیاتی لحاظ سے بہت کمزور کر دیا تھا لیکن ان مؤرخین کے مطابق جو جنگی امور کو سمجھتے تھے ،خالدؓکو یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ان کی سپاہ اس مقام تک نہ پہنچ جائے جہاں یکے بعد دیگرے کئی فتوحات کے بعد دشمن کے دباؤ سے تھوڑا سا بھی پیچھے ہٹنا پڑے تو سپاہ بالکل ہی پسپا ہو جائے۔اس خطرے نے انہیں پریشان سا کر دیا تھا۔انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اپنے لشکر کو آرام کیلئے کچھ وقت دے دیں ، وہ ایسی جنگی چالیں سوچ رہے تھے جن سے دشمن کو بے خبری میں دبوچا جا سکے۔ایک چال خالدؓ مضیح میں آزما چکے تھے ۔یہ کامیاب رہی تھی۔یہ تھا شب خون۔پورے لشکر نے دشمن کی خیمہ گاہ پر حملہ کر دیا تھا لیکن ضروری نہیں تھا کہ یہ چال ہر بار کامیاب ہوتی۔کیونکہ پورے لشکر کو خاموشی سے دشمن کی خیمہ گاہ تک پہنچانا آسان کام نہیں تھا۔اس وقت دشمن کا لشکر دو مقامات پر جمع تھا،ایک ذومیل تھا، اور دوسرا تھا ثنّی۔انہی دو مقامات کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ آتش پرستوں اور عیسائیوں کے لشکر جمع ہیں۔اب حُصید کا بھاگا ہوا لشکر بھی وہیں جا پہنچا تھا اور مضیح سے دشمن کی جو نفری بچ نکلی تھی، وہ بھی انہی دو مقامات پر چلی گئی تھی۔اس شکست خوردہ نفری نے ثنّی اور ذومیل میں جاکر دہشت پھیلا دی۔وہاں سردار اور سالار بھی تھے،انہیں بہت مشکل پیش آئی۔جذبے کے لحاظ سے لشکر لڑنے کے قابل نہیں تھا۔جسمانی لحاظ سے لشکر تازہ دم تھا۔ثنّی میں ان کی عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی تھے۔عورتوں نے مردوں کو بزدلی اور بے غیرتی کے طعنے دیئے اور انہیں لڑنے کیلئے تیار کیا۔ان دو مقامات پر جنگ کی تیاریوں کا منظر جنگ جیسا ہی تھا۔سوار اور پیادے تیغ زنی کی مشق صبح سے شام تک کرنے لگے۔سوار دستوں کو حملہ کرنے اور حملہ روکنے کی مشقیں کرائی جانے لگیں۔اس وقت تک کسریٰ کے سالار اور ان کے اتحادی عیسائیوں کے سردار خالدؓ کی جنگی چالیں سمجھ چکے تھے۔
’’لیکن چالیں سمجھنے سے کیا ہوتا ہے!‘‘عیسائیوں کے ایک قبیلے کا سردار ربیعہ بن بجیر کہہ رہا تھا۔’’دل کو ذرا مضبوط رکھیں تو ان تھوڑے سے مسلمانوں کو کچلنا کوئی مشکل نہیں۔‘‘اس کے پاس عیسائیوں کے بڑے سردار عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بن عقہ بیٹھا ہوا تھا۔عقہ بن ابی عقہ سرداروں میں سرکردہ سردار تھا۔اس نے للکار کر کہا تھاکہ وہ خالدؓکا سر کاٹ کر لائے گا۔مگر عین التمر کے معرکے میں وہ پکڑا گیا،اس سے پہلے خالدؓ نے قسم کھائی تھی کہ وہ عقہ کو زندہ پکڑیں گے ۔
خالدؓکی قسم پوری ہو گئی ۔انہوں نے عقہ کا سر اپنی تلوار سے کاٹا تھا۔بلال عقہ کا جوان بیٹا تھا۔جو اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے آیا تھا۔’’ابنِ بجیر!‘‘اس نے اپنے سردار ربیعہ کی بات سن کر کہا۔’’میں اپنے باپ کے سر کے بدلے خالد کا سر لینے آیا ہوں۔‘‘’’ایک نہیں ہم پر ہزاروں سروں کا قرض چڑھ گیا ہے۔‘‘ربیعہ بن بجیرنے کہا۔وہ کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر بلال بن عقہ چلا گیا۔رات کا وقت تھا۔رات سرد اور تاریک تھی۔مہینہ نومبر کا تھا اور اسی شام رمضان کا چاند نظر آیا تھا۔بلال باہر جا کر رک گیا۔وہ اپنے لشکر کے خیموں سے کچھ دور تھا۔اسے ایک طرف سے اپنی طرف کوئی آتا نظر آیا۔نیا چاند کبھی کا ڈوب چکا تھا۔تاریک رات میں چلتے پھرتے انسان متحرک سائے لگتے تھے۔سایہ جو بلال کی طرف آرہا تھا ،قریب آیا تو بلال نے دیکھا کہ وہ کوئی آدمی نہیں عورت ہے۔’’ابنِ عقہ!‘‘عورت نے کہا۔’’میں صابحہ ہوں……صابحہ بنتِ ربیعہ بن بجیر…… ذرا رُک سکتے ہو میری خاطر؟‘‘’’اوہ!ربیعہ بن بجیر کی بیٹی!‘‘بلال بن عقہ نے مسرور سے لہجے میں کہا۔’’کیا میں ابھی ابھی تیرے گھر سے اٹھ کر نہیں آیا؟‘‘’’لیکن بات جو کہنی ہے وہ میں باپ کے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’کیا تو نے مجھے اپنے قابل سمجھا ہے؟‘‘بلا ل نے کہا۔’’بات جو تو کہنا چاہتی ہے وہ پہلے ہی میرے دل میں ہے۔‘‘
’’غلط نہ سمجھ ابنِ عقہ!‘‘صابحہ نے کہا۔’’پہلے میری بات سن لے!……مجھے بتا کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت لڑکی تو نے کبھی دیکھی ہے؟‘‘
’’نہیں بنتِ ربیعہ!‘‘’’کبھی مدائن گیا ہے تو؟‘‘صابحہ نے کہا۔’’گیا ہوں؟‘‘’’سناہے فارس کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’کیا وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں؟‘‘’’کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ تو وہ بات کہہ دے جو تیرے دل میں ہے؟‘‘بلال نے پوچھا اور کہا۔’’میں نے تجھ سے زیادہ کسی لڑکی کو کبھی حسین نہیں سمجھا۔میں تھجے تیرے باپ سے مانگنا چاہتا تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ تیرے دل میں پہلے ہی میری محبت پیدا ہو چکی ہے۔‘‘’’محبت تو اب بھی پیدا نہیں ہوئی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’میں کسی اور کو چاہتی ہوں۔آج سے نہیں۔اس دن سے چاہتی ہوں اسے جس دن میں نے محسوس کیا تھا کہ میں جوان ہونے لگی ہوں، اور جوانی ایک ساتھی کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘’’پھر مجھے کیا کہنے آئی ہے تو؟‘‘’’یہ کہ میں نے اسے اپنے قابل سمجھناچھوڑ دیا ہے۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’مرد کی طاقت عورت کے جسم کیلئے ہی تو نہیں ہوتی۔وہ طاقتور اور خوبصورت آدمی ہے۔وہ جب گھوڑے پر بیٹھتا ہے تو مجھے اور زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔‘‘’پھر کیا ہوا اُسے؟‘‘
’’وہ بزدل نکلا۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’وہ لڑائیوں میں سے بھاگ کر آیا ہے۔دونوں بار اسے خراش تک نہیں آئی تھی۔مجھے شک ہے کہ وہ لڑے بغیر بھاگ آتا رہا ہے،وہ میرے پاس آیا تھا،میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے بھول جائے۔میں کسی بزدل کی بیوی نہیں بن سکتی۔اس نے میرے باپ کو بتایا تو باپ نے مجھے کہا کہ میں تو اس کی بیوی بننے والی ہوں۔میں نے باپ سے بھی کہہ دیا ہے کہ میں میدان سے بھاگے ہوئے کسی آدمی کی بیوی نہیں بنوں گی۔میں نے باپ سے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے اس شخص کی بیوی بنانا ہے تو میری لاش اس کے حوالے کر دو۔‘‘
’’کیا اب تم میری بہادری آزمانا چاہتی ہو؟‘‘بلال نے پوچھا۔’’ہاں!‘‘صابحہ نے کہا۔’’اور اس کا انعام دیکھ۔اتنا حسین جسم تجھے کہا ں ملے گا!‘‘’’کہیں نہیں۔‘‘بلال نے کہا۔’’لیکن میں ایک کام کا وعدہ نہیں کروں گا۔ہمارے سردار اور ہمارے قبیلوں کے جوشیلے جوان یہ اعلان کرکے مسلمانوں کے خلاف لڑنے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کے سالار خالدبن ولید کا سر کاٹ لائیں گے مگر وہ خود کٹ جاتے ہیں یا بھاگ آتے ہیں۔میں ایسا وعدہ نہیں کروں گا۔خالد کا سر کون کاٹے گا،اس تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔‘‘’’میں ایسا وعدہ نہیں لوں گی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’میں تیرے منہ سے نہیں ، دوسروں سے سننا چاہتی ہوں کہ تو نے سب سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور مسلمانوں کو شکست دینے میں تیرا ہاتھ سب سے زیادہ ہے۔میں یہ بھی وعدہ کرتی ہوں کہ تو مارا گیا تو میں کسی اور کی بیوی نہیں بنوں گی۔اپنے آپ کو ختم کر دوں گی۔‘‘
’’میں تجھے ایک بات بتا دیتا ہوں صابحہ!‘‘بلال نے کہا۔’’میں تیری خاطر میدان میں نہیں اُتر رہا۔میرے اوپر اپنے باپ کے خون کا قرض ہے۔میں نے یہ قرض چکانا ہے۔میری روح کو تسکین تب ہی ہوگی کہ میں ابنِ ولید کا سر اپنی برچھی پر لاؤں اور بنی تغلب کے بچے بچے کو دِکھاؤں۔لیکن وہ بات کیوں زبان پر لاؤں جو ہاتھ سے نہ کر سکوں۔اس تک پہنچوں گا ضرور۔راستے میں جو آئے گا اسے کاٹتا جاؤں گا۔میں نے اپنا گھوڑا تبدیل کر لیا ہے۔ہوا سے تیز ہے اور بڑا ہی طاقتور۔‘‘’’میں تیری طاقت اور تیزی اور پھرتی دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اگر ایسا ہو تو مجھے ساتھ لے چل۔مردوں کی طرح لڑوں گی لیکن اگر تو نے پیٹھ دکھائی تو میری تلوار تیری پیٹھ میں اتر جائے گی۔‘‘’’میں تجھے مالِ غنیمت میں مسلمانوں کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔‘‘بلال نے کہا۔’’اور یہ بھی سن لے صابحہ!میرا باپ عقہ بن ابی عقہ یہی عہد کرکے گیا تھا کہ وہ خالد بن ولید کو خون میں نہلا کر آئے گا۔مگر اس نے ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔معلوم نہیں مسلمانوں کو کس نے بتادیا یہ شخص ابنِ ولید کا خون بہانے کا عہد کرکے آیاتھا۔ابنِ ولید نے میرے باپ کو قیدیوں سے الگ کیا اور سب کے سامنے اپنی تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا……میں تجھے بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ بات نہ کہہ جو تو نہیں کر سکتی۔‘‘
’’اور میں تجھے ایک بات کہنا چاہتی ہوں جو تجھے اچھی نہیں لگے گی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اگر اب میرے قبیلے نے میدان ہار دیا تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دوں گی اور ان سے کہوں گی کہ میں اس آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہوں جو سب سے زیادہ بہادر ہے۔‘
’’‘’’ہم اس کوشش میں اپنی جانیں لڑا دیں گے کہ مسلمان ہماری عورتوں تک نہ پہنچ سکیں۔‘‘بلال بن عقہ نے کہا۔’’لیکن کوئی نہیں بتا سکتا کیا ہوگا۔ایک طرف تیرے دل میں مسلمانوں کی دشمنی ہے اور دوسری طرف تم اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کی باتیں کرتی ہو۔‘‘’’میں یہ باتیں اس لئے کرتی ہوں کہ میرے دل میں کچھ شک اور کچھ شبہے پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے مذہب مسلمانوں کا ہی سچا ہے۔اتنی تھوڑی تعداد میں وہ فارس کے اور ہمارے تمام قبیلوں کے لشکروں کو ہر میدان میں شکست دیتے چلے آرہے ہیں تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ انہیں کسی غیبی طاقت کی مددحاصل ہے۔اگر یسوع مسیحؑ خدا کے بیٹے ہوتے تو کیا خدااپنے بیٹے کی امت کو اس طرح ذلیل و خوار کرتا ؟مجھے بتا نے والا کوئی نہیں کہ مسلمان اسی خدا کو اﷲکہتے ہیں یا اﷲکوئی اور ہے۔‘‘’’ایسی باتیں منہ سے نہ نکالو صابحہ!‘‘بلال نے جھنجھلاکر کہا۔’’تم بہت بڑے سردار کی بیٹی ہو۔اپنے مذہب پر ایسا شک نہ کرو کہ اس کی سزا ہم سب کو ملے۔‘‘’’میں مجبور ہوں ابنِ عقہ!‘‘صابحہ نے کہا۔’’میری ذات سے کچھ آوازیں سی اٹھتی ہیں ۔کبھی خیال آتا ہے جیسے میں اپنے قبیلے میں اور اپنے گھر میں اجنبی ہوں۔ایسے لگتا ہے میں کہیں اور کی رہنے والی ہوں……میں کچھ نہیں سمجھتی بلال……میں جو کہتی ہوں وہ کرو پھر میں تمہاری ہوں۔‘‘’’ایساہی ہوگا صابحہ!‘‘بلال نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا۔’’میں اگر زندہ واپس آیا تو فاتح ہو کر آؤں گا۔اگر مارا گیا تو واپس آنے والوں سے پوچھ لیناکہ میں نے مرنے سے پہلے کتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔‘‘بلال ثنّی کی رات کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔صابحہ بنتِ ربیعہ بن بجیر وہیں کھڑی بلال کو سائے کی طرح رات کی تاریکی میں تحلیل ہوتا دیکھتی رہی۔تین یا چار راتیں ہی گزری تھیں، ثنّی کی خیمہ گاہ اور عیسائیوں کی بستیاں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں،رمضان ۱۲ ھ کا تیسرا یا چوتھا چاند کبھی کا افق میں اُتر چکا تھا۔انسانوں کا ایک سیلاب ثنّی کی طرف بڑھا آرہا تھا۔یہ مدینہ کے مجاہدین کی فوج تھی جو سیلاب کہلانے کے قابل نہیں تھی کیونکہ ان کی تعداد پندرہ یا سولہ ہزار کے درمیان تھی اور دشمن کی نفری تین چار گنا تھی۔خالدؓ نے ثنّی پر بھی مضیح والا داؤ آزمانے کا فیصلہ کیاتھا۔ انہوں نے اپنے مجاہدین سے کہا تھا کہ دشمن کو اور اپنے آپ کو بھی مہلت دینا خطرناک ہوگا،اﷲہمارے ساتھ ہے۔فتح اور شکست اسی کے ہاتھ میں ہے۔ہم اسی کی ذاتِ باری کے نام پر کفر کی آگ میں کودے ہیں۔خالدؓ نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا۔مجاہدین کے انداز میں جوش و خروش پہلے والا ہی تھا،جسموں میں البتہ وہ دم خم نہیں رہا تھا،لیکن عزم روزِ اول کی طرح زندہ و پائندہ تھا۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ پندرہ سولہ ہزار کے لشکر سے دشمن پر شب خون مارنا اس لیے خطرناک ہوتا ہے کہ خاموشی برقرار نہیں رکھی جا سکتی اور دشمن قبل از وقت بیدار ہو جاتا ہے۔اس میں دشمن کی گھات کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔خالدؓ نے ان خطروں سے نمٹنے کایہ اہتمام کر رکھاتھا کہ پہلے شب خون کی طرح اب کے بھی انہوں نے اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔سالار بھی وہی تھے جنہیں پہلے شب خون کا تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔اب جاسوسوں نے انہیں دشمن کے قیام کی جو اطلاعیں دی تھیں ان کے مطابق مدائن کی فوج اور عیسائیوں کا لشکر ایک ہی خیمہ گاہ میں نہیں تھے ۔خیمہ گاہ میں صرف مدائن کی فوج تھی اور عیسائی اپنی بستیوں میں تھے یہ بنی تغلب کی بستیاں تھیں۔جاسوسوں نے ان بستیوں کے محل وقوع بتا دیئے تھے ۔خالدؓنے اپنی فوج کے ایک حصے کی کمان سالار قعقاع کو اور دوسرے حصے کی کمان سالار ابو لیلیٰ کو دی تھی۔تیسرا حصہ اپنی کمان میں رکھا تھا۔انہوں نے قعقاع اور ابو لیلیٰ کو عیسائی قبیلے بنی تغلب کی بستیوں پر شب خون مارنا تھا جو بستیوں کی نسبت ذرا قریب تھی۔تینوں حصوں کو بیک وقت حملہ کرنا تھا۔مؤرخین نے لکھا ہے کہ خالدؓنے حکم دیاتھا کہ کسی عورت اور کسی بچے پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔کفار کو مضیح کے مقام پر مسلمانوں کے ایک شب خون کا بڑا ہی تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔انہوں نے ثنّی کی خیمہ گاہ کے اردگرد پہرے کا بڑا سخت انتظام کر رکھا تھا۔گشتی پہرے کا انتظام بھی تھا۔چار چار گھوڑ سوار خیمہ گاہ سے دور دور تک گشت کرتے تھے۔مسلمان جاسوسوں نے خالدؓ کو اس انتظام کی بھی اطلاع دے دی تھی۔خالدؓنے اس انتظام کو بیکار کرنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ثنّی سے کچھ دور خالدؓ کی فوج پہلے سے طے کیے ہوئے منصوبے کے مطابق رُک گئی۔اسے آگے کی اطلاع کے مطابق آگے بڑھنا تھا۔چند ایک شتر سوار جو مثنیٰ بن حارثہ کے آزمائے ہوئے چھاپہ مار تھے، آگے چلے گئے تھے۔وہ اونٹوں کے قافلے کی صورت میں جا رہے تھے۔وہ ثنّی کی خیمہ گاہ سے ابھی دور ہی تھے کہ انہیں کسی نے للکارا۔وہ رُک گئے اور اپنی طرف آتے ہوئے گھوڑوں کے ٹاپ سننے لگے۔چار گھوڑے ان کے پاس آرُکے۔’’کون ہو تم لوگ؟‘‘ایک گھوڑ سوار نے ان سے پوچھا۔’’مسافر ہیں۔‘‘ایک شتر سوار نے ڈرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔اور کسی بستی کا نام لے کر کہا کہ وہاں جا رہے ہیں۔شتر سوار آٹھ دس تھے، ان میں سے ایک تو گھوڑ سواروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔دوسرے شتر سوار اونٹوں کو آہستہ آہستہ حرکت دیتے رہے حتیٰ کہ چار گھوڑ سوار ان کے نرغے میں آگئے-
’’اُترو اونٹوں سے!‘‘ایک گھوڑ سوار نے بڑے رعب سے حکم دیا۔
چار شتر سوار اونٹوں سے اس طرح اُترے کہ اوپر سے ایک ایک گھوڑ سوار پر جھپٹے۔ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے جو گھوڑ سواروں کے جسموں میں اُتر گئے۔انہیں گھوڑوں سے گرا کر ختم کر دیا گیا۔چار مجاہدین چاروں گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور دشمن کی خیمہ گاہ تک چلے گئے۔ایک سنتری انہیں اپنی سوار گشت سمجھ کر ان کے قریب آیا۔اندھیرے میں دو گھوڑ سوار اترے اور اس سنتری کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔انہوں نے کئی اور سنتریوں کو خاموشی سے ختم کیا اور واپس آگئے۔خالدؓبے صبری سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔وہ جو اونٹوں پر گئے تھے ،چار گھوڑے بھی ساتھ لے آئے۔انہوں نے خالدؓکو بتایا کہ راستہ صاف ہے۔خالدؓ نے سرگوشیوں میں قاصدوں کو دوسرے سالاروں کی طرف اس پیغام کے ساتھ دوڑادیا کہ ہلہ بول دو۔اس وقت تک گھوڑوں کے منہ بندھے ہوئے تھے وہ ہنہنا نہیں سکتے تھے،سواروں نے سالاروں کے کہنے پر گھوڑوں کے منہ کھول دیئے۔ان کے ہدف دور نہیں تھے،کچھ دور تک گھوڑے پیادوں کی رفتار کے ساتھ آہستہ چلائے گئے پھر رفتار تیز کر دی گئی اور پیادوں کو دوڑناپڑا۔بستیوں کے قریب جا کر مشعلیں جلالی گئیں۔خالدؓنے اپنے دستوں کو اتنی تیزی سے آگے نہ بڑھایا۔انہیں انہوں نے شب خون کی ترتیب میں پھیلا دیا تھا۔یہ ایسی پیش قدمی تھی جس میں کوئی نعرہ نہ لگایا گیا ،نہ کسی کو للکارا گیا۔نومبر ۶۳۳ء کے دوسرے اور رمضان المبارک کی ۱۲ ہجری کے پہلے ہفتے کی وہ رات بہت سرد تھی۔بنی تغلب کی بستیوں میں اور فارس کی فوج کی خیمہ گاہ میں جو وسیع و عریض تھی، لوگ گرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ کون کیا خواب دیکھ رہا تھا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر ایک کے ذہن پر مسلمانوں کی فوج اور اس کی دہشت سوار ہو گی۔لوگ اسی فوج کی باتیں کرتے سوئے تھے۔اچانک بستیوں کے گھروں کے دروازے ٹوٹنے لگے۔گلیوں میں گھوڑے دوڑنے لگے۔مجاہدین نے مکانوں سے چارپائیاں اور لکڑیاں باہر لاکر جگہ جگہ ان کے ڈھیر لگائے اور آگ لگادی تاکہ بستیاں روشن ہوجائیں۔عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار نے سرد رات کو ہلا کر رکھ دیا۔عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ باہر آکر ایک طرف کھڑی ہو جائیں۔یہ مجاہدین کی للکار تھی جو بار بار سنائی دیتی تھی۔بنی تغلب کے آدمی کٹ رہے تھے ۔خالدؓکا حکم تھا کہ بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے سوا کسی آدمی کو زندہ نہ رہنے دیا جائے۔
ان لوگوں کو وہ لشکر بچا سکتا تھا جو تھوڑی ہی دور خیمہ گاہ میں پڑ اتھا۔بستیوں کا واویلا لشکر تک پہنچا لیکن وہاں نیند اور سردی نے سب کو بے ہوش ساکر رکھا تھا۔لشکر کو جگانے کیلئے کوئی سنتری زندہ نہ تھا۔آخر خیمہ گاہ میں کچھ لوگ بیدار ہو گئے ۔انہیں ارد گرد کی بستیوں میں روشنی نظر آئی جیسے آگ لگی ہوئی ہو۔شور بھی سنائی دیا۔وہ ابھی سمجھنے بھی نہ پائے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ویسی ہی ہڑ بونگ خیمہ گاہ کے ایک گوشے میں بپا ہوئی جو آندھی کی مانند بڑھتی اور پھیلتی گئی۔کچھ خیموں کو آگ لگ گئی۔خالدؓ کے دستوں نے آتش پرستوں کی فوج کو کاٹنا شروع کر دیا تھا۔یہ فو ج اب کٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔دشمن کے بہت سے سپاہی خیموں میں دبک گئے تھے۔ان خیموں کی رسیاں مسلمانوں نے کاٹ دیں۔خیمے سپاہیوں کیلئے جال اور پھندے بن گئے۔مسلمانوں نے انہیں بر چھیوں سے ختم کر دیا۔مسلمانوں کے نعرے اور ان کی للکار بڑی دہشت ناک تھی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اتنے وسیع پیمانے پر شب خون مارنے کا دوسرا تجربہ ہوا۔اب انہوں نے یہ انتظام کر دیا تھا کہ کسی کو بھاگنے نہ دیا جائے۔بستیوں اور خیمہ گاہ کے اردگرد مثنیٰ بن حارثہ کے گھوڑ سوار گھوم پھر رہے تھے۔کوئی آدمی بھاگ کے جاتا نظر آتا تو اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا جاتا اور برچھی یا تلوار سے اسے ختم کر دیا جاتا۔اگر کوئی عورت بھاگتی نظر آتی تو اسے پکڑ کر اس جگہ پہنچا دیتے جہاں عورتوں اور بچوں جو اکٹھا کیا جارہا تھا۔جوں جوں رات گزرتی جا رہی تھی۔بنی تغلب کی بستیوں میں اور مدائن کی فوج کی خیمہ گاہ میں شوروغوغا اور واویلا کم ہوتا جا رہا تھااور زخمیوں کی کرب ناک آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے کیلئے جو نکلے تھے ، ان کی لاشیں تھنڈی ہو رہی تھیں اور ان کے زخمی پیاسے مر رہے تھے اور ان کی بیٹیاں مسلمانوں کے قبضے میں تھیں۔صبح طلوع ہوئی تو اُجالے نے بڑا ہی بھیانک اور عبرتناک منظر دکھایا۔لاشوں کے سوا کچھ نظرنہیں آتا تھا۔لاشیں خون سے نہائی ہوئی تھیں۔یہ فتح ایسی تھی جیسے کسریٰ کے بازو کاٹ دیئے گئے ہوں۔خیمہ گاہ اور بستیاں موت کی بستیاں بن گئی تھیں۔جن گھوڑوں پر ان کفارکو نازتھا۔وہ گھوڑے وہیں بندھے ہوئے تھے جہاں گزشتہ شام انہیں باندھا گیا تھا۔عورتیں الگ بیٹھی رو رہی تھیں۔بچے بلبلا رہے تھے۔خالدؓ نے حکم دیا کہ سب سے پہلے عورتوں اور بچوں کو کھانا دیا جائے۔
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 35
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment