*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-29)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میدانِ جنگ فتح و نصرت کے نعروں سے گونج رہا تھا ۔اس کے بعد خالدؓ نے اپنی سپاہ میں مالِ غنیمت تقسیم کیا۔معلوم ہوا کہ اب کے مالِ غنیمت پہلی دونوں جنگوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ خالدؓ نے حسبِ معمول مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کیلئے مدینہ بھجوا دیا۔ اس وقت تک آتش پرستوں کے سالار بہمن جاذویہ کو پوری طرح یقین آ گیا تھا کہ اندرزغر کا لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ گیا ہے اور اندرزغر ایسا بھاگا ہے کہ لاپتا ہو گیا ہے۔ بہمن جاذویہ نے اپنے ایک سالار جابان کو بلایا۔ ’’تم اندرزغر کا انجام سن چکے ہو۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔’’ ہمارے لیے کسریٰ کا حکم یہ تھا کہ ہم دلجہ میں اندرزغر کے لشکر سے جا ملیں ۔اب وہ صورت ختم ہو گئی ہے۔ کیا تم نے سوچا ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘’’ہم اور جو کچھ بھی کریں ۔‘‘جابان نے کہا ۔’’ہمیں بھاگنا نہیں چاہیے۔‘‘
’’لیکن جابان!‘‘ جاذویہ نے کہا ۔’’ہمیں اب کوئی کارروائی اندھا دھند بھی نہیں کرنی چاہیے ۔مسلمان ہمیں تیسری بار شکست دے چکے ہیں۔ کیا تم نے محسوس نہیں کیا کہ وہ وقت گزر گیا ہے جب ہم مدینہ کے لشکر کو صحرائی لٹیرے اور بدو کہا کرتے تھے۔ اب ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘’’ہماری ان تینوں شکستوں کی وجہ صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا جو بھی سالار مدینہ والوں سے ٹکر لینے گیا وہ اس انداز سے گیا جیسے وہ چند ایک صحرائی قزاقو ں کی سرکوبی کیلئے جا رہا ہو ۔‘‘جابا ن نے کہا۔’’جو بھی گیا وہ دشمن کو حقیر اور کمزور جان کر گیا۔ہماری آنکھیں پہلی شکست میں ہی کھل جانی چاہیے تھیں لیکن ایسا نہ ہوا۔ آپ نے بھی تو کچھ سوچا ہو گا؟‘‘’’سب سے پہلی سوچ تو مجھے یہ پریشان کررہی ہے۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔’’کہ کسریٰ اردشیر بیمار پڑا ہے ۔میں جانتا ہوں ا سے پہلی دو شکستوں کے صدمے نے بستر پر ڈال دیا ہے ایک اور شکست کی خبر اسے لے ڈوبے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شکست کی خبر پہنچانے والے کو وہ قتل ہی کرا دے۔‘‘’’لیکن جاذویہ!‘‘ جابان نے کہا۔’’ہم کسریٰ کی خوشنودی کیلئے نہیں لڑ رہے ۔ہمیں زرتشت کی عظمت اور آن کی خاطر لڑنا ہے۔‘‘
’’میں تم سے ایک مشورہ لینا چاہتا ہوں جابان !‘‘جاذویہ نے کہا۔’’تم دیکھ رہے ہو کہ کسریٰ نے ہمیں جو حکم دیا تھا وہ بے مقصد ہو چکا ہے ۔میں مدائن چلا جاتا ہوں ۔کسریٰ سے نیا حکم لوں گا۔ میں اس کے ساتھ کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتا ہوں۔ اسے بھی یہ کہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ جاؤ اور مسلمانوں کو کچل ڈالو ۔اسے ابھی تک کسی نے بتایا نہیں کہ جنگی طاقت صرف ہمارے پاس نہیں ،میں نے مان لیا ہے کہ لڑنے کی جتنی اہلیت اور جتنا جذبہ مسلمانوں میں ہے وہ ہمارے یہاں نا پید ہے۔ جابان! طاقت کے گھمنڈ سے کسی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘‘’’میں بھی اسی کو بہتر سمجھوں گا۔‘‘جابان نے کہا۔’’آپ کوچ کو روک دیں اور مدائن چلے جائیں۔‘‘’’کوچ روک دو۔‘‘جاذویہ نے حکم کے لہجے میں کہا۔’’لشکر کو یہیں خیمہ زن کر دو۔ میری واپسی تک تم لشکر کے سالار ہو گے۔‘‘’’اگر آپ کی غیر حاضری میں مسلمان یہاں تک پہنچ گئے یا ان سے آمنا سامناہو گیا تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟‘‘جابان نے پوچھا۔’’ کیا میں ان سے لڑوں یا آپ کے آنے تک جنگ شروع نہ کروں ؟‘‘’’تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ میری واپسی تک تصادم نہ ہو۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔آتش پرستوں کے لشکر کا کوچ روک کر اسے وہیں خیمہ زن کر دیا گیا اور بہمن جاذویہ اپنے محافظ دستے کے چند ایک گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر مدائن کو روانہ ہوگیا۔بکربن وائل کی بستیوں میں ایک طرف گریہ و زاری تھی اوردوسری طرف جوش و خروش اور جذبہ انتقام کی للکار۔اس عیسائی قبیلے کے وہ ہزاروں آدمی جو للکارتے اور نعرے لگاتے ہوئے آتش پرست لشکر کے ساتھ مسلمانوں کو فارس کی سرحد سے نکالنے گئے تھے وہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر اپنی بستیوں کو چلے گئے تھے ۔یہ وہ تھے جو زندہ نکل گئے تھے ان کے کئی ساتھی مارے گئے تھے ۔ان میں بعض زخمی تھے جو اپنے آپ کو گھسیٹتے آ رہے تھے مگر راستے میں مر گئے تھے ۔یہ عیسائی جب سر جھکائے ہوئے اپنی بستیوں میں پہنچنے لگے تو گھر گھر سے عورتیں ،بچے اور بوڑھے نکل گئے ۔ان شکست خوردہ ٹولیوں میں عورتیں اپنے بیٹوں، بھائیوں اور خاوندوں کو ڈھونڈنے لگیں ۔بچے اپنے باپوں کو دیکھتے پھر رہے تھے۔ انہیں پہلا صدمہ تو یہ ہوا کہ وہ پٹ کر لوٹے تھے ۔پھر صدمہ انہیں ہوا جب کے عزیز واپس نہیں آئے تھے، بستیوں میں عورتوں کی آہ و فغاں سنائی دینے لگی ۔وہ اونچی آواز سے روتی تھیں۔’’پھر تم زندہ کیوں آ گئے ہو؟‘‘ ایک عورت نے شکست کھا کر آنے والوں سے چلّاچلّاکر کہا۔’’ تم ان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے وہیں کیوں نہیں رہے۔‘‘یہ آواز کئی عورتوں کی آواز بن گئی۔ پھر عورتوں کی یہی للکار سنائی دینے لگی ۔’’تم نے بکر بن وائل کا نام ڈبودیا ہے ۔تم نے ان مسلمانوں سے شکست کھائی ہے جو اسی قبیلے کے ہیں۔جاؤ اور شکست کا انتقام لو۔مثنیٰ بن حارثہ کا سر کاٹ کر لاؤ جس نے ایک ہی قبیلے کو دو دھڑوں میں کاٹ دیا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ اسی قبیلے کا ایک سردار تھا۔ اس نے کچھ عرصے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے زیرِ اثر اس قبیلے کے ہزاروں لوگ مسلمان ہو گئے تھے ۔ان مسلمانوں میں سے کئی خالد ؓکی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ اسی طرح ایک ہی قبیلے کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے تھے ۔
طبری اور ابنِ قطیبہ نے لکھا ہے کہ شکست خوردہ عیسائی اپنی عورتوں کے طعنوں اور ان کی للکار سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ بیشتر مؤرخین نے لکھا ہے کہ عیسائیوں کو اس لئے بھی طیش آیا تھا کہ ان کے اپنے قبیلے کے کئی ایسے افراد نے اسلام قبول کر لیا تھا جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن وہی افراد اسلامی فوج میں جا کر ایسی طاقت بن گئے تھے کہ فارس جیسے طاقتور شہنشاہی کو نا صرف للکار رہے تھے بلکہ اسے تیسری شکست بھی دے چکے تھے۔’’اب ان لوگوں کو اپنے مذہب میں واپس لانا بہت مشکل ہے۔‘‘ بکر بن وائل کے ایک سردار عبدالاسود عجلی نے کہا۔’’ان کا ایک ہی علاج ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے ۔‘‘عبدالاسود بنو عجلان کا سردار تھا۔یہ بھی بکر بن وائل کی شاخ تھی ۔ا سلئے وہ عجلی کہلاتا تھا ۔مانا ہوا جنگجو عیسائی تھا۔ ’’کیا تم مسلمانوں کے قتل کو آسان سمجھتے ہو؟‘‘ ایک بوڑھے عیسائی نے کہا۔’’ میدانِ جنگ میں تم انہیں پیٹھ دکھا آئے ہو۔‘‘’’میں ایک مشورہ دیتا ہوں۔‘‘ اس قبیلے کے ایک اور بڑے نے کہا۔’’ ہمارے ساتھ جومسلمان رہتے ہیں انہیں ختم کر دیا جائے ۔پہلے انہیں کہا جائے کہ عیسائیت میں واپس آ جائیں اگر انکار کریں تو انہیں خفیہ طریقوں سے قتل کیا جائے۔‘‘ ’’نہیں!‘‘ عبدالاسود نے کہا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ ہمارے قبیلے کے ان مسلمانوں نے خفیہ کارروائیوں سے فارس کی شہنشاہی میں کیسی تباہی مچائی تھی۔انہوں نے کتنی دلیری سے فارس کی فوجی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔انہوں نے کسریٰ کی رعایا ہو کر کسریٰ کی فوج کے کئی کمانداروں کو قتل کر دیا تھا۔ اگر تم نے یہاں کسی ایک مسلمان کو خفیہ طریقے سے قتل کیا تو مثنیٰ بن حارثہ کا گروہ خفیہ طریقوں سے تمہارے بچوں کو قتل کر جائے گا اور تمہارے گھروں کو آگ لگا دے گا۔ ان میں سے کوئی بھی تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔‘‘’’پھر ہم انتقام کس طرح لیں گے؟‘‘ایک نے پوچھا۔’’تمہارے لیے تو انتقام بہت ہی ضروری ہے کیونکہ تمہارے دو جوان بیٹے دلجہ کی لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں ۔‘‘’’شہنشاہِ فارس اور مسلمانوں کی اپنی جنگ ہے ۔‘‘عبدالاسود نے کہا۔’’ہم اپنی جنگ لڑیں گے لیکن فارس کی فوج کی مدد کے بغیر شاید ہم مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکیں گے۔ اگر تم لوگ مجھے اجازت دو تو میں مدائن جا کر شہنشاہِ فارس سے ملوں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ ہمیں مدد دے گا۔ اگر اس نے مدد نہ دی تو ہم اپنی فوج بنا کر لڑیں گے۔تم ٹھیک کہتے ہو ۔مجھے مسلمانوں سے اپنے دو بیٹوں کے خون کا حساب چکانا ہے۔‘‘عیسائیوں کے سرداروں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ جس قدر لوگ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو سکیں وہ دریائے فرات کے کنارے اُلیّس کے مقام پر اکھٹے ہو جائیں اور ان کا سردارِ اعلیٰ عبدالاسود عجلی ہو گا۔قبیلہ بکر بن وائل اور اس کے ذیلی قبیلوں کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ ان کے زخم تازہ تھے ۔مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے گھروں میں ماتم ہورہا تھا۔ ان حالات اور اس جذباتی کیفیت میں نوجوان بھی اور وہ بوڑھے بھی جو اپنے آپ کو لڑنے کے قابل سمجھتے تھے ‘لڑنے کیلئے نکل آ ئے ۔یہ لوگ اس قد ربھڑکے ہوئے تھے کہ جوان لڑکیاں بھی مردوں کے دوش بدوش لڑنے کیلئے تیار ہو گئیں۔
عراقی عیسائیوں کے عزائم، جنگی تیاریاں اور الیس کے مقام پر ان کاایک فوج کی صورت میں اجتماع خالدؓ سے پوشیدہ نہیں تھا۔ خالدؓکی فوج وہاں سے دور تھی لیکن انہیں دشمن کی ہر نقل و حرکت کی اطلاع مل رہی تھی ان کے جاسوس ہر طرف پھیلے ہوئے تھے ۔عیسائیوں کے علاقے میں عرب کے مسلمان بھی رہتے تھے۔ ان کی ہمدردیاں مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔مسلمانوں کی فتوحات کو دیکھ کر انہیں آتش پرستوں سے آزادی اور دہشت گردی سے نجات بڑی صاف نظر آنے لگی تھی۔ وہ دل و جان سے مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔وہ کسی کے حکم کے بغیر خالدؓکیلئے جاسوسی کررہے تھے۔خالدؓ کے لشکر کے حوصلے بلند تھے۔ اتنی بڑی جنگی طاقت پر مسلسل تین فتوحات نے اور بے شمار مالِ غنیمت نے اور اسلامی جذبے نے ان کے حوصلوں کو تروتازہ رکھا ہوا تھا لیکن خالد ؓجانتے تھے کہ ان کے مجاہدین کی جسمانی حالت ٹھیک نہیں ۔مجاہدین کے لشکر کوآرام ملا ہی نہیں تھا ۔وہ کوچ اور پیش قدمی کی حالت میں رہے یا میدانِ جنگ میں لڑتے رہے تھے ۔’’انہیں مکمل آرام کرنے دو۔‘‘خالدؓ اپنے سالاروں سے کہہ رہے تھے۔’’ ان کی ہڈیاں بھی دکھ رہی ہوں گی۔ جتنے بھی دن ممکن ہوسکا میں انہیں آرام کی حالت میں رکھوں گااور ان دستوں کو بھی یہیں بلا لو جنہیں ہم دجلہ کے کنارے دشمن پر نظر رکھنے کیلئے چھوڑ آئے تھے۔ تم میں مجھے مثنیٰ بن حارثہ نظر نہیں آ رہا؟‘‘’’وہ گذشتہ رات سے نظر نہیں آیا۔‘‘ایک سالار نے جواب دیا۔ایک گھوڑے کے ٹاپ سنائی دیئے جو قریب آرہے تھے ۔گھوڑا خالدؓ کے خیمے کے قریب آکر رکا۔’’مثنیٰ بن حارثہ آیا ہے۔‘‘ کسی نے خالد ؓکو بتایا۔مثنیٰ گھوڑے سے کود کر اترا اور دوڑتا ہوا خالدؓ کے خیمے میں داخل ہوا۔’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو ولید کے بیٹے !‘‘مثنیٰ نے پر جوش آواز میں کہا اور بیٹھنے کے بجائے خیمے میں ٹہلنے لگا ۔’’خدا کی قسم ابنِ حارثہ!‘‘ خالدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔’’تیری چال ڈھا ل اور تیرا جوش بتا رہا ہے کہ تجھے کہیں سے خزانہ مل گیا ہے۔‘‘’’خزانے سے زیادہ قیمتی خبر لایا ہوں ابنِ ولید !‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’میرے قبیلے کے عیسائیوں کا ایک لشکر تیار ہو کر الیس کے مقام پر جمع ہونے کیلئے چلا گیا ہے۔ان کے سرداروں نے دروازے بند کر کے ہمارے خلاف جو منصوبہ بنایا ہے وہ مجھ تک پہنچ گیاہے۔‘‘ ’’کیا یہی خبر لانے کیلئے تو رات سے کسی کو نظر نہیں آیا ؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’ہاں !‘‘مثنیٰ نے جواب دیا۔’’وہ میرا قبیلہ ہے‘ میں جانتاتھا کہ میرے قبیلے کے لوگ انتقام لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔میں اپنا حلیہ بدل کر انکے پیچھے چلا گیا تھا جس مکان میں بیٹھ کر انہوں نے ہمارے خلاف لڑنے کا منصوبہ بنایا ہے‘ میں اس کے ساتھ والے مکان میں بیٹھا ہوا تھا۔میں وہاں سے پوری خبر لے کر نکلا ہوں۔ دوسری اطلاع یہ ہے کہ ان کے سردار اس مقصد کیلئے مدائن چلے گئے ہیں اور وہ اردشیر سے فوجی مدد لے کر ہم پر حملہ کریں گے۔‘‘’’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اپنے لشکر کو آرام کی مہلت نہیں دے سکوں گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تم پسند نہیں کرو گے جس طرح ہم نے دلجہ میں آتش پرستوں کو تیاری کی مہلت نہیں دی تھی اسی طرح ہم عیسائیوں اور آتش پرستوں کے اجتماع سے پہلے ہی ان پر حملہ کر دیں۔‘‘’’خدا تیری عمر دراز کرے ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’طریقہ یہی بہتر ہے کہ دشمن کا سرا ٹھنے سے پہلے ہی کچل دیاجائے۔‘‘خالدؓنے اپنے دوسرے سالاروں کی طرف دیکھا جیسے وہ ان سے مشورہ مانگ رہے ہوں ۔
’’ان کی وہ جو طاقت ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے ۔‘‘سپاہی نے کہا۔’’ وہ گھوڑ سوار دستے کی صورت میں سامنے آئی۔اس دستے میں ہزاروںگھوڑے تھے ان کے حملے سے پہلے یہ گھوڑے کہیں نظر نہیں آئے تھے۔ اتنے ہزار گھوڑوں کو کہیں چھپایا نہیں جا سکتا۔ہمارے پیچھے دریا تھا‘ گھوڑے دریا کی طرف سے آئے اور ہمیں اس وقت پتا چلا جب مسلمان سواروں نے ہمیں کاٹنا اور گھوڑوں تلے روندنا شروع کر دیا تھا۔اعلی مقام! یہ ہے وہ طاقت جس کی میں بات کر رہا ہوں ۔‘‘’’تم میں ایمان کی طاقت ہے۔‘‘خالدؓ اپنے لشکر سے خطاب کر رہے تھے۔’’ یہ خدائے وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ تم میں صرف بیس ایما ن والے ہوئے تو وہ دو سو کفار پر غالب آ ئیں گے۔‘‘ آتش پرستوں کا لشکر اور ان کے ساتھی عیسائی بھاگ کر دور نکل گئے تھے ۔ میدانِ جنگ میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور ایک طرف مالِ غنیمت کا انبار لگا ہوا تھا۔خالدؓ اس انبار کے قریب اپنے گھوڑے پر سوار اپنی فوج سے خطاب کر رہے تھے۔ ’’خدا کی قسم!‘‘ خالدؓ کہہ ر ہے تھے ۔’’قرآن کا فرمان تم سب نے عملی صورت میں دیکھ لیا ہے ۔کیا تم آ تش پرستوں کے لشکر کو دیکھ کر گھبرا نہیں گئے تھے؟آنے والی نسلیں کہیں گی کہ یہ کمال خالد بن ولید کا تھا کہ اس نے اپنے سواروں کو چھپا کر رکھا ہوا تھا اور انہیں اس وقت استعمال کیا جب دشمن مسلمانوں کو کاٹنے اور کچلنے کیلئے آگے بڑھ آیا تھا لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ کرشمہ ایمان کی قوت کا تھا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو اس کے رسولﷺکی ذات پر ایمان لاتے ہیں۔میرے دوستو !ہمیں اور آگے جانا ہے ۔یہ آتش پرستوں کی نہیں اﷲکی سرزمین ہے اور ہمیں زمین کے آخری سرے تک اﷲکا پیغام پہنچانا ہے۔‘‘میدانِ جنگ فتح و نصرت کے نعروں سے گونج رہا تھا ۔اس کے بعد خالدؓ نے اپنی سپاہ میں مالِ غنیمت تقسیم کیا۔معلوم ہوا کہ اب کے مالِ غنیمت پہلی دونوں جنگوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ خالدؓ نے حسبِ معمول مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کیلئے مدینہ بھجوا دیا۔ اس وقت تک آتش پرستوں کے سالار بہمن جاذویہ کو پوری طرح یقین آ گیا تھا کہ اندرزغر کا لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ گیا ہے اور اندرزغر ایسا بھاگا ہے کہ لاپتا ہو گیا ہے۔ بہمن جاذویہ نے اپنے ایک سالار جابان کو بلایا۔ ’’تم اندرزغر کا انجام سن چکے ہو۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔’’ ہمارے لیے کسریٰ کا حکم یہ تھا کہ ہم دلجہ میں اندرزغر کے لشکر سے جا ملیں ۔اب وہ صورت ختم ہو گئی ہے۔ کیا تم نے سوچا ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘’’ہم اور جو کچھ بھی کریں ۔‘‘جابان نے کہا ۔’’ہمیں بھاگنا نہیں چاہیے۔‘‘
’’لیکن جابان!‘‘ جاذویہ نے کہا ۔’’ہمیں اب کوئی کارروائی اندھا دھند بھی نہیں کرنی چاہیے ۔مسلمان ہمیں تیسری بار شکست دے چکے ہیں۔ کیا تم نے محسوس نہیں کیا کہ وہ وقت گزر گیا ہے جب ہم مدینہ کے لشکر کو صحرائی لٹیرے اور بدو کہا کرتے تھے۔ اب ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘’’ہماری ان تینوں شکستوں کی وجہ صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا جو بھی سالار مدینہ والوں سے ٹکر لینے گیا وہ اس انداز سے گیا جیسے وہ چند ایک صحرائی قزاقو ں کی سرکوبی کیلئے جا رہا ہو ۔‘‘جابا ن نے کہا۔’’جو بھی گیا وہ دشمن کو حقیر اور کمزور جان کر گیا۔ہماری آنکھیں پہلی شکست میں ہی کھل جانی چاہیے تھیں لیکن ایسا نہ ہوا۔ آپ نے بھی تو کچھ سوچا ہو گا؟‘‘’’سب سے پہلی سوچ تو مجھے یہ پریشان کررہی ہے۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔’’کہ کسریٰ اردشیر بیمار پڑا ہے ۔میں جانتا ہوں ا سے پہلی دو شکستوں کے صدمے نے بستر پر ڈال دیا ہے ایک اور شکست کی خبر اسے لے ڈوبے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شکست کی خبر پہنچانے والے کو وہ قتل ہی کرا دے۔‘‘’’لیکن جاذویہ!‘‘ جابان نے کہا۔’’ہم کسریٰ کی خوشنودی کیلئے نہیں لڑ رہے ۔ہمیں زرتشت کی عظمت اور آن کی خاطر لڑنا ہے۔‘‘
’’میں تم سے ایک مشورہ لینا چاہتا ہوں جابان !‘‘جاذویہ نے کہا۔’’تم دیکھ رہے ہو کہ کسریٰ نے ہمیں جو حکم دیا تھا وہ بے مقصد ہو چکا ہے ۔میں مدائن چلا جاتا ہوں ۔کسریٰ سے نیا حکم لوں گا۔ میں اس کے ساتھ کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتا ہوں۔ اسے بھی یہ کہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ جاؤ اور مسلمانوں کو کچل ڈالو ۔اسے ابھی تک کسی نے بتایا نہیں کہ جنگی طاقت صرف ہمارے پاس نہیں ،میں نے مان لیا ہے کہ لڑنے کی جتنی اہلیت اور جتنا جذبہ مسلمانوں میں ہے وہ ہمارے یہاں نا پید ہے۔ جابان! طاقت کے گھمنڈ سے کسی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘‘’’میں بھی اسی کو بہتر سمجھوں گا۔‘‘جابان نے کہا۔’’آپ کوچ کو روک دیں اور مدائن چلے جائیں۔‘‘’’کوچ روک دو۔‘‘جاذویہ نے حکم کے لہجے میں کہا۔’’لشکر کو یہیں خیمہ زن کر دو۔ میری واپسی تک تم لشکر کے سالار ہو گے۔‘‘’’اگر آپ کی غیر حاضری میں مسلمان یہاں تک پہنچ گئے یا ان سے آمنا سامناہو گیا تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟‘‘جابان نے پوچھا۔’’ کیا میں ان سے لڑوں یا آپ کے آنے تک جنگ شروع نہ کروں ؟‘‘’’تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ میری واپسی تک تصادم نہ ہو۔‘‘ جاذویہ نے کہا۔آتش پرستوں کے لشکر کا کوچ روک کر اسے وہیں خیمہ زن کر دیا گیا اور بہمن جاذویہ اپنے محافظ دستے کے چند ایک گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر مدائن کو روانہ ہوگیا۔بکربن وائل کی بستیوں میں ایک طرف گریہ و زاری تھی اوردوسری طرف جوش و خروش اور جذبہ انتقام کی للکار۔اس عیسائی قبیلے کے وہ ہزاروں آدمی جو للکارتے اور نعرے لگاتے ہوئے آتش پرست لشکر کے ساتھ مسلمانوں کو فارس کی سرحد سے نکالنے گئے تھے وہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر اپنی بستیوں کو چلے گئے تھے ۔یہ وہ تھے جو زندہ نکل گئے تھے ان کے کئی ساتھی مارے گئے تھے ۔ان میں بعض زخمی تھے جو اپنے آپ کو گھسیٹتے آ رہے تھے مگر راستے میں مر گئے تھے ۔یہ عیسائی جب سر جھکائے ہوئے اپنی بستیوں میں پہنچنے لگے تو گھر گھر سے عورتیں ،بچے اور بوڑھے نکل گئے ۔ان شکست خوردہ ٹولیوں میں عورتیں اپنے بیٹوں، بھائیوں اور خاوندوں کو ڈھونڈنے لگیں ۔بچے اپنے باپوں کو دیکھتے پھر رہے تھے۔ انہیں پہلا صدمہ تو یہ ہوا کہ وہ پٹ کر لوٹے تھے ۔پھر صدمہ انہیں ہوا جب کے عزیز واپس نہیں آئے تھے، بستیوں میں عورتوں کی آہ و فغاں سنائی دینے لگی ۔وہ اونچی آواز سے روتی تھیں۔’’پھر تم زندہ کیوں آ گئے ہو؟‘‘ ایک عورت نے شکست کھا کر آنے والوں سے چلّاچلّاکر کہا۔’’ تم ان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے وہیں کیوں نہیں رہے۔‘‘یہ آواز کئی عورتوں کی آواز بن گئی۔ پھر عورتوں کی یہی للکار سنائی دینے لگی ۔’’تم نے بکر بن وائل کا نام ڈبودیا ہے ۔تم نے ان مسلمانوں سے شکست کھائی ہے جو اسی قبیلے کے ہیں۔جاؤ اور شکست کا انتقام لو۔مثنیٰ بن حارثہ کا سر کاٹ کر لاؤ جس نے ایک ہی قبیلے کو دو دھڑوں میں کاٹ دیا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ اسی قبیلے کا ایک سردار تھا۔ اس نے کچھ عرصے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے زیرِ اثر اس قبیلے کے ہزاروں لوگ مسلمان ہو گئے تھے ۔ان مسلمانوں میں سے کئی خالد ؓکی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ اسی طرح ایک ہی قبیلے کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے تھے ۔
طبری اور ابنِ قطیبہ نے لکھا ہے کہ شکست خوردہ عیسائی اپنی عورتوں کے طعنوں اور ان کی للکار سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ بیشتر مؤرخین نے لکھا ہے کہ عیسائیوں کو اس لئے بھی طیش آیا تھا کہ ان کے اپنے قبیلے کے کئی ایسے افراد نے اسلام قبول کر لیا تھا جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن وہی افراد اسلامی فوج میں جا کر ایسی طاقت بن گئے تھے کہ فارس جیسے طاقتور شہنشاہی کو نا صرف للکار رہے تھے بلکہ اسے تیسری شکست بھی دے چکے تھے۔’’اب ان لوگوں کو اپنے مذہب میں واپس لانا بہت مشکل ہے۔‘‘ بکر بن وائل کے ایک سردار عبدالاسود عجلی نے کہا۔’’ان کا ایک ہی علاج ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے ۔‘‘عبدالاسود بنو عجلان کا سردار تھا۔یہ بھی بکر بن وائل کی شاخ تھی ۔ا سلئے وہ عجلی کہلاتا تھا ۔مانا ہوا جنگجو عیسائی تھا۔ ’’کیا تم مسلمانوں کے قتل کو آسان سمجھتے ہو؟‘‘ ایک بوڑھے عیسائی نے کہا۔’’ میدانِ جنگ میں تم انہیں پیٹھ دکھا آئے ہو۔‘‘’’میں ایک مشورہ دیتا ہوں۔‘‘ اس قبیلے کے ایک اور بڑے نے کہا۔’’ ہمارے ساتھ جومسلمان رہتے ہیں انہیں ختم کر دیا جائے ۔پہلے انہیں کہا جائے کہ عیسائیت میں واپس آ جائیں اگر انکار کریں تو انہیں خفیہ طریقوں سے قتل کیا جائے۔‘‘ ’’نہیں!‘‘ عبدالاسود نے کہا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ ہمارے قبیلے کے ان مسلمانوں نے خفیہ کارروائیوں سے فارس کی شہنشاہی میں کیسی تباہی مچائی تھی۔انہوں نے کتنی دلیری سے فارس کی فوجی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔انہوں نے کسریٰ کی رعایا ہو کر کسریٰ کی فوج کے کئی کمانداروں کو قتل کر دیا تھا۔ اگر تم نے یہاں کسی ایک مسلمان کو خفیہ طریقے سے قتل کیا تو مثنیٰ بن حارثہ کا گروہ خفیہ طریقوں سے تمہارے بچوں کو قتل کر جائے گا اور تمہارے گھروں کو آگ لگا دے گا۔ ان میں سے کوئی بھی تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔‘‘’’پھر ہم انتقام کس طرح لیں گے؟‘‘ایک نے پوچھا۔’’تمہارے لیے تو انتقام بہت ہی ضروری ہے کیونکہ تمہارے دو جوان بیٹے دلجہ کی لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں ۔‘‘’’شہنشاہِ فارس اور مسلمانوں کی اپنی جنگ ہے ۔‘‘عبدالاسود نے کہا۔’’ہم اپنی جنگ لڑیں گے لیکن فارس کی فوج کی مدد کے بغیر شاید ہم مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکیں گے۔ اگر تم لوگ مجھے اجازت دو تو میں مدائن جا کر شہنشاہِ فارس سے ملوں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ ہمیں مدد دے گا۔ اگر اس نے مدد نہ دی تو ہم اپنی فوج بنا کر لڑیں گے۔تم ٹھیک کہتے ہو ۔مجھے مسلمانوں سے اپنے دو بیٹوں کے خون کا حساب چکانا ہے۔‘‘عیسائیوں کے سرداروں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ جس قدر لوگ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو سکیں وہ دریائے فرات کے کنارے اُلیّس کے مقام پر اکھٹے ہو جائیں اور ان کا سردارِ اعلیٰ عبدالاسود عجلی ہو گا۔قبیلہ بکر بن وائل اور اس کے ذیلی قبیلوں کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ ان کے زخم تازہ تھے ۔مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے گھروں میں ماتم ہورہا تھا۔ ان حالات اور اس جذباتی کیفیت میں نوجوان بھی اور وہ بوڑھے بھی جو اپنے آپ کو لڑنے کے قابل سمجھتے تھے ‘لڑنے کیلئے نکل آ ئے ۔یہ لوگ اس قد ربھڑکے ہوئے تھے کہ جوان لڑکیاں بھی مردوں کے دوش بدوش لڑنے کیلئے تیار ہو گئیں۔
عراقی عیسائیوں کے عزائم، جنگی تیاریاں اور الیس کے مقام پر ان کاایک فوج کی صورت میں اجتماع خالدؓ سے پوشیدہ نہیں تھا۔ خالدؓکی فوج وہاں سے دور تھی لیکن انہیں دشمن کی ہر نقل و حرکت کی اطلاع مل رہی تھی ان کے جاسوس ہر طرف پھیلے ہوئے تھے ۔عیسائیوں کے علاقے میں عرب کے مسلمان بھی رہتے تھے۔ ان کی ہمدردیاں مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔مسلمانوں کی فتوحات کو دیکھ کر انہیں آتش پرستوں سے آزادی اور دہشت گردی سے نجات بڑی صاف نظر آنے لگی تھی۔ وہ دل و جان سے مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔وہ کسی کے حکم کے بغیر خالدؓکیلئے جاسوسی کررہے تھے۔خالدؓ کے لشکر کے حوصلے بلند تھے۔ اتنی بڑی جنگی طاقت پر مسلسل تین فتوحات نے اور بے شمار مالِ غنیمت نے اور اسلامی جذبے نے ان کے حوصلوں کو تروتازہ رکھا ہوا تھا لیکن خالد ؓجانتے تھے کہ ان کے مجاہدین کی جسمانی حالت ٹھیک نہیں ۔مجاہدین کے لشکر کوآرام ملا ہی نہیں تھا ۔وہ کوچ اور پیش قدمی کی حالت میں رہے یا میدانِ جنگ میں لڑتے رہے تھے ۔’’انہیں مکمل آرام کرنے دو۔‘‘خالدؓ اپنے سالاروں سے کہہ رہے تھے۔’’ ان کی ہڈیاں بھی دکھ رہی ہوں گی۔ جتنے بھی دن ممکن ہوسکا میں انہیں آرام کی حالت میں رکھوں گااور ان دستوں کو بھی یہیں بلا لو جنہیں ہم دجلہ کے کنارے دشمن پر نظر رکھنے کیلئے چھوڑ آئے تھے۔ تم میں مجھے مثنیٰ بن حارثہ نظر نہیں آ رہا؟‘‘’’وہ گذشتہ رات سے نظر نہیں آیا۔‘‘ایک سالار نے جواب دیا۔ایک گھوڑے کے ٹاپ سنائی دیئے جو قریب آرہے تھے ۔گھوڑا خالدؓ کے خیمے کے قریب آکر رکا۔’’مثنیٰ بن حارثہ آیا ہے۔‘‘ کسی نے خالد ؓکو بتایا۔مثنیٰ گھوڑے سے کود کر اترا اور دوڑتا ہوا خالدؓ کے خیمے میں داخل ہوا۔’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو ولید کے بیٹے !‘‘مثنیٰ نے پر جوش آواز میں کہا اور بیٹھنے کے بجائے خیمے میں ٹہلنے لگا ۔’’خدا کی قسم ابنِ حارثہ!‘‘ خالدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔’’تیری چال ڈھا ل اور تیرا جوش بتا رہا ہے کہ تجھے کہیں سے خزانہ مل گیا ہے۔‘‘’’خزانے سے زیادہ قیمتی خبر لایا ہوں ابنِ ولید !‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’میرے قبیلے کے عیسائیوں کا ایک لشکر تیار ہو کر الیس کے مقام پر جمع ہونے کیلئے چلا گیا ہے۔ان کے سرداروں نے دروازے بند کر کے ہمارے خلاف جو منصوبہ بنایا ہے وہ مجھ تک پہنچ گیاہے۔‘‘ ’’کیا یہی خبر لانے کیلئے تو رات سے کسی کو نظر نہیں آیا ؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’ہاں !‘‘مثنیٰ نے جواب دیا۔’’وہ میرا قبیلہ ہے‘ میں جانتاتھا کہ میرے قبیلے کے لوگ انتقام لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔میں اپنا حلیہ بدل کر انکے پیچھے چلا گیا تھا جس مکان میں بیٹھ کر انہوں نے ہمارے خلاف لڑنے کا منصوبہ بنایا ہے‘ میں اس کے ساتھ والے مکان میں بیٹھا ہوا تھا۔میں وہاں سے پوری خبر لے کر نکلا ہوں۔ دوسری اطلاع یہ ہے کہ ان کے سردار اس مقصد کیلئے مدائن چلے گئے ہیں اور وہ اردشیر سے فوجی مدد لے کر ہم پر حملہ کریں گے۔‘‘’’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اپنے لشکر کو آرام کی مہلت نہیں دے سکوں گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تم پسند نہیں کرو گے جس طرح ہم نے دلجہ میں آتش پرستوں کو تیاری کی مہلت نہیں دی تھی اسی طرح ہم عیسائیوں اور آتش پرستوں کے اجتماع سے پہلے ہی ان پر حملہ کر دیں۔‘‘’’خدا تیری عمر دراز کرے ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’طریقہ یہی بہتر ہے کہ دشمن کا سرا ٹھنے سے پہلے ہی کچل دیاجائے۔‘‘خالدؓنے اپنے دوسرے سالاروں کی طرف دیکھا جیسے وہ ان سے مشورہ مانگ رہے ہوں ۔
’’ہونا تو ایسا ہی چاہیے۔‘‘سالار عاصم بن عمرو نے کہا۔’’لیکن لشکر کی جسمانی حالت دیکھ لیں۔ کیا ہمارے لیے یہ فائدہ مند نہ ہوگا کہکم از کم دو دن لشکر کو آرام کرنے دیں؟‘‘’’ ہاں ابنِ ولید!‘‘دوسرے سالار عدی بن حاتم نے کہا۔’’کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلی تین فتوحات کے نشے میں ہمیں شکست کا منہ دیکھنا پڑے۔‘‘’’ابنِ حاتم!‘‘خالد ؓنے کہا۔’’میں تیرے اتنے اچھے مشورے کی تعریف کرتا ہوں لیکن یہ بھی سوچ کہ ہم نے دودن عیسائیوں کو دے دیئے تو کیاایسا نہیں ہو گا کہ فارس کا لشکر ان سے آن ملے؟‘‘’’ایسا ہو سکتا ہے۔‘‘عدی بن حاتم نے کہا۔’’لیکن بہتر یہ ہو گا کہ آتش پرستوں کے لشکر کو آنے دیں۔یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم بکر بن وائل کے عیسائیوں سے الجھے ہوں اور آتش ہرست عقب سے ہم پر آپڑیں۔جس جس کو ہمارے خلاف لڑنا ہے اسے اس میدان میں آنے دیں جہاں وہ لڑنا چاہتے ہیں۔‘‘’’ابنِ ولید !‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا ۔’’کیا تو مجھے اجازت نہیں دے گا کہ عیسائیوں پر حملے کی پہل میں کروں؟‘‘’’تو نے ایسا کیوں سوچا ہے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’اس لیے کہ جتنا انہیں میں جانتا ہوں اتنا کوئی اور نہیں جانتا۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’اور میں اس لیے بھی سب سے آگے ہو کر ان پر حملہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کے قبیلے کے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے انہیں قتل کر دیا جائے۔میں انہیں کہوں گا کہ دیکھو کون کسے قتل کر رہا ہے؟‘‘’’اس وقت ہماری نفری کتنی ہے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’اٹھارہ ہزار سے کچھ زیادہ ہی ہوگی۔‘‘ایک سالار نے جواب دیا۔’’جب ہم فارس کی سرحد میں داخل ہوئے تھے تو ہماری نفری اٹھارہ ہزار تھی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اس علاقے کے مسلمانوں نے میری نفری کم نہیں ہونے دی۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ان تین جنگوں میں بہت سے مسلمان شہید اور شدید زخمی ہوئے تھے ۔بعض نے لکھا ہے کہ نفری تقریباًآدھی رہ گئی تھی لیکن مثنیٰ بن حارثہ کے قبیلے نے نفری کی کمی پوری کر دی تھی۔آتش پرستوں کا سالار بہمن جاذویہ اردشیر سے نیا حکم لینے مدائن پہنچ چکا تھا ۔لیکن شاہی طبیب نے اسے روک لیا۔
’’اگر کوئی اچھی خبر لائے ہو تو اندر چلے جاؤ۔‘‘طبیب نے کہا۔’’اگر خبر اچھی نہیں تو میں تمہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘’’خبر اچھی نہیں۔‘‘جاذویہ نے کہا۔’’ہماری فوج تیسری بار شکست کھا چکی ہے۔اندرزغر ایسا بھاگا ہے کہ لاپتا ہو گیا ہے۔‘‘’’جاذویہ!‘‘طبیب نے کہا۔’’اردشیر کیلئے اس سے زیادہ بری خبر اور کوئی نہیں ہو سکتی۔اندرزغر کو تو کسریٰ اردشیر اپنی جنگی طاقت کا سب سے زیادہ مضبوط ستون سمجھتا تھا۔جب سے یہ سالار گیا ہے،شہنشاہ دن میں کئی بار پوچھتا رہا کہ اندرزغر مسلمانوں کو فارس کی سرحد سے نکال کر واپس آیا ہے یا نہیں؟تھوڑی دیر پہلے بھی اس نے پوچھا تھا۔‘‘
’’محترم طبیب!‘‘جاذویہ نے کہا۔’’کیا ہم ایک حقیقت کو چھپا کر غلطی نہیں کر رہے؟کسریٰ کو کسی نہ کسی دن تو پتا چل ہی جائے گا۔‘‘’’جاذویہ!‘‘طبیب نے کہا۔’’میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ اگر تم نے یہ خبر شہنشاہ کو سنائی تو اس کا خون تمہاری گردن پر ہوگا۔‘‘جاذویہ وہیں سے لوٹ گیا لیکن اپنے لشکر کے پاس جانے کی بجائے اس خیال سے مدائن میں رُکا رہا کہ اردشیر کی صحت ذرا بہترہوگی تو وہ اسے خود شکست کی خبر سنائے گا۔اور اسکے ساتھ وعدہ کرے گا کہ وہ مسلمانوں سے تینوں شکستوں کا انتقام لے گا۔اس روز یا ایک دو روز بعد عیسائیوں کا ایک وفد اردشیر کے پاس پہنچ گیا۔اس کا طبیب اور شاہی خاندان کا کوئی بھی فرد قبل از وقت نہ جان سکا کہ یہ وفد کس مقصد کیلئے آیا ہے۔اردشیر کوچونکہ معلوم تھا کہ عیسائیوں نے اس لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی ہے اس لیے اس نے بڑی خوشی سے ان عیسائیوں کو ملاقات کی اجازت دے دی۔اس وفد نے اردشیر کو پہلی خبر ی سنائی کہ سالار اندرزغر شکست کھا گیا ہے۔’’اندرزغر شکست نہیں کھا سکتا۔‘‘اردشیر نے ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔’’کیا تم لوگ مجھے یہ جھوٹی خبر سنانے آئے ہو؟……کہاں ہے اندرزغر؟اگر ا س کی شکست کی خبر صحیح ہے تو یہ بھی صحیح ہے کہ جس روز وہ مدائن میں قدم رکھے گا وہ اس کی زندگی کا آخری روز ہو گا۔‘‘’’ہم جھوٹی خبر سنانے نہیں آئے۔‘‘وفد کے سربراہ نے کہا۔’’ہم آپ کی اس تیسری شکست کو فتح میں بدلنے کا عہد لے کر آئے ہیں لیکن آپ کی مدد کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘اردشیر کچھ دیر چپ چاپ خلا ء میں گھورتا رہا،اس کی بیماری بڑھتی جا رہی تھی۔وہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔دواؤں کا اس پر الٹا اثر ہو رہاتھا۔اب تیسری شکست کی خبر نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔اس کا طبیب اس کے پاس کھڑاتھا۔’’کسریٰکو اس وقت آرام کی ضرورت ہے۔‘‘طبیب نے کہا۔’’معزز مہمان اس وقت چلے جائیں تو کسریٰ کیلئے بہتر ہوگا۔‘‘عیسائیوںکا وفد اٹھ کھڑا ہوا۔’’ٹھہرو!‘‘اردشیر نے نحیف آواز میں کہا۔’’تم لوگوں نے شکست کو فتح میں بدلنے کی بات کی تھی۔تم کیا چاہتے ہو؟‘‘’’اپنے کچھ دستے جن میں سوار زیاد ہ ہوں ہمیں دے دیں۔‘‘وفد کے سردارنے کہا۔’’ہمارا پورا قبیلہ الیس پہنچ چکا ہوگا۔‘‘’’جو مانگو گے دوں گا۔‘‘اردشیر نے کہا۔’’بہمن جاذویہ کے پاس چلے جاؤاور اس کا لشکر اپنے ساتھ لے لو۔جاذویہ دلجہ کے قریب کہیں ہوگا۔‘‘’’بہمن جاذویہ مدائن میں ہے۔‘‘کسی نے اردشیر کو بتایا۔’’وہ شہنشاہ کے پاس آیا تھا لیکن طبیب نے اسے آپ تک آنے نہیں دیا۔‘‘’’اسے بلاؤ!‘‘اردشیر نے حکم دیا۔’’مجھ سے کچھ نہ چھپاؤ۔
جب جاذویہ اردشیر کو بتا رہا تھا کہ اسے میدانِ جنگ تک پہنچنے کاموقع ہی نہیں ملا۔اس وقت الیس میں صورتِ حال کچھ اور ہو چکی تھی۔جاذویہ اپنے دوسرے سالار جابان کو لشکر دے آیا تھا اور اس نے جابان سے کہا تھا کہ وہ اسکی واپسی تک مسلمانوں سے لڑائی سے گریز کرے۔جابان الیس کے کہیں قریب تھا۔اسے ایک اطلاع یہ ملی کہ عیسائیوں کا ایک لشکر الیس کے گردونواح میں جمع ہے اور دوسری اطلاع یہ ملی کہ مسلمانوں کا لشکر الیس کی طرف بڑھ رہا ہے،جابان کیلئے حکم تو کچھ اور تھا لیکن اس اطلاع پر کہ مسلمان پیش قدمی کررہے ہیں،وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔اس نے اپنے لشکر کو کوچ کاحکم دیا اور الیس کا رخ کر لیا۔ابھی جاذویہ واپس نہیں آیا تھا،جابان تک اردشیر کا بھی کوئی حکم نہیں پہنچا تھا۔چونکہ وہ وہاں موجود تھا ا س لئے یہ اس کی ذمہ دار ی تھی کہ مسلمانوں کو روکے،تاریخ میں بکر بن وائل کے ان عیسائیوں کی تعداد کا کوئی اشارہ نہیں ملتاجو الیس میں لڑنے کیلئے پہنچے تھے۔ان کا سردار اور سالارِ اعلیٰ عبدالاسود عجلی تھا ۔وہ مدائن سے اپنے وفدکی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔خالدؓ انتظار کرنے والے سالار نہیں تھے۔انہوں نے اپنی فوج کو تھوڑا سا آرام دینا ضروری سمجھا تھا پھر انہوں نے الیس کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا۔رفتار معمول سے کہیں زیادہ تیز رکھی۔مثنیٰ بن حارثہ اپنے جانبازوں کادستہ لیے باقی لشکر سے الگ تھلگ جا رہا تھا۔’’اﷲکے سپاہیو!‘‘مثنیٰ نے راستے میں اپنے دستے سے کہا۔’’یہ لڑائی تم اس طرح لڑو گے جس طرح ہم کسریٰ کی سرحدی چوکیاں تباہ کرنے کیلئے لڑتے رہے ہیں……چھاپہ مار لڑائی……شب خون……تم ان لوگوں سے لڑنے جا رہے ہو جو تمہاری طرح لڑنا نہیں جانتے۔انہیں تم جانتے ہو۔وہ تمہارے ہی قبیلے کے لوگ ہیں ۔ہم انہیں بھگا بھگا کر لڑائیں گے۔اسی لیے میں نے تمہیں لشکر سے الگ کر لیا ہے۔لیکن یہ خیال رکھنا کہ ہم اسی لشکر کے سالار کے ماتحت ہیں اور یہ بھی خیال رکھنا کہ یہ مذاہب کی جنگ ہے،دو باطل عقیدے تمہارے مقابلے میں ہیں ۔تمہیں ثابت کرنا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے……خدا کی قسم! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف ہمیشہ مخبری کی اورآتش پرستوں کے ہاتھوں ہمارے گھروں کو نذرِ آتش کرایا ہے۔‘‘سواروں کا یہ دستہ پر جوش نعرے لگانے لگالیکن مثنیٰ نے روک دیا او رکہا کہ خاموشی برقرار رکھنی ہے دشمن کو اس وقت پتا چلے کہ ہم آ گئے ہیں جب ہماری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں۔عیسائیوں کا لشکر الیس کے مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے مدائن سے اپنے وفد کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا۔ ’’ہوشیار!دشمن آ رہاہے۔‘‘عیسائی لشکر کے سنتریوں نے واویلا بپا کر دیا ۔’’خبر دار…… ہوشیار…… تیار ہو جاؤ۔‘‘ہڑبونگ مچ گئی۔ان کے سرداروں نے درختوں پر چڑھ کر دیکھا ایک لشکر چلا آ رہا تھا۔ سرداروں نے درختوں کے اوپر سے ہی حکم دیا کہ تیر انداز اگلی صف میں آ جائیں۔ یہ لوگ چونکہ باقاعدہ فوجی نہیں تھے اس لئے ان میں نظم و ضبط اور صبر و تحمل کی کمی تھی۔ وہ لوگ ہجوم کی صورت میں لڑنا جانتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے صف بندی کر لی۔
آنے والا لشکر قریب آ رہا تھا ‘جب یہ لشکر اور قریب آیا تو سرداروں کو کچھ شک ہونے لگا تب ایک سالار نے کہا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اس طرف سے آرہا ہے جس طرف بہمن جاذویہ کالشکر ہونا چاہیے تھا۔ سالار نے دو گھوڑسواروں کو یہ کہہ کر دوڑا دیا کہ جا کر دیکھو کہ یہ کس کا لشکر ہے۔’’یہ دوست ہیں۔‘‘ ایک سوار نے پیچھے مڑ کر بلند آواز سے کہا۔’’یہ فارس کی فوج ہے۔‘‘’’یسوع مسیح کے پجاریو!‘‘درخت سے سالارِ اعلیٰ نے چلا کر کہا ۔’’تمہاری مدد کیلئے مدائن سے فوج آ گئی ہے۔‘‘عیسائی نعرے لگانے لگے اور تھوڑی دیر بعد جابان کا لشکر عیسائیوں کے پڑاؤ میں آگیا۔ جابان نے اس تمام لشکر کی کمان لے لی اور عیسائی سرداروں سے کہا کہ اب وہ اس کے حکم اور ہدایات کے پابند ہوں گے۔ جابان نے عیسائیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے پرجوش تقریر کی جس میں اس نے انہیں بتایا کہ اب انہیں پہلی تینوں شکستوں کا انتقام لینا ہے۔’’اور تم اپنی جوان عورتوں کو بھی ساتھ لائے ہو۔‘‘ جابان نے کہا۔’’ اگر تم ہار گئے تو یہ عورتیں مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہوں گی۔انہیں وہ لونڈیاں بنا کر لے جائیں گے انہی کی خاطر اپنی جانیں لڑا دو۔‘‘عیسائیوں کی صفوں میں جوش و خروش بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ تو پہلے ہی انتقام کی آگ میں جل رہے تھے اب اپنے ساتھ فارس کاایک منظم لشکر دیکھ کر وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے تھے۔مدینہ کی فوج کی پیش قدمی خاصی تیز تھی۔ مثنیٰ اپنے دستے کے ساتھ دائیں طرف کہیں آگے نکل گیا تھا۔ وہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ درختوں کی بہتات تھی ‘ہری جھاڑیاں اور ا ونچی گھاس بھی تھی۔ تھوڑی دور جاکر آدمی نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا ‘یہ وہ علاقہ تھا جہاں فارس کے بڑے بڑے افسر سیر و تفریح اور شکار وغیرہ کیلئے آیا کرتے تھے ۔الیس سے آگے حیرہ ایک شہر تھا جس کی اہمیت تجارتی اور فوجی لحاظ سے خاصی زیادہ تھی ۔آبادی کے لحاظ سے یہ عیسائیوں کا شہرتھا جو ہر لحاظ سے خوبصورت شہر تھا۔’’اور یہ بھی ذہن میں رکھو ۔‘‘جابان لشکر کے سالاروں سے کہہ رہا تھا ۔’’کہ آگے حیرہ ہے ۔تم جانتے ہو کہ حیرہ ہماری بادشاہی کا ایک ہیرہ ہے۔اگرمسلمان اس شہر تک پہنچ گئے تو نا صرف یہ کہ کسریٰ کا دل ٹوٹ جائے گا بلکہ فارس کے پورے لشکر کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے،حیرہ مدائن سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘سبزہ زار میں ایک گھوڑ سوار جیسے تیرتا چلا آرہاہو۔خالد ؓاپنے لشکر کے وسط میں تھے کسی اور کو اس سوارکی طرف بھیجنے کے بجائے انہوں نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور اس سوار کو راستے میں جا لیا۔وہ مثنیٰ بن حارثہ کے دستے کا ایک سوار تھا۔ ’’ابنِ حارثہ کا پیغام لایا ہوں۔‘‘ سوار نے خالدؓ سے کہا۔’’الیس کے میدان میں آتش پرستوں کی فوج بھی آ گئی ہے۔ ابنِ حارثہ نے کہا ہے کہ سنبھل کر آگے آئیں۔‘‘’’فوراً واپس جاؤ!‘‘ خالدؓ نے سوار سے کہا ۔’’اور مثنیٰ سے کہو کے اڑ کر مجھ تک پہنچے۔‘‘
مثنیٰ کا قاصد یوں غائب ہو گیا جیسے اسے زمین نے نگل لیا ہو۔ اس کے گھوڑے کے ٹاپ کچھ دیر تک سنائی دیتے رہے جو درختوں میں سے گزرتی ہوا کی شاں شاں میں تحلیل ہو گئے۔خالدؓ واپس اپنے لشکر میں آئے اور اپنے سالاروں کو بلا کر انہیں بتایا کہ آگے صرف بکر بن وائل کے لوگ ہی نہیں بلکہ مدائن کا لشکر بھی ان کے ساتھ آ ملا ہے۔انہوں نے اپنے سالاروں کو یہ بھی بتایا کہ مثنیٰ بن حارثہ آرہا ہے۔انہوں نے پہلے کی طرح سالار عاصم بن عمرو اور سالار عدی بن حاتم کو دائیں اور بائیں پہلو میں رکھا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مثنیٰ یوں آن پہنچا جیسے وہ واقعی اڑ کر آیا ہو۔’’ابنِ حارثہ!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ کیا تم نے اپنی آنکھوں سے فارس کے لشکر کوعیسائیوں کے ساتھ دیکھا ہے؟‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے صرف دیکھا ہی نہیں تھا بلکہ اس نے جانبازی کا مظاہرہ کرکے بہت کچھ معلوم کر لیا تھا ۔اس نے اپنے جاسوس آگے بھیج رکھے تھے انہوں نے اسے اطلاع دی تھی کہ مدائن کی فوج عیسائیوں سے آملی ہے۔مثنیٰ نے پوری معلومات حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔رات کو اس نے اپنے ساتھ تین سوار لیے اور دشمن کے پڑاؤ کے قریب جا کر گھوڑوں سے اترے اور انہیں ایک درخت کے ساتھ باندھ دیااور وہاں سے وہ چھپ چھپ کر اور جہاں ضرورت پڑی وہاں پیٹ کے بل رینگ کر پڑاؤ کے نزدیک چلے گئے۔ آتش پرستوں کے سنتری پڑاؤ کے اردگرد گھوم پھر رہے تھے یہ صفر ۱۲ ہجری کے وسط کی راتیں تھیں ۔آدھے چاند کی چاندنی تھی جو فائدہ بھی دے سکتی تھی نقصان بھی۔دو سنتری ان کے سامنے سے گزر گئے ،انہیں پیچھے سے جا کر پکڑا جا سکتا تھا لیکن ان کے پیچھے پیچھے ایک گھوڑ سوار آرہا تھا ۔اس نے اپنے سنتریوں کو آواز دے کر روک لیااور ان کے پاس آ کر انہیں بیدار اور ہوشیار رہنے کو کہنے لگا ۔وہ کوئی کماندار معلوم ہوتا تھا ۔’’مسلمان رات کو تو حملہ نہیں کر سکتے۔‘‘ایک سنتری نے کہا۔’’ پھر بھی ہم بیدار اور ہوشیار ہیں۔‘‘’’تم سپاہی ہو ۔‘‘گھوڑ سوار نے حکم کے لہجے میں کہا ۔’’جو ہم کماندار جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے۔مسلمانوں کا کچھ پتا نہیں وہ کس وقت کیاکر گزریں۔انہیں عام قسم کا دشمن نہ سمجھوا ورتم نے مثنیٰ بن حارثہ کا نام نہیں سنا ؟کیا تم نہیں جانتے کہ کسریٰ نے مثنیٰ کے سر کی کتنی قیمت مقررکر رکھی ہے؟ تم اگراسے زندہ یامردہ پکڑ لاؤ یا اس کا صرف سر پیش کر دو تو تم مالامال ہو جاؤ گے۔لیکن تم اسے پکڑ نہیں سکو گے۔ وہ جن ہے کسی کو نظر نہیں آتا……چلو آگے چلو۔ اپنے علاقے کا گشت کرو۔‘‘سنتری آگے نکل گئے اور گھوڑ سوار وہیں کھڑ ا رہا۔مثنیٰ بن حارثہ اپنے تین جانبازوں کے ساتھ ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔گھوڑ سوار اس طرف جانے کے بجائے جس طرف سنتری چلے گئے تھے دوسری طرف چلا گیا۔گھوڑے پر اسے پکڑناخطرے سے خالی نہیں تھا۔ مثنیٰ نے اپنے ایک جانباز کے کان میں کچھ کہااور گھوڑ سوار کماندار کو دیکھا ۔وہ آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا۔
مثنیٰ قریب کے ایک درخت پر چڑھ گیا۔ اس کے جانباز نے ذرا اونچی آواز میں کچھ کہا ۔کماندار نے گھوڑا روک لیا۔جانباز نے اسے واپس آنے کو کہا۔وہ اس آواز پر واپس آرہا تھا اچانک درخت سے مثنیٰ کودا اور گھوڑ سوار کے اوپر گرااور اسے گھوڑے سے گرا دیا۔مثنیٰ کے ایک آدمی نے دوڑ کر گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور دو نے کماندار کو دبوچ لیااور اس کا منہ باندھ دیا۔اسے اور اسکے گھوڑے کو وہاں سے دور لے گئے۔ انہوں نے اپنے گھوڑے کھولے اور وہاں سے اتنے دور نکل گئے جہاں وہ چیختا چلاتا تو بھی اس کی آواز اس کے پڑاؤ تک نہ پہنچتی ۔’’زندہ رہنا چاہتے ہو تو بتاؤ کہ تمہاری فوج کہاں سے آئی ہے؟‘‘مثنیٰ نے تلوار کی نوک اس کی شہہ رگ پر رکھ کر پوچھا۔وہ بہمن جاذویہ کے لشکر کا کماندار تھا۔اس نے جان بچانے کی خاطر سب کچھ بتا دیا‘ یہ بھی کہ جاذویہ مدائن چلا گیا ہے اور اس کی جگہ جابان سالار ہے اور بکر بن وائل کا لشکرا نہیں اتفاق سے مل گیا ہے ۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اس قبیلے کے کچھ سردار مدائن سے فوج اپنے ساتھ لائیں گے ۔’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ مدینے کی فوج کہاں ہے ؟‘‘مثنیٰ نے ا س سے پوچھا۔’’وہ بہت دور ہے۔‘‘کماندار نے جواب دیا۔’’ہم اس پر حملہ کرنے جا رہے ہیں‘شاید دو روز بعد۔‘‘جب اس سے ہر ایک بات معلوم ہو گئی تو اسے ہلاک کر کے لاش وہیں دفن کر دی گئی۔سورج طلوع ہو چکا تھا جب مثنیٰ بن حارثہ خالد ؓکو یہ روداد سنا رہا تھا۔’’تعداد کا اندازہ کیا ہے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’صحیح اندازہ مشکل ہے ابنَِ ولید!‘‘ مثنیٰ نے کہا۔’’ہماری اور ان کی تعداد کا تناسب وہی ہے جو پہلے تھا۔ وہ ہم سے چار گنا نہیں تو تین گنا سے یقینا زیادہ ہیں ۔‘‘خالدؓنے اپنی فوج کو روکانہیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو اور دشمن کو بے خبری میں جا لیں۔ انہوں نے چلتے چلتے اپنے سالاروں سے مشورے لیے‘ خود سوچا اور احکام دیئے۔ ان عربوں کے متعلق آتش پرستوں کے سب سے زیادہ جری اور تجربہ کار سالار ہرمز نے کہا تھا کہ یہ لوگ صحرا کے رہنے والے ہیں اور صحرا میں ہی لڑ سکتے ہیں۔ ہر مز نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ انہیں دجلہ اور فرات کے اس علاقے میں لڑائے گا جس میں درخت‘ جھاڑیاں ‘گھاس اور کہیں کہیں دلدل ہے ۔لیکن ہرمز کے خواب اسی سر سبز اور دلدلی
علا قے میں ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔
’’خداکی قسم! تم اب دریاؤں اور جنگلوں میں بھی لڑ سکتے ہو۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اس زمین پر تم نے اتنے طاقتور دشمن کوتین شکستیں دیں ہیں ۔تم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے ہمارے دشمن کے لڑنے کا طور طریقہ کیا ہے۔ مثنیٰ نے بتایا ہے کہ دشمن اگر اسی میدان میں ہوا جہاں وہ پڑاؤ کیے ہوئے ہے تو یہ ذہن میں رکھ لو کہ یہ میدان دو دریاؤں )دریائے فرا ت اور دریائے خسیف(کے درمیان ہے ۔میدان ہموار ہے ۔لیکن درختوں اور سبزے کی بہتات ہے۔دوڑتے گھوڑوں پر تمہیں درختوں کا اور ان کے جھکے ہوئے ٹہنیوں کا خیال رکھنا ہوگا ورنہ ان ٹہنیوں سے ٹکرا کر مارے جاؤ گے۔‘‘’’میدان محدود بھی ہے۔ہمیں دشمن کو کسی قسم کا دھوکا دینے کا اور چالیں چلنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ ہمیں آمنے سامنے کا معرکہ لڑنا پڑے گا۔ابنِ عمرو اور ابنِ حاتم پہلوؤں کے سالار ہوں گے ۔انہیں جب بھی اور جیسا بھی موقع ملا ،یہ اس کے مطابق نقل و حرکت کریں گے ۔اپنے کمانداروں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آمنے سامنے کی لڑائی میں جذبے کی شدت اور جسمانی پھرتی اور مضبوط حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ابنِ حارثہ !تم ہمارے پابند ہو کر نہیں لڑو گے ۔تمہارے ساتھ پہلے طے ہو چکا ہے کہ تم اپنے انداز کا معرکہ لڑو گے لیکن تم یہ احتیاط کرو گے کہ تمہارے سوار ہمارے راستے میں نہ آئیں۔ تم نے اپنے سواروں کو یہی تربیت دے رکھی ہے انہیں اسی طرح استعمال کرو لیکن اندھا دھند نہیں۔نظم و ربط بہت ضروری ہے۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو۔ تو نے جیسا کہا ہے تجھے ویسا ہی نظر آئے گا۔ کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں اپنے دستے میں چلا جاؤں؟‘‘ ’’میں تجھے اﷲ کے سپرد کرتا ہوں حارثہ کے بیٹے!‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’جا میدانِ جنگ میں ملیں گے یا میدانِ حشر میں۔‘‘مثنیٰ نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور پلک جھپکتے نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔اس کے ساتھ اس آتش پرست کماندار کا گھوڑا بھی تھا جسے اس نے قتل کر دیا تھا وہ یہ گھوڑا خالد ؓکے لشکر کو دے گیا تھا۔اتنی تھوڑی تعدداد میں اور اتنے محدود وسائل کے بھروسے مدینے کے مجاہدین اس لشکر پر حملہ کرنے جا رہے تھے جس کی تعداد ان سے تین گنا سے بھی زیادہ تھی اور جس کے ہتھیار بھی بہتر تھے اور جنکے سر لوہے کی خودوں سے اور چہرے لوہے کی زنجیروں سے ڈھکے ہوئے تھے ۔ان کی ٹانگوں پر جانوروں کی موٹی اور خشک کھالوں کے خول چڑھے ہوئے تھے ۔مجاہدین کے دلوں میں کوئی خوف نہ تھا ‘ذہنوں میں کوئی وہم اور وسوسہ نہ تھا۔ ان کے سامنے ایک پاک اور عظیم مقصد تھا ان کی نگاہوں میں ان کے اﷲ اور رسولﷺ اور اپنے مذہب کی عظمت تھی ۔اپنی جانوں کی کوئی اہمیت نہ تھی سوائے اس کے کہ ان کی جان اﷲ کی دی ہوئی ہے اور اسے اﷲ کی راہ میں ہی قربان کر نا ہے۔ اپنی زندگی دے کر وہ اسلام کو زندہ رکھنے کا عہد کیے ہوئے تھے ۔وہ گھروں سے اپنی بیویوں سے اپنی ماؤں‘ بہنوں اور بیٹیوں سے دور ہی دور ہٹتے جا رہے تھے۔ان کے شب وروز خاک و خون میں گزر رہے تھے ۔زمین ان کا بچھونا تھی اور اوپر آسمان تھا‘باطل کی چٹانوں سے ٹکرانا کفر کے طلاطم کو چیرنا اور دشمنانِ دین کے عزائم کو کچلنا ان کی عبادت تھی۔ان کی زبانوں پر اﷲ کا نام تھا‘ وہ تلوار کا وار کرتے تھے تو اﷲ کا نام لیتے تھے اور تلواروں سے کٹ کر گرتے تھے تو اﷲ کا نام لیتے تھے۔ زخمی ہوتے تو اﷲ کو پکارتے تھے۔لاریب ایمان کی پختگی اور جذبے کی دیوانگی ان کے ہتھیار تھے اور یہی ان کی ڈھا ل تھی۔
وہ اس وقت دشمن کے سامنے پہنچے جب دشمن کا دوپہر کاکھانا تیار ہو چکا تھا ۔ان کے سالار جابان کے حکم سے لشکر کیلئے خاص کھانا تیار کیا گیا تھا۔ مؤرخ طبری ‘ابنِ ہشام اور محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں کہ فارس کی فوج کو سانڈوں کی طرح پالاجاتا تھا۔ سپاہیوں کو مرغن کھانے کھلائے جاتے تھے ۔فارس کے شہنشاہوں کا اصول بلکہ عقیدہ تھا کہ مضبوط اور مطمئن فوج ہی سلطنت ، تخت و تاج کی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے۔فارسی سالار جابان نے اس سے زیادہ مرغن اور پر تکلف کھانا تیار کرایا تھا جو فوج کو عام طور پر ملا کرتا تھا۔
اس کھانے کا ذکر تاریخوں میں بھی آیا ہے ۔بے شمار جانور ذبح کر دیئے گئے تھے ۔گوشت کے علاوہ کئی چیزیں پکائی گئی تھیں۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ جابان اپنے لشکر کی خاطر تواضع کر رہا تھا کہ سپاہی خلوصِ دل سے لڑیں گے اور اچھے سے اچھا کھانے کیلئے زندہ رہیں گے۔کھانا چونکہ خاص تھا اس لئے اس کی تیاری میں معمول سے زیادہ وقت لگ گیا۔ دن کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا جب کھانا تیار ہوا۔لشکر بھوک سے بے تاب ہو رہا تھا ۔جب لشکر کو اطلاع دی گئی کہ کھانا تیار ہو گیا ہے اور لشکر کھانے کیلئے بیٹھ جائے عین اس وقت گشتی سنتریوں نے اطلاع دی کہ مسلمانوں کی فوج سر پر آگئی ہے۔خالد ؓاپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تھے کہ دشمن کو ان کی آمد کی خبر قبل از وقت نہ ہو۔ انہوں نے دشمن کو بے خبری میں جا لیا تھا۔ آتش پرستوں اور عیسائیوں میں ہڑبونگ سی بپا ہو گئی۔ سالار اور کماندار چلا چلا کر دونوں لشکروں کو جنگ کی تیاری اور صف بندفی کا حکم دے رہے تھے مگر لشکر کے سامنے جو رنگا رنگ کھانے رکھے جا رہے تھے انہیں لشکر چھوڑنے پر آمادہ نہ تھا۔ طبری کی تحریر شاہد ہے کہ لشکر سے بڑی بلند آواز اٹھی کہ مسلمانوں کے پہنچنے تک وہ کھانا کھا لیں گے ۔بیشتر سپاہی کھانے میں مصروف ہو گئے۔خالدؓ کی فوج جنگی ترتیب میں بالکل سامنے آگئی ۔یہ فوج حملے کیلئے بالکل تیار تھی۔ آتش پرستوں اور عیسائیوں میں وہ بھی تھے جو مسلمانوں سے شکست کھا چکے تھے۔ انہوں نے اپنی فوج کو مسلمانوں کی تلواروں اور برچھیوں سے کٹتے دیکھاتھا۔وہ مسلمانوں کو دیکھ کر ہی ڈر گئے تھے۔’’کھانا چھوڑ دو۔‘‘ان میں سے کئی ایک نے واویلا بپا کر دیا۔’’ ان مسلمانوں کو موقع نہ دو ۔کاٹ دیں گے ……مار دیں گے ……تیار ہو جاؤ۔‘‘ وہ کھانا چھوڑ کر لڑنے کی تیاری کرنے لگے۔ باقی لشکر اپنے سالاروں اور کمانداروں کا بھی حکم نہیں مان رہا تھا ،وہ سب بھوک سے مرے جا رہے تھے۔ لیکن جنہوں نے مسلمانوں کے ہاتھ دیکھے ہوئے تھے ان کی خوف ذدہ ہڑبونگ دیکھ کر سارا لشکر کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ مدینے کے مجاہدین اور آگے چلے گئے ۔خالد ؓ انہیں احکام دے رہے تھے۔دشمن نے ابھی گھوڑوں پر زینیں کسنی تھیں اور سارے لشکر کو زرہ پہننی تھی۔جابان نے مہلت حاصل کرنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اس دور کے رواج کے مطابق عیسائیوں کے سردار عبدالاسود عجلی کو ذاتی مقابلے کیلئے آگے کر دیا۔
’’کس میں ہمت ہے جو میرے مقابلے کیلئے آئے گا۔‘‘عبدالاسود نے اپنے لشکر سے آگے آ کر مسلمانوں کو للکار ا۔’’جسے میری تلوار سے کٹ کر مرنے کا شوق ہے وہ آگے آ جائے۔‘‘’’میں ہوں ولید کا بیٹا !‘‘خالدؓ نے نیام سے تلوار نکال کر بلند کی اور گھوڑے کو ایڑھ لگائی ۔’’میں ہوں جس کی تلوار تجھ جیسوں کے خون کی پیاسی رہتی ہے۔گھوڑے کی پیٹھ پر رہ ،اور اپنا نام پکار۔‘‘’’میں ہوں عبدالاسود عجلی ۔‘‘اس نے بلند آواز سے کہا۔’’ نام عجلان کا بلند ہو گا۔‘‘خالدؓ کا گھوڑا س کے قریب سے گزر گیا۔
آگے جا کر مڑا ،اور خالدؓ نے تلوار تان لی ،عبدالاسود نے بھی تلوار نکال لی تھی، خالدؓ نے دوڑتے گھوڑے سے اس پر وار کیا ۔لیکن یہ وار خطا گیا ،عبدالاسود نے بھی خالد ؓکی طرف گھوڑا دوڑادیا اور ایک بار پھر دونوں سوار آمنے سامنے آئے۔اب کہ عبدالاسود نے وار کیا۔خالدؓ نے وار اس طرح روکا کہ ان کی تلوار عبدالاسود کی تلوار کے دستے پر لگی جہاں اس عیسائی سردار کا ہاتھ تھا اس کے اس ہاتھ کی دو انگلیوں کے اوپر کے حصے صاف کٹ گئے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔عبدالاسود نے بھاگ کر نکلنے کے بجائے بلند آواز میں کہا کہ اسے برچھی دی جائے۔اس کے لشکر میں سے ایک آدمی نکلا جس کے ہاتھ میں برچھی تھی ۔وہ دوڑتا ہوا اپنے سردار کی طرف آیا۔ خالد ؓنے اس کا راستہ روکنے کیلئے گھوڑے کا رخ اس کی طرف کر دیا ۔وہ آدمی پیادہ تھا ۔اس نے خالد ؓسے بچنے کیلئے برچھی اپنے سردار کی طرف پھینکی ۔خالدؓ پہنچ گئے تھے برچھی آرہی تھی جسے خالدؓ کے سر کے اوپر سے گزرنا تھا ۔عبدالاسود نے برچھی پکڑنے کیلئے دونوں ہاتھ بلند کر رکھے تھے۔ خالدؓ نے برچھی کو تلوار ماری ۔برچھی کٹ تو نہ سکی لیکن انکا مقصد پورا ہو گیا۔برچھی راستے میں رک گئی اور گر پڑی۔ خالدؓ نے گھوڑے کا رُخ عبدالاسود کی طرف کر دیا۔ اب یہ شخص وار سے صرف بچ سکتا تھا وار کو روکنا اب اس کے بس کی بات نہیں تھی۔خالدؓ نے بغرضِ تماشہ اسے اِدھر اُدھر بھگایا۔’’ابنِ ولید!‘‘خالدؓ کے ایک سالار نے بلند آواز سے کہا۔’’ اسے ختم کرو…… دشمن تیار ہو رہا ہے۔‘‘ خالدؓ نے گھوڑے کی رفتار تیز کرکے اور اسود کے قریب سے گزرتے تلوار برچھی کی طرح ماری ۔عبدالاسود نے گھوڑے کے ایک پہلو پر جھک کر بچنے کی کوشش کی لیکن خالدؓ کی تلوار اسکے دوسرے پہلو میں اتر گئی۔ عبدالاسود سنبھل گیا لیکن وہ بھاگا نہیں۔خالدؓ نے اب پیچھے سے آکر اس پر ایساوار کیا کہ اس کی گردن اس طرح کٹی کہ سر ڈھلک کر ایک کندھے پر چلا گیا گردن پوری نہیں کٹی تھی۔ادھر عیسائیوں کا سردار عبدالاسود گھوڑے سے گرا اور دریائے فرات کی طرف سے بے شمار گھوڑوں کے دوڑنے کا شور سنائی دیا ۔گھوڑے سر پٹ دوڑتے آ رہے تھے ۔اس پہلو پر عیسائیوں کا لشکر تھا ،گھوڑ سواروں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ۔گھوڑے عیسائیوں کے لشکر میں جا گھسے اور سواروں کی برچھیوں نے انہیں چھلنی کرنا شروع کر دیا۔عیسائیوں کی توجہ سامنے مسلمانوں کی طرف تھی،وہ مقابلے کیلئے سنبھل نہ سکے۔’’میں ہوں حارثہ کا بیٹا مثنیٰ!‘‘ اس شورو غو غا میں سے ایک للکار سنائی دے رہی تھی۔’’ ہم بھی تم میں سے ہیں…… میں ہوں مثنیٰ بن حارثہ۔‘‘
یہ مثنیٰ کا سوار دستہ تھا جسے اس نے خالد ؓکو بتا کر لشکر سے الگ رکھا تھا ۔وہ چھاپا مارجنگ لڑنے کا ماہر تھااور اس جنگ میں لڑائی کا یہ طریقہ بے حد ضروری تھا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ میدانِ جنگ بمشکل دو میل وسیع تھا ‘اس کے دائیں اور بائیں دریا تھے۔خالدؓ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اس میدان میں وہ اپنی مخصوص جنگی چالیں نہیں چل سکیں گے۔اپنے سالاروں سے انہوں نے کہا تھا کہ آمنے سامنے کی لڑائی میں وہ صرف اس صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ دشمن پر بہت تیز اور شدید حملہ کیاجائے بلکہ حملہ موج دو موج ہو یعنی ایک دستے دشمن سے ٹکر لے کر پیچھے ہٹے اور دوسرا دستہ حملہ کرے خالدؓ نے اپنی فوج کو اسی قسم کے حملوں کی تربیت دے رکھی تھی اور اکثر اس کی مشق کراتے رہتے تھے۔خالد ؓنے حملے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے پہلوؤں کے دستوں کو بھی اس حملے میں جھونک دیا۔ حملے کی پہلی فوج کی قیادت خالدؓ نے خود کی ۔پہلوؤں کے سالاروں عاصم اور عدی نے بھی اپنے اپنے دستے کے ساتھ جاکر خود حملہ کیا۔ آتش پرستوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ وہ تازہ دم تھے مجاہدین تھکے ہوئے تھے لیکن مسلمانوں کو یہ فائدہ مل گیا کہ آتش پرست ابھی پوری طرح لڑنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔یورپی مؤرخوں نے صاف لکھا ہے کہ فارس کی فوج ذہنی طور پر بھی لڑنے کیلئے تیار نہیں تھی ۔یہ فوج بھوکی تھی اور اسے وہ کھانا چھوڑنا پڑا تھا جو اس کیلئے خاص طور پر پکوایا گیا تھا۔ اس کھانے کیلئے تو انہوں نے مسلمانوں کی بھی پرواہ نہیں کی تھی۔مسلمانوں کو اس پہلے حملے میں خون کی خاصی قربانی دینی پڑی ۔آتش پرستوں نے تیار نہ ہوتے ہوئے بھی کئی مسلمانوں کو گھائل کر دیا۔ خالدؓپیچھے ہٹے اور دوسرے دستوں کر آگے بڑھایا۔آتش پرستوں کو تعدادکی افراط کا فائدہ حاصل تھا ۔ایک ایک مجاہد کا مقابلہ چار چار پانچ پانچ آتش پرستوں اور عیسائیوں سے تھا ۔دشمن کو اس فائدے سے محروم کر نے کیلئے مثنیٰ کا سوار دستہ سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھا ۔اس نے سواروں کو متعدد ٹولیوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔یہ ٹولیاں باری باری گھوڑے سر پٹ دوڑاتی بگولوں کی طرح کبھی پہلو سے کبھی عقب سے آتیں اور کفار کے کئی آدمیوں کو برچھیوں سے کاٹتی گزر جاتیں۔ اس طرح دشمن کی توجہ اپنے عقب پر بھی چلی گئی لیکن مثنیٰ کے سوار رک کر نہیں لڑتے تھے۔ان سواروں نے دشمن کی ترتیب درہم برہم کیے رکھی ۔مثنیٰ کی اس کارروائی سے خالدؓ نے پورا فائدہ اٹھایا۔’’بنو بکر!‘‘ میدانِ جنگ میں ایک اعلان سنائی دینے لگا ۔’’اور زرتشت کے پجاریو !جم کر لڑو۔مدائن سے بہمن جاذویہ کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘یہ اعلان بار بار سنائی دیتا تھا۔خالدؓ کو یہ اعلان کچھ پریشان کر رہا تھا ۔انہوں نے پہلوؤں کے سالاروں کو پیغام بھیجے کہ ہر طرف دھیان رکھیں۔ خالدؓ نے اپنے محفوظہ کے دستوں کو بھی خبر دار کر دیا کہ عقب سے حملے کا خطرہ ہے۔
تقریباً تما م مؤرخین نے لکھا ہے کہ بہمن جاذویہ مدائن سے کوئی لشکر نہیں لا رہا تھا کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ وہ جابان کی مدد کیلئے کیوں نہیں پہنچ سکا تھا ۔ایک مؤرخ یاقوت نے لکھا ہے کہ بہمن جاذویہ اپنے لشکر میں شامل ہونے کیلئے واپس آ رہا تھا راستے میں اسے اس لڑائی سے بھاگے ہوئے کچھ سپاہی مل گئے۔ جنہوں نے اسے الیس کی جنگ کا حال سنایا ،جاذویہ آگے آنے کے بجائے وہیں رک گیا اس کا مقصد یہ تھا کہ شکست اس کے کھاتے میں نہ لکھی جائے۔ بہرحال اس اعلان نے کہ مدائن سے جاذویہ فوج لا رہا ہے مسلمانوں میں نئی روح پھونک ڈالی۔خالدؓنے اعلان کیا کہ مدائن کے لشکر کے پہنچنے سے پہلے پہلے اس لشکر کا صفایا کر دو لیکن آتش پرست اور عیسائی چٹانوں کی طرح ڈٹے ہوئے تھے۔خالد ؓ دعا تو کرتے ہی تھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ خالد ؓگھوڑے سے اترے ‘زمین پر گھٹنے ٹیکے اور ہاتھ بلند کر کے دعا کی ۔’’خدائے ذوالجلال! ہمت عطا فرما کہ ہم اس لشکرکو نیچا دِکھا سکیں ۔میں عہدکرتا ہوں کہ میں تیرے دین کے دشمنوں کے خون کا دریا بہا دوں گا۔‘‘اب کہ خالدؓ نے نئے جوش و خروش سے حملے کروائے ۔پہلوؤں کے دونوں سالاروں نے دشمن کو نیم دائرے میں لے لیا۔ عقب سے مثنیٰ بن حارثہ کے سواروں نے اپنی چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھیں۔دو تین گھنٹے بعد صاف نظر آنے گا کہ دشمن کے قدم اُکھڑ رہے ہیں۔چونکہ دشمن کی تعداد زیادہ تھی اس لئے اس کے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔یہ حالت دیکھ کر عیسائیوں اور آتش پرستوں کے وہ لوگ جو پہلی تین جنگوں سے زندہ بھاگ نکلے تھے ،حوصلہ ہار بیٹھے اور جانیں بچانے کیلئے میدانِ جنگ سے کھسکنے لگے،پھر لشکر کے دوسرے لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے ۔یہ صورت دیکھ کر مسلمانوں نے اپنے حملوں میں مزید شدت پیدا کردی۔پھر اچانک یوں ہوا کہ کفار نے بھاگنا شروع کر دیا۔’’تعاقب کرو!‘‘خالدؓ نے اپنے تمام لشکر میں قاصد اس پیغام کے ساتھ دوڑا دیئے اور بلند آواز میں اعلان بھی کرایا۔’’انہیں بھاگنے مت دو……انہیں قتل بھی نہ کرو……زندہ پکڑ لاؤ۔‘‘اس اعلان کا کفار پر ایک اثر تو یہ ہوا کہ انہوں نے بھاگنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے شروع کر دیئے۔ بعض نے خوفزدہ ہو کر بھاگ اٹھنا بہتر سمجھا۔مثنیٰ کے سواروں نے انہیں گھیر گھیر کر پیچھے لانا شروع کر دیا۔جنگ ختم ہو چکی تھی۔میدانِ جنگ لاشوں اور تڑپتے اور بے ہوش زخمیوں سے اٹا پڑا تھا۔ایک طرف وہ کھانا محفوظ پڑا تھا جو دشمن کے لشکر کیلئے تیار کیا گیا تھا ۔خالدؓ کے حکم سے مجاہدین کھانے پر بیٹھ گئے ۔جو سپاہی بھاگنے والوں کو پکڑ پکڑ کر لا رہے تھے وہ بھی کھانا کھانے لگے۔خالدؓ نے مجاہدین سے کہا۔’’اﷲنے یہ کھانا تمہارے لیے تیار کرایا تھا۔اطمینان سے کھاؤ۔‘‘مسلمان مختلف کھانے دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے،انہوں نے ایسے کھانے پہلے کبھی دیکھے ہی نہیں تھے ۔وہ جَو کی روٹی، اونٹنی کا دودھ اور کھجوریں کھانے والے لوگ تھے۔
مؤرخوں نے لکھا ہے کہ دشمن کے جن آدمیوں کو زندہ پکڑ کر لایا جا رہا تھا انہیں خالد ؓکے حکم سے خسیف کے کنارے لے جاتے اور ان کے سر اس طرح کاٹ دیئے جاتے کہ سر دریا میں گرتے تھے۔ ان کے دھڑ اس طرح کنارے پر پھینکے جاتے کہ ان کا خون دریا میں جاتا تھا ،اس طرح قتل ہونے والوں کی تعداد ہزاروں کے حساب سے تھی۔غیر مسلم مؤرخوں اور مبصروں نے خالد ؓکے اس حکم کو ظالمانہ فعل کہا ہے لیکن خالدؓ کہتے تھے کہ انہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ وہ کفار کے خون کادریا بہا دیں گے۔دریاکے اوپر بند بندھا ہوا تھا۔جس نے دریا کا پانی روکا ہوا تھا اس لیے خون دریا میں جمتا جا رہا تھا ۔کسی نے خالد ؓکو مشورہ دیا کہ خون کا دریا صرف اس صورت میں بہے گا کہ بند کھول دیا جائے چنانچہ بند کھول دیا گیا ۔جب اتنا زیادہ خون پانی میں ملا تو پانی سرخ ہو گیا اور خون کا دریا بہنے لگا۔اسی لیے تاریخ میں اس دریا کو دریائے خون لکھا گیا ہے۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے بچ نکلنے والوں اور ہتھیار ڈالنے والوں کا قتلِ عام اس لیے کرایا تھا کہ یہ سپاہی ایک جنگ سے بھاگ کر اگلی جنگ میں پھر سامنے آ جاتے تھے ۔اس کا علاج خالدؓ نے یہ سوچا کہ دشمن کے کسی ایک بھی سپاہی کو زندہ نہ رہنے دیا جائے ۔کہتے ہیں کہ تین دن آتش پرستوں اور عیسائیوں کو قتل کیا جاتا رہا۔اس طرح قتل ہونے والوں کی تعداد ملاکر دریائے خون کی جنگ میں جو آتش پرست اور عیسائی مارے گئے ان کی تعداد ستّر ہزار تھی۔شہنشاہِ فارس اردشیرجونوشیرواں عادل کا پرپوتا تھا،ایسے مرض میں مبتلا ہو گیا تھا جو شاہی طبیبوں کے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔اتنا تو وہ جانتے تھے کہ پے در پے تین شکستوں کا صدمہ ہے لیکن صدمہ آخر جسمانی مرض کی صورت اختیار کر گیا تھا۔اس کا علاج دوائیوں سے ہونا چاہیے تھا لیکن یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ دوائیوں کونہیں بلکہ دوائیاں اسے کھا رہی ہوں۔
اردشیر پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔وہ جو اپنے وقت کا فرعون تھا ،سحر کے دیئے کی طرح ٹمٹما رہا تھا۔طبیب اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ اردشیر تک جنگ کی کوئی بری خبر نہ پہنچے لیکن یہ ممکن نہ تھا۔وہ جب بولتا تھاتو یہی بولتا تھاکہ آگے کی کیاخبر ہے؟’’خبریں اچھی آرہی ہیں۔‘‘طبیب جو ہر وقت حاضر رہتا تھا اسے جواب دیتا اور اسے صدمے سے بچانے کیلئے کبھی کہتا ۔’’مسلمان پچھتا رہے ہیں کہ وہ کس دیو کو چھیڑ بیٹھے ہیں۔‘‘کبھی کہتا ۔’’فارس کی شہنشاہی ایک چٹان ہے۔اس سے جو بھی ٹکرایا اس نے اپنا سر پھوڑ لیا۔‘‘اور کبھی اس کی چہیتی ملکہ یہ کہہ کر اس کا دل مضبوط کرتی ۔’’عرب کے بدو کسریٰ کے جاہ و جلال کی تاب نہیں لا سکتے۔‘‘
ان تسلیوں اور ان حوصلہ افزاء الفاظ کا کسریٰ اردشیر پر دوائیوں کی طرح الٹا یہی اثر ہو رہا تھا۔اس کی خاموشی نہ ٹوٹ سکی اور اس کے چہرے پر اداسیوں کی پر چھائیاں کم ہونے کے بجائے گہری ہوتی گئیں۔اس کی من پسند رقاصہ نے اس کے سامنے حسین ناگن کی طرح اپنے جسم کو بہت بل دیئے ۔اس نے اپنا جسم نیم عریاں کیا۔اردشیر کے علیل چہرے پر اپنے عطر بیز ریشم جیسے ملائم بالوں کا سایہ کیا۔پھر عریاں ہو کر رقص کی اداوؤں سے کسریٰ کے روگی وجود کو سہلانے کے جتن کیے مگر ایسے لگتا تھا جیسے مورنی جنگل میں ناچ رہی ہو اور ناچ کا طلسم جنگل کی ہواؤں میں اڑتا جا رہا ہو۔اس کی پسندیدہ مغنّیہ جو اردشیر کو مسحور کر لیا کرتی تھی ، اس کا سحر بھی رائیگاں گیا۔یہ رقاصہ اور مغنّیہ فارس کے حسن کے شاہکار تھے۔فارس کا حسن تو کسریٰ کے حرم میں پھولوں کی طرح کھِلا ہوا تھا۔ان پھولوں میں ادھ کھِلی کلیاں بھی تھیں،اردشیر ان کے مخملیں جسموں کی بو باس سے مدہوش رہا کرتا تھا ،مگر اب ایک ایک کو اسکی تنہائی کا ساتھی بنایا گیا تو اردشیر نے کسی کو بھی قبول نہ کیا۔اس کے سرد جسم میں نوخیز جوانی کی تپش ذرا سی حرارت بھی پیدا نہ کر سکی۔’’بیکار ہے…… سب بیکار ہے۔‘‘ملکہ نے باہر آ کر اس بوڑھے شاہی طبیب سے کہا جس کے متعلق فارس کے کونے کونے تک مشہور تھا کہ اسے دیکھ کر موت منہ موڑ جاتی ہے ۔ملکہ نے رندھی ہوئی آواز میں اسے کہا۔’’کیا آپ کا علم اور تجربہ بھی بیکار ہے ؟کیا یہ محض ڈھونگ ہے؟کیاآپ کسریٰ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نہیں لا سکتے؟کون کہتا ہے آپ موت کا منہ موڑ دیا کرتے ہیں؟‘‘’’زرتشت کی رحمتیں ہوں تجھ پر ملکہ فارس !‘‘بوڑھے طبیب نے کہا۔’’نہ کسی کی موت میرے ہاتھ میں ہے نہ کسی کی زندگی میرے ہاتھ میں ہے ۔میں زندگی اور موت کے درمیان کمزور سی ایک دیوار ہوں۔موت کے ہاتھ اتنے مضبوط اور توانا ہیں کہ اس دیوار کو دروازے کے کواڑ کی طرح کھول لیتے ہیں اور مریض کو اٹھا لے جاتے ہیں اور میرا علم اور میرا تجربہ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔‘‘’’الفاظ……محض الفاظ۔‘‘ ملکہ نے فرش پر بڑی زور سے پاؤں مار کر کہا۔’’ کھوکھلے الفاظ ……کیا الفاظ کسی دکھیارے کا دکھ مٹا سکتے ہیں؟ کسی روگی کو روگ سے نجات دلا سکتے ہیں؟کیا آپ کے الفاظ میں اتنی طاقت ہے کہ کسریٰ کے روگ کو چوس لیں؟‘‘’’نہیں ملکہ فارس!‘‘ طبیب نے بڑے تحمل سے کہا اورکانپتے ہوئے ہاتھ سے ملکہ کے بازو کو پکڑا اور اسے بٹھا کر کہا ۔’’الفاظ کسی کے دکھ اور کس کے روگ کو مٹا نہیں سکتے ۔البتہ دکھ اور روگ کی اذیت کو ذرا کم کر دیا کرتے ہیں۔حقیقت کے سامنے الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے اور حقیقت اگر تلخ ہو تو عالم کے منہ سے نکلتے ہوئے الفاظ یوں لگتے ہیں جیسے خزاں میں شجر کے زرد پتے گر رہے ہوں۔سوکھے ہوئے ان پتوں کو پھر ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں۔
۔‘‘’’ہم کسریٰ کو حقیقت سے بے خبر رکھ رہے ہیں ۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’میں انہیں رقص و نغمے سے بہلانے کی……‘‘ ’’کب تک؟‘‘بوڑھے طبیب نے کہا۔’’ملکہ کسریٰ! تم کسریٰ سے اس حقیقت کو کب تک چھپائے رکھو گی؟ یہ رقص اور یہ نغمے اور یہ مخمل جیسے نرم وملائم اور نو خیز جسم کسریٰ اردشیرکا دل نہیں بہلا سکتے ۔اگر کسریٰ صرف شہنشاہ ہوتے تو وہ اپنے آپ کو بڑے حسین فریب دے سکتے تھے ۔فرار کے بڑے دلکش راستے اختیار کر سکتے تھے لیکن وہ جنگجو بھی ہیں۔ انکے گھوڑے کے سموں نے زمین کے تختے کو ہلا ڈالا تھا فارس کی اتنی عظیم شہنشاہی کسریٰ کے زورِبازو کا حاصل ہے۔‘‘
’’اس شہنشاہی کو انہوں نے رومیوں کی طاقتور فوج سے بچایاہے کسریٰ نے لڑائیاں لڑی ہیں ۔بڑے خونریز معرکے لڑے ہیں ۔اب وہ جنگجو اردشیر بیدار ہو گیا ہے ۔اب رقص و نغمہ اور یہ طلسماتی جوانیاں ان پر الٹا اثر کر رہی ہیں۔ اب وہ کسی رقاصہ اور کسی مغنّیہ کو نہیں ہرمز کو بلاتے ہیں۔اندرزغر کی پوچھتے ہیں۔بہمن جاذویہ اور انوشجان کو پکارتے ہیں۔ کہاں ہیں ان کے یہ سالار ؟تم انہیں کیا دھوکا دو گی؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ملکہ نے آہ بھر کر کہا۔’’کچھ بھی نہیں۔آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن کچھ تو بتائیں میں کچھ نہیں سمجھ سکتی ،کیا آپ مسلمانوں کو جانتے ہیں ؟یہاں چند عیسائی آئے تھے وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں کوئی پراسرار طاقت ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتااور میں نے دیکھاہے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے میں ہم نے جن مسلمانوں کو آباد کرکے انہیں اپنا غلام بنا رکھا تھا
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 30
میں پڑھیں۔
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
[30/03, 5:36 p.m.] +92 312 5867358: *شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-3O)*
جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتااور میں نے دیکھاہے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے میں ہم نے جن مسلمانوں کو آباد کرکے انہیں اپنا غلام بنا رکھا تھا اور جنہیں ہم کیڑے مکوڑوں سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے تھے وہی مدینہ والوں کا بازو بن گئے ہیں اور ہمارا لشکر ان کے آگے بھاگا بھاگا پھر رہا ہے۔‘‘’’یہ عقیدے کی طاقت ہے ملکہ فارس!‘‘طبیب نے کہا۔’
بوڑھے طبیب نے کہا۔’’ایک بات کہوں گا جو شائد تمہیں اچھی نہ لگے۔ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ بادشاہی صرف اﷲکی ہے اور بندے اسکے حکم کے پابند ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اُس اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔کیا تم اس راز کو سمجھی ہو ملکہ کسریٰ؟‘‘’’نہیں بزرگ طبیب!‘‘ملکہ نے جواب دیا۔’’میں نہیں سمجھ سکی ۔بادشاہی تو ایک خاندان اور اس کے ایک فرد کی ہوتی ہے۔‘‘’’اس کا انجام تم دیکھ رہی ہو ملکہ کسریٰ !‘‘طبیب نے کہا۔’’آج وہ ایک انسان جو اپنے آپ کوانسانوں کا شہنشاہ سمجھتا ہے‘ بے بس اور مجبور اندر پڑا ہے اوراپنی بادشاہی کو بچانہیں سکتا ۔اس کالشکر پسپا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ان سپاہیوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ ایک خاندان اور ایک انسان کی شہنشاہی کی خاطر اپنی جانیں دیں اور وہ جو ہزاروں کی تعداد میں مر رہے ہیں وہ بھاگتے ہوئے مر رہے ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ مالِ غنیمت تو ہے ہی نہیں پھر لڑیں کیوں ؟وہ تمہارے خزانے سے ماہانہ وصول کرنے کیلئے زندہ رہنا چاہتے ہیں۔‘‘’’اور مسلمان؟‘‘ ’’مسلمان!‘‘ طبیب نے کہا۔’’مسلمان کسی ایک انسان کے آگے جواب دہ نہیں۔وہ اﷲکی خوشنودی کیلئے لڑتے ہیں اور اپنے امیر کاحکم مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنی کم تعداد میں بھی طوفان کی طرح بڑھے آرہے ہیں۔ملکہ فارس! عقیدہ اپنا اپنا اور مذہب اپنا اپنا ہوتا ہے۔ میں علم اور تجربے کی بات کرتا ہوں ۔جب ایک خاندان اور ایک انسان اپنے آپ کو شہنشاہ بنا لیتا اور انسانوں کو انسان سمجھنا چھوڑ دیتا ہے تو ایک دن آتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنی فوج کو بھی اور اپنی رعایا کوبھی تباہی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔‘‘’’میں نہیں سمجھ سکتی ۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’میں سمجھنا نہیں چاہتی۔میں صر ف یہ چاہتی ہوں کہ کسریٰ صحت یاب ہو جائیں۔کچھ کرو بزرگ طبیب کچھ کرو۔‘‘’’کچھ نہیں ہو سکتا ملکہ فارس!‘‘طبیب نے کہا۔’’کچھ نہیں ہو سکتا۔صرف یہ خبر لے آؤ کہ مسلمانوں کو فارس کی سرحد سے نکال دیا گیا ہے یاخالد بن ولید کو زنجیروں میں باندھ کر کسریٰ کے دربار میں لے آؤ۔تو کسری اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘‘’’ایسی خبر کہاں سے لاؤں؟‘‘ملکہ نے رنجیدہ اور شکست خوردہ لہجے میں کہا۔’’مدینہ کے اس سالار کو کیسے زنجیروں میں باندھ کر لے آؤں؟ اگر میرے سالار شکست کھا کر زندہ آ جاتے تو میں ان کی ٹانگیں زمین میں گاڑھ کر ان پر کتے چھوڑ دیتی۔‘‘وہ سر جھکائے ہوئے چل پڑی۔
ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا اور محل کے باہررکا۔ ملکہ دوڑتی باہر گئی۔ بوڑھا طبیب بھی اس کے پیچھے گیا۔وہ ایک کماندار تھا گھوڑے سے کود کر وہ ملکہ کے سامنے دو زانو ہو گیا ‘اس کا منہ کھلا ہوا تھاآنکھیں سفید ہو گئی تھیں۔ چہرے پر صرف تھکن ہی نہیں گھبراہٹ بھی تھی۔’’کوئی اچھی خبر لائے ہو ؟‘‘ملکہ نے پوچھا اور شاہانہ جلال سے بولی۔’’ اٹھو اور فوراً بتاؤ۔‘‘’’کوئی اچھی خبر نہیں۔‘‘کماندار نے ہانپتی ہوئی آواز سے کہا۔’’مسلمانوں نے پورا لشکر کاٹ دیا ہے ۔ انہوں نے ہمارے ہزاروں آدمیوں کو پکڑ کر دریائے خسیف کے کنارے اس طرح قتل کر دیا ہے کہ دریا میں خون چل پڑا ۔دریا خشک تھا مسلمانوں کے سالار نے اوپر سے دریا کا بند کھلوا دیا تو بادقلی خون کادریا بن گیا۔‘‘’’تم کیوں زندہ واپس آ گئے ہو؟‘‘ملکہ نے غضب ناک آواز میں
پوچھا۔’’کیا تم میرے ہاتھوں کٹنے کیلئے آئے ہو؟‘‘’’میں اگلی جنگ لڑنے کیلئے زندہ آ گیا ہوں ‘‘۔کماندار نے جواب دیا۔’’ میں چھپ کر اپنے لشکر کے قیدیوں کے سر جسموں سے الگ ہوتے دیکھتا رہا ہوں ۔‘‘’’خبر دار!‘‘ ملکہ نے حکم دیا ۔’’یہ خبر یہیں سے واپس لے جاؤ۔ شہنشاہِ فارس کو……‘‘ ’’شہنشاہِ فارس یہی خبر سننے کیلئے زندہ ہے۔‘‘اردشیر کی آواز سنائی دی۔ ملکہ نے اور طبیب نے دیکھا ۔اردشیر ایک ستون کے سہارے کھڑا تھا ۔دوبڑی حسین اورنوجوان لڑکیوں نے اس کے ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ ’’یہاں آؤ۔‘‘اس نے کماندا ر کو حکم دیا۔’’میں نے محسوس کر لیا تھا کوئی آیا ہے ۔کہو کیا خبر لائے ہو؟‘‘کماندار نے ملکہ اور طبیب کی طرف دیکھا ۔’’ادھر دیکھو !‘‘اردشیر نے گرج کر کہا۔’’بولو۔‘‘کماندار نے وہی خبر سنا دی جو وہ ملکہ کو سنا چکا تھا۔ کسریٰ اردشیر آگے کو جھک گیا ۔دونوں لڑکیوں نے اسے سہارا دیا۔ ملکہ نے لپک کر اس کا سر اوپراٹھایا ۔بوڑھے طبیب نے اس کی نبض پر انگلیاں رکھیں۔ملکہ نے طبیب کی طرف دیکھا ۔طبیب نے مایوسی سے سر ہلایا۔’’فارس ‘کسریٰ اردشیر سے محروم ہو گیا ہے۔‘‘ طبیب نے کہا۔محل میں ہڑبونگ مچ گئی۔اردشیرکی لاش اٹھا کر اس کے اس کمرے میں لے گئے جہاں اس نے کئی بار کہاتھا کہ عرب کے ان لٹیرے بدوؤں کو فارس کی سرحد میں قدم رکھنے کی جرات کیسے ہوئی ہے۔اس نے اسی کمرے میں ولید کے بیٹے خالدؓ اور حارثہ کے بیٹے مثنیٰ کو زندہ یا مردہ لانے کاحکم دیا تھا۔اپنے حکم کی تعمیل سے پہلے ہی اس کمرے میں اس کی لاش پڑی تھی۔ وہ شکستوں کے صدمے سے ہی مر گیا تھا۔ملکہ نے حکم دیا کہ لڑنے والے لشکر تک کسریٰ کی موت کی خبر نہ پہنچنے دی جائے ۔مسلمانوں کے پڑاؤ میں ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا داخل ہوا۔اس کاسوار چلّارہاتھا۔’’کہاں ہے ولید کا بیٹا؟‘‘گھوڑ سوار بازو بلند کرکے لہراتا آ رہا تھا۔’’باہرآ ابنِ ولید!‘‘خالدؓ بڑی تیزی سے سامنے آئے۔’’ابنِ ولید!‘‘سوار کہتا آ رہا تھا۔’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو۔تیری دہشت نے اردشیر کی جان لے لی ہے۔‘‘’’کیا تو پاگل ہو گیا ہے ابنِِ حارثہ!‘‘خالدؓ نے آگے بڑھ کر کہا۔
ان سے تنگ آئی ہوئی رعایا ان کا ساتھ دے گی جو باہر کےحملہ آور ہوں گے۔میری عمر ابھی اتنی زیادہ نہیں کہ تجربے کی بناء پر بات کروں لیکن میں محسوس کر رہا ہوں کہ آنے والا وقت فارس کیلئے اپنے ساتھ کیا لارہا ہے۔‘‘اب عبدالمسیح کی عمر اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ کمر جھک گئی تھی۔کندھے سکڑ گئے تھے ۔رعشہ ایسا کہ اس کا سر ہلتا اور ہاتھ کانپتے تھے،نوشیرواں عادل کی دوسری نسل کا شہنشاہ شکست کے صدمے سے مرچکا تھااور فارس کا زوال شروع ہوچکاتھا۔خالدؓ کے لشکر نے آج عبدالمسیح اور اس کے سرداروں کے قلعوں کو محاصرے میں لے رکھا تھااور اس کی قلعہ بند فوج کا حوصلہ کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
اس میں اتنی طاقت نہیں رہی تھی کہ دیوار پر جا کر دیکھتا کہ محاصرے کی اور مسلمانوں کی کیفیت کیا ہے اور مسلمانوں کی نفری کتنی ہے۔اسے شاید مسلمانوں کی نفری کا اندازہ نہیں تھا۔مسلمان صرف اٹھارہ ہزار تھے اور انہوں نے چار قلعوں کو محاصرے میں لیا ہوا تھا بلکہ بڑھ بڑھ کر حملے کررہے تھے۔عبدالمسیح اپنے محل میں گیا تو دو پادری اس کے انتطار میں کھڑے تھے۔’’کیا گرجے میں اپنی فتح اور دشمن کی تباہی کی دعائیں ہو رہی ہیں؟‘‘عبدالمسیح نے پادریوں سے پوچھا۔’’ہورہی ہیں۔‘‘بڑے پادری نے جواب دیا۔’’اور تم یہاں کیوں آگئے ہو؟‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’ جاؤاور گرجے کے گھنٹوں کو خاموش نہ ہونے دو۔‘‘’’ہم اپنی فوج اور لوگوں کو قتلِ عام سے اور ان کے گھروں کو لٹ جانے سے بچانے آئے ہیں۔‘‘بڑے پادری نے کہا۔’’کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے کتنے سپاہی زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں؟کیا آپ دشمن کی للکار اور اس کے نعرے نہیں سن رہے ہیں؟‘‘’’کیا تم مجھے یہ کہنے آئے ہو کہ میں ہتھیار ڈال دوں؟‘‘’’آپ کی جگہ کوئی اور قلعہ دار ہوتا تو ہم ایسا مشورہ کبھی نہیں دیتے۔‘‘دوسرے پادری نے کہا۔’’لیکن آپ دانشمند اور تجربہ کار ہیں۔جو آپ سمجھ سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔حقیقت کو دیکھیں۔اس سے پہلے کہ مسلمان قلعہ سر کر لیں اور قلعے میں داخل ہوکر قتلِ عام اور لوٹ مار کریں اور ہماری عورتوں کو اپنے ساتھ لے جائیں،آپ قلعہ کچھ شرائط پیش کرکے ان کے حوالے کر دیں۔یہ بہت بڑی نیکی ہوگی۔‘‘’’مجھے سوچنے دیں۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’سوچنے کا وقت کہاں ہے!‘‘پادری نے کہا۔’’اوپر دیکھیں۔مسلمانوں کے تیر دیواروں کے اوپر سے اندر آرہے ہیں……اور وہ دیکھیں۔زخمیوں کوکندھوں پر اٹھا کر اوپر سے نیچے لا رہے ہیں۔کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ دیوار پر اور برجوں میں ہمارے تیر اندازوں کی تعداد کس تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے؟ناحق خون نہ ہونے دیں۔‘‘قلعے کے باہر مسلمانوں کے ہلّے اور تیروں کی بوچھاڑیں تیز ہو گئی تھیں۔حالانکہ ان کے زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔عبدالمسیح نے پادریوں کی موجودگی میں قاصد کو بھیجا کہ وہ قلعے کے دفاع کی صورتِ حال معلوم کرکے فوراًآئے۔قاصد نے واپس آکر جو صورتِ حال بتائی وہ امید افزا نہیں تھی،دوسرے قلعوں کی کیفیت بھی ایسی ہی تھی جو عیسائیوں کے حق میں نہیں جاتی تھی۔قلعے کا دروازہ کھل گیا۔ایک ضعیف العمر آدمی گھوڑے پر سوار باہرنکلا۔اس کے ساتھ دو تین سردار تھے۔ان میں سے ایک سردار نے بلند آواز سے کہا کہ وہ دوستی کا پیغام لے کر باہر نکلے ہیں۔
ان کے پیچھے قلعے کا دروازہ بند ہو گیا۔’’ہم تمہارے سالار سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘عبدالمسیحکے اس سردار نے بلند آوازسے کہا۔دیوار سے تیر آنے بند ہو گئے تھے ۔مسلمانوں نے بھی تیر اندازی روک لی ۔خالدؓ کو کسی نے بتایا کہ دشمن باہر آگیا ہے۔’’کون ہیں وہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’قلعہ دار عبدالمسیح خود آیا ہے۔‘‘خالدؓ کو جواب ملا۔’’اسے کہو مجھے اس سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں جانتا ہوں وہ ان سب کا سردار ہے۔اسے کہو کہ شام تک باقی تینوں قلعہ داروں نے بھی ہتھیار نہ ڈالے تو ہم انہیں اس حال تک پہنچا دیں گے جس میں وہ ہماری ہرشرط قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘جب عبدالمسیح کوخالدؓ کایہ پیغام ملا تو وہ جان گیا کہ فتح آخر مسلمانوں کی ہی ہوگی۔اس نے اسی وقت اپنے سرداروں کو دوسرے قلعوں کی طرف دوڑایا،دوسرے قلعوں کے اندر بھی یہی کیفیت تھی جو عبدالمسیح کے قلعے کے اندر تھی۔فوجوں کا حوصلہ کمزور پڑ گیا تھا اور لوگوں پر خوف و ہراس طاری تھا ۔ان قلعوں کے سردار ہتھیار ڈالنے کیلئے تیار تھے لیکن کوئی قلعہ دار یہ نہیں چاہتا تھا کہ ہتھیار ڈالنے میں وہ پہل کرے اور یہ تہمت اس پر لگے کہ ہتھیار سب سے پہلے اس نے ڈالے تھے ورنہ کوئی بھی ہتھیار نہ ڈالتا۔عبدالمسیح کا پیغام ملتے ہی انہوں نے تیر اندازی بند کر دی اور تینوں قلعہ دار باہر آگئے۔انہیں خالدؓ کے سامنے لے گئے۔اس وقت خالدؓ ایک گھنے درخت کے نیچے کھڑے تھے۔’’کیا تم نے ہمیں کمزور سمجھ کر ہمارا مقابلہ کیاتھا؟‘‘خالدؓ نے ان قلعہ داروں سے کہا۔’’کیا تم بھول گئے تھے کہ تم عربی ہو؟کیا تمہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ہم بھی عربی ہیں؟اگر تم عجمی ہوتے تو بھی تمہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ تم اس قوم کو شکست دے سکو گے جو عدل و انصاف میں یکتا ہے اور جس کی تلوار کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘’’تو جو کچھ بھی کہنا چاہتا ہے کہہ سکتا ہے۔‘‘ضعیف العمر عبدالمسیح نے کہا۔’’تو فاتح ہے۔ہمیں کچھ کہنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ ہم نے تیرے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔‘‘مشہور مؤرخ ابو یوسف نے خالدؓ اور عبدالمسیح کے مکالمے لکھتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ عبدالمسیح اس قدر بوڑھا ہوچکا تھا کہ اس کی بھنویں دودھ کی مانند سفید ہو چکی تھیں اور اتنی نیچے آگئی تھیں کہ ان سے اس کی آنکھیں ڈھک گئی تھیں ۔اسی مؤرخ کے مطابق خالدؓ عبدالمسیح سے متاثر ہوئے۔’’تمہاری عمر کتنی ہے؟‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے پوچھا۔’’دوسوسال۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ یہ جواب سن کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے اس بوڑھے قلعہ دار کو اور زیادہ غور سے دیکھا جیسے انہیں یقین نہ آرہا ہو کہ یہ شخص دوسوسال سے زندہ ہے۔کسی بھی مؤرخ نے عبدالمسیح کی صحیح عمر نہیں لکھی۔واقعات سے پتا چلتا ہے کہ اس کی عمر ایک سو سال سے کچھ اوپر تھی۔’’تونے بڑی لمبی عمر پائی ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ بتا کہ اتنی لمبی زندگی میں تم نے سب سے زیادہ عجیب چیز کیا دیکھی ہے؟‘‘
’نوشیرواں کا عدل و انصاف۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’اس دور میں حکومت اس کی ہوتی ہے جس کے بازو میں طاقت اور ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے ،لیکن نوشیرواں نے عدل و انصاف کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر فتح پائی۔تم کہتے ہو کہ مسلمان عدل و انصاف میں یکتا ہیں……نہیں۔میں نوشیرواں کو عادل مانتا ہوں۔‘‘’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے پوچھا۔’’کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘’’ایک گاؤں ہے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’جہاں تک کوئی عورت بھی سفر کرے تو اس کیلئے ایک روٹی کا ایک ٹکڑہ بھی کافی ہوتا ہے۔‘‘’’کیا تم احمق نہیں ہو؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں پوچھ کیا رہا ہو ں اور تم جواب کیا دے رہے ہو؟……میں نے پوچھا تھا کہاں سے آئے ہو؟‘‘’’اپنے با پ کی ریڑھ کی ہڈی سے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تم قلعہ دار بننے کے قابل کب ہوئے تھے؟‘‘خالدؓ نے جھنجھلا کرکہا۔’’میں نے پوچھا ہے تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘
’’اپنی ماں کے رحم سے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ نے جب دیکھا کہ اس بوڑھے کا بولنے کا سوچنے کا اور جواب دینے کا انداز مضحکہ خیز سا ہے تو انہوں نے تفریح طبع کیلئے اس سے ویسے ہی سوال کرنے شروع کردیئے۔یہ سوال و جواب تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھے ہیں۔’’تم کہاں جاؤ گے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’آگے کو۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تمہارے آگے کیا ہے؟‘‘’’آخرت۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تم جانتے ہو کہاں کھڑے ہو؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’زمین پر۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ اس کی بے رخی اور لا پرواہی دیکھ کر اسے یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ فاتح سالارِاعلیٰ کے سامنے کھڑا ہے۔خالدؓ نے معلوم نہیں کیا سوچ کر اس سے پوچھا۔’’تم کس چیز کے اندر ہو؟‘‘’’اپنے کپڑوں کے اندر۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔اب خالدؓ کو غصہ آنے لگا۔انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’دنیا کم عقلوں کو تباہ کرتی ہے۔لیکن دانالوگ دنیا کو تباہ کرتے ہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ تم کم عقل ہو یا دانا ۔مجھے صحیح جواب تمہارے لوگ ہی دے سکتے ہیں۔‘‘’’اے فاتح سالار!‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’چیونٹی بہتر جانتی ہے کہ اس کے بل کے اندر کیا کچھ رکھا ہے ۔اونٹ نہیں بتا سکتا۔‘‘خالدؓ نے چونک کر عبدالمسیح کی طرف دیکھا۔ان کا غصہ ختم ہو گیا۔انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ شخص احمق یا کم عقل نہیں۔خالدؓ نے اسے اپنے برابر میں بٹھا لیا۔اب خالدؓ کے انداز میں احترام تھا۔
اے بزرگ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کوئی ایسی بات بتا جو تو ہمیشہ یاد رکھناچاہتا ہے۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ عبدالمسیح گہری سوچ میں کھوگیا۔اس کے چہرے پر اداسی آگئی۔اس نے قلعے کی طرف دیکھا۔’’میں اس وقت کو یاد کیا کرتا ہوں۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’جب ان قلعوں کے عقب میں بہتے ہوئے فرات میں چین کے بحری جہاز بادبان پھیلائے آیا کرتے تھے ،پھر مجھے جووقت یاد ہے وہ نوشیرواں کا عہد حکومت ہے۔رعایا خوشحال اور مطمئن تھی ۔کوئی جھونپڑی میں رہتا تھا یا محل میں ،نوشیرواں کا انصاف سب کیلئے ایک تھا۔‘‘’’محترم بزرگ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو مسلمانوں کے عدل و انصاف کو بھی یاد رکھے گا……اگر تو اپنے لوگوں کے ساتھ اسلام قبول کرلے تو تیری اور تیرے لوگوں کی حفاظت ہمارے ذمے ہوگی۔تم سب کو وہی حقوق ملیں گے جو دوسرے مسلمانوں کو ملتے ہیں۔اگر اسلام قبول کرنے کیلئے تو اپنے آپ کوآمادہ نہیں کرسکتا تو تجھے اور ان تما م قلعہ داروں کو وہ جزیہ ادا کرناہوگا جو میں مقررکروں گا ۔اگرتجھے یہ بھی قبول نہیں تو پھر تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ مسلمان قلعوں کو کس طرح سرکرتے ہیں اور ان کی تلوار کی کاٹ کیسی ہے۔‘‘
’’ہم سے کچھ اور مانگ ہم دیں گے۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے،بتا جزیہ کتنا ہوگا۔‘‘’’تجھ جیسے داناسے مجھے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کفر نے تجھے شکست تک پہنچایا ہے ۔اس عربی کو میں کم عقل سمجھتا ہوں جو عربی راستے سے ہٹ کرعجمی راستہ اختیارکرلے۔‘‘خالدؓ کے ان الفاظ نے نہ عبدالمسیح کو متاثر کیا نہ دوسرے کسی قلعہ دار یاسردار کو۔وہ اپنے انکار پر قائم رہے جب خالدؓ نے انہیں جزیہ کی رقم بتائی تو انہوں نے اسے فوراً قبول کر لیا۔یہ رقم ایک لاکھ نوے ہزار درہم تھی۔جو عہد نامہ تحریر کیا گیا اس کے الفاظ یہ تھے:
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم
’’یہ عہد نامہ خالد بن ولیدنے حیرہ کے سرداروں عدی بن عدی ،عمرو بن عدی،عمرو بن عبدالمسیح ،ایاس بن قبصیہ الطانی اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔اس عہد نامے کو حیرہ کے لوگوں نے قبول کرلیاہے اور اپنے سرداروں کو اس کی تکمیل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس عہد نامے کے مطابق اہلِ حیرہ خلافتِ مدینہ کو ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ ادا کیا کریں گے۔یہ جزیہ حیرہ کے پادریوں اور راہبوں سے بھی وصول کیا جائے گا۔صرف اپاہجوں ،نادار افراد اور تارک الدنیا راہبوں کویہ جزیہ معاف ہوگا……
اگر یہ جزیہ باقاعدگی سے ادا کیا جاتا رہا تو اہلِ حیرہ کے تحفظ کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔اگر مسلمانوں نے اس ذمہ داری میں کوتاہی کی تو جزیہ نہیں لیا جائے گااور اگر اہلِ حیرہ نے اس عہد نامے کی خلا ف ورزی کی تو مسلمان اپنی ذمہ داری سے بری سمجھے جائیں گے۔یہ معاہدہ ربیع الاول ۱۲ ہجری میں تحریر ہوا-
حیرہ پر مسلمانوں کے قبضےکی تکمیل ہو گئی۔معاہدے کے بعد تمام قلعہ داروں اور امراء نے خالدؓ کی اطاعت قبول کرلی۔یہ دراصل خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکرؓ کی اطاعت تھی۔خالدؓ نمائندگی کر رہے تھے۔اس کے بعد خالدؓ نے اپنی تمام تر فوج کے ساتھ آٹھ رکعت نفل شکرانے کے پڑھے۔فارغ ہونے کے بعد خالدؓ نے اپنی فوج سے مختصر سا خطاب کیا۔’’مُوتہ کی لڑائی میں میرے ہاتھ میں نَو تلواریں ٹوٹی تھیں لیکن آتش پرستوں نے جس جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے اسے میں ہمیشہ یادرکھوں گا۔انہوں نے الیّس میں ہم سے جو لڑائی لڑی ہے ایسی لڑائی میں نے پہلے نہیں دیکھی……اسلام کے پاسبانو!فتح و شکست اﷲکے اختیارمیں ہے۔اس کے نام کو اس کی نعمتوں کو اور اس کے رسولﷺ کو ہر وقت دل میں رکھو۔حیرہ بہت بڑی نعمت ہے جو اﷲتعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔یہ بھی دل میں رکھو کہ ہمارا جہاد ابھی ختم نہیں ہوا۔جب تک کفر کا فتنہ باقی ہے جہاد ختم نہیں ہوگا۔‘‘خالدؓ نے شہیدوں کیلئے دعائے مغفرت کی ،پھرزخمیوں کی عیادت کوگئے۔شہیدوں کی نمازِ جنازہ بڑا ہی رقت آمیز منظر تھا۔وطن سے اتنی دور جاکر شہید ہونے والوں کیلئے ہر آنکھ میں آنسو تھے۔شہیدوں کو قبروں میں اتارا گیا تو یہ قبریں تاریخ کے سنگ ہائے میل بن گئیں ۔خالدؓ جب حیرہ کا نظم و نسق سنبھالنے کیلئے اس محل نما مکان میں گئے جو ازادبہ کا رہائشی مکان تھا تو بے شمار رؤسا ء اور امراء تحفے لئے کھڑے تھے جو انہوں نے خالدؓکو پیش کیے۔ان میں بیش قیمت اشیاء تھیں ہیرے اور جواہرات بھی تھے۔مدینہ کے مجاہدین حیران ہو رہے تھے کہ کوئی قوم اتنی دولت مند بھی ہو سکتی ہے۔خالدؓنے یہ تحفے قبول تو کر لیے لیکن بوریا نشینوں کی قوم کے اس سالارِ اعلیٰ نے اپنے لیے ایک بھی تحفہ نہ رکھا۔تمام تحفے مالِ غنیمت کے ساتھ امیر المومنینؓ کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے مدینہ بھیج دیئے۔مالِ غنیمت زیادہ نہیں تھا کیونکہ حیرہ والوں نے جزیہ تسلیم کرلیا اور اطاعت بھی قبول کرلی تھی۔ایک دلچسپ او رعجیب واقعہ ہو گیا۔کچھ برس پہلے کی بات ہے۔رسولِ کریمﷺ صحابہ کرامؓ میں بیٹھے تھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہو رہی تھیں۔باتوں کا رخ کفار کے علاقوں کی طرف مڑ گیااور ذکر فارس کی شہنشاہی کا چل نکلا۔حیرہ اس شہنشاہی کا بڑا ہی اہم مقام تھا۔کسی صحابیؓ نے کہا کہ حیرہ ہاتھ آجائے تو اسے فوجی اڈا بنا کر کسریٰ پر کاری ضربیں لگائی جا سکتی ہیں۔دو مؤرخوں بلاذری اور طبری نے لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا کہ تھوڑے عرصے بعد حیرہ ہمارے قبضے میں ہوگا۔یہ دونوں مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس محفل میں حیرہ کی اہمیت اور اس علاقے کی خوبصورتی کی باتیں ہونے لگیں۔عبدالمسیح مشہور آدمی تھا۔اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام کرامہ تھا۔اس کے حسن کے چرچے تاجروں وغیرہ کی زبانی دور دور تک پہنچے ہوئے تھے۔اس کے اپنے ملک میں اس کا حسن و جمال ضرب المثل بن گیا تھا۔
بلا ذری اور طبری نے لکھاہے کہ رسولِ کریمﷺ کی اس محفل میں سیدھا سادہ اور عام سا ایک آدمی شویل بھی موجود تھا۔’’یا رسول اﷲ!‘‘شویل نے عرض کی۔’’اگر حیرہ فتح ہوگیا تو عبدالمسیح کی بیٹی کرامہ مجھے دے دی جائے۔‘‘رسولِ کریم ﷺ مسکرائے اور ازراہِ مزاق کہا۔’’حیرہ فتح ہو گیا تو کرامہ بنتِ عبدالمسیح تیری ہوگی۔‘‘ان مؤرخوں نے یہ نہیں لکھا کہ حیرہ کی فتح سے کتنا عرصہ پہلے یہ بات ہوئی تھی۔اب حیرہ فتح ہوگیا ۔خالدؓ کی فوج کا ایک ادھیڑ عمر سپاہی اس وقت ان کے سامنے جا کھڑا ہوا جب کچھ شرائط عبدالمسیح اور خالدؓ کے درمیان طے ہو رہی تھیں’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘خالدؓ نے اپنے اس سپاہی سے پوچھا۔’’اورمیرےپاس کیوں آئے ہو؟‘‘’’سالارِاعلیٰ!‘‘سپاہی نے کہا۔’’میرا نام شویل ہے۔خدا کی قسم!رسول اﷲﷺنے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ عبدالمسیح کی بیٹی کرامہ تجھے دے دی جائے گی۔آج حیرہ فتح ہوگیا ہے ۔شہزادی کرامہ مجھے دی جائے۔‘‘’’کیا تو کوئی گواہ پیش کر سکتا ہے؟‘‘خالدؓنے کہا۔’’خدا کی قسم! میں رسول اﷲ ﷺ کے وعدے کی خلاف ورزی کی جرات نہیں کر سکتا لیکن گواہ نہ ہوئے تو میں تیری بات کو سچ نہیں مان سکتا۔‘‘شویل کو دو گواہ مل گئے۔وہ حیرہ کی فاتح فوج میں موجود تھے۔انہوں نے تصدیق کی کہ رسول اﷲ ﷺنے ان کی موجودگی میں شویل سے یہ وعدہ فرمایا تھا۔’’رسول اﷲﷺ کا وعدہ میرے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے کہا۔’’تجھے اپنی بیٹی اس شخص کے حوالے کرنی ہو گی۔‘‘’’یہ بھی شرائط میں لکھ لو۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’کہ میری بیٹی کرامہ اس سپاہی کو دے دی جائے۔‘‘یہ حکم عبدالمسیح کے گھر پہنچا کہ کرامہ مسلمانو ں کے سالارِ اعلیٰ کے پاس آجائے۔کرامہ نے پوچھاکہ اسے کیوں بلایا جا رہاہے؟اسے بتایاگیا کہ ایک مسلمان سپاہی نے اس کی خواہش کی ہے اور اسے اس سپاہی کے حوالے کیا جائے گا۔’’ایسا نہ ہونے دو۔‘‘گھر میں جو ایک محل کی مانند تھا ،دوسری عورتوں کا شور اٹھا۔’’ایسا نہ ہونے دو۔شاہی خاندان کی ایک عورت کو حوالے نہ ہونے دو جو عرب کا وحشی بدو ہے۔‘‘’’مجھے اس کے پاس لے چلو۔‘‘کرامہ نے کہا۔’’اس مسلمان سپاہی نے میری جوانی کے حسن کی باتیں سنی ہوں گی۔وہ کوئی جاہل اور احمق لگتا ہے ۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا ہوگا کہ یہ کب کی بات ہے کہ جب میں جوان ہوا کرتی تھی۔‘‘بلاذری کی تحریر کے مطابق کرامہ کو خالدؓ کے سامنے لے جایا گیا۔شویل موجود تھا۔اس نے ایک ایسی بڑھیا دیکھی جس کے چہرے پر جھریاں تھیں اور بال سفید ہو چکے تھے۔مؤرخ طبری نے کرامہ کی عمر اسّی سال لکھی ہے۔اس کے باپ عبدالمسیح نے خالدؓ کو اپنی عمر دو سو سال بتائی تھی۔بعض مؤرخ ان عمروں کو تسلیم نہیں کرتے۔عبدالمسیح کی عمر ایک سو سال سے ذرا ہی زیادہ تھی اور کرامہ کی عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان تھی۔بہرحال کرامہ ضعیف العمر تھی۔شویل نے اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر جو خوشی کے آثار تھے وہ اڑ گئے اور وہ مایوس ہو گیا۔اچانک اسے ایک خیال آگیا۔
’’امیرِ لشکر!‘‘شویل نے کہا۔’’یہ شرط لکھ لی گئی ہے کہ کرامہ بنتِ عبدالمسیح میری لونڈی ہے۔اگر یہ مجھ سے آزادی چاہتی ہے تو مجھے رقم ادا کرے۔‘‘’’کتنی رقم؟‘‘کرامہ نے پوچھا۔’’ایک ہزار درہم!‘‘شویل نے کہا۔’’میں اپنی ماں کا بیٹا نہیں ہوں گا کہ ایک درہم بھی بخش دوں۔‘‘
کرامہ کے بوڑھے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔اس نے اس خادمہ کو جو اس کے ساتھ آئی تھی ،اشارہ کیا۔خادمہ دوڑی گئی اور ایک ہزار درہم لے آئی۔کرامہ نے یہ درہم شویل کے حوالے کردیئے اور آزاد ہو گئی۔شویل کا یہ عالم تھا کہ ایک ہزار درہم دیکھ کر حیران ہو رہا تھا جیسے اس کے ہوش گم ہو گئے ہوں۔اس نے اپنے ساتھیوں کو جاکر فاتحانہ لہجے میں بتایا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا تھا کہ اس نے ایک ضعیف العمر عورت کو جوان سمجھ لیا تھا لیکن اس نے اس سے ایک ہزار درہم کما لیے۔’’صرف ایک ہزار درہم؟‘‘اس کے ساتھی نے اسے کہا۔’’تو ساری عمر احمق ہی رہا۔کرامہ شاہی خاندان کی عورت ہے۔اس سے تو کئی ہزار درہم لے سکتا تھا۔‘‘’’اچھا؟‘‘شویل نے مایوس ہو کر کہا۔’’میں تو سمجھتا تھا کہ ایک ہزار درہم سے زیادہ رقم ہوتی ہی نہیں۔‘‘اس کے ساتھیوں کے ایک زور دار قہقہے نے اسے اور زیادہ مایوس کر دیا۔خالدؓنے مالِ غنیمت کے ساتھ تمام تحفے مدینہ بھیج دیئے۔مدینہ سے خالدؓ کیلئے امیر المومنینؓ نے پیغام بھیجاکہ یہ تحفے اگر مالِ غنیمت میں شامل ہیں یا جزیئے میں تو قابلِ قبول ہو سکتے ہیں،اگر نہیں تو جنہوں نے یہ تحفے دیئے ہیں ان سے ان کی قیمت معلوم کرکے جزیئے میں شامل کر لو۔اگر تم جزیہ وصول کر چکے ہو تو تحفوں کی رقم ان لوگوں کو واپس کردو۔خالدؓ نے ان سب کو بلا کر انہیں تحفوں کی قیمت ادا کر دی۔حیرہ کی فتح کے بعد چند دنو ں میں خالدؓ نے وہاں کا نظم و نسق رواں کر دیا اور حیرہ کے امراء کو ہی انتظامیہ کا ذمہ دار بنا دیا۔’’میرے بھائیو!‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’میرے پاس وقت نہیں کہ میں یہاں بیٹھا رہوں لیکن نظم و نسق کی بحالی بہت ضروری ہے۔اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نظم و نسق کو اس بنیاد پر رواں کیا جائے کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔وہ سکون اور اطمینان محسوس کریں کہ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و آبرو کو تحفظ حاصل ہے ۔خدا کی قسم!میں ان لوگوں پر، عیسائیوں پر اور ان آتش پرستوں پر ثابت کروں گا کہ اسلام وہ مذہب ہے جو ظلم کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہے۔رعایا کو اپنی اولاد سمجھو۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں نے نظم و نسق انہی لوگوں کے سپرد کر دیا ہے ؟رب ِ کعبہ کی قسم!میں ان پر اپنا حکم نہیں ٹھونسوں گا۔‘‘اپنا حکم نہ ٹھونسنے کے نتائج چند دنوں میں سامنے آگئے۔اسلام کا بنیادی اصول یہی تھا کہ لوگوں کے دل جیتو مگر دل جیت کر انہیں دھوکا نہ دو۔انہیں ان کے حقوق دو۔خالدؓ اسلام کے پہلے سالار تھے جنہوں نے مدینہ سے نکل کر کسی دوسری قوم کے علاقے فتح کیے اور انہیں اسلام کے اس بنیادی اصول پر عمل کرنے کا موقع ملا ۔مصر کے محمد حسین ہیکل نے بہت سے مؤرخوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ خالدؓ نے دشمنوں کے سر اڑانے شروع کیے تو فرات کو لال کر دیا اور ایسے کسی آدمی کو زندہ نہ چھوڑا جس کی طرف سے دینِ اسلام کو ذرا سا بھی خطرہ تھا۔
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 31
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment