*شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*(قسط نمبر-11)*
سب نے دیکھاکہ بنو قریظہ کے لوگ قلعے سے باہر آ رہے تھے۔ محاصرے میں سے کسی کو بھاگ نکلنے کا موقع نہ ملا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہودیوں کی تاریخ فتنہ و فساد اور بد عہدی سے بھری پڑی تھی۔اسے خدا کی دھتکاری ہوئی قوم کہا گیا تھا۔ان کے ساتھ جس نے بھی نرمی برتی اسے یہودیوں نے نقصان پہنچایا چنانچہ بنو قریظہ کو بخش دینا بڑی خطرناک حماقت تھی۔ مسلمانوں نے اس قبیلے کے ایسے تما م آدمیوں کو قتل کردیا جو لڑنے کے قابل تھے اور بوڑھوں عورتوں اور بچوں کواپنی تحویل میں لے لیا۔دو مؤرخین نے لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے بنو قریظہ پر فوج کشی کی تو یہودیوں نے بڑا سخت مقابلہ کیا۔ مسلمانوں نے پچیس روز بنو قریظہ کو محاصرے میں لیے رکھا۔آخر یہودیوں نے رسولِ اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ سعد ؓبن معاذ کو ان کے پاس صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے بھیجا جائے۔چنانچہ سعدؓ بن معاذ گئے اور یہ فیصلہ کر آئے کہ بنو قریظہ کے آدمیوں کو قتل کر دیاجائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو مالِ غنیمت میں لے لیا جائے۔جن یہودیوں کو قتل کیا گیا ان کی تعدا د چار سو تھی۔زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ بنو قریظہ نے مقابلہ نہیں کیا اور اپنے کیے کی سزا پانے کیلئے قلعہ سے نکل آئے۔مدینہ میں یہودیوں کے قتلِ عام کے ساتھ یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس سے پہلے مسلمانوں نے یہودیوں کے دو قبیلوں بنو نضیر اور بنو قینقاع کو ایسی ہی بدعہدی اور فتنہ پردازی پر ایسی ہی سزا دی تھی ،ان قبیلوں کے بچے کچھے یہودی شام کو بھاگ گئے تھے ،شام میں ایرانیوں کی حکومت تھی۔ ایک عیسائی بادشاہ ہرقل نے حملہ کرکے شام پرقبضہ کر لیا۔یہودیوں نے اس کے ساتھ بھی بدعہدی کی،اِدھر مدینہ میں مسلمان بنو قریظہ کو قتل کر رہے تھے ،اُدھر ہرقل بنو نضیر اور بنو قینقاع کا قتلِ عام کر رہا تھا۔ایک حدیث ہے جو حضرت عائشہؓ کے حوالے سے ہشام بن عروہ نے بیان کی ہے کہ سعد ؓبن معاذ کے فیصلے کو رسولِ کریمﷺ نے قبول فرما لیا اور بنو قریظہ کے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا تھا ۔ہشام بن عروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے والد ِ بزرگوار نے انہیں یہ واقعہ سنایا تھا کہ سعد ؓبن معاذ کو سینہ میں برچھی لگی تھی ،جب بنو قریظہ کو سزا دی جا چکی تو رسول اﷲﷺ کے حکم سے سعد ؓبن معاذ کیلئے مسجد کے قریب ایک خیمہ لگا کر اس میں انہیں رکھا گیا ،تاکہ ان کے زخم کی دیکھ بھال آسانی سے ہوتی رہے۔
سعدؓ بن معاذ اس خیمے میں لیٹ گئے لیکن اٹھ بیٹھے اور انہوں نے خدا سے دعا مانگی کہ ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ ہراُس قوم کے خلاف لڑیں جو اﷲ کے رسولﷺ کو سچا نبی نہیں سمجھتی ،مگر لڑائی ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے خدا سے التجا کی کہ اگر میر ے نصیب میں کوئی اور لڑائی لڑنی ہے تو مجھے اس میں شریک ہونے کیلئے زندگی عطا فرما اگر یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو میرے زخم کو کھول دے کہ میں تیری راہ میں جان دے دوں ۔ سعد ؓبن معاذ کی یہ دعا تین چار آدمیوں نے سنی تھی لیکن انہوں نے اسے اہمیت نہیں دی تھی۔صبح کسی نے دیکھاکہ سعد ؓبن معاذ کے خیمے سے خون بہہ بہہ کر باہر آ رہا تھا۔ خیمہ میں جاکر دیکھا ،سعدؓ بن معاذ شہید ہو چکے تھے۔انہوں نے خدا سے شہادت مانگی تھی، خدا نے ان کی دعا قبول کر لی۔ان کے سینے کا زخم کھل گیا تھا۔
بنو قریظہ کی تباہی کی خبر مکہ پہنچی تو سب سے زیادہ خوشی ابو سفیان کو ہوئی۔’’خدا کی قسم! بنو قریظہ کو اس بد عہدی کی سزا ملی ہے جو اس کے سردار کعب بن اسد نے ہمارے ساتھ کی تھی۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’اگر اس کاقبیلہ مدینہ پر شب خون مارتا رہتا تو فتح ہماری ہوتی اور ہم بنو قریظہ کو موت کے بجائے مالِ غنیمت دیتے……کیوں خالد؟کیا بنو قریظہ کا انجام بہت برا نہیں ہوا؟‘‘خالد نے ابو سفیان کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا جیسے اسے اس کی بات اچھی نہ لگی ہو۔’’کیا تم بنو قریظہ کے اس انجام سے خوش نہیں ہو خالد؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’مدینہ سے پسپائی کا دکھ اتنا زیادہ ہے کہ بڑی سے بڑی خوشی بھی میرا یہ دکھ ہلکا نہیں کر سکتی۔‘‘خالد نے کہا ۔’’بد عہد کی دوستی، دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہودیوں نے کس کے ساتھ وفا کی ہے؟اپنی بیٹیوں کو یہودیت کے تحفظ اور فروغ کیلئے دوسری قوموں کے آدمیوں کی عیاشی کا ذریعہ بنانے والی قوم پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘’’ہمیں مسلمانوں نے نہیں طوفانی آندھی نے محاصرہ اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’ہمارے پاس خوراک نہیں رہی تھی۔‘‘’’تم لڑنا نہیں چاہتے تھے۔‘‘خالد نے کہا اور اٹھ کر چلا گیا۔خالد اب خاموش رہنے لگا تھا۔ اسے کوئی زبردستی بلاتا تو وہ جھنجھلا اٹھتا تھا۔ اس کے قبیلے کا سردار ابو سفیان اس سے گھبرانے لگا تھا ۔خالد اسے بزدل کہتا تھا۔خالد نے اپنے آپ سے عہد کر رکھا تھاکہ وہ مسلمانوں کو شکست دے گا۔لیکن اسے جب میدانِ جنگ میں مسلمانوں کی جنگی چالیں اور ان کا جذبہ یاد آتا تھا تو وہ دل ہی دل میں رسولِ اکرمﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرتا تھا۔ایساعسکری جذبہ اور ایسی عسکری فہم و فراست قریش میں ناپید تھی۔ خالدخود اس طرز پر لڑبنا چاھتا تھالیکن اپنے قبیلے سے اسے تعاون نہیں ملتا تھا ۔آج جب وہ مدینہ کی طرف اکیلا جا رہا تھا تو اسے معرکۂ خندق سے پسپائی یاد آ رہی تھی۔اسے غصہ بھی آ رہا تھا اور وہ شرمسار بھی ہو رہا تھا۔اسے یاد آ رہا تھا کہ اس نے ایک سال کس طرح گزارا تھا ۔وہ مدینہ پر ایک اور حملہ کرنا چاہتا تھا ۔لیکن اہلِ قریش مدینہ کا نام سن کر دبک جاتے تھے ۔آخر اسے اطلاع ملی کہ مسلمان مکہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں ۔اسے یہ خبر ابو سفیان نے سنائی تھی ۔’’مسلمان مکہ پر حملہ کرنے صرف اس لیے آ رہے ہیں کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قبیلہ ٔ قریش محمد)ﷺ( سے ڈرتا ہے۔‘‘ خالد نے ابو سفیان سے کہا۔’’ کیا تم نے اپنے قبیلے کو کبھی بتایا ہے کہ مسلمان مکہ پر حملہ کرسکتے ہیں ۔کیا قبیلہ حملہ روکنے کیلئے تیار ہے؟‘‘
’’اب اس بحث کا وقت نہیں کہ ہم نے کیا کیا اور کیا نہیں؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’مجھے اطلاع دینے والے نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار ہے ۔تم کچھ سوچ سکتے ہو؟‘‘’’میں سوچ چکا ہوں۔‘‘ خالد نے کہا۔’’مجھے تین سو سوار دے دو۔ میں مسلمانوں کو راستے میں روک لوں گا، میں کرع الغیم کی پہاڑیوں میں گھات لگاؤں گا۔وہ اسی درّے سے گزر کر آئیں گے۔میں انہیں ان پہاڑیوں میں بکھیر کر ماروں گا۔‘‘’’تم جتنے سوار چاہو ،لے لو۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ اور فوراً روانہ ہو جاؤ۔ ایسانہ ہو کہ وہ درّے سے گزر آئیں۔‘‘خالد کو آج یاد آرہا تھا کہ اس خبر نے اس کے جسم میں نئی روح پھونک دی تھی ۔اس نے اسی روز تین سو سوار تیار کر لیے تھے ۔مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ان میں زیادہ تر نفری پیادہ تھی۔ خالد خوش تھا کہ اپنے سواروں کی قیادت اس کے ہاتھ میں ہے۔ اب ابو سفیان اس کے سر پر سوار نہیں تھا۔ سب فیصلے اسے خود کرنے تھے۔ وہ مسلمانوں کو فیصلہ کن شکست دینے کیلئے روانہ ہو گیا۔ خالد کچھ دیر آرام کر کے اور گھوڑے کو پانی پلا کر چل پڑا تھا۔اس نے گھوڑے کو تھکنے نہیں دیا تھا ۔مکہ سے گھوڑا آرام آرام سے چلتا آیاتھا ۔خالد بڑی مضبوط شخصیت کا آدمی تھا ۔اس کے ذہن میں خواہشیں کم اور ارادے زیادہ ہوا کرتے تھے۔وہ ذہن کو اپنے قبضہ میں رکھا کرتا تھا مگر مدینہ کو جاتے ہوئے ذہن اس پر قابض ہو جاتا تھا ۔یادوں کے تھپیڑے تھے جو اسے طوفانی سمندر میں بہتی ہو ئی کشتی کی طرح پٹخ رہے تھے۔ کبھی اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہو جاتی جیسے وہ مدینہ بہت جلدی پہنچنا چاہتا ہو اور کبھی یوں جیسے اسے کہیں بھی پہنچنے کی جلدی نہ ہو۔اس کی آنکھوں کے آگے منزل سراب بن جاتی اور دور ہی دور ہٹتی نظر آتی تھی۔گھوڑا اپنے سوار کے ذہنی خلفشار سے بے خبر چلا جا رہا تھا۔سوا رنے اپنے سر کو جھٹک کر گردوپیش کو دیکھا ۔وہ ذرا بلند جگہ پر جا رہا تھا۔ افق سے احد کا سلسلۂ کوہ اور اوپر اٹھ آیا تھا ۔خالد کو معلوم تھا کہ کچھ دیر بعد ان پہاڑیوں کے قریب سے مدینہ کے مکان ابھرنے لگیں گے۔اسے ایک بار پھر خندق اور پسپائی یا د آئی اور اسے مسلمانوں کے ہاتھوں چار سو یہودیوں کاقتل بھی یاد آیا۔بنو قریظہ کی اس تباہی کی خبر پر قریش کا سردار ابوسفیان تو بہت خوش ہوا تھا،مگر خالد کو نہ خوشی ہوئی نہ افسوس ہوا۔’’قریش یہودیوں کی فریب کاریوں کاسہارا لے کر محمد )ﷺ(کے پیروکاروں کو شکست دینا چاہتے ہیں۔‘‘خالد کو خیال آیا۔ اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا جیسے اس خیال کو ذہن سے صاف کر دینا چاہتا ہو۔اس کا ذہن پیچھے ہی پیچھے ہٹتا جا رہا تھا۔ گھنٹیوں کی مترنم آوازیں اسے ماضی سے نکال لائیں ۔اس نے دائیں بائیں دیکھا ،بائیں طرف وسیع نشیب تھا ۔خالد اوپر اوپر جا رہا تھا ۔نیچے چار اونٹ چلے آ رہے تھے۔ اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے تھے ۔ان کے پہلو میں ایک گھوڑا تھا، اونٹوں پر دو عورتیں چند بچے اور دو آدمی سوار تھے ۔اونٹوں پر سامان بھی لدا ہوا تھا ۔گھوڑ سوار بوڑھا آدمی تھا۔ اونٹ کی رفتار تیز تھی۔ خالد نے اپنے گھوڑے کی رفتار کم کر دی۔
اونٹوں کا یہ مختصر سا قافلہ اس کے قریب آ گیا۔ بوڑھے گھوڑ سوار نے اسے پہچان لیا۔
تمہارا سفر آسان ہو ولید کے بیٹے!‘‘بوڑھے نے بازو بلندکرکے لہرایا اور بولا ’’نیچے آ جاؤ۔کچھ دور اکھٹے چلیں گے۔‘‘خالد نے گھوڑے کی لگام کو ایک طرف جھٹکا دیا اور ہلکی سی ایڑھ لگائی گھوڑا نیچے اتر گیا۔’’ہاہا……ہاہا ‘‘خالد نے اپنا گھوڑا بوڑھے کے گھوڑے کے پہلو میں لے جا کر خوشی کا اظہار کیا اور کہا۔’’ابو جریج !اور یہ سب تمہارا خاندان ہے؟‘‘’’ہاں!‘‘بوڑھے ابو جریج نے کہا۔’’ یہ میرا خاندان ہے۔اور تم خالد بن ولید کدھر کا رخ کیا ہے؟مجھے یقین ہے کہ مدینہ کو نہیں جا رہے۔مدینہ میں تمہارا کیاکام؟‘‘یہ قبیلہ غطفان کا ایک خاندان تھا جو نقل مکانی کر کے کہیں جا رہا تھا۔ابو جریج نے خود ہی کہہ دیا تھا کہ خالد مدینہ تو نہیں جا رہا ،تو خالد نے اسے بتانا مناسب بھی نہ سمجھا ۔’’اہلِ قریش کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ابو جریج نے کہا۔’’کیا یہ صحیح نہیں کہ محمد)ﷺ( کو لوگ نبی مانتے ہی چلے جا رہے ہیں۔کیا ایسا نہیں ہو گا کہ ایک روز مدینہ والے مکہ پر چڑھ دوڑیں گے اور ابو سفیان ان کے آگے ہتھیار ڈال دے گا ۔‘‘’’سردار اپنی شکست کا انتقام لینا ضروری نہیں سمجھتا ۔وہ ہتھیار ڈالنے کو بھی برا نہیں سمجھے گا۔‘‘خالد نے کہا۔’’کیا تمہیں یاد نہیں کہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کرنے گئے تھے تو مدینہ والوں نے اپنے اردگرد خندق کھود لی تھی ۔‘‘خالدنے کہا ۔’’ہم خندق پھلانگ سکتے تھے۔ میں خندق پھلانگ گیا تھا، عکرمہ بھی خندق کے پار چلا گیا تھا مگر ہمارا لشکر جس میں تمہارے قبیلے کے جنگجو بھی تھے، دور کھڑا تماشہ دیکھتا رہا تھا۔
مدینہ سے پسپا ہونے والا سب سے پہلا آدمی ہمارا سردار ابو سفیان تھا۔‘‘’’میرے بازؤں میں طاقت نہیں رہی ابنِ ولید!‘‘ ابو جریج نے اپنا ایک ہاتھ جو ضعیفی سے کانپ رہا تھا ۔خالد کے آگے کر کے کہا۔’’میرا جسم ذرا سا بھی ساتھ دیتا تومیں بھی ا س معرکے میں اپنے قبیلے کے ساتھ ہوتا ۔اس روز میرے آنسو نکل آ ئے تھے جس روز میرا قبیلہ مدینہ سے پسپا ہو کر لوٹا تھا۔ اگر کعب بن اسد دھوکا نہ دیتا اورمدینہ پر تین چار شب خون مار دیتا تو فتح یقیناً تمہاری ہوتی۔‘‘خالد جھنجھلااٹھا ۔اس نے ابوجریج کو قہر کی نظروں سے دیکھا اور چپ رہا۔ ’’کیا تم نے سنا تھا کہ یوحاوہ یہودن نے تمہارے قبیلے کے ایک آدمی جرید بن مسےّب کو محمد)ﷺ( کے قتل کیلئے تیار کر لیا تھا۔‘‘ ابو جریج نے پوچھا۔’’ہاں!‘‘ خالد نے کہا۔’’سنا تھا اور مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ جرید بن مسےّب میرے قبیلے کا آدمی تھا ۔کہاں ہے وہ؟’’وہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اس کا پتا نہیں چلا ۔میں نے سنا تھا کہ یوحاوہ یہودن اسے اپنے ساتھ یہودی جادوگر لیث بن موشان کے پاس لے گئی تھی اور اس نے جرید کو محمد)ﷺ( کے قتل کیلئے تیار کیا تھا مگر مسلمانوں کی تلواروں کے سامنے لیث بن موشان کا جادو جواب دے گیا۔جرید بن مسےّب مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا ۔بنو قریظہ میں سے زندہ بھاگ جانے والے صرف دو تھے لیث بن موشان اور یوحاوہ ۔‘‘
’اب صرف ایک زندہ ہے ۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’ لیث بن موشان ۔صرف لیث بن موشان زندہ ہے۔‘‘’’اور جرید اور یوحاوہ؟‘‘’’وہ بد روحیں بن گئے تھے۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’میں تمہیں ان کی کہانی سنا سکتا ہوں ۔تم نے یوحاوہ کو دیکھا تھا۔ وہ مکہ کی ہی رہنے والی تھی۔ اگر تم کہو گے کہ اسے دیکھ کر تمہارے دل میں ہل چل نہیں ہوئی تھی اور تم اپنے اندر حرارت سی محسوس نہیں کرتے تھے توخالد میں کہوں گا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔کیا تمہیں کسی نے نہیں بتایا تھا کہ مدینہ پر حملہ کیلئے غطفان اہلِ قریش سے کیوں جا ملا تھا اور دوسرے قبیلے کے سرداروں نے کیوں ابو سفیان کو اپنا سردار تسلیم کرلیا تھا۔یہ یوحاوہ اور اس جیسی چار یہودنوں کا جادو چلاتھا۔‘‘گھوڑے اور اونٹ چلے جا رہے تھے۔ اونٹوں کی گردنوں سے لٹکتی ہوئی گھنٹیاں بوڑھے ابو جریج کے بولنے کے انداز میں جلترنگ کا ترنم پیداکر رہی تھیں ۔خالد انہماک سے سن رہا تھا۔ ’’جرید بن مسےّب یوحاوہ کے عشق کا اسیر ہو گیا تھا۔‘‘ابو جریج کہہ رہا تھا۔’’ تم نہیں جانتے ابنِ ولید! یوحاوہ کے دل میں اپنے مذہب کے سوا کسی آدمی کی محبت نہیں تھی ،وہ جرید کو اپنے طلسم میں گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی تھی ۔میں لیث بن موشان کو جانتا ہوں ۔جوانی میں ہماری دوستی تھی۔ جادو گری اور شعبدہ بازی اس کے باپ کا فن تھا۔ باپ نے یہ فن اسے ورثے میں دیا تھا ۔تم میری بات سن رہے ہو ولید کے بیٹے یا اُکتا رہے ہو؟اب میں باتو ں کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘خالد ہنس پڑااوربولا۔’’سنرہا ہوں ابو جریج…… غور سے سن رہا ہوں۔‘‘’’یہ تو تمہیں معلوم ہو گا کہ جب ہمارے لشکر کو مسلمانوں کی خندق اور آندھی نے مدینہ کا محاصرہ اٹھا کر پسپائی پر مجبور کر دیا تو محمد)ﷺ( نے بنو قریظہ کی بستی کو گھیر لیا تھا۔‘‘ ابو جریج نے کہا۔’’لیث بن موشان اور یوحاوہ ،جرید بن مسےّب کو وہیں چھوڑ کر نکل بھاگے۔‘‘ ’’ہاں ہاں ابو جریج!‘‘ خالد نے کہا ۔’’مجھے معلوم ہے کہ مسلمانوں نے بنو قریظہ کے تمام مردوں کو قتل کر دیا اور عورتوں اور بچوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔‘‘ ’’میں جانتا ہوں تم میری باتوں سے اکتا گئے ہو ۔‘‘ابو جریج نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’تم میری پوری بات نہیں سن رہے ہو۔‘‘’’مجھے یہ بات وہاں سے سناؤ ۔‘‘خالد نے کہا۔’’ جہاں سے میں نے پہلے نہیں سنی۔میں وہاں تک جانتا ہوں کہ جرید بن مسےّب اُسی پاگل پن کی حالت میں مارا گیا تھا جو اس بوڑھے یہودی شعبدہ باز نے اس پر طاری کیا تھا اور وہ خود یوحاوہ کو ساتھ لے کر وہاں سے نکل بھاگا تھا۔ ’’پھر یوں ہوا……‘‘ ابو جریج نے کہا۔’’ اُحد کی پہاڑیوں کے اندر جو بستیاں آباد ہیں وہاں کے رہنے والوں نے ایک رات کسی عورت کی چیخیں سنیں ۔تین چار دلیر قسم کے آدمی گھوڑوں پر سوار ہو کر تلواریں اور برچھیاں اٹھائے سر پٹ دوڑے گئے لیکن انہیں وہاں کوئی عورت نظر نہ آئی اور چیخیں بھی خاموش ہو گئیں ۔وہ اِدھر ُادھر گھوم پھر کر واپس آ گئے۔’’یہ چیخیں صحرائی لومڑیوں یا کسی بھیڑیے کی بھی ہو سکتی تھیں؟‘‘ خالد نے کہا۔
’’بھیڑیے اور عورت کی چیخ میں بہت فرق ہے۔‘‘ ابو جریج نے کہا۔’’ لوگ اسے کسی مظلوم عورت کی چیخیں سمجھے تھے۔ وہ یہ سمجھ کر چپ ہو گئے کہ کسی عورت کو ڈاکو لے جا رہے ہوں گے یا وہ کسی ظالم خاوند کی بیوی ہو گی اور وہ سفر میں ہوں گے ۔لیکن اگلی رات یہی چیخیں ایک اور بستی کے قریب سنائی دیں ۔وہاں کے چند آدمی بھی ان چیخوں کے تعاقب میں گئے لیکن انہیں کچھ نظرنہ آیا ۔اس کے بعد دوسری تیسری رات کچھ دیر کیلئے یہ نسوانی چیخیں سنائی دیتیں ا ور رات کی خاموشی میں تحلیل ہو جاتیں ۔پھر ان پہاڑیوں کے اندر رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ اب چیخوں کے ساتھ عورت کی پکار بھی سنائی دیتی ہے۔جرید……جرید……کہاں ہو ؟آجاؤ۔وہاں کے لوگ جرید نام کے کسی آدمی کو نہیں جانتے تھے ۔ان کے بزرگوں نے کہا کہ یہ کسی مرے ہوئے آدمی کی بدروح ہے جو عورت کے روپ میں چیخ چلارہی ہے ۔ابو جریج کے بولنے کا انداز میں ایسا تاثر تھا جو ہرکسی کو متاثر کر دیا کرتا تھا لیکن خالد کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا جس سے پتا چلتا کہ وہ قبیلہ غطفان کے اس بوڑھے کی باتوں سے متاثر ہو رہا ہے۔’’ لوگوں نے اس راستے سے گزرنا چھوڑ دیا۔ جہاں یہ آوازیں عموماً سنائی دیا کرتی تھیں ۔‘‘ابو جریج نے کہا ۔’’ایک روز یوں ہوا کہ دو گھوڑ سوا ر جو بڑے لمبے سفر پر تھے ،ایک بستی میں گھوڑے سرپٹ دوڑاتے پہنچے۔گھوڑوں کا پسینہ یوں پھوٹ رہا تھا جیسے وہ پانی میں سے گزر کر آئے ہوں ۔ہانپتے کانپتے سواروں پر خوف طاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک وادی میں سے گزر رہے تھے کہ انہیں کسی عورت کی پکار سنائی دی۔جریدٹھہرجاؤ…… جرید ٹھہرجاؤ…… میں آ رہی ہوں۔ان گھوڑ سواروں نے اُدھر دیکھا جدھر سے آواز آ رہی تھی۔ایک پہاڑ ی کی چوٹی پر ایک عورت کھڑی ان گھوڑ سواروں کو پکار رہی تھی ۔وہ تھی تو دور لیکن جوان لگتی تھی ۔وہ پہاڑی سے اترنے لگی تو دونوں گھوڑ سواروں نے ڈر کر ایڑھ لگا دی ۔’’سامنے والی چٹان گھومتی تھی ۔گھوڑ سوار اس کے مطابق وادی میں گھوم گئے ۔انہیں تین چار مزید موڑ مڑنے پڑے گھبراہٹ میں وہ راستے سے بھٹک گئے تھے۔ وہ ایک اور موڑ مڑے تو ان کے سامنے تیس چالیس قدم دور ایک جوان عورت کھڑی تھی جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ نیم برہنہ تھی۔اس کا چہرہ لاش کی مانند سفید تھا ۔گھوڑسواروں نے گھوڑے روک لیے ۔عورت نے دونوں بازو ان کی طرف پھیلا کر اورآگے کو دوڑتے ہوئے کہا۔ میں تم دونوں کے انتظار میں بہت دنوں سے کھڑی ہوں۔ دونوں گھوڑسواروں نے وہیں سے گھوڑے موڑے اور ایڑھ لگا دی ۔‘‘بوڑھا جریج بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔اس نے اپنا ہاتھ خالد کی ران پر رکھا اوربولا ۔’’میں دیکھ رہاہوں کہ تمہارے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ ہم کچھ دیرکیلئے رک جائیں پھر نہ جانے تم کب ملو،تمہارا باپ ولید بڑا زبردست آدمی تھا۔ تم میرے ہاتھوں میں پیدا ہوئے تھے۔ میں تمہاری خاطر تواضع کرنا چاہتا ہوں۔روکو گھوڑے کو اور اتر آؤ۔‘‘
یہ قافلہ وہیں رک گیا۔’’و ہ کسی مرے ہوئے آدمی یا عورت کی بدروح ہی ہو سکتی تھی۔‘‘ابو جریج نے بھنا ہوا گوشت خالد کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔’’کھاؤ ولید کے بیٹے !پھر ایک خوفناک واقعہ ہو گیا۔ایک بستی میں ایک اجنبی اس حالت میں آن گرا کہ اس کے چہرہ پر لمبی لمبی خراشیں تھیں جن سے خون بہہ رہاتھا ۔اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور جسم پر بھی خراشیں تھیں ۔وہ گرتے ہی بے ہوش ہوگیا۔ لوگوں نے اس کے زخم دھوئے اور اس کے منہ میں پانی ڈالا۔وہ جب ہوش میں آیا تو اس نے بتایا کہ وہ دو چٹانوں کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ ایک چٹان کے اوپر سے ایک عورت چیختی
چلاتی اتنی تیزی سے اُتری جتنی تیزی سے کوئی عورت نہیں اتر سکتی تھی۔یہ آدمی اس طرح رک گیا جیسے دہشت زدگی نے اس کے جسم کی قوت سلب کرلی ہو۔ وہ عورت اتنی تیزی سے آ رہی تھی کہ رُک نہ سکی ،وہ اس آدمی سے ٹکرائی اور چیخ نماآواز میں بولی ۔تم آ گئے جرید! میں جانتی تھی تم زندہ ہو۔آؤ چلیں۔اس شخص نے اسے بتایا کہ وہ جرید نہیں لیکن وہ عورت اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتی رہی اور کہتی رہی تم جرید ہو ،تم جرید ہو۔اس شخص نے اس سے آزاد ہونے کی کوشش میں اسے دھکا دیا وہ گر پڑی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ آدمی اسے کوئی پاگل عورت سمجھ کر وہیں کھڑا رہا۔وہ اس طرح اس کی طرف آئی کہ اس کے دانت بھیڑیوں کی طرح باہرنکلے ہوئے تھے اور اس نے ہاتھ اس طرح آگے کر رکھے تھے کہ اس کی انگلیاں درندوں کے پنجوں کی طرح ٹیڑھی ہو گئی تھیں ۔وہ آدمی ڈر کر الٹے قدم پیچھے ہٹا اور ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر پیٹھ کے بل گرا۔یہ عورت اس طرح اس پر گری اور پنجے اس کے چہرے پر گاڑھ دیئے جیسے بھیڑیا اپنے شکار کو پنجوں میں دبوچ لیتاہے ۔اس نے اس آدمی کا چہرہ نوچ ڈالا۔اس نے اس عورت کو دھکا دے کر پرے کیا اور اس کے نیچے سے نکل آیا۔لیکن اس عورت نے اپنے ناخن اس شخص کے پہلوؤں میں اتار دیئے ا ور اس کے کپڑے بھی پھاڑ ڈالے اور کھال بھی بری طرح زخمی کردی۔اس زخمی نے بتایا کہ اس عورت کی آنکھوں اور منہ سے شعلے سے نکلتے ہوئے محسوس ہوتے تھے،وہ اسے انسانوں کے روپ میں آیا ہوا کوئی درندہ سمجھا۔
اس آدمی کے پاس خنجر تھا لیکن اس کے ہوش ایسے گم ہوئے کہ و ہ خنجرنکالنابھول گیا۔اتفاق سے اس آدمی کے ہاتھ میں اس عورت کے بال آ گئے۔ اس نے بالوں کو مٹھی میں لے کر زور سے جھٹکا دیا ۔وہ عورت چٹان پر گری....
یہ آدمی بھاگ اٹھااسے اپنے پیچھے اس عورت کی چیخیں سنائی دیتی رہیں ۔اسے بالکل یاد نہیں تھا وہ اس بستی تک کس طرح پہنچا ہے ۔وہ ان خراشوں کی وجہ سے بے ہوش نہیں ہوا تھا۔ اس پر دہشت سوار تھی۔پھر دو مسافروں نے بتایا کہ انہوں نے راستے میں ایک آدمی کی لاش پڑی دیکھی ہے جسے کسی درندے نے چیر پھاڑ کر ہلاک کیا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور تمام جسم پر خراشیں تھیں،اس جگہ کے قریب جس جگہ اس عورت کی موجودگی بتائی جاسکتی تھی، چھوٹی سی ایک بستی تھی ۔وہاں کے لوگوں نے نقل مکانی کا ارادہ کرلیا لیکن یہودی جادوگر لیث بن موشان پہنچ گیا۔ اسے کسی طرح پتا چل گیا تھا کہ ایک عورت اس علاقے میں جرید جرید پکارتی اور چیختی چلاتی رہتی ہے اور جو آدمی اس کے ہاتھ آ جائے اسے چیر پھاڑ دیتی ہے ۔‘‘ابو جریج نے خالد کو باقی کہانی یوں سنائی ۔اسے بدروحوں کے علم کے ساتھ گہری دلچسپی تھی اور وہ لیث بن موشان کو بھی جانتا تھا۔ جب اسے پتا چلا کہ یہودی جادوگر وہاں پہنچ گیا ہے تو وہ بھی گھوڑے پر سوا رہوا اور وہاں جا پہنچا۔وہ اس بستی میں جا پہنچا جہاں لیث بن موشان آکر ٹھہرا تھا۔’’ابو جریج!‘‘ بوڑھے لیث بن موشان نے اٹھ کر بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔’’تم یہاں کیسے آ گئے؟‘‘’’میں یہ سن کہ آیا ہوں کہ تم اس بد روح پر قابو پانے کیلئے آئے ہو۔‘‘ابو جریج نے اس سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہا۔’’کیا میں نے ٹھیک سنا ہے کہ اس بدروح نے یا وہ جو کچھ بھی ہے،دو تین آدمیوں کو چیر پھاڑ ڈالا ہے؟‘‘’’وہ بد روح نہیں میرے بھائی!‘‘ لیث بن موشان نے ایسی آواز میں کہا جو ملال اور پریشانی سے دبی ہوئی تھی۔’’وہ خدائے یہودہ کی سچی نام لیوا ایک جوان عورت ہے۔اس نے اپنی جوانی ا پنا حسن اور اپنی زندگی یہودیت کے نام پر وقف کررکھی تھی۔اس کانام یوحاوہ ہے۔‘‘’’میں نے اسے مکہ میں دو چار مرتبہ دیکھا تھا۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’اسکے کچھ جھوٹے سچے قصے بھی سنے تھے۔یہ بھی سنا تھاکہ اس نے قریش کے ایک آدمی جرید بن مسیّب کو تمہارے پاس لا کر
محمد)ﷺ( کے قتل کیلئے تیار کیاتھا پھر میں نے یہ بھی سنا تھاکہ تم اور یوحاوہ مسلمانوں کے محاصرے سے نکل گئے تھے اور جرید پیچھے رہ گیا تھا ۔اگر یوحاوہ زندہ ہے اوروہ بدروح نہیں تو وہ اس حالت تک کس طرح پہنچی ہے؟‘‘’’ا س نے اپنا سب کچھ خدائے یہودہ کے نام پر قربان کر رکھا تھا۔‘‘لیث بن موشان نے کہا۔’’ لیکن وہ آخر انسان تھی، جوان تھی ،وہ جذبات کی قربانی نہ دے سکی۔ اس نے جرید کی محبت کو اپنی روح میں اتارلیاتھا۔جریدپرجتنا اثرمیرے خاص عمل کا تھا۔اتنا ہی یوحاوہ کی والہانہ محبت کا تھا۔‘‘
’’میں سمجھ گیا۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’اسے جرید بن مسےّب کی موت نے پاگل کر دیا ہے ۔کیا تمہارا عمل اور جادو اس عورت پر نہیں چل سکتا تھا؟‘‘لیث بن موشان نے لمبی آہ بھری اوربے نور آنکھوں سے ابو جریج کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھااور کچھ دیر چپ رہنے کے بعد کہا۔’’میرا عمل اس پرکیا اثر کرتا۔وہ مجھے بھی چیر پھاڑنے کومجھ پر ٹوٹ پڑتی تھی۔میرا عمل اس صورت میں کام کرتا کہ میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتا اور میرا ہاتھ تھوڑی دیرکیلئے اس کے ماتھے پر رہتا۔‘‘’’جہاں تک میں اس علم کو سمجھتا ہوں۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’وہ پہلے ہی پاگل ہو چکی تھی اور تمہیں اپنا دشمن سمجھنے لگی تھی۔‘‘’’اور اسے میرے خلاف دشمنی یہ تھی کہ میں جرید بن مسےّب کو مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ آیا تھا ۔‘‘لیث بن موشان نے کہا۔’’میں اسے اپنے ساتھ لا سکتا تھا لیکن وہ اس حد تک میرے طلسماتی علم کے زیرِ اثر آچکا تھا کہ ہم اسے زبردستی لاتے تو شاید مجھے یا یوحاوہ کو قتل کردیتا۔میں نے اس کے ذہن میں درندگی کا ایساتاثر پیدا کر دیا تھا کہ وہ قتل و غارت کے سوااور کچھ سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔اگر میں ایک درخت کی طرف یہ اشارہ کرکہ کہتا کہ یہ ہے محمد،تو وہ تلوار اس درخت کے تنے میں اتار دیتا۔مجھے یہ توقع بھی تھی کہ یہ پیچھے رہ گیا تو ہو سکتاہے کہ محمد)ﷺ( تک پہنچ جائے اور اسے قتل کر دے لیکن وہ خود قتل ہو گیا۔‘‘’’کیا تم اب یوحاوہ پر قابو پا سکو گے؟‘‘ابو جریج نے پوچھا۔’’مجھے امید ہے کہ میں اسے اپنے اثر میں لے آؤں گا۔‘‘لیث بن موشان نے کہا۔’’کیا تم مجھے اس کام میں شریک کر سکو گے؟‘‘ابو جریج نے پوچھا اور کہا۔’’میں کچھ جاننا چاہتاہوں۔ کچھ سیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘’’اگربڑھاپا تمہیں چلنے دے تو چلو۔‘‘لیث بن موشان نے کہا۔’’ میں تھوڑی دیر تک روانہ ہونے والا ہوں ۔یہاں کے کچھ آدمی میرے ساتھ چلنے کوتیار ہو گئے ہیں۔‘‘’’اور پھر خالد بن ولید!‘‘ بوڑھے ابو جریج نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے خالد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جذباتی لہجے میں کہا ۔’’ہم دونوں بوڑھے،اونٹوں پر سوار اس پہاڑی علاقے میں پہنچے جہاں کے متعلق بتایا گیا تھا کہ ایک عورت کو دیکھا گیا ہے۔ہم تنگ سی ایک وادی میں داخل ہوگئے۔ ہمارے پیچھے دس بارہ گھڑ سوار اور تین چار شتر سوار تھے۔ وادی میں داخل ہوئے تو ان سب نے کمانوں میں تیر ڈال لیے۔وادی آگے جاکر کھل گئی ،ہم دائیں کو گھومے تو ہمیں کئی گدھ نظر آئے جو کسی مردار کو کھا رہے تھے ۔ایک صحرائی لومڑی گدھوں میں سے دوڑتی ہوئی نکلی۔ میں نے دیکھا اس کے منہ میں ایک انسانی بازو تھا ۔. جاری ہے بقیہ قسط 12
شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*(قسط نمبر-12 )*
اور لومڑیاں بھاگیں اور گدھ اڑ گئے۔وہاں انسانی ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں ۔سر الگ پڑا تھا۔اس کے بال لمبے اِدھر ُادھر بکھرے ہوئے تھے ۔کچھ کھوپڑی کے ساتھ تھے۔آدھے چہرے پر ابھی کھال موجود تھی وہ یوحاوہ تھی۔لیث بن موشان کچھ دیراس کی بکھری ہوئی ہڈیوں کو اور ادھ کھائی چہرے کو دیکھتا رہا۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کی دودھ جیسی داڑھی میں جذب ہو گئے۔ہم وہاں سے آگئے۔‘‘’’لیث بن موشان اور یوحاوہ نے جرید بن مسےّب کو محمد)ﷺ( کے قتل کیلئے تیار کیا تھا ۔‘‘خالد نے ایسے لہجے میں کہا جس میں طنز کی ہلکی سی جھلک بھی تھی ۔’’جرید بن مسیّب مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور یوحاوہ کا انجام تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ……کیا تم سمجھے نہیں ہو ابو جریج؟‘‘’’ہاں ۔ہاں!‘‘بوڑھے ابو جریج نے جواب دیا۔’’لیث بن موشان کے جادو سے محمد )ﷺ(کا جادوزیادہ تیز اور طاقتور ہے۔لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ محمد)ﷺ( کے ہاتھ میں جادو ہے۔اس جادو کا ہی کرشمہ ہے کہ اس کے مذہب کو لوگ مانتے ہی چلے جا رہے ہیں۔جرید کو قتل ہونا ہی تھا۔‘‘’’میرے بزرگ دوست! ‘‘خالد نے کہا ۔’’اس بدروح کے قصّے مدینہ میں بھی پہنچے ہوں گے لیکن وہاں کوئی نہیں ڈرا ہوگا۔محمد)ﷺ( کے پیروکاروں نے تسلیم ہی نہیں کیا ہو گا کہ یہ جن بھوت یا بدروح ہے۔‘‘’’محمد)ﷺ( کے پیروکاروں کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘ابو جریج نے کہا۔’’محمد)ﷺ( کے جادو نے مدینہ کے گرد حصار کھینچا ہوا ہے ،محمد)ﷺ( کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔وہ اُحد کی لڑائی میں زخمی ہوا اور زندہ رہا ۔تمہارا اور ہمارا اتنا زیادہ لشکر مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے گیا تو ایسی آندھی آئی کہ ہمارا لشکر تتّر بتّر ہو کہ بھاگا۔میدانِ جنگ میں محمد)ﷺ( کے سامنے جو بھی گیا اس کا دماغ جواب دے گیا۔کیا تم جانتے ہو خالد! محمد)ﷺ( کے قتل کی ایک اور کوشش ناکام ہو چکی ہے؟‘‘’’سنا تھا۔‘‘خالد نے کہا۔’’ پوری بات کا علم نہیں۔‘‘’’یہ خیبر کا واقعہ ہے۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’مسلمانوں نے خیبر کے یہودیوں پر چڑھائی کی تویہودی ایک دن بھی مقابلے میں نہ جم سکے۔‘‘’’فریب کار قوم میدان میں نہیں لڑ سکتی۔‘‘خالد نے کہا ۔’’یہودی پیٹھ پر وار کیاکرتے ہیں۔‘‘’’اور وہ انہوں نے خیبر میں کیا۔‘‘ابو جریج نے کہا۔’’یہودیوں نے مقابلہ تو کیا تھا لیکن ان پر محمد )ﷺ(کا خوف پہلے ہی طاری ہو گیاتھا۔میں نے سنا تھا کہ جب مسلمان خیبر کے مقام پرپہنچے تو یہودی مقابلے کیلئے نکل آئے۔ان میں سے بعض محمد )ﷺ(کوپہچانتے تھے۔کسی نے بلند آواز سے کہا کہ محمد بھی آیا ہے ۔پھر کسی اور نے چلا کر کہا۔محمدبھی آیا ہے۔یہودی لڑے تو سہی لیکن ان پر محمد کا خوف ایسا سوار ہوا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔‘‘
یہودیوں نے شکست کھائی تو انہوں نے رسولِ کریمﷺ سے وفاداری کااظہار کرنا شروع کر دیااور ایسے مظاہرے کیے جن سے پتا چلتا تھا کہ مسلمانوں کی محبت سے یہودیوں کے دل لبریز ہیں ۔انہی دنوں جب رسولِ کریمﷺ خیبر میں ہی تھے ۔ایک یہودن نے آپﷺ کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا۔اس نے عقیدت مندی کا ااظہار ایسے جذباتی انداز میں کیا کہ رسولِ خداﷺ نے اسے مایوس کرنا مناسب نہ سمجھا۔آپﷺ اس کے گھر چلے گئے۔آپﷺ کے ساتھ ’’بشرؓ بن البارأ ‘‘تھے۔یہودن زینب بنتِ الحارث نے جو سلّام بن شکم کی بیوی تھی۔رسولِ خداﷺ کے راستے میں آنکھیں بچھائیں اور آپﷺ کو کھانا پیش کیا۔اس نے سالم دنبہ بھونا تھا۔اس نے رسول اﷲﷺ سے پوچھا کہ ’’آپﷺ کو دنبہ کاکون ساحصہ پسند ہے؟‘‘آپﷺ نے دستی پسند فرمائی۔یہودن دنبہ کی دستی کاٹ لائی اور رسولِ خدا ﷺ اور بشرؓ بن البارأ کے آگے رکھ دی۔بشرؓ بن البارأ نے ایک بوٹی کاٹ کر منہ میں ڈال لی۔رسولِ اکرمﷺ نے بوٹی منہ میں ڈالی مگر اگل دی۔’’مت کھانا بشر!‘‘آپﷺ نے فرمایا۔’’اس گوشت میں زہر ملا ہوا ہے۔‘‘بشرؓ بن البارأ بوٹی چبا رہے تھے۔انہوں نے اگل تو دی لیکن زہر لعابِ دہن کے ساتھ حلق سے اتر چکا تھا۔’’اے یہودن!‘‘رسولِ خداﷺ نے فرمایا۔’’کیا میں غلط کہہ رہا ہوں کہ تو نے اس گوشت میں زہرملایا ہے؟‘‘یہودن انکار نہیں کر سکتی تھی۔اس کے جرم کا ثبوت سامنے آ گیا تھا۔ بشرؓ بن البارأ حلق پر ہاتھ رکھ کر اٹھے اور چکرا کر گر پڑے۔زہر اتنا تیز تھا کہ اس نے بشر ؓکو پھر اٹھنے نہ دیا ۔وہ زہر کی تلخی سے تڑپے اور فوت ہو گئے۔’’اے محمد!‘‘ یہودن نے بڑی دلیری سے اعتراف کیا۔’’خدائے یہودہ کی قسم! یہ میرا فرض تھا جو میں نے ادا کیا۔‘‘رسول اﷲﷺ نے اس یہودن اور اس کے خاوند کے قتل کا حکم فرمایااور خیبر کے یہودیوں کے ساتھ آپﷺ نے جو مشفقانہ روّیہ اختیار کیا تھا وہ ان کی ذہنیت کے مطابق بدل ڈالا۔ابنِ اسحاق لکھتے ہیں۔مروان بن عثمان نے مجھے بتایا تھا کہ رسولِ خدا ﷺ آخری مرض میں مبتلا تھے ،آپﷺ نے وفات سے دو تین روز پہلے اُمّ ِ بشر بن البارأ کو جب وہ آپ ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں ۔فرمایا تھا۔’’اُمّ ِ بشر!میں آج بھی اپنے جسم میں اس زہر کا اثر محسوس کررہا ہوں۔جو اس یہودن نے گوشت میں ملایا تھا۔میں نے گوشت چبایا نہیں اگل دیا تھا۔مگر زہر کااثر آج تک موجود ہے۔‘‘اس میں شک و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ رسول اﷲﷺ کی آخری بیماری کا باعث یہی زہر تھا۔
محمد)ﷺ( کو کوئی شھید نھیں کر سکتا..‘‘خالد نے کہا۔’’آخر کب تک؟‘‘ابو جریج نے کہا۔’’اس کا جادو کب تک چلے گا؟اسے ایک نہ ایک دن قتل ہونا ہے خالد!‘‘ابو جریج نے خالد کے قریب ہوتے ہوئے پوچھا۔’’کیا تم نے محمد)ﷺ( کے قتل کی کبھی کوئی ترکیب سوچی ہے؟‘‘’’کئی بار۔‘‘خالد نے جواب دیا۔’’جس روز میرے قبیلے نے بدر کے میدان میں شکست کھائی تھی ،اس روز سے محمد)ﷺ( کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کی ترکیب سوچ رہاہوں۔لیکن میری ترکیب کارگر نہیں ہوئی۔‘‘’’کیا وہ ترکیب مجھے بتاؤ گے؟‘‘’’کیوں نہیں۔‘‘خالد نے جواب دیا۔’’بڑی آسان ترکیب ہے۔ یہ ہے کھلے میدان میں آمنے سامنے کی لڑائی ۔لیکن میں ایک لشکر کے مقابلے میں اکیلا نہیں لڑ سکتا۔ہم تین لڑائیاں ہار چکے ہیں۔‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ ابو جریج نے قہقہہ لگا کر کہا۔’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ولید کا بیٹا بیوقوف ہو سکتا ہے۔میں یہودیوں جیسی ترکیب کی بات کر رہا ہوں۔میں دھوکے اور فریب کی بات کر رہا ہوں۔محمد )ﷺ(کو تم آمنے سامنے کی لڑائی میں نہیں مار سکتے۔‘‘’’اور تم اسے فریب کاری سے بھی نہیں مار سکتے۔‘‘خالد نے کہا۔’’فریب کبھی کامیاب نہیں ہوا۔‘‘بوڑھا ابو جریج خالد کی طرف جھکا اور اس کے سینے پر انگلی رکھ کر بولا۔’’کسی اور کا فریب ناکام ہو سکتا ہے ،یہودیوں کا فریب ناکام نہیں ہو گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فریب کاری یہودیوں کے مذہب میں شامل ہے۔میں لیث بن موشان کا دوست ہوں،کبھی اس کی باتیں سنو۔وہ دانشمند ہے اس کی زبان میں جادو ہے۔وہ تمہیں زبان سے مسحور کردے گا۔وہ کہتا ہے کہ سال لگ جائیں گے،صدیاں گزر جائیں گی،آخر فتح یہودیوں کی ہوگی۔دنیا میں کامیاب ہوگا تو صرف فریب کامیاب ہوگا۔مسلمان ابھی تعداد میں تھوڑے ہیں اس لیے ان میں اتفاق اور اتحاد ہے ۔اگر ان کی تعداد بڑھ گئی تو یہودی ایسے طریقوں سے ان میں تفرقہ ڈال دیں گے کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے اور سمجھ نہ سکیں گے کہ یہ یہودیوں کی کارستانی ہے
محمد )ﷺ(انہیں یکجان رکھنے کیلئے کب تک زندہ رہے گا؟‘‘خالد اٹھ کھڑا ہوا۔ابو جریج بھی اٹھا۔خالد نے دونوں ہاتھ آگے کیے ،ابو جریج نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔مصافحہ کرکے خالد اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔’’تم نے یہ تو بتایا نہیں کہ کہاں جا رہے ہو؟‘‘ابو جریج نے پوچھا۔’’مدینے۔‘‘’’مدینے؟‘‘ابو جریج نے حیرت سے پوچھا۔’’وہاں کیا کرنے جا رہے ہو؟اپنے دشمن کے پاس……‘‘’’میں محمد)ﷺ( کا جادو دیکھنے جا رہا ہوں۔‘‘خالد نے کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔
اس نے کچھ دور جا کر پیچھے دیکھا۔اسے ابو جریج کا قافلہ نظر نہ آیا۔خالدنشیبی جگہ سے نکل کر دور چلا گیا تھا۔اس نے گھوڑے کی رفتار کم کردی۔اسے ایسے لگا جیسے آوازیں اس کا تعاقب کر رہی ہوں۔’’محمد جادوگر……محمد کے جادو میں طاقت ہے۔‘‘’’نہیں ……نہیں۔‘‘اس نے سر جھٹک کر اپنے آپ سے کہا۔’’لوگ جس چیز کو سمجھ نہیں سکتے اسے جادو کہہ دیتے ہیں اور جس آدمی کا سامنا نہیں کر سکتے اسے جادوگر سمجھنے لگتے ہیں۔پھر بھی……کچھ نہ کچھ راز ضرور ہے۔محمد )ﷺ(میں کوئی بات ضرور ہے۔‘‘ذہن اسے چند دن پیچھے لے گیا۔ابو سفیان نے اسے ،عکرمہ اور صفوان کو بلا کر بتایا تھا کہ مسلمان مکہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ابو سفیان کو یہ اطلاع دو شتر سواروں نے دی تھی جنہوں نے مسلمانوں کے لشکر کو مکہ آتے دیکھا تھا۔خالد اپنی پسند کے تین سو گھڑ سواروں کو ساتھ لے کر مسلمانوں کو راستے میں گھات لگا کر روکنے کیلئے چل پڑا تھا۔وہ اپنے اس جانباز دستے کو سر پٹ دوڑاتا لے جا رہا تھا۔اس کے سامنے تیس میل کی مسافت تھی۔اسے بتایا گیا تھا کہ مسلمان کراع الغیمم سے ابھی دور ہیں۔خالد اس کوشش میں تھا کہ مسلمانوں سے پہلے کراع اکغیمم پہنچ جائے۔مکہ سے تیس میل دور کراع الغیمم ایک پہاڑی سلسلہ تھا جو گھات کیلئے موزوں تھا۔اگر مسلمان پہلے وہاں پہنچ جاتے تو خالد کیلئے جنگی حالات دشوار ہو جاتے۔اس نے راستے میں صرف دو جگہ دستے کو روکااور گھوڑوں کو سستانے کا موقع دیا۔اس نے دو جگہوں پر اپنے گھوڑ سواروں کو اپنے سامنے کھڑ اکر کے کہا۔’’یہ ہمارے لیے کڑی آزمائش ہے۔اپنے قبیلے کی عظمت کے محافظ صرف ہم ہیں۔آج ہمیں عزیٰ اور ہبل کی لاج رکھنی ہے۔ہمیں اپنی شکست کا انتقام لینا ہے۔اگر ہم مسلمانوں کو کراع الغیمم کے اندر ہی روک کر انہیں تباہ نہ کر سکے تو مکہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگا۔ہماری بہنیں اور بیٹیاں ان کی لونڈیاں ہوں گی اور ہمارے بچے ان کے غلام ہوں گے۔عزیٰ اور ہبل کے نام پر حلف اٹھاؤ۔کہ ہم قریش اور مکہ کی آن اور وقار پر جانیں قربان کر دیں گے۔‘‘تین سوگھوڑ سواروں نے نعرے لگائے۔’’ہم عزیٰ اور ہبل کے نام پر مر مٹیں گے……ایک بھی مسلمان زندہ نہیں جائے گا……کراع الغیمم کی وادی میں مسلمانوں کا خون بہے گا……محمد کو زندہ مکہ لے جائیں گے……مسلمانوں کی کھوپڑیاں مکہ لے جائیں گے……کاٹ دیں گے……تباہ کر کے رکھ دیں گے۔‘‘خالد کا سینہ پھیل گیا تھا اور سر اونچا ہو گیا تھا۔اس نے گھات کیلئے بڑی اچھی جگہ کا انتخاب کیا تھا ۔اس نے نہایت کارگر جنگی چالیں سوچ لی تھیں۔وہ اپنے ساتھ صرف سوار دستہ اس لیے لایا تھا کہ وہ مسلمانوں کو بکھیر کر اور گھوڑے دوڑا دوڑا کر لڑنا چاہتا تھا۔مسلمانوں کی زیادہ تعداد پیادہ تھی۔خالد کو یقین تھا کہ وہ تین سو سواروں سے ایک ہزار چار سو مسلمانوں کو گھوڑوں تلے روند ڈالے گا، اسے اپنے جنگی فہم و فراست پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے تیر انداز دستے کو اپنے ساتھ لانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی تھی۔حالانکہ پہاڑی علاقے میں تیر اندازوں کو بلندیوں پر بٹھا دیا جاتا تو وہ نیچے گزرتے ہوئے مسلمانوں کو چن چن کر مارتے۔
آگے جاکر خالد نے دستے کو ذرا سی دیر کیلئے روکا تو ایک بار پھر اس نے اپنے سواروں کے جذبے کو بھڑکایا۔اسے ان سواروں کی شجاعت پر پورا اعتماد تھا۔مسلمان ابھی دور تھے۔خالد نے شتر بانوں کے بہروپ میں اپنے تین چار آدمی آگے بھیج دیئے تھے جو مسلمانوں کی رفتار کی اور دیگر کوائف کی اطلاعیں دے رہے تھے۔وہ باری باری پیچھے آتے اور بتاتے تھے کہ مسلمان کراع الغیمم سے کتنی دور رہ گئے ہیں ۔خالد ان اطلاعوں کے مطابق اپنے دستے کی رفتار بڑھاتا جا رہا تھا۔مسلمان رسول کریمﷺ کی قیادت میں معمولی رفتار سے اس پھندے کی طرف چلے آ رہے تھے جو ان کیلئے خالد کراع الغیمم میں بچھانے جا رہا تھا۔خالد اس اطلاع کو نہیں سمجھ سکا تھا کہ مسلمان اپنے ساتھ بہت سے دنبے اور بکرے لا رہے ہیں۔اسے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا کہ وہ مکہ پر حملہ کرنے آ رہے ہیں تو دنبے اور بکرے کیوں ساتھ لا رہے ہیں؟’’انہیں ڈر ہو گا کہ محاصرہ طول پکڑ گیا تو خوراک کم ہو جائے گی۔‘‘خالد کے ایک ساتھی نے خیال ظاہر کیا۔’’اس صورت میں وہ ان جانوروں کاگوشت کھائیں گے۔اس کے سواان جانوروں کا اور کیا استعمال ہو سکتا ہے!‘‘’’بے چاروں کو معلوم ہی نہیں کہ مکہ تک وہ پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔‘‘خالد نے کہا ۔’’ان کے دنبے اور بکرے ہم کھائیں گے۔‘‘مسلمان ابھی کراع الغیمم سے پندرہ میل دور عسفان کے مقام پر تھے کہ خالد اس سلسلۂ کوہ میں داخل ہو گیا۔اس نے اپنے دستے کو پہاڑیوں کے دامن میں ایک دوسرے سے دور دور رکنے کو کہا اور خود گھات کی موزوں جگہ دیکھنے کیلئے آگے چلا گیا۔وہ درّے تک گیا۔یہی رستہ تھا جہاں سے قافلے اور دستے گزرا کرتے تھے۔وہ یہاں سے پہلے بھی گزرا تھا لیکن اس نے اس درّے کو اس نگاہ سے کبھی نہیں دیکھا تھا جس نگاہ سے آج دیکھ رہا تھا۔اس نے اس درّے کو دائیں بائیں والی بلندیوں پر جا کر دیکھا۔نیچے آیا۔چٹانوں کے پیچھے گیا،اور گھوڑوں کو چھپانے کی ایسی جگہوں کو دیکھا جہاں سے وہ اشارہ ملتے ہی فوراً نکل آئیں اور مسلمانوں پر بے خبری میں ٹوٹ پڑیں۔وہ مارچ ۶۲۸ء کے آخری دن تھے۔موسم ابھی سرد تھا مگر خالد کااور اسکے گھوڑے کاپسینہ بہہ رہا تھا۔اس نے گھات کا علاقہ منتخب کرلیا،اور اپنے دستے کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے گھوڑوں کو درّے کے علاقے میں چھپا دیا۔اب اس نے اپنے ان آدمیوں کوجو مسلمانوں کی پیش قدمی کی اطلاعیں لاتے تھے ،اپنے پاس روک لیا،کیونکہ خدشہ تھا کہ مسلمان ان کی اصلیت معلوم کر لیں گے۔مسلمان قریب آ گئے تھے۔ رات کو انہوں نے پڑاؤ کیا تھا۔
گلی صبح جب نمازِ فجر کے بعد مسلمان کوچ کی تیاری کر رہے تھے ۔ایک آدمی رسول اﷲﷺ کے پاس آیا۔’’تمہاری حالت بتا رہی ہے کہ تمدوڑتے ہوئے آئے ہو۔‘‘رسول اﷲﷺ نے کہا۔’’اور تم کوئی اچھی خبر بھی نہیں لائے۔‘‘’’یا رسول اﷲﷺ! ‘‘مدینہ کے اس مسلمان نے کہا۔’’خبر اچھی نہیں اور اتنی بری بھی نہیں۔مکہ والوں کی نیت ٹھیک نہیں۔
میں کل سے کراع الغیمم کی پہاڑیوں میں گھوم پھر رہا ہوں ،خدا کی قسم!مجھے وہ نہیں دیکھ سکے جنہیں میں دیکھ آیا ہوں۔میں نے ان کی تمام نقل و حرکت دیکھی ہے۔‘‘’’کون ہیں وہ؟‘‘’’اہلِ قریش کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟‘‘اس نے جواب دیا۔’’وہ سب گھڑ سوار ہیں اور درّے کے ارد گرد کی چٹانوں میں چھپ گئے ہیں۔‘‘’’تعداد؟‘‘’’تین اور چار سوکے درمیان ہے۔‘‘رسولِ کریمﷺ کے اس جاسوس نے کہا۔’’میں نے اگر صحیح پہچانا ہے تو وہ خالد بن ولید ہے جس کی بھاگ دوڑ کو میں سارادن چھپ چھپ کے دیکھتا رہا ہوں۔میں اتنی قریب چلا گیا تھا کہ وہ مجھے دیکھتے تو قتل کر دیتے۔خالد نے اپنے سواروں کودرّے کے ارد گرد پھیلا کر چھپا دیا ہے۔کیا یہ غلط ہو گا کہ وہ گھات میں بیٹھ گئے ہیں؟‘‘’’مکہ والوں کو ہمارے آنے کی اطلاع ملی تو وہ سمجھے ہوں گے کہ ہم مکہ کا محاصرہ کرنے آئے ہیں۔‘‘صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے کہا۔’’قسم خدا کی! جس کے ہاتھ میں ہم سب کی جان ہے۔‘‘رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا۔’’اہلِ قریش مجھے لڑائی کیلئے للکاریں گے تو بھی میں نہیں لڑوں گا۔ہم جس ارادے سے آئے ہیں اس ارادے کو بدلیں گے نہیں۔ہماری نیت مکہ میں جاکر عمرہ کرنے کی ہے اور ہم یہ دنبے اور بکرے قربانی کرنے کیلئے ساتھ لائے ہیں۔میں اپنی نیت میں تبدیلی کرکے خدائے ذوالجلال کو ناراض نہیں کروں گا۔ہم خون خرابہ کرنے نہیں عمرہ کرنے آئے ہیں۔‘‘’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ ایک صحابیؓ نے پوچھا۔’’وہ درّے میں ہمیں روکیں گے تو کیا ہم پر اپنے دشمن کا خون خرابہ جائز نہیں ہو گا؟‘‘صحابہ کرامؓ رسولِ خداﷺ کے ارد گرد اکھٹے ہو گئے۔ اس صورتِ حال سے بچ کر نکلنے کے طریقو ں پر اور راستوں پر بحث و مباحثہ ہوا۔رسولِ کریمﷺ اچھے مشورے کو دھیان سے سنتے اور اس کے مطابق حکم صادر فرماتے تھے۔ آخر رسولِ خداﷺ نے حکم صادر فرمایا۔آپﷺ نے بیس گھوڑ سوار منتخب کیے اور انہیں ان ہدایات کے ساتھ آگے بھیج دیا کہ وہ کراع الغیمم تک چلے جائیں لیکن درّے میں داخل نہ ہوں ۔وہ خالد کے دستے کا جائزہ لیتے رہیں اور یہ دستہ ان پر حملہ کرے تو یوں لڑیں کہ پیچھے کو ہٹتے آئیں اور بکھر کر رہیں۔تاثر یہ دیں کہ یہ مدینہ والوں کا ہراول جَیش ہے
۔ان بیس سواروں کو دعاؤں کے ساتھ روانہ کرکے باقی اہلِ مدینہ کا راستہ آپﷺ نے بدل دیا۔آپﷺ نے جو راستہ اختیار کیا وہ بہت ہی دشوار گزار تھااور لمبا بھی تھا۔ لیکن آپﷺ لڑائی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایک مشکل یہ بھی تھی کہ اہلِ مدینہ میں کوئی ایک آدمی بھی نہ تھا جو اس راستے سے واقف ہوتا۔یہ ایک اور درّہ تھا جو مثنیہ المرار کہلاتا تھا۔اسے ذات الحنظل بھی کہتے تھے۔رسولِ کریمﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس درّے میں داخل ہو گئے اور سلسلۂ کوہ کے ایسے راستے سے گزرے جہاں سے کوئی نہیں گزرا کرتا تھا۔وہ راستہ کسی کے گزرنے کے قابل تھا ہی نہیں۔خالد کی نظریں مسلمانوں کے ہراول دستے پر لگی ہوئی تھیں۔لیکن ہراول کے یہ بیس سوار رک گئے تھے۔کبھی ان کے دو تین سوار درّے تک آتے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر واپس چلے جاتے۔اگروہ بیس کے بیس سوار درّے میں آ بھی جاتے تو خالد انہیں گزر جانے دیتا کیونکہ اس کا اصل شکار تو پیچھے آ رہا تھا۔ان بیس سواروں پر حملہ کرکے وہ اپنی گھات کو بے نقاب نہیں کرنا چاہتا تھا۔یہ کوئی پرانا واقعہ نہیں تھا۔چند دن پہلے کی بات تھی۔خالد پریشان ہو رہا تھا کہ مسلمانوں کا لشکر ابھی تک نظر نہیں آیا،کیااس نے کوچ ملتوی کر دیا ہے یا اسے گھات کی خبر ہو گئی ہے؟اس نے اپنے ایک شتر سوار سے کہا کہ وہ اپنے بہروپ میں جائے اور دیکھے کہ مسلمان کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟اس دوران بیس مسلمان سواروں نے اپنی نقل و حرکت جاری رکھی ،ایک دو مرتبہ وہ درّے تک آئے اورذرا رک کر واپس چلے گئے۔ ایک دو مرتبہ وہ پہاڑیوں میں کسی اور طرف سے داخل ہوئے۔خالد چھپ چھپ کر اُدھر آ گیا۔وہ سوار وہاں سے بھی واپس چلے گئے۔اس طرح انہوں نے خالد کی توجہ اپنے اوپر لگائے رکھی۔خالد کے سوار اشارے کے انتظار میں گھات میں چھپے رہے۔
*جاری_ہے*
بقیہ اگلی قسط نمبر 13
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment