شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-13 )*
سورج غروب ہو چکا تھا جب خالد کا شتر سوار جاسوس واپس آیا۔’’وہ وہاں نہیں ہیں۔‘‘جاسوس نے خالدکو بتایا۔’’ کیا تمہاری آنکھیں اب انسانوں کو نہیں دیکھ سکتیں؟‘‘خالد نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
’’صرف ان انسانوں کو دیکھ سکتی ہیں جوموجود ہوں۔‘‘شتر سوار نے کہا۔’’جو نہیں ہیں وہ نہیں ہیں۔وہ کوچ کر گئے ہیں۔کدھر گئے ہیں ؟میں نہیں بتا سکتا۔‘‘خالد اور زیادہ پریشان ہو گیا۔صحرا کی شام گہری ہو گئی تو اس نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے ہراول کے سوار بھی وہاں نہیں ہیں ۔اسے ان کے کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔صبح طلوع ہوئی تو خالد نے اسی درّے سے نکل کے دیکھا۔بیس سوار غائب تھے۔اسے اپنی ناکامی کا احساس ہونے لگا۔اس کے ارادے اور اس کے جنگی منصوبے خاک میں ملتے نظر آئے۔اس نے سوچا کہ وہ خود عسفان تک چلا جائے لیکن پہچانے جانے کے ڈر سے رکا رہا۔اس نے دو تین آدمی اونچی پہاڑیوں پر بھیج دیئے کہ وہ ہر طرف نظر رکھیں۔دن آدھا گزر گیا تھا۔اسے کوئی اطلاع نہ ملی۔مسلمانوں کے ہراول کے بیس سواربھی نظر نہ آئے۔اسے توقع تھی کہ وہ آئیں گے۔دوپہر کے لگ بھگ اس کا ایک سوار گھوڑا سر پٹ دوڑتا اس کے پاس آ کر رکا۔’’میرے ساتھ چلو۔‘‘سوار نے تیز تیز بولتے ہوئے کہا۔’’جو میں نے دیکھا ہے وہ تم بھی دیکھو۔‘‘’’کیا
دیکھاہے تم نے؟‘‘
’’گَرد۔‘‘سوار نے کہا۔’’خدا کی قسم! وہ گرد کسی قافلے کی نہیں ہو سکتی۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ مسلمانوں کا لشکر ہو؟‘‘خالد نے گھوڑے کو ایڑلگائی اور مکہ کی سمت پہاڑی علاقے سے نکل گیا۔اسے زمین سے گرد کے بادل اٹھتے دکھائی دیئے۔’’خدا کی قسم! ‘‘خالد نے کہا۔’’قبیلۂ قریش میں کوئی ایسا نہیں جو محمد)ﷺ( جیسا دانشمند ہو۔وہ میری گھات سے نکل گیا ہے۔‘‘مسلمان رسول اﷲﷺ کی قیادت میں کراع الغمیم کی دوسری طرف سے مکہ کی طرف نکل گئے تھے۔رات کو ان کے بیس سوار بھی دور کے راستے سے ان کے پیچھے گئے اور ان سے جا ملے تھے۔خالد نے گھوڑا موڑا اور ایڑ لگائی۔وہ کراع الغمیم کے اندر چِلّاتا اور گھوڑے کو سر پٹ دوڑاتا پھر رہا تھا۔’’باہر آجاؤ۔مدینہ والے مکہ کو چلے گئے ہیں۔تمام سوار سامنے آؤ۔‘‘تھوڑی سی دیر میں اس کے تین سو گھڑ سوار اس کے پاس آ گئے۔
’’وہ ہمیں دھوکا دے گئے ہیں۔‘‘خالد نے اپنے سواروں سے کہا۔’’تم نہیں مانو گے۔وہ گزر گئے ہیں۔گزرنے کا کوئی دوسرا رستہ نہیں ہے۔ہمیں اب زندگی اور موت کی دوڑ لگانی پڑے گی۔سست ہو جاؤ گے تو وہ مکہ کا محاصرہ کر لیں گے وہ بازی جیت جائیں گے۔‘‘آج مدینہ کے رستہ پر جب مدینہ قریب رہ گیا تھا۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ اسے مکہ پر مسلمانوں کے قبضے کا ڈر تو تھا لیکن وہ رسولِ کریمﷺ کی اس چال پر عش عش کر اٹھا تھا۔وہ خود فن ِ حرب و ضرب اور عسکری چالوں کا ماہر اور دلدادہ تھا۔وہ سمجھ گیا کہ رسول اﷲﷺ نے اپنے ہراول کے بیس سوار دھوکا دینے کیلئے بھیجے تھے۔
سواروں اسے کامیابی سے دھوکا دیا۔اس کی توجہ کو گرفتار کیے رکھا۔اور مسلمان دوسری طرف سے نکل گئے۔’’یہ جادو نہیں۔‘‘خالد نے اپنے آپ سے کہا۔’’اگر اپنے قبیلے کی سرداری مجھے مل جائے تو جادو کے یہ کرتب میں بھی دِکھا سکتا ہوں۔‘‘یہ صحیح تھا کہ اس کے باپ نے اسے ایسی عسکری تعلیم و تربیت دی تھی کہ وہ میدانِ جنگ کا جادوگر کہلا سکتا تھا مگر اس کے اوپر ایک سردار تھا۔ابو سفیان۔وہ قبیلے کا سالارِ اعلیٰ بھی تھا۔اس کے ماتحت خالداپنی کوئی چال نہیں چل سکتا تھا۔اپنی اس مجبوری نے اس کے دل میں ابو سفیان کی نفرت پیدا کر دی تھی۔اسے چند دن پہلے کا یہ واقعہ یاد آ رہا تھا۔ایک ہزار چار سو مسلمان اس کی گھات کو دھوکا دے کر مکہ کی طرف نکل گئے تھے۔اس نے یہ سوچا ہی نہیں کہ تین سو سواروں سے مسلمانوں پر عقب سے حملہ کر دے۔اسے احساس تھا کہ جو مسلمان قلیل تعداد میں کثیر تعداد کے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں انہیں تین سو سواروں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔کیونکہ وہ کثیر تعداد میں ہیں۔اسے مکہ ہاتھ سے جاتا نظر آنے لگاتھااور اسے یہ خفّت بھی محسوس ہونے لگی تھی کہ اس کی گھات کی ناکامی پر ابو سفیان اسے طعنہ دے گااور ہنسی اڑائے گا۔پھر اسے قریش کی شکست اور مکہ کے سقوط کا مجرم کہا جائے گا۔اس نے اپنے سواروں کو ایک رستہ سمجھا کر کہا کہ مسلمانوں سے پہلے مکہ پہنچنا ہے۔یہ دور کا رستہ تھالیکن وہ مسلمانوں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کے تین سو سواروں نے گھوڑوں کو ایڑیں لگا دیں۔رستہ لمبا ہونے کی وجہ سے تین میل کا فاصلہ ڈیڑھ گنا ہو گیا تھا جسے خالد رفتار سے کم کرنے کے جتن کر رہا تھا۔عربی نسل کے اعلیٰ گھوڑے شام سے بہت پہلے مکہ پہنچ گئے۔وہاں مسلمانوں کی ابھی ہوا بھی نہیں پہنچی تھی۔مکہ کے لوگ گھوڑوں کے شور روغل پر گھروں سے نکل آئے۔ابو سفیان بھی باہر آ گیا۔’’کیا تمہاری گھات کامیاب رہی؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔
’’وہ گھات میں آئے ہی نہیں۔‘‘خالد نے گھوڑے سے کود کر اترتے ہوئے کہا۔’’کیا تم مکہ کے ارد گرد ایسی خندق کھُدوا سکتے ہو جیسی محمد )ﷺ(نے مدینہ کے اردگرد کھُدوائی تھی؟‘‘’’وہ کہاں ہیں؟‘‘ابو سفیان نے گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔’’کیایہ بہتر نہیں ہو گا کہ مجھے ان کی کچھ خبر دو۔‘‘’’جتنی دیر میں تم خبر سنتے اور سوچتے ہو ،اتنی دیر میں وہ مکہ کو محاصرہ میں لے لیں گے۔‘‘خالد نے کہا۔’’ہبل اور عزیٰ کی عظمت کی قسم!وہ پہاڑوں اور چٹانوں کو روندتے آ رہے ہیں۔اگر وہ کراع الغمیم میں سے کسی اور رستہ سے گزرے ہیں تو وہ انسان نہیں۔کوئی پیادہ وہاں سے اتنی تیزی سے نہیں گزرسکتا جتنی تیزی سے وہ گزر آئے ہیں۔‘‘
’’خالد !‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’ذرا ٹھنڈے ہوکر سوچو۔خداکی قسم!گھبراہٹ سے تمہاری آواز کانپ رہی ہے۔‘‘’’ابو سفیان!‘‘ خالدنے جل کر کہا۔’’تم میں صرف یہ خوبی ہے کہ تم میرے قبیلے کے سردار ہو ۔میں تمہیں یہ بتا رہا ہوں کہ ان کیلئے مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا کوئی مشکل نہیں۔‘‘خالد نے دیکھا کہ اس کے دو ساتھی سالار عکرمہ اور صفوان قریب ہی کھڑے تھے۔خالد نے ان سے کہا۔’’آج بھول جاؤ کہ تمہارا سردار کون ہے۔صرف یہ یاد رکھو کہ مکہ پر طوفان آ رہا ہے ۔اپنی آن کو بچاؤ، یہاں کھڑے ایک دوسرے کا منہ نہ دیکھو۔اپنے شہر کو بچاؤ،اپنے دیوتاؤں کو بچاؤ۔‘‘سارے شہر میں بھگدڑ بپا ہو گئی تھی۔لڑنے والے لوگ برچھیاں تلواریں اور تیر کمان اٹھائے مکہ کے دفاع کو نکل آئے۔عورتوں اور بچوں کو ایسے بڑے مکانوں میں منتقل کیا جانے لگاجو قلعوں جیسے تھے۔جوان عورتیں بھی لڑنے کیلئے تیار ہو گئیں۔یہ ان کے شہر اور جان و مال کا ہی نہیں ان کے مذہب کا بھی مسئلہ تھا۔یہ دو نظریوں کی ٹکر تھی۔لیکن خالد اسے اپنے ذاتی وقار کا اوراپنے خاندانی وقار کا بھی مسئلہ سمجھتا تھا۔اس کا خاندان جنگ و جدل کیلئے مشہور تھا۔اس کے باپ کو لوگ عسکری قائد کہا کرتے تھے۔خالد اپنے خاندان کے نام اور خاندانی روایات کو زندہ رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہاتھا۔اس نے ابو سفیان کو نظر انداز کر دیا۔عکرمہ اور صفوان کو ساتھ لیااور ایسی چالیں سوچ لیں جن سے وہ مسلمانوں کو شہر سے دور رکھ سکتا تھا۔اس نے سواروں کی کچھ تعداد اس کام کیلئے منتخب کر لی کہ یہ سوار شہر سے دور چلے جائیں اور مسلمان اگر محاصرہ کر لیں تو یہ گھوڑ سوار عقب سے محاصرے پر حملہ کر دیں مگر وہاں جم کر لڑیں نہیں۔بلکہ محاصرے میں کہیں شگاف ڈال کر بھاگ جائیں۔شہر میں افراتفری اور لڑنے والوں کی بھاگ دوڑ اور للکار میں چند ایک عورتوں کی مترنم آوازیں سنائی دینے لگیں۔ان کی آوازیں ایک آواز بن گئی تھی۔وہ رزمیہ گیت گا رہی تھیں۔جس میں رسول اﷲﷺ کے قتل کا ذکر تھا۔بڑا جوشیلا اور بھڑکا دینے والا گیت تھا۔یہ عورتیں گلیوں میں یہ گیت گاتی پھر رہی تھیں۔چند ایک مسلّح شتر سواروں کی مدینہ کی طرف سے آنے والے رستے پر اور دو تین اورسمتوں کو دوڑا دیا گیاکہ وہ مسلمانوں کی پیشقدمی کی خبریں پیچھے پہنچاتے رہیں۔عورتیں اونچے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر مدینہ کی طرف دیکھ رہی تھیں۔سورج افق میں اترتا جا رہا تھا۔صحرا کی شفق بڑی دلفریب ہوا کرتی ہے مگر اس شام مکہ والوں کو شفق میں لہو کے رنگ دِکھائی دے رہے تھے۔کہیں سے،کسی بھی طرف سے گرد اٹھتی نظر نہیں آ رہی تھی۔
’’انہیں اب تک آ جانا چاہیے تھا۔‘‘خالدنے عکرمہ اور صفوان سے کہا۔’’ہم اتنی جلدی خندق نہیں کھود سکتے۔‘‘’’ہم خندق کا سہارا لے کر نہیں لڑیں گے۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’ہم ان کے محاصرے پر حملے کریں گے۔‘‘صفوان نے کہا ۔’’ان کے پاؤں جمنے نہیں دیں گے۔‘‘سورج غروب ہو گیا۔رات گہری ہونے لگی۔کچھ بھی نہ ہوا۔مکہ میں زندگی بیدار اور سرگرم رہی۔جیسے وہاں رات آئی ہی نہ ہو۔عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قلعوں جیسے مکانوں میں منتقل کر دیا گیا تھا اور جو لڑنے کے قابل تھے وہ اپنے سالاروں کی ہدایات پر شہر کے اردگرد اپنے مورچے مضبوط کررہے تھے۔رات آدھی گزر گئی۔مدینہ والوں کی آمد کے کوئی آثا ر نہ آئے۔پھر رات گزر گئی۔’’خالد!‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’کہاں ہیں وہ؟‘‘’’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ نہیں آئیں گے تو یہ بہت خطرناک فریب ہے جو تم اپنے آپ کو دے رہے ہو۔‘‘ خالد نے کہا ۔’’محمد)ﷺ( کی عقل تک تم نہیں پہنچ سکتے ،جو وہ سوچ سکتا ہے وہ تم نہیں سوچ سکتے۔ وہ آئیں گے۔‘‘اس وقت تک مسلمان چند ایک معرکے دوسرے قبیلوں کے خلاف لڑکر اپنی دھاک بِٹھا رہے تھے۔ ان میں غزوۂ خیبر ایک بڑا معرکہ تھا انہیں جنگ کا تجربہ ہو چکا تھا۔’’ابو سفیان !‘‘خالد نے کہا۔’’ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ مسلمان اب وہ نہیں رہے جو تم نے اُحد میں دیکھے تھے۔ اب وہ لڑنے کے ماہر بن چکے ہیں ان کا ابھی تک سامنے نہ آنا بھی ایک چال ہے۔‘‘ابو سفیان کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ ایک شتر سوار نظر آیا۔ جس کا اونٹ بہت تیز رفتار سے دوڑتا آیا
ابو سفیان اور خالدکے قریب آکر اس نے اونٹ روکا اور کود کر نیچے آیا۔
’’میری آنکھوں نے جو دیکھا ہے وہ تم نہیں مانو گے۔‘‘شتر سوار نے کہا۔’’میں نے مسلمانوں کو حدیبیہ میں خیمہ زن دیکھا ہے۔‘‘’’وہ محمد)ﷺ( اور ا س کا لشکر نہیں ہو سکتا ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم! میں محمد )ﷺ(کو اس طرح پہچانتا ہوں جس طرح تم دونوں مجھے پہچانتے ہو۔‘‘شتر سوار نے کہا۔’’اور میں نے ایسے اور آدمیوں کو بھی پہچانا ہے جو ہم میں سے تھے لیکن ان کے ساتھ جا ملے تھے۔‘‘حدیبیہ مکہ سے تیرہ میل دور مغرب میں ایک مقام تھا ۔رسولِ کریمﷺ خونریزی سے بچنا چاہتے تھے اس لیے آپﷺ مکہ سے دور حدیبیہ میں جا خیمہ زن ہوئے تھے۔
’’ہم ان پر شب خون ماریں گے۔‘‘ خالدنے کہا۔’’ انہیں سستانے نہیں دیں گے۔وہ جس راستہ سے حدیبیہ پہنچے ہیں اس راستے نے انہیں تھکا دیا ہو گا۔ ان کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں گی۔ وہ تازہ دم ہو کر مکہ پر حملہ کریں گے۔ ہم انہیں آرام نہیں کرنے دیں گے۔‘‘ ’’ہم انہیں وہاں سے بھگا سکتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’چھاپہ مار جَیش تیار کرو۔‘‘رسولِ اکرمﷺ نے اپنی خیمہ گاہ کی حفاظت کا انتظام کر رکھاتھا ۔گھڑ سوار جیش رات کو خیمہ گاہ کے اردگرد گشتی پہرہ دیتے تھے ۔دن کو بھی پہرے کا انتظام تھا۔ ایک اور گھوڑ سوار جیش نے اپنے جیسا ایک گھڑ سوار جیش دیکھا جو خیمہ گاہ سے دور آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا۔ مسلمان سوار ان سواروں کی طرف چلے گئے ۔وہ قریش کے سوار تھے جو وہاں نہ رکے اور دور چلے گئے کچھ دیر بعد وہ ایک اور طرف سے آتے نظر آئے اور مسلمانوں کی خیمہ گاہ سے تھوڑی دور رک کر چلے گئے۔دوسرے روز وہ سوار خیمہ گاہ کے قریب آ گئے ۔اب کے مسلمان سواروں کا ایک جیش جو خیمہ گاہ سے دور نکل گیا تھا واپس آ گیا۔ اس جیش نے ان سواروں کو گھیر لیا ،انہوں نے گھیرے سے نکلنے کیلئے ہتھیار نکال لیے۔ان میں جھڑپ ہو گئی لیکن مسلمان سواروں کے کماندار نے اپنے سواروں کو روک لیا ۔’’انہیں نکل جانے دو۔‘‘جیش کے کماندار نے کہا۔’’ہم لڑنے آئے ہوتے تو ان میں سے ایک کو بھی زندہ نہ جانے دیتے۔‘‘
وہ مکہ کے لڑاکا سوار تھے۔ انہوں نے واپس جا کرابو سفیان کو بتایا۔’’چند اور سواروں کو بھیجو۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ایک شب خون مارو۔‘‘’’میرے قبیلے کے سردار!‘‘ ایک سوار نے کہا۔’’ہم نے شب خون مارنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن ان کی خیمہ گاہ کے اردگرد دن رات گھڑ سوار گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ قریش کے چند اور سواروں کو بھیجا گیا۔انہوں نے شام کے ذرا بعد شب خون مارنے کی کوشش کی لیکن مسلمان سواروں نے ان کے کچھ سواروں کو زخمی کرکے وہاں سے بھگا دیا ۔‘‘مکہ والوں پر تذبذب کی کیفیت طاری تھی۔وہ راتوں کو سوتے بھی نہیں تھے ۔محاصرہ کے ڈر سے وہ ہر وقت بیدار اور چو کس رہتے تھے اور دن گزرتے جا رہے تھے۔ آخر ایک روز مکہ میں ایک مسلمان سوار داخل ہوا۔ یہ حضرت عثمانؓ تھے۔انھوں نے ابوسفیان کے متعلق پوچھا۔ابو سفیان نے دور سے دیکھا اور دوڑا آیا۔ خالد بھی آ گیا ۔
’’میں محمد رسول اﷲﷺ کاپیغام لے کر آیا ہوں ۔‘‘حضرت عثمانؓ نے کہا۔’’ہم لڑنے نہیں آئے ۔ہم عمرہ کرنے آئے ہیں ۔عمرہ کر کے چلے جائیں گے۔‘‘’’اگر ہم اجازت نہ دیں تو……?‘‘ ابو سفیان نے پوچھا۔
’’ہم مکہ والوں کا نہیں خدا کا حکم ماننے والے ہیں۔‘‘حضرت عثمانؓ نے جواب دیا ۔’’ہم اپنے اور اپنی عبادت گاہ کے درمیان کسی کو حائل نہیں ہونے دیا کرتے۔
اگر مکہ کے مکان ہمارے لیے رکاوٹ بنیں گے تو خدا کی قسم! مکہ ملبے اور کھنڈر وں کی بستی بن جائے گی۔اگر یہاں کے لوگ ہمیں روکیں گے تومکہ کی گلیوں میں خون بہے گا۔ ابو سفیان ہم امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور یہاں کے لوگوں سے امن کا تحفہ لے کر جائیں گے۔‘‘خالدکو وہ لمحے یاد تھے جب یہ مسلمان سوار پروقار لہجے میں دھمکی دے رہا تھا ۔خالد کا خون کھول اٹھنا چاہیے تھا لیکن اسے یہ آدمی بڑا اچھا لگا تھا ۔ابوسفیان نے عثمانؓ کو عمرے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن اُنھوں نے اپنے نبیﷺ کے بغیر اکیلے عمرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ادھر مذاکرات میں جب زیادہ وقت گزرا تو ہوا کے دوش پر یہ افواہ حدیبیہ پہنچی کے عثمانؓ کو قتل کر دیا گیا ہے۔جس کے جواب میں رسولِ کریمﷺ نے قتلِ عثمانؓ کے انتقام کے لئے اپنے ۱۴ سو جانثاروں سے بیعت لی تھی۔اسی بیعت کو تاریخ میں بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اور اسی بیعت کی وجہ سے ابو سفیان سمجھوتے پر راضی ہوا تھا۔پھر ایک صلح نامہ تحریر ہوا تھا اسے ’’صلح حدیبیہ ‘‘کا نام دیا گیا۔مسلمانوں کی طرف سے اس پر رسولِ اکرمﷺ نے اور قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو نے دستخط کیے تھے ،اس صلح نامے میں طے پایا تھا کہ مسلمان اور اہلِ قریش دس سال تک نہیں لڑیں گے اور مسلمان آئندہ سال عمرہ کرنے آئیں گے اور مکہ میں تین دن ٹھہر سکیں گے۔ رسولِ کریمﷺ قریش میں سے تھے ۔خالد آپﷺ کو بہت اچھی طرح سے جانتا تھالیکن اب اس نے آپﷺ کو دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ یہ کوئی اور محمد)ﷺ( ہے ۔وہ ایسا متاثر ہوا کہ اس کے ذہن سے اتر گیا کہ یہ وہی محمد )ﷺ(ہے جسے وہ اپنے ہاتھوں قتل کرنے کے منصوبے بناتا رہتا تھا۔خالد نبی کریمﷺ کو ایک سالار کی حیثیت سے زیادہ دیکھ رہا تھا وہ آپﷺ کی عسکری اہلیت کا قائل ہو گیا تھا ۔صلح حدیبیہ تک مسلمان رسولِ کریمﷺ کی قیادت میں چھوٹے بڑے اٹھائیس معرکے لڑ چکے اور فتح و نصرت کی دھاک بِٹھا چکے تھے۔مسلمان عمرہ کرکے چلے گئے۔ دو مہینے گزر گئے ،ان دو مہینوں میں خالد پر خاموشی طاری رہی لیکن اس خاموشی میں ایک طوفان ا ور ایک انقلاب پرورش پا رہا تھا۔خالد نے مذہب میں کبھی بھی دلچسپی نہیں لی تھی۔ اسے نہ کبھی اپنے بتوں کا خیال آیا تھا نہ کبھی اس نے رسولِ کریمﷺ کی رسالت کو سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔مگر اب از خود اس کا دھیان مذہب کی طرف چلا گیا اور وہ اس سوچ میں کھو گیا کہ مذہب کون سا سچا ہے اور انسان کی زندگی میں مذہب کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے۔’’عکرمہ !‘‘ایک روز خالد نے اپنے ساتھی سالار عکرمہ سے جو اس کا بھتیجا بھی تھا کہا۔’’ میں نے فیصلہ کر لیا ہے…… میں سمجھ گیا ہوں۔‘‘ ’’کیا سمجھ گئے ہو خالد؟‘‘عکرمہ نے پوچھا۔’’محمد)ﷺ(جادو گر نہیں۔‘‘ خالدنے کہا ۔’’اور محمد)ﷺ( شاعر بھی نہیں ۔میں نے محمد)ﷺ( کو اپنا دشمن سمجھنا چھوڑ دیا ہے اور میں نے محمد)ﷺ( کو خدا کا رسول تسلیم کرلیا ہے۔‘‘’’ہبل اور عزیٰ کی قسم! تم مزاق کر رہے ہو۔‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’کوئی نہیں مانے گا کہ ولید کا بیٹا اپنا مذہب چھوڑ رہا ہے ۔‘‘
’’ولید کا بیٹا اپنا مذہب چھوڑ چکا ہے۔‘‘ خالد نے کہا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ محمد)ﷺ( ہمارے کتنے آدمیوں کو قتل کرا چکا ہے ؟‘‘عکرمہ نے کہا۔’’تم ان کے مذہب کو قبول کر رہے ہو جن کے خون کے ہم پیاسے ہیں؟‘‘’’میں نے فیصلہ کر لیا ہے عکرمہ! ‘‘خالد نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔’’میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔‘‘اسی شام ابو سفیان نے خالد کو اپنے ہاں بلایا۔عکرمہ بھی وہاں موجود تھا۔ ’’کیا تم بھی محمد)ﷺ( کی باتو ں میں آگئے ہو؟‘‘ابو سفیان نے اس سے پوچھا۔’’تم نے ٹھیک سنا ہے ابو سفیان !‘‘خالد نے کہا ۔’’محمد)ﷺ( کی باتیں ہی کچھ ایسی ہیں۔‘‘مشہور مؤرخ واقدی نے لکھا ہے کہ ابو سفیان قبیلے کا سردار تھا۔ اس نے خالدکا فیصلہ بدلنے کیلئے اسے قتل کی دھمکی دی۔ خالد اس دھمکی پر مسکرا دیا مگر عکرمہ برداشت نہ کر سکا۔حالانکہ وہ خود خالد کے اس فیصلے کیخلاف تھا۔’’ابو سفیان!‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں تمہیں اپنے قبیلے کا سردار مانتا ہوں لیکن خالد کو جو تم نے دھمکی دی ہے وہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔تم خالد کو اپنا مذہب بدلنے سے نہیں روک سکتے۔اگر تم خالد کے خلاف کوئی کارروائی کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ میں بھی خالد کے ساتھ مدینہ چلا جاؤں۔‘‘اگلے ہی روز مکہ میں ہر کسی کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔’’خالد بن ولید محمد )ﷺ(کے پاس چلا گیا ہے ……‘‘خالد یادوں کے ریلے میں بہتا مدینہ کو چلا جا رہا تھا ۔اسے اپنا ماضی اس طرح یاد آیا تھا جیسے وہ گھوڑے پر سوار مدینہ کو نہیں بلکہ پیادہ اپنی ماضی میں چلا جا رہا تھا۔ اسے مدینہ کے اونچے مکانوں کی منڈیریں نظر آنے لگی تھیں۔’’خالد!‘‘ اسے کسی نے پکارا لیکن اسے گزرے ہوئے وقت کی آواز سمجھ کر اس نے نظر انداز کر دیا۔اسے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دیئے ،تب اس نے دیکھا۔ اسے دو گھوڑے اپنی طرف آتے دِکھائی دیئے ۔وہ رک گیا۔ گھوڑے اس کے قریب آ کر رک گئے۔ ایک سوار اس کے قبیلے کے مشہور جنگجو ’’عمرو بن العاص‘‘ تھے اور دوسرے عثمان بن طلحہ۔دونوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔’’کیا تم دونوں مجھے واپس مکہ لے جانے کیلئے آئے ہو ؟‘‘خالد نے ان سے پوچھا۔ ’’تم جا کہاں رہے ہو؟‘‘عمرو بن العاص نے پوچھا۔’’اور تم دونوں کہاں جا رہے ہو؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’خدا کی قسم! ہم تمہیں بتائیں گے تو تم خوش نہیں ہو گے ۔‘‘عثمان بن طلحہ نے کہا۔’’ہم مدینہ جا رہے ہیں۔‘‘
’’بات پوری کرو عثمان ۔‘‘عمرو بن العاص نے کہا۔’’خالد! ہم محمد)ﷺ( کا مذہب قبول کرنے جا رہے ہیں ۔ہم نے محمد ﷺکو خدا کا سچا نبی مان لیا ہے ۔‘‘’’پھر ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں ۔‘‘خالدنے کہا ۔’’آؤ اکھٹے چلیں۔‘‘
وہ ۳۱ مئی ۶۲۸ء کا دن تھا۔جب تاریخِ اسلام کے دو عظیم جرنیل خالد ؓبن ولید اور عمرو ؓبن العاص مدینہ میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ عثمانؓ بن طلحہ تھے ۔تینوں رسولِ کریمﷺ کے حضور پہنچے ۔سب سے پہلے خالدؓ بن ولید اندر گئے۔ ان کے پیچھے عمرو ؓبن العاص اور عثمانؓ بن طلحہ گئے ۔تینوں نے قبولِ اسلام کی خواہش ظاہر کی ۔رسول اﷲﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور تینوں کو باری باری گلے لگایا۔
شہیدوں کو دل سے اتار دیں،ذہن سے ان کا نام و نشان مٹا دیں۔ان کی یادوں کو شراب میں ڈبو دیں۔اس زمین پر جو خدا نے ہمیں شہیدوں کے صدقے عطا کی ہے۔بادشاہ بن کر گردن اکڑا لیں،اور کہیں کہ میں ہوں اس زمین کا شہنشاہ،شہیدوں کے نام پر مٹی ڈال دیں،کسی شہید کی کہیں قبر نظر آئے تو اسے زمین سے ملا دیں ۔مگر زندگی کے ہر موڑ اور ہر دوراہے پر آپ کو شہید کھڑے نظر آئیں گے……آپ کے ذہن کے کسی گوشے سے شہید اٹھیں گے اور شراب اور شہنشاہیّت کا نشہ اتاردیں گے۔جس نے تخت و تاج کے نشے میں شہیدوں سے بے وفائی کی وہ شاہ سے گدا اور ذلیل و خوار ہوا کیونکہ اس نے قرآن کے اس فرمان کی حکم عدولی کی کہ شہید زندہ ہیں، انہیں مردہ مت کہو۔عرب کے ملک اردن میں گمنام سا ایک مقام ہے جس کانام مُوتہ ہے ۔اس کے قریب سے گزر جانے والوں کو بھی شاید پتا نہ چلتا ہو گا کہ وہاں ایک بستی ہے ۔اس کی حیثیت چھوٹے سے ایک گاؤں سے بڑھ کر اورکچھ بھی نہیں۔لیکن شہیدوں نے اردن کے بادشاہ کو اپنی موجودگی کا اور اپنی زندگی کا، جو اُنہیں اﷲ تعالیٰ نے عطا کی ہے، احساس دلادیا ہے۔وہ جس معرکے میں شہید ہوئے تھے ،وہ ساڑھے تیرہ صدیاں پہلے اس مقام پر لڑا گیا تھا۔
پھریہ مقام گزرتے زمانے کی اڑتی ریت میں دبتا چلا گیا۔کچھ عرصے سے موتہ کے رہنے والے ایک عجیب صورتِ حال سے دوچار ہونے لگے ۔آج بھی وہاں چلے جائیں اور وہاں رہنے والوں سے پوچھیں تو وہ بتائیں گے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی آدمی رات کو خواب میں دیکھتا ہے کہ ساڑھے تیرہ صدیاں پہلے کے مجاہدینِ اسلام چل پھر رہے ہیں ۔کفّار کا ایک لشکر آتا ہے اور مجاہدین اس کے مقابلے میں جم جاتے ہیں۔ان کی تعداد تھوڑی ہے اور لشکرِ کفار مانندِ سیلاب ہے۔معرکہ بڑا خونریز ہے۔
یہ خواب ایک دو آدمیوں نے نہیں ،وہاں کے بہت سے آدمیوں نے دیکھا ہے اور کسی نہ کسی کو یہ خواب ابھی تک نظر آتا ہے۔یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں،انہیں معلوم نہیں تھا کہ ساڑھے تیرہ صدیاں پہلے یہاں حق و باطل کا معرکہ لڑا گیا تھا۔ مگر ان کے خوابوں میں شہید آنے لگے۔یہ خبر اُردن کے ایوانوں تک پہنچی،تب یاد آیا کہ یہ وہ موتہ ہے جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کی ایک لڑائی ہوئی تھی۔یہ عیسائی عرب کے باشندے تھے۔شہیدوں نے اپنے زندہ ہونے کا ایسا احساس دلایا کہ ُاردن کی حکومت نے جنگِ موتہ اور اس جنگ کے شہیدوں کی یادگار کے طور پر ایک نہایت خوبصورت مسجد تعمیر کرنے کے احکام جاری کردیئے۔مسجد کی تعمیر ۱۸۶۸ء میں شروع ہوئی تھی۔اس جنگ میں تین سپہ سالار۔زیدؓ بن حارثہ، جعفر ؓ بن ابی طالب، اور عبد اﷲ ؓ بن رواحہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تھے۔ان تینوں کی قبریں موتہ سے تقریباً دو میل دور ہیں جو ابھی تک محفوظ ہیں۔مدینہ میں آ کر خالدؓ بن ولید نے اسلام قبول کیاتو ان کی ذات میں عظیم انقلاب آ گیا۔تین مہینے گزر گئے تھے ۔خالد ؓ زیادہ تر وقت رسولِ کریمﷺ کے حضور بیٹھے فیض حاصل کرتے رہتے مگر انہیں ابھی عسکری جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملا تھا۔وہ فنِ حرب و ضرب کے ماہر جنگجو تھے۔ان کا حسب و نسب بھی عام عربوں سے اونچا تھا لیکن انہوں نے ایسا دعویٰ نہ کیا کہ انہیں سالار کا رتبہ ملنا چاہیے۔انہوں نے اپنے آپ کوسپاہی سمجھا اور اسی حیثیت میں خوش رہے۔آج کے شام اور اُردن کے علاقے میں اس زمانے میں قبیلۂ غسّان آباد تھا۔جو اس علاقے میں دور تک پھیلا ہوا تھا۔یہ قبیلہ طاقت کے لحاظ سے زبردست مانا جاتا تھا۔کیونکہ جنگجو ہونے کے علاوہ اس کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔اس قبیلے میں عیسائی بھی شامل تھے۔اس وقت روم کا شہنشاہ ہرقل تھا۔جس کی جنگ پسندی اور جنگی دہشت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔اسلام تیزی سے پھل پھول رہاتھا۔قبیلۂ قریش کے ہزار ہا لوگ اسلام قبول کر چکے تھے۔ان کے مانے منجھے ہوے سردار اور سالار بھی مدینہ جا کر رسولِ خداﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کر چکے تھے اور مسلمان ایک جنگی طاقت بنتے جا رہے تھے۔کئی ایک چھوٹے چھوٹے قبائل حلقۂ بگوشِ اسلام ہو گئے تھے۔
مدینہ اطلاعیں پہنچ رہی تھیں کہ قبیلۂ غسان مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اسلام کی مقبولیت کو روکنے کیلئے مسلمانوں کو للکارنا چاہتاہے اور جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔یہ بھی سنا گیا کہ غسان کا سردارِ اعلیٰ روم کے بادشاہ ہرقل کے ساتھ دوستی کرکے اس کی جنگی طاقت بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔رسولِ کریمﷺ نے اپنا ایک ایلچی )جس کا نام تاریخ میں محفوظ نہیں(غسان کے ایک سردارِ اعلیٰ کے ہاں اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ’’ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ وحدہٗ لا شریک ہے اور اسلام ایک مذہب او رایک دین ہے ،باقی تمام عقیدے جو مختلف مذاہب کی صورت اختیار کر گئے ہیں،توہمات ہیں ا ور یہ انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔‘‘رسولِ کریمﷺ نے غسان کے سردارِ اعلیٰ کو قبولِ اسلام کی دعوت دی۔نبیِ کریمﷺ نے یہ پیغام اس خیال سے بھیجا تھا کہ پیشتر اس کے کہ قبیلہ غسان روم کے شہنشاہ ہرقل کی جنگی قوت سے مرعوب ہو کر عیسائیت کی آغوش میں چلا جائے ،یہ قبیلہ اسلام قبول کرلے اور اسے اپنا اتحادی بنا کر ہرقل سے بچایا جائے۔’’خدا کی قسم! اس سے بہتر فیصلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘خالدؓ نے ایک محفل میں کہا۔’’ہرقل نے فوج کشی کی تو یوں سمجھو کہ باطل کا طوفان آ گیا ،جو سب کو اڑا لے جائے گا۔‘‘’’غسان کی خیریت اسی میں ہے کہ رسول اﷲﷺ کی دعوت قبول کرلے۔‘‘کسی اور نے کہا۔’’نہیں کرے گا تو ہمیشہ کیلئے ہرقل کا غلام ہو جائے گا۔‘‘ایک اور نے کہا۔اس وقت ہرقل قبیلہ غسان میں داخل ہو چکا تھا۔اس کے ساتھ جو فوج تھی،اس کی تعداد ایک لاکھ تھی۔غسان کے سردارِ اعلیٰ کو اطلاع مل چکی تھی مگر وہ پریشان نہیں تھا۔وہ ہرقل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔نبی ِ کریمﷺ کا ایلچی بصرہ کو جا رہا تھا۔غسان کا دارالحکومت بصرہ تھا۔ایلچی کے ساتھ ایک اونٹ پر لدے ہوئے زادِ راہ کے علاوہ تین محافظ بھی تھے۔بڑی لمبی مسافت کے بعد ایلچی موتہ پہنچااور اس نے ذرا سستانے کیلئے اپنا مختصر ساقافلہ روک لیا۔قریب ہی قبیلہ غسان کی ایک بستی تھی۔اس کے سردار کو اطلاع ملی کہ چار اجنبی بستی کے قریب پڑاؤ کیے ہوئے ہیں۔سردار نے جس کا نام شرجیل بن عمرو تھا،مدینہ کے ایلچی کو اپنے ہاں بلایا اور پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 14
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
شمشیرِ بے نیام*
*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*
*( قسط نمبر-15)*
مجاہدین لشکرِ کفار میں گم ہو گئے تھے ۔لیکن ان کا جذبہ قائم تھا۔ ان کیعَلَم گرنے لگا…… عَلَم گرتا تھا اور اٹھتا تھا ۔عبداﷲ ؓبن رواحہ نے دیکھ لیا۔ سمجھ گئے کہ عَلَم بردار زخمی ہے اور اب وہ عَلَم کو سنبھال نہیں سکتا ۔عَلَم بردار سپہ سالار خود تھا۔ یہ جعفرؓ بن ابی طالب تھے۔ عبداﷲؓ بن رواحہ ان کی طرف دوڑے ۔ان تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔عبداﷲؓ جعفر ؓتک پہنچے ہی تھے کہ جعفرؓ گر پڑے۔ ان کا جسم خون میں نہا گیا تھا ۔جسم پر شاید ہی کوئی ایسی جگہ تھی جہاں تلوار یا برچھی کا کوئی زخم نہ تھا۔جعفر ؓگرتے ہی شہید ہو گئے۔عبداﷲ ؓنے پرچم اٹھا کر بلند کیا اور نعرہ لگا کر مجاہدین کو بتایا کہ انہوں نے عَلَم اور سپہ سالاری سنبھال لی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ دشمن کی فوج کاایک حصہ تھا جس کی تعدا ددس سے پندرہ ہزار تک تھی۔یہ تمام تر نفری غسانی عیسائیوں کی تھی جو اس معرکے کو مذہبی جنگ سمجھ کر لڑ رہے تھے۔اتنی زیادہ تعداد کے خلاف تین ہزار مجاہدین کیا کر سکتے تھے۔لیکن ان کی قیادت اتنی دانشمند اور عسکری لحاظ سے اتنی قابل تھی کہ اس کے تحت مجاہدین جنگی طریقے اور سلیقے سے لڑ رہے تھے۔ ان کا انداز لٹھ بازوں والا نہیں تھا۔مگر دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مجاہدین بکھرنے لگے یہاں تک کہ بعض اس انتشار اور دشمن کے دباؤ اور زور سے گھبرا کر معرکے سے نکل گئے ۔لیکن وہ بھاگ کر کہیں گئے نہیں ۔قریب ہی کہیں موجود رہے۔باقی مجاہدین انتشار کا شکار ہونے سے یوں بچے کہ وہ چار چار ‘پانچ پانچ اکھٹے ہوکر لڑتے رہے۔جنگی مبصرین نے لکھا ہے کہ غسانی مسلمانوں کی اس افراتفری کی کیفیت سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اتنی بے جگری سے اور ایسی مہارت سے لڑ رہے تھے کہ غسانیوں پر ان کارعب طاری ہو گیا۔وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا بکھر جانا بھی ان کی کوئی چال ہے ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے سالاروں اور کمانداروں نے اس صورتِ حال کو یوں سنبھالا کہ اپنے آدمیوں کو معرکے سے نکالنے لگے۔تاکہ انہیں منظم کیا جا سکے۔اس دوران عَلَم ایک بار پھر گر پڑا۔ تیسرے سپہ سالار عبداﷲ ؓبن رواحہ بھی شہید ہو گئے۔اب کے مجاہدین میں بد دلی نظر آنے لگی۔ رسولِ کریمﷺ نے یہی تین سالار مقرر کیے تھے۔ اب مجاہدین کو سپہ سالار خود مقررکرنا تھا۔عَلَم گرا ہوا تھا جو شکست کی نشانی تھی۔ایک سرکردہ مجاہد ثابتؓ بن اَرقم نے عَلَم اٹھاکر بلند کیا اور نعرہ لگانے کے انداز سے کہا۔’’اپنا سپہ سالار کسی کو بنا لو،عَلَم کو میں بلند رکھوں گا۔میں ……ثابت بن ارقم…… ‘‘مؤرخ ابنِ سعد نے لکھا ہے کہ ثابتؓ اپنے آپ کو سپہ سالاری کے قابل نہیں سمجھتے تھے اور وہ مجاہدین کی رائے کے بغیر سپہ سالار بننا بھی نہیں چاہتے تھے،کیونکہ نبی کریمﷺ کا حکم تھا کہ تین سالار اگر شہید ہو جائیں تو چوتھے سپہ سالار کا انتخاب مجاہدین خود کریں۔ثابتؓ کی نظر خالد ؓبن ولید پر پڑی جو قریب ہی تھے۔مگر خالدؓ بن ولید کو مسلمان ہوئے ابھی تین ہی مہینے ہوئے تھے۔اس لیے انہیں اسلامی معاشر ت میں ابھی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ثابت ؓبن ارقم خالدؓ کے عسکری جوہر اور جذبے سے واقف تھے۔انہوں نے عَلَم خالدؓ کی طرف بڑھایا۔’’بے شک! اس رتبے کے قابل تم ہو خالدؓ۔‘‘
’’خالد……خالد……خالد……‘‘ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔’’خالد ہمارا سپہ سالار ہے۔‘‘خالدؓ نے لپک کر عَلَم ثابتؓ سے لے لیا۔غسانی لڑ تو رہے تھے لیکن ذرا پیچھے ہٹ گئے تھے۔خالدؓ کو پہلی بار آزادی سے قیادت کے جوہر دِکھانے کا موقع ملا ۔انہوں نے چند ایک مجاہدین کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ان سے قاصدوں کا کام لینے لگے۔خود بھی بھاگ دوڑ کر نے لگے۔لڑتے بھی رہے۔اس طرح انہوں نے مجاہدین کو جو لڑنے کے قابل رہ گئے تھے۔یکجا کرکے منظم کرلیااور انہیں پیچھے ہٹالیا ۔غسانی بھی پیچھے ہٹ گئے اور دونوں طرف سے تیروں کی بوچھاڑیں برسنے لگیں۔ فضاء میں ہر طرف تیراُڑ رہے تھے۔
خالدؓ نے صورتِ حال کا جائزہ لیا ۔اپنی نفری اور اس کی کیفیت دیکھی ۔تو ان کے سامنے یہی ایک صورت رہ گئی تھی کہ معرکہ ختم کردیں۔ دشمن کو کمک بھی مل رہی تھی ۔لیکن خالدؓ پسپا نہیں ہونا چاہتے تھے۔پسپائی بجا تھی ،لیکن خطرہ یہ تھا کہ دشمن تعاقب میں آئے گا۔ جس کانتیجہ مجاہدین کی تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔خالدؓ نے سوچ سوچ کر ایک دلیرانہ فیصلہ کیا ۔وہ مجاہدین کے آگے ہو گئے اور غسانیوں پر ہلّہ بول دیا۔مجاہدین نے جب اپنے سپہ سالار اور اپنے عَلَم کو آگے دیکھا تو ان کے حوصلے تروتازہ ہو گئے ۔یہ ہلّہ اتنا دلیرانہ اور اتنا تیز تھا کہ کثیر تعداد غسانی عیسائیوں کے قدم اکھڑ گئے۔مجاہدین کے ہلّے اور ان کی ضربوں میں قہر تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں اور حدیث بھی ہے کہ اس وقت تک خالدؓ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ چکی تھیں۔خالدؓ دراصل غسانیوں کو بکھیر کر مجاہدین کو پیچھے ہٹانا چاہتے تھے۔اس میں وہ کامیاب رہے۔انہوں نے اپنے اور مجاہدین کے جذبے اوراسلام کے عشق کے بل بوتے پر یہ دلیرانہ حملہ کیا تھا۔حملہ اور ہلّہ کی شدت نے تو پورا کام کیا لیکن غسانی مجاہدین کی غیر معمولی دلیری سے مرعوب ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ان میں انتشار پیدا ہو گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی مجاہدین کے دائیں پہلو کے سالار قطبہؓ بن قتاوہ نے غسانیوں کے قلب میں گھس کر ان کے سپہ سالار’’ مالک‘‘ کو قتل کر دیا۔اس سے غسانیوں کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ تعداد کی افراط کے باوجود بہت پیچھے چلے گئے اور منظم نہ رہ سکے۔خالد ؓنے اسی لیے یہ دلیرانہ حملہ کرایا تھا کہ مجاہدین کو تباہی سے بچایا جا سکے۔وہ انہوں نے کر لیااور مجاہدین کو واپسی کا حکم دے دیا۔اس طرح یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔جب مجاہدین خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ میں پہلے ہی خبرپہنچ چکی تھی کہ مجاہدین پسپا ہو کر آرہے ہیں۔مدینہ کے لوگوں نے مجاہدین کو طعنے دینے شروع کردیئے کہ وہ بھاگ کر آئے ہیں۔خالدؓ نے رسولِ اکرمﷺ کے حضور معرکے کی تمام تر روئیداد پیش کی۔ لوگوں کے طعنے بلند ہوتے جا رہے تھے۔
’’خاموش ہو جاؤ!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے بلند آواز سے فرمایا’’ یہ میدانِ جنگ کے بھگوڑے نہیں ……یہ لڑ کر آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیں گے۔خالد اﷲ کی تلوار ہے ۔‘‘ابنِ ہشام، واقدی اور مغازی لکھتے ہیں کہ رسولِ کریمﷺ کے یہ الفاظ خالدؓبن ولید کا خطاب بن گئے۔’’سیف اﷲ ۔اﷲکی شمشیر ۔‘‘اس کے بعد یہ شمشیر، اﷲکی راہ میں ہمیشہ بے نیام رہی۔
تاریخ میں یە بھی آیا ہے کہ جنگ موتہ چھ دن تک جاری رھی مسلمانوں کے پانچ سو اور بنو غسان کے دو ہزار جنگو مارے گۓ. اور یہ بھی آیا ہے کہ جب حضرت خالد مسلمانوں کا امیر بنا تو حضرت خالد نے امیر بنتے ہی جنگ روک دی تھی اور حضرت خالد سارا دن غور کرتے رھے کہ اپنے فوج کو کس طرح عزت سے اور سہی سلامت نکال کے لیجاؤں جب رات ہوئ تو حضرت خالد کو اک ترکیب سوجھی اسنے اپنے فوج کی حیبت چینج کی کہ جو میمنہ(دایائیں) پہ تھے انکو میسرا(بائیں)پہ لے آۓ جو مقدم پہ تھے انکو موخر پہ لے آیا اور سب کے پرچم بھی بدل دۓ صبح جب رومیوں نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو اور لوگ آگۓ ہیں یہ تو ہمنے کل نہیں دیکھے تھے اور یہ پرچم بھی نۓ ہیں تو دل میں گھبرا گۓ کہ ہم تو پہلے تین ہزار سے لڑ نہیں پارھے اور یہ تو مدینے سے اور فوج آگئ کہتے ہیں کہ حملے سے پہلے حضرت خالد نے اتنی زور سے اللہ اکبر کا نارہ لگایا کہ کچھ رومی گھوڑے سے نیچے گرگۓ. اور اتنی شدت سے حملہ کیا کے دوپہر سے پہلے ہی وہ بھاگ کھڑے ہوۓ. اور تاریخ یہ بھی کہتی ہے کہ اسلام میں صرف دو شخس اک خالد اور دوسرا حضرت زبیر یہ گھوڑے پہ بھی دونو ھاتوں سے تلوار پکڑ کے لڑتے تھے دنیاں کا اور کوئ بھی بہادر دونوں ھاتھو سے لڑنہیں سکتا تھا صرف یہ دو نوں تھے.
قبیلۂ قریش کا سردارِ اعلیٰ ابو سفیان جو کسی وقت للکار کر بات کیاکرتا تھا اور مسلمانوں کے گروہ کو ’’محمد کا گروہ‘‘ کہہ کر انہیں پلّے ہی نہیں باندھتا تھا ،اب بجھ کے رہ گیا تھا۔خالدؓ بن ولید کے قبولِ اسلام کے بعد تو ابوسفیان صرف سردار رہ گیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے جنگ و جدل کے ساتھ اس کا کبھی کوئی تعلق رہاہی نہیں تھا۔عثمانؓ بن طلحہ اور عمروؓ بن العاص جیسے ماہر جنگجو بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔اس کے پاس ابھی عکرمہ
اور صفوان جیسے سالار موجود تھے لیکن ابو سفیان صاف طور پر محسوس کرنے لگا تھا کہ اس کی یعنی قریش کی جنگی طاقت بہت کمزور ہو گئی ہے۔’’تم بزدل ہو گئے ہو ابو سفیان!‘‘اس کی بیوی ہند نے ایک روز اسے کہا۔’’تم مدینہ والوں کو مہلت اور موقع دے رہے ہو کہ وہ لشکر اکھٹا کرتے چلے جائیں اور ایک روز آ کر مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔‘‘’’میرے ساتھ رہ ہی کون گیا ہے ہند؟‘‘ابو سفیان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔’’مجھے اس شخص کی بیوی کہلاتے شرم آتی ہے جو اپنے خاندان اور اپنے قبیلے کے مقتولین کے خون کا انتقام لینے سے ڈرتا ہے۔‘‘ہند نے کہا۔’’میں قتل کر سکتا ہوں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں قتل ہو سکتا ہوں۔میں بزدل نہیں،ڈرپوک بھی نہیں لیکن میں اپنے وعدے سے نہیں پھر سکتا۔کیا تم بھول گئی ہو کہ حدیبیہ میں محمد)ﷺ( کے ساتھ میرا کیا معاہدہ ہوا تھا؟اہلِ قریش اور مسلمان دس سال تک آپس میں نہیں لڑیں گے۔اگر میں معاہدہ توڑ دوں اور میدانِ جنگ میں مسلمان ہم پر غالب آ جائیں تو……‘‘’’تم مت لڑو۔‘‘ہند نے کہا۔’’قریش نہیں لڑیں گے۔ہم کسی اور قبیلے کو مسلمانوں کے خلاف لڑا سکتے ہیں۔ہمارا مقصد مسلمانوں کی تباہی ہے۔ہم مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کو درپردہ مدد دے سکتے ہیں۔‘‘’’قریش کے سوا کون ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی جرات کرے گا؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’موتہ میں ہرقل اور غسان کے ایک لاکھ کے لشکر نے مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا؟کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ ایک لاکھ کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی؟میں اپنے قبیلے کے کسی آدمی کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے کسی قبیلے کی مدد کیلئے جانے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘’’مت بھول ابو سفیان!‘‘ہند نے غضب ناک لہجے میں کہا۔’’میں وہ عورت ہوں جس نے اُحد کی لڑائی میں حمزہ کا پیٹ چاک کر کے اس کا کلیجہ نکالا اور اسے چبایا تھا ۔تم میرے خون کو کس طرح ٹھنڈا کر سکتے ہو؟‘‘’’تم نے حمزہ کا نہیں اس کی لاش کا پیٹ چاک کیا تھا۔‘‘ابو سفیان نے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لاکرکہا۔’’مسلمان لاشیں نہیں اور وہ جو کچھ بھی ہیں ،خدا کی قسم! میں معاہدہ نہیں توڑوں گا۔‘‘’’معاہدہ تو میں بھی نہیں توڑوں گی۔‘‘ہند نے کہا۔’’لیکن مسلمانوں سے انتقام ضرور لوں گی اور یہ انتقام بھیانک ہوگا۔قبیلۂ قریش میں غیرت والے جنگجو موجود ہیں۔‘‘’’آخر تم کرنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’تمہیں جلدی پتا چل جائے گا۔‘‘ہند نے کہا۔
مکہ کے گردونواح میں خزاعہ اور بنو بکر دو قبیلے آباد تھے۔ان کی آپس میں بڑی پرانی عداوت تھی۔حدیبیہ میں جب مسلمانوں اور قریش میں صلح ہو گئی اور دس سال تک عدمِ جارحیت کا معاہدہ ہو گیا تو یہ دونوں قبیلے اس طرح اس معاہدے کے فریق بن گئے کہ قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش کا اتحادی بننے کا اعلان کر دیا تھا۔
معاہدہ جو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہوا،خزاعہ اور بنو بکر کے لئے یوں فائدہ مند ثابت ہوا کہ دونوں قبیلوں کی آئے دن کی لڑائیاں بند ہو گئیں۔اچانک یوں ہوا کہ بنو بکر نے ایک رات خزاعہ کی ایک بستی پر حملہ کر دیا۔یہ کوئی بھی نہ جان سکا کہ بنو بکر نے معاہدہ کیوں توڑ دیا ہے۔ایک روایت ہے کہ اس کے پیچھے ہند کا ہاتھ تھا۔خزاعہ چونکہ مسلمانوں کے اتحادی تھے،اس لیے ہند نے اس توقع پر خزاعہ پر بنو بکر سے حملہ کرایا تھا کہ خزاعہ مسلمانوں سے مدد مانگیں گے اور مسلمان ان کی مدد کو ضرور آئیں گے اور وہ جب بنو بکر پر حملہ کریں گے تو قریش مسلمانوں پر حملہ کردیں گے۔ایک روایت یہ ہے کہ یہ غسانی عیسائیوں اور یہودیوں کی سازش تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ قریش اور مسلمانوں کے اتحادیوں کو آپس میں لڑا دیا جائے تو قریش اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہو جائے گی۔بنو بکر خزاعہ کے مقابلے میں طاقتور قبیلہ تھا۔غسّانیوں اور یہودیوں نے بنو بکر کی ایک لڑکی اغواکرکے قبیلہ خزاعہ کی ایک بستی میں پہنچا دی اور بنو بکر کے سرداروں سے کہا کہ خزاعہ نے ان کی لڑکی کو اغواء کر لائے ہیں،بنو بکر نے جاسوسی کی اور پتا چلا کہ ان کی لڑکی واقعی خزاعہ کی ایک بستی میں ہے۔ہند نے اپنے خاوند ابو سفیان کو بتائے بغیر قریش کے کچھ آدمی بنو بکر کو دے دیئے۔ان میں قریش کے مشہور سالار عکرمہ اور صفوان بھی تھے۔چونکہ حملہ رات کو کیا گیا تھا،اس لیے خزاعہ کے بیس آدمی مارے گئے۔یہ راز ہر کسی کو معلوم ہو گیاکہ بنو بکر کے حملے میں قریش کے آدمی مدد کیلئے گئے تھے۔خزاعہ کا سردار اپنے ساتھ دو تین آدمی لے کر مدینہ چلا گیا۔خزاعہ غیر مسلم قبیلہ تھا ۔خزاعہ کے یہ آدمی حضورﷺ کے پاس پہنچے اور آپﷺ کو بتایا کہ بنو بکر نے قریش کی پشت پناہی سے حملہ کیا اور قریش کے کچھ جنگجو بھی اس حملے میں شریک تھے۔خزاعہ کے ایلچی نے حضورﷺ کو بتایا کہ عکرمہ اور صفوان بھی اس حملے میں شامل تھے۔رسولِ اکرمﷺ غصے میں آگئے۔یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔آپﷺ نے مجاہدین کو تیاری کا حکم دے دیا۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کارد ِ عمل بڑا ہی شدید تھا۔اگر معاملہ صرف بنو بکراور خزاعہ کی آپس میں لڑائی کا ہوتا تو حضورﷺ شاید کچھ اور فیصلہ کرتے لیکن بنو بکر کے حملے میں قریش کے نامی گرامی سالار عکرمہ اور صفوان بھی شامل تھے۔اس لیے آپﷺ نے فرمایا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری اہلِ قریش پر عائد ہوتی ہے۔’’ابو سفیان نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘مدینہ کی گلیوں اور گھروں میں آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’رسول اﷲﷺ کے حکم پر ہم مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔اب قریش کو ہم اپنے قدموں میں بٹھا کر دم لیں گے۔‘‘رسول اﷲﷺ نے مکہ پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔ابو سفیان کو اتنا ہی پتا چلا تھاکہ بنو بکر نے خزاعہ پر شب خون کی طرز کا حملہ کیا ہے اور خزاعہ کے کچھ آدمی مارے گئے ہیں ۔اسے یاد آیا کہ عکرمہ اور صفوان صبح سویرے گھوڑوں پر سوار کہیں سے آ رہے تھے،اس نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں ؟تو انہو ں نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ گھڑ دوڑ کیلئے گئے تھے۔دوپہر کے وقت جب اسے پتا چلا کہ بنو بکر نے خزاعہ پر حملہ کیاہے تو اس نے عکرمہ اور صفوان کو بلایا۔’’تم دونوں مجھے کس طرح یقین دلا سکتے ہو کہ خزاعہ کی بستی پر بنوبکر کے حملے میں تم شریک نہیں تھے؟‘‘ابو سفیان نے ان سے پوچھا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ بنو بکر ہمارے دوست ہیں؟‘‘صفوان نے کہا ۔’’اگر دوست مدد کیلئے پکاریں تو کیا تم دوستوں کو پیٹھ دکھاؤ گے؟‘‘’’میں کچھ بھی نہیں بھولا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم! تم بھول گئے ہو کہ قبیلۂ قریش کا سردار کون ہے……میں ہوں تمہارا سردار……میری اجازت کے بغیر تم کسی اور کا ساتھ نہیں دے سکتے۔‘‘’’ابو سفیان! ‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں تمہیں اپنے قبیلے کا سردار مانتا ہوں ۔تمہاری کمان میں لڑائیاں لڑی ہیں۔تمہارا ہر حکم ماناہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم قبیلے کے وقار کو مجروح کرتے چلے جا رہے ہو۔تم نے اپنے دل پر مدینہ والوں کا خوف طاری کر لیا ہے۔‘‘’’اگر میں قبیلے کا سردار ہوں تو میں کسی کو ایساجرم بخشوں گا نہیں جو تم نے کیا ہے۔‘‘ابو سفیان نے کہا-
’’ابو سفیان!‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’وہ وقت تمہیں یاد ہو گا جب خالد مدینہ کو رخصت ہوا تھا۔تم نے اسے بھی دھمکی دی تھی اور میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اُس عقیدے کا پیروکار ہو جائے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اور میں نے تمہیں یہ بھی کہا تھاکہ تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو میں بھی تمہارا ساتھ چھوڑنے اور محمد)ﷺ( کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔‘‘
’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ باوقار لوگ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’تم نے بنو بکر کاساتھ دے کر اور مسلمانوں کے اتحادی قبیلے پر حملہ کرکے اپنے قبیلے کا وقار تباہ کر دیاہے۔ اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ محمد)ﷺ( نے مکہ پر حملہ کر دیا تو تم حملہ پسپا کردو گے۔تو تم خوش فہمی میں مبتلا ہو۔کون سے میدان میں تم نے مسلمانوں کو شکست دی ہے؟کتنا لشکر لے کر تم نے مدینہ کو محاصرے میں لیا تھا؟‘‘’’وہاں سے پسپائی کا حکم تم نے دیا تھا۔‘‘صفوان نے کہا۔’’تم نے ہار مان لی تھی۔‘‘’’میں تم جیسے ضدی ا ور کوتاہ بیں آدمیوں کے پیچھے پورے قبیلے کو ذلیل و خوار نہیں کرواؤں گا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کے ساتھ ابھی چھیڑ خانی نہیں کر سکتا۔میں محمد)ﷺ( کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایک دوست قبیلے نے مسلمانوں کے ایک دوست قبیلے پر حملہ کیا ہے اور اس میں قریش کے چند ایک آدمی شامل ہو گئے تھے،تو اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔میں محمد)ﷺ( کو بتاؤں گا کہ قبیلۂ قریش حدیبیہ کے معاہدے پر قائم ہے۔‘‘وہ عکرمہ اور صفوان کو وہیں کھڑا چھوڑ کروہاں سے چلا گیا۔ابو سفیان اسی روز مدینہ کو روانہ ہو گیا۔اہلِ مکہ حیران تھے کہ ابو سفیان اپنے دشمن کے پاس چلا گیا ہے۔اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں ۔اس کی بیوی ہند پھنکارتی پھر رہی تھی۔مدینہ پہنچ کر ابو سفیان نے جس دروازے پردستک دی وہ اس کی اپنی بیٹی اُمّ ِ حبیبہؓ کاگھر تھا۔دروازہ کھلا۔بیٹی نے اپنے باپ کو دیکھا تو بیٹی کے چہرے پر مسرت کے بجائے بے رُخی کا تاثر آگیا۔بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور باپ اسلام کا دشمن تھا۔’’کیا باپ اپنی بیٹی کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا؟‘‘ابو سفیان نے اُمّ ِ حبیبہؓ سے پوچھا۔’’اگر باپ وہ سچا مذہب قبول کرلے جو اس کی بیٹی نے قبول کیا ہے تو بیٹی باپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے گی۔‘‘اُمّ ِ حبیبہؓ نے کہا۔’’بیٹی!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں پریشانی کے عالم میں آیا ہوں ۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔‘‘
’’بیٹی کیاکر سکتی ہے؟ ‘‘اُمّ ِ حبیبہ ؓ نے کہا۔’’آپ رسول ِ خداﷺ کے پاس جائیں۔‘‘بیٹی کی اس بے رخی پر ابو سفیان سٹپٹا اٹھا۔وہ رسولِ کریمﷺ کے گھر کی طرف چل پڑا۔راستے میں اس نے وہ شناسا چہرے دیکھے جو کبھی اہلِ قریش کہلاتے اور اسے اپنا سردار مانتے تھے۔اب اس سے بیگانے ہو گئے تھے۔وہ اسے چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔وہ ان کا دشمن تھا۔اس نے ان کے خلاف لڑائیاں لڑی تھیں۔اُحد کی جنگ میں ابو سفیان کی بیوی ہند نے مسلمانوں کی لاشوں کے پیٹ چاک کیے اور ان کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کاہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا تھا۔
ابو سفیان اہل ِمدینہ کی گھورتی ہوئی نظروں سے گزرتا رسولِ کریمﷺ کے ہاں جا پہنچا۔اس نے ہاتھ بڑھایا۔رسولِ کریمﷺنے مصافحہ کیا لیکن آپﷺ کی بے رخی نمایاں تھی۔رسولِ کریمﷺ کو اطلاع مل چکی تھی کہ بنو بکر نے اہلِ قریش کی مدد سے خزاعہ پر حملہ کیا ہے۔ آپﷺ اہلِ قریش کو فریب کار سمجھ رہے تھے۔ایسے دشمن کاآپﷺ کے پاس ایک ہی علاج تھا کہ فوج کشی کرو تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم کمزور ہیں۔
ہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے کہ اس کی بات بھی نہ سنیں۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘’’اگر محمد نے جو اﷲ کے رسولﷺ ہیں،تمہاری بات نہیں سنی تو ہم تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’ہم اس مہمان کی بات سنا کرتے ہیں جو ہماری بات سنتا ہے۔ابو سفیان! کیا تم نے محمد ﷺ کی بات سنی ہے کہ وہ اﷲ کا بھیجا ہوا رسولﷺ ہے؟کیا تم نے اﷲ کے رسولﷺ کی یہ بات نہیں سنی تھی کہ اﷲ ایک ہے اورا سکے سوا کوئی معبود نہیں۔سنی تھی تو تم رسولﷺ کے دشمن کیوں ہو گئے تھے؟‘‘’’کیا تم میری کوئی مدد نہیں کرو گے ابو بکر؟‘‘ابو سفیان نے التجا کی۔
’’نہیں ۔‘‘ابو بکر ؓنے کہا۔’’ہم اپنے رسول کے حکم کے پابند ہیں۔‘‘ابو سفیان مایوسی کے عالم میں سرجھکائے ہوئے چلا گیااورکسی سے حضرت عمرؓ کا گھر پوچھ کر ان کے سامنے جا بیٹھا۔
’’اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو مدینہ میں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ہے۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’خداکی قسم! تم اسلام قبول کرنے والوں میں سے نہیں۔‘‘ابو سفیان نے عمرؓ کو مدینہ میں آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہ رسولِ کریمﷺ نے اس کے ساتھ بات تک نہیں کی اور ابو بکرؓ نے بھی اس کی مدد نہیں کی۔’’ میرے پاس اگر چیونٹیوں جیسی کمزور فوج بھی ہو تو بھی تمہارے خلاف لڑوں گا۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’تم میرے نہیں،میرے رسولﷺ اور میرے مذہب کے دشمن ہو۔میرا رویہ وہی ہو گا جو اﷲ کے رسولﷺ کا ہے۔‘‘ابو سفیان فاطمہؓ سے ملا۔حضرت علیؓ سے ملا لیکن کسی نے بھی ا سکی بات نہ سنی۔وہ مایوس اور نامراد مدینہ سے نکلا۔اس کے گھوڑے کی چال اب وہ نہیں تھی جو مدینہ کی طرف آتے وقت تھی۔گھوڑے کابھی جیسے سر جھکا ہوا تھا،وہ مکہ کو جا رہا تھا۔رسولِ خداﷺ نے اس کے جانے کے بعد ان الفاظ میں حکم دیا کہ مکہ پر حملہ کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں فوج تیار کی جائے ۔آپﷺ کے حکم میں خاص طور پرشامل تھاکہ جنگی تیاری اتنے بڑے پیمانے کی ہو کہ مکہ والوں کو فیصلہ کن شکست دے کر قریش کو ہمیشہ کیلئے تہہ و تیغ کر لیاجائے۔اس کے علاوہ حضورﷺ نے فرمایا کہ کوچ بہت تیز ہو گا اور اسے ایسا خفیہ رکھا جائے گا کہ مکہ والوں کو بے خبری میں دبوچ لیا جائے یا مکہ کے قریب اتنی تیزی سے پہنچا جائے کہ قریش کو مہلت نہ مل سکے کہ وہ اپنے اتحادی قبائل کو مدد کیلئے بلا سکیں ۔مدینہ میں مسلمانوں نے راتوں کوبھی سونا چھوڑ دیا۔جدھر دیکھو تیر تیار ہو رہے تھے ۔تیروں سے بھری ہوئی ترکشوں کے انبار لگتے جا رہے تھے۔برچھیاں بن رہی تھیں۔گھوڑے اور اونٹ تیار ہو رہے تھے۔تلواریں تیز ہو رہی تھیں۔عورتیں اور بچے بھی جنگی تیاریوں میں مصروف تھے۔رسولِ اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔مدینہ میں ایک گھر تھا جس کے اندر کوئی اور ہی سرگرمی تھی۔وہ غیر مسلم گھرانہ تھا۔وہاں ایک اجنبی آیا بیٹھا تھا ۔گھر میں ایک بوڑھا تھا ،ایک ادھیڑ عمر آدمی،ایک جوان لڑکی ،ایک ادھیڑ عمر عورت اور دو تین بچے تھے۔
’’میں مسلمانوں کے ارادے دیکھ آیا ہوں۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’ان کا ارادہ ہے کہ مکہ والوں کو بے خبری میں جا لیں۔بلا شک و شبہ محمد )ﷺ(جنگی چالوں کا ماہر ہے۔اس نے جو کہا ہے وہ کر کے دکھا دے گا۔‘‘’’ہم کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘بوڑھے نے پوچھا۔’’میرے بزرگ!‘‘ اجنبی نے کہا۔’’ہم اور کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہم مکہ والوں کو خبر دار کر سکتے ہیں کہ تیار رہو اور اِدھراُدھر کے قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لواور مکہ کے راستے میں کہیں گھات لگا کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑو۔مکہ پہنچنے تک ان پر شب خون مارتے رہو۔مسلمان جب مکہ پہنچیں گے تو ان کا دم خم ٹوٹ چکا ہو گا۔‘‘
’’قسم اس کی جسے میں پوجتا ہوں۔‘‘بوڑھے نے جوشیلی آواز میں کہا۔’’تم عقل والے ہو۔تم خدائے یہودہ کے سچے پجاری ہو۔خدائے یہودہ نے تمہیں عقل و دانش عطا کی ہے۔کیا تم مکہ نہیں جا سکتے؟‘‘’’نہیں ۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’مسلمان ہر غیر مسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔یہ جانتے ہیں کہ میں یہودی ہوں، وہ مجھ پر شک کریں گے۔میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گا۔ مجھے ان یہودیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جنہیں مسلمانوں نے قتل کیا تھا۔میری رگوں میں بنو قریظہ کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں مسلمانوں کو ضربیں لگاتا رہوں اور میں اپنا یہ فرض ادا نہ کروں تو خدائے یہودہ مجھے اس کتے کی موت مارے جس کے جسم پر خارش اور پھوڑے ہوتے ہیں اور وہ تڑپ تڑپ کر مرتا ہے ۔لیکن میں نہیں چاہتا کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں مسلمانوں کو ڈنک مارنے کیلئے زندہ رہنا چاہتا ہوں ۔‘‘’’میں بوڑھا ہوں ۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’مکہ دور ہے ،گھوڑے یا اونٹ پراتنا تیز سفر نہیں کر سکوں گا کہ مسلمانوں سے پہلے مکہ پہنچ جاؤں ۔یہ کام بچوں اور عورتوں کا بھی نہیں ۔میرا بیٹا ہے مگر بیمار ہے ۔‘‘’’اس انعام کو دیکھو جو ہم تمہیں دے رہے ہیں ۔‘‘اجنبی یہودی نے کہا ۔’’یہ کام کر دو ۔انعام کے علاوہ ہم تمہیں اپنے مذہب میں شامل کرکے اپنی حفاظت میں لے لیں گے۔‘‘ ’’کیا یہ کام میں کر سکتی ہوں ؟‘‘ادھیڑ عمر عورت نے کہا۔’’تم نے میری اونٹنی نہیں دیکھی ،تم نے مجھے اونٹنی کی پیٹھ پر کبھی نہیں دیکھا ۔اتنی تیز اونٹنی مدینہ میں کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘’’ہاں! ‘‘یہودی نے کہا۔’’تم یہ کام کر سکتی ہو ۔اونٹوں اور بکریوں کو باہر لے جاؤ۔تمہاری طرف کوئی دھیان نہیں دے گا۔تم انہیں چرانے کیلئے ہر روز لے جاتی ہو، آج بھی لے جاؤ اورمدینہ سے کچھ دور جاکر اپنی اونٹنی پر سوار ہو جاؤ ۔اس نے ایک کاغذ ایک عورت کو دیتے ہوئے کہا اسے اپنے سر کے بالوں میں چھپا لو۔اونٹنی کو دوڑاتی لے جاؤ اور مکہ میں ابو سفیان کے گھر جاؤ اور بالوں میں سے یہ کاغذ نکال کر اسے دے دو۔‘‘’’لاؤ۔‘‘عورت نے کاغذ لیتے ہوئے کہا۔’’میرا انعام میرے دوسرے ہاتھ پر رکھ دو اور اس یقین کے ساتھ میرے گھر سے جاؤ کہ مسلمان مکہ سے واپس آئیں گے تو ان کی تعداد آدھی بھی نہیں ہو گی۔اور ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور شکست ان کے چہروں پر لکھی ہوئی ہو گی۔‘‘یہودی نے سونے کے تین ٹکڑے عورت کو دیئے اور بولا۔’’یہ اس انعام کا نصف حصہ ہے جو ہم تمہیں اس وقت دیں گے جب تم یہ پیغام ابو سفیان کے ہاتھ میں دے کر واپس آ جاؤ گی۔‘‘’’اگر میں نے کام کر دیا اور زندہ واپس نہ آسکی تو؟‘‘’’باقی انعام تمہارے بیمار خاوند کو ملے گا۔‘‘یہودی نے کہا۔
یہ عورت) کسی بھی تاریخ میں نام نہیں دیا گیا(اپنے اونٹ اور بکریاں چرانے کیلئے لے گئی۔ انہیں وہ ہانکتی جا رہی تھی کسی نے بھی نہ دیکھا کہ اونٹوں کی پیٹھیں ننگی تھیں لیکن ایک اونٹنی سواری کیلئے تیار کی گئی تھی ۔اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور ایک تھیلا بھی بندھا ہو اتھا۔ عورت اس ریوڑ کو شہر سے دور لے گئی۔ بہت دیر گزر گئی تو یہودی نے اس جوان لڑکی کو جو گھر میں تھی ،کہا۔’’ وہ جا چکی ہو گی۔ تم جاؤاور اونٹوں اور بکریوں کو شام کے وقت واپس لے آنا۔‘‘وہ لڑکی ہاتھ میں گدڑیوں والی لاٹھی لے کر باہر نکل گئی۔ لیکن وہ شہر سے باہر جانے کی بجائے شہر کے اندر چلی گئی۔وہ اس طرح اِدھر اُدھر دیکھتی جا رہی تھی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہو۔وہ گلیوں میں سے گزر ی اور ایک میدان میں جا رکی ۔وہاں بہت سے مسلمان ڈھالیں اور تلواریں لیے تیغ زنی کی مشق کر رہے تھے۔ایک طرف شتر دوڑ ہو رہی تھی اور تماشائیوں کابھی ہجوم تھا ۔لڑکی اس ہجوم کے اردگرد گھومنے لگی یہ کسی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے جو بڑھتے جا رہے تھے ۔اسکے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ایک جوان سال آدمی نے اسے دیکھ لیا اور بڑی تیزچلتااس کے پیچھے گیا۔قریب پہنچ کر اس نے دھیمی آواز سے کہا:’’زاریہ!‘‘لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا اور ا سکے چہرے سے پریشانی کا تاثر اُڑ گیا۔’’وہیں آجاؤ !‘‘زاریہ نے کہا اور وہ دوسری طرف چلی گئی۔زاریہ کو وہاں پہنچتے خاصہ وقت لگ گیا جہاں وہ عورت اونٹوں اور بکریوں کو لے جایا کرتی تھی۔ اونٹ اور بکریاں وہیں تھیں۔ وہ عورت اور ا س کی اونٹنی وہاں نہیں تھیں ۔زاریہ وہاں اس انداز سے بیٹھ گئی جیسے بکریاں چرانے آئی ہو ۔وہ بار بار اٹھتی اور شہر کی طرف دیکھتی تھی۔اسے اپنی طرف کوئی آتا نظر نہیں آ رہا تھا ۔وہ ایک بار پھرپریشان ہونے لگی ۔سورج ڈوبنے کیلئے افق کی طرف جا رہا تھا جب وہ آتا دکھائی دیا ۔زاریہ نے سکون کی آہ بھری اور بیٹھ گئی ۔’’او ہ عبید!‘‘ زاریہ نے اسے اپنے پاس بٹھا کر کہا۔’’تم اتنی دیر سے کیوں آئے ہو ؟میں پریشان ہو رہی ہوں۔‘‘’’کیا میں نے تمہیں پریشانی کا علاج بتایا نہیں؟‘‘عبید نے کہا۔’’میرے مذہب میں آجاؤاور تمہاری پریشانی ختم ہو جائے گی۔جب تک تم اسلام قبول نہیں کرتیں ،میں تمہیں اپنی بیوی نہیں بنا سکتا۔
*(جاری ھے)*
بقیہ اگلی قسط نمبر 16
میں پڑھیں
اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا
No comments:
Post a Comment