Saturday, October 16, 2021

بے نیام *(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)* *( قسط نمبر-15)*قسط نمبر16


*شمشیرِ بے نیام

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*

*( قسط نمبر-15)*

مجاہدین لشکرِ کفار میں گم ہو گئے تھے ۔لیکن ان کا جذبہ قائم تھا۔ ان کیعَلَم گرنے لگا…… عَلَم گرتا تھا اور اٹھتا تھا ۔عبداﷲ ؓبن رواحہ نے دیکھ لیا۔ سمجھ گئے کہ عَلَم بردار زخمی ہے اور اب وہ عَلَم کو سنبھال نہیں سکتا ۔عَلَم بردار سپہ سالار خود تھا۔ یہ جعفرؓ بن ابی طالب تھے۔ عبداﷲؓ بن رواحہ ان کی طرف دوڑے ۔ان تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔عبداﷲؓ جعفر ؓتک پہنچے ہی تھے کہ جعفرؓ گر پڑے۔ ان کا جسم خون میں نہا گیا تھا ۔جسم پر شاید ہی کوئی ایسی جگہ تھی جہاں تلوار یا برچھی کا کوئی زخم نہ تھا۔جعفر ؓگرتے ہی شہید ہو گئے۔عبداﷲ ؓنے پرچم اٹھا کر بلند کیا اور نعرہ لگا کر مجاہدین کو بتایا کہ انہوں نے عَلَم اور سپہ سالاری سنبھال لی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے



یہ دشمن کی فوج کاایک حصہ تھا جس کی تعدا ددس سے پندرہ ہزار تک تھی۔یہ تمام تر نفری غسانی عیسائیوں کی تھی جو اس معرکے کو مذہبی جنگ سمجھ کر لڑ رہے تھے۔اتنی زیادہ تعداد کے خلاف تین ہزار مجاہدین کیا کر سکتے تھے۔لیکن ان کی قیادت اتنی دانشمند اور عسکری لحاظ سے اتنی قابل تھی کہ اس کے تحت مجاہدین جنگی طریقے اور سلیقے سے لڑ رہے تھے۔ ان کا انداز لٹھ بازوں والا نہیں تھا۔مگر دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مجاہدین بکھرنے لگے یہاں تک کہ بعض اس انتشار اور دشمن کے دباؤ اور زور سے گھبرا کر معرکے سے نکل گئے ۔لیکن وہ بھاگ کر کہیں گئے نہیں ۔قریب ہی کہیں موجود رہے۔باقی مجاہدین انتشار کا شکار ہونے سے یوں بچے کہ وہ چار چار ‘پانچ پانچ اکھٹے ہوکر لڑتے رہے۔جنگی مبصرین نے لکھا ہے کہ غسانی مسلمانوں کی اس افراتفری کی کیفیت سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اتنی بے جگری سے اور ایسی مہارت سے لڑ رہے تھے کہ غسانیوں پر ان کارعب طاری ہو گیا۔وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا بکھر جانا بھی ان کی کوئی چال ہے ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے سالاروں اور کمانداروں نے اس صورتِ حال کو یوں سنبھالا کہ اپنے آدمیوں کو معرکے سے نکالنے لگے۔تاکہ انہیں منظم کیا جا سکے۔اس دوران عَلَم ایک بار پھر گر پڑا۔ تیسرے سپہ سالار عبداﷲ ؓبن رواحہ بھی شہید ہو گئے۔اب کے مجاہدین میں بد دلی نظر آنے لگی۔ رسولِ کریمﷺ نے یہی تین سالار مقرر کیے تھے۔ اب مجاہدین کو سپہ سالار خود مقررکرنا تھا۔عَلَم گرا ہوا تھا جو شکست کی نشانی تھی۔ایک سرکردہ مجاہد ثابتؓ بن اَرقم نے عَلَم اٹھاکر بلند کیا اور نعرہ لگانے کے انداز سے کہا۔’’اپنا سپہ سالار کسی کو بنا لو،عَلَم کو میں بلند رکھوں گا۔میں ……ثابت بن ارقم…… ‘‘مؤرخ ابنِ سعد نے لکھا ہے کہ ثابتؓ اپنے آپ کو سپہ سالاری کے قابل نہیں سمجھتے تھے اور وہ مجاہدین کی رائے کے بغیر سپہ سالار بننا بھی نہیں چاہتے تھے،کیونکہ نبی کریمﷺ کا حکم تھا کہ تین سالار اگر شہید ہو جائیں تو چوتھے سپہ سالار کا انتخاب مجاہدین خود کریں۔ثابتؓ کی نظر خالد ؓبن ولید پر پڑی جو قریب ہی تھے۔مگر خالدؓ بن ولید کو مسلمان ہوئے ابھی تین ہی مہینے ہوئے تھے۔اس لیے انہیں اسلامی معاشر ت میں ابھی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ثابت ؓبن ارقم خالدؓ کے عسکری جوہر اور جذبے سے واقف تھے۔انہوں نے عَلَم خالدؓ کی طرف بڑھایا۔’’بے شک! اس رتبے کے قابل تم ہو خالدؓ۔‘‘
’’خالد……خالد……خالد……‘‘ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔’’خالد ہمارا سپہ سالار ہے۔‘‘خالدؓ نے لپک کر عَلَم ثابتؓ سے لے لیا۔غسانی لڑ تو رہے تھے لیکن ذرا پیچھے ہٹ گئے تھے۔خالدؓ کو پہلی بار آزادی سے قیادت کے جوہر دِکھانے کا موقع ملا ۔انہوں نے چند ایک مجاہدین کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ان سے قاصدوں کا کام لینے لگے۔خود بھی بھاگ دوڑ کر نے لگے۔لڑتے بھی رہے۔اس طرح انہوں نے مجاہدین کو جو لڑنے کے قابل رہ گئے تھے۔یکجا کرکے منظم کرلیااور انہیں پیچھے ہٹالیا ۔غسانی بھی پیچھے ہٹ گئے اور دونوں طرف سے تیروں کی بوچھاڑیں برسنے لگیں۔ فضاء میں ہر طرف تیراُڑ رہے تھے۔

خالدؓ نے صورتِ حال کا جائزہ لیا ۔اپنی نفری اور اس کی کیفیت دیکھی ۔تو ان کے سامنے یہی ایک صورت رہ گئی تھی کہ معرکہ ختم کردیں۔ دشمن کو کمک بھی مل رہی تھی ۔لیکن خالدؓ پسپا نہیں ہونا چاہتے تھے۔پسپائی بجا تھی ،لیکن خطرہ یہ تھا کہ دشمن تعاقب میں آئے گا۔ جس کانتیجہ مجاہدین کی تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔خالدؓ نے سوچ سوچ کر ایک دلیرانہ فیصلہ کیا ۔وہ مجاہدین کے آگے ہو گئے اور غسانیوں پر ہلّہ بول دیا۔مجاہدین نے جب اپنے سپہ سالار اور اپنے عَلَم کو آگے دیکھا تو ان کے حوصلے تروتازہ ہو گئے ۔یہ ہلّہ اتنا دلیرانہ اور اتنا تیز تھا کہ کثیر تعداد غسانی عیسائیوں کے قدم اکھڑ گئے۔مجاہدین کے ہلّے اور ان کی ضربوں میں قہر تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں اور حدیث بھی ہے کہ اس وقت تک خالدؓ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ چکی تھیں۔خالدؓ دراصل غسانیوں کو بکھیر کر مجاہدین کو پیچھے ہٹانا چاہتے تھے۔اس میں وہ کامیاب رہے۔انہوں نے اپنے اور مجاہدین کے جذبے اوراسلام کے عشق کے بل بوتے پر یہ دلیرانہ حملہ کیا تھا۔حملہ اور ہلّہ کی شدت نے تو پورا کام کیا لیکن غسانی مجاہدین کی غیر معمولی دلیری سے مرعوب ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ان میں انتشار پیدا ہو گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی مجاہدین کے دائیں پہلو کے سالار قطبہؓ بن قتاوہ نے غسانیوں کے قلب میں گھس کر ان کے سپہ سالار’’ مالک‘‘ کو قتل کر دیا۔اس سے غسانیوں کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ تعداد کی افراط کے باوجود بہت پیچھے چلے گئے اور منظم نہ رہ سکے۔خالد ؓنے اسی لیے یہ دلیرانہ حملہ کرایا تھا کہ مجاہدین کو تباہی سے بچایا جا سکے۔وہ انہوں نے کر لیااور مجاہدین کو واپسی کا حکم دے دیا۔اس طرح یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔جب مجاہدین خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ میں پہلے ہی خبرپہنچ چکی تھی کہ مجاہدین پسپا ہو کر آرہے ہیں۔مدینہ کے لوگوں نے مجاہدین کو طعنے دینے شروع کردیئے کہ وہ بھاگ کر آئے ہیں۔خالدؓ نے رسولِ اکرمﷺ کے حضور معرکے کی تمام تر روئیداد پیش کی۔ لوگوں کے طعنے بلند ہوتے جا رہے تھے۔
’’خاموش ہو جاؤ!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے بلند آواز سے فرمایا’’ یہ میدانِ جنگ کے بھگوڑے نہیں ……یہ لڑ کر آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیں گے۔خالد اﷲ کی تلوار ہے ۔‘‘ابنِ ہشام، واقدی اور مغازی لکھتے ہیں کہ رسولِ کریمﷺ کے یہ الفاظ خالدؓبن ولید کا خطاب بن گئے۔’’سیف اﷲ ۔اﷲکی شمشیر ۔‘‘اس کے بعد یہ شمشیر، اﷲکی راہ میں ہمیشہ بے نیام رہی۔

تاریخ میں یە بھی آیا ہے کہ جنگ موتہ چھ دن تک جاری رھی مسلمانوں کے پانچ سو اور بنو غسان کے دو ہزار جنگو مارے گۓ. اور یہ بھی آیا ہے کہ جب حضرت خالد مسلمانوں کا امیر بنا تو حضرت خالد نے امیر بنتے ہی جنگ روک دی تھی اور حضرت خالد سارا دن غور کرتے رھے کہ اپنے فوج کو کس طرح عزت سے اور سہی سلامت نکال کے لیجاؤں جب رات ہوئ تو حضرت خالد کو اک ترکیب سوجھی اسنے اپنے فوج کی حیبت چینج کی کہ جو میمنہ(دایائیں) پہ تھے انکو میسرا(بائیں)پہ لے آۓ جو مقدم پہ تھے انکو موخر پہ لے آیا اور سب کے پرچم بھی بدل دۓ صبح جب رومیوں نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو اور لوگ آگۓ ہیں یہ تو ہمنے کل نہیں دیکھے تھے اور یہ پرچم بھی نۓ ہیں تو دل میں گھبرا گۓ کہ ہم تو پہلے تین ہزار سے لڑ نہیں پارھے اور یہ تو مدینے سے اور فوج آگئ کہتے ہیں کہ حملے سے پہلے حضرت خالد نے اتنی زور سے اللہ اکبر کا نارہ لگایا کہ کچھ رومی گھوڑے سے نیچے گرگۓ. اور اتنی شدت سے حملہ کیا کے دوپہر سے پہلے ہی وہ بھاگ کھڑے ہوۓ. اور تاریخ یہ بھی کہتی ہے کہ اسلام میں صرف دو شخس اک خالد اور دوسرا حضرت زبیر یہ گھوڑے پہ بھی دونو ھاتوں سے تلوار پکڑ کے لڑتے تھے دنیاں کا اور کوئ بھی بہادر دونوں ھاتھو سے لڑنہیں سکتا تھا صرف یہ دو نوں تھے.

قبیلۂ قریش کا سردارِ اعلیٰ ابو سفیان جو کسی وقت للکار کر بات کیاکرتا تھا اور مسلمانوں کے گروہ کو ’’محمد کا گروہ‘‘ کہہ کر انہیں پلّے ہی نہیں باندھتا تھا ،اب بجھ کے رہ گیا تھا۔خالدؓ بن ولید کے قبولِ اسلام کے بعد تو ابوسفیان صرف سردار رہ گیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے جنگ و جدل کے ساتھ اس کا کبھی کوئی تعلق رہاہی نہیں تھا۔عثمانؓ بن طلحہ اور عمروؓ بن العاص جیسے ماہر جنگجو بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔اس کے پاس ابھی عکرمہ
اور صفوان جیسے سالار موجود تھے لیکن ابو سفیان صاف طور پر محسوس کرنے لگا تھا کہ اس کی یعنی قریش کی جنگی طاقت بہت کمزور ہو گئی ہے۔’’تم بزدل ہو گئے ہو ابو سفیان!‘‘اس کی بیوی ہند نے ایک روز اسے کہا۔’’تم مدینہ والوں کو مہلت اور موقع دے رہے ہو کہ وہ لشکر اکھٹا کرتے چلے جائیں اور ایک روز آ کر مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔‘‘’’میرے ساتھ رہ ہی کون گیا ہے ہند؟‘‘ابو سفیان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔’’مجھے اس شخص کی بیوی کہلاتے شرم آتی ہے جو اپنے خاندان اور اپنے قبیلے کے مقتولین کے خون کا انتقام لینے سے ڈرتا ہے۔‘‘ہند نے کہا۔’’میں قتل کر سکتا ہوں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں قتل ہو سکتا ہوں۔میں بزدل نہیں،ڈرپوک بھی نہیں لیکن میں اپنے وعدے سے نہیں پھر سکتا۔کیا تم بھول گئی ہو کہ حدیبیہ میں محمد)ﷺ( کے ساتھ میرا کیا معاہدہ ہوا تھا؟اہلِ قریش اور مسلمان دس سال تک آپس میں نہیں لڑیں گے۔اگر میں معاہدہ توڑ دوں اور میدانِ جنگ میں مسلمان ہم پر غالب آ جائیں تو……‘‘’’تم مت لڑو۔‘‘ہند نے کہا۔’’قریش نہیں لڑیں گے۔ہم کسی اور قبیلے کو مسلمانوں کے خلاف لڑا سکتے ہیں۔ہمارا مقصد مسلمانوں کی تباہی ہے۔ہم مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کو درپردہ مدد دے سکتے ہیں۔‘‘’’قریش کے سوا کون ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی جرات کرے گا؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’موتہ میں ہرقل اور غسان کے ایک لاکھ کے لشکر نے مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا؟کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ ایک لاکھ کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی؟میں اپنے قبیلے کے کسی آدمی کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے کسی قبیلے کی مدد کیلئے جانے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘’’مت بھول ابو سفیان!‘‘ہند نے غضب ناک لہجے میں کہا۔’’میں وہ عورت ہوں جس نے اُحد کی لڑائی میں حمزہ کا پیٹ چاک کر کے اس کا کلیجہ نکالا اور اسے چبایا تھا ۔تم میرے خون کو کس طرح ٹھنڈا کر سکتے ہو؟‘‘’’تم نے حمزہ کا نہیں اس کی لاش کا پیٹ چاک کیا تھا۔‘‘ابو سفیان نے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لاکرکہا۔’’مسلمان لاشیں نہیں اور وہ جو کچھ بھی ہیں ،خدا کی قسم! میں معاہدہ نہیں توڑوں گا۔‘‘’’معاہدہ تو میں بھی نہیں توڑوں گی۔‘‘ہند نے کہا۔’’لیکن مسلمانوں سے انتقام ضرور لوں گی اور یہ انتقام بھیانک ہوگا۔قبیلۂ قریش میں غیرت والے جنگجو موجود ہیں۔‘‘’’آخر تم کرنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’تمہیں جلدی پتا چل جائے گا۔‘‘ہند نے کہا۔

مکہ کے گردونواح میں خزاعہ اور بنو بکر دو قبیلے آباد تھے۔ان کی آپس میں بڑی پرانی عداوت تھی۔حدیبیہ میں جب مسلمانوں اور قریش میں صلح ہو گئی اور دس سال تک عدمِ جارحیت کا معاہدہ ہو گیا تو یہ دونوں قبیلے اس طرح اس معاہدے کے فریق بن گئے کہ قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش کا اتحادی بننے کا اعلان کر دیا تھا۔
محمد یحیٰ سندھو
+971551707391
معاہدہ جو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہوا،خزاعہ اور بنو بکر کے لئے یوں فائدہ مند ثابت ہوا کہ دونوں قبیلوں کی آئے دن کی لڑائیاں بند ہو گئیں۔اچانک یوں ہوا کہ بنو بکر نے ایک رات خزاعہ کی ایک بستی پر حملہ کر دیا۔یہ کوئی بھی نہ جان سکا کہ بنو بکر نے معاہدہ کیوں توڑ دیا ہے۔ایک روایت ہے کہ اس کے پیچھے ہند کا ہاتھ تھا۔خزاعہ چونکہ مسلمانوں کے اتحادی تھے،اس لیے ہند نے اس توقع پر خزاعہ پر بنو بکر سے حملہ کرایا تھا کہ خزاعہ مسلمانوں سے مدد مانگیں گے اور مسلمان ان کی مدد کو ضرور آئیں گے اور وہ جب بنو بکر پر حملہ کریں گے تو قریش مسلمانوں پر حملہ کردیں گے۔ایک روایت یہ ہے کہ یہ غسانی عیسائیوں اور یہودیوں کی سازش تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ قریش اور مسلمانوں کے اتحادیوں کو آپس میں لڑا دیا جائے تو قریش اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہو جائے گی۔بنو بکر خزاعہ کے مقابلے میں طاقتور قبیلہ تھا۔غسّانیوں اور یہودیوں نے بنو بکر کی ایک لڑکی اغواکرکے قبیلہ خزاعہ کی ایک بستی میں پہنچا دی اور بنو بکر کے سرداروں سے کہا کہ خزاعہ نے ان کی لڑکی کو اغواء کر لائے ہیں،بنو بکر نے جاسوسی کی اور پتا چلا کہ ان کی لڑکی واقعی خزاعہ کی ایک بستی میں ہے۔ہند نے اپنے خاوند ابو سفیان کو بتائے بغیر قریش کے کچھ آدمی بنو بکر کو دے دیئے۔ان میں قریش کے مشہور سالار عکرمہ اور صفوان بھی تھے۔چونکہ حملہ رات کو کیا گیا تھا،اس لیے خزاعہ کے بیس آدمی مارے گئے۔یہ راز ہر کسی کو معلوم ہو گیاکہ بنو بکر کے حملے میں قریش کے آدمی مدد کیلئے گئے تھے۔خزاعہ کا سردار اپنے ساتھ دو تین آدمی لے کر مدینہ چلا گیا۔خزاعہ غیر مسلم قبیلہ تھا ۔خزاعہ کے یہ آدمی حضورﷺ کے پاس پہنچے اور آپﷺ کو بتایا کہ بنو بکر نے قریش کی پشت پناہی سے حملہ کیا اور قریش کے کچھ جنگجو بھی اس حملے میں شریک تھے۔خزاعہ کے ایلچی نے حضورﷺ کو بتایا کہ عکرمہ اور صفوان بھی اس حملے میں شامل تھے۔رسولِ اکرمﷺ غصے میں آگئے۔یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔آپﷺ نے مجاہدین کو تیاری کا حکم دے دیا۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کارد ِ عمل بڑا ہی شدید تھا۔اگر معاملہ صرف بنو بکراور خزاعہ کی آپس میں لڑائی کا ہوتا تو حضورﷺ شاید کچھ اور فیصلہ کرتے لیکن بنو بکر کے حملے میں قریش کے نامی گرامی سالار عکرمہ اور صفوان بھی شامل تھے۔اس لیے آپﷺ نے فرمایا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری اہلِ قریش پر عائد ہوتی ہے۔’’ابو سفیان نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘مدینہ کی گلیوں اور گھروں میں آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’رسول اﷲﷺ کے حکم پر ہم مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔اب قریش کو ہم اپنے قدموں میں بٹھا کر دم لیں گے۔‘‘رسول اﷲﷺ نے مکہ پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔ابو سفیان کو اتنا ہی پتا چلا تھاکہ بنو بکر نے خزاعہ پر شب خون کی طرز کا حملہ کیا ہے اور خزاعہ کے کچھ آدمی مارے گئے ہیں ۔اسے یاد آیا کہ عکرمہ اور صفوان صبح سویرے گھوڑوں پر سوار کہیں سے آ رہے تھے،اس نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں ؟تو انہو ں نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ گھڑ دوڑ کیلئے گئے تھے۔دوپہر کے وقت جب اسے پتا چلا کہ بنو بکر نے خزاعہ پر حملہ کیاہے تو اس نے عکرمہ اور صفوان کو بلایا۔’’تم دونوں مجھے کس طرح یقین دلا سکتے ہو کہ خزاعہ کی بستی پر بنوبکر کے حملے میں تم شریک نہیں تھے؟‘‘ابو سفیان نے ان سے پوچھا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ بنو بکر ہمارے دوست ہیں؟‘‘صفوان نے کہا ۔’’اگر دوست مدد کیلئے پکاریں تو کیا تم دوستوں کو پیٹھ دکھاؤ گے؟‘‘’’میں کچھ بھی نہیں بھولا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم! تم بھول گئے ہو کہ قبیلۂ قریش کا سردار کون ہے……میں ہوں تمہارا سردار……میری اجازت کے بغیر تم کسی اور کا ساتھ نہیں دے سکتے۔‘‘’’ابو سفیان! ‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں تمہیں اپنے قبیلے کا سردار مانتا ہوں ۔تمہاری کمان میں لڑائیاں لڑی ہیں۔تمہارا ہر حکم ماناہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم قبیلے کے وقار کو مجروح کرتے چلے جا رہے ہو۔تم نے اپنے دل پر مدینہ والوں کا خوف طاری کر لیا ہے۔‘‘’’اگر میں قبیلے کا سردار ہوں تو میں کسی کو ایساجرم بخشوں گا نہیں جو تم نے کیا ہے۔‘‘ابو سفیان نے کہا-
’’ابو سفیان!‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’وہ وقت تمہیں یاد ہو گا جب خالد مدینہ کو رخصت ہوا تھا۔تم نے اسے بھی دھمکی دی تھی اور میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اُس عقیدے کا پیروکار ہو جائے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اور میں نے تمہیں یہ بھی کہا تھاکہ تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو میں بھی تمہارا ساتھ چھوڑنے اور محمد)ﷺ( کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔‘‘

’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ باوقار لوگ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’تم نے بنو بکر کاساتھ دے کر اور مسلمانوں کے اتحادی قبیلے پر حملہ کرکے اپنے قبیلے کا وقار تباہ کر دیاہے۔ اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ محمد)ﷺ( نے مکہ پر حملہ کر دیا تو تم حملہ پسپا کردو گے۔تو تم خوش فہمی میں مبتلا ہو۔کون سے میدان میں تم نے مسلمانوں کو شکست دی ہے؟کتنا لشکر لے کر تم نے مدینہ کو محاصرے میں لیا تھا؟‘‘’’وہاں سے پسپائی کا حکم تم نے دیا تھا۔‘‘صفوان نے کہا۔’’تم نے ہار مان لی تھی۔‘‘’’میں تم جیسے ضدی ا ور کوتاہ بیں آدمیوں کے پیچھے پورے قبیلے کو ذلیل و خوار نہیں کرواؤں گا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کے ساتھ ابھی چھیڑ خانی نہیں کر سکتا۔میں محمد)ﷺ( کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایک دوست قبیلے نے مسلمانوں کے ایک دوست قبیلے پر حملہ کیا ہے اور اس میں قریش کے چند ایک آدمی شامل ہو گئے تھے،تو اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔میں محمد)ﷺ( کو بتاؤں گا کہ قبیلۂ قریش حدیبیہ کے معاہدے پر قائم ہے۔‘‘وہ عکرمہ اور صفوان کو وہیں کھڑا چھوڑ کروہاں سے چلا گیا۔ابو سفیان اسی روز مدینہ کو روانہ ہو گیا۔اہلِ مکہ حیران تھے کہ ابو سفیان اپنے دشمن کے پاس چلا گیا ہے۔اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں ۔اس کی بیوی ہند پھنکارتی پھر رہی تھی۔مدینہ پہنچ کر ابو سفیان نے جس دروازے پردستک دی وہ اس کی اپنی بیٹی اُمّ ِ حبیبہؓ کاگھر تھا۔دروازہ کھلا۔بیٹی نے اپنے باپ کو دیکھا تو بیٹی کے چہرے پر مسرت کے بجائے بے رُخی کا تاثر آگیا۔بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور باپ اسلام کا دشمن تھا۔’’کیا باپ اپنی بیٹی کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا؟‘‘ابو سفیان نے اُمّ ِ حبیبہؓ سے پوچھا۔’’اگر باپ وہ سچا مذہب قبول کرلے جو اس کی بیٹی نے قبول کیا ہے تو بیٹی باپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے گی۔‘‘اُمّ ِ حبیبہؓ نے کہا۔’’بیٹی!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں پریشانی کے عالم میں آیا ہوں ۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔‘‘
’’بیٹی کیاکر سکتی ہے؟ ‘‘اُمّ ِ حبیبہ ؓ نے کہا۔’’آپ رسول ِ خداﷺ کے پاس جائیں۔‘‘بیٹی کی اس بے رخی پر ابو سفیان سٹپٹا اٹھا۔وہ رسولِ کریمﷺ کے گھر کی طرف چل پڑا۔راستے میں اس نے وہ شناسا چہرے دیکھے جو کبھی اہلِ قریش کہلاتے اور اسے اپنا سردار مانتے تھے۔اب اس سے بیگانے ہو گئے تھے۔وہ اسے چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔وہ ان کا دشمن تھا۔اس نے ان کے خلاف لڑائیاں لڑی تھیں۔اُحد کی جنگ میں ابو سفیان کی بیوی ہند نے مسلمانوں کی لاشوں کے پیٹ چاک کیے اور ان کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کاہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا تھا۔
ابو سفیان اہل ِمدینہ کی گھورتی ہوئی نظروں سے گزرتا رسولِ کریمﷺ کے ہاں جا پہنچا۔اس نے ہاتھ بڑھایا۔رسولِ کریمﷺنے مصافحہ کیا لیکن آپﷺ کی بے رخی نمایاں تھی۔رسولِ کریمﷺ کو اطلاع مل چکی تھی کہ بنو بکر نے اہلِ قریش کی مدد سے خزاعہ پر حملہ کیا ہے۔ آپﷺ اہلِ قریش کو فریب کار سمجھ رہے تھے۔ایسے دشمن کاآپﷺ کے پاس ایک ہی علاج تھا کہ فوج کشی کرو تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم کمزور ہیں۔
ہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے کہ اس کی بات بھی نہ سنیں۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘’’اگر محمد نے جو اﷲ کے رسولﷺ ہیں،تمہاری بات نہیں سنی تو ہم تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’ہم اس مہمان کی بات سنا کرتے ہیں جو ہماری بات سنتا ہے۔ابو سفیان! کیا تم نے محمد ﷺ کی بات سنی ہے کہ وہ اﷲ کا بھیجا ہوا رسولﷺ ہے؟کیا تم نے اﷲ کے رسولﷺ کی یہ بات نہیں سنی تھی کہ اﷲ ایک ہے اورا سکے سوا کوئی معبود نہیں۔سنی تھی تو تم رسولﷺ کے دشمن کیوں ہو گئے تھے؟‘‘’’کیا تم میری کوئی مدد نہیں کرو گے ابو بکر؟‘‘ابو سفیان نے التجا کی۔
’’نہیں ۔‘‘ابو بکر ؓنے کہا۔’’ہم اپنے رسول کے حکم کے پابند ہیں۔‘‘ابو سفیان مایوسی کے عالم میں سرجھکائے ہوئے چلا گیااورکسی سے حضرت عمرؓ کا گھر پوچھ کر ان کے سامنے جا بیٹھا۔

’’اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو مدینہ میں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ہے۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’خداکی قسم! تم اسلام قبول کرنے والوں میں سے نہیں۔‘‘ابو سفیان نے عمرؓ کو مدینہ میں آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہ رسولِ کریمﷺ نے اس کے ساتھ بات تک نہیں کی اور ابو بکرؓ نے بھی اس کی مدد نہیں کی۔’’ میرے پاس اگر چیونٹیوں جیسی کمزور فوج بھی ہو تو بھی تمہارے خلاف لڑوں گا۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’تم میرے نہیں،میرے رسولﷺ اور میرے مذہب کے دشمن ہو۔میرا رویہ وہی ہو گا جو اﷲ کے رسولﷺ کا ہے۔‘‘ابو سفیان فاطمہؓ سے ملا۔حضرت علیؓ سے ملا لیکن کسی نے بھی ا سکی بات نہ سنی۔وہ مایوس اور نامراد مدینہ سے نکلا۔اس کے گھوڑے کی چال اب وہ نہیں تھی جو مدینہ کی طرف آتے وقت تھی۔گھوڑے کابھی جیسے سر جھکا ہوا تھا،وہ مکہ کو جا رہا تھا۔رسولِ خداﷺ نے اس کے جانے کے بعد ان الفاظ میں حکم دیا کہ مکہ پر حملہ کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں فوج تیار کی جائے ۔آپﷺ کے حکم میں خاص طور پرشامل تھاکہ جنگی تیاری اتنے بڑے پیمانے کی ہو کہ مکہ والوں کو فیصلہ کن شکست دے کر قریش کو ہمیشہ کیلئے تہہ و تیغ کر لیاجائے۔اس کے علاوہ حضورﷺ نے فرمایا کہ کوچ بہت تیز ہو گا اور اسے ایسا خفیہ رکھا جائے گا کہ مکہ والوں کو بے خبری میں دبوچ لیا جائے یا مکہ کے قریب اتنی تیزی سے پہنچا جائے کہ قریش کو مہلت نہ مل سکے کہ وہ اپنے اتحادی قبائل کو مدد کیلئے بلا سکیں ۔مدینہ میں مسلمانوں نے راتوں کوبھی سونا چھوڑ دیا۔جدھر دیکھو تیر تیار ہو رہے تھے ۔تیروں سے بھری ہوئی ترکشوں کے انبار لگتے جا رہے تھے۔برچھیاں بن رہی تھیں۔گھوڑے اور اونٹ تیار ہو رہے تھے۔تلواریں تیز ہو رہی تھیں۔عورتیں اور بچے بھی جنگی تیاریوں میں مصروف تھے۔رسولِ اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔مدینہ میں ایک گھر تھا جس کے اندر کوئی اور ہی سرگرمی تھی۔وہ غیر مسلم گھرانہ تھا۔وہاں ایک اجنبی آیا بیٹھا تھا ۔گھر میں ایک بوڑھا تھا ،ایک ادھیڑ عمر آدمی،ایک جوان لڑکی ،ایک ادھیڑ عمر عورت اور دو تین بچے تھے۔

’’میں مسلمانوں کے ارادے دیکھ آیا ہوں۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’ان کا ارادہ ہے کہ مکہ والوں کو بے خبری میں جا لیں۔بلا شک و شبہ محمد )ﷺ(جنگی چالوں کا ماہر ہے۔اس نے جو کہا ہے وہ کر کے دکھا دے گا۔‘‘’’ہم کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘بوڑھے نے پوچھا۔’’میرے بزرگ!‘‘ اجنبی نے کہا۔’’ہم اور کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہم مکہ والوں کو خبر دار کر سکتے ہیں کہ تیار رہو اور اِدھراُدھر کے قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لواور مکہ کے راستے میں کہیں گھات لگا کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑو۔مکہ پہنچنے تک ان پر شب خون مارتے رہو۔مسلمان جب مکہ پہنچیں گے تو ان کا دم خم ٹوٹ چکا ہو گا۔‘‘

’’قسم اس کی جسے میں پوجتا ہوں۔‘‘بوڑھے نے جوشیلی آواز میں کہا۔’’تم عقل والے ہو۔تم خدائے یہودہ کے سچے پجاری ہو۔خدائے یہودہ نے تمہیں عقل و دانش عطا کی ہے۔کیا تم مکہ نہیں جا سکتے؟‘‘’’نہیں ۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’مسلمان ہر غیر مسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔یہ جانتے ہیں کہ میں یہودی ہوں، وہ مجھ پر شک کریں گے۔میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گا۔ مجھے ان یہودیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جنہیں مسلمانوں نے قتل کیا تھا۔میری رگوں میں بنو قریظہ کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں مسلمانوں کو ضربیں لگاتا رہوں اور میں اپنا یہ فرض ادا نہ کروں تو خدائے یہودہ مجھے اس کتے کی موت مارے جس کے جسم پر خارش اور پھوڑے ہوتے ہیں اور وہ تڑپ تڑپ کر مرتا ہے ۔لیکن میں نہیں چاہتا کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں مسلمانوں کو ڈنک مارنے کیلئے زندہ رہنا چاہتا ہوں ۔‘‘’’میں بوڑھا ہوں ۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’مکہ دور ہے ،گھوڑے یا اونٹ پراتنا تیز سفر نہیں کر سکوں گا کہ مسلمانوں سے پہلے مکہ پہنچ جاؤں ۔یہ کام بچوں اور عورتوں کا بھی نہیں ۔میرا بیٹا ہے مگر بیمار ہے ۔‘‘’’اس انعام کو دیکھو جو ہم تمہیں دے رہے ہیں ۔‘‘اجنبی یہودی نے کہا ۔’’یہ کام کر دو ۔انعام کے علاوہ ہم تمہیں اپنے مذہب میں شامل کرکے اپنی حفاظت میں لے لیں گے۔‘‘ ’’کیا یہ کام میں کر سکتی ہوں ؟‘‘ادھیڑ عمر عورت نے کہا۔’’تم نے میری اونٹنی نہیں دیکھی ،تم نے مجھے اونٹنی کی پیٹھ پر کبھی نہیں دیکھا ۔اتنی تیز اونٹنی مدینہ میں کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘’’ہاں! ‘‘یہودی نے کہا۔’’تم یہ کام کر سکتی ہو ۔اونٹوں اور بکریوں کو باہر لے جاؤ۔تمہاری طرف کوئی دھیان نہیں دے گا۔تم انہیں چرانے کیلئے ہر روز لے جاتی ہو، آج بھی لے جاؤ اورمدینہ سے کچھ دور جاکر اپنی اونٹنی پر سوار ہو جاؤ ۔اس نے ایک کاغذ ایک عورت کو دیتے ہوئے کہا اسے اپنے سر کے بالوں میں چھپا لو۔اونٹنی کو دوڑاتی لے جاؤ اور مکہ میں ابو سفیان کے گھر جاؤ اور بالوں میں سے یہ کاغذ نکال کر اسے دے دو۔‘‘’’لاؤ۔‘‘عورت نے کاغذ لیتے ہوئے کہا۔’’میرا انعام میرے دوسرے ہاتھ پر رکھ دو اور اس یقین کے ساتھ میرے گھر سے جاؤ کہ مسلمان مکہ سے واپس آئیں گے تو ان کی تعداد آدھی بھی نہیں ہو گی۔اور ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور شکست ان کے چہروں پر لکھی ہوئی ہو گی۔‘‘یہودی نے سونے کے تین ٹکڑے عورت کو دیئے اور بولا۔’’یہ اس انعام کا نصف حصہ ہے جو ہم تمہیں اس وقت دیں گے جب تم یہ پیغام ابو سفیان کے ہاتھ میں دے کر واپس آ جاؤ گی۔‘‘’’اگر میں نے کام کر دیا اور زندہ واپس نہ آسکی تو؟‘‘’’باقی انعام تمہارے بیمار خاوند کو ملے گا۔‘‘یہودی نے کہا۔

یہ عورت) کسی بھی تاریخ میں نام نہیں دیا گیا(اپنے اونٹ اور بکریاں چرانے کیلئے لے گئی۔ انہیں وہ ہانکتی جا رہی تھی کسی نے بھی نہ دیکھا کہ اونٹوں کی پیٹھیں ننگی تھیں لیکن ایک اونٹنی سواری کیلئے تیار کی گئی تھی ۔اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور ایک تھیلا بھی بندھا ہو اتھا۔ عورت اس ریوڑ کو شہر سے دور لے گئی۔ بہت دیر گزر گئی تو یہودی نے اس جوان لڑکی کو جو گھر میں تھی ،کہا۔’’ وہ جا چکی ہو گی۔ تم جاؤاور اونٹوں اور بکریوں کو شام کے وقت واپس لے آنا۔‘‘وہ لڑکی ہاتھ میں گدڑیوں والی لاٹھی لے کر باہر نکل گئی۔ لیکن وہ شہر سے باہر جانے کی بجائے شہر کے اندر چلی گئی۔وہ اس طرح اِدھر اُدھر دیکھتی جا رہی تھی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہو۔وہ گلیوں میں سے گزر ی اور ایک میدان میں جا رکی ۔وہاں بہت سے مسلمان ڈھالیں اور تلواریں لیے تیغ زنی کی مشق کر رہے تھے۔ایک طرف شتر دوڑ ہو رہی تھی اور تماشائیوں کابھی ہجوم تھا ۔لڑکی اس ہجوم کے اردگرد گھومنے لگی یہ کسی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے جو بڑھتے جا رہے تھے ۔اسکے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ایک جوان سال آدمی نے اسے دیکھ لیا اور بڑی تیزچلتااس کے پیچھے گیا۔قریب پہنچ کر اس نے دھیمی آواز سے کہا:’’زاریہ!‘‘لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا اور ا سکے چہرے سے پریشانی کا تاثر اُڑ گیا۔’’وہیں آجاؤ !‘‘زاریہ نے کہا اور وہ دوسری طرف چلی گئی۔زاریہ کو وہاں پہنچتے خاصہ وقت لگ گیا جہاں وہ عورت اونٹوں اور بکریوں کو لے جایا کرتی تھی۔ اونٹ اور بکریاں وہیں تھیں۔ وہ عورت اور ا س کی اونٹنی وہاں نہیں تھیں ۔زاریہ وہاں اس انداز سے بیٹھ گئی جیسے بکریاں چرانے آئی ہو ۔وہ بار بار اٹھتی اور شہر کی طرف دیکھتی تھی۔اسے اپنی طرف کوئی آتا نظر نہیں آ رہا تھا ۔وہ ایک بار پھرپریشان ہونے لگی ۔سورج ڈوبنے کیلئے افق کی طرف جا رہا تھا جب وہ آتا دکھائی دیا ۔زاریہ نے سکون کی آہ بھری اور بیٹھ گئی ۔’’او ہ عبید!‘‘ زاریہ نے اسے اپنے پاس بٹھا کر کہا۔’’تم اتنی دیر سے کیوں آئے ہو ؟میں پریشان ہو رہی ہوں۔‘‘’’کیا میں نے تمہیں پریشانی کا علاج بتایا نہیں؟‘‘عبید نے کہا۔’’میرے مذہب میں آجاؤاور تمہاری پریشانی ختم ہو جائے گی۔جب تک تم اسلام قبول نہیں کرتیں ،میں تمہیں اپنی بیوی نہیں بنا سکتا۔

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 16
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا





*شمشیرِ بے نیام*

*(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)*

*( قسط نمبر-16)*

’’یہ باتیں پھر کر لیں گے۔‘‘ زاریہ نے کہا ۔ لیکن آج میرے دل پر بوجھ آ پڑا ہے ۔‘‘’’کیسا بوجھ؟‘‘’’مسلمانمکہ پر حملہ کرنے جا رہے ہیں ۔‘‘زاریہ نے کہا۔’’تم نہ جاؤ عبید۔تمہیں اپنے مذہب کی قسم ہے نہ جانا۔کہیں ایسا نہ ہو……‘‘’’مکہ والوں میں اتنی جان نہیں رہی کہ ہمارے مقابلے میں جم سکیں۔‘‘عبید نے کہا۔’’لیکن زاریہ! ان میں جان ہو نہ ہو،مجھے اگر میرے رسول ﷺ آگ میں کود جانے کا حکم دیں گے تو میں آپﷺ کا حکم مانوں گا۔دل پر بوجھ نہ ڈالو زاریہ! ہمارا حملہ ایسا ہو گا کہ انہیں اس وقت ہماری خبر ہو گی جب ہماری تلواریں ان کے سروں پر چمک رہی ہوں گی۔‘‘’’ایسانہیںہو گا عبید۔‘‘’’ایسانہیں ہو گا۔وہ گھات میں بیٹھے ہوں گے۔آج رات کے پچھلے پہر یا کل صبح ابو سفیان کو پیغام مل جائے گا کہ مسلمان تمہیں بے خبری میں دبوچنے کیلئے آ رہے ہیں ……تم نہ جانا عبید! قریش اور ان کے دوست قبیلے تیار ہوں گے۔‘‘’’کیا کہہ رہی ہو زاریہ ؟‘‘عبید نے بدک کر پوچھا۔’’ابو سفیان کو کس نے پیغام بھیجا ہے؟‘‘’’ایک یہودی نے۔‘‘زاریہ نے کہا۔’’اور پیغام میرے بڑے بھائی کی بیوی لے کر گئی ہے……میری محبت کا اندازہ کرو عبید! میں نے تمہیں وہ راز دے دیا ہے جو مجھے نہیں دیناچاہیے تھا ۔یہ صرف اس لیے دیا ہے کہ تم کسی بہانے رک جاؤ ،قریش اور دوسرے قبیلے مسلمانوں کا کشت وخون کریں گے کہ کوئی قسمت والا مسلمان زندہ واپس آئے گا۔‘‘عبید نے اس سے پوچھ لیا کہ اس کے بھائی کی بیوی کس طرح اور کس وقت روانہ ہوئی ہے؟عبید اٹھ کھڑا ہوا اور زاریہ جیسی حسین اور نوجوان لڑکی اور اس کی والہانہ محبت کو نظر انداز کرکے شہر کی طرف دوڑ پڑا،اسے زاریہ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔’’ عبید ……رک جاؤ عبید……‘‘اور عبید زاریہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔رسولِ کریمﷺ کو پوری تفصیل سے بتایا گیا کہ ایک عورت بڑی تیز رفتار اونٹنی پرا بو سفیان کے نام پیغام اپنے بالوں میں چھپا کر لے گئی ہے ۔اسے ابھی راستے میں ہوناچاہیے تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اسی وقت حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بلا کر اس عورت کی اور اس کی اونٹنی کی نشانیاں بتائیں اور انہیں اس عورت کو راستے میں پکڑنے کو بھیج دیا ۔حضرت علیؓ اور حضرت ؓزبیر کے گھوڑے عربی نسل کے تھے اور انہوں نے اسی وقت گھوڑے تیار کیے اور ایڑیں لگا دیں۔اس وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ دونوں شہسوار مدینہ سے دور نکل گئے تو سورج غروب ہو گیا۔

اگلے دن کاسورج طلوع ہوا تو حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کے گھوڑے مدینہ میں داخل ہوئے ان کے درمیان ایک اونٹنی تھی جس پر ایک عورت سوارتھی۔مدینہ کے کئی لوگوں نے اس عورت کو پہچان لیا۔اسے رسولِ کریمﷺ کے پاس لے گئے اس کے بالوں سے جو پیغام نکالا گیا تھاوہ حضورﷺ کے حوالے کیا گیا۔آپﷺ نے پیغام پڑھا تو چہرہ لال ہو گیا ۔یہ بڑا ہی خطرناک پیغام تھا ۔اس عورت نے اقبالِ جرم کر لیا اور پیغام دینے والے یہودی کا نام بھی بتا دیا ۔رسول ِ اکرمﷺ نے اس عورت کو سزائے موت دے دی لیکن یہودی اس کے گھر سے غائب ہو گیا تھا اگر یہ پیغام مکہ پہنچ جاتا تو مسلمانوں کا انجام بہت برا ہوتا،مکہ پر فوج کشی کی قیادت رسول اﷲﷺ فرما رہے تھے۔رسول اﷲﷺ نے تیاریوں کا جائزہ لیا اور کوچ کا حکم دے دیا۔اس اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار پیادہ اور سوار تھی۔اس لشکر میں مدینہ کے ارد گرد کے وہ قبیلے بھی شامل تھے جو اسلام قبول کرچکے تھے۔مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ لشکر مکہ جا رہا تھا تو راستے میں دو تین قبیلے اس لشکر میں شامل ہو گئے۔ تقریباً تمام مسلم اور غیر مسلم مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی قیادت میں اس لشکر کی پیش قدمی غیر معمولی طور پر تیز تھی اور یہ مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جس کی نفری دس ہزار تک پہنچی تھی۔یہ لشکر مکہ کے شمال مغرب میں ایک وادی مرّالظہر میں پہنچ گیا جو مکہ سے تقریباً دس میل دور ہے ۔اس وادی کا ایک حصہ وادیٔ فاطمہ کہلاتا ہے ۔رسولِ اکرمﷺ اس مقصد میں کامیاب ہو چکے تھے کہ اہلِ مکہ کو اسلامی لشکر کی آمدکی اطلاع نہ ہو ۔اب خبر ہو بھی جاتی تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔اب قریش دوسرے قبیلوں کو مدد کیلئے بلانے نہیں جا سکتے تھے ۔رسولِ اکرمﷺ نے کسی نہ کسی بہروپ میں اپنے آدمی مکہ کے قریب گردونواح میں بھیج دیئے تھے ۔تھوڑی دیر آرام کرکے اسلامی لشکر مکہ کی طرف چل پڑا۔ جعفہ ایک مقام ہے جہاں لشکر کا ہراول دستہ پہنچاتو مکہ کی طرف سے چھوٹا سا ایک قافلہ آتا دکھائی دیا۔ اسے قریب آنے دیا گیا ۔دیکھا وہ قریش کا ایک سرکردہ آدمی عباس تھا۔جو اپنے پورے خاندان کو ساتھ لیے مدینہ کو جا رہا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت عباسؓ کے نام سے تاریخِ اسلام میں شہرت حاصل
کی۔یہ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓبن عبدالمطلب تھے(ا نہیں رسولِ اکرمﷺ کے حضور لے جایا گیا

’’کیوں عباسؓ!‘‘رسولِ اکرمﷺ نے کہا ۔’’کیا تو اس لیے مکہ سے بھاگ نکلا ہے کہ مکہ پر قیامت ٹوٹنے والی ہے ؟‘‘’’خدا کی قسم! مکہ والوں کو خبر ہی نہیں کہ محمد )ﷺ(کا لشکر ان کے سر پر آگیا ہے ۔‘‘عباس ؓنے کہا۔’’اور میں تیری اطاعت قبول کرنے کو مدینہ جا رہا تھا۔‘‘’’میری نہیں عباسؓ!‘‘ رسولِ خداﷺ نے کہا۔’’اطاعت اس اﷲ کی قبول کرو جو وحدہٗ لا شریک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘حضرت عباس ؓ نے اسلام قبول کر لیا۔رسولِ کریمﷺ نے انہیں گلے لگا لیا۔)نوٹ: عباس ؓ بن عبدالمطلب آپ ﷺ سے تقریباً تین سال بڑے تھے اور آپﷺ بچپن میں اُن کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب کے قبولِ اسلام کے وقت کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔مشہور قول یہ ہے کہ آپؓ غزوہ خیبر کے بعد اسلام قبول کر چکے تھے اور حضورﷺ کی ہدایت پر ہی اب تک مکہ میں مقیم تھے۔( آپﷺ کو مسرت اس سے ہوئی کہ اہلِ قریش مکہ میں بے فکر اور بے غم بیٹھے تھے ۔حضرت عباس ؓنے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو انہوں نے رسول اﷲﷺ سے کہا کہ ’’اہلِ قریش آخر ہمارا اپنا خون ہیں ۔دس ہزار کے اس لشکر کے قدموں میں قریش کے بچے اور عورتیں بھی کچلی جائیں گی۔‘‘عباسؓ نے رسول اﷲﷺ کو یہ بھی بتایا کہ’’ قریش میں اسلام کی قبولیت کی ایک لہر پیدا ہو گئی ہے ۔کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ انہیں صلح کاایک اور موقع دیا جائے؟‘‘رسولِ اکرمﷺ نے عباسؓ سے کہا کہ وہ ہی مکہ جائیں اور ابو سفیان سے کہیں کہ مسلمان مکہ پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں اگر عباسؓ ایک خچر پر سوار اپنی طرف آتے دکھائی دیئے ۔وہ رک گیا

’’عباس!‘‘ اس نے پوچھا۔’’کیا تم اپنے پورے خاندان کے ساتھ نہیں گئے تھے؟واپس کیوں آ گئے ہو؟‘‘’’میرے خاندان کی مت پوچھ ابو سفیان !‘‘ عباسؓ نے کہا۔’’مسلمانوں کے دس ہزار پیادوں ،گھوڑ سواروں اور شتر سواروں کا لشکر مکہ کے اتنا قریب پہنچ چکا ہے جہاں سے چھوڑے ہوئے تیر مکہ کے دروازوں میں لگ سکتے ہیں۔کیا تومکہ کو اس لشکرسے بچا سکتا ہے؟کسی کو مدد کیلئے بلا سکتا ہے؟صلح کا معاہدہ تیرے سالاروں نے توڑا ہے ۔محمدﷺ جسے میں اﷲکا رسولﷺ مان چکا ہوں سب سے پہلے تجھے قتل کرے گا۔ اگر تو میرے ساتھ رسول اﷲﷺ کے پاس چلا چلے تو میں تیری جان بچا سکتا ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم! میں جانتا تھا مجھ پر یہ وقت بھی آئے گا۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’چل! میں تیرے ساتھ چلتا ہوں ۔‘‘شام کے بعد عباسؓ ابو سفیان کو ساتھ لیے ہوئے مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہوئے ۔حضرت عمرؓ کیمپ کے پہرے داروں کو دیکھتے پھر رہے تھے ۔انہوں نے ابو سفیان کو دیکھا تو آگ بگولہ ہو گئے ۔کہنے لگے کہ ’’اﷲ کے دین کا یہ دشمن ہمارے پڑاؤ میں رسول اﷲﷺ کی اجازت کے بغیر آیا ہے ۔‘‘عمرؓ رسول اﷲﷺ کے خیمے کی طرف دوڑ پڑے۔ وہ ابو سفیان کے قتل کی اجازت لینے گئے تھے۔لیکن عباسؓ بھی پہنچ گئے۔ رسولِ اکرمﷺ نے انہیں صبح آنے کو کہا۔عباسؓ نے ابو سفیان کو رات اپنے پاس رکھا ۔’’ابو سفیان! ‘‘صبح رسولِ کریمﷺ نے ابو سفیان سے پوچھا۔’’کیا تو جانتا ہے کہ اﷲ وحدہٗ لاشریک ہے اور وہی معبود ہے اور وہی ہم سب کا مدد گار ہے۔‘‘’’میں نے یہ ضرور مان لیا ہے کہ جن بتوں کی عبادت میں کرتا رہا ہوں وہ بتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ابو سفیان نے کہا ۔’’وہ میری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘’’پھر یہ کیوں نہیں مان لیتا کہ میں اس اﷲ کا رسول ہوں جومعبود ہے ۔‘‘رسولِ کریمﷺ نے پوچھا۔’’میں شاید یہ نہ مانوں کہ تم اﷲ کے رسول ہو۔‘‘ ابو سفیان ہاری ہوئی سی آواز میں بولا۔ ’’ابو سفیان! ‘‘عباسؓ نے قہر بھری آواز میں کہا۔’’کیا تو میری تلوار سے اپنا سر تن سے جدا کرانا چاہتا ہے ؟‘‘عباسؓ نے رسولِ کریمﷺ سے کہا ۔’’یا رسول اﷲﷺ! ابو سفیان ایک قبیلے کا سردار ہے ،باوقار اور خوددار بھی ہے۔ یہ ملتجی ہو کہ آیا ہے۔‘‘ابو سفیان پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ اس نے بے اختیار کہا۔’’محمد اﷲ کے رسول ہیں، میں نے تسلیم کر لیا ،میں نے مان لیا۔‘‘
’’جاؤ!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے کہا ۔’’مکہ میں اعلان کردو کہ مکہ کے وہ لوگ مسلمانوں کی تلواروں سے محفوظ رہیں گے جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو مسجد میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو اپنے دروازے بند کر کے اپنے گھروں میں رہیں گے۔‘‘ابو سفیانؓ اسی وقت مکہ کو روانہ ہو گئے اور رسولِ اکرمﷺ نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلۂ خیال شروع کر دیا کہ مکہ میں عکرمہ اور صفوان جیسے ماہر او ردلیر سالار موجود ہیں ۔وہ مقابلہ کیے بغیر مکہ پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔

اونٹ بہت تیز دوڑا چلا آ رہا تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس کے سوار نے چلانا شروع کر دیا ۔’’عزیٰ او رہبل کی قسم! مدینہ والوں کا لشکر مرالظہر میں پڑاؤ کیے ہوئے ہے اور میں نے اپنے سردار ابو سفیان کو وہاں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اہلِ قریش ہو شیار ہو جاؤ! محمد )ﷺ(کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘ اس نے اونٹ کو روکا اور اسے بٹھا کر اترنے کے بجائے اس کی پیٹھ سے کود کر اترا۔اس کی پکار جس نے سنی وہ دوڑا آیا ۔وہ گھبراہٹ کے عالم میں یہی کہے جا رہا تھاکہ مدینہ کالشکر مرالظہر تک آن پہنچا ہے اور ابو سفیان کو اس لشکر کے پڑاؤ کی طرف جاتے دیکھا ہے ۔مکہ کے لوگ اس کے اردگرد اکھٹے ہوتے چلے گئے۔
’’ابو حسنہ!‘‘ ایک معمر آدمی نے اس سے پوچھا۔’’تیرا دماغ صحیح نہیں یا تو جھوٹ بول رہا ہے ۔‘‘’’میری بات کو جھوٹ سمجھو گے تواپنے انجام کو بہت جلد پہنچ جاؤ گے ۔‘‘شترسوار ابو حسنہ نے کہا۔’’کسی سے پوچھو ہمارا سردار ادھر کیوں گیا ہے؟‘‘ اس نے پھر چلانا شروع کر دیا۔’’اے قبیلۂ قریش !مسلمان اچھی نیت سے نہیں آئے۔‘‘ابو حسنہ کا واویلا مکہ کی گلیوں سے ہوتا ہوا ابو سفیانؓ کی بیوی ہند کے کانوں تک پہنچا۔ وہ آگ بگولہ ہوکہ باہر آئی اور اس ہجوم کو چیر نے لگی جس نے ابو حسنہ کو گھیر رکھا تھا۔ ’’ابو حسنہ !‘‘اس نے ابو حسنہ کا گریبان پکڑ کر کہا۔’’میری تلوار محمد کے خون کی پیاسی ہے۔ تومیری تلوار سے اپنی گردن کٹوانے کیوں آگیا ہے ؟کیا تو نہیں جانتا کہ جس پر تو جھوٹا الزام تھوپ رہا ہے وہ میرا شوہر اور قبیلے کا سردار ہے۔‘‘’’اپنی تلوار گھر سے لے آ خاتون!‘‘ ابو حسنہ نے کہا۔’’لیکن تیرا شوہر آجائے تو اس سے پوچھنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟‘‘’’اور تو کہتا ہے کہ محمد)ﷺ( لشکر لے کر آیا ہے۔‘‘ ہند نے پوچھا۔’’خدا کی قسم!‘‘ ابو حسنہ نے کہا۔’’میں وہ کہتا ہوں جومیں نے دیکھا ہے ۔‘‘’’اگر تو سچ کہتا ہے تو مسلمانوں کو موت ادھر لے آئی ہے ۔‘‘ہند نے کہا۔ابو سفیانؓ واپس آ رہے تھے ۔اہل ِمکہ ایک میدان میں جمع ہو چکے تھے ۔رسولِ کریمﷺ کی پیش قدمی اب راز نہیں رہ گئی تھی لیکن اب کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اہلِ قریش اب کسی کو مدد کیلئے نہیں بلا سکتے تھے۔ابو سفیان ؓآ رہے تھے۔ لوگوں پر خاموشی طاری ہو گئی۔ ابو سفیانؓ کی بیوی ہند لوگوں کو دائیں بائیں دھکیلتی آگے چلی گئی۔اس کے چہرے پر غضب اور قہر تھااور اس کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے تھے ۔ابو سفیانؓ نے لوگوں کے سامنے آ کر گھوڑا روکا۔ انہوں نے اپنی بیوی کی طرف توجہ نہ دی۔

اہلِ قریش! ‘‘ابو سفیان ؓ نے بلند آواز سے کہا۔’’پہلے میری بات ٹھنڈے دل سے سن لینا۔ پھر کوئی اوربات کہنا۔میں تمہارا سردار ہوں، مجھے تمہارا وقار عزیز ہے ۔محمد ﷺاتنا زیادہ لا و لشکر لیکر آیاہے جس کے مقابلے میں تم قتل ہونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔اپنی عورتوں کو بچاؤ، اپنے بچوں کو بچاؤ ،قبول کرلو اس حقیقت کو جو تمہارے سر پر آ گئی ہے۔ تمہارے لیے بھاگ جانے کا بھی کوئی راستہ نہیں رہا۔‘‘’’ہمیں یہ بتا ہمارے سردار!ہم کیا کریں؟‘‘لوگوں میں سے کسی کی آواز آئی۔’’محمدﷺ کی اطاعت قبول کرلینے کے سوااور کوئی راستہ نہیں۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’خداکی قسم! مسلمان ہمیں پھر بھی نہیں بخشیں گے۔‘‘ایک اور آواز اٹھی۔’’وہ اپنے مقتولوں کا بدلہ لیں گے ۔وہ سب سے پہلے تمہیں قتل کریں گے۔ اُحد میں تمہاری بیوی نے ان کی لاشوں کو چیرا پھاڑا تھا ۔‘‘ہند الگ کھڑی پھنکار رہی تھی۔’’میں تم سب کی سلامتی کی ضمانت لے آیا ہوں ۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’میں محمدﷺ سے مل کر آ رہا ہوں۔ اس نے کہا ہے کہ تم میں سے جو میرے گھر آجائیں گے وہ مسلمانوں کے جبر و تشد د سے محفوظ رہیں گے۔‘‘’’کیا مکہ کے سب لوگ تمہارے گھر میں سما سکتے ہیں ؟‘‘کسی نے پوچھا۔’’نہیں!‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’محمدﷺ نے کہا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے اور ان کے دروازے بند رہیں گے ان پر بھی مسلمان ہاتھ نہیں اٹھائیں گے،اور جولوگ خانۂ خداکے اندر چلے جائیں گے ان کو بھی مسلمان اپنا دوست سمجھیں گے۔وہ دشمن صرف اسے جانیں گے جو ہتھیار لے کر باہر آئے گا۔‘‘ابو سفیانؓ گھوڑے سے اتر آئے اور بولے۔’’تمہاری سلامتی اسی میں ہے، تمہاری عزت اسی میں ہے کہ تم دوستوں اور بھائیوں کی طرح ان کا استقبال کرو۔‘‘’’ابو سفیان! ‘‘قریش کے مشہور سالار عکرمہ نے للکار کر کہا۔’’ہم اپنے قبیلے کے قاتلوں کا استقبال تلواروں اور برچھیوں سے کریں گے۔‘‘’’ہمارے تیر ان کا استقبال مکہ سے دور کریں گے۔‘‘قریش کے دوسرے دلیر اور تجربہ کار سالار صفوان نے کہا۔’’ہمیں اپنے دیوتاؤں کی قسم! ہم دروازے بند کرکے اپنے گھروں میں بند نہیں رہیں گے۔‘‘’’حالات کو دیکھو عکرمہ ۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’ ہوش کی بات کرو صفوان،وہ ہم میں سے ہیں ۔آج خالد محمدﷺ کے ساتھ جا ملا ہے تو مت بھول کہ اس کی بہن فاختہ تمہاری بیوی ہے ،کیا تو اپنی بیوی کے بھائی کو قتل کرے گا؟کیا تجھے یاد نہیں رہا کہ میری بیٹی اُمّ ِ حبیبہؓ محمد ﷺ کی بیوی ہے۔کیا تو یقین نہیں کرے گا کہ میں اپنے قبیلے کی عزت اور ناموس کی خاطر مدینہ گیا تو میری اپنی بیٹی نے میری بات سننے سے انکار کر دیا تھا۔میں محمدﷺ کے گھر میں چارپائی پر بیٹھنے لگا تو اُمّ ِ حبیبہؓنے میرے نیچے سے چارپائی پر بچھی ہوئی چادر کھینچ لی تھی کہ اس مقدس چادر پر رسول اﷲ ﷺ کا دشمن نہیں بیٹھ سکتا،باپ اپنی بیٹی کا دشمن نہیں ہو سکتا صفوان۔‘‘

مکہ کے لوگوں میں عکرمہ اور صفوان اور دو تین اور آدمیوں کے سوا اور کسی کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ قبیلہ قریش کی خاموشی ظاہرکرتی تھی کہ ان لوگوں نے ابو سفیانؓ کا مشورہ قبول کرلیا ہے۔ ابو سفیانؓ کے چہرے پر اطمینان کا تاثر آگیا مگر اس کی بیوی ہند جو الگ کھڑی پھنکار رہی تھی ،تیزی سے ابو سفیانؓ کی طرف بڑھی اور اس کی مونچھیں جو خاصی بڑی تھیں اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیں۔
’’میں سب سے پہلے تجھے قتل کروں گی۔‘‘ہند نے ابو سفیان کی مونچھیں زور زور سے کھینچتے ہوئے کہا۔’’

بزدل بوڑھے! تو نے قبیلے کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔‘‘اس نے ابو سفیانؓ کی مونچھیں چھوڑ کر اس کے منہ پر بڑی زور سے تھپڑ مارا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر بولی۔’’ تم لوگ اس بوڑھے کو قتل کیوں نہیں کر دیتے ہو جو تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار کرنے کی باتیں کر رہا ہے ۔‘‘مؤرخ مغازی اور ابنِ سعد لکھتے ہیں کہ ہند نے اپنے خاوند کے ساتھ اتنا توہین آمیز سلوک کیا تو لوگوں پر سناٹا طاری ہو گیا ۔ابو سفیانؓ جیسے بت بن گیا ہو ۔عکرمہ اور صفوان ان کے درمیان آ گئے ۔’’ہم لڑیں گے ہند !‘‘صفوان نے کہا۔’’ اسے جانے دے۔ اس پر محمد)ﷺ( کا جادو چل گیا ہے ۔‘‘ابو سفیانؓ خاموش رہے۔شام تک اہلِ قریش دو حصوں میں بٹ چکے تھے ۔زیادہ تر لوگ لڑنے کے حق میں نہیں تھے ۔باقی سب عکرمہ ،صفوان اور ہند کاساتھ دے رہے تھے۔شام کے بعد صفوان اپنے گھر گیا۔ اس کی بیوی جس کا نام فاختہ تھا خالدؓ بن ولید کی بہن تھی۔وہ بھی ابو سفیانؓ کی باتیں سن چکی تھی ۔’’کیا میں نے ٹھیک سنا ہے کہ تم اپنے قبیلے کے سردار کی نافرمانی کر رہے ہو؟‘‘فاختہ نے صفوان سے پوچھا۔’’اگر فرمانبرداری کرتا ہوں تو پورے قبیلے کا وقارتباہ ہوتا ہے ۔قبیلے کا سرداربزدل ہو جائے تو قبیلے والوں کو بزدل نہیں ہونا چاہیے ۔سرداراپنے قبیلے کے دشمن کو دوست بنا لے تو وہ قبیلے کا دوست نہیں ہو سکتا۔‘‘’’کیا تم مسلمانوں کا مقابلہ کرو گے؟‘‘فاختہ نے پوچھا۔’’تو کیا تم یہ پسند کرو گی کہ تمہارا شوہر اپنے گھر کے دروازے بند کرکے اپنی بیوی کے پاس بیٹھ جائے اوردشمن اس کے دروازے کے سامنے دندناتا پھرے۔ کیا میرے بازو ٹوٹ گئے ہیں ؟کیا میری تلوار ٹوٹ گئی ہے؟کیا تم اس لاش کو پسند نہیں کرو گی جو تمہاری گھر میں لائی جائے گی اور سارا قبیلہ کہے گا کہ یہ ہے تمہارے خاوند کی لاش۔جو بڑی بہادری سے لڑتاہوا مارا گیا ہے۔یاتم اس شوہر کو پسند کرو گی جو تمہارے پاس بیٹھارہے گا اور لوگ تمہیں کہیں گے کہ یہ ہے ایک بزدل اور بے وقار آدمی کی بیوی…… جس نے اپنی بستی اور عبادت گاہ اپنے دشمن کے حوالے کردی۔تم مجھے کس حال میں دیکھنا پسند کرو گی؟‘‘

’’میں نے تم پر ہمیشہ فخر کیا ہے صفوان۔‘‘فاختہ نے کہا۔’’عورتیں مجھے کہتی ہیں کہ تمہارا خاوند قبیلے کی آنکھ کا تارا ہے لیکن اب حالات کچھ او رہیں۔ تمہارا ساتھ دینے والے بہت تھوڑے…… بہت تھوڑے ہیں۔سنا ہے مدینہ والوں کی تعدا دبہت زیادہ ہے اور اب میرا بھائی خالد بھی ان کے ساتھ ہے۔تم جانتے ہو وہ لڑنے مرنے والا آدمی ہے ۔‘‘’’کیا تم مجھے اپنے بھائی سے ڈرا رہی ہو فاختہ؟‘‘’’نہیں!‘‘فاختہ نے کہا ۔’’مجھے خالد مل جاتاتو میں اسے بھی یہی کہتی جومیں تمہیں کہ رہی ہوں ۔وہ میرا بھائی ہے ۔وہ تمہارے ہاتھ سے مارا جا سکتا ہے ۔تم اس کے ہاتھ سے مارے جا سکتے ہو۔ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں نہ آؤ۔میں اس کی بہن اور تمہاری بیوی ہوں۔ لاش تمہاری ہوئی یا خالد کی ،میرا غم ایک جیسا ہو گا۔‘‘’’یہ کوئی عجیب بات نہیں فاختہ !‘‘صفوان نے کہا۔’’ دشمنی ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ باپ بیٹے کا اور بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا ہے۔ اگر میں تمہارے رشتے کا خیال رکھوں تو……‘‘’’تم میرے رشتے کا خیال نہ رکھو۔‘‘فاختہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’قبیلے کا سردار تمہیں کہہ رہا ہے لڑائی نہیں ہو گی ۔محمد)ﷺ(کی اطاعت قبول کر لیں گے ۔پھر تم لڑائی کا ارادہ ترک کیوں نہیں کر دیتے ؟تمہارے ساتھ بہت تھوڑے آدمی ہوں گے۔‘‘ ’’میں اطاعت قبول کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘صفوان نے کہا۔’’پھرمیری ایک بات مان لو! ‘‘فاختہ نے کہا۔’’خالد کے آمنے سامنے نہ آنا۔اسے میری ماں نے جنم دیا ہے۔ ہم دونوں نے ایک ماں کا دودھ پیا ہے ۔وہ جہاں کہیں بھی ہے ،بہن یہی سننا چاہتی ہے کہ اس کابھائی زندہ ہے۔ میں بیوہ بھی نہیں ہونا چاہتی صفوان……‘‘’’پھر اپنے بھائی سے جا کہ کہو کہ مکہ کے قریب نہ آئے۔‘‘صفوان نے کہا۔’’ وہ میرے سامنے آئے گا تو ہمارے رشتے ختم ہو جائیں گے۔‘‘فاختہ کے آنسو صفوان کے ارادوں کو ذرا بھی متزلزل نہ کر سکے۔رسولِ کریمﷺ نے ایک اور انتظام کیا۔انہوں نے چند ایک آدمی مختلف بہروپوں میں مکہ کے اردگرد چھوڑ رکھے تھے۔ان کا کام یہ تھا کہ مکہ سے کوئی آدمی باہر نکل کر کہیں جاتا نظر آئے تو اسے پکڑ لیں۔جاسوسی کا یہ اہتمام اس لیے کیا گیاتھاکہ قریش اپنے دوست قبائل کو مدد کیلئے نہ بلا سکیں۔دوسرے ہی دن دو شتر سواروں کو پکڑا گیا جو عام سے مسافر معلوم ہوتے تھے۔انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ میں لے جایا گیا ،ایک دو دھمکیوں سے ڈر کر انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی۔ان میں سے ایک یہودی تھا اور دوسرا قبیلہ قریش کا۔وہ مکہ سے چند میل دور رہنے والے قبیلہ بنو بکر کے ہاں یہ اطلاع لے کے جا رہے تھے کہ مسلمان مرّالظہر میں پڑاؤ کیے ہوئے ہیں ۔بنو بکر کو یہ بھی پیغام بھیجا جا رہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر شب خون ماریں اور دو اور قبیلوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں۔پیغام میں یہ بھی تھاکہ مسلمان مکہ کو محاصرے میں لیں تو بنو بکر اور دوسرے قبیلے عقب سے ان پر حملہ کردیں

*(جاری ھے)*

بقیہ اگلی قسط نمبر 17
میں پڑھیں

اور شیئر کریں
جزاک کم اللہ خیرا


No comments:

Post a Comment